Choudhry Law Chamber Pirmahal

Choudhry Law Chamber Pirmahal چوہدری حامد اشرف ایڈوکیٹ ھائی کورٹ
📞03227684366
you can ask any question and difficulty about Law

09/05/2026

میاں ٹیکس کمپنی & چوہدری لاء چیمبر پیرمحل
ٹیکس فائلر ٹیکس ریٹرن کے لیے رابطہ کریں ایڈووکیٹ میاں محسن رشید
03067283830
سول فیملی فوجداری میں رہنمائی کے لیے رابطہ کریں
ایڈووکیٹ حامد اشرف
03227684366
میاں ٹیکس کمپنی & چودری لا چیمبر پیرمحل
افس نمبر ٫155 154 نیو جوڈیشل کمپلیکس تحصیل کورٹس پیر محل

03/05/2026

نیچے ان نئی قانونی تبدیلیوں اور مجسٹریٹ کے اختیارات کی تفصیل دی گئی ہے:
1. مجسٹریٹ کے اختیارات میں نئی تبدیلیاں (Power of Magistrate)
پہلے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے شہریوں کو دفعہ 22-A/22-B کے تحت سیشن جج (جسٹس آف پیس) کے پاس جانا پڑتا تھا، جو کہ ایک طویل عمل تھا۔ اب نئی ترامیم کے تحت:
• براہِ راست مداخلت (Direct Intervention): مجسٹریٹ اب صرف ریمانڈ دینے والا جج نہیں رہا۔ اگر پولیس ایف آئی آر درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لے، تو سائل سیکشن 156(3) اور سیکشن 190 کے تحت مجسٹریٹ کو درخواست دے سکتا ہے۔
• حکمِ اندراجِ مقدمہ: مجسٹریٹ کے پاس اب یہ واضح اختیار ہے کہ وہ پولیس کو حکم دے کہ فوری طور پر ایف آئی آر درج کر کے اس کی نقل عدالت میں پیش کی جائے۔
• پولیس کی جواب طلبی: اگر پولیس 24 گھنٹے کی ٹائم لائن کے اندر اندراج نہیں کرتی، تو مجسٹریٹ متعلقہ ایس ایچ او (SHO) کو طلب کر کے اس کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے اعلیٰ حکام کو لکھ سکتا ہے۔
2. نئے قانون کی اہم ترامیم (2024-25)
نئے سسٹم کا مقصد "انصاف آپ کی دہلیز پر" کے تصور کو حقیقت بنانا ہے۔ اہم نکات درج ذیل ہیں:
الف) ڈیجیٹل ایف آئی آر اور ٹائم لائن
• اب ہر درخواست کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ اگر پولیس 24 گھنٹے کے اندر کوئی فیصلہ نہیں کرتی (یعنی پرچہ درج کرنا یا خارج کرنا)، تو سسٹم میں وہ درخواست خود بخود "Pending" ظاہر ہوتی ہے جس کا جواب ڈی پی او (DPO) کو دینا پڑتا ہے۔
ب) زیرو ایف آئی آر (Zero FIR)
• نئی ترمیم کے تحت کوئی بھی تھانہ یہ کہہ کر درخواست مسترد نہیں کر سکتا کہ "یہ علاقہ ہمارے پاس نہیں آتا"۔ انہیں پرچہ درج کرنا ہوگا (جسے زیرو ایف آئی آر کہتے ہیں) اور پھر اسے متعلقہ تھانے منتقل کرنا ہوگا۔
ج) پولیس افسر کے خلاف سزا (Section 166-A PPC)
• اگر کوئی پولیس افسر جان بوجھ کر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرے یا تاخیر کرے، تو اسے تعزیراتِ پاکستان کے تحت قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ مجسٹریٹ اس کارروائی کا آغاز کروا سکتا ہے۔
3. ایف آئی آر درج کروانے کا نیا طریقہ کار (Step-by-Step)
اگر آپ کا مقدمہ درج نہیں ہو رہا، تو آپ ان مراحل سے گزر سکتے ہیں:
1. پہلا مرحلہ: تھانے میں تحریری درخواست دیں اور ڈائری نمبر (Tag Number) حاصل کریں۔ یا پنجاب پولیس کی ایپ/خدمت مرکز پر آن لائن اپلائی کریں۔
2. دوسرا مرحلہ: اگر 24 گھنٹے میں پرچہ درج نہ ہو، تو ایک درخواست ایس ڈی پی او (SDPO/DSP) یا ڈی پی او (DPO) کو دیں۔
3. تیسرا مرحلہ (عدالتی راستہ): اگر پولیس پھر بھی کارروائی نہ کرے، تو اپنے وکیل کے ذریعے علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں درخواست دیں۔ مجسٹریٹ ریکارڈ طلب کرے گا اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں پولیس کو پرچہ درج کرنے کا حکم جاری کرے گا۔

