Meridian Law Firm Advocates & Legal Consultants

Call Directions Contact the practice

Meridian Law Firm Advocates & Legal Consultants Advocates & Legal Consultants
WhatsApp 03351231235

We are proud to share that Mr. Imran Mirwani, a well-known advocate and thorough professional, a member of Meridian Law ...
23/08/2026

We are proud to share that Mr. Imran Mirwani, a well-known advocate and thorough professional, a member of Meridian Law Firm, has qualified for a fully funded scholarship at a prestigious university in the UK.

Heartfelt congratulations to Mr. Mirwani.

⚠️ Avoid FBR Penalty of Rs. 25,000Under FBR rules, every eligible individual and business must file their Annual Income ...
11/08/2026

⚠️ Avoid FBR Penalty of Rs. 25,000

Under FBR rules, every eligible individual and business must file their Annual Income Tax Return.
Delay in filing leads to heavy fines and legal issues.
Penalty can be up to PKR 25,000.

File your Annual Tax Return before the due date.

Judicial Law Clerkship Programme at the FCC of Pakistan! Applications are now open for the Judicial Law Clerkship Progra...
01/07/2026

Judicial Law Clerkship Programme at the FCC of Pakistan!

Applications are now open for the Judicial Law Clerkship Programme 2026–2027 at the Federal Constitutional Court of Pakistan.

An opportunity for exceptional young legal minds to work alongside the Hon’ble Judges and gain experience in constitutional adjudication, legal research, comparative jurisprudence, and judicial excellence.

Eligibility
- LL.B. (mandatory)
- Member of the local Bar in Pakistan
- Minimum 2 years post-graduation legal/judicial experience
- Apply within 3 years of completion of LL.B.
- Maximum age: 28 years

Remuneration: PKR 185,000 per month
📅 Deadline: Wednesday, 15 July 2026 | 11:59 PM

Become part of a new generation of constitutional scholarship and judicial excellence.

Apply Online: https://fccp.gov.pk/public/careers.

30/06/2026
وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ ! چارسدہ کے عاصم شاہ نے اپنے حجرے پر دو گروہوں میں صلح کیلئے جرگہ منعقد کیا ہوا تھا کہ پولیس ...
20/06/2026

وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ !

چارسدہ کے عاصم شاہ نے اپنے حجرے پر دو گروہوں میں صلح کیلئے جرگہ منعقد کیا ہوا تھا کہ پولیس نے وہاں دھاوا بول دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق اس دوران فائرنگ کی آواز آئی اور عاصم شاہ موقع پر جاں بحق ہو گئے۔ مقتول کے ورثاء کیمطابق ہاتھاپائی کے دوران تھانہ سٹی کے ایس ایچ او بہرہ مند نے اپنی پستول سے فائرنگ کرکے عاصم کو قتل کیا۔ یہ 22 اگست 2025ء کا دن تھا۔ نوجوان عاصم نے حال ہی میں وکالت کا آغاز کیا تھا، تین ماہ بعد شادی طے تھی۔

وقوعے کے بعد ایس ایچ او کو پولیس نے گرفتار نہ کیا، جس پر صوبے بھر کے وکلاء نے عدالتی ہڑتال کی صورت میں احتجاج شروع کر دیا۔ کچھ عرصے بعد ایس ایچ او اپنی ضمانت کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں پیش ہوا اور شبیر حسین گیگیانی ایڈووکیٹ کو اپنا وکیل مقرر کیا۔ اس پر پشاور ہائیکورٹ بار نے سخت ردِعمل دیا اور قرارداد منظور کی کہ کوئی وکیل نہ تو ملزم ایس ایچ او کی وکالت کرے گا اور نہ ہی دورانِ ہڑتال کوئی وکیل عدالتوں میں پیش ہوگا۔

بار ایسوسی ایشن کی اس قرارداد کے باوجود شبیر ایڈووکیٹ نے ملزم کی وکالت جاری رکھی اور ایک روز ہڑتال کے اعلان کے باوجود ایک اور وکیل عظیم آفریدی اپنے کسی کیس میں عدالت میں پیش ہو گیا۔ جس پر کے پی بار کونسل نے ان دونوں وکیلوں کے لائسنس معطل کر دیے۔ دونوں وکیلوں نے اپنے لائسنس معطلی کے خلاف رِٹ پٹیشن کے ذریعے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔

پشاور ہائیکورٹ نے 15 اکتوبر کو متاثرہ وکلاء کی پٹیشن منظور کر لیں۔ ہائیکورٹ نے کہا کہ یہ معاملہ وکلاء اور سائلین کے بنیادی حقوق (وکیل کا وکالت کرنے کا حق اور شہری کا اپنی پسند کا وکیل کرنے کا حق) سے متعلق ہے، اس لیے عدالت کو اس معاملے کی سماعت اور بار کونسل کیخلاف احکامات جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

پشاور ہائیکورٹ بار نے ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کر لیا۔

وفاقی آئینی عدالت میں بار ایسوسی ایشن کا موقف تھا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ کا دائرۂ اختیار صرف سرکاری اداروں اور حکومتی حکام تک محدود ہے، لہٰذا بار کونسل جیسے ریگولیٹری اداروں کو اس دائرۂ اختیار سے استثنا حاصل ہے۔ جبکہ متاثرہ وکلاء کا کہنا تھا کہ عدالتی ہڑتال کا حصہ نہ بننا اور اپنے مؤکل کی عدالت میں نمائندگی کرنا ان کا آئینی و پیشہ ورانہ حق ہے، اور بار کونسل کا اقدام آئین کے آرٹیکل 18 کے تحت ان کے پیشے کی آزادی کے حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

آئینی عدالت کے دو رکنی بنچ نے 31 مارچ کو کیس کی سماعت کی اور جسٹس عامر فاروق نے فیصلہ تحریر کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ کا دائرۂ اختیار انتہائی وسیع ہے۔ بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہائیکورٹ محض سرکاری اداروں تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ "کسی بھی شخص" بشمول نجی اداروں، کمپنیوں اور بار کونسل جیسے ریگولیٹری اداروں کے خلاف بھی رِٹ جاری کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

آئین کا آرٹیکل 18 ہر شہری کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ کوئی بھی جائز پیشہ، کاروبار یا تجارت اختیار کرکے اپنا اور اپنے خاندان کا روزگار کما سکے۔ آئین کے آرٹیکل 10 اور 10-اے کے تحت ہر فرد کو اپنی پسند کے وکیل کے ذریعے نمائندگی حاصل کرنے کا حق ہے، جو کہ منصفانہ ٹرائل کی بنیاد ہے۔ بار کونسل کا کسی وکیل کو قتل کے ملزم کی پیروی کرنے سے روکنا ایک غیر آئینی عمل تھا۔ وکلاء کو ہڑتال کرنے، عدالتوں کا بائیکاٹ کرنے اور عدالت میں پیش ہونے سے گریز کرنے کا قطعی کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

انصاف تک رسائی آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت ایک بنیادی حق ہے۔ برصغیر میں وکلاء کی ہڑتالوں کا رواج عام ہے۔ جب بار کونسلز یا ایسوسی ایشنز ہڑتال کی کال دیتی ہیں تو وہ دراصل سائلین کو ان کے وکیل کی قانونی نمائندگی کے حق سے محروم کر دیتی ہیں۔
اس غیر قانونی عمل سے مقدمات بغیر کسی پیش رفت کے ملتوی ہو جاتے ہیں اور پہلے سے بوجھ کے شکار عدالتی نظام میں سائلین کے لیے انصاف کا حصول مزید طویل اور کٹھن ہو جاتا ہے۔ وکلاء کا مقصد کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، لیکن ہڑتال اس کا حل نہیں۔

سائلین کو مشکلات میں ڈال کر اور انصاف کی فراہمی کو روک کر ہڑتال کرنا کسی بھی طرح جائز نہیں ہے۔ لہٰذا ہڑتال کے دن عدالت میں پیش ہونے پر وکیل کا لائسنس معطل کرنا معاشی آزادی کے آئینی حق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ وکلاء کو ان کے سائلین کی نمائندگی کرنے یا عدالتوں میں پیش ہونے سے روکنا قطعی طور پر ناقابلِ اجازت ہے۔

