28/06/2026
📌 بلاک شناختی کارڈ اور نادرا مقدمات میں لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
شناختی کارڈ بلاک ہونے یا شہریت مشکوک قرار دیے جانے کے مقدمات میں لاہور ہائی کورٹ نے ایک نہایت اہم فیصلہ صادر کرتے ہوئے ایسے قانونی اصول واضح کیے ہیں جو ہر شہری، وکیل اور قانونی دستاویزات سے وابستہ افراد کے لیے جاننا ضروری ہیں۔
⚖️ عدالت نے قرار دیا کہ:
✅ 1۔ نادرا کے خلاف براہِ راست سول دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔
جب تک نادرا ویریفکیشن بورڈ کا حتمی فیصلہ موجود نہ ہو، عدالت ایسے دعوے کو قابلِ سماعت نہیں سمجھے گی۔
✅ 2۔ شہریت کے ثبوت کی ذمہ داری درخواست گزار پر ہوگی۔
اگر شناختی کارڈ مشکوک قرار دیا گیا ہو تو درخواست گزار کو اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے 1979ء سے پہلے کے خاندانی دستاویزی شواہد پیش کرنا ہوں گے۔
✅ 3۔ زیرِ التوا مقدمات کے لیے بھی سخت ہدایات جاری۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگر مقررہ مدت کے اندر ضروری دستاویزات پیش نہ کی گئیں تو دعویٰ آرڈر VII رول 11 ضابطہ دیوانی (CPC) کے تحت خارج کیا جا سکتا ہے۔
✅ 4۔ ہائی کورٹ میں براہِ راست رٹ پٹیشن دائر نہیں کی جا سکتی۔
نادرا کے اندر دستیاب قانونی فورمز اور اپیلوں سے رجوع کیے بغیر براہِ راست آئینی درخواست دائر کرنا قانون کے مطابق نہیں ہوگا۔
✅ 5۔ نادرا ویریفکیشن بورڈ 60 دن کے اندر فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔
📖 قانونی سبق
یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ نادرا سے متعلق مقدمات میں اب سب سے پہلے قانون کے تحت دستیاب تمام فورمز اور مراحل مکمل کرنا ضروری ہے۔ عدالت میں جانے سے پہلے قانونی تقاضے پورے نہ کیے جائیں تو مقدمہ ابتدائی مرحلے میں ہی ناقابلِ سماعت قرار دیا جا سکتا ہے۔
یاد رکھیں:
"درست قانونی طریقۂ کار پر عمل کرنا ہی کامیاب مقدمے کی پہلی شرط ہے۔"
⚖️ حوالہ:
2026 LHC 3864
NADRA v. Khalid Khan
اگر یہ معلومات آپ کے لیے مفید ثابت ہوئی ہو تو پوسٹ کو لائک کریں، اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں اور اسے دوسروں تک بھی پہنچائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نادرا سے متعلق موجودہ قانونی اصولوں سے آگاہ ہو سکیں۔
Keywords:
NADRA Cases, Blocked CNIC, Citizenship Law Pakistan, Verification Board, Lahore High Court, Civil Procedure Code, Order VII Rule 11 CPC, Identity Card, Pakistani Citizenship, Legal Awareness, CNIC Block Cases, Legal Documentation, NADRA Verification, Pakistani Law, Court Judgment