Mirza Law Chamber

Mirza Law Chamber Justice For Everyone ⚖️ Justice For Everyone

جب اہل لوگ موجود ہیں تو ہزارہ قوم کو عدلیہ میں کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے؟ ہزارہ قوم کو اس کا حق دیا جائے۔⚖️
10/07/2026

جب اہل لوگ موجود ہیں تو ہزارہ قوم کو عدلیہ میں کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے؟ ہزارہ قوم کو اس کا حق دیا جائے۔⚖️

بلوچستان ہائی کورٹ میں ججز کی نامزدگیوں کے لیے جاری ہونے والے حالیہ نوٹیفکیشن پر ہزارہ قوم شدید تشویش اور سخت احتجاج کا ...
08/07/2026

بلوچستان ہائی کورٹ میں ججز کی نامزدگیوں کے لیے جاری ہونے والے حالیہ نوٹیفکیشن پر ہزارہ قوم شدید تشویش اور سخت احتجاج کا اظہار کرتی ہے۔

یہ انتہائی افسوسناک اور باعثِ تشویش امر ہے کہ صوبے کی مختلف اقوام، قبائل اور برادریوں کو نمائندگی دی گئی، مگر بلوچستان کی پرامن، باصلاحیت، تعلیم یافتہ اور آئین و قانون سے وابستہ ہزارہ قوم کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ یہ عمل نہ صرف مساوی نمائندگی کے اصولوں بلکہ انصاف، میرٹ اور آئینی تقاضوں کے بھی منافی ہے۔

ہمیں معزز چیف جسٹس بلوچستان سے ایسی ناانصافی کی ہرگز توقع نہیں تھی۔ عدلیہ وہ ادارہ ہے جہاں ہر شہری اور ہر قوم انصاف، برابری اور غیر جانبداری کی امید لے کر دیکھتی ہے۔ اگر عدلیہ میں ہی ایک پوری قوم کو نظر انداز کر دیا جائے تو یہ انصاف کے بنیادی تصور پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔

ہزارہ قوم اس امتیازی اور غیر منصفانہ رویے کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ ججز کی نامزدگیوں کے عمل پر غور کرتے ہوئے میرٹ، شفافیت، مساوی نمائندگی اور آئینی اصولوں کو یقینی بنایا جائے، تاکہ کسی بھی قوم یا طبقے کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔

اگر انصاف نمائندگی سے محروم ہو جائے تو انصاف شہید ہو جاتا ہے، اور جب میرٹ کو نظر انداز کر دیا جائے تو گویا میرٹ کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

Government of Pakistan Ministry of Interior GoP Syed Shahenshah Hussain Naqvi Muhammad Ahsan Bhoon

06/07/2026

بلوچستان ہائی کورٹ میں ہزارہ قوم کے آئینی حق پر ایک بار پھر ڈھاکا:
پاکستان بار کونسل کے معزز رکن منیر احمد خان کاکڑ نے بلوچستان ہائی کورٹ میں ہزارہ قوم کے سینئر وکلاء کو مسلسل نظرانداز کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ امر نہ صرف افسوسناک بلکہ آئینی مساوات، شفافیت، میرٹ اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ قوم کی تیسری نسل کے قابل، سینئر اور تجربہ کار وکلاء آج بھی بلوچستان ہائی کورٹ میں نمائندگی سے محروم ہیں۔

 بلوچستان ہائی کورٹ میں جج صاحبان کی حالیہ تقرریوں کے موقع پر ایک مرتبہ پھر ہزارہ قوم کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا...
05/07/2026



بلوچستان ہائی کورٹ میں جج صاحبان کی حالیہ تقرریوں کے موقع پر ایک مرتبہ پھر ہزارہ قوم کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا، جو نہایت افسوسناک، تشویشناک اور باعثِ رنج امر ہے۔

یہ صرف ایک تقرری کا معاملہ نہیں بلکہ دہائیوں سے جاری اس مسلسل ناانصافی کا تسلسل ہے جس کے باعث ہزارہ قوم عدلیہ کے اعلیٰ ترین صوبائی فورم میں اپنی جائز اور آئینی نمائندگی سے مسلسل محروم چلا آ رہا ہے۔ اس قوم نے ہمیشہ قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی، وطن سے وفاداری اور انصاف کے اصولوں پر غیرمتزلزل یقین رکھا، مگر ہر بار امیدوں کے برعکس مایوسی ہی اس کا مقدر بنائی گئی۔

یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ آخر ہزارہ قوم کے قابل، اہل، سینئر اور باصلاحیت وکلاء کب تک نظرانداز کیے جاتے رہیں گے؟ کیا میرٹ، مساوات اور آئین میں دیے گئے برابر کے حقوق ہزارہ قبیلے کے لیے مؤثر نہیں؟

ہم چیف جسٹس پاکستان، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان، حکومتِ بلوچستان اور تمام متعلقہ آئینی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس دیرینہ ناانصافی کا فوری ازالہ کیا جائے اور مستقبل کی عدالتی تقرریوں میں ہزارہ قوم کو اس کا جائز، آئینی اور منصفانہ حق دیتے ہوئے بلوچستان ہائی کورٹ میں مناسب نمائندگی فراہم کی جائے۔

انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے، اور جب کسی قوم کو دہائیوں تک مسلسل نظرانداز کیا جائے تو یہ احساسِ محرومی پورے نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔

Muhammad Ahsan Bhoon

ہائی کورٹ ججز کی تقرریوں میں ناانصافی کے خلاف بلوچستان بار کونسل کی احتجاجی بایکاٹ.
04/07/2026

ہائی کورٹ ججز کی تقرریوں میں ناانصافی کے خلاف بلوچستان بار کونسل کی احتجاجی بایکاٹ.

04/07/2026

پاکستان بار کونسل کے معزز رکن، محترم جناب منیر احمد کاکڑ نے ہزارہ قوم کے سینئر وکلاء کو بلوچستان ہائی کورٹ میں مسلسل نظرانداز کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نہایت افسوسناک امر ہے کہ ہزارہ قوم کے قابل، سینئر اور تجربہ کار وکلاء کی تیسری نسل بھی آج تک بلوچستان ہائی کورٹ میں نمائندگی سے محروم ہے، جو آئینی مساوات، شفافیت اور میرٹ کے اصولوں کے منافی ہے۔

منیر احمد کاکڑ نے جناب چیف جسٹس پاکستان، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان اور دیگر متعلقہ آئینی و عدالتی حکام سے مطالبہ کیا کہ اس نہایت اہم اور سنگین معاملے کا فوری، سنجیدہ اور غیرجانبدارانہ نوٹس لیا جائے اور ہزارہ قوم کے اہل، قابل اور سینئر وکلاء کو بلوچستان ہائی کورٹ میں ان کا جائز اور آئینی حق دیتے ہوئے مناسب نمائندگی فراہم کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی بھی اس مسئلے اور اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور اس کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کریں !

Government of Pakistan Syed Shahenshah Hussain Naqvi Mansoor Ali Khan ARY News Geo News Urdu Ministry of Interior GoP


**معروف و ممتاز قانون دان، محترم جناب جعفر رضا خان، سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ  نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک مضبوط، مست...
29/06/2026

**معروف و ممتاز قانون دان، محترم جناب جعفر رضا خان، سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک مضبوط، مستحکم اور متحد پاکستان کی بنیاد تمام قوموں کی مساوی شمولیت، منصفانہ نمائندگی اور آئینی انصاف پر قائم ہے۔ افسوس کہ ہزارہ قوم، جس نے پاکستان کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں، آج بھی اعلیٰ عدلیہ، آئینی اداروں اور لاء آفیسرز کی تقرریوں میں مؤثر نمائندگی سے مسلسل محروم رکھی جا رہی ہے**۔

انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ میرٹ، آئین اور مساوی مواقع کے اصولوں پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کرتے ہوئے ہزارہ قوم کو بلوچستان ہائی کورٹ میں اس کا جائز، آئینی اور برابری کی بنیاد پر حق دیا جائے۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس بلوچستان، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت اور تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ ججوں کی تقرری اور آئندہ تمام اہم آئینی، عدالتی اور انتظامی تقرریوں، لاء آفیسرز کی تعیناتیوں میں ہزارہ قوم کی منصفانہ، مؤثر اور بامعنی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے !
Government of Pakistan Ministry of Interior GoP ARY News Urdu Samaa TV

معروف و ممتاز قانون دان، محترم جناب جعفر رضا خان، سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے اپنے ایک سنجیدہ اور بروقت بیان میں کہا ہے...
22/06/2026

معروف و ممتاز قانون دان، محترم جناب جعفر رضا خان، سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے اپنے ایک سنجیدہ اور بروقت بیان میں کہا ہے کہ قیامِ پاکستان 1947ء سے لے کر آج تک ہزارہ قوم کو آئینی، انتظامی اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں وہ مقام، حیثیت اور نمائندگی منظم طور پر نہیں دی گئی جس کی وہ آئینی، قانونی، اخلاقی اور تاریخی طور پر حق دار ہے۔

