Meridian Law Firm Advocates & Legal Consultants

Meridian Law Firm Advocates & Legal Consultants Advocates & Legal Consultants
WhatsApp 03351231235

انتہاہی دلچسپ کیس جس سے عوام الناس اور قانون کے طالب علم ، وکلاء کو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ مقدمہ کی تفصیل ! مدعیہ خا...
05/06/2026

انتہاہی دلچسپ کیس جس سے عوام الناس اور قانون کے طالب علم ، وکلاء کو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔

مقدمہ کی تفصیل !

مدعیہ خاتون ( Complainant)
ملزم ( Accused )
نوعیت ( زنا بالجبر + زنا بالرضا )
دفعات ( 376 , 496B , PPC )

خاتون نے ریپ کا الزام لگایا۔ اس ریپ سے اس کا بچہ بھی پیدا ہو گیا۔ بچے کا ڈی این اے کروایا گیا۔ وہ ملزم کے ساتھ میچ کر گیا۔ بھکر کی عدالت نے کہا کہ زنا بالجبر ثابت ہوتا ہے اور ملزم کو 20 سال قید بامشقت اور متاثرہ کو 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنا دی۔ ملزم نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی۔ عدالت نے اپیل خارج کر دی اور ملزم کی سزا برقرار رکھی۔ ملزم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یہ زنا بالجبر نہیں، زنا بالرضا کا کیس تھا۔ ملزم کی سزا کم کر کے 5 سال قید بامشقت اور جرمانہ 5 لاکھ سے کم کر کے 10 ہزار روپے کر دیا۔

وجوہات جن کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا۔

1۔ مدعیہ نے واقعہ ہونے کے 7 ماہ بعد جرم کو رپورٹ کیا۔

2۔ مدعیہ کے مطابق وہ صبح ساڑھے 5 بجے کھیتوں میں گئی تو وہاں ملزم پہلے سے چھپا ہوا تھا۔ اس نے ریپ کر دیا۔ جہاں کا وقوعہ ہے وہاں ساتھ ہی آبادی بھی ہے۔ مدعیہ نے کسی قسم کا شور نہیں کیا۔ اس کے جسم پر مزاحمت کے کوئی نشان نہ تھے۔ کوئی زخم یا خراش کا نشان نہ تھا۔ متاثرہ خاتون نے اپنے کپڑے جمع نہیں کروائے کہ اس سے پتہ چلتا کہ وہ پھٹے ہوئے تھے یا نہیں۔ ان پر کوئی سیمن تھا یا نہیں۔ خاتون 7 ماہ تک خاموش رہی۔ مبینہ وقوعہ کے بعد جس وقت وہ گھر آئی اس کے مطابق اس کے بھائی اور باقی گھر والے گھر پر موجود تھے۔ اس نے 7 ماہ تک اس بات کا کسی سے ذکر نہیں کیا۔ ملزم کو کیسے پتہ تھا کہ وہ اس وقت وہاں اکیلی آئے گی۔

3۔ اگرچہ پیدا ہونے والے بچے کا ڈی این اے ملزم سے میچ کر گیا ہے لیکن یہ ریپ نہیں بلکہ زنا بالرضا کا واقعہ ہے۔ ریپ ہوتا تو مزاحمت، شور، زخم، خراش کچھ نہ کچھ تو ہوتا۔

4۔ میڈیکل رپورٹ میں ڈاکٹر نے یہ ضرور بتایا کہ ٹو فنگر ٹیسٹ مثبت آیا ہے لیکن اسے بھی کسی زخم وغیرہ کا کوئی پرانا نشان نہیں ملا۔

قانون کے طالبعلموں کیلئے: اگرچہ اس کیس میں 376 (ریپ) کی ایف آئی آر ہوئی تھی اور چارج بھی اسی دفعہ کے تحت فریم ہوا تھا لیکن سزا 496 بی (زنا بالرضا) میں تبدیل کر دی گئی۔ جو کہ اس جنرل اصول کی خلاف ورزی ہے کہ جس جرم کا چارج فریم ہو سزا بھی اسی میں ہو۔ اس اصول کی استثنی کیلئے آپ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 238(2) اور سپریم کورٹ کی ایک ججمنٹ 2006SCMR 1170 پڑھ لیں۔