آئینی عدالت نے متاثرہ وکلاء کے لائسنس بحال رکھتے ہوئے بار ایسوسی ایشن کی پٹیشن خارج کر دی۔

انتہاہی دلچسپ کیس جس سے عوام الناس اور قانون کے طالب علم ، وکلاء کو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ مقدمہ کی تفصیل ! مدعیہ خا...
05/06/2026

انتہاہی دلچسپ کیس جس سے عوام الناس اور قانون کے طالب علم ، وکلاء کو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔

مقدمہ کی تفصیل !

مدعیہ خاتون ( Complainant)
ملزم ( Accused )
نوعیت ( زنا بالجبر + زنا بالرضا )
دفعات ( 376 , 496B , PPC )

خاتون نے ریپ کا الزام لگایا۔ اس ریپ سے اس کا بچہ بھی پیدا ہو گیا۔ بچے کا ڈی این اے کروایا گیا۔ وہ ملزم کے ساتھ میچ کر گیا۔ بھکر کی عدالت نے کہا کہ زنا بالجبر ثابت ہوتا ہے اور ملزم کو 20 سال قید بامشقت اور متاثرہ کو 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنا دی۔ ملزم نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی۔ عدالت نے اپیل خارج کر دی اور ملزم کی سزا برقرار رکھی۔ ملزم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یہ زنا بالجبر نہیں، زنا بالرضا کا کیس تھا۔ ملزم کی سزا کم کر کے 5 سال قید بامشقت اور جرمانہ 5 لاکھ سے کم کر کے 10 ہزار روپے کر دیا۔

وجوہات جن کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا۔

1۔ مدعیہ نے واقعہ ہونے کے 7 ماہ بعد جرم کو رپورٹ کیا۔

2۔ مدعیہ کے مطابق وہ صبح ساڑھے 5 بجے کھیتوں میں گئی تو وہاں ملزم پہلے سے چھپا ہوا تھا۔ اس نے ریپ کر دیا۔ جہاں کا وقوعہ ہے وہاں ساتھ ہی آبادی بھی ہے۔ مدعیہ نے کسی قسم کا شور نہیں کیا۔ اس کے جسم پر مزاحمت کے کوئی نشان نہ تھے۔ کوئی زخم یا خراش کا نشان نہ تھا۔ متاثرہ خاتون نے اپنے کپڑے جمع نہیں کروائے کہ اس سے پتہ چلتا کہ وہ پھٹے ہوئے تھے یا نہیں۔ ان پر کوئی سیمن تھا یا نہیں۔ خاتون 7 ماہ تک خاموش رہی۔ مبینہ وقوعہ کے بعد جس وقت وہ گھر آئی اس کے مطابق اس کے بھائی اور باقی گھر والے گھر پر موجود تھے۔ اس نے 7 ماہ تک اس بات کا کسی سے ذکر نہیں کیا۔ ملزم کو کیسے پتہ تھا کہ وہ اس وقت وہاں اکیلی آئے گی۔

3۔ اگرچہ پیدا ہونے والے بچے کا ڈی این اے ملزم سے میچ کر گیا ہے لیکن یہ ریپ نہیں بلکہ زنا بالرضا کا واقعہ ہے۔ ریپ ہوتا تو مزاحمت، شور، زخم، خراش کچھ نہ کچھ تو ہوتا۔

4۔ میڈیکل رپورٹ میں ڈاکٹر نے یہ ضرور بتایا کہ ٹو فنگر ٹیسٹ مثبت آیا ہے لیکن اسے بھی کسی زخم وغیرہ کا کوئی پرانا نشان نہیں ملا۔

قانون کے طالبعلموں کیلئے: اگرچہ اس کیس میں 376 (ریپ) کی ایف آئی آر ہوئی تھی اور چارج بھی اسی دفعہ کے تحت فریم ہوا تھا لیکن سزا 496 بی (زنا بالرضا) میں تبدیل کر دی گئی۔ جو کہ اس جنرل اصول کی خلاف ورزی ہے کہ جس جرم کا چارج فریم ہو سزا بھی اسی میں ہو۔ اس اصول کی استثنی کیلئے آپ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 238(2) اور سپریم کورٹ کی ایک ججمنٹ 2006SCMR 1170 پڑھ لیں۔

