05/04/2026
FBR کا بڑا فیصلہ! پراپرٹی بیچنے پر ٹیکس سے بچنے کا طریقہ (2026)
پاکستان میں پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس کا معاملہ ہمیشہ سے عوام کے لیے ایک اہم اور پیچیدہ مسئلہ رہا ہے۔ خاص طور پر جب کوئی شخص اپنی جائیداد فروخت کرتا ہے تو اس پر ایڈوانس ٹیکس عائد کیا جاتا ہے، جسے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 236C کے تحت وصول کیا جاتا ہے۔ تاہم حال ہی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ایک اہم سرکلر جاری کیا ہے جس میں کچھ مخصوص افراد کو اس ٹیکس سے ریلیف دینے کی وضاحت کی گئی ہے۔
اس آرٹیکل میں ہم اس نئے فیصلے کو سادہ اور واضح انداز میں سمجھیں گے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کون لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور کس طرح۔
سیکشن 236C کیا ہے؟
سیکشن 236C کے تحت جب بھی کوئی شخص پاکستان میں غیر منقولہ جائیداد (پلاٹ، گھر یا کمرشل پراپرٹی) فروخت کرتا ہے تو اس سے ایک مخصوص شرح کے مطابق ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ یہ ٹیکس فائلرز اور نان فائلرز کے لیے مختلف شرحوں پر ہوتا ہے اور عام طور پر رجسٹری کے وقت ہی کاٹ لیا جاتا ہے۔
سیکشن 7F کیا ہے؟
سیکشن 7F ایک خصوصی ٹیکس نظام ہے جو خاص طور پر بلڈرز اور ڈیولپرز کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت ان کی آمدن کا تعین روایتی طریقے کے بجائے ایک مقررہ فارمولے کے تحت کیا جاتا ہے، اور وہ اسی حساب سے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
مسئلہ کہاں پیدا ہوا؟
اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب وہ بلڈرز اور ڈیولپرز جو پہلے ہی سیکشن 7F کے تحت ٹیکس ادا کر رہے تھے، جب اپنی پراپرٹی فروخت کرتے تو ان سے دوبارہ سیکشن 236C کے تحت ایڈوانس ٹیکس بھی وصول کیا جاتا تھا۔ اس صورتحال کو عملی طور پر دوہری ٹیکسیشن جیسا سمجھا جا رہا تھا، جس سے ٹیکس دہندگان پر اضافی بوجھ پڑ رہا تھا۔
FBR کا نیا مؤقف
31 مارچ 2026 کو جاری ہونے والے سرکلر میں FBR نے اس معاملے کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص:
- سیکشن 7F کے تحت اپنی ٹیکس ذمہ داری پوری کر چکا ہے
- اور اس کی کوئی دوسری قابلِ ٹیکس آمدن نہیں ہے
تو ایسے شخص پر سیکشن 236C کے تحت ایڈوانس ٹیکس لاگو نہیں ہونا چاہیے۔
کیا یہ ریلیف خودکار ہے؟
یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے کہ یہ ریلیف خود بخود نہیں ملے گا۔ اس کے لیے متعلقہ ٹیکس دہندہ کو باقاعدہ درخواست دینا ہوگی۔
ایکسیمپشن سرٹیفیکیٹ کیسے حاصل کریں؟
متاثرہ افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے متعلقہ کمشنر ان لینڈ ریونیو کے پاس درخواست جمع کروائیں اور ایک ایکسیمپشن سرٹیفیکیٹ حاصل کریں۔ اس سرٹیفیکیٹ کے ذریعے انہیں یہ اجازت مل جاتی ہے کہ ان کی پراپرٹی کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس وصول نہ کیا جائے۔
درخواست کی جانچ پڑتال
کمشنر ان لینڈ ریونیو ہر درخواست کو الگ الگ بنیاد پر جانچتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ درخواست گزار تمام شرائط پر پورا اترتا ہو۔ صرف اہل افراد کو ہی یہ ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
اہم تنبیہ
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ سہولت ہر شخص کے لیے نہیں ہے۔ عام تنخواہ دار افراد، سرمایہ کار یا وہ لوگ جو سیکشن 7F کے دائرہ کار میں نہیں آتے، ان پر بدستور سیکشن 236C کے تحت ٹیکس لاگو ہوگا۔
نتیجہ
FBR کا یہ فیصلہ بلڈرز اور ڈیولپرز کے لیے ایک اہم ریلیف ہے جو پہلے ہی ایک مخصوص ٹیکس نظام کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ تاہم اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے درست معلومات، بروقت درخواست اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اگر یہ تمام مراحل صحیح طریقے سے مکمل کیے جائیں تو پراپرٹی کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس سے بچنا ممکن ہے۔