24/02/2026
آرڈر XX قاعدہ 3 ضابطہ دیوانی اور دفعہ 152 ضابطہ دیوانی کا باہم مطالعہ اس امر کو نمایاں کرتا ہے کہ اگرچہ کسی فیصلے پر دستخط ہو جانے کے بعد وہ حتمی حیثیت اختیار کر لیتا ہے اور اصولاً اس میں رد و بدل نہیں کیا جا سکتا، تاہم مقننہ نے ایک محدود اور مخصوص استثنا مہیا کیا ہے۔
اس استثنا کے تحت عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قلمی یا حسابی غلطیوں، یا کسی اتفاقی لغزش و سہو کے باعث فیصلے یا ڈگری میں در آنے والی خامیوں کی تصحیح کر سکے۔
دفعہ 152 ضابطہ دیوانی کا دائرہ کار اب محلِ نزاع نہیں رہا۔ عدالتی نظائر کے ذریعے یہ اصول مستحکم ہو چکا ہے کہ اس دفعہ کے تحت صرف وہی غلطیاں درست کی جا سکتی ہیں جو ظاہری، غیر ارادی اور تکنیکی نوعیت کی ہوں، جبکہ فیصلے کے جوہر، اس کی بنیاد، یا میرٹ میں کسی قسم کی تبدیلی اس اختیار کے تحت ممکن نہیں۔
A combined reading of the Order XX Rule 3, CPC and 152, C.P.C makes it manifest that although a judgment, once signed, attains finality, the legislature itself has carved out a specific exception enabling correction of clerical or arithmetical mistakes or errors arising from accidental slips or omissions. The scope of section 152, C.P.C. are no longer res integra.