عرائض نویس پشین - Syed Naseebullah Agha

عرائض نویس پشین - Syed Naseebullah Agha "Professional Petition Writing and Legal Drafting Services in Pishin. Trusted, accurate, and client-f

14/07/2026

کم فیس لے کر پورے کیس کا بیڑا غرق کرنے کی بجائے اپنا پورا حق لیں اور سائل کو بھی دلوائیں۔

📌 بلاک شناختی کارڈ اور نادرا مقدمات میں لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہشناختی کارڈ بلاک ہونے یا شہریت مشکوک قرار دیے جانے ک...
28/06/2026

📌 بلاک شناختی کارڈ اور نادرا مقدمات میں لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

شناختی کارڈ بلاک ہونے یا شہریت مشکوک قرار دیے جانے کے مقدمات میں لاہور ہائی کورٹ نے ایک نہایت اہم فیصلہ صادر کرتے ہوئے ایسے قانونی اصول واضح کیے ہیں جو ہر شہری، وکیل اور قانونی دستاویزات سے وابستہ افراد کے لیے جاننا ضروری ہیں۔

⚖️ عدالت نے قرار دیا کہ:

✅ 1۔ نادرا کے خلاف براہِ راست سول دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔
جب تک نادرا ویریفکیشن بورڈ کا حتمی فیصلہ موجود نہ ہو، عدالت ایسے دعوے کو قابلِ سماعت نہیں سمجھے گی۔

✅ 2۔ شہریت کے ثبوت کی ذمہ داری درخواست گزار پر ہوگی۔
اگر شناختی کارڈ مشکوک قرار دیا گیا ہو تو درخواست گزار کو اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے 1979ء سے پہلے کے خاندانی دستاویزی شواہد پیش کرنا ہوں گے۔

✅ 3۔ زیرِ التوا مقدمات کے لیے بھی سخت ہدایات جاری۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگر مقررہ مدت کے اندر ضروری دستاویزات پیش نہ کی گئیں تو دعویٰ آرڈر VII رول 11 ضابطہ دیوانی (CPC) کے تحت خارج کیا جا سکتا ہے۔

✅ 4۔ ہائی کورٹ میں براہِ راست رٹ پٹیشن دائر نہیں کی جا سکتی۔
نادرا کے اندر دستیاب قانونی فورمز اور اپیلوں سے رجوع کیے بغیر براہِ راست آئینی درخواست دائر کرنا قانون کے مطابق نہیں ہوگا۔

✅ 5۔ نادرا ویریفکیشن بورڈ 60 دن کے اندر فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔

📖 قانونی سبق

یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ نادرا سے متعلق مقدمات میں اب سب سے پہلے قانون کے تحت دستیاب تمام فورمز اور مراحل مکمل کرنا ضروری ہے۔ عدالت میں جانے سے پہلے قانونی تقاضے پورے نہ کیے جائیں تو مقدمہ ابتدائی مرحلے میں ہی ناقابلِ سماعت قرار دیا جا سکتا ہے۔

یاد رکھیں:
"درست قانونی طریقۂ کار پر عمل کرنا ہی کامیاب مقدمے کی پہلی شرط ہے۔"

⚖️ حوالہ:
2026 LHC 3864
NADRA v. Khalid Khan

اگر یہ معلومات آپ کے لیے مفید ثابت ہوئی ہو تو پوسٹ کو لائک کریں، اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں اور اسے دوسروں تک بھی پہنچائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نادرا سے متعلق موجودہ قانونی اصولوں سے آگاہ ہو سکیں۔

Keywords:
NADRA Cases, Blocked CNIC, Citizenship Law Pakistan, Verification Board, Lahore High Court, Civil Procedure Code, Order VII Rule 11 CPC, Identity Card, Pakistani Citizenship, Legal Awareness, CNIC Block Cases, Legal Documentation, NADRA Verification, Pakistani Law, Court Judgment

📌 کیا مالکِ جائیداد کی وفات کے بعد بھی اس کا مختارِ عام (Power of Attorney Holder) جائیداد فروخت کرکے رجسٹری کروا سکتا ہ...
22/06/2026