1. سیکشن 154 میں ترمیم (FIR کا ڈیجیٹل اور خودکار اندراج)
نئی ترمیم کے بعد اب ایف آئی آر (FIR) درج کرنے کا طریقہ کار صرف تھانیدار کی مرضی پر منحصر نہیں رہا:
• آن لائن اندراج: اب کوئی بھی شہری آن لائن پورٹل یا مخصوص ایپ کے ذریعے اطلاع دے سکتا ہے۔ اگر اطلاع قابلِ دست اندازی (Cognizable) جرم کی ہے، تو سسٹم اسے خودکار طریقے سے رجسٹر کرنے کا پابند ہے۔
• وقت کی پابندی: پولیس افسر اب ایف آئی آر درج کرنے میں غیر ضروری تاخیر نہیں کر سکتا۔ اگر وہ انکار کرے تو سسٹم میں اس کا اندراج "ڈیفالٹ" کے طور پر ظاہر ہوتا ہے جس کی جوابدہی اعلیٰ افسران کو کرنی پڑتی ہے۔
2. مجسٹریٹ کے اختیارات (سیکشن 190 اور 156 میں اضافہ)
2025 کی ترامیم میں مجسٹریٹ کو تھانے کے معاملات پر زیادہ کنٹرول دیا گیا ہے تاکہ 22-A اور 22-B کے بوجھ کو کم کیا جا سکے:
• براہِ راست حکمِ اندراج: اگر پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرے، تو سائل براہِ راست متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کو درخواست دے سکتا ہے۔ مجسٹریٹ کو اب یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے اور اس کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے (پہلے یہ اختیار زیادہ تر سیشن جج کے پاس 22-A کے تحت تھا)۔
• مداخلت کا اختیار: مجسٹریٹ اب صرف ریمانڈ دینے تک محدود نہیں، بلکہ وہ تفتیش کے معیار اور ایف آئی آر کے اندراج میں ہونے والی تاخیر پر پولیس افسر کے خلاف تادیبی کارروائی کی سفارش بھی کر سکتا ہے۔
3. زیرو ایف آئی آر (Zero FIR) کا تصور
نئی ترمیم میں یہ قانونی تحفظ دیا گیا ہے کہ اگر کوئی جرم کسی دوسرے تھانے کی حدود میں ہوا ہے، تب بھی متعلقہ تھانہ اطلاع ملنے پر "زیرو ایف آئی آر" درج کرنے کا پابند ہے۔ بعد میں اسے متعلقہ تھانے منتقل کر دیا جائے گا، لیکن اندراج سے انکار جرم تصور ہوگا۔
خلاصہ: 2025 کی ترامیم کا مقصد
1. پولیس کی صوابدید کا خاتمہ: پولیس اب یہ نہیں کہہ سکتی کہ "پہلے انکوائری ہوگی پھر پرچہ ہوگا"۔ اگر جرم ہوا ہے تو پرچہ فوری درج کرنا لازمی ہے۔
2. مجسٹریٹ کی بااختیاری: عوام کو ہائی کورٹ یا سیشن کورٹ جانے کے بجائے مقامی مجسٹریٹ سے فوری ریلیف دلوانا۔
3. ٹیکنالوجی کا استعمال: انسانی مداخلت کم کر کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے اندراج کو یقینی بنانا۔
قانونی نکتہ: یہ ترامیم فی الحال پنجاب کی سطح پر "پنجاب کرمنل لا (ترمیمی) آرڈیننس/ایکٹ" کے ذریعے نافذ العمل کی جا رہی ہیں تاکہ نظامِ انصاف کو نچلی سطح پر تیز کیا جا سکے۔

1. فوری اندراج (Instant Registration)
• قابلِ دست اندازی جرائم (Cognizable Offenses): اگر جرم کی اطلاع واضح ہے اور وہ سنگین نوعیت کا ہے (جیسے ڈکیتی، قتل، اغوا یا زیادتی)، تو پولیس فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنے کی پابند ہے۔ اس میں کسی قسم کی "ابتدائی انکوائری" کی گنجائش نہیں چھوڑی گئی۔
2. 24 گھنٹے کی ڈیڈ لائن (The 24-Hour Rule)
• اگر اطلاع ملنے پر پولیس کو جرم کی نوعیت کے حوالے سے شک ہو یا معاملہ مالی لین دین (Civil nature) جیسا لگے، تو وہ ابتدائی تصدیق کر سکتی ہے، لیکن اس کے لیے بھی اب وقت مقرر ہے:
• زیادہ سے زیادہ وقت: اطلاع ملنے کے 24 گھنٹوں کے اندر اندر پولیس کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ پرچہ درج کرنا ہے یا اسے خارج کرنا ہے۔
• آن لائن درخواست: اگر درخواست "پنجاب پولیس ایپ" یا "خدمت مرکز" کے ذریعے دی گئی ہے، تو سسٹم خودکار طریقے سے وقت کا حساب رکھتا ہے (Time Stamping)۔
3. مجسٹریٹ کا حکم اور ٹائم لائن
• سیکشن 154 اور 156 کے تحت: اگر سائل مجسٹریٹ کے پاس جائے اور مجسٹریٹ ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے (Direction for FIR)، تو پولیس کو عام طور پر 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر اندر کمپلائنس رپورٹ عدالت میں جمع کروانی ہوتی ہے۔
4. حساس جرائم کے لیے ترجیحی وقت
• خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم: ایسے مقدمات میں ٹائم لائنز مزید سخت ہیں۔ آئی جی پنجاب کی حالیہ ہدایات اور ترامیم کے مطابق، ایسے واقعات کی اطلاع ملتے ہی 1 سے 2 گھنٹوں کے اندر اندراج کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ میڈیکل یا دیگر شواہد ضائع نہ ہوں۔
اگر پولیس ٹائم لائن کی خلاف ورزی کرے تو کیا ہوگا؟
نئی ترامیم کے تحت اگر تھانہ مقررہ وقت میں پرچہ درج نہیں کرتا تو:
1. ڈیجیٹل الرٹ: پولیس کا انٹرنل مانیٹرنگ سسٹم (Dashboard) متعلقہ ڈی پی او (DPO) کو الرٹ بھیج دیتا ہے کہ درخواست "Pendency" میں چلی گئی ہے۔
2. سیکشن 166-A (PPC): اگر پولیس افسر جان بوجھ کر قانونی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج نہیں کرتا، تو اس کے خلاف مجرمانہ غفلت کی کارروائی ہو سکتی ہے جس میں قید اور جرمانہ شامل ہے۔
فوجداری قوانین (CrPC) میں حالیہ ترامیم (2024-25) کے بعد، ایف آئی آر (FIR) کے اندراج کے لیے اب پولیس کی اجارہ داری کافی حد تک کم ہو گئی ہے اور علاقہ مجسٹریٹ کو پہلے سے زیادہ بااختیار بنایا گیا ہے۔
حامد اشرف ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
نیو جوڈیشل کمپلیکس تحصیل کورس پیر محل چوہدری لاء چیمبر پیر محل
03227684366

18/04/2026
15/04/2026

پنجاب بھر کے سائلین اور وکلاء متوجہ ہوں! 15 اپریل کے بعد ریونیو عدالتوں کا پرانا نظام ہمیشہ کے لیے دفن ہونے جا رہا ہے—اب انصاف صرف ڈیجیٹل ہوگا!
میں ہوں مجاھد اقبال شیخ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، اور اپنے پیج لائرز کلب ٹی ٹی ایس " کے پلیٹ فارم سے آپ کو اس بڑی قانونی تبدیلی کی اہم تفصیلات فراہم کر رہا ہوں۔ بورڈ آف ریونیو پنجاب نے ایک تاریخی نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے "ریونیو کورٹس مینجمنٹ سسٹم" (RCMS) کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ اب پنجاب کی تمام ریونیو عدالتوں میں نئے مقدمات کا اندراج صرف اور صرف آن لائن پورٹل کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔ 15 اپریل 2026 سے کوئی بھی دستی یا مینول درخواست قبول نہیں کی جائے گی اور نہ ہی اسے قانونی طور پر پروسیس کیا جائے گا۔ سب سے اہم اور سخت ہدایت یہ ہے کہ اب کوئی بھی اپیلٹ کورٹ ایسے کیس کو سرے سے سنے گی ہی نہیں جس کا فیصلہ نچلی عدالت نے RCMS کے ذریعے جنریٹ نہ کیا ہو۔ یہ فیصلہ ریونیو افسران کی من مانیوں کو روکنے اور عدالتی عمل کو مکمل شفاف بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو اس حکم پر سختی سے عملدرآمد کروانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ کسی بھی قسم کی کوتاہی یا مینول کام کی صورت میں متعلقہ افسر کے خلاف سنگین تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اب آپ کے زمین کے مقدمات کا پورا ریکارڈ ایک کلک پر دستیاب ہوگا جسے کوئی غائب یا تبدیل نہیں کر سکے گا۔
سالہا سال سے ریونیو عدالتوں میں فائلیں گم ہونا اور ریکارڈ میں ٹمپرنگ کے الزامات ایک عام سی بات بن چکے تھے جس سے سائلین رل جاتے تھے۔ سائلین کو اپنے کیس کی اگلی تاریخ یا فیصلے کی نقل حاصل کرنے کے لیے کئی کئی ماہ تک سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے پڑتے تھے۔ اسی فرسودہ نظام اور کرپشن کو ختم کرنے کے لیے بورڈ آف ریونیو نے اب جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لینے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ اس ڈیجیٹل سسٹم کا مقصد مقدمات کے اندراج سے لے کر حتمی فیصلے تک کے تمام مراحل کو کمپیوٹرائزڈ کرنا ہے تاکہ انسانی مداخلت کم سے کم ہو۔ یہ نوٹیفکیشن ان تمام عناصر کے لیے ایک بڑی وارننگ ہے جو ریکارڈ میں ہیرا پھیری کر کے غریب سائلین کا حق مارتے تھے۔ اب پنجاب بھر کا ریونیو نظام ایک نئے، تیز رفتار اور شفاف ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہا ہے۔
لازمی ڈیجیٹل اندراج: 15 اپریل 2026 کے بعد تمام نئے ریونیو کیسز کا اندراج صرف RCMS کے ذریعے ہوگا۔
مینول سسٹم کا خاتمہ: ہاتھ سے لکھی درخواستوں یا پرانی فائلوں پر اب کوئی عدالتی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
اپیل پر پابندی: اگر نچلی عدالت کا فیصلہ ڈیجیٹل سسٹم سے جاری نہیں ہوا، تو اسے کسی بھی اعلیٰ عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔
افسران کی جوابدہی: پنجاب بھر کے تمام کمشنرز اور ڈی سیز اس نئے ڈیجیٹل سسٹم پر عملدرآمد کروانے کے قانونی طور پر پابند ہوں گے۔
اس انقلابی تبدیلی سے عام شہری کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ "پٹواری کلچر" اور عدالتی عملے کے غیر ضروری اثر و رسوخ میں واضح کمی آئے گی۔ آپ کا کیس اب کسی اندھیرے کمرے میں فائلوں کے ڈھیر تلے نہیں دبے گا، بلکہ آن لائن مانیٹرنگ کی وجہ سے متعلقہ افسران مقررہ وقت پر فیصلے کرنے کے پابند ہوں گے۔
نظام کی ڈیجیٹلائزیشن تو خوش آئند ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے دور دراز تحصیلوں میں بیٹھا عملہ اس پیچیدہ سسٹم کو چلانے کی مکمل تربیت رکھتا ہے؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ ٹیکنالوجی کے نام پر سائلین کو نئے طریقے سے ہراساں کیا جائے؛ ڈیجیٹل سسٹم صرف اسی صورت کامیاب ہوگا جب اس کی مانیٹرنگ بھی اتنی ہی سخت ہو۔
کیا آپ کے خیال میں اس ڈیجیٹل سسٹم کے آنے سے ریونیو عدالتوں میں دہائیوں سے جاری کرپشن اور سفارش کا کلچر واقعی ختم ہو پائے گا؟
چوہدری حامد اشرف ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
چوہدری لاء چیمبر نیوجوڈیشل کمپلیکس تحصیل کورٹس پیرمحل
03227684366

Address

Tahsil Courts Pir Mahal
Pir Mahal
36300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Choudhry Law Chamber Pirmahal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share