Mr. & Mrs. Lawyer

Mr. & Mrs. Lawyer پیج وکلاء و وکالت پڑھنے والوں کی قانونی رہنمائی اور وکالت کی معلومات کے لئے ہے۔عام آدمی کوئی قانونی ر

12 May 2007 a fascist dictator   ordered a terrorist party funded by India MQM   Hussain burnt lawyer alive in Karachi. ...
12/05/2022

12 May 2007 a fascist dictator ordered a terrorist party funded by India MQM Hussain burnt lawyer alive in Karachi. Black Day in Pakistan history

پنجاب بار کونسل نہیں رہی 😭😭💔💔💔
07/10/2021

پنجاب بار کونسل نہیں رہی 😭😭💔💔💔

: اِس پر سنجیدگی سے رحیم یارخان ڈسٹرکٹ بار کو سوچنا چاہئے۔ یہ وکلاء کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ فوائد مندرجہ ذیل ہیں 1- وکلا...
08/09/2021

: اِس پر سنجیدگی سے رحیم یارخان ڈسٹرکٹ بار کو سوچنا چاہئے۔ یہ وکلاء کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ فوائد مندرجہ ذیل ہیں

1- وکلاء کی فیس ایک معیار ہو گا
2- کِسی وکیل کو پولیس پریکٹس کی ضرورت نہیں پڑےگی اور وکیل کو تھانے میں یا دارالامان یا کسی اور دفتر نہ جانا پڑےگا۔

3- پولیس والوں کو اوقات میں رکھنے کا اعتماد آ جائے گا، جو قوم پولیس کو 10000 صرف اس مد میں دے کر آتی ہے کہ ہمارے بندے کو مارنا نہ تو وہ یہاں بھی پیسے بھریں گے، وکیل کے پاس آتے ہی غریب ہو جاتے اور حرام خور پولیس کو دینے کے لیے بلاوجہ نکل آتے ہیں۔

4- نوجوان وکلاء کو بھی احساس ہی گا کہ اُنکا کوئی پرسانِ حال ہے اور وہ بھی 2 سال روزے نہیں رکھیں گے۔ 3- 1000 روپے اس فیس میں سے بہبود فنڈ میں جمع ہو جائے تو ہمارا بہبود فنڈ بھی ایسا ہو جائے گا کے کسی کی بھی مدد کر سکیں گے۔

5- وکیل ہر ترقی یافتہ ملک میں قانون کی پاسداری میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس پیشے کی عزت بھی بہت ہے اور یہ highly paid پیشوں میں سے ایک پیشہ ہے، اس پیشے کی عزت کو اِسکی عزت دلوانے کے لئے اور اپنی عزت کروانے کے لئے متحد ہو جائیں، کوئی بھی ہو آپکو آپکا حق دے کر جائے گا۔
6- ڈسٹرکٹ بار کے نمائندے چنے اسلیئے جاتے کے وہ وکلاء کے مفاد میں جو بھی ہے اُس پر کام کریں(جو کہ میرا ماننا ہوں )

کئی لوگ یہ کہیں گے کہ یہ ممکن نہیں میں ایک تجویز دیتا ہوں یہ ممکن ہوں جائے گی ڈسٹرکٹ بار کو ایک Treasury committee بنانی پڑےگی اُس فیس جمع ہو گی اور بعد ازاں یہ فیس وکیل کے بینک اکاؤنٹ میں یا دستی رسید لے کر دے دی جائے گی ایک ہفتے بعد، اگر کسی کو ضرورت ہو وہ تھوڑی بہت پہلے لے لے اِس میں یہ نہیں ہو گا کہ اس وکیل نے تھوڑی فیس لی ہے
اور زیادہ جتنی مرضی لیں
ہر چیمبر میں نوٹس کی کاپی چسپاں ہو گی تا کہ لوگوں کو بتانا ہی نہ پڑے۔