📌 کیا مالکِ جائیداد کی وفات کے بعد بھی اس کا مختارِ عام (Power of Attorney Holder) جائیداد فروخت کرکے رجسٹری کروا سکتا ہے؟

لاہور ہائیکورٹ نے رجسٹریشن ایکٹ کے ایک نہایت اہم مقدمے میں اس قانونی سوال کا واضح جواب دیتے ہوئے ایسے اصول وضع کیے ہیں جو ہر خریدار، سرمایہ کار اور جائیداد کے کاروبار سے وابستہ شخص کے لیے جاننا ضروری ہیں۔

⚖️ مقدمے کے مختصر حقائق

ایک شخص (خورشید شاہ) نے 1984ء میں اپنی جائیداد کے متعلق جنرل پاور آف اٹارنی (General Power of Attorney) جاری کی۔ تقریباً 19 سال بعد، 30 جنوری 2003ء کو مختارِ عام نے وہ جائیداد چند خریداروں کے نام فروخت کرکے رجسٹری کے لیے سب رجسٹرار ڈسکہ کے سامنے پیش کی۔

تصدیق کے دوران معلوم ہوا کہ اصل مالک (موکل) انتقال کر چکا ہے۔ سب رجسٹرار نے رجسٹری سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مالک کی وفات کے ساتھ ہی مختارنامہ ختم ہو جاتا ہے۔ خریداروں نے اس فیصلے کے خلاف رجسٹریشن ایکٹ کی دفعہ 77 کے تحت دعویٰ دائر کیا، جو بالآخر لاہور ہائیکورٹ تک پہنچا۔

📖 لاہور ہائیکورٹ کے اہم قانونی اصول

🔹 1۔ مالک کی وفات کے ساتھ مختارنامہ ختم ہو جاتا ہے

عدالت نے Contract Act, 1872 کی دفعہ 201 کی تشریح کرتے ہوئے قرار دیا کہ جیسے ہی مختارنامہ دینے والے (Principal) کا انتقال ہوتا ہے، اس کی جانب سے دیا گیا اختیار (Agency) خودبخود ختم ہو جاتا ہے۔

مالک کی وفات کے بعد مختارِ عام جائیداد منتقل کرنے، بیع نامہ مکمل کرنے یا رجسٹری پر دستخط کرنے کا قانونی اختیار نہیں رکھتا۔ ایسی صورت میں اس کی جانب سے کیا گیا ہر عمل قانوناً باطل (Void) تصور ہوگا۔

🔹 2۔ سب رجسٹرار کا قانونی فرض

عدالت نے واضح کیا کہ رجسٹریشن ایکٹ کی دفعات 32 اور 34 کے تحت سب رجسٹرار کا فرض ہے کہ وہ جائیداد منتقل کرنے والے شخص کے اختیار اور اہلیت کی مکمل جانچ پڑتال کرے۔

لہٰذا اگر مالک کی وفات ثابت ہو جائے تو سب رجسٹرار کا رجسٹری روکنا اور مزید تصدیق کرنا قانون کے عین مطابق عمل ہے۔

🔹 3۔ دفعہ 77 کے مقدمے کا محدود دائرۂ اختیار

لاہور ہائیکورٹ نے وضاحت کی کہ رجسٹریشن ایکٹ کی دفعہ 77 کے تحت عدالت صرف یہ جانچتی ہے کہ رجسٹرار کا رجسٹری سے انکار درست تھا یا نہیں۔

اس قسم کے مقدمات میں جائیداد کی اصل ملکیت (Title)، معاہدے کی حقیقت یا فریقین کے دیگر حقوق کا فیصلہ نہیں کیا جاتا۔

⚖️ خریداروں کے لیے قانونی راستہ

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ دفعہ 77 کے تحت مقدمہ ناکام ہونے سے خریداروں کے حقوق مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے۔

اگر خریداروں نے واقعی رقم ادا کی ہو اور معاہدہ موجود ہو تو وہ مرحوم مالک کے قانونی ورثاء کے خلاف تعمیلِ مختص (Specific Performance) کا علیحدہ دیوانی دعویٰ دائر کر سکتے ہیں اور اپنے حقوق قانون کے مطابق ثابت کر سکتے ہیں۔

📌 قانونی سبق

صرف دستاویز کا موجود ہونا کافی نہیں، اس کی قانونی حیثیت بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔

جائیداد کے معاملات میں فریقین کی قانونی اہلیت، اختیار، دستاویزات کی درستگی اور ان کے اجراء کا وقت غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ بعض اوقات ایک قانونی باریکی، ایک دستخط یا ایک دن کا فرق پورے معاملے کا نتیجہ تبدیل کر دیتا ہے۔

⚖️ "جائیداد کے معاملات میں قانونی احتیاط، بعد کے طویل مقدمات سے بہتر ہے۔"

📢 اگر آپ کو یہ قانونی معلومات مفید لگیں تو پوسٹ کو لائک کریں، اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں اور اسے اپنے دوستوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ جائیداد سے متعلق اہم قانونی اصولوں سے آگاہ ہو سکیں اور غیر ضروری قانونی پیچیدگیوں سے بچ سکیں۔

📞 قانونی دستاویزات، رجسٹری، انتقال، اقرار نامہ جات، تحریری معاہدات، حلفیہ بیانات، دعویٰ، جوابِ دعویٰ، استغاثہ جات اور دیگر قانونی امور سے متعلق رہنمائی کے لیے رابطہ کریں:

سید نصیب اللہ آغا
عرائض نویس و وثیقہ نویس
Legal Documentation Consultant

📱 WhatsApp: 0301-3707228

📍 بالمقابل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کمپلیکس، بند روڈ بازار، پشین

















#مختارنامہ

#رجسٹری
#جائیداد



#پشین

📌 کیا مالکِ مکان اپنی ذاتی ضرورت کے لیے کرائے دار کو بے دخل کر سکتا ہے؟سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں واضح ک...
14/06/2026

📌 کیا مالکِ مکان اپنی ذاتی ضرورت کے لیے کرائے دار کو بے دخل کر سکتا ہے؟

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اگر مالکِ مکان اپنی جائیداد کو اپنی حقیقی اور نیک نیتی پر مبنی ذاتی ضرورت (Bona Fide Need) کے لیے درکار ثابت کر دے تو اسے قانون کے مطابق جائیداد خالی کروانے کا حق حاصل ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر جائیداد کے متعدد مالکان ہوں تو ان میں سے ایک شریک مالک بھی دیگر شریک مالکان کی نمائندگی کرتے ہوئے بے دخلی کا دعویٰ دائر کر سکتا ہے۔ صرف یہ مؤقف کہ مالکان کے درمیان باہمی تنازعات موجود ہیں، کرائے دار کو جائیداد خالی کرنے کی ذمہ داری سے مستثنیٰ نہیں کرتا۔

سپریم کورٹ نے اس اصول کی بھی توثیق کی کہ مالکِ مکان اپنی ضرورت کے لیے کون سی جائیداد زیادہ موزوں ہے، اس کا بہترین فیصلہ خود مالک ہی کر سکتا ہے۔ عدالتیں عام طور پر ایسے معاملات میں اس وقت تک مداخلت نہیں کرتیں جب تک نچلی عدالتوں کے فیصلے قانون یا شواہد کے خلاف نہ ہوں۔

⚖️ اہم قانونی اصول:

✔️ مالکِ مکان اپنی حقیقی ذاتی ضرورت کے تحت جائیداد خالی کروانے کا حق رکھتا ہے۔

✔️ ایک شریک مالک بھی بے دخلی کا دعویٰ دائر کر سکتا ہے۔

✔️ مالکان کے باہمی تنازعات کرائے دار کے لیے دفاع نہیں بن سکتے۔

✔️ مالک اپنی ضرورت کے لیے مناسب جائیداد منتخب کرنے کا خود بہترین جج ہوتا ہے۔

📚 حوالہ:
سپریم کورٹ آف پاکستان
Civil Petition No. 300-Q etc. of 2025
فیصلہ مؤرخہ: 23 اپریل 2026

📞 جائیداد، رجسٹری، انتقال، اقرار نامہ جات، تحریری معاہدات، حلفیہ بیانات، قانونی درخواستوں اور دیگر قانونی دستاویزات سے متعلق رہنمائی کے لیے رابطہ کریں:

سید نصیب اللہ آغا
عرائض نویس و وثیقہ نویس
Legal Documentation Consultant

📱 WhatsApp: 0301-3707228

📍 بالمقابل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کمپلیکس، بند روڈ بازار، پشین




















#جائیداد



#پشین

سیکشن 19 پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کے تحت افغان کارڈ (ACC/POR) رکھنے والے پاکستانی شہریوں کے لیے رہنمائیاگر کوئی شخص پی...
08/06/2026

سیکشن 19 پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کے تحت افغان کارڈ (ACC/POR) رکھنے والے پاکستانی شہریوں کے لیے رہنمائی

اگر کوئی شخص پیدائشی طور پر پاکستانی شہری ہے لیکن اس نے کسی مرحلے پر افغان سٹیزن کارڈ (ACC) یا پروف آف رجسٹریشن (POR) حاصل کر لیا ہو، اور اس بنیاد پر اس کا قومی شناختی کارڈ معطل، ضبط یا منسوخ کر دیا گیا ہو، تو وہ اپنی پاکستانی شہریت کے ثبوت کے لیے متعلقہ قانونی طریقہ کار اختیار کر سکتا ہے۔

پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ، 1951 کے سیکشن 19 کے تحت وفاقی حکومت نے رجسٹرار جنرل پاکستان (چیئرمین نادرا) کو اختیار دیا ہے کہ وہ ایسے معاملات کی جانچ کرے جہاں کسی فرد کی شہریت کے بارے میں شبہ یا تنازع موجود ہو۔ اگر درخواست گزار اپنی پاکستانی شہریت کے حق میں قابلِ اعتماد دستاویزات پیش کر سکے تو اس کا معاملہ نادرا کے ذریعے زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔

مطلوبہ دستاویزات

درخواست گزار کو اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے دستیاب ریکارڈ اور معاون دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی، جن میں حسبِ ضرورت درج ذیل شامل ہو سکتے ہیں:

- اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ بیانِ حلفی۔
- 1979 سے قبل کے سرکاری ریکارڈ، مثلاً زمین یا جائیداد سے متعلق دستاویزات۔
- پرانے ڈومیسائل یا لوکل سرٹیفکیٹس۔
- تعلیمی اسناد، پاسپورٹ، پرانے شناختی دستاویزات یا ڈرائیونگ لائسنس۔
- 1990 سے قبل کی سرکاری ملازمت سے متعلق تصدیق شدہ ریکارڈ (درخواست گزار یا قریبی خونی رشتہ دار کا)۔
- متعلقہ محکمہ مال سے تصدیق شدہ شجرۂ نسب یا خاندانی ریکارڈ۔

درخواست کا طریقۂ کار

1. نادرا میں درخواست جمع کرانا
درخواست گزار اصل دستاویزات اور بیانِ حلفی کے ساتھ نامزد نادرا مرکز میں حاضر ہو کر درخواست جمع کرائے گا۔ مقررہ فیس کی ادائیگی اور بائیومیٹرک تصدیق بھی درکار ہوگی۔

2. جانچ پڑتال اور انٹرویو
نادرا کی جانب سے مقررہ تاریخ پر درخواست گزار کا انٹرویو لیا جا سکتا ہے تاکہ فراہم کردہ معلومات اور دستاویزات کا جائزہ لیا جا سکے۔

3. ریکارڈ کی تصدیق
نادرا متعلقہ سرکاری اداروں سے فراہم کردہ ریکارڈ اور دستاویزات کی تصدیق حاصل کرے گا۔

4. حتمی فیصلہ
ضروری کلیئرنس اور تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد معاملہ مجاز اتھارٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اگر شہریت کا دعویٰ درست ثابت ہو جائے تو افغان کارڈ منسوخ کرنے اور پاکستانی شہریت و شناختی دستاویزات کی بحالی یا اجرا کے لیے قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

اہم قانونی نکات

- افغان کارڈ کی منسوخی یا پاکستانی شناختی کارڈ کی بحالی خود بخود ماضی میں ہونے والی کسی ممکنہ قانونی خلاف ورزی یا کارروائی کو ختم نہیں کرتی۔
- اگر بعد میں یہ ثابت ہو جائے کہ درخواست گزار نے جعلی دستاویزات استعمال کیں یا اہم حقائق مخفی رکھے، تو متعلقہ اتھارٹی شہریت سے متعلق جاری کردہ فیصلے یا سرٹیفکیٹ کو قانون کے مطابق واپس لینے یا منسوخ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
- ہر درخواست کا فیصلہ اس کے اپنے حقائق، دستیاب شواہد اور
قانونی تقاضوں کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔

📌 خفیہ آڈیو یا ویڈیو ریکارڈنگ: قانون کیا کہتا ہے؟اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی شخص کی خفیہ آڈیو یا ویڈیو ریکارڈ کر لینا ...
02/06/2026

📌 خفیہ آڈیو یا ویڈیو ریکارڈنگ: قانون کیا کہتا ہے؟

اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی شخص کی خفیہ آڈیو یا ویڈیو ریکارڈ کر لینا اور پھر اسے عدالت میں بطورِ ثبوت پیش کرنا کافی ہوتا ہے، لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ ہر خفیہ ریکارڈنگ قابلِ قبول شہادت نہیں ہوتی۔

سپریم کورٹ کے مطابق خفیہ آڈیو یا ویڈیو ریکارڈنگ صرف اسی صورت میں بطورِ شہادت قابلِ قبول ہو سکتی ہے جب وہ قانونی طریقے سے حاصل کی گئی ہو، اس کا ماخذ ثابت ہو، فرانزک طور پر اس کی تصدیق ہو اور یہ ثابت کیا جا سکے کہ اس میں کسی قسم کی تبدیلی یا ردوبدل نہیں کیا گیا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر کوئی شخص خود گفتگو کا فریق ہو تو بعض حالات میں اس گفتگو کی ریکارڈنگ غیر قانونی وائر ٹیپنگ تصور نہیں ہوتی، تاہم دو دیگر افراد کی نجی گفتگو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرنا غیر قانونی عمل ہو سکتا ہے۔

اسی طرح کسی شخص کی نجی گفتگو، تصویر یا آواز کو اُس کی اجازت کے بغیر خفیہ طور پر حاصل کرنا، خصوصاً بلیک میلنگ، بھتہ خوری یا کسی ناجائز مقصد کے لیے استعمال کرنا قانوناً جرم ہے۔ PECA 2016 بھی ایسے اعمال کو قابلِ سزا قرار دیتا ہے۔

سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت شہریوں کے حقِ رازداری (Right to Privacy) اور انسانی وقار کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ نجی زندگی میں غیر قانونی مداخلت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

⚖️ اہم قانونی اصول:

"ہر ریکارڈنگ ثبوت نہیں ہوتی، اور ہر ثبوت قانونی نہیں ہوتا۔"

📚 حوالہ:
PLJ 2026 SC (Cr.C.) 175

📞 درست قانونی دستاویزات اور قانونی رہنمائی کے لیے رابطہ کریں:

سید نصیب اللہ آغا
عرائض نویس و وثیقہ نویس
Legal Documentation Consultant

📱 WhatsApp: 0301-3707228

📍 بالمقابل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کمپلیکس، بند روڈ بازار، پشین





















غیر رجسٹرڈ معاہدہاگر پہلے سے کوئی غیر رجسٹرڈ شدہ معاہدہ موجود ہو، قبضہ منتقل ہو چکا ہو اور ادائیگی بھی مکمل ہو چکی ہو، ت...
31/05/2026

غیر رجسٹرڈ معاہدہ

اگر پہلے سے کوئی غیر رجسٹرڈ شدہ معاہدہ موجود ہو، قبضہ منتقل ہو چکا ہو اور ادائیگی بھی مکمل ہو چکی ہو، تو بعد میں کسی دوسرے شخص کے حق میں ہونے والی رجسٹری، انتقال یا دیگر رجسٹرڈ دستاویزات کو فوقیت نہیں دی جا سکتی۔

⚖️ 2024 CLC 1379

"صرف رجسٹری کافی نہیں، اصل اہمیت پہلے حق، قبضہ اور ادائیگی کی بھی ہوتی ہے۔"

────────────────────

ہماری خدمات

✓ قانونی دستاویزات کی تیاری

✓ رجسٹری اور انتقال سے متعلق دستاویزات

✓ اقرار نامہ جات

✓ تحریری معاہدات

✓ حلفیہ بیانات

✓ قانونی درخواستیں

✓ دعویٰ، جوابِ دعویٰ اور استغاثہ جات

✓ اردو و انگریزی ٹرانسلیشن

✓ پاسپورٹ اور نادرا سے متعلق قانونی کاغذات کی تیاری

✓ جائیداد اور مالی لین دین سے متعلق قانونی دستاویزات

✓ بیع نامہ، ہبہ نامہ اور پاور آف اٹارنی

✓ کرایہ نامہ اور دیگر قانونی معاہدات

────────────────────

سید نصیب اللہ آغا

عرائض نویس و وثیقہ نویس

Legal Documentation Consultant

📞 0301-3707228

📍 بالمقابل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کمپلیکس، بند روڈ بازار، پشین

30/05/2026

🚨 کیا آپ لاکھوں روپے کا لین دین، جائیداد کی خرید و فروخت یا معاہدہ صرف دستخطوں کے بھروسے کر رہے ہیں؟

⚠️ یاد رکھیں! ایک معمولی غفلت، ناقص دستاویز یا گواہوں کی عدم موجودگی مستقبل میں آپ کو طویل عدالتی تنازعات، مالی نقصان اور قانونی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتی ہے۔

📌 چاہے معاملہ جائیداد کی خرید و فروخت کا ہو، بیعانہ کی ادائیگی کا، قرض کے لین دین کا، اقرار نامے کا یا کسی اہم معاہدے کا، معتبر گواہوں کی موجودگی آپ کے قانونی تحفظ کو مزید مضبوط بناتی ہے۔

⚖️ گواہوں کی موجودگی کیوں اہم ہے؟

✅ گواہ اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ معاملہ فریقین کی آزاد مرضی سے طے پایا تھا۔

✅ رقم کی ادائیگی یا وصولی گواہوں کے سامنے ہوئی ہو تو بعد میں انکار کی صورت میں ان کا بیان اہم ثبوت بن سکتا ہے۔

✅ کسی تنازع کی صورت میں گواہ عدالت میں حقائق بیان کر کے مقدمے کے درست فیصلے میں مدد دیتے ہیں۔

✅ گواہوں کی موجودگی جھوٹے دعوؤں، جعلسازی اور بعد میں معاہدے سے مکرنے کے امکانات کم کر دیتی ہے۔

✅ گواہوں کے دستخط دستاویز کی ثبوتی حیثیت کو مزید مضبوط بنا دیتے ہیں۔

📍 چند ضروری احتیاطیں:

• گواہ بالغ، سمجھدار اور غیر جانبدار ہوں۔
• مکمل نام، شناختی کارڈ نمبر اور پتہ درج کیا جائے۔
• دستخط کے ساتھ انگوٹھے کے نشانات بھی حاصل کیے جائیں۔
• اہم مالی اور جائیدادی معاملات ہمیشہ تحریری شکل میں مکمل کیے جائیں۔

⚠️ یاد رکھیں:

"آج کا ایک معتبر گواہ، کل کے مہنگے قانونی تنازع اور عدالتی چکروں سے بچا سکتا ہے۔"

📞 درست قانونی رہنمائی اور قانونی دستاویزات کی تیاری کے لیے ابھی WhatsApp پر رابطہ کریں:

0301-3707228

سید نصیب اللہ آغا
عرائض نویس و وثیقہ نویس
Legal Documentation Consultant

📍 بالمقابل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کمپلیکس، بند روڈ بازار، پشین















#جائیداد
#معاہدہ

#رجسٹری
#انتقال

جعلی اسٹمپ پیپر، جعلی ای اسٹامپ، یا جعلی رجسٹری/معاہدہ تیار کرنے والے اسٹام فروش کے خلاف پاکستان میں مختلف قانونی فورمز ...
28/05/2026

جعلی اسٹمپ پیپر، جعلی ای اسٹامپ، یا جعلی رجسٹری/معاہدہ تیار کرنے والے اسٹام فروش کے خلاف پاکستان میں مختلف قانونی فورمز پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔ معاملہ کی نوعیت کے مطابق درج ذیل فورمز موزوں ہوتے ہیں:

1۔ پولیس تھانہ / ایف آئی آر

اگر اسٹام فروش:

جعلی اسٹمپ تیار کرے،

جعلی مہر یا دستخط استعمال کرے،
جعلی رجسٹری یا اقرارنامہ بنائے،

عوام سے فراڈ کرے،

تو اس کے خلاف متعلقہ تھانہ میں ایف آئی آر درج ہو سکتی ہے۔

عام طور پر درج ذیل دفعات لگتی ہیں:

دفعہ 420 PPC — دھوکہ دہی

دفعہ 468 PPC — جعلسازی برائے فراڈ

دفعہ 471 PPC — جعلی دستاویز استعمال کرنا

دفعہ 473/474 PPC — جعلی مہریں یا اسٹمپ رکھنا

دفعہ 109 PPC — معاونت جرم

یہ جرم قابلِ تعزیر اور سنگین نوعیت کے ہیں۔

2۔ اسسٹنٹ کمشنر / ڈپٹی کمشنر / کلکٹریٹ

چونکہ اسٹام فروش لائسنس یافتہ ہوتا ہے، اس لئے:

اس کا لائسنس منسوخ،

معطل،

یا بلیک لسٹ کیا جا سکتا ہے۔

کارروائی کےلئے درخواست:

ڈپٹی کمشنر،

اسسٹنٹ کمشنر،

یا کلکٹر اسٹامپ کو دی جاتی ہے۔

وہ انکوائری کر کے:

لائسنس کینسل،

جرمانہ،

اور فوجداری کارروائی کی سفارش کر سکتے ہیں۔

3۔ رجسٹریشن اتھارٹی / سب رجسٹرار

اگر جعلی اسٹمپ کسی رجسٹری یا انتقال میں استعمال ہوا ہو تو:

سب رجسٹرار،

رجسٹرار،

یا بورڈ آف ریونیو کے سامنے شکایت دی جا سکتی ہے۔

وہ:

دستاویز مشکوک قرار،

رجسٹری منسوخ کرنے کی کارروائی،

اور انکوائری شروع کر سکتے ہیں۔

4۔ سول کورٹ

اگر جعلی اسٹمپ کے ذریعے:

زمین،

معاہدہ،

پاور آف اٹارنی،

یا مالی لین دین کیا گیا ہو،

تو متاثرہ شخص:

Declaration،

Cancellation of Document،

Permanent Injunction،

اور Damages کا دعویٰ دائر کر سکتا ہے۔

5۔ سیشن کورٹ / جسٹس آف پیس

اگر پولیس ایف آئی آر درج نہ کرے تو:

دفعہ 22-A/B Cr.P.C کے تحت جسٹس آف پیس کے سامنے درخواست دی جا سکتی ہے۔

قانونی اصول

پاکستانی عدالتی نظائر کے مطابق:

> جعلی اسٹمپ یا جعلی دستاویزات تیار کرنا صرف سول تنازع نہیں بلکہ سنگین فوجداری جرم ہے، اور ایسی جعلسازی عوامی ریکارڈ کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔

مختصر قانونی راستہ

1. پولیس میں درخواست / ایف آئی آر

2. DC / Collector Stamps کو شکایت

3. سب رجسٹرار کو انکوائری درخواست

4. سول کورٹ میں دستاویز منسوخی دعویٰ

5. 22-A Cr.P.C اگر پولیس کارروائی نہ کرے

Address

Syed Naseebullah Agha Petition Writer And Deed Writer Office In Front Of District Court Near Itifaq Ada Band Road Bazar Pishin District Pishin Balochistan
Pishin
86700

Opening Hours

Monday 09:00 - 16:00
Tuesday 09:00 - 16:00
Wednesday 09:00 - 16:00
Thursday 09:00 - 16:00
Friday 09:00 - 14:00
Saturday 09:00 - 15:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when عرائض نویس پشین - Syed Naseebullah Agha posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category