Legal Knowledge

Legal Knowledge Dessimination of legal knowledge as enshrined in Quran, Hadis, Fiqah, state laws; to help law students & lawyers to know the legal complications.

30/03/2025

خُفیه استخباراتی اداروں کی سیر۔

1. انٹر سروسز انٹیلی جنس (ISI)۔ آیٔی ایس ایٔی

آئی ایس آئی کسی مخصوص قانون کے تحت نہیں چلتی بلکہ یہ وزیرِاعظم اور فوج کے تحت کام کرنے والی ایک ایگزیکٹو ایجنسی ہے۔

پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے تحت اس کے آپریشنز یا عملیات کے کچھ خاص پہلو کنٹرول کیے جاتے ہیں۔

ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ایکٹ 1996 کے دفعه 54 کے تحت حکومت آئی ایس آئی کو ٹیلی فونی کالز اور پیغامات کو مانیٹر کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ 2024 میں حکومت نے باضابطہ طور پر آئی ایس آئی کو اس سیکشن کے تحت مانیٹرنگ کے اختیارات دیےهیں۔

يه قومی سلامتی کے معاملات پر انٹیلی جنس جمع کرتی هے۔
بیرونی اور داخلی خطرات کی نگرانی کرتی هے۔
انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں کرتی هے۔

فوجی اور سول قیادت کو انٹیلی جنس فراہم کرتی هے۔

2. انٹیلی جنس بیورو (IB)

آئی بی 1947 میں قائم ہوئی اور براہ راست وزیرِاعظم کو رپورٹ کرتی ہے۔
اس کے آپریشنز يا عملیات کسی مخصوص قانون کے تحت نہیں بلکہ صدر یا وزیراعظم کی ایگزیکٹو آرڈرز یعنی اجرایٔی احکام کے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔

اندرونی سلامتی کے معاملات کی نگرانی کرتی هے۔
ملک میں سیاسی و سماجی خطرات کا تجزیہ کرتی هے۔
دہشت گردوں، جرائم پیشہ عناصر اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ یا نگرانی کرتی هے۔

3. ملٹری انٹیلی جنس (MI)

یه پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے تحت کام کرتی ہے اور پاکستان آرمی کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔

فوج کے اندرونی معاملات کی نگرانی اور اندرونی خطرات کا تجزیہ کرتی هے۔
دشمن ممالک کی فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھتی هے۔
دفاعی حکمت عملی کی تشکیل کے لیے انٹیلی جنس معلومات فراہم کرتی هے۔

4. فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA)

یه فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی ایکٹ 1974 کے تحت قائم کی گئی۔
وفاقی سطح پر جرائم کی تحقیقات کرتی هے، جیسے کرپشن، انسانی اسمگلنگ، اور سائبر کرائم وغیره۔

دہشت گردی اور دیگر ریاست مخالف سرگرمیوں کی نگرانی کرتی هے۔
معاشی جرائم اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرتی هے۔

5. انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (CTD)

يه انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت قائم کیا گیا۔
دہشت گرد تنظیموں کی نگرانی اور ان کے خلاف کارروائی کرتی هے۔
ملکی اور بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھتی هے۔

دہشت گردی کے خلاف انویسٹی گیشن یاتفتیش اور تحقیقات میں دیگر ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کرتی هے۔

6. فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (FMU)

يه اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت قائم کیا گیا۔

منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت پر نظر رکھتی هے۔
مالیاتی جرائم کی تحقیقات اور انٹیلی جنس شیئر کرتی هے۔
قومی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرتی هے۔

7. انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ڈائریکٹوریٹ جنرل (DG I&I – FBR)

يه فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) قوانین کے تحت کام کرتی ہے۔
ٹیکس چوری، اسمگلنگ، اور مالیاتی بدعنوانی کی تحقیقات کرتی هے۔

غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں کی نگرانی کرتی هے۔

ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کے خلاف کارروائی کرتی هے۔

8. نیشنل کمانڈ اتھارٹی (NCA)

يه نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 کے تحت قائم کی گئی۔
پاکستان کے جوہری اثاثوں کی نگرانی اور کنٹرول کرتی هے۔

ملکی دفاعی حکمت عملی کی تشکیل میں مدد دیتی هے۔
جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات کرتی هے۔

9. بحری یا نیوی انٹیلی جنس (NI)