اس کے بعد وکلاء کی عزت میں جو اضافہ ہو گا سب دیکھیں گے۔ یہ عوام کام بھی وکیل سے کرواتی ہے پھر بولتی بھی اُسکے خلاف ہے۔
غریب عوام نے کسی سرکاری عہدے دار کو رشوت دینی ہو تو پیسے کہاں کہاں سے نکالے گا کوئی پتہ نہیں پر نہیں ہیں تو وکیل کے لئے۔۔

میری طرف سے جو تجاویز و تحفظات تھے میں نے اپنی فہم سے بیان کر دیے اب باقی کِسی وکیل کو جو اچھا لگے بتا دے، مجھے بھی اور کُچھ مفاد میں لگا تو بتا دوں گا۔

: کابینہ بدلتی رہتی ہیں ہمیں ایک سوچ پیدا کرنی ہے جو چہرے بدلنے سا نہ بدلے اور اس پر کام جاری رہنا چاہئے
اور وہ سوچ ہے ہماری عزت جو اب اداروں میں ہمیں نہیں ملتی
ہم دنیادی طور پر قلم کی طاقت قانون کی طاقت بھول کر بازو کی طاقت استعمال کرنے لگ گئے ہیں جسکی ضرورت نہیں ہے
قلم کی طاقت ایک آزاد ملک میں بہت بڑی طاقت ہے اور ہمارا کیا کریں گے یہ تبادلہ تو کروا نہیں سکتے
ہم آزاد ہیں ہمارا اپنا ادارہ ہے پنجاب بار کونسل پھر بھی ہم کُچھ نہیں کر رہے
ہم جب حق پر بات کریں گے ہمارے خلاف کون ایکشن لے گا۔
ہمیں سوچ پیدا کرنی ہے اپنی عزت کے لیے اور معاشرے میں انصاف کی فراہمی کے لئے۔
ہمیں پتہ ہے ایک درخواست پولیس والے کی وردی اتروا سکتی ہے اور اس درخواست کی طاقت ہم خود بھول چُکے ہیں عوام کو کیا سمجھائیں۔
اِسی لیے پولیس میں اداروں میں رشوت دینی پڑتی ہے
ایک ایک لاکھ تنخوا ہے ان ریڈر اور سٹینوٹائپست کی وہ پیسے لے رہا ہے جج کو نہیں پتہ
یہ ختم کرنا پڑےگا سب
سوچ پیدا کرنی پڑےگی

