05/10/2024
پانچ اکتوبر 2011 😭
انا للہ وانا الیہ راجعون
💔💔💔💔
زندگی کا انتہائی درد ناک دن جب زندگی اپنا رخ موڑ لیا جب ایک انتہائی شفیق ، محبت کرنے والے ، مہذب شائستہ اور پڑھے لکھے ایسے باپ کو جو ھماری چھت تھا ھماری روح کا سب سے قریبی رشتہ میرے والد محترم شہید ختم نبوت چوہدری احمد یوسف شہید 💔
جنہیں بد بخت ، کم ظرف بے ایمان زندق کافر قا۔۔ د۔۔ یا۔۔نی جماعت کے غنڈے سربراہ کے حکم سے بے دردی سے شہید کر دیا گیا 😭
میرے والد محترم نے جس دلیری سے زندگی بسر کی اسی دلیری سے دشمن سے پانچ گھنٹے تک مسلسل مقابلہ کرتے ھوئے جام شہادت نوش فرما گئے
یہ وہ دن تھا جب چار اکتوبر کی رات میں نے بے چینی سے گزاری درد اور چھٹی حس بتا رہی تھی کے کچھ ظلم ھو رہا ھے کچھ چھین رہا ھے درد سے دل پھٹ رہا تھا جب ابو ظہبی میں رہتے ہوئے میں نے اپنے میاں سے کہا مجھے صبح پاکستان جانا ھے دل بے چین ھے بس ایک چکر لگا کر واپس آجاؤں گی
مگر میاں نے منع کر دیا کے دسمبر میں تو ھم سب ھی جائیں گے بس دو ماہ رہ گئے مگر میرا دل تھا کے تڑپ رہا تھا 😭
میں نے وہ رات انتہائی کرب سے بسر کی مجھے خواب میں اپنے باپ کو شہید کرنے کا پورا واقعہ نظر آیا جب کئی لوگ مل کر میری روح میرے باپ پر حملہ آور تھے ،
صبح پھر میں نے فیصلہ سنایا کے میں آج ہر صورت پاکستان چلی جاؤں گی بس
کیوں جا رہی ھوں یہ پتہ نہیں چل رہا تھا
بیگ تیار کیا اور پھر سے بستر پر لیٹ گئی اس انتظار میں کے ٹکٹ کا پتہ چلے ابو ظہبی سے اس دن کی فلائٹ نہیں تھی
کے گیارہ بجے پاکستان سے کال آئی مجھے بتایا گیا کے والد صاحب کو کچھ لوگ بے دردی سے شہید کر گئے ھیں 😭
یوں لگا جیسے دل پھٹ گیا ھو زندگی اندھیروں میں گھیر گی سب ختم ھو گیا
میں نے تین چھوٹے چھوٹے بچوں کو لئے گھر دوسرا ملک سب چھوڑ دیا اور ایک حق وباطل کی جنگ میں کود پڑی زندگی کی دوڑ میں بالکل اکیلے گرتے پڑتے کمر توڑ محنت کرتے اور ایک مقصد کو لئے کامیاب ھوں
الحمدللہ آج اس شہر چناب نگر میں
کوئی تحریف قرآن نہیں چھپ رہا
کوئی" ق " خود کے جھوٹے نبی کی دعوت اور کتاب ڈھونڈنے پر بھی حاصل نہیں کر سکتا
ان کی لائبریریوں پہ تالے لگ گئے ان کے تمام مذہبی ادارے بند ہو گئے اور الحمدللہ
وہاں ختم نبوت کا کام شروع ھوا والد محترم کا وہ گھر جو بالکل شہر کے اندر تھا جہاں ان کی شہادت ھوئی
ختم نبوت کا مرکز بنا دیا گیا ہر سال رمضان المبارک میں دسترخوان اور قربانی کا نا روکنے والا سلسلہ شروع ہوا "
ق" اپنا مزکر چناب نگر سے اٹھا کر لندن لے گئے
اس شہر پر کالک کی چھاپ لگ گئی ہر" ق" اپنے منہ چھپائے پھرتا ہے
اندر ہی اندر سب ان کے خلاف ہو گئے اور یہ شہر اجڑ کے رہ گیا الحمدللہ جس کاز کے لیے میرے والد نے ٹھانی تھی بہت حد تک مکمل کر کے جنت کو سدھار گئے اب اللہ تعالی ہمیں توفیق دے کہ ان" ق" کی جڑیں تک کاٹ کے رکھ دیں
ختم نبوت کے جس محاز پر لڑتے ہوئے میرے والد نے جام شہادت نوش فرمایا اللہ تعالی مجھے بھی اسی راستے پہ چلنے کی استقامت عطا فرمائے آمین
آپ سب سے میرے والد محترم کے ایصال ثواب کے لئے دعاؤں کی درخواست ھے اللّٰہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس کے اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین 🙏🏻