The Lawyers

The Lawyers THE LAWYERS

10/07/2026

آگر آپ کا شناختی کارڈ بلاک ہو جائے تو کیا کرنا چاہییے ؟

لاہور ہائیکورٹ نے نادرا کی اپیل منظور کر لی، شناختی کارڈ بحالی کے ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدملاہور ( اے پی پی۔ 24 جون202...
27/06/2026

لاہور ہائیکورٹ نے نادرا کی اپیل منظور کر لی، شناختی کارڈ بحالی کے ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم

لاہور ( اے پی پی۔ 24 جون2026) لاہور ہائیکورٹ نے نادرا کی جانب سے شہریوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے کے خلاف دائر اپیل منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ پاکستانی شہریت ثابت کرنے کی ذمہ داری دعویدار پر عائد ہوتی ہے اور شہریت کے دعووں میں والد اور دادا کی شہریت کے شواہد بھی پیش کرنا ہوں گے۔
فیصلے کے مطابق 1979 سے قبل کا سرکاری ریکارڈ شہریت کے تعین میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے جبکہ پیدائش سرٹیفکیٹ، پرانا شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈومیسائل، تعلیمی اسناد اور دیگر سرکاری دستاویزات بطور ثبوت پیش کی جا سکتی ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ صرف شناختی کارڈ کا اجرا پاکستانی شہریت کا ناقابل تردید ثبوت نہیں اور نادرا کی مشترکہ ویری فکیشن کمیٹی کی رپورٹس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ماتحت عدالتوں نے دستیاب شواہد اور قانونی تقاضوں کا درست جائزہ نہیں لیا۔ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ شہریت کے معاملات پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ اور نادرا قوانین کے تحت طے ہوں گے، ایسے معاملات میں براہ راست سول دعوی قابل سماعت نہیں اور متبادل قانونی فورمز موجود ہونے کی صورت میں سول عدالت یا رٹ پٹیشن سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے کے مطابق متاثرہ افراد پہلے نادرا ویری فکیشن بورڈ اور متعلقہ قانونی فورمز سے رجوع کرنے کے پابند ہیں۔ عدالت نے خالد خان اور عطا اللہ کو ہدایت کی کہ وہ 30 روز کے اندر نادرا ویری فکیشن بورڈ سے رجوع کریں جبکہ بورڈ 60 روز میں قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔نادرا کے مطابق دونوں افراد اور ان کے خاندان کو مشترکہ ویری فکیشن کمیٹی نے غیر ملکی کیٹیگری میں رکھا تھا جبکہ مختلف انٹیلی جنس اداروں کی تحقیقات میں ان کی پاکستانی شہریت ثابت نہیں ہو سکی تھی۔

04/05/2026
سپریم کورٹ نے چیئرمین سروس ٹریبونل نصیب اللہ ترین کی بحالی کے بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے سابق چیئرمین...
04/05/2026

سپریم کورٹ نے چیئرمین سروس ٹریبونل نصیب اللہ ترین کی بحالی کے بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے سابق چیئرمین عبدالہادی ترین اور وزیراعلیٰ بلوچستان کی اپیلیں خارج کردیں۔