08/09/2021

اسلام و علیکم نوجوان وکلاء صاحبان

یہ ایک قدم وکلاء کی عزت و وقار کے لئے اٹھا رہے ہیں۔ جیسے کہ آپ سب دوستوں کو پتہ ہے کہ آج کے معاشرے میں وکلاء کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا اور اس کی وجہ کُچھ ہماری غلطیاں بھی ہیں کہ ہم لوگ کُچھ ایسے لوگوں کو الیکشن میں کامیاب کروا دیتے ہیں جو حقیقت میں وکلاء کی عزت کے لیے خطرہ ہوتے ہیں اور ایسے لوگ اپنے ذاتی مفادات اور اپنے انویسٹرز کے مفادات کے لیے بار کا استعمال کرتے ہیں اور اپنے نوجوان وکلاء کا استحصال کرتے ہیں کسی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اور وکلاء کے ہی خلاف عدالت میں وکالت نامہ دیتے ہوئے نہیں چوکتے۔
کُچھ لوگ اپنے ذاتی مفادات کے لیے پولیس کا استعمال کرتے ہیں اور پھر پورا سال اُنکے خلاف کوئی بات کرنا تو دور کی بات سہہ بھی نہیں سکتے۔
کِسی نوجوان وکیل کو مسئلہ ہو تو جھنجھوڑنا پڑتا انکو کہ اٹھو ساتھ چلو اور کبھی تو کوئی نوجوان وکیل اگر کسی وکیل سے وکلاء کی بہبود فنڈ کی بات کرے تو یہ برائے نام سینئیر وکلاء صاحبان جواب دینا مناسب نہیں سمجھتے، دُکھ کی بات ہے کہ اگر کِسی برائے نام سینئیر وکیل کا مسئلہ ہو جائے تو نوجوان وکلاء کو آگے کر کہ اُن پر دباؤ ڈالا جاتا ہے
اور اگر کوئی گلی کا غنڈا وکلاء پر بھونکے اور نوجوان وکلاء اُسکے خلاف کارروائی کرنے کا کہیں تو صرف نوجوان وکلاء کا مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
ہم وکلاء اپنی عزت بھول چُکے ہیں تو لوگ کیا کریں گے
دفاتر میں وکلاء کی ایک نہیں سنی جاتی اور سب سے بے لگام یہ پولیس ہے جو نوجوان وکیل کو دیکھتے ہی شکاری کتے کی طرح کان کھڑے کر لیتا ہے
نشست بیٹھنے کے لیے نہیں دیتے جب کہ اُن بیغیرت لوگوں کو ہم بیٹھا کر چائے بھی پوچھتے
سیدھے منہ بات نہیں کرتے جیسے کہ ہم ان سے ادھار مانگنے چلے گئے ہیں اور ایسا کرنا ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا باعث ہوتا ہے لیکن کوئی کرتا نہیں اور ایک دفعہ ایک پولیس والے کہ خلاف ایسی درخواست لے کر میں خود گیا تھا لیکن اس وقت کے صدر اور سیکرٹری ( انکو میں نہیں بلایا تھا اپنے ذاتی کام سے DPO پاس آئے تھے) نے ان الفاظوں سے شکایت کی کہ
یہ ہمارے وکیل صاحب ہیں اور آپکے ایک سنتری نے تھوڑی سی بد تمیزی کی ہے
با خدا دل تو کیا کہ پوچھتا کہ تھوڑی سی بد تمیزی آپ تو DPO سے کر کہ دیکھیں پھر میں دیکھتا ہوں کہ تھوڑی رہتی ہے کہ نہیں۔
ہمیں پہلے خود کو ٹھیک کرنا ہو گا
نوجوان وکلاء میں سے اپنے نمائندوں کو الیکشن لڑوا کر کامیاب کروانا ہو گا
ان گروپس کی ٹکٹ کے لیے منّتیں چھوڑنی ہوں گی
نوجوان وکیل کہ پاس چیمبر کہ پیسے نہیں ہوتے تو وہ الیکشن تو سرمایہ کی وجہ سے دور کر دیا گیا ہے
یہ الیکشن وکلاء کا ہوتا ہے
سرمایہ داروں کا نہیں
نوجوان وکلاء کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیئے اور اپنی موجودگی کا احساس دلوانا چاہیئے

دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر اس چیز کو دیکھا جائے
تو اس کے لیے ہمیں صرف WhatsApp گروپ میں باتیں ختم کر کہ عملی زندگی میں کچھ کرنا ہو گا
جیسے کہ اگلے ماہ ایک میٹنگ نوجوان وکلاء رحیم یارخان کے ساتھ کرنے کی تجویز ہے کہ نوجوان وکلاء آئیں اور اس پر بیٹھ کر دیکھیں
صرف بولتے رہے تو کُچھ بدلنے والا نہیں اب وکالت کے پیشے کو نوجوان وکلاء کی ضرورت ہے جن میں ابھی جذبات بھی ہیں منافقت بھی نہیں اور پر خلوص ہیں
وکلاء کی عزت کی خاطر کھڑے بھی ہوتے ہیں۔

آج کے بعد یا تو عہد کر لیں کہ WhatsApp گروپ میں کوئی بھی ہونے والی باتوں میں حصہ نہیں لیں گے
وکلاء کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور قتل کے خلاف کارروائی کے لیے نہیں بولیں گے
پولیس یا کِسی اور دفتر میں ہونے والے ظلم کے بارے میں نہیں بولیں گے
یا پھر یہ جومیٹنگ آپکے مشورے سے رکھی جاۓ گی اس میں عملی طور پر حصّہ لیں گے
اور نوجوانوں کو آگے بڑھانے کیلئے اپنی آراء سے آگاہ کریں گے
الیکشن کو سرمایہ داروں کے ہاتھ سے چھیننے کا عہد کریں گے۔
آپکا یہ عہد نامہ تحریک کی بنیاد بن سکتا ہے تو پیشہ وکالت کو آپکی ضرورت ہے