يه پاکستان نیوی آرڈیننس 1961 کے تحت کام کرتی ہے۔

بحری راستوں، بندرگاہوں، اور سمندری حدود کی نگرانی کرتی هے۔
غیر ملکی آبدوزوں، بحری بیڑوں، اور جاسوسی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کرتی هے۔
نیوی کے اندرونی سکیورٹی معاملات اور انسداد جاسوسی کارروائیاں کرتی هے۔

10. ایئر انٹیلی جنس (AI):

یه پاکستان ایئر فورس ایکٹ 1953 کے تحت کام کرتی ہے۔

فضائی خطرات، جیسے دشمن طیاروں اور میزائل سسٹمز کی نگرانی کرتی هے۔
اندرونی اور بیرونی انٹیلی جنس جمع کرتی هے۔
فضائی دفاعی حکمت عملی میں مدد کرتی هے۔۔

29/03/2025

ماه رنگ بلوچ کو 23 مارچ کی گرفتاری سے اب تک عدالت سے پولیس ر یمانڈ مانگے بغیر پولیس کی حراست میں رکهے رکهنا قانون کو توڑنے کے مترادف هے۔۔
پاکستانی قانون کے تحت، کسی بھی ملزم کو گرفتاری کے 24 گھنٹوں کے اندر عدالت میں پیش کرنا لازمی ہے۔

1. ضابطہ فوجداری 1898 (CrPC):
دفعہ 61: کسی بھی شخص کو بغیر وارنٹ گرفتاری کے 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرنا ضروری ہے، سفر کے وقت کے علاوہ۔

دفعہ 167(1): اگر تفتیش 24 گھنٹوں میں مکمل نہ ہو سکے تو پولیس افسر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر کے ریمانڈ کی درخواست دے سکتا ہے۔

2. پولیس رولز 1934
رول 26.1: کسی بھی شخص کو 24 گھنٹوں سے زائد پولیس حراست میں نہیں رکھا جا سکتا جب تک کہ اسے مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہ کیا جائے۔

3. ہائی کورٹ رولز اور احکامات:
(پنجاب اور سندھ ہائی کورٹ رولز، جلد III، باب 11، حصہ F)
جوڈیشل مجسٹریٹس پر لازم ہے کہ وہ دفعہ 61 ضابطہ فوجداری (Cr.p.c) کی سختی سے پاسداری کو یقینی بنائیں۔ پولیس کسی بھی تاخیر کا جواز پیش کرنے کی پابند ہے۔

4. آئینی تحفظ:
آئین پاکستان 1973 کا آرٹیکل 10(2):
ہر گرفتار شدہ شخص کو 24 گھنٹوں کے اندر عدالت میں پیش کرنا ضروری ہے، بصورت دیگر گرفتاری غیر قانونی تصور کی جائے گی۔

5. عدالتی نظایٔر :(Case Law References)

1. PLD 1998 SC 1445 (محمد اعظم کیس)
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر ملزم کو ۲۴ گھنٹوں میں پیش عدالت نه کیا تو یه غیر قانونی حراست کے مترادف ہے۔
2. 2012 SCMR 119:
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اگر کوئی پولیس افسر دفعہ 61 CrPC کی خلاف ورزی کرے تو اسے قانونی اور محکمانہ کاروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

3. PLD 2021 Lahore 344:
لاہور ہائی کورٹ نے کہا:
کہ اگر کسی شخص کو 24 گھنٹوں سے زیادہ حراست میں رکھا جائے تو یہ غیر قانونی حراست ہوگی، اور متاثرہ شخص آرٹیکل 199 کے تحت هائی کورٹ میں رٹ (Writ Petition) دایٔر کر سکتا هے۔
یا متاثره شخص یا اسے رشته داران یا کویٔی دوست یا اجنبی وغیره دفعه 491 Cr.p.c مجموعه ضابطه فوجداری کے تحت هایٔی کورٹ میں حبس بے جا کی رِٹ (Writ of Habeas Corpus) دائر کر سکتا ہے۔

6. پولیس رولز 1934 اور پولیس آرڈر 2002 میں بهی 24 گھنٹے کی حراست سے متعلق احکامات موجود هیں:-

پولیس رولز 1934
رول 26.1
کسی بھی شخص کو بغیر وارنٹ گرفتاری کے 24 گھنٹوں سے زیادہ پولیس حراست میں نہیں رکھا جا سکتا، سوائے خاص وجوہات کے۔

