Advocate Sher Hyder Khan

Advocate Sher Hyder Khan Advocate High Court
M.A, LL.B (Hons), ICP Pesh
LL.M (I-L), IIU ISL
MBA Uni. of Pesh
PGD Taxation Laws

شفیق احمد برخستگی کے 1 سال بعد محکمہ نادرا میں بطور جونیئر ایگزیکٹو افیسر عدالت کے حکم پر بحال۔۔۔شفیق احمد چنکہ 2013 میں...
27/01/2026

شفیق احمد برخستگی کے 1 سال بعد محکمہ نادرا میں بطور جونیئر ایگزیکٹو افیسر عدالت کے حکم پر بحال۔۔۔

شفیق احمد چنکہ 2013 میں نادرا میں بطور جونیئر ایگزیکٹو افیسر بھرتی ہوا تھا جس کی ملازمت میں وقتا فوقتا توسیع محکمہ نادرا کی جانب سے کی گئی جو کہ 13 سال تک ایک بہترین سروس سرانجام دینے کے بعد ان کی ملازمت مزید پانچ سال کے لیے یعنی 2024 تا 2029 توسیع کر دی گئی۔ چونکہ ابھی توسیع کے چھ ماہ نہیں گزرا تھا بغیر کسی جواز اور شوکاز نوٹس اور سنوائی کے اسے ملازمت سے برخاست کیا گیا جو کہ اپنے محکمہ ھذا کو درخواست اور جناب چیئرمین نادرا کے نام اپیلیں جمع کرائی مگر اس کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

بالاخر شفیق احمد محکمہ نادرا کے اس روئے سے انتہائی مایوس ہو کر میرے پاس ایا۔ اس کی فائل مطالعہ کرنے کے بعد اسے یقین دلایا کہ اپ کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے اور اپ ایک ایماندار اور محنتی شخص ہیں اور اس کے لیے میں نے عدالت حضور پشاور میں مقدمہ جاری دائر کیا جو کہ محض صرف چھ ماہ کے قلیل مدت میں اس کے حق میں فیصلہ ہوا۔

عدالت حضور نے نہ صرف شفیق احمد کو اپنے عہدے پر بحال کیا بلکہ محکمہ ہذا کی ٹرمینیشن لیٹر کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے اسے بنیادی انسانی حقوق کے منافق قرار دے کر اس کے تمام تر مراعات بھی اس سے دینے کی حکم عطا فرمائی۔

شیرحیــــــدر خـان
ہائی کورٹ ایڈوکیــــــٹ

خوشخبری برائے تمام صوبائی AT اور TT درخواست دھندہگان، جن کو دائریکٹریٹ اف ایلیمنٹری ایند سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ا...
22/01/2026

خوشخبری برائے تمام صوبائی AT اور TT درخواست دھندہگان، جن کو دائریکٹریٹ اف ایلیمنٹری ایند سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک غیر آئینی اور غیر قانونی حکم نامے مورخہ 9 جنوری 2026 کے ذریعے B.Ed کے 15 نمبرات سے محروم رکھا گیا تھا۔

اللہ کے فضل و کرم اور میری لیگل ٹیم کی انتھک محنت سے پشاور ہائی کورٹ کے جج صاحبان جسٹس جناب صلاح الدین اور جسٹس جناب قاضی جواد احسان نے مورخہ 21 جنوری 2026 کو مذکورہ حکم نامہ کلعدم قرار دیکر منسوخ فرمائی۔

یقینا یہ فیصلہ تمام تر AT اور TT اساتذہ اکرام جو محکمے کے اس غلط پالیسی کی وجہ سے میرٹ سے محروم ہوگئے تھے وہ اپنی مذکورہ 15 نمبرات برائے B.Ed دوبارہ سے کلیم کر سکتے ہیں۔

شیر حیدر خان
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

15 سال سے کم سروس والے نجی ملازمین ای او بی آئی کے اہلوفاقی آئینی عدالت نے ای او بی آئی کی دائر تمام اپیلیں خارج کر دیں،...
11/01/2026

15 سال سے کم سروس والے نجی ملازمین ای او بی آئی کے اہل

وفاقی آئینی عدالت نے ای او بی آئی کی دائر تمام اپیلیں خارج کر دیں، چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ کا فیصلہ

ساڑھے 14 سال سروس مکمل کر نیوالے نجی اداروں کے ملازمین پنشن کے حقدار ہونگے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار

اسلام آباد ( آئی این پی) نجی اداروں کے ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری آگئی ہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے ان کے حق میں بڑا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے ای او بی آئی کو پرائیویٹ اداروں کے ملازمین کو اولڈ ایج پنشن کا حکم دیتے ہوئے تمام درخواست گزاروں کو ماہانہ اولڈ ایچ پیشن ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے ای او بی آئی کی جانب سے اس حوالے سے دائر تمام اپیلیں خارج کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے 2024 اور 2025 کے فیصلے برقرار رکھتے ہوئے 15 سال سے کم مگر ساڑھے 14 سال سروس مکمل کرنے والے تمام ملازمین کو اولڈ ایج پنشن کا حقدار قرار دیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جاری کیا۔ آئینی عدالت کے اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سروس کے 6 ماہ یا زائد عرصے کو پورا ایک سال تصور کیا جائے گا۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے درست ہیں، اس میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ۔ شیڈول کو قانون کا لازمی حصہ قرار دیتے ہیں۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ای او بی آئی کا 2022 کا سرکلر پنشن کے حق کو متاثر نہیں کر سکتا۔ فلاحی قانون کی سخت تشریح سے پنشن سے محروم کرنا نا انصافی ہے۔ ساڑھے 14 سال سے زائد سروس مکمل کرنے والے 15 سال مکمل تصور ہوں گے۔ پنشن کے معاملے میں رانڈنگ آف کا اصول لاگو ہوگا۔

شیر حیدر خان ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

فنگر پرنٹس کی تصدیق میں پیش آنے والی مشکلات اب ماضی بن گئیں۔ نادرا نے شہریوں کی سہولت کے لیے چہرے کی شناخت (Facial Recog...
07/01/2026

فنگر پرنٹس کی تصدیق میں پیش آنے والی مشکلات اب ماضی بن گئیں۔ نادرا نے شہریوں کی سہولت کے لیے چہرے کی شناخت (Facial Recognition) پر مبنی جدید بائیومیٹرک تصدیقی نظام متعارف کرا دیا ہے۔

نادرا کے مطابق اس نئی سہولت کے آغاز کے بعد وہ شہری، بالخصوص بزرگ افراد، معذور اشخاص اور طبی مسائل (جیسے انگلیوں کے نشانات مٹ جانا، جل جانا یا کمزور ہونا) کا شکار افراد، جو فنگر پرنٹس کے ذریعے تصدیق نہیں کروا پاتے تھے، اب باآسانی اپنی شناخت کی تصدیق کروا سکیں گے۔

یہ جدید نظام چہرے کے خدوخال کی مدد سے شناخت کو یقینی بناتا ہے، جس سے نہ صرف تصدیقی عمل تیز، محفوظ اور قابلِ اعتماد ہو گیا ہے بلکہ عوام کو دفاتر کے چکر لگانے اور بار بار ناکام تصدیق کے مسائل سے بھی نجات ملے گی۔

نادرا حکام کے مطابق یہ اقدام ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد شہریوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا اور
شناختی نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

لیوی اہلکاروں کی ریٹا ئرمنٹ کی عمر 45 سال کرنے کا فیصلہ کا لعدمخیبر پختونخوا سروسز ٹربیونل نے ملاکنڈ ڈویژن کے لیوی اہلکا...
07/01/2026

لیوی اہلکاروں کی ریٹا ئرمنٹ کی عمر 45 سال کرنے کا فیصلہ کا لعدم

خیبر پختونخوا سروسز ٹربیونل نے ملاکنڈ ڈویژن کے لیوی اہلکاروں کی اپیلیں منظور کر کے ملازمت پر بحال کر دیا

پشاور (نیوزرپورٹر) خیبر پختونخوا سروسز ٹریبونل نے ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے لیوی سپاہیوں کی پوسٹ پر کام کر نیوالے لیویز اہلکاروں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 45 سال کرنے کیخلاف دائر اپیلیں منظور کرتے ہوئے اس ضمن میں صوبائی حکومت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا اور ان اہلکاروں کو ملازمت پر بحال کر دیا کیس کی سماعت ممبر ان سروسز ٹربیونل زیبا رشید اور جنت گل آفریدی نے کی۔ درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے سابقہ فاٹا کو خیبر پختون خوا میں ضم کیا اور ان کے خاصہ داروں جو کہ فیڈرل لیویز اہلکار تھے کو پولیس میں ضم کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی انکی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال گئی تاہم صوبے کے زیر انتظام پاٹا کے لیویز اہلکاروں کیلئے ریٹائرمنٹ کی حد سپاہی کی حیثیت سے 45 سال مقرر کر دی گئی اور 2021 میں یہ قرار دیا گیا کہ جو بھی سپاہی 45 سال کی عمر تک پہنچے گا وہ ریٹائر ڈ ہوگا تاہم اگر وہ ترقی کرے گا تو انہیں مزید توسیع دی جائے گی ۔ مزید یہ کہ اس ضمن میں جو رولز 2021 میں بنائے گئے ہیں وہ ماورا آئین اور قانون ہے انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ سابقہ فاٹا میں ملازمین کو 60 سال کی عمر تک نوکری کی اجازت تو دی گئی تاہم صوبائی پاٹا میں ایسا نہیں کیا گیا اور یہ ان کے ساتھ زیادتی ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ 2021 میں ابتدائی طور پر 42 سال عمر کی حد بحثیت سپاہی مقرر کی گئی جسے بعد میں ترمیم کے ذریعے 45 سال کر دیا گیا حالانکہ یہ عمر دیگر محکموں کی طرح 60 سال ہونی چاہیئے کیونکہ یہ اب سول سرونٹ کے زمرے میں آتے ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ٹریبونل پہلے ہی متعدد لیویز اہلکاروں کو ملازمت پر بحال کر چکی ہے لہذا ان کو بھی اسی بنیاد پر منظور کیا جائے عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر 130 اپیلیں منظور کر لیں اور لیویز اہلکاروں کی 45 سال کی عمر میں سپاہی کی حیثیت سے ریٹائرمنٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا

عالم زیب خان چار سال بعد اپنی ملازمت پر بحال۔۔۔ عالم زیب خان محکمہ ایریگیشن میں بحیثیت کلاس فور 2011 میں بھرتی ہوا تھا ا...
01/01/2026

عالم زیب خان چار سال بعد اپنی ملازمت پر بحال۔۔۔

عالم زیب خان محکمہ ایریگیشن میں بحیثیت کلاس فور 2011 میں بھرتی ہوا تھا اور 2021 میں چند گھریلو وجوہات کی بنیاد پر وہ اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر رہا اور اسی بنیاد پر محکمہ ایریگیشن اسے ملازمت سے برخاست کیا۔

چونکہ عالم زیب خان ایک لاچار اور بے وسہ انسان تھا جو کہ بمشکل کرایہ اکٹھا پشاور پہنچا تھا اور اس نے پشاور ہائی کورٹ کے ہیومن رائٹ سیل کو قانونی مدد فراہم کرنے کی درخواست دی تھی پشاور ہائی کورٹ کے ہیومن رائٹ سیل نے عالم زیب خان کا کیس مجھے سونپ دیا۔ کیس لینے کے بعد فائل مطالعہ کیا جو کہ ایک ٹائم بارڈ کیس تھا اور اسی طر ح خیبر پختونخوا سروس ٹریبونل میں اپیل دائر کر دی اور ایک سال مسلسل جدوجہد اور کوشش کے بعد بالاخر 10 نومبر 2025 کو خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل نے عالم زیب خان کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے محکمہ ایریگیشن کے برخاستگی کے آرڈر کو کلعدم قرار دے دیا اور اس سے ملازمت پر بحال کرنے کا حکم صادر فرمایا۔

شیرحیــــــدر خـان
ایڈوکیــــــٹ ہائی کورٹ

خیبر پختونخواہ لیویز اہلکاروں کے ریٹائر منٹ ساٹھ سالہ   فارمولا بحالخیبر پختونخواہ سروس ٹربیونل نے ملازمین کے حق میں فیص...
15/12/2025

خیبر پختونخواہ لیویز اہلکاروں کے ریٹائر منٹ ساٹھ سالہ فارمولا بحال

خیبر پختونخواہ سروس ٹربیونل نے ملازمین کے حق میں فیصلہ سناتے ہوتے حکومت کے تمام تر نوٹیفکیشن کو معطل کرتے ہوئے حکم جاری فرمایا کہ لیویز اہلکاروں کو سول سرونٹس ہونے کی وجہ سے 60 سال پر ریٹائر کیا جائے گا۔

شیرحیــــــدر خان ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

07/12/2025

ریاست ماں ہوتی ہے امیر کی سگی اور غریب کی سوتیلی ۔۔۔

خیبر پختونخواہ لیویز اہلکاروں کے ریٹائر منٹ ساٹھ سال کا پرانا فارمولا بحال۔۔۔آج مورخہ 31 اکتوبر 2025 کو خیبر پختونخواہ س...
31/10/2025

خیبر پختونخواہ لیویز اہلکاروں کے ریٹائر منٹ ساٹھ سال کا پرانا فارمولا بحال۔۔۔

آج مورخہ 31 اکتوبر 2025 کو خیبر پختونخواہ سروس ٹربیونل نے ملازمین کے حق میں فیصلہ سناتے ہوتے حکومت کے تمام تر نوٹیفکیشن کو معطل کرتے ہوئے حکم جاری فرمایا کہ لیویز اہلکاروں کو سول سرونٹس ہونے کی وجہ سے 60 سال پر ریٹائر کیا جائے گا۔

یہ فیصلہ صرف قانونی کامیابی نہیں بلکہ چترال سیمت صوبے کے دیگر اضلاع کے ہزاروں لیویز اہلکاروں اور اُن کے خاندانوں کے لیے روزگار اور معاشی استحکام کی ضمانت ہے۔

حکومت کی جانب سے لیویز اہلکاروں کو 45 سال عمر پر ریٹائرڈ کرنے کی جو کوشش کی گئی تھی، وہ اس مضبوط قانونی جدوجہد کے باعث ناکام ہوئی۔۔۔

خیبر پختونخواہ کے تمام لیویز اہلکاروں کو تہہ دل سے بہت بہت مبارک۔۔۔

شیرحیــــــدر خان ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

فیملی کورٹ تنسیخ نکاح کے مقدمے  کو بیوی کی اجازت کے بغیر خلع میں تبدیل نہیں کرسکتی عنوان: مسز ڈاکٹر سیما حنیف خان بنام و...
25/10/2025

فیملی کورٹ تنسیخ نکاح کے مقدمے کو بیوی کی اجازت کے بغیر خلع میں تبدیل نہیں کرسکتی
عنوان: مسز ڈاکٹر سیما حنیف خان بنام وقاص خان و دیگر
نمبر: C.P.L.A. 3268/2024
جج: محترمہ جسٹس عائشہ اے ملک
عدالت: سپریم کورٹ آف پاکستان

سپریم کورٹ نے اس اہم اور رہنما فیصلے میں خاندانی قوانین کے نفاذ سے متعلق چند بنیادی اصول واضح کیے۔ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ اگر کوئی خاتون Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939 (قانونِ تنسیخِ نکاح) کے تحت تنسیخِ نکاح کا دعویٰ دائر کرے تو خاندانی عدالت اس دعویٰ کو خلع کے مقدمے میں عورت کی واضح، رضاکارانہ اور باخبر رضامندی کے بغیر تبدیل نہیں کر سکتی۔

جسٹس عائشہ ملک نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ خاندانی مقدمات کی نوعیت دیوانی (Civil) ہوتی ہے، لہٰذا انہیں احتمالات کے توازن (Balance of Probabilities) کی بنیاد پر طے کیا جانا چاہیے، نہ کہ اخلاقی یا معاشرتی مفروضات پر۔

عدالت نے مزید ہدایت دی کہ خاندانی عدالتوں کے فیصلے ہمیشہ شواہد، شہادت اور قانونی اصولوں پر مبنی ہونے چاہئیں، نہ کہ روایتی مردانہ بالادستی، سماجی تعصبات یا اخلاقی پیمانوں پر۔

فیصلے میں یہ نکتہ بھی نمایاں کیا گیا کہ عدالتی زبان کا انتخاب انصاف کے معیار پر اثرانداز ہوتا ہے، اس لیے عدالتوں کو ایسے الفاظ کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے جیسے "نافرمان بیوی" یا "خود رخصت ہونے والی عورت"، کیونکہ یہ اصطلاحات عورت کی خودمختاری، مساوات اور وقار کو مجروح کرتی ہیں۔

خلاصہ:
یہ فیصلہ خواتین کے آئینی حقوق، خودمختاری اور عزتِ نفس کے تحفظ کے حوالے سے ایک سنگِ میل ہے، جس میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ خاندانی مقدمات میں عدالتوں کو تعصبات سے پاک، شواہد پر مبنی اور صنفی
حساسیت کے ساتھ فیصلے صادر کرنے چاہئیں۔

Latest Judgement of Supreme Court in Family Cases
1). Family courts cannot convert a suit for dissolution under the Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939 (DMMA) into one for khula without the wife’s clear and informed consent.

2). Family proceedings are civil in nature and must be decided on the balance of probabilities.

3). Family courts must base their judgements on reasoning which rests on evidence rather than patriarchal presumptions and notions.

4). Language shapes perception and family courts should avoid using terms such as “disobedient wife” or “self-deserting lady” which reinforce stereotypes that judge women by a moral compass rather than recognising their dignity and autonomy.
C.P.L.A.3268/2024
Mst.Doctor Seema Hanif Khan v. Waqas Khan and others
Mrs. Justice Ayesha A. Malik

ڈسٹرکٹ جوڈیشری چترال لوئر کے احتشام الحق 2 سال بعد واپس اپنے ملازمت پر بحال...احتشام الحق سکنہ دروش ڈسٹرکٹ کورٹ چترال لو...
17/10/2025

ڈسٹرکٹ جوڈیشری چترال لوئر کے احتشام الحق 2 سال بعد واپس اپنے ملازمت پر بحال...

احتشام الحق سکنہ دروش ڈسٹرکٹ کورٹ چترال لوئر 2019 میں بھرتی ہوا تھا اور 2024 میں وہ اپنی خدمات سر انجام دے رہا تھا کہ اس کے خلاف ایک محکمانہ کاروائی ہوئی اور اسے ملازمت سے برخاست کیا گیا، جس کے خلاف اس نے محکمانہ اپیل دائر لیکن بدقسمتی سے وہ بھی خارج ہوئی۔

احتشام الحق نے انتہائی مایوس ہو کر میرے پاس ایا میں نے اسے تسلی دی اور میرے وساطت سے اپنی سروس میں بحالی کے لئے خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل میں اپیل دائر کی۔

الحمداللہ محض 6 مہینے میں ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے اس غیر قانونی اقدام کو خیبرپختونخوا سروسز ٹربیونل میں دلائل سننے کے بعد مقدمے میں آئینی و بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہونے پر حکم نامے کو کالعدم قرار دیکر احتشام الحق کو واپس اپنے ملازمت پر بحال کرنے کی حکم صادر فرمائی۔

شیرحیــــــدر خـان ایڈوکیــــــٹ ہائی کورٹ

چترال کے ایک اور ہونہار طالب علم (ارشد حمید ولد حمید الرحمن سکنہ کوغوزی) پشاور ہائی کورٹ کے حکم نامے کے ذریعے لیکچرار ار...
08/10/2025

چترال کے ایک اور ہونہار طالب علم (ارشد حمید ولد حمید الرحمن سکنہ کوغوزی) پشاور ہائی کورٹ کے حکم نامے کے ذریعے لیکچرار اردو تعینات۔

پشاور ہائی کورٹ نے چترال کے ہونہار سپوت کو ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں لیکچرار اردو بھرتی کرنےکا حکم دے دیا۔

پشاور ہائی کورٹ میں گزشتہ روز ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل بنچ نے ریمارکس دیتے ہوئے درخواست گزار ارشد حمید کو لیکچرار اردو (بی پی ایس-17) بھرتی کرنے کا حکم دے دیا۔

2022 میں خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن نے ایک اشتہار کے ذریعے مختلف سبجیکٹس کے لیکچررز بھرتی کرنے کے لیے ایک اشتہار جاری کی تھی۔ ارشد حمید کوائف پر پورا اترتے ہوئے پبلک سروس کمیشن میں درخواست برائے لیکچرار اردو جمع کی تھی جو کہ مختلف مراحل پاس کرتے ہوئے میرٹ لسٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب رہا جبکہ خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن نے کچھ ٹیکنکل وجوہات کی بنیاد پر اسے صرف ایک نمبر کی وجہ سے بھرتی ہونے سے محروم کیا تھا۔

جبکہ دوسری جنانب درخواست گزار نے خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے اس اقدام کو جناب شیرحیدر خان ایڈوکیٹ ہائی کی وساطت سے پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جسے ابتدائی طور پر پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کو سارے بھرتی کا معاملہ روکنے کا حکم امتناعی جاری فرمائی تھی۔ بعد ازان وکیل درخواست گزار کے تفصیلی دلائل سنے کے بعد بروز بدھ ارشد حمید کو لیکچرار اردو بھرتی کا حقدار قرار دے کر اسے فورا ارشد حمید کے حق میں
تعیناتی کے نوتفیکینشن جاری کرنے کا حکم صادر فرمایا۔
جو کہ اللہ کے فضل و کرم سے آج 8 اکتوبر 2025 کو پبلک سروس کمیشن نے عدالت میں ارشد حمید کے حق میں لیکچرار تعیناتی کے حکم نامہ جمع کرا دیا۔

شیر حیدر خان
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
03369377022

Address

TF-194 Deans Trade Centre
Peshawar
25000

Telephone

923369377022

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Sher Hyder Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category