کوئٹہ میں ایک اور جعلی وکیل گرفتار
25/04/2026

کوئٹہ میں ایک اور جعلی وکیل گرفتار

25/04/2026

ڈپٹی کمشنر (DC) کے پاس انتظامی اور نیم عدالتی (Quasi-Judicial) دونوں طرح کے اختیارات ہوتے ہیں۔ جب وہ بطور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کام کرتا ہے، تو وہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مختلف قوانین کے تحت سزائیں اور احکامات جاری کر سکتا ہے۔
ذیل میں ان پاورز، دفعات اور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے طریقے کی مکمل قانونی تفصیل دی گئی ہے:
1. دفعہ 144 ضابطہ فوجداری (Section 144 CrPC)
یہ دفعہ ڈپٹی کمشنر کو ہنگامی حالات میں فوری احکامات جاری کرنے کا اختیار دیتی ہے۔
• اختیارات: ڈی سی کسی بھی ایسے کام کو روک سکتا ہے جس سے انسانی جان کو خطرہ ہو، امن عامہ میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہو یا ہنگامہ آرائی کا ڈر ہو۔
• سزا: اگر کوئی شخص دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرے، تو اس کے خلاف دفعہ 188 تعزیراتِ پاکستان (PPC) کے تحت کارروائی ہوتی ہے، جس میں 1 ماہ سے 6 ماہ تک قید یا جرمانہ ہو سکتا ہے۔
• میعاد: عام طور پر یہ حکم 2 دن سے لے کر 2 ماہ تک کے لیے ہوتا ہے (صوبائی حکومت اسے بڑھا سکتی ہے)۔
2. 16 ایم پی او (Section 3 & 16 MPO - Maintenance of Public Order)
یہ قانون "نظربندی" (Preventive Detention) کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
• سیکشن 3 MPO: اگر ڈی سی کو لگے کہ کوئی شخص پبلک سیفٹی کے لیے خطرہ ہے، تو وہ اسے 30 سے 90 دن کے لیے نظر بند کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔
• سیکشن 16 MPO: یہ دفعہ اشتعال انگیز تقریر، ممنوعہ لٹریچر پھیلانے یا افواہیں پھیلانے پر قابو پانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
• اختیارات: ڈی سی کسی بھی شخص کی نقل و حرکت محدود کر سکتا ہے یا اسے ضلع بدر (Externment) کر سکتا ہے۔
3. پرائس کنٹرول اور دیگر انتظامی اختیارات
• پرائس کنٹرول ایکٹ: ڈی سی بطور "پرائس کنٹرول مجسٹریٹ" ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کو موقع پر جرمانہ کر سکتا ہے یا دکان سیل کر سکتا ہے۔
• لوکل گورنمنٹ ایکٹ: تجاوزات کے خاتمے اور بلدیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر سزائیں دینے کا اختیار۔
ہائی کورٹ کا فورم اور قانونی طریقہ کار
اگر ڈپٹی کمشنر آپ کی درخواست خارج کر دے یا غیر قانونی طور پر نظر بند کرے، تو ہائی کورٹ میں درج ذیل قانونی راستے موجود ہیں:
الف: رٹ پٹیشن (Writ Petition - Article 199)
اگر ڈی سی کا حکم بنیادی حقوق (Fundamental Rights) کے خلاف ہے، تو آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی جاتی ہے۔
1. Mandamus: اگر ڈی سی اپنا قانونی فرض پورا نہیں کر رہا۔
2. Certiorari: اگر ڈی سی نے اپنے اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے کوئی غیر قانونی فیصلہ دیا ہو، تو اسے کالعدم (Set Aside) کروانے کے لیے۔
ب: حبسِ بے جا (Habeas Corpus - Section 491 CrPC)
اگر 3 MPO کے تحت کسی کو غیر قانونی طور پر اٹھایا گیا یا نظر بند کیا گیا ہے، تو ہائی کورٹ میں سیکشن 491 CrPC کے تحت درخواست دی جاتی ہے۔ عدالت فوری طور پر بندے کو پیش کرنے اور رہا کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔
ج: قانونی نقطہ نظر اور ججمنٹ (Case Laws)
عدالتیں عام طور پر ڈی سی کے احکامات کو درج ذیل بنیادوں پر پرکھتی ہیں:
• Natural Justice: کیا ڈی سی نے فیصلہ سنانے سے پہلے متاثرہ فریق کو سنا (Personal Hearing)؟
• Speaking Order: کیا ڈی سی نے فیصلے میں ٹھوس وجوہات لکھی ہیں؟ صرف "امن و امان" لکھ دینا کافی نہیں ہے۔

