Kashif Khan Niazi

Kashif Khan Niazi I am Kashif Khan. On this page, I will provide all legal and general knowledge information and my point of view. and i am from Mianwali

....
16/04/2026

....

7_4_2026 with Umar friend Noorpur thaal district Khoshab....
07/04/2026

7_4_2026 with Umar friend Noorpur thaal district Khoshab....

FBR کا بڑا فیصلہ! پراپرٹی بیچنے پر ٹیکس سے بچنے کا طریقہ (2026)پاکستان میں پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس کا معاملہ ہمی...
05/04/2026

FBR کا بڑا فیصلہ! پراپرٹی بیچنے پر ٹیکس سے بچنے کا طریقہ (2026)

پاکستان میں پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس کا معاملہ ہمیشہ سے عوام کے لیے ایک اہم اور پیچیدہ مسئلہ رہا ہے۔ خاص طور پر جب کوئی شخص اپنی جائیداد فروخت کرتا ہے تو اس پر ایڈوانس ٹیکس عائد کیا جاتا ہے، جسے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 236C کے تحت وصول کیا جاتا ہے۔ تاہم حال ہی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ایک اہم سرکلر جاری کیا ہے جس میں کچھ مخصوص افراد کو اس ٹیکس سے ریلیف دینے کی وضاحت کی گئی ہے۔

اس آرٹیکل میں ہم اس نئے فیصلے کو سادہ اور واضح انداز میں سمجھیں گے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کون لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور کس طرح۔

سیکشن 236C کیا ہے؟

سیکشن 236C کے تحت جب بھی کوئی شخص پاکستان میں غیر منقولہ جائیداد (پلاٹ، گھر یا کمرشل پراپرٹی) فروخت کرتا ہے تو اس سے ایک مخصوص شرح کے مطابق ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ یہ ٹیکس فائلرز اور نان فائلرز کے لیے مختلف شرحوں پر ہوتا ہے اور عام طور پر رجسٹری کے وقت ہی کاٹ لیا جاتا ہے۔

سیکشن 7F کیا ہے؟

سیکشن 7F ایک خصوصی ٹیکس نظام ہے جو خاص طور پر بلڈرز اور ڈیولپرز کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت ان کی آمدن کا تعین روایتی طریقے کے بجائے ایک مقررہ فارمولے کے تحت کیا جاتا ہے، اور وہ اسی حساب سے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

مسئلہ کہاں پیدا ہوا؟

اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب وہ بلڈرز اور ڈیولپرز جو پہلے ہی سیکشن 7F کے تحت ٹیکس ادا کر رہے تھے، جب اپنی پراپرٹی فروخت کرتے تو ان سے دوبارہ سیکشن 236C کے تحت ایڈوانس ٹیکس بھی وصول کیا جاتا تھا۔ اس صورتحال کو عملی طور پر دوہری ٹیکسیشن جیسا سمجھا جا رہا تھا، جس سے ٹیکس دہندگان پر اضافی بوجھ پڑ رہا تھا۔

FBR کا نیا مؤقف

31 مارچ 2026 کو جاری ہونے والے سرکلر میں FBR نے اس معاملے کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص:

- سیکشن 7F کے تحت اپنی ٹیکس ذمہ داری پوری کر چکا ہے
- اور اس کی کوئی دوسری قابلِ ٹیکس آمدن نہیں ہے

تو ایسے شخص پر سیکشن 236C کے تحت ایڈوانس ٹیکس لاگو نہیں ہونا چاہیے۔

کیا یہ ریلیف خودکار ہے؟

یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے کہ یہ ریلیف خود بخود نہیں ملے گا۔ اس کے لیے متعلقہ ٹیکس دہندہ کو باقاعدہ درخواست دینا ہوگی۔

ایکسیمپشن سرٹیفیکیٹ کیسے حاصل کریں؟

متاثرہ افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے متعلقہ کمشنر ان لینڈ ریونیو کے پاس درخواست جمع کروائیں اور ایک ایکسیمپشن سرٹیفیکیٹ حاصل کریں۔ اس سرٹیفیکیٹ کے ذریعے انہیں یہ اجازت مل جاتی ہے کہ ان کی پراپرٹی کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس وصول نہ کیا جائے۔

درخواست کی جانچ پڑتال

کمشنر ان لینڈ ریونیو ہر درخواست کو الگ الگ بنیاد پر جانچتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ درخواست گزار تمام شرائط پر پورا اترتا ہو۔ صرف اہل افراد کو ہی یہ ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

اہم تنبیہ

یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ سہولت ہر شخص کے لیے نہیں ہے۔ عام تنخواہ دار افراد، سرمایہ کار یا وہ لوگ جو سیکشن 7F کے دائرہ کار میں نہیں آتے، ان پر بدستور سیکشن 236C کے تحت ٹیکس لاگو ہوگا۔

نتیجہ

FBR کا یہ فیصلہ بلڈرز اور ڈیولپرز کے لیے ایک اہم ریلیف ہے جو پہلے ہی ایک مخصوص ٹیکس نظام کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ تاہم اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے درست معلومات، بروقت درخواست اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اگر یہ تمام مراحل صحیح طریقے سے مکمل کیے جائیں تو پراپرٹی کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس سے بچنا ممکن ہے۔

31/03/2026

عدالتی نظام کی ایک جھلک
یہ لڑکی ام رباب ہے جس کے والد چاچا اور دادا کو اکٹھے قتل کیا گیا اس میں پیپلز پارٹی کی دو صوبائی وزراء سمیت دیگر افراد کے خلاف اٹھ سال عدالتی کیس لڑا اور ننگے پاؤں عدالتی راہداریوں میں گھومتی رہی اج عدالت نے ملزمان کو باعزت بری کیا جنہوں نے کلاشنکوف اور راکٹ لائنچرز کے ساتھ جشن منا کے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا اور ایک مظلوم خاتون بغیر انصاف کے اپنے گھر لوٹ گئی....................................

ام رباب کے اہل خانہ کے قتل کا مقدمہسوشل میڈیا پر عدالتی فیصلے کے خلاف بات کرنے پر 11 افراد کے خلاف مقدمہ کے لیے ڈسٹرکٹ ا...
31/03/2026

ام رباب کے اہل خانہ کے قتل کا مقدمہ

سوشل میڈیا پر عدالتی فیصلے کے خلاف بات کرنے پر 11 افراد کے خلاف مقدمہ کے لیے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج دادو نے ایس ایچ او کو مراسلہ لکھ دیا🥲۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

05/03/2026
26/02/2026

حکومتِ پاکستان نے نادرا آرڈیننس 2000 کی دفعہ 44 کے تحت قومی شناختی کارڈ قواعد 2002 اور پاکستان اوریجن کارڈ قواعد 2002 میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ ترامیم S.R.O. 330(I)/2026 اور S.R.O. 331(I)/2026 کے ذریعے 24 فروری 2026 کو گزٹ آف پاکستان میں شائع کی گئیں۔ ان اصلاحات کے ذریعے پاکستان کے شناختی دستاویزاتی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے کیو آر پر مبنی تصدیق کو قانونی حیثیت دی گئی ہے، ڈیجیٹل خدمات میں توثیقی کنٹرول کو مضبوط بنایا گیا ہے، بائیومیٹرک دائرہ کار کو وسعت دی گئی ہے اور مختلف کارڈ فارمیٹس کو اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔
ان ترامیم کا بنیادی پہلو کوئک رسپانس کیو آر کوڈ کو بطور باقاعدہ سکیورٹی اور تصدیقی فیچر قانونی طور پر شامل کرنا ہے۔ قواعد میں کیو آر کوڈ کو ایک محفوظ، مشین سے پڑھے جانے والے دو جہتی بارکوڈ کے طور پر متعین کیا گیا ہے جو معلومات کو انکوڈ کر کے محفوظ رکھتا ہے اور اسکین کیے جانے پر قابلِ استعمال شناختی تصدیقی ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔ مزید برآں، “کیو آر کوڈ یا کوئی دیگر تکنیکی فیچر” کی اجازت دے دی گئی ہے جو موجودہ مائیکروچپ کے متبادل کے طور پر بھی استعمال ہو سکتا ہے، جس سے نادرا کو جدید اور ارتقائی تصدیقی ٹیکنالوجیز اختیار کرنے کے لیے بار بار قواعد میں ترمیم کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس اقدام سے آف لائن اور آن لائن دونوں ماحول میں فوری اور محفوظ تصدیق کے لیے مضبوط قانونی بنیاد قائم ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ممکن ہوگا کہ شہریوں کو یکساں نوعیت کا شناختی کارڈ جاری کیا جائے، بجائے اس کے کہ موجودہ طور پر دو مختلف اقسام کے قومی شناختی کارڈ رائج ہیں جن میں ایک مائیکروچپ کے ساتھ اور دوسرا بغیر مائیکروچپ کے ہوتا ہے۔
کیو آر سے فعال یہ نظام پاکستان کے ڈیجیٹل آئی ڈی نظام کو تقویت دے گا اور نیشنل ڈیٹا ایکسچینج لیئر کے ذریعے باہمی ربط کو مضبوط بنائے گا۔ کیو آر پر مبنی اسناد خدمات کی فراہمی کے مقامات پر فوری سطحی تصدیق کو ممکن بناتی ہیں، جبکہ بیک اینڈ نظام قابلِ اعتماد ڈیجیٹل تبادلے کے ذریعے اسناد کی صحت اور حیثیت کی توثیق کر سکتے ہیں۔ اس سے سرکاری اداروں اور ریگولیٹڈ شعبوں میں شناختی تصدیق کی رفتار، شفافیت اور یکسانیت میں اضافہ متوقع ہے، دستی کارروائیوں میں کمی آئے گی اور جعل سازی و نقالی کے خطرات کم ہوں گے۔
قواعد میں کارڈ کی معطلی کے اثرات کو بھی مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔ اب یہ واضح کیا گیا ہے کہ جب کوئی کارڈ معطل کیا جائے تو اس سے منسلک تمام تصدیقی، توثیقی اور متعلقہ خدمات فوری طور پر معطل تصور ہوں گی۔ اس سے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ معطل شدہ کارڈ کسی بھی ڈیجیٹل یا ادارہ جاتی تصدیقی عمل میں استعمال نہ ہو سکے۔
مزید برآں، بائیومیٹرک نظام کو مضبوط کرتے ہوئے فنگر پرنٹس اور آئرس اسکین کو قواعد میں واضح طور پر شامل کیا گیا ہے، جو جدید اور ملٹی موڈل بائیومیٹرک شناختی نظام کی عکاسی کرتا ہے۔
شہری سہولت کے حوالے سے ساٹھ سال یا اس سے زائد عمر کے مقیم یا غیر مقیم شہریوں کے لیے خصوصی نشان کے ساتھ عمر بھر کے لیے مؤثر اسمارٹ قومی شناختی کارڈ جاری کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اس سے بزرگ شہریوں کو بار بار تجدید کی ضرورت سے نجات ملے گی اور ان کے لیے سہولت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
آزاد جموں و کشمیر کے رہائشیوں کے لیے بھی کارڈ پر “Resident of Azad Jammu and Kashmir” کی عبارت درج کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، تاکہ جغرافیائی شناخت کو معیاری اور یکساں بنایا جا سکے۔
آخر میں، قواعد کے شیڈولز کو مکمل طور پر اپ ڈیٹ کرتے ہوئے مختلف اقسام کے اسمارٹ شناختی کارڈز کے نئے نمونے شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں مقیم شہری، بیرون ملک پاکستانی، بچوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹس، معذور افراد، اعضا عطیہ کنندگان، مشترکہ زمروں اور آزاد جموں و کشمیر کے رہائشی شامل ہیں۔ تمام نئے فارمیٹس میں کیو آر کوڈ اور جدید سکیورٹی لے آؤٹ کو نمایاں طور پر شامل کیا گیا ہے، جس سے ایک جدید اور معیاری شناختی دستاویزی نظام قائم ہوگا۔
مجموعی طور پر یہ ترامیم پاکستان کے قومی شناختی نظام کی قانونی اور تکنیکی بنیادوں کو مزید مستحکم کرتی ہیں۔ کیو آر پر مبنی محفوظ تصدیق، ڈیجیٹل توثیقی نظام کی مضبوطی، بائیومیٹرک یقین دہانی میں اضافہ، فوری معطلی کے ذریعے فراڈ کے خطرات میں کمی اور بزرگ شہریوں کے لیے عمر بھر کی معیاد جیسی سہولتیں پاکستان کو مربوط ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کی جانب مزید آگے لے جائیں گی۔ یہ اصلاحات نیشنل ڈیٹا ایکسچینج لیئر اور وسیع تر ڈیجیٹل آئی ڈی نظام کے ذریعے بین الادارہ جاتی ہم آہنگی اور جدید ڈیجیٹل گورننس کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گی۔

(حوالہ: گزٹ نوٹیفکیشن مؤرخہ 24 فروری 2026)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میٹرک پاس ایس ایچ او۔ میرا سوہنا دیس۔عدالت برہم-ایس ایچ او کیسے لگ گئے آپ ؟نوٹس جاری ۔ڈی پی او طلب۔عدالت کے اسٹاف نے شکا...
07/02/2026

میٹرک پاس ایس ایچ او۔ میرا سوہنا دیس۔
عدالت برہم-
ایس ایچ او کیسے لگ گئے آپ ؟
نوٹس جاری ۔ڈی پی او طلب۔

عدالت کے اسٹاف نے شکایت کی کہ صبح کے وقت ایس ایچ او نے عدالتی عملے سے بدتمیزی کی اور توہین آمیز زبان استعمال کی۔عدالت میں جب ایس ایچ او سے تعلیم کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ صرف میٹرک پاس ہے۔

جب پوچھا گیا کہ پھر وہ ایس ایچ او کیسے مقرر ہوا تو اس نے جواب دیا کہ ڈی پی او جھنگ نے تجربے کی بنیاد پر تعینات کیا ہے۔ ان تمام حالات کی وجہ سے عدالت نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او جھنگ کو طلب کر لیا ہے۔ حکم دیا گیا ہے..

18/01/2026




▪اگر کوئی شخص ہوائی فائرنگ کرتا ہوا پکڑا جاتا ہے تو اس پر section 337 H2 کے تحت تین ماہ قید اور جرمانہ سنایا جاسکتا ہے۔

▪اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص پر کوئی جھوٹی FIR درج کرواتا ہے تو اس پر section 182 کے تحت سات سال قید اور جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

▪اگر کوئی پولیس آفیسر کسی سے رشوت لیتا ہے یا رشوت مانگتا ہے تو اس کو سیکشن 161 کے تحت تین سال قید اور جرمانہ ادا کرنا پڑے گا اور اسے نوکری سے فارغ کیا جاسکتا ہے۔

▪اگر کوئی شخص سوشل میڈیا پر ہتھیار کی نمائش کرتا ہے تو اس کو کسی قسم کی سزا نہیں دی جا سکتی جب تک چیک کرکے یہ نہ ثابت کیا جا سکے کہ یہ ہتھیار اصلی ہے یا نقلی یا جب تک ہتھیار برآمد نہ ہو جائے۔

▪اگر پولیس کسی شخص کو گرفتار کرنے کے بعد چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اس کو عدالت کے سامنے پیش نہیں کرتی تو سیکشن 157 آرڈر 2002 کے تحت اس پولیس اہلکار کو ایک سال قید جرمانہ اور سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی۔

▪اگر کوئی پولیس افیسر آپ کے گھر بغیر اجازت داخل ہوتا ہے تو اس پولیس افیسر کے خلاف سیکشن 452 تعزیرات پاکستان 155C کے تحت ایف آئی آر درج کروائی جاسکتی ہے جس کی سزا تین سال قید اور جرمانہ ہے۔

▪کسی عورت کو تھپڑ مارنے یا برقعہ اتارنے والے شخص پر دفعہ 354 تعزیرات پاکستان کی ایف آئی آر درج ہوتی ہے جس کی سزا دو سال قید اور جرمانہ ہے۔

▪اگر پولیس کسی کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھتی ہے تو پولیس پر دفعہ 34/ 342 تعزیرات پاکستان 155C کے تحت آیف آئی آر درج ہوگی۔

▪گاہکوں کو انعام یا قراندازی کا لالچ دے کر اشیا۶ بیچنا جرم ہے سیکشن 294 ppc کے تحت چھ ماہ قید اور جرمانہ ہے۔

▪کسی بھی رشتےدار کا لائسنس یافتہ اسلحہ اپنے پاس رکھنا کوئی جرم نہیں ہے. سیکشن
977 PCRLJ 2001 کے تحت

▪واپڈا اگر کسی کی زمین میں بجلی کا کھمبا یا پول نصب کرے گا تو واپڈا اس زمین کے مالک کو معاوضہ دینے کا پابند ہے 2018 1120 CLC

▪کسی جانور کے ساتھ بد فعلی کرنا سنگین اور ناقابل ضمانت جرم ہے جس کی سزا عمر قید ہیں۔
PLJ 2002 CRC 852

▪اگر کوئی صرف ریپ کرنے کی کوشش کرے تو اسے قانون دی گئی ریپ کی سزا کا نصف حصہ جیل میں کاٹنا ہوگا۔
2020 PCRLJ 158

▪نیک نیتی سے کی گئی غلطی کسی کو مجرم قرار نہیں دے سکتی اور نہ ایسی غلطی سے کسی کو سزا دی جا سکتی ہے۔
1991 PLC 791

▪اگر میاں بیوی دونوں جیل میں ہوں تو ان کی اولاد کی بھلائی کے لیے ان دونوں میں سے کسی ایک کو ضمانت پر رہا کیا جا سکتا ہے۔
1903 SCMR 1996

▪اگر کوئی مقدمہ راضی نامے کی بناء پر واپس لیا گیا ہو تو وہ دوبارہ کبھی دائر نہیں ہو سکتا.
1991 SCMR 1210

▪اگر شوہر اپنی روٹھی ہوئی بیوی کو اٹھا کر گھر واپس لے آئے تو شوہر کے خلاف اغوا کا مقدمہ نہیں ہوگا ۔
1971 PCRLJ 252

▪رسم حنا یا شادی پر ہوائی فائرنگ سے کسی کا قتل ہوجائے تو سزائے موت نہیں ہوگی۔
2012 YLR 1366

▪سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے سے پہلے گرفتاری دینا لازمی ہے۔
PLJ 2004 CRC 1033

▪وکیل پر حملہ کرنا یا وکیل کو دھمکیاں دینا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔
Sec 06 ATA 1997

▪عدالت میں شہادت ملزم کی موجودگی میں ریکارڈ کرنا لازم ہے۔
PLJ 2020 CRC 422

▪اگر کوئی دکاندار سرکاری نرخ سے مہنگی چیز فروخت کرتا ہے تو اسے ایک ماہ قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔
1969 PCLRJ 543

▪دھوکہ اور فراڈ کرنے والوں پر 71-68-420 کہ تحت قانونی کروائی کی جائے گی جو ناقابل ضمانت ہوگئی۔

▪اگر موٹر سائیکل پر تین افراد سوار ہوں اور حادثہ ہوجائے تو اس حادثے کے ذمہ دار موٹرسائیکل والے ہوں گے۔
2001 CLJ 540

▪پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ گواہ کا بیان زیر دفعہ 161 جلد سے جلد ریکارڈ کرے۔

▪16 سال کی لڑکی کو بہلا پھسلا کر نکاح کرنا جرم ہے جس کی سزا 07 سال قید ہے.
361 PPC

▪اگر کسی نے لاؤڈ اسپیکر لگا رکھے ہوں یا تنگ گلی سے روزانہ جانور گزارتا ہو تو اس کا یہ عمل اسپیشل مجسٹریٹ سے رجوع کرکے ختم کروایا جاسکتا ہے۔
1992 PCLRJ 385

▪ لڑکی کا کسی غیر محرم مرد کے ساتھ ناجائز تعلق رکھنا سنگین جرم ہے۔
PLD 2017 FSC 63

▪چرس پی کر ڈرائیونگ کرنا جرم ہے جس کی سزا 6 ماہ قید ہے۔
Section 100 motor Vehicle Ordinance 1965

▪اگر کوئی شخص عورت پر جھوٹی تہمت لگاتا ہے تو اسے پانچ سال قید اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔
Sec 496 PPC

▪پسند کی شادی کرنا ہر عورت کا بنیادی حق ہے۔
PLD 2016 LHR 857

▪کسی بھی شہر میں پانچ سال رہنے والا شخص اس شہر کے ڈومیسائل کا حقدار ہو جاتا ہے۔
2015 PLC 650

▪اگر بجلی بغیر نوٹس کے بند کر دی جائے تو واپڈا کے خلاف مقدمہ دائر کیاجا سکتا ہے۔
1989 NLR 1133

▪تعزیرات پاکستان دفعہ 273 کے تحت اگر کوئی شخص ناقص اشیاء فروخت کرتا ہے تو اسے چھ ماہ قید اور جرمانہ کیا جاتا ہے۔

▪اگر کوئی پولیس آفیسر وردی میں تصویر کھینچواتا ہے یا ٹک ٹاک بناتا ہے تو اپ 8787 پر کال کرکے اس کو نوکری سے فارغ کروا سکتے ہیں۔

▪کسی لڑکی کو جاہل یا بدتمیز کہنا کوئی جرم نہیں ہے۔
2013 MLD 198

▪دادا کی وراثت میں یتیم پوتا پوتی بھی حقدار ہے۔
2017 SCMR 1476

▪کسی شخص کا جعلی فیس بک اکاؤنٹ بنانا سخت جرم ہے
2018 YLR 329

▪والدین کمانے والے بیٹے کے خلاف خرچے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔
PLD 2014 PESH 21

▪پولیس آفیسر زیر حراست ملزم پر تشدد کرے تو اس کو پانچ سال قید اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔
A 156(D) Police order 2K2

▪اگر کوئی شخص پاکستانی جھنڈے کی بےحرمتی کرتا ہے تو اسے تین سال قید اور جرمانہ ہوگا۔
Sec 123 PPC 1860

▪ماں بچے کا خرچہ معاف بھی کر دے تو بھی باپ خرچہ دینے کا پابند ہے۔
2014 MLD 351

▪طلاق یافتہ لڑکی اگر ماں کے پاس ہے تو باپ اس کو خرچہ دینے کا پابند ہے۔
2014 MLD 351

▪غیرت کے نام پر ہونے والے قتل میں راضی نامہ صرف عدالت کی مرضی ہو سکتی ہے۔
PLD 2014 LHR 541

▪ہر شہری اپنی جان کے ساتھ ساتھ اپنے رشتے داروں کی جان کے دفاع کا حقدار ہے۔
2010 CRLJ 69

▪بیوی کی طرف سے شوہر کا موبائل چیک کرنا کوئی جرم نہیں۔
S 25 PDPB 2018

18/01/2026

اگر کسی کو اپنا شجرہ نسب معلوم نہیں ہے تو آپ اپنے آباؤ اجداد کی زمین کا خسرہ نمبر لے کر (اگر خسرہ نمبر نہیں معلوم تو موضع اور یونین کونسل کا بتا کر بھی ریکارڈ حاصل کر سکتا ہے ) اپنے ضلع کے محکمہ مال آفس میں جائیں یہ آفس اکثر ضلعی کچہریوں میں ہوتا ہے اور جہاں قدیم ریکارڈ ہوتا ہے اس کو محافظ خانہ کہا جاتا ہے ۔ محافظ خانہ سے اپنا 1872ء / 1880ء یا 1905ء کا ریکارڈ (بندوبست) نکلوائیں ۔1872ء / 1880ء یا 1905ء میں انگریز نے جب مردم شماری کی تو انگریزوں کو کسی قوم سے کوئی غرض نہ تھی ہر ایک گائوں میں جرگہ بیٹھتا جس میں پٹواری گرداور چوکیدار نمبردار ذیلدار اس جرگہ میں پورے گائوں کو بلاتا تھا۔ ہر ایک خاندان کا اندراج جب بندوبست میں کیا جاتا تو اس سے اس کی قوم پوچھی جاتی اور وہ جب اپنی قوم بتاتا تو پھر اونچی آواز میں گاؤں والوں سے تصدیق کی جاتی اسکے بعد اسکی قوم درج ہوتی۔ یاد رہے اس وقت کوئی شخص اپنی قوم تبدیل نہیں کرسکتا تھا بلکہ جو قوم ہوتی وہی لکھواتا تھا۔ بے شمار اقوام ان بندوبست میں درج ہیں ..... اپنے ضلع کے محکمہ مال میں جاکر اس بات کی تصدیق بھی کریں اور اپنا شجرہ نسب وصول بھی کریں ۔وہی آپکے شجرہ نسب کی مصدقہ دستاویز ہے۔۔ اگر آپ کے بزرگ چھوٹے موٹے زمیندار تھے تو محکمہ مال کے ریکارڈ میں ان کا شجرہ نسب ضرور درج ہو گا ۔

06/01/2026

7.1.2026

پنجاب بار کونسل نے بیرسٹر میاں اشفاق علی صاحب کا لائسنس سسپینڈ کر دیا ہے••وکلاء کے خلاف بیان بازی •ہڑتال کے باوجود عدالت...
01/01/2026

پنجاب بار کونسل نے بیرسٹر میاں اشفاق علی صاحب کا لائسنس سسپینڈ کر دیا ہے•

•وکلاء کے خلاف بیان بازی
•ہڑتال کے باوجود عدالت میں پیش ہونا
•وکلاء میں تقسیم پیدا کرنا
•پرائیوٹ گارڈز اور لوگوں کے ساتھ عدالت میں آنا

Address

Teshil Piplan District Mianwali
Piplan
42000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kashif Khan Niazi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share