Advocate Sher Hyder Khan

Advocate Sher Hyder Khan Advocate High Court
M.A, LL.B (Hons), ICP Pesh
LL.M (I-L), IIU ISL
MBA Uni. of Pesh
PGD Taxation Laws

سول سروسز کے مقدمات کے ساتھ ساتھ اللہ کے فضل و کرم سے پیرا ملیٹری سروسز میں اہم کامیابی اور چترال سکاوٹس کے ایک نوجوان ک...
29/05/2026

سول سروسز کے مقدمات کے ساتھ ساتھ اللہ کے فضل و کرم سے پیرا ملیٹری سروسز میں اہم کامیابی اور چترال سکاوٹس کے ایک نوجوان کے کیس میں عدالت کا IG ایف -سی سے جواب طلب...

عنایت الرحمٰن نائیک 142، ونگ چترال سکاوٹس میں پچھلے 19 سالوں سے خدمات انجام دے رہا تھا۔ سائل کو اچانک کمانڈنٹ چترال سکاوٹس کے لیٹر نمبر 205/65 // 01 / Warning مورخہ 104 10-2026 کے ذریعے مطلع کیا گیا کہ اسے مورخہ 2026-01-26 کو کور آرڈر پارٹ 2 نمبر 13/2026 کے تحت نوکری سے برخاست کیا گیا ہے۔

سائل نے مذکورہ حکام کے دروازے کئی مہینوں تک دستک دی لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی اور محکمے کے اس رویے سے انتہائی ناامید ہو کر میرے وساطت سے مذکورہ حکم کے خلاف ذیل گزارشات کی بنیاد پر سروس اپیل دائر کردی۔

1- انکوائری نہیں ہوئی:

سائل کو برطرفی سے قبل نہ تو کوئی شوکاز نوٹس دیا گیا اور نہ ہی چارج شیٹ ملی اور نہ ہی کسی انکوائری افسر کے سامنے پیش ہونے کا موقع دیا گیا۔ سائل کو اپنے دفاع کا حق بھی نہیں دیا گیا۔ جو کہ سول سرونٹ Efficiency اینڈ ڈسپلن رول 2020 5-Rule اور آئین پاکستان کے آرٹیکل AIO کی صریح خلاف ورزی ہے۔

2- الزام بے بنیاد ہے:

حکم میں لگایا گیا سرحد پار اسمگلنگ کا الزام بالکل غلط اور بے بنیاد ہے سائل نے کبھی بھی کوئی غیر قانونی سرگرمی نہیں کی محکمہ کے پاس اس الزام کا کوئی ثبوت، گواہ، ویڈیو تصویر یا بر آمدگی موجود نہیں ہے ۔ اور نہ ہی موقع پر رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ یہاں یہ وضاحت کرنا بھی ضروری ہے کہ میر 1421 ونگ چترال سکاوٹس چار باغ خیبر سے چترال ارسون جانے کے 8 ماہ بعد سائل پر سرحد پار سمگلنگ کا بے بنیاد الزام لگایا گیا ہے۔ محض شک کی بنیاد پر سزاد ینا قانون اور انصاف کی منافی ہے۔

3- طریقہ کار غیر قانونی:

اگر واقعی انکوائری ہوئی تھی تو اس کی کوئی رپورٹ گواہوں کے بیان یا سائل کا جواب ریکارڈ موجود ہونا چاہیے ۔ سائل کو آج تک ایسی کسی کاروائی سے آگاہ نہیں کیا گیا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کاروائی یکطرفہ اور بد نیتی پر مبنی ہے۔

4- سروس ریکارڈ صاف ہے:

سائل کی 19 سال سے زائد سروس بے داغ ہے کوئی سزا یا وار ننگ پہلے نہیں ہوئی۔ سائل اپنے والدین بیوں بچوں کا واحد کھیل ہے اور اس غیر قانونی برطرفی سے سائل کا معاشی قتل ہو گیا ہے.

سائل کی طرف سے میرے دلائل سننے کے بعد فیڈرل سروس ٹربیونل اسلام آباد نے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلے تاریخ کے لئے جواب طلب کر لیا۔

شیــــــرحیــــــدر خـان
ایڈوکیــــــٹ ہائی کورٹ
TF-194 Deans Trade Centre Peshawar
03369377022

چیف جسٹس جناب محمد عتیق شاہ اور جسٹس محمد اعجاز خان صابی پر مشتمل بنچ نے (چترال گرمچشمہ دوراہ پاس روڈ ) کی تعمیر کے سلسل...
01/05/2026

چیف جسٹس جناب محمد عتیق شاہ اور جسٹس محمد اعجاز خان صابی پر مشتمل بنچ نے (چترال گرمچشمہ دوراہ پاس روڈ ) کی تعمیر کے سلسلے میں وفاقی حکومت کو ہر صورت گرمچشمہ کے غیور عوام کو سڑکوں کی بنیادی سہولت مہیا کرنے کی حکم ۔

سابقہ صوبائی وزیر و ایم-پی-اے چترال جناب سلیم خان صاحب نے شیرحیــــــدر خان ایڈوکیٹ کی وساطت سے وفاقی حکومت اور این-ایچ-اے کے (چترال گرمچشمہ دوراہ پاس روڈ 82.5 کلومیٹر) کی تعمیر کو وفاقی پی ایس ڈی پی برائے سال2025-2026 میں شامل نہ کرنے کے اقدام کو پشاور ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن کے ذریعے چیلنج کئے تھے جس میں وفاقی حکومت نے گرمچشمہ روڈ کی تعمیر میں خصوصی دلچسپی دکھائی۔ جس کی واحد کریڈٹ سلیم خان صاحب کو جاتا ہے جس نے اپنے علاقے کے فلاح و بہبود کے نہ صرف حکومت کے دروازے کھٹکھٹائیے بلکہ جہاں اپنے علاقے کے عوام کے ساتھ ناانصافی دیکھی عدالت عالیہ سے بھے رجوع کئے.

جناب سلیم خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کسی بھی علاقے کی ترقی میں سڑکیں (روڈ نیٹ ورک) کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف آمد و رفت کو آسان بناتی ہیں بلکہ اقتصادی، سماجی اور تعلیمی ترقی کے دروازے بھی کھولتی ہیں۔ اگر کسی علاقے میں اچھی سڑکیں نہ ہوں تو ترقی کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ خراب راستے کاروبار، تعلیم، صحت، اور عام زندگی پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔ اس لیے ترقی یافتہ ممالک ہمیشہ اپنے روڈ نیٹ ورک پر خصوصی توجہ دیتے ہیں تاکہ پورے ملک میں ترقی یکساں طور پر پھیل سکے۔
ترقی یافتہ ممالک کے معاشی حجم کو بہت لوگ جانتے ہوں، جدید دنیا میں عمارات اور شاہرات کو ہی ترقی کا پیمانہ قرار دیا جاتا ہے۔ امریکہ، یورپ، چین اور عرب ممالک آسمان کو چھوتی عمارات بنا کر اپنی ترقی کا اعلان کر رہے ہیں۔ اس سفر میں پاکستان کہاں کھڑا ہے اس کا اندازہ لگانے کیلئے ہمارے وہ اکثریتی علاقے ہی کافی ہیں جہاں پر آج بھی لوگوں کو پختہ روڈ کی سہولت میسر نہیں ہے، پاکستان کا اکثریتی علاقہ دیہی آبادی پر مشتمل ہے جہاں پر بارش آ جائے تو کئی کئی دن تک نظام زندگی مفلوج رہتا ہے، ایسے علاقوں میں جب کوئی عوامی نمائندہ جاتا ہے تو عوام کی سب سے بڑی ڈیمانڈ پختہ روڈ ہوتی ہے، جن علاقوں میں معمولی نوعیت کا انفراسٹرکچر موجود تھا وہاں پر ہونے والی حالیہ بارشوں نے تباہی مچا دی ہے، لوگوں کو سر چھپانے کی جگہ تک دستیاب نہیں ہے۔

چترال-گرمچشمہ-دوراہ پاس روڈ (82.5 کلومیٹر) چترال لوئر کو وسطی ایشیا سے منسلک کرنے کی ایک واحد روٹ ہے، جو کہ حکومت نے ہمیشہ چترال کے علاقے میں انفراسٹرکچر کو نظر انداز کیا ہے جو کہ شہریوں کی بنیادی ضروریات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں درج ہے، کہ ہر شہری کو ملک بھر میں سفر کرنے کے لیے مناسب محفوظ راستہ فراہم کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے اور اس لیے یہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کہ وہ عوام کو سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی مناسب سہولیات فراہم کرے۔

مزید سلیم خان صاحب نے موجودہ رٹ پٹیشن میں استدعا کی ہے جوانھوں نے کئی سالوں کی جہدو جہد سے اس روڈ کی تعمیراور گرم چشمہ کے عوام بنیادی ضرورت کے لئے کئی وفاقی اداروں کے دروازوں پر دستک دی ہیں جس کے نتیجے میں وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام برائے 2017-2018 سے (چترال-گرمچشمہ-دوراہ پاس روڈ 82.5 کلومیٹر) کی تعمیر کے لئے ٹنڈز بھی جاری کئے تھے جو کہ بعد ازاں ایک غیر قانونی طریقے سے منسوخ کی گئی۔

اقتصادی طور پر، چترال گرم چشمہ- دوراہ پاس روڈ تجارت کے لئے نہ صرف پاکستان بلکہ بدخشاں، سمرقند اور دیگر ایشیائی شہروں کے تاجروں ایک شگون ہے اور اس علاقے میں سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ پاس چترال میں معاشی تبادلے اور ثقافتی تعامل کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے لائف لائن کا کام کرے گا۔ یہ تجارتی راستہ خطوں کو جوڑنے اور سامان، آئیڈیاز اور ثقافتی طریقوں کے بہاؤ کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کریگا۔ اس راستے سے اشیاء اور علم کے تبادلے سے خطوں کی خوشحالی اور ثقافتی خوشحالی میں نمایاں مدد ملے گی۔

پاکستان، چترال گرم چشمہ- دوراہ پاس روڈ سے بہت فائدہ اٹھا سکتا ہے کیونکہ چترال کے ساتھ اس کے شمالی پہاڑی علاقے کے ذریعے پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو ملانے والا ایک بہترین تجارتی راستہ فراہم کرتا ہے۔ اس سے پاکستان کو خطے میں مضبوط کرنے اور بھارت کے منصوبے کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔ پاکستان کا وسطی ایشیا سے رابطے کی وجہ سے قدرتی معدنی وسائل سے فائدہ اٹھانے میں مدد ملے گی ۔ تاہم اس کوریڈور سے پاکستان کو افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیائی ممالک اور روس کو متبادل راستہ ملے گا۔ ممکن ہوا تو پاکستان اربوں ڈالر کی وسطی ایشیائی ریاستوں کی بڑی منڈیوں سے براہ راست رابطہ کر لے گا۔ جو کہ ہمارے آنے والے نسلوں کے لئے چترال اس خطے میں معاشی طور ایک مستحکم علاقہ ثابت ہو گا۔

شفیق احمد برخستگی کے 1 سال بعد محکمہ نادرا میں بطور جونیئر ایگزیکٹو افیسر عدالت کے حکم پر بحال۔۔۔شفیق احمد چنکہ 2013 میں...
27/01/2026

شفیق احمد برخستگی کے 1 سال بعد محکمہ نادرا میں بطور جونیئر ایگزیکٹو افیسر عدالت کے حکم پر بحال۔۔۔

شفیق احمد چنکہ 2013 میں نادرا میں بطور جونیئر ایگزیکٹو افیسر بھرتی ہوا تھا جس کی ملازمت میں وقتا فوقتا توسیع محکمہ نادرا کی جانب سے کی گئی جو کہ 13 سال تک ایک بہترین سروس سرانجام دینے کے بعد ان کی ملازمت مزید پانچ سال کے لیے یعنی 2024 تا 2029 توسیع کر دی گئی۔ چونکہ ابھی توسیع کے چھ ماہ نہیں گزرا تھا بغیر کسی جواز اور شوکاز نوٹس اور سنوائی کے اسے ملازمت سے برخاست کیا گیا جو کہ اپنے محکمہ ھذا کو درخواست اور جناب چیئرمین نادرا کے نام اپیلیں جمع کرائی مگر اس کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

بالاخر شفیق احمد محکمہ نادرا کے اس روئے سے انتہائی مایوس ہو کر میرے پاس ایا۔ اس کی فائل مطالعہ کرنے کے بعد اسے یقین دلایا کہ اپ کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے اور اپ ایک ایماندار اور محنتی شخص ہیں اور اس کے لیے میں نے عدالت حضور پشاور میں مقدمہ جاری دائر کیا جو کہ محض صرف چھ ماہ کے قلیل مدت میں اس کے حق میں فیصلہ ہوا۔

عدالت حضور نے نہ صرف شفیق احمد کو اپنے عہدے پر بحال کیا بلکہ محکمہ ہذا کی ٹرمینیشن لیٹر کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے اسے بنیادی انسانی حقوق کے منافق قرار دے کر اس کے تمام تر مراعات بھی اس سے دینے کی حکم عطا فرمائی۔

شیرحیــــــدر خـان
ہائی کورٹ ایڈوکیــــــٹ

خوشخبری برائے تمام صوبائی AT اور TT درخواست دھندہگان، جن کو دائریکٹریٹ اف ایلیمنٹری ایند سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ا...
22/01/2026

خوشخبری برائے تمام صوبائی AT اور TT درخواست دھندہگان، جن کو دائریکٹریٹ اف ایلیمنٹری ایند سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک غیر آئینی اور غیر قانونی حکم نامے مورخہ 9 جنوری 2026 کے ذریعے B.Ed کے 15 نمبرات سے محروم رکھا گیا تھا۔

اللہ کے فضل و کرم اور میری لیگل ٹیم کی انتھک محنت سے پشاور ہائی کورٹ کے جج صاحبان جسٹس جناب صلاح الدین اور جسٹس جناب قاضی جواد احسان نے مورخہ 21 جنوری 2026 کو مذکورہ حکم نامہ کلعدم قرار دیکر منسوخ فرمائی۔

یقینا یہ فیصلہ تمام تر AT اور TT اساتذہ اکرام جو محکمے کے اس غلط پالیسی کی وجہ سے میرٹ سے محروم ہوگئے تھے وہ اپنی مذکورہ 15 نمبرات برائے B.Ed دوبارہ سے کلیم کر سکتے ہیں۔

شیر حیدر خان
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

15 سال سے کم سروس والے نجی ملازمین ای او بی آئی کے اہلوفاقی آئینی عدالت نے ای او بی آئی کی دائر تمام اپیلیں خارج کر دیں،...
11/01/2026

15 سال سے کم سروس والے نجی ملازمین ای او بی آئی کے اہل

وفاقی آئینی عدالت نے ای او بی آئی کی دائر تمام اپیلیں خارج کر دیں، چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ کا فیصلہ

ساڑھے 14 سال سروس مکمل کر نیوالے نجی اداروں کے ملازمین پنشن کے حقدار ہونگے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار

اسلام آباد ( آئی این پی) نجی اداروں کے ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری آگئی ہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے ان کے حق میں بڑا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے ای او بی آئی کو پرائیویٹ اداروں کے ملازمین کو اولڈ ایج پنشن کا حکم دیتے ہوئے تمام درخواست گزاروں کو ماہانہ اولڈ ایچ پیشن ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے ای او بی آئی کی جانب سے اس حوالے سے دائر تمام اپیلیں خارج کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے 2024 اور 2025 کے فیصلے برقرار رکھتے ہوئے 15 سال سے کم مگر ساڑھے 14 سال سروس مکمل کرنے والے تمام ملازمین کو اولڈ ایج پنشن کا حقدار قرار دیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جاری کیا۔ آئینی عدالت کے اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سروس کے 6 ماہ یا زائد عرصے کو پورا ایک سال تصور کیا جائے گا۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے درست ہیں، اس میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ۔ شیڈول کو قانون کا لازمی حصہ قرار دیتے ہیں۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ای او بی آئی کا 2022 کا سرکلر پنشن کے حق کو متاثر نہیں کر سکتا۔ فلاحی قانون کی سخت تشریح سے پنشن سے محروم کرنا نا انصافی ہے۔ ساڑھے 14 سال سے زائد سروس مکمل کرنے والے 15 سال مکمل تصور ہوں گے۔ پنشن کے معاملے میں رانڈنگ آف کا اصول لاگو ہوگا۔

شیر حیدر خان ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

فنگر پرنٹس کی تصدیق میں پیش آنے والی مشکلات اب ماضی بن گئیں۔ نادرا نے شہریوں کی سہولت کے لیے چہرے کی شناخت (Facial Recog...
07/01/2026

فنگر پرنٹس کی تصدیق میں پیش آنے والی مشکلات اب ماضی بن گئیں۔ نادرا نے شہریوں کی سہولت کے لیے چہرے کی شناخت (Facial Recognition) پر مبنی جدید بائیومیٹرک تصدیقی نظام متعارف کرا دیا ہے۔

نادرا کے مطابق اس نئی سہولت کے آغاز کے بعد وہ شہری، بالخصوص بزرگ افراد، معذور اشخاص اور طبی مسائل (جیسے انگلیوں کے نشانات مٹ جانا، جل جانا یا کمزور ہونا) کا شکار افراد، جو فنگر پرنٹس کے ذریعے تصدیق نہیں کروا پاتے تھے، اب باآسانی اپنی شناخت کی تصدیق کروا سکیں گے۔

یہ جدید نظام چہرے کے خدوخال کی مدد سے شناخت کو یقینی بناتا ہے، جس سے نہ صرف تصدیقی عمل تیز، محفوظ اور قابلِ اعتماد ہو گیا ہے بلکہ عوام کو دفاتر کے چکر لگانے اور بار بار ناکام تصدیق کے مسائل سے بھی نجات ملے گی۔

نادرا حکام کے مطابق یہ اقدام ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد شہریوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا اور
شناختی نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

لیوی اہلکاروں کی ریٹا ئرمنٹ کی عمر 45 سال کرنے کا فیصلہ کا لعدمخیبر پختونخوا سروسز ٹربیونل نے ملاکنڈ ڈویژن کے لیوی اہلکا...
07/01/2026

لیوی اہلکاروں کی ریٹا ئرمنٹ کی عمر 45 سال کرنے کا فیصلہ کا لعدم

خیبر پختونخوا سروسز ٹربیونل نے ملاکنڈ ڈویژن کے لیوی اہلکاروں کی اپیلیں منظور کر کے ملازمت پر بحال کر دیا

پشاور (نیوزرپورٹر) خیبر پختونخوا سروسز ٹریبونل نے ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے لیوی سپاہیوں کی پوسٹ پر کام کر نیوالے لیویز اہلکاروں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 45 سال کرنے کیخلاف دائر اپیلیں منظور کرتے ہوئے اس ضمن میں صوبائی حکومت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا اور ان اہلکاروں کو ملازمت پر بحال کر دیا کیس کی سماعت ممبر ان سروسز ٹربیونل زیبا رشید اور جنت گل آفریدی نے کی۔ درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے سابقہ فاٹا کو خیبر پختون خوا میں ضم کیا اور ان کے خاصہ داروں جو کہ فیڈرل لیویز اہلکار تھے کو پولیس میں ضم کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی انکی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال گئی تاہم صوبے کے زیر انتظام پاٹا کے لیویز اہلکاروں کیلئے ریٹائرمنٹ کی حد سپاہی کی حیثیت سے 45 سال مقرر کر دی گئی اور 2021 میں یہ قرار دیا گیا کہ جو بھی سپاہی 45 سال کی عمر تک پہنچے گا وہ ریٹائر ڈ ہوگا تاہم اگر وہ ترقی کرے گا تو انہیں مزید توسیع دی جائے گی ۔ مزید یہ کہ اس ضمن میں جو رولز 2021 میں بنائے گئے ہیں وہ ماورا آئین اور قانون ہے انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ سابقہ فاٹا میں ملازمین کو 60 سال کی عمر تک نوکری کی اجازت تو دی گئی تاہم صوبائی پاٹا میں ایسا نہیں کیا گیا اور یہ ان کے ساتھ زیادتی ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ 2021 میں ابتدائی طور پر 42 سال عمر کی حد بحثیت سپاہی مقرر کی گئی جسے بعد میں ترمیم کے ذریعے 45 سال کر دیا گیا حالانکہ یہ عمر دیگر محکموں کی طرح 60 سال ہونی چاہیئے کیونکہ یہ اب سول سرونٹ کے زمرے میں آتے ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ٹریبونل پہلے ہی متعدد لیویز اہلکاروں کو ملازمت پر بحال کر چکی ہے لہذا ان کو بھی اسی بنیاد پر منظور کیا جائے عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر 130 اپیلیں منظور کر لیں اور لیویز اہلکاروں کی 45 سال کی عمر میں سپاہی کی حیثیت سے ریٹائرمنٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا

عالم زیب خان چار سال بعد اپنی ملازمت پر بحال۔۔۔ عالم زیب خان محکمہ ایریگیشن میں بحیثیت کلاس فور 2011 میں بھرتی ہوا تھا ا...
01/01/2026

عالم زیب خان چار سال بعد اپنی ملازمت پر بحال۔۔۔

عالم زیب خان محکمہ ایریگیشن میں بحیثیت کلاس فور 2011 میں بھرتی ہوا تھا اور 2021 میں چند گھریلو وجوہات کی بنیاد پر وہ اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر رہا اور اسی بنیاد پر محکمہ ایریگیشن اسے ملازمت سے برخاست کیا۔

چونکہ عالم زیب خان ایک لاچار اور بے وسہ انسان تھا جو کہ بمشکل کرایہ اکٹھا پشاور پہنچا تھا اور اس نے پشاور ہائی کورٹ کے ہیومن رائٹ سیل کو قانونی مدد فراہم کرنے کی درخواست دی تھی پشاور ہائی کورٹ کے ہیومن رائٹ سیل نے عالم زیب خان کا کیس مجھے سونپ دیا۔ کیس لینے کے بعد فائل مطالعہ کیا جو کہ ایک ٹائم بارڈ کیس تھا اور اسی طر ح خیبر پختونخوا سروس ٹریبونل میں اپیل دائر کر دی اور ایک سال مسلسل جدوجہد اور کوشش کے بعد بالاخر 10 نومبر 2025 کو خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل نے عالم زیب خان کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے محکمہ ایریگیشن کے برخاستگی کے آرڈر کو کلعدم قرار دے دیا اور اس سے ملازمت پر بحال کرنے کا حکم صادر فرمایا۔

شیرحیــــــدر خـان
ایڈوکیــــــٹ ہائی کورٹ

خیبر پختونخواہ لیویز اہلکاروں کے ریٹائر منٹ ساٹھ سالہ   فارمولا بحالخیبر پختونخواہ سروس ٹربیونل نے ملازمین کے حق میں فیص...
15/12/2025

خیبر پختونخواہ لیویز اہلکاروں کے ریٹائر منٹ ساٹھ سالہ فارمولا بحال

خیبر پختونخواہ سروس ٹربیونل نے ملازمین کے حق میں فیصلہ سناتے ہوتے حکومت کے تمام تر نوٹیفکیشن کو معطل کرتے ہوئے حکم جاری فرمایا کہ لیویز اہلکاروں کو سول سرونٹس ہونے کی وجہ سے 60 سال پر ریٹائر کیا جائے گا۔

شیرحیــــــدر خان ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

07/12/2025

ریاست ماں ہوتی ہے امیر کی سگی اور غریب کی سوتیلی ۔۔۔

Address

TF-194 Deans Trade Centre
Peshawar
25000

Telephone

923369377022

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Sher Hyder Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category