نوٹ: شیئر کردہ کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی لارجر بینچ جسٹس شہزاد احمد خان، جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس صلاح الدین پنہور نے دیا ہے۔ جسٹس صلاح الدین نے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کیا اور اپنا اختلافی نوٹ جاری کیا جس کی تفصیل ذیل میں ہے۔

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں جہاں اکثریتی معزز جج صاحبان نے ایک ریپ کے مقدمے میں سزا کم کرتے ہوئے جرم کی نوعیت میں تبدیلی کی، وہیں محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب کا اختلافی نوٹ قانون، انصاف اور سماجی حقیقتوں کی ایک مضبوط اور باوقار ترجمانی کرتا ہے۔ یہ اختلاف محض قانونی نکات تک محدود نہیں بلکہ انسانی وقار، سماجی دباؤ اور فوجداری قانون کے بنیادی اصولوں پر ایک گہری اور بصیرت افروز دستک ہے۔

یہ مقدمہ ایک تقریباً 24 سالہ غیر شادی شدہ خاتون سے متعلق ہے، جس کے نتیجے میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کی ڈی این اے رپورٹ کے مطابق ملزم اور متاثرہ خاتون اس بچے کے حیاتیاتی والدین ثابت ہوئے۔ اکثریتی فیصلے میں سات ماہ کی تاخیر سے درج ایف آئی آر اور جسم پر تشدد کے نشانات کی عدم موجودگی کو بنیاد بنا کر ریپ کے الزام کو کمزور قرار دیا گیا، تاہم محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے نہایت مدلل، قانونی اور انسانی بنیادوں پر اس سوچ سے اختلاف کیا۔

محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب واضح کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ریپ اور جنسی ہراسانی کے واقعات اکثر رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ جرم کی عدم موجودگی نہیں بلکہ خوف، بدنامی، کردار کشی اور خاندانی دباؤ ہوتا ہے۔ ایک متاثرہ خاتون کو عدالت سے پہلے اپنے ہی گھر میں اپنے کردار کا دفاع کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں تاخیر کو بدنیتی یا رضامندی سے تعبیر کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

خصوصاً اس مقدمے میں متاثرہ خاتون کم عمر، غیر شادی شدہ، والدین سے محروم اور اپنے بڑے بھائی پر انحصار کرنے والی تھی۔ ریکارڈ پر دھمکیوں کے شواہد بھی موجود تھے۔ محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب کے مطابق ایسے حالات میں خاموشی ایک فطری انسانی ردعمل ہے، نہ کہ جرم سے انکار۔ ان کے بقول یہ خاموشی اس وقت تک برقرار رہنا بالکل فطری تھا جب تک متاثرہ خاتون کو اپنے حمل کا علم نہ ہو سکا۔

جسم پر تشدد کے نشانات نہ ہونے کے نکتے پر بھی محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے ایک اہم قانونی اصول اجاگر کیا۔ اگر ملزم مسلح ہو تو مزاحمت نہ کرنا انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ مزید یہ کہ سات ماہ بعد ہونے والا طبی معائنہ کسی جسمانی مزاحمت کے آثار محفوظ نہیں رکھ سکتا، جیسا کہ عدالتی نظائر میں بھی تسلیم کیا جا چکا ہے۔

ڈی این اے رپورٹ کے حوالے سے محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے سائنسی بنیادوں پر اکثریتی فیصلے کی کمزوری واضح کی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی میں ڈی این اے کو بروقت extract کر کے محفوظ کیا جاتا ہے، جو برسوں تک قابلِ اعتماد رہتا ہے۔ محض buccal swab کے مبینہ طور پر ضائع ہونے کے امکان کو بنیاد بنا کر ڈی این اے رپورٹ کو مشکوک قرار دینا نہ سائنسی ہے اور نہ ہی قانونی طور پر درست۔

اختلافی نوٹ کا سب سے اہم اور حساس پہلو وہ ہے جہاں اکثریتی فیصلے میں ریپ (دفعہ 376 PPC) کو رضامندی پر مبنی فعل (دفعہ 496-B PPC) میں تبدیل کیا گیا۔ محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ یہ دونوں الگ الگ جرائم ہیں جن کے اجزاء مختلف ہیں۔ اگر رضامندی ثابت نہیں تو محض سزا کم کرنے کے لیے جرم کی نوعیت بدلنا قانون کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ریپ ثابت نہ ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ رضامندی خودبخود ثابت ہو گئی۔