نوٹ: شیئر کردہ کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی لارجر بینچ جسٹس شہزاد احمد خان، جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس صلاح الدین پنہور نے دیا ہے۔ جسٹس صلاح الدین نے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کیا اور اپنا اختلافی نوٹ جاری کیا جس کی تفصیل ذیل میں ہے۔

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں جہاں اکثریتی معزز جج صاحبان نے ایک ریپ کے مقدمے میں سزا کم کرتے ہوئے جرم کی نوعیت میں تبدیلی کی، وہیں محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب کا اختلافی نوٹ قانون، انصاف اور سماجی حقیقتوں کی ایک مضبوط اور باوقار ترجمانی کرتا ہے۔ یہ اختلاف محض قانونی نکات تک محدود نہیں بلکہ انسانی وقار، سماجی دباؤ اور فوجداری قانون کے بنیادی اصولوں پر ایک گہری اور بصیرت افروز دستک ہے۔

یہ مقدمہ ایک تقریباً 24 سالہ غیر شادی شدہ خاتون سے متعلق ہے، جس کے نتیجے میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کی ڈی این اے رپورٹ کے مطابق ملزم اور متاثرہ خاتون اس بچے کے حیاتیاتی والدین ثابت ہوئے۔ اکثریتی فیصلے میں سات ماہ کی تاخیر سے درج ایف آئی آر اور جسم پر تشدد کے نشانات کی عدم موجودگی کو بنیاد بنا کر ریپ کے الزام کو کمزور قرار دیا گیا، تاہم محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے نہایت مدلل، قانونی اور انسانی بنیادوں پر اس سوچ سے اختلاف کیا۔

محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب واضح کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ریپ اور جنسی ہراسانی کے واقعات اکثر رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ جرم کی عدم موجودگی نہیں بلکہ خوف، بدنامی، کردار کشی اور خاندانی دباؤ ہوتا ہے۔ ایک متاثرہ خاتون کو عدالت سے پہلے اپنے ہی گھر میں اپنے کردار کا دفاع کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں تاخیر کو بدنیتی یا رضامندی سے تعبیر کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

خصوصاً اس مقدمے میں متاثرہ خاتون کم عمر، غیر شادی شدہ، والدین سے محروم اور اپنے بڑے بھائی پر انحصار کرنے والی تھی۔ ریکارڈ پر دھمکیوں کے شواہد بھی موجود تھے۔ محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب کے مطابق ایسے حالات میں خاموشی ایک فطری انسانی ردعمل ہے، نہ کہ جرم سے انکار۔ ان کے بقول یہ خاموشی اس وقت تک برقرار رہنا بالکل فطری تھا جب تک متاثرہ خاتون کو اپنے حمل کا علم نہ ہو سکا۔

جسم پر تشدد کے نشانات نہ ہونے کے نکتے پر بھی محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے ایک اہم قانونی اصول اجاگر کیا۔ اگر ملزم مسلح ہو تو مزاحمت نہ کرنا انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ مزید یہ کہ سات ماہ بعد ہونے والا طبی معائنہ کسی جسمانی مزاحمت کے آثار محفوظ نہیں رکھ سکتا، جیسا کہ عدالتی نظائر میں بھی تسلیم کیا جا چکا ہے۔

ڈی این اے رپورٹ کے حوالے سے محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے سائنسی بنیادوں پر اکثریتی فیصلے کی کمزوری واضح کی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی میں ڈی این اے کو بروقت extract کر کے محفوظ کیا جاتا ہے، جو برسوں تک قابلِ اعتماد رہتا ہے۔ محض buccal swab کے مبینہ طور پر ضائع ہونے کے امکان کو بنیاد بنا کر ڈی این اے رپورٹ کو مشکوک قرار دینا نہ سائنسی ہے اور نہ ہی قانونی طور پر درست۔