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ہزارہ قوم نے پاکستان کی بقا، سلامتی، استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ وارانہ تشدد میں ہزاروں افراد کی شہادت کے باوجود اس قوم نے ہمیشہ ریاستِ پاکستان کے ساتھ اپنی غیر متزلزل وفاداری، صبر اور عزم کو برقرار رکھا۔ اس کے باوجود قانون سازی، عدلیہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ان کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے، جو ایک سنگین آئینی، اخلاقی اور انتظامی ناکامی کی نشاندہی کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ، پارلیمنٹ، سینیٹ اور بیوروکریسی میں ہزارہ قوم کی مؤثر اور بامعنی نمائندگی موجود نہیں۔ یہ محض اتفاق، غفلت یا وقتی کوتاہی نہیں بلکہ ایک مسلسل اور منظم عدم توازن ہے جس نے اس قوم کو عملی طور پر قومی دھارے سے محروم کر رکھا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہزارہ قوم کے پاس نہ صرف قابل، تجربہ کار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ وکلاء موجود ہیں بلکہ ایسے افراد بھی موجود ہیں جو اعلیٰ عدلیہ، آئینی اداروں اور دیگر محکموں میں بہترین خدمات سرانجام دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی مسلسل محرومی ایک ایسے نظام کی عکاسی کرتی ہے جو میرٹ، مساوات، شمولیت اور آئینی انصاف کے اصولوں سے انحراف کرتا ہے۔

یہ صورتحال براہِ راست آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 9، 25، 27 اور 36 کی روح کے منافی ہے، جو ہر شہری کو زندگی، مساوات، مساوی مواقع اور تحفظ کی ضمانت فراہم کرتے ہیں۔ جب کسی قوم کو دہائیوں تک مؤثر طور پر نظام سے باہر رکھا جائے تو یہ صرف ناانصافی نہیں بلکہ قومی اعتماد، یکجہتی اور آئینی ساکھ پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہزارہ قوم اس ریاست کی برابر کی شریک، تاریخی اسٹیک ہولڈر اور پاکستان کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے والی ایک باوقار قوم ہے، جس کے آباؤ اجداد قیامِ پاکستان سے قبل بھی اس خطے سے وابستہ رہے ہیں۔ اس حقیقت کو نظر انداز کرنا نہ صرف تاریخی ناانصافی ہے بلکہ قومی شعور اور اجتماعی ذمہ داری کی بھی نفی ہے۔
ہزارہ قوم کے تمام وکلاء نے وفاقی حکومت، پارلیمنٹ، سینیٹ، عدلیہ اور تمام متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس دیرینہ اور سنگین مسئلے کو فوری طور پر قومی سطح پر تسلیم کیا جائے اور قومی اسمبلی، سینیٹ، کے ایجنڈے پر باقاعدہ زیرِ بحث لایا جائے تاکہ ہزارہ قوم کی منصفانہ، مؤثر اور حقیقی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے عملی اور نتیجہ خیز اقدامات کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ اہم لاء آفیسرز کے تقرریوں میں ہزارہ قوم کو مسلسل نظر انداز کیا جانا باعثِ شدید تشویش ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اب وقتِ خاموشی ختم ہو چکا ہے۔ یہ معاملہ مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ ہزارہ قوم کو وہ جائز مقام، عزت، نمائندگی اور مواقع فراہم کیے جائیں جو ایک برابر کے پاکستانی شہری اور قومی شراکت دار کے طور پر اس کا بنیادی حق ہیں۔

Mohsin Naqvi
Mian Shehbaz Sharif
Bilawal Bhutto Zardari
Asif Ali Zardari

میرٹ اور انصاف کا جنازہ!Ministry of Interior GoP Government of Pakistan ARY News Geo News Urdu
20/06/2026

میرٹ اور انصاف کا جنازہ!

Ministry of Interior GoP Government of Pakistan ARY News Geo News Urdu

آخر ہزارہ  قوم کا قصور کیا ہے؟Government of Pakistan Ministry of Interior GoP ARY News Urdu Geo News Urdu               ...
19/06/2026

آخر ہزارہ قوم کا قصور کیا ہے؟

Government of Pakistan Ministry of Interior GoP ARY News Urdu Geo News Urdu


































#برابری
#انصاف
#نمائندگی
#میرٹ

Address

Hussain Center Office No 35, 36, 45, 46 Yazdan Khan Road Off Alamdar Road Quetta
Quetta Cantonment
87300

Telephone

+923318361078

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mirza Law Chamber posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Mirza Law Chamber:

Shortcuts

Share