انہوں نے نہایت اہم سوال اٹھایا کہ اگر ڈی این اے رپورٹ ریپ کے الزام کے لیے ناقابلِ اعتبار سمجھی جا رہی ہے تو اسی رپورٹ کو رضامندی پر مبنی جرم کے لیے کیسے قابلِ قبول مانا جا سکتا ہے؟ قانون مفروضوں پر نہیں بلکہ ناقابلِ تردید ثبوت پر عمل کرتا ہے۔

محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے اپنے اختلافی نوٹ کا اختتام انسانی وقار کے قرآنی تصور پر کیا، جو اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ انسان کی عزت اور حرمت ہر قانونی بحث سے بالاتر ہے۔ یہ اختلافی نوٹ دراصل صرف ایک فیصلے سے اختلاف نہیں بلکہ اس سوچ کے خلاف ایک مضبوط اعلان ہے جو مظلوم کی خاموشی کو اس کے خلاف ثبوت بنا دیتی ہے۔

یہ اختلافی رائے مستقبل کے لیے ایک واضح رہنما اصول ہے کہ انصاف صرف شکوک و شبہات کی بنیاد پر نہیں بلکہ سماجی حقیقتوں، انسانی نفسیات اور قانون کے مسلمہ اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر دیا جانا چاہیے۔ اگر خاموشی کو جرم اور کمزوری کو رضامندی سمجھا جائے تو یہ انصاف نہیں بلکہ خوف کی توثیق ہو گی۔

Meridian Law Firm
03351231235

25/05/2026

For Young/practicing Lawyers !

بوڑھے والدین کے نان و نفقہ کے حق کو عدالت نے تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ جاری کردیا.فیملی کورٹ راولپنڈی میں فیصلہ معزز جج جناب...
25/04/2026

بوڑھے والدین کے نان و نفقہ کے حق کو عدالت نے تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ جاری کردیا.

فیملی کورٹ راولپنڈی میں فیصلہ معزز جج جناب ندیم اصغر ندیم (Judge Family Court Rawalpindi) نے صادر فرمایا۔
معزز عدالت نے قرار دیا کہ بیٹے اپنے والد کو نان و نفقہ دینے کے پابند ہیں۔
عدالت نے واضح طور پر مشاہدہ کیا کہ:

"مدعا علیہان، مدعی کے حقیقی بیٹے ہیں اور ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے والد کی کفالت کریں، جبکہ مدعی ضعیف العمر ہونے کی وجہ سے خود کمانے کے قابل نہیں رہا۔"
چنانچہ عدالت نے مدعی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے پندرہ ہزار روپے ماہانہ نان و نفقہ مقرر کیا۔
مزید برآں، معزز عدالت عالیہ لاہور کے فیصلہ Azhar Ijaz Khawaja Vs
Additional District Judge
(2025 LHC 6358)
کی روشنی میں یہ اصول مزید مستحکم ہو چکا ہے کہ والدین بھی بیٹوں کے خلاف نان و نفقہ کا دعویٰ دائر کر سکتے ہیں، اور ایسا معاملہ فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اس حق کو صرف بیوی اور بچوں تک محدود کرنا قانون کی غلط تشریح ہوگی۔
یہ فیصلہ نہ صرف ایک کیس کی کامیابی ہے بلکہ والدین کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔

15/02/2026

Cross-Examination is an Art & a technique rather than a knowledge of Law !

This piece of writing will give a sense of understanding of cross examination for my colleagues who don't learn and aren't tought it probably in class rooms and in beginning of practice.

I am drawing a circle which gives you a cursory view of cross examination through which everyone can understand it in a better way but before that It's pertinent to share here that many practising lawyers in criminal side can't differentiate between in chief & cross examination and they start asking questions here and there which literally risks the defense of accused and at the end accused was sent to jail announcing him sentence according.

I have experienced that many criminal lawyers start their cross examination with suggestions and most of them with leading questions and others with in chief. And a good criminal lawyer know it better that there's no limit of questions you may ask dozens or hundreds of questions but problem is that how you remain with relevancy of questions and through what techniques you may drive a witness to your destiny or point.

I am Sharing a circle which will give all of you a better understanding of cross examination,

There are three circles , in first circle you can see the facts ; facts of case/FIR and in second circle I mentioned " relevant Facts " and in third one circle I wrote " irrelevant facts but relevant by other means ".

Now you try to understand your cross technique that how to ask questions and what will be in your mind while asking questions in cross examination.

If you're fully confident that the answer of a question which you're asking from a witness will support your plea of defense then you are to touch the first circle i.e. circle of " Facts " vise versa just jump in second circle respectively in third.

And you must not go beyond and out of these three circles while asking questions if you can't adhere with these three circles your cross examination has no benefit and you will not be able to shake credibility of witnesses and will not protect your client/accused.

Keep one thing in your mind that you're not going to touch a first circle if you're not much confident about answer of your question that whether reply will come in your favor or against your stance. If it comes according to your choice it will definitely benefit and in contrary it will be harmful for your clients and will be considered as a admission of facts which can send your clients behind the bars.

So cross examination is an Art & a technique rather than a knowledge of Law.

فیملی لاء کا ایک اہم مسئلہ: بچوں کی تحویل (Child Custody)خاندانی تنازعات میں سب سے نازک اور حساس مسئلہ بچوں کی تحویل کا ...
21/01/2026

فیملی لاء کا ایک اہم مسئلہ: بچوں کی تحویل (Child Custody)

خاندانی تنازعات میں سب سے نازک اور حساس مسئلہ بچوں کی تحویل کا ہوتا ہے۔ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی یا طلاق کے بعد اصل سوال یہ نہیں رہتا کہ بچوں کی کسٹڈی کا حق کس کا ہے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ بچے کا بہترین مفاد (Welfare of the Child) کس میں ہے۔

پاکستانی کے فیملی لاء کے مطابق عدالت ہمیشہ بچے کی فلاح و بہبود کو ترجیح دیتی ہے۔ عام طور پر کم عمر بچوں کی تحویل ماں کو دی جاتی ہے، مگر یہ کوئی حتمی اصول نہیں ہوتا۔ اگر عدالت کے سامنے یہ بات آ جائے کہ ماں یا باپ میں سے کوئی ایک بچے کی جسمانی، ذہنی یا اخلاقی تربیت کے لیے موزوں نہیں، تو عدالت فیصلہ تبدیل بھی کر سکتی ہے۔
لوگ عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ جس کے پاس مالی طاقت زیادہ ہو، بچہ اسی کو مل جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پیسہ نہیں بلکہ بچے کی پرورش، تعلیم، ماحول اور تحفظ فیصلہ کن عوامل ہوتے ہیں۔ اسی طرح باپ کا یہ حق ضرور ہے کہ وہ بچے سے ملاقات کرے، جسے قانون میں Visitation Right کہا جاتا ہے۔
یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ بچوں کو والدین کے جھگڑوں کی سزا نہیں دی جا سکتی۔ اگر والدین اپنے ذاتی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے معاملہ حل کریں، تو یہی بچوں کے مستقبل کے لیے بہتر ہوتا ہے۔
آگاہی ہی تحفظ ہے — فیملی لاء کو سمجھیں تاکہ اپنے
اور اپنے بچوں کے حقوق محفوظ رکھ سکیں۔ ⚖️



























Visiting Card !
09/01/2026

Visiting Card !

میریڈین لاء فرم کے قابل و محنتی وکیل ایڈووکیٹ بشیر احمد مگسی نے آج اپنے کلائنٹس کی سیشن عدالت کوئٹہ سے تین ایف آئی آرز ب...
07/01/2026

میریڈین لاء فرم کے قابل و محنتی وکیل ایڈووکیٹ بشیر احمد مگسی نے آج اپنے کلائنٹس کی سیشن عدالت کوئٹہ سے تین ایف آئی آرز بشمول دفعہ 324 کے مقدمہ میں ضمانت بعد از گرفتاری کروا کر کلائنٹ کو ریلیف دلوایا۔

Meridian Law Firm
Cell # 03331918403

Address

Shara-e-Iqbal Quetta
Quetta
87300

Telephone

+923331918403

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Meridian Law Firm Advocates & Legal Consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Meridian Law Firm Advocates & Legal Consultants:

Shortcuts

Share