FATA Lawyers Forum

FATA Lawyers Forum Organization Of FATA Lawyers

26/01/2021

Mr.Haya Khan Advocate member Bajaur Bar Association view regarding judicial system and investigation conducted by Levies/ Khasadar.

میری طرف سے ایک عرض بھی ہے اور مشورہ بھی کہ حالیہ بار کونسل انتخابات میں نئے ضم شدہ اضلاع کو ووٹ کا حق نہ تھا جو کہ مہمن...
27/11/2020

میری طرف سے ایک عرض بھی ہے اور مشورہ بھی کہ حالیہ بار کونسل انتخابات میں نئے ضم شدہ اضلاع کو ووٹ کا حق نہ تھا جو کہ مہمند بار اسوسی ایشن کے صدر گل رحمٰن مہمند صاحب نے رِٹ دائر کی اور عدالت عالیہ کے حکم سے اجازت ملی اور ضم شدہ اضلاع کے وکلاء کو KPBC میں خوش آمدید کا سنہرا باب ہے ۔۔۔
لہزا میری تمام وکلاء بلخصوص نوجوان اور بلخصوص ضم شدہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے وکلاء سے استداء ہے کہ ایسے ممبرز کو ضرور موقع دیں۔ ایک ووٹ ضم اضلاع کو گلے لگانے اور پختنخواہ کو بڑھانے کے نام۔۔۔
گل رحمٰن مہمند سیریل # 47 پشاور سیٹ

please vote and support Gul Rehman Mohmand , Candidate from erstwhile FATA.
25/11/2020

please vote and support Gul Rehman Mohmand , Candidate from erstwhile FATA.

12/08/2020

آسلام علیکم۔
مہمند ضلع میں مشران نے فی خاصہ دار 600000لاکھ بیچ کر خوب کمائی کی۔ یعنی جس کے 10خاصہ دار تھے انھوں نے 6000000 ساٹھ لاکھ کمائے۔ اس کے باوجود یہ مشران خوش نہیں ہیں۔احتیجاج کا مقصد تھا کہ حکومت سے تھوڑا مزید وقت لے کر ان نوکریوں کو آٹھ لاکھ فی خاصہ دار بیچا جائے۔۔ ان کو چاہئے تھا کہ ان نوکریوں کو اپنے گاؤں کے جوانوں میں فی سبیل آللہ تقسیم کرتے تاکہ علاقے میں ان کی عزت برقرار ریہتی اور جگر تھان کر بولتے کہ ہم نے یہ قربانی بھی دی۔ مگر آفسوس ان کی قربانی ہمیشہ مفادات کے ساتھ وابستہ تھی۔جن مشران نے خاصہ دار بیچ دی آب انکا احتیجاج سے کوئی لینا دینا نہیں۔ان شاء آللہ اب یہ مشران 14اگست کو منائے گے اور جنہوں نے ابھی تک نہیں بیچے وہ شائد 14سے انکار کردے۔۔۔

20/07/2020

فاٹا انضمام نے ایسے کرپٹ نظام کا خاتمہ کیا جسمیں سپیشل خاصہ داری کے نام پر فرضی ناموں پر ایک ایک بااثر شخص کی سینکڑوں کی نوکریا ہوتی تھیں. انتظامی افسران اور عملہ نے بھی خوب فائدہ اٹھایا. اس ظالمانہ اور فرسودہ نظام میں بے گناہ لوگوں کو اجتماعی ذمہ داری کے نام پر جبر و تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا. معمولی معمولی نوعیت کے مقدمات میں گھروں کی مسماری اور غریب کاشتکاروں کا واحد ذریعہ معاش یعنی افیون کی فصل کو تلف کرنا ایک عام بات تھی، جسمیں نام نہاد قومی مشران (ملکان) انتظامیہ اورسیکورٹی اداروں کے آگے آگے ہوتے تھے، جس کے عوض سپیشل خاصہ داری یا نقد انعام دیا جاتا تھا جو انگریز سامراج کے زمانے سے چلتا آرہا تھا جنہوں نے عوام کو ملکان، خوانین، نوابان، چوہدری اور وڈیروں کے ذریعے اکثریت کو اقلیت کے ذریعے غلام بنایا تھا. ان پر FCR جیسا ظالمانہ نظام مسلط کیا تھا جو 1887 سے پنجاب ریگولیش کے نام سے نافذالعمل تھا بعد میں پورے ملک سے سمٹتا ہوا فاٹا تک محدود ہو کر رہ گیا. اس نظام میں پولیٹیکل ایجنٹ کے لامحدود اختیارات ہوا کرتے تھے کسی بھی عدالت میں ان کے خلاف شنوائی نہیں ہو سکتی تھی ان کے فنڈز آڈٹ سے مستثنیٰ ہوتے تھے. قبائل بنیادی حقوق سے محروم تھے تحریر و تقریر جلسہ جلوس پر پابندی تھی.
ستمبر 2011 کے بعد قبائلی روایات و رسم و رواج کا شیرازہ بھکر گیا اکثر مخلص، خاندانی، دور اندیش اور انصاف پسند مشران یا تو قتل کئے گئے اور یا علاقے چھوڑ کر ملک کے مختلف علاقوں میں آباد ہوئے، اس خلاء کو لالچی، خود عرض، سمگلر اور معاشرے کے دھتکارے ہوئے لوگوں نے پر کیا. ان کو جرگوں میں بطور جرگہ مشران مقرر کئے گئے انہوں نے بلاشبہ جلد فیصلے سنائے مگر ایک طرف رسم و رواج کو پیروں تلے روند ڈالا (کیونکہ پرائیویٹ جرگے جو ماضی میں معزز مشران نے کئے تھے اور جنکو سپریم کورٹ بھی درست تسلیم کرتی ہے، انکو یکسر ختم کر دئیے) تو دوسری طرف انصاف کا گلا گھونٹ دیا، کیونکہ انکا مقصد فریقین سے زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ حاصل کرنا تھا جس میں سے آدھا حصہ اکثر انتظامی افسران کا ہوتا تھا.
ان میں ایماندار، خاندانی اور مخلص مشران کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی لیکن ان کا کردار محدود ہو کر رہ گیا تھا.
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پیسے کی ریل پیل تھی اس کے علاوہ قبائلی علاقوں میں قیمتی معدنیات پر اربابِ اقتدار کی ہوس بھری عقابی نظر پڑی اور راتوں رات لوٹ کھسوٹ کرکے کروڑ پتی بن گئے. 99 فیصد قبائلی عوام کا نقصان ہوا عورتیں بیوہ ہوئیں بچے یتیم ہوئے ان کے نام پر
مراعات اور سپیشل خاصہ داریاں منظور ہوئیں لیکن وہ بڑے مگر مچھوں نے ہڑپ کئے بیوائیں اور یتیم شہداء پیکج سے بھی محروم رہے.
اب چوری پکڑی گئی لوگوں کو بیوائیں اور یتیم بھی یاد آنے لگے، قربانی کا تذکرہ بھی ہونے لگا انضمام کی برکت سے روڈ بلاک کرنے، تقریر اور مظاہروں کے مواقع بھی ملے مگر وہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ وہ روڈ بلاک کر کے قوم کی کونسی خدمت سرانجام دے رہے ہیں،؟
میرا برادرانہ اور مخلصانہ مشورہ ان مشران کو یہ ہے کہ عوام کو تکلیف نہ دے سپیشل خاصہ داری کی بجائے ڈیوٹی کے قابل نوجوان بھرتی کرے اور علاقائی امن و ترقی میں اہم کردار ادا کرے اور جعلی و فرضی ناموں سے ااربوں روپے ہڑپ کرنے والوں کا کھڑا احتساب کیلئے اپنا
مثبت کردار ادا کریں، بصورتِ دیگر عوام اور خصوصاً تعلیم یافتہ اور نوجوان طبقہ ان سے بیزار ہو گا اور ان کی بیزاری نفرت میں تبدیل ہوگی.
بعض قریبی ملکان دوستوں سے انتہائی معذرت کے ساتھ.
copiedرشید احمد مہمند ایڈووکیٹ

27/01/2020
22/01/2020

خیبر پختونخوا رولز 2019 کا بغور مطالعہ کیا۔مشران اور ممبران کا اختیارصفر جبکہAC /DC سیاہ و سفید کے مالک۔فریقین کو کسی بھی عدالت میں اپیل کا حق نہیں ہوگا۔ جرگہ تشکیل دینے' کسی کو جرگہ سے ہٹانے' فیصلہ منظور یا واپس کرنے کے علاوہ مکمل طور پر مسترد کرکے کیس کو کسی اور جرگہ کو حوالہ کرنے اور جائزہ Review میں مکمل فیصلہ تبدیل کرنے کا اختیار ہوگا اور اپیل ڈی سی کو حاصل ہوگا جسکا فیصلہ حتمی ہو گا۔ اور یہ فیصلہ کسی بھی عدالت بشمول ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں ہوگا۔ یہ آئین اور قانون سے متصادم اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے اور سب سے اہم خبر یہ ہے کہ آج ہم نے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ اس کو ہائی کورٹ میں بہت جلد چیلنج کرکے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔
copied

فاٹا لا ئرز میٹنگ ۔قبائلی اضلاع میں نیا جرگہ سسٹم قانون سے متصادم۔ہر ضلع میں ؤکلاء کی میٹنگ منعقد کرنے کا فیصلہ۔اگلے ھفت...
22/01/2020

فاٹا لا ئرز میٹنگ ۔
قبائلی اضلاع میں نیا جرگہ سسٹم قانون سے متصادم۔
ہر ضلع میں ؤکلاء کی میٹنگ منعقد کرنے کا فیصلہ۔
اگلے ھفتے ہائ کورٹ بار پشاور پاور شو ہوگی۔
ہر ضلعے کا صدر و کابینہ شریک ہوگا۔
صدر مہمند بار و خیبر بار نے خطاب کیا۔
پختونخوا بار کونسل کو اس بارے میں اگاہ کیا جاے گا۔
متفقہ طور پر Alternative Dispute Resolution ایکٹ کی مذمت کی گئی۔
پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ۔
عوامی مہم چلانے کا فیصلہ۔
ہر ضلع میں واک کا اعلان۔

Meeting of FATA Lawyers regarding New Local Government Bill.
22/01/2020

Meeting of FATA Lawyers regarding New Local Government Bill.

Newly Cabinet of District Mohmand Bar
10/07/2019

Newly Cabinet of District Mohmand Bar

تاج محل آفریدی ڈسٹرکٹ بار خیبر کے صدر منتخب ہو گئے ۔پہلی بار جمہوری انداز میں انتخابات کا عمل مکمل ہو گیا ہے ۔منتخب کابی...
06/05/2019

تاج محل آفریدی ڈسٹرکٹ بار خیبر کے صدر منتخب ہو گئے ۔پہلی بار جمہوری انداز میں انتخابات کا عمل مکمل ہو گیا ہے ۔منتخب کابینہ میں دیگر عہدیداروں میں نائب صدر جمال خان جنرل سیکرٹری فاروق رشید جائنٹ سیکرٹری ظفرواللہ فنانس سکرٹری ادسلان پریس سیکرٹری لیاقت خان لائبریرین فہیم خان
آیگزیکٹیو ممبز جنید شنواری محمد صدیق محمد سلیم اور جمشید خان منتخب ہو ئے الیکشن کمیشن کی نگرانی اسد خان ایڈوکیٹ گلاب شاہ ۔ ایڈوکیٹ اور حبیب الرحمان صاحب نے انجام دی ہے۔ copied

Address

Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when FATA Lawyers Forum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share