اگر 24 گھنٹوں سے زیادہ حراست ضروری ہو تو ملزم کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہے، اور پولیس کو تاخیر کی معقول وضاحت دینی ہوگی۔

رول 26.2
ایس ایچ او (SHO) پر لازم ہے کہ وہ گرفتاری کا صحیح وقت ریکارڈ کرے اور یقینی بنائے کہ ملزم کو 24 گھنٹوں میں رہا یا عدالت میں پیش کیا جائے۔
رول 27.3
اگر کوئی پولیس افسر 24 گھنٹوں میں ملزم کو عدالت میں پیش کرنے میں ناکام رہے تو یہ غیر قانونی حراست سمجھی جائے گی اور متعلقہ افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی ہو سکتی ہے۔

2. پولیس آرڈر 2002

آرٹیکل 32
ہر پولیس افسر پر لازم ہے کہ وہ ضابطہ فوجداری (CrPC) اور آئینی قوانین کے مطابق کام کرے اور یقینی بنائے کہ کسی بھی شخص کو بغیر عدالتی اجازت 24 گھنٹوں سے زیادہ حراست میں نہ رکھا جائے۔

آرٹیکل 44
ضلع پبلک سیفٹی کمیشن کو اختیار حاصل ہے کہ وہ پولیس کی کارروائیوں کی نگرانی کرے اور غیر قانونی حراست پر کارروائی کرے۔

آرٹیکل 155
جو بھی پولیس افسر کسی شخص کو غیر قانونی طور پر 24 گھنٹے سے زائد حراست میں رکھے گا اور اسے عدالت میں پیش نہیں کرے گا، اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے، جس میں قید کی سزا بھی شامل ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں Maintenance of Public Order (MPO) Ordinance, 1960 پولیس اور انتظامیہ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو section 3 کے تحت بغیر عدالت میں پیش کیے 24 گھنٹوں سے زائد حراست میں رکھ سکے، بشرطیکہ وہ شخص عوامی امن و امان کے لیے خطرہ ہو۔ نه که اپنا قانونی حق مانگتا هو۔۔ اور حکمران اس قانون کو انتقام لینے یا کسی کو اپنا قانونی حق پُر امن طریقے سے مانگنے والوں کے خلاف استعمال نهیں کريگا۔۔ اس بابت اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے بهی موجود هیں:-

عدالتی نظایٔر (Case Law References)

1. PLD 1997 SC 84 (جمہوری حقوق بمقابلہ ریاست)

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ MPO کا بے جا اطلاق بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اور اگر حراست بلاجواز ہو تو ہائی کورٹ آئین پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت مداخلت کر سکتی ہے۔

2. PLD 2005 Lahore 470 (عبدالرحمن کیس)

لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ MPO کے تحت گرفتاری صرف معقول وجوہات کی بنیاد پر ہونی چاہیے، اور پولیس کو کسی بھی سیاسی یا انتقامی بنیاد پر MPO کے استعمال سے روکا گیا۔

3. 2019 SCMR 1894 (عمران خان بمقابلہ ریاست)

عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ MPO کو صرف اس وقت استعمال کیا جا سکتا ہے جب واقعی کوئی شخص قومی سلامتی یا امن عامہ کے لیے خطرہ ہو۔۔

4. PLD 2023 Islamabad 78 (تحریک لبیک کیس)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ سیاسی جماعت کے کارکنوں کو MPO کے تحت بلاوجہ گرفتار کرنا غیر قانونی ہے اور ریاستی اداروں کو بنیادی حقوق کی پاسداری کرنی ہوگی۔
اسکے علاوه Cr.P.C مجموعه ضابطه فوجداری کے دفعات 107 /151 کے تحت بهی احتجاج کنندگان کو گرفتار کرسکتی هے اگر انکے احتجاج سے امن و امان کو خطره هونے کا خدشه هو۔۔ پُر امن احتجاج کنندگان پر تعزیرات پاکستان کی دفعات 141 سے 146 لاگو نهیں هوتی۔۔اور نه هی دفعه 186 اور 188 لاگو هوتی هیں۔۔
اب اگر بلوچ پُر امن احتجاج کنندگان هیں تو نه MPO 1960 لاگو هوسکتا هے اور نه هی PPC کے مذکوره دفعات۔۔ لهٰذا۔۔
اب ماهرنگ بلوچ قانون کو توڑ رهی هے یا ریاست کی پولیس؟؟؟ قانون سے هی پوچهیٔے۔۔۔

29/07/2019

The Cetificate course in Law of Evidence soon starting.

23/02/2017

Law of inheritance (Qanun e Wirasat) course starting from 1st March 2017.
Duration will be one month.
Timing 4 to 5 p.m, Daily basis except weekends.
Fee: No Fee.
Judges, Lawyers and ulema, muftis, interested candidates may apply for admission..
Abdul Hadi Adv/HC (Peshawar).
Contact: 0345-9403188, 0332-9195562..
Venue will be fixed at the students' option accessible and suitable.

16/01/2017

There are some permanent legal heirs who can never be totally excluded by other legal heirs. They are:-
Father, Mother, son, daughter, husband, wife..
Other legal heirs such as son's daughter, full sister, paternal grandfather, grandmothers, uterine brother and sister, consanguine sister, can be excluded in certain cases, viz they are not permanent heirs as the six ones mentioned above..

11/01/2017

اسلامی قانون وراثت: درس نمبر 2.

اسلام سے قبل بهی وراثت کا طریقہ رائج تها. وہ لوگ وراثت کیلیےء وارث میں نسبی ، التبنی ، اور عقد موالا ة کے رشتے کو دیکهتے تهے.. نسبی قرابت میں بهی صرف جوان مرد کو ہی ترکہ میں دیتے اور کمسن اور زنانہ محروم ہوتے.. نسبی قرابت میں خونی رشتہ دار ہی شمار ہوتے اور ان میں بهی قریب تر والا حقدار ہوتا تها.. التبنی میں لے پالک (adopted son) کو سگا بیٹا جیسا حق ملتا تها.. عقد موالات میں ایک شخس دوسرے سے عقد کرتا کہ اگر تم میرے زمے کا دیت یا جرمانہ وغیرہ ادا کروگے اس صورت میں کہ مج سے کوئ جرم واجب دیت سر زد ہو جاےء. تو بدے میں میں آپکو اپنا وارث قرار دے دونگا..

اسلام کے آنے کے ابتدائ دور میں کچ اور بهی قرابتوں کو سبب وراثت قرار دے دیا گیا. اور مندرجہ بالا کے علاوہ قرابت نکاح ، وﻷءالعتق، الحجرة، المواخاةاﻻسﻻمييه کی قرابت کو بهی سبب وراثت مانا جانے لگا.. ولاءالعتق سے مطلب اگر کویئ آقا اپنے غلام کو بغیر عوض کے آزاد کرتا اور وہ غلام بعد میں کبهی فوت ہو جاتا اور اسکے کویئ بیوہ، اولاد، اور دیگر اقارب نہ ہوتے تو پهر اس آقا کو اسکے ترکہ کا حقدار مانا جاتا.. الحجر ة میں ان رشتہ داروں کو مییت کے ترکہ میں وراثت دیتے جنہوں نے مییت کے ہمراہ حجرت کی تهی.
المواخا ةاﻻسﻻمییہ کے تحت انصار مدینہ اپنے مکہ سے آنے وآلے مہاجرین کو اپنا وارث حقیقی جیسی وراثت دیتے..

لیکن جب مکمل اسلام ظہور ہوا تو گزشتہ کیئ قرابتیں میراث کیلئے منسوخ ہویئن اور صرف نسبی قرابت ، قرابت زوجییت (نکاح) اور ولاءالعتق برقرار رہی.. احناف علماء کے نزدیک عقد موالا ة اب بهی جائز ہے بوقت ضرورت.. اور التبنی ( adoption) ، الحجر ة، اور المواخاةالاسامییہ اب وراثت کے حقدار نہیی ہے..
نوٹ: اسکو کاپی میں درج کرلیں اگر سیکهنے کا شوق ہے تو).. باقی انشآءاللہ کل پڑهینگیں.. اسلامی قانون وراثت. درس نمبر 3..

تعریف : علم وراثت فقہ کی وہ شاخ ہے جسکے ذرئیعے مییت کا ترکہ اسکے شرعی ورثا میں بحساب حصص تقسیم کرنے کا طریقہ معلوم ہو..

ارکان: وراثت کے 3 ارکان ہے..
1. مورث. 2. وارث. 3. ترکہ.

شرائیط: وراثت کے تین شرائیط ہیں.
1. مