عرائض نویس پشین - Syed Naseebullah Agha

عرائض نویس پشین - Syed Naseebullah Agha "Professional Petition Writing and Legal Drafting Services in Pishin. Trusted, accurate, and client-f

⚖️ چیک باؤنس — صرف مالی مسئلہ نہیں بلکہ فوجداری جرم بھی بن سکتا ہےپاکستان میں کاروبار اور قرض کے معاملات میں چیک دینا ای...
15/03/2026

⚖️ چیک باؤنس — صرف مالی مسئلہ نہیں بلکہ فوجداری جرم بھی بن سکتا ہے
پاکستان میں کاروبار اور قرض کے معاملات میں چیک دینا ایک عام روایت ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ چیک جاری کرتے وقت اس کے قانونی نتائج سے واقف نہیں ہوتے۔
اگر کسی شخص کی طرف سے دیا گیا چیک بینک سے عدم ادائیگی (Dishonour) کی وجہ سے واپس آ جائے تو یہ صرف مالی تنازع نہیں رہتا بلکہ بعض حالات میں فوجداری جرم بن جاتا ہے۔
قانونی آگاہی کے لیے چند اہم نکات:
📌 چیک باؤنس کیا ہوتا ہے؟
جب چیک بینک میں پیش کیا جائے اور بینک رقم ادا کرنے کے بجائے چیک واپس کر دے تو اسے چیک باؤنس یا Dishonour of Cheque کہا جاتا ہے۔
📌 چیک واپس ہونے کی عام وجوہات
• اکاؤنٹ میں رقم کی کمی (Insufficient Funds)
• اکاؤنٹ بند ہونا
• دستخط مختلف ہونا
• Stop Payment کی ہدایت
• چیک کی مدت ختم ہونا
اگر چیک کسی قرض یا مالی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے دیا گیا ہو اور وہ باؤنس ہو جائے تو معاملہ فوجداری نوعیت اختیار کر سکتا ہے۔
📖 متعلقہ قانون
پاکستان میں چیک باؤنس کے مقدمات عموماً
تعزیراتِ پاکستان (Pakistan Penal Code) کی دفعہ 489-F کے تحت چلتے ہیں۔
اس قانون کے مطابق اگر کوئی شخص بددیانتی کے ارادے سے چیک جاری کرے اور وہ ادا نہ ہو تو اس کے خلاف فوجداری کارروائی کی جا سکتی ہے۔
📌 چیک باؤنس ہونے کے بعد متاثرہ شخص کیا کرے؟
✔ بینک سے Return Memo حاصل کریں
✔ چیک جاری کرنے والے کو قانونی نوٹس بھیجیں
✔ ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں فوجداری مقدمہ درج کرایا جا سکتا ہے
یہ مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے:
• متعلقہ پولیس اسٹیشن میں FIR کے ذریعے
یا
• براہ راست مجاز عدالت میں فوجداری شکایت کے ذریعے
📌 عدالت میں مقدمے کے لیے اہم دستاویزات
✔ اصل چیک
✔ بینک ریٹرن میمو
✔ قانونی نوٹس
✔ نوٹس کی ترسیل کا ثبوت
⚖️ ممکنہ سزا
اگر جرم ثابت ہو جائے تو عدالت:
• تین سال تک قید
• جرمانہ
• یا دونوں سزائیں
سنا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ متاثرہ شخص رقم کی وصولی کے لیے دیوانی دعویٰ (Civil Suit for Recovery) بھی دائر کر سکتا ہے۔
📌 اہم قانونی احتیاط
خالی چیک دینا اکثر لوگوں کو بعد میں سنگین قانونی مسائل میں مبتلا کر دیتا ہے۔
مالی معاملات میں ہمیشہ تحریری ثبوت اور قانونی احتیاط اختیار کرنا دانشمندی ہے۔
🔎 مختصر بات:
چیک صرف ایک کاغذ نہیں بلکہ ایک قانونی ذمہ داری ہے۔

❓ ایک سوال آپ سے:
کیا آپ یا آپ کے کسی جاننے والے کو کبھی چیک باؤنس کے کیس کا سامنا کرنا پڑا ہے؟
اپنا تجربہ یا رائے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔

⚖️
Syed Naseebullah Agha
Professional Petition & Deed Writer
Legal Documentation Expert
District Court Complex, Pishin







پراپرٹی خریدنا زندگی کا ایک بڑا فیصلہ ہوتا ہے۔لیکن افسوس یہ ہے کہ اکثر لوگ صرف زبانی یقین دہانیوں پر اعتماد کر لیتے ہیں ...
03/03/2026

پراپرٹی خریدنا زندگی کا ایک بڑا فیصلہ ہوتا ہے۔
لیکن افسوس یہ ہے کہ اکثر لوگ صرف زبانی یقین دہانیوں پر اعتماد کر لیتے ہیں — اور بعد میں سالوں تک عدالتوں کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔
غیر منقولہ جائیداد خریدنے سے پہلے چند بنیادی قانونی نکات کی جانچ ضروری ہے۔ یہ وہ احتیاطی اصول ہیں جنہیں نظر انداز کرنا بعد میں مہنگا پڑ سکتا ہے۔
🔎 خریداری سے پہلے درج ذیل باتوں کی تصدیق ضرور کریں:
1️⃣ اصل مالک کی مکمل تصدیق کریں۔
شناختی دستاویز، ملکیت کا تسلسل اور سابقہ انتقالات چیک کریں۔
2️⃣ تمام دستاویزات کی قانونی حیثیت دیکھیں۔
صرف فوٹو کاپی یا زبانی دعویٰ کافی نہیں — اصل ریکارڈ دیکھیں۔
3️⃣ جائیداد پر کوئی قرض، رہن یا زیرِ سماعت مقدمہ تو نہیں؟
عدالتی ریکارڈ اور ریونیو ریکارڈ دونوں کا جائزہ لیں۔
4️⃣ رجسٹری اور انتقال (Mutation) مکمل اور منظور شدہ ہیں یا نہیں؟
بعض اوقات رجسٹری ہوتی ہے مگر انتقال نہیں — جو بعد میں تنازع بن جاتا ہے۔
5️⃣ سرکاری ریکارڈ سے ویریفیکیشن لازمی کریں۔
روزنامچہ واقعات اور ریکارڈ آف رائٹس کی جانچ وہ مرحلہ ہے جسے اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے — جبکہ یہی اصل قانونی بنیاد ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جسے ہم بطور ہمیشہ نمایاں کرتے ہیں۔
6️⃣ بغیر تحریری معاہدے یا مکمل قانونی دستاویز کے ادائیگی نہ کریں۔
زبانی وعدہ عدالت میں کمزور پڑ جاتا ہے۔
7️⃣ خریداری سے پہلے مستند قانونی مشورہ ضرور لیں۔
احتیاطی مشورہ سستا ہوتا ہے، عدالتی مقدمہ مہنگا۔
یاد رکھیں:
محتاط رہنا نقصان اٹھانے سے بہتر ہے۔
درست تحقیق ایک محفوظ فیصلہ بناتی ہے۔








قانونی رہنمائی و دستاویزات کے لیے:
Syed Naseebullah Agha
Professional Petition & Deed Writer
District Court Complex, Pishin

ادھار دی ہوئی رقم 406 کے زمرے میں نہیں آتی-سپریم کورٹ آف پاکستان نے FIR خارج کر دی-2025 SCMR 1117
02/03/2026

ادھار دی ہوئی رقم 406 کے زمرے میں نہیں آتی-
سپریم کورٹ آف پاکستان نے FIR خارج کر دی-
2025 SCMR 1117

اَن پڑھ بہن کی جائیداد کی منتقلی — اقرارِ فروخت کی قانونی حیثیت2026 LHC 1316دیہی معاشرے میں اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ...
01/03/2026

اَن پڑھ بہن کی جائیداد کی منتقلی — اقرارِ فروخت کی قانونی حیثیت
2026 LHC 1316
دیہی معاشرے میں اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اگر ایک اَن پڑھ خاتون اپنی جائیداد اپنے بھائی کے نام منتقل کر دے تو کیا ہر صورت میں اس انتقال کو مشکوک سمجھا جائے گا؟
عدالت عالیہ کے سامنے بھی یہی بنیادی قانونی سوال زیرِ بحث آیا۔
ٹرائل کورٹ نے خاتون کو کمزور طبقہ سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر انتقال کو مشکوک سمجھا، مگر اپیلیٹ کورٹ اور بعد ازاں ہائی کورٹ نے شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے مختلف نتیجہ اخذ کیا۔
عدالت نے اصولی طور پر تسلیم کیا کہ جب ایک اَن پڑھ دیہاتی خاتون جائیداد کی منتقلی کو چیلنج کرے تو مستفید شخص پر اضافی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ رضامندی اور نیک نیتی ثابت کرے۔ تاہم یہ کوئی ایسا ناقابلِ تردید مفروضہ نہیں کہ ہر ایسا انتقال خود بخود کالعدم سمجھا جائے۔
اس مقدمہ میں سب سے اہم پہلو مدعیہ کا اپنا بیان تھا۔ وہ بطور PW-1 عدالت میں پیش ہوئی اور اس نے واضح طور پر تسلیم کیا کہ اس نے اور اس کی بہن نے زمین فروخت کی اور قیمت وصول کی۔
قانونِ شہادت کا مسلمہ اصول ہے کہ اقرار بہترین شہادت ہوتا ہے اور تسلیم شدہ حقیقت کو مزید ثابت کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے — اور جسے ہم بطور سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ریکارڈ سے مزید ثابت ہوا کہ:
▪ انتقال ریونیو افسر کے سامنے درج ہوا
▪ فریقین پیش ہوئے
▪ سرکاری واجبات ادا ہوئے
▪ گواہان نے تصدیق کی
▪ قبضہ حوالگی ثابت ہوئی
مدعیہ فراڈ یا ملی بھگت کا کوئی مضبوط آزاد ثبوت پیش نہ کر سکی۔ شریک فروخت کنندہ بہن نے بھی انتقال کو چیلنج نہیں کیا۔ مزید یہ کہ مدعیہ کا شوہر موقع پر موجود تھا مگر بطور گواہ پیش نہیں کیا گیا — جو بہترین شہادت روکنے کے اصول کے تحت اہم قرینہ سمجھا گیا۔
عدالت نے واضح کیا:
✔ اَن پڑھ خاتون کی جانب سے قریبی رشتہ دار کو فروخت بذاتِ خود مشکوک نہیں۔
✔ عدالت میں واضح اقرار لین دین کو مضبوط بناتا ہے۔
✔ فراڈ کا الزام لگانے والے پر ہی ثبوت لازم ہے۔
✔ صرف صنفی یا سماجی کمزوری کی بنیاد پر انتقال کالعدم نہیں کیا جا سکتا۔
نتیجتاً نظرثانی درخواست مسترد کر دی گئی۔
قانون ہمیں جذبات نہیں، شواہد پر فیصلہ کرنا سکھاتا ہے۔

*سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی کرایہ دار مکان مالک کی ملکیت سے انکار کرے یا خود مالک ہونے کا دعویٰ کرے، تو قانون...
20/02/2026

*سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی کرایہ دار مکان مالک کی ملکیت سے انکار کرے یا خود مالک ہونے کا دعویٰ کرے، تو قانوناً اس پر لازم ہے کہ وہ پہلے قبضہ چھوڑے (خالی کرے)۔ قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ایک شخص کرایہ دار کی حیثیت سے قبضہ بھی رکھے اور ساتھ ہی مالک کے خلاف اپنی ملکیت کا دعویٰ بھی کرے۔*
استقرارِ حق اور خاموشی (Estoppel):
قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 115 کے تحت، جب کوئی شخص بطور کرایہ دار کسی جگہ پر قابض ہوتا ہے، تو وہ اس وقت تک مالک کی ملکیت کو چیلنج نہیں کر سکتا جب تک وہ اس جگہ کا قبضہ نہیں چھوڑ دیتا۔ یہ اصول عوامی مفاد اور معاہدوں کی پاسداری کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ کوئی شخص ایک ہی وقت میں دو متضاد باتیں نہ کر سکے (یعنی ایک طرف کرایہ دار بن کر رہے اور دوسری طرف ملکیت کا دعویٰ کرے)۔
ملکیت کا دعویٰ اور بے دخلی:
اگر کرایہ دار یہ دعویٰ کرے کہ اس نے جائیداد میں حصہ خرید لیا ہے یا وہ اب شریکِ مالک بن گیا ہے، تب بھی کرایہ داری کا معاہدہ خود بخود ختم نہیں ہوتا۔ وہ کرایہ دار ہی رہے گا اور اسے رینٹ کنٹرولر (Rent Controller) کے سامنے بے دخلی کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
درست قانونی راستہ:
ایسے کرایہ دار کے لیے درست راستہ یہ ہے کہ وہ رینٹ کنٹرولر کے پاس ملکیت کے جھگڑے کھڑے کرنے کے بجائے سول کورٹ (سول عدالت) میں تقسیمِ جائیداد (Partition) کا مقدمہ دائر کرے تاکہ اپنا حصہ الگ کروا سکے۔ لیکن جب تک وہ وہاں قابض ہے، وہ رینٹ کیس میں مالک کی حیثیت کو چیلنج نہیں کر سکتا۔
عدالت کا حتمی فیصلہ (C.P.L.A. 806-P/2018):
سپریم کورٹ (یا متعلقہ عدالت) نے یہ قرار دیا ہے کہ:
کرایہ دار پر آرٹیکل 115 کے تحت قدغن ہے کہ وہ قبضہ برقرار رکھتے ہوئے مالک کی ملکیت سے انکار کرے۔
اگر وہ ملکیت کا دعویٰ کرنا چاہتا ہے، تو پہلے قبضہ واپس کرے (Surrender possession)۔
رینٹ کنٹرولر کے پاس اس کے خلاف بے دخلی کی درخواست قابلِ سماعت رہے گی اور ملکیت کا محض دعویٰ کرنے سے رینٹ کنٹرولر کا اختیارِ سماعت ختم نہیں ہوگا۔
کیس کا حوالہ:
نواب خان بنام محمد یوسف، جناب جسٹس شاہد بلال حسن، مورخہ 29 جنوری 2026۔
A tenant who disputes the landlord’s title or claims ownership is obliged to first surrender possession, as the law does not permit a tenant to retain possession under tenancy while simultaneously setting up hostile title against the landlord.

It is by now a settled proposition of law that where a person enters into possession as a tenant, he is estopped from disputing the title of the landlord so long as he continues to retain possession under the tenancy. The principle of estoppel is embodied in Article 1151 of the Qanun-eShahadat Order, 1984, which debars a tenant from denying the title of the landlord during the continuance of tenancy. The doctrine is founded upon public policy and is intended to preserve sanctity of contractual relationships and to prevent a tenant from approbating and reprobating simultaneously.

Even where a tenant claims to have acquired a share in ownership, the tenancy does not automatically dissolve so as to defeat ejectment proceedings, rather, the proper course available to such tenant is to seek his proprietary remedy through a civil suit for partition, and not to resist ejectment proceedings by raising disputed questions of title within the limited jurisdiction of the Rent Controller.

i. A tenant who subsequently asserts acquisition of ownership rights is bound by estoppel under Article 115 of the Qanun-e-Shahadat Order, 1984, and cannot deny the landlord’s title while continuing in possession as tenant. If he intends to contest proprietary title, he must first surrender possession and thereafter seek adjudication of his claim.
ii. An ejectment petition against such tenant remains maintainable, since the mere assertion or alleged acquisition of ownership rights does not terminate the tenancy nor does it oust the jurisdiction of the Rent Controller.
iii. Where the tenant claims to have purchased a share or acquired co-ownership, the proper remedy is not to resist ejectment proceedings but to seek recourse through a civil suit for partition.
Pursuant to the above, we hold that a tenant, notwithstanding any subsequent claim of ownership, cannot retain possession as tenant and simultaneously deny the landlord’s title, as such conduct is barred by Article 115 of the Qanun-e-Shahadat Order, 1984, referred to above. The tenant must first surrender possession before contesting title. Consequently, ejectment proceedings against such tenant remain maintainable. In case the tenant claims co-ownership by purchase of a share, his proper recourse lies in seeking partition through a competent civil forum and not in resisting ejectment proceedings within the limited jurisdiction of the Rent Controller.
C.P.L.A.806-P/2018
Nawab Khan & another v. Muhammad Yousaf & others
Mr. Justice Shahid Bilal Hassan
29-01-2026

پولیس کلیرنس سرٹیفکیٹ میں معمولی جرائم (مثلاً 500 روپے جرمانے) کو ہمیشہ کے لیے ظاہر کرنا آئینی حقوق (عزت، رازداری، روزگا...
19/02/2026

پولیس کلیرنس سرٹیفکیٹ میں معمولی جرائم (مثلاً 500 روپے جرمانے) کو ہمیشہ کے لیے ظاہر کرنا آئینی حقوق (عزت، رازداری، روزگار) کی خلاف ورزی ہے۔
🙂🙃
· ریکارڈ رکھنا جائز ہے، لیکن ظاہر کرنا صرف ضرورت کے مطابق۔
· صرف ایف آئی آر (بغیر سزا کے) کو منفی مواد کی طرح نہیں دکھایا جا سکتا۔
· بریت یا خارج شدہ مقدمات کو منفی طور پر پیش نہ کریں۔
· دو قسم کے سرٹیفکیٹ ہونے چاہئیں:
1. عام سرٹیفکیٹ: ملازمت/تعلیم کے لیے (معمولی جرائم اور پرانے مقدمات ظاہر نہ ہوں)۔
2. خصوصی سرٹیفکیٹ: حساس عہدوں کے لیے۔

نتیجہ:
چھوٹے جرائم میں سزا یافتہ افراد کو عام مقاصد کے لیے کلیرنس سرٹیفکیٹ میں ان مقدمات کے اندراج سے نجات دے دی گئی۔۔

29/01/2026

⚖️ سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: پردہ نشین اور ان پڑھ خواتین کی جائیداد کا تحفظ ⚖️
​سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک حالیہ فیصلے (C.P.L.A No. 4878/2025) میں پردہ نشین اور ان پڑھ خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک انتہائی اہم قانونی اصول کی وضاحت کی ہے۔
​کیس کے اہم حقائق:
اس کیس میں ایک بیوہ خاتون (سلمہ بیگم) سے مبینہ طور پر دھوکے سے زمین کا انتقال کروا لیا گیا تھا۔ خاتون کا موقف تھا کہ اس سے کرایہ نامے کے بہانے انگوٹھے لگوائے گئے، جبکہ مخالف فریق اسے "خرید و فروخت" قرار دے رہا تھا۔
​عدالت کا سنہرا اصول:
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جب بھی کسی ایسی خاتون (جو پردہ نشین یا ان پڑھ ہو) کے ساتھ جائیداد کا لین دین کیا جائے گا، تو "بوجھِ ثبوت" (Burden of Proof) اس شخص پر ہوگا جو اس جائیداد کو حاصل کر رہا ہے۔ اسے عدالت میں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ:
​✅ خاتون نے اپنی آزاد مرضی اور مکمل سمجھ بوجھ کے ساتھ دستخط/انگوٹھا لگایا۔
✅ اسے اس لین دین کے نتائج کے بارے میں مکمل آگاہی تھی۔
✅ خاتون کو کسی آزاد اور غیر جانبدار بندے سے مشورہ حاصل تھا۔
✅ گواہان قابلِ اعتماد تھے اور رقم کی ادائیگی حقیقت میں کی گئی تھی۔
​فیصلہ:
عدالت نے قرار دیا کہ محض زبانی دعووں یا مشکوک گواہوں کی بنیاد پر کسی خاتون کو اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے دھوکے سے کیا گیا انتقالِ جائیداد کالعدم قرار دے دیا۔
​حق اور انصاف کی جیت!

📌 یاد رکھیں!ریونیو ریکارڈ میں نام کی درستگی پر کوئی سرکاری فیس نہیں ہوتی۔اہم رہنمائی 👇▪️ نام کی درستگی عموماً فردِ بدر ک...
28/01/2026

📌 یاد رکھیں!
ریونیو ریکارڈ میں نام کی درستگی پر کوئی سرکاری فیس نہیں ہوتی۔
اہم رہنمائی 👇
▪️ نام کی درستگی عموماً فردِ بدر کے ذریعے کی جاتی ہے۔
▪️ اس مقصد کے لیے متعلقہ اے ڈی سی آر (ADC Revenue) کو درخواست دی جا سکتی ہے۔
▪️ اگر غلطی صرف آن لائن لینڈ ریکارڈ میں ہو تو اراضی ریکارڈ سینٹر سے درستگی ہو جاتی ہے۔
▪️ پرانا، متنازع یا پیچیدہ معاملہ سول عدالت کے ذریعے حل کیا جاتا ہے۔
⚖️ یاد رکھیں:
درست ریکارڈ ہی آپ کے قانونی حق کا اصل تحفظ ہے۔
❓ کیا آپ نے کبھی اپنے ریکارڈ کی درستگی کروائی ہے؟
❓ کیا یہ عمل واقعی بغیر فیس کے ہوا؟
👇 اپنا تجربہ کمنٹ میں ضرور بتائیں۔
وثیقہ ایسوسی ایٹس
Syed Naseebullah Agha

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Syed Naimat, Ainullah Khan Kakar, Azad Lala, Abdul Ghafoo...
28/01/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Syed Naimat, Ainullah Khan Kakar, Azad Lala, Abdul Ghafoorkhaidm, Hafiz Syed Noor Adv, اللہ نور کاکڑ, Syed Nadeem Agha

🏛️ اہم عدالتی فیصلہ — بجلی کا کنکشن (Tenant's Right)مقدمہ:مالک مکان نے کرایہ دار کو نکالنے کے لیے گھر کی بجلی کاٹ دی۔ کر...
24/01/2026

🏛️ اہم عدالتی فیصلہ — بجلی کا کنکشن (Tenant's Right)
مقدمہ:
مالک مکان نے کرایہ دار کو نکالنے کے لیے گھر کی بجلی کاٹ دی۔ کرایہ دار نے ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی۔
کیس حوالہ: 2022 CLC 560 (Lahore High Court)
فیصلہ (Verdict):
عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ:
"بجلی انسان کی 'بنیادی ضرورت' (Fundamental Right) ہے۔ کوئی بھی مالک مکان (خواہ کرایہ دار ڈیفالٹر ہی کیوں نہ ہو) قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے بجلی نہیں کاٹ سکتا۔ بے دخلی کا راستہ صرف 'رینٹ ٹربیونل' ہے۔"
• عدالت نے واپڈا/کے الیکٹرک کو حکم دیا کہ کرایہ دار کا کنکشن فوراً بحال کیا جائے۔
عوام کے لیے سبق:
"کرایہ دار کو تنگ کرنے کے لیے بجلی کاٹنا جرم ہے۔ اگر وہ کرایہ نہیں دے رہا تو عدالت جائیں، خود جج نہ بنیں۔"
📢 آگاہی شیئر کریں👇

23/01/2026

پولیس والے ہوجائیں تیار
ضلعی سطح پر پاک فوج کے بریگیڈیر اور میجر جنرل رینکس کے آفسران کو ڈی پی اوز تعینات کرنے کا پلان حتمی مرحلے میں
جنوری 2026 میں عمل درآمد ہوسکتا ہے محسن نقوی نے سمری منظوری کےلیے پیش کردی

22/01/2026

عاق نامہ — قانونی و شرعی حیثیت (اہم وضاحت) ⚖️
پاکستانی قانون اور اسلامی شریعت کے مطابق عاق نامہ کی حیثیت کو لے کر عوام میں شدید غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، جن کا ازالہ ضروری ہے۔
🔹 قانونی و عرفی مفہوم:
عاق نامہ دراصل والدین کی جانب سے یہ اعلان ہوتا ہے کہ وہ اپنی نافرمان اولاد کے کسی فعل، قول یا لین دین کے ذمہ دار نہیں رہے۔ اس حد تک عاق نامہ والدین کو بری الذمہ کرتا ہے، مگر اس سے آگے اس کی کوئی فیصلہ کن قانونی حیثیت نہیں۔
🔹 شرعی و قانونی حقیقت:
والدین کا عاق کرنا اولاد کو وراثت کے حق سے محروم نہیں کر سکتا۔
کیونکہ والدین کی وفات کے بعد جائیداد کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون (شریعت) کے مطابق ہوتی ہے، اور کوئی شخص اپنے شرعی وارث کو اس کے حصے سے محروم نہیں کر سکتا — خواہ عاق نامہ موجود ہو یا نہ ہو۔
🔹 اہم قانونی نکتہ:
وراثت زندگی میں نہیں بلکہ وفات کے بعد لاگو ہوتی ہے، اور اس مرحلے پر والدین کی خواہش، اعلان یا عاق نامہ بے اثر ہو جاتا ہے۔
🔹 متبادل قانونی راستہ (زندگی میں):
اگر والدین نافرمان اولاد کو فائدہ نہیں دینا چاہتے تو وہ: ✔️ اپنی زندگی میں فرمانبردار اولاد کو
✔️ یا کسی غیر وارث کو
اپنی جائیداد ہبہ (Gift) کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ہبہ کے تمام قانونی و شرعی تقاضے پورے ہوں۔
📌 خلاصہ کلام:
عاق نامہ: ✔️ ذمہ داری سے بری تو کر سکتا ہے
❌ وراثت سے محروم نہیں کر سکتا
وراثت میں شریعت حتمی قانون ہے، جذبات، ناراضی یا اعلانات نہیں۔
#وراثت #ہبہ

Address

Syed Naseebullah Agha Petition Writer And Deed Writer Office In Front Of District Court Near Itifaq Ada Band Road Bazar Pishin District Pishin Balochistan
Pishin
86700

Opening Hours

Monday 09:00 - 16:00
Tuesday 09:00 - 16:00
Wednesday 09:00 - 16:00
Thursday 09:00 - 16:00
Friday 09:00 - 14:00
Saturday 09:00 - 15:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when عرائض نویس پشین - Syed Naseebullah Agha posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category