اگر زندہ ہو تو زندہ ہونے کا ثبوت دو
پھر لگائیں گے للکارا
زندہ ہیں نوجوان وکلاء زندہ ہیں

وسلام
محمد عدنان اختر چانڈیہ ایڈووکیٹ

سابق وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل2020 شاہ نواز اسماعیل گجر مڈل پاس نکلا۔۔۔ جعلی ڈگری پر شاہنواز کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ...
01/08/2021

سابق وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل2020 شاہ نواز اسماعیل گجر مڈل پاس نکلا۔۔۔ جعلی ڈگری پر شاہنواز کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ۔۔

عرصہ دراز سے سینئر وکیل بن کر متعدد الیکشن لڑنے والے شاہ نواز اسماعیل گجر کی لاء کی ڈگری بھی جعلی نکلی۔

رفاقت علی سوہل ایڈیشنل سیکرٹری پنجاب بار کونسل لاہور کی مدعیت میں تھانہ سول لائن میں ایف آئی آر درج۔ ۔۔۔

شاہ نواز اسماعیل گجر پاکستان مسلم لیگ ن سے شاہدرہ کا سابقہ چیئرمین بھی رہ چکا ہے۔۔۔

جعل سازی جرم 419/420/468/471 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔۔
_____________________________________________
یہ پنجاب بار کونسل پر مقدمہ ہونا چاہئے کہ یہ وریفکیشن کے نام پر پیسے بٹورنے آ جاتے 😡😡😡😡😡
نا اہل محکمہ جو ایسے ٹھگوں فراڈیوں کے بارے میں ایکشن اس لیے نہیں لیتے کہ انہوں نے ووٹ لینا ہوتا ہے۔ جیسے کہ رحیم یارخان ضلع میں بھی ایسے وکلاء ہیں جو وکالت کا ناجائز فائدہ اٹھا کر معاشرے میں لوگوں کے لیے فرعون بنے پھر رہے ہیں اور زیادتیاں کر رہے ہیں اور یہ پنجاب بار کونسل اسلیئے خاموش تماشائی ہے کے انہوں نے ووٹ لینے ہوتے۔
پھر ہم سوچتے ہیں معاشرے میں وکلاء کی عزت کیوں نہیں اور لوگ ہمارے خلاف کیوں ہے۔
کیوں کہ ہم خود انصاف نہیں کرتے
یہ ایسے ناسور ہی ہماری ساکھ کے لئے خطرہ ہیں
وسلام
محمد عدنان اختر چانڈیہ بلوچ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
رحیم یارخان

پنجاب بار کونسل کی طرف سے ووکلاء کمیونٹی کے1- ہیلتھ کارڈ2- اسلحہ لائسنس3- ٹول ٹیکس سے استثنٰی4- سیل ایگریمنٹ کی تصدیق بز...
31/07/2021

پنجاب بار کونسل کی طرف سے ووکلاء کمیونٹی کے
1- ہیلتھ کارڈ
2- اسلحہ لائسنس
3- ٹول ٹیکس سے استثنٰی
4- سیل ایگریمنٹ کی تصدیق بزریعہ وکیل کیلیے مورخہ 30/07/2021 کو متعلقہ محکمہ جات و منسٹرز کو Requisition Letter جاری.
ہم سردار عبدالباسط خاں بلوچ ممبر پنجاب بار کونسل رحیم یار خان سیٹ چئرمین ایگزیکٹیو کمیٹی پنجاب بار کونسل کی اس کاوش کے لیے تہہ دل سے مشکور ہیں۔
منجانب۔ سپورٹران

سپورٹران سے پوچھنا یہ تھا کہ اسکا اب کیا ہو گا۔
اور نو منتخب عہدیداران سے بھی سوال ہے کے کیا یہ باسط خان صاحب کی اس کاوش کو پایا تکمیل پر پہنچایا جاۓ گا یا پاکستانی حکومتوں کی طرح پچھلی حکومت کے کیے گئے اچھے کام جان بوجھ کر پسے پشت ڈال دیا جائے گا؟؟؟

25/07/2021

صرف ایک عہد 6 ماہ کا سب پنجاب کے وکلاء کا کہ ہم کوئی کیس نہیں لڑیں گے آج کے بعد
عوام جو بات بات پر وکلاء کے خلاف بھونکتے ہوئے نہیں سوچتی
اور کِسی وکیل کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی ہو بغیر وجہ جانے وکیل کو غلط کہہ کر کہنا کہ اچھا ہوا انکے ساتھ ہونا چاہئے تو اُنکو پتہ لگ جائے گا اتنی عرصہ میں کے عوام کے لیے وکلاء کیا ہیں
ان کی چیخیں نہ نکل جائیں اور عوام کو اپنی اوقات بغیر وکلاء کے سمجھ آ جائے گی۔
پھر یہ پیر بنا کے پاؤں نہ چومیں تو کہیے گا۔
جج صاحبان بھی بیٹھ کر مکھیاں ماریں۔
پولیس بے لغام ہو کر جو کریگی انکو یاد آئے گی ہماری
اور یہ عمل میں لایا جا سکتا ہے

وہ کہتے ہیں نہ
جو کرتا ہے اللہ تعالیٰ کرتا ہے
اور اللہ تعالیٰ جو کرتا ہے صحیح کرتا ہے
تو covid کی صورت میں ہمیں طریقہ بتا دیا ہے کے 6 ماہ آپ بغیر عدالت آئے رہ سکتے ہو بس اس دفعہ ممبران پنجاب بار کونسل غیرت کا مظاہرہ کریں 75 میں سے 73 جو حق میں نہیں تھے وکلاء کو فنڈ دینے کہ وہ بھی مان جائیں۔
میں کہتا ہوں یہی عوام ہمیں گھر سے منت کر کہ پاؤں پکڑ کر لے کر آئے گی۔

ہاں ایک اور بات اگر کسی وکیل کا اپنا مسئلہ ہو گا تو ہم سب ساتھ ہوں گے عدالت میں بھی۔
بس یہ اگر عمل کر لیا جائے چند دن کے روزے ہماری عزت ساکھ بغیر کسی سے لڑ کر مل سکتی ہے۔
خدارا اس کے بارے میں سوچا جائے

یہ دونوں تحریر کا بغور مطالعہ کیا جائے ایک ڈسٹرکٹ بار کی طرف سے دوسرا نوجوان وکیل کی طرف سے اور یہ ظلم کرنے والا اُس گرو...
20/07/2021

یہ دونوں تحریر کا بغور مطالعہ کیا جائے ایک ڈسٹرکٹ بار کی طرف سے دوسرا نوجوان وکیل کی طرف سے اور یہ ظلم کرنے والا اُس گروپ کا صدر ہے جنکا امیدوار کہتا تھا نوجوان وکلاء کے ساتھ ہوں اُنکے لیے کام کروں گا یہ کام کیا گیا ہے
اس کے بعد اس امر کی اشد ضرورت ہے کے نوجوان وکلاء کو اکٹھے ہو جانا چاہئے کیوں کہ یہ بھی ہمیں کوئی مراعات رقم کی مد میں تو دیتے نہیں ہیں جو ہم بھیڑ بکریوں کی طرح انکے پیچھے چلتے رہیں۔
اب آپکو جاگنا پڑےگا ورنہ آپکا اسی طرح استحصال ہوتا رہے گا اور جس غلامی کی طرف سب گامزن ہے اس نا دیکھنے والی زنجیر کو توڑنا بہت مشکل ہو گا
آپ سب نوجوان وکلاء سے یہی کہتا ہوں اپنے حق کے لیے لڑنا شروع کرو۔ نوجوان ڈاکٹرز تنظیم کسی بھی قانون کے تحت نہیں بنی بس ظلم دیکھا اور بنا دی گئی آپکو بھی کرنا چاہئے۔
کوئی انسان آپکا ان داتا نہیں ہے مجھے پتہ ہے یہی سوال اٹھتا ہے کہ ڈاکٹرز کو اچھی خاصی تنخواہ ملتی ہے تو میری اس بات پر بھی آپ اتفاق کریں گے کے شروع کے تین سال آتا ویسے بھی نہیں ہے نوجوان وکیل پاس
یہ لمحہ فکریہ ہے اپنے لیے لڑنا شروع کیا جائے۔
ہم خود کی تنظیم بنائیں اور اُسکے الیکشن خود کروائیں اور اپنے کام کے لیے خود جائیں جیسا کے ہم جاتے بھی ہیں۔

کِسی بوڑھے وکیل کا مسئلہ یہاں تو چھوڑو کہیں بھی ہو ہم ہی بولنے والے ہوتے ہیں، ابھی والا ممبر پنجاب بار کونسل والا دیکھ لیں لیکن اسلام آباد والا تو جو نوجوان وکلاء کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ تو آپ دیکھ رہے۔
اگر بننا ہمارا کُچھ نہیں تو رہنے ہم انکا بھی کُچھ نہیں دیں گے کیوں جوش تو ہے اور منافقت بھی کم ہے۔
ہر اُس عدالت میں پیش ہو ہے جہاں بوڑھے وکیل کا مسئلہ ہو۔
نوجوان وکلاء کی آواز

15/07/2021

سب یاد رکھا جائے گا سب کچھ یاد رکھا جائے گا
ہمارے چیمبر کی مسماری پر کوئی مذمتی بیان نہ دینا
ہمیں اُکسا کے متحد کرنا
ہمیں جلوس کے لئے پیش کر کے جسٹس کے عہدے لینا
سب یاد رکھا جاۓ گا سب کچھ یاد رکھا جائے گا
محمد عدنان اختر چانڈیہ بلوچ
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

کیا سب وکلاء بھائی اس لفظ کے معنی دیکھ کر وکالت کے پیشے میں یہ لفظ استعمال کرنا مناسب سمجھتے ہیں؟؟؟؟؟
13/07/2021

کیا سب وکلاء بھائی اس لفظ کے معنی دیکھ کر وکالت کے پیشے میں یہ لفظ استعمال کرنا مناسب سمجھتے ہیں؟؟؟؟؟

13/07/2021

ایک دوست کہ ساتھ بیٹھے گُفتگو کے دوران ایک بات کی جو کہ بہت ہی اچھی لگی اور وکلاء بھائیوں کے مفاد میں ہے تو میں چاہتا ہوں کہ سب بھائیوں سے بھی پوچھا جائے کہ یہ کام کیسا ہے اور اس پر اپنی بار کے عہدے داران کی توجہ مبذول کروائی جائے
Health Care Card
وکلاء کا ایک ہیلتھ کیئر کارڈ ہونا چاہیئے کہ جو وکیل بیمار ہو اُسکے بہبود فنڈ سے پیسے دینے کے بجائے اس کارڈ سے اِسکی بیماری کا علاج کے اخراجات کو پورا کیا جائے
اور اگر اُنکے گھر والوں کے لیے بھی ہو جائے کارڈ تو اور بہتر ہے
ایک انصاف کارڈ کے نام سے پہلے سے مل رہا ہے اور اگر پنجاب بار کونسل کو ہماری بار کی طرف سے سفارشات جائیں کے وکلاء کے لیے بھی پنجاب حکومت کی طرف سے کارڈ بنوا کے دیا جائے تو میرے مطابق بہت ہی اچھی کاوش ہو گی
وسلام
محمد عدنان اختر چانڈیہ بلوچ
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
رحیم یارخان

Address

Rahimyar Khan
64200

Telephone

+923019777968

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mr. & Mrs. Lawyer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Mr. & Mrs. Lawyer:

Share