اختلافی نوٹ کا سب سے اہم اور حساس پہلو وہ ہے جہاں اکثریتی فیصلے میں ریپ (دفعہ 376 PPC) کو رضامندی پر مبنی فعل (دفعہ 496-B PPC) میں تبدیل کیا گیا۔ محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ یہ دونوں الگ الگ جرائم ہیں جن کے اجزاء مختلف ہیں۔ اگر رضامندی ثابت نہیں تو محض سزا کم کرنے کے لیے جرم کی نوعیت بدلنا قانون کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ریپ ثابت نہ ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ رضامندی خودبخود ثابت ہو گئی۔

انہوں نے نہایت اہم سوال اٹھایا کہ اگر ڈی این اے رپورٹ ریپ کے الزام کے لیے ناقابلِ اعتبار سمجھی جا رہی ہے تو اسی رپورٹ کو رضامندی پر مبنی جرم کے لیے کیسے قابلِ قبول مانا جا سکتا ہے؟ قانون مفروضوں پر نہیں بلکہ ناقابلِ تردید ثبوت پر عمل کرتا ہے۔

محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے اپنے اختلافی نوٹ کا اختتام انسانی وقار کے قرآنی تصور پر کیا، جو اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ انسان کی عزت اور حرمت ہر قانونی بحث سے بالاتر ہے۔ یہ اختلافی نوٹ دراصل صرف ایک فیصلے سے اختلاف نہیں بلکہ اس سوچ کے خلاف ایک مضبوط اعلان ہے جو مظلوم کی خاموشی کو اس کے خلاف ثبوت بنا دیتی ہے۔

یہ اختلافی رائے مستقبل کے لیے ایک واضح رہنما اصول ہے کہ انصاف صرف شکوک و شبہات کی بنیاد پر نہیں بلکہ سماجی حقیقتوں، انسانی نفسیات اور قانون کے مسلمہ اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر دیا جانا چاہیے۔ اگر خاموشی کو جرم اور کمزوری کو رضامندی سمجھا جائے تو یہ انصاف نہیں بلکہ خوف کی توثیق ہو گی۔

Meridian Law Firm
03351231235

25/05/2026

For Young/practicing Lawyers !

بوڑھے والدین کے نان و نفقہ کے حق کو عدالت نے تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ جاری کردیا.فیملی کورٹ راولپنڈی میں فیصلہ معزز جج جناب...
25/04/2026

بوڑھے والدین کے نان و نفقہ کے حق کو عدالت نے تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ جاری کردیا.

فیملی کورٹ راولپنڈی میں فیصلہ معزز جج جناب ندیم اصغر ندیم (Judge Family Court Rawalpindi) نے صادر فرمایا۔
معزز عدالت نے قرار دیا کہ بیٹے اپنے والد کو نان و نفقہ دینے کے پابند ہیں۔
عدالت نے واضح طور پر مشاہدہ کیا کہ:

"مدعا علیہان، مدعی کے حقیقی بیٹے ہیں اور ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے والد کی کفالت کریں، جبکہ مدعی ضعیف العمر ہونے کی وجہ سے خود کمانے کے قابل نہیں رہا۔"
چنانچہ عدالت نے مدعی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے پندرہ ہزار روپے ماہانہ نان و نفقہ مقرر کیا۔
مزید برآں، معزز عدالت عالیہ لاہور کے فیصلہ Azhar Ijaz Khawaja Vs
Additional District Judge
(2025 LHC 6358)
کی روشنی میں یہ اصول مزید مستحکم ہو چکا ہے کہ والدین بھی بیٹوں کے خلاف نان و نفقہ کا دعویٰ دائر کر سکتے ہیں، اور ایسا معاملہ فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اس حق کو صرف بیوی اور بچوں تک محدود کرنا قانون کی غلط تشریح ہوگی۔
یہ فیصلہ نہ صرف ایک کیس کی کامیابی ہے بلکہ والدین کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔

Address

Shara-e-Iqbal Quetta
Quetta
87300

Telephone

+923331918403

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Meridian Law Firm Advocates & Legal Consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Meridian Law Firm Advocates & Legal Consultants:

Shortcuts

Share