کویٹہ: سیشن کورٹ کے گیٹ پر جعلی وکیل کے خلاف ایف آئی آر درج
12/04/2026

کویٹہ: سیشن کورٹ کے گیٹ پر جعلی وکیل کے خلاف ایف آئی آر درج

وفاقی آئینی عدالت کا کروڑوں پرائیویٹ ملازمین کے حق میں  فیصلہ پرائیویٹ ملازمین 15 سال سے کم ملازمت پر بھی اپنے اداروں می...
12/04/2026

وفاقی آئینی عدالت کا کروڑوں پرائیویٹ ملازمین کے حق میں فیصلہ پرائیویٹ ملازمین 15 سال سے کم ملازمت پر بھی اپنے اداروں میں پنشن کے حقدار

محمد رفیق نے 14 سال 9 ماہ، دو مختلف فیکٹریوں میں بطور ورکر کام کیا۔ 2018ء میں 60 سال ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے پر رفیق نے EOBI میں پنشن کیلئے درخواست دی۔ تاہم درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی گئی کہ EOBI قانون کے مطابق انشورڈ ملازمت (یعنی وہ مدت میں جس میں ہر ماہ تنخواہ سے EOBI کی کٹوتی ہوتی رہی ہو) کم از کم 15 سال ہونی چاہیے،
جبکہ تمہارے تین ماہ کم ہیں رفیق نے EOBI کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ رفیق کے علاوہ چار اور ورکرز یعقوب، شہباز، عمران اور رشید بھی تھے، جنکی انشورڈ ملازمت کی مدت ساڑھے 14 سال سے زائد مگر 15 سال سے کم تھی۔
ان سب کو بھی EOBI نے اسی وجہ سے پنشن دینے سے انکار کیا، یہ بھی لاہور ہائیکورٹ پہنچے ہائیکورٹ میں ملازمین نے موقف اختیار کیا کہ EOBI قانون کے شیڈول میں واضح لکھا ہے کہ 6 مہینے یا اس سے زیادہ کی ملازمت کو ایک پورا سال شمار کیا جائے گا۔ ہم سب 14 سال 6 ماہ سے زیادہ کام کر چکے ہیں، یوں ہمارے بھی 15 سال بن جاتے ہیں۔
ہمیں پنشن دی جائے۔ ای او بی آئی نے موقف اپنایا کہ دفعہ 22 کے مطابق 15 سال لازمی ہیں۔ شیڈول صرف پنشن کی رقم نکالنے میں حساب کتاب کیلئے ہے، اہلیت طے کرنے کیلئے نہیں۔ ساڑھے 14 سال کو 15 سال نہیں بنایا جا سکتا۔ ہمارا سرکلر نمبر 1/2022 بھی یہی کہتا ہے
لاہور ہائیکورٹ نے اگست 2024ء اور مارچ 2025ء کو ملازمین کے حق میں فیصلے دیے اور قرار دیا کہ EOBI ایک فلاحی ادارہ ہے، اس لیے قانون کی تشریح ملازمین کے فائدے کے لیے ہونی چاہیے۔ عدالت نے ادارے کو حکم دیا کہ ان سب کو ماہانہ پنشن ادا کی جائے ہائیکورٹ کے ان پانچوں فیصلوں کیخلاف EOBI نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دیں۔
جو بعد ازاں آئینی معاملہ ہونے کی بناء پر وفاقی آئینی عدالت کے تین رکنی بنچ نے سنیں۔ جہاں فریقین نے اپنا موقف دہرایا اور دسمبر 2025ء میں جسٹس حسن اظہر رضوی نے فیصلہ تحریر کیا۔عدالت نے کہا کہ EOBI قانون کا مقصد بزرگ ملازمین کو بڑھاپے میں محتاجی سے بچانا ہے۔ اسے محض ریاضی کے فارمولوں سے نہیں بلکہ انسانی ہمدردی اور انصاف کے اصولوں پر دیکھنا چاہیے۔....

Address

Awan-e-Sahafat Street Pishin City
Pishin

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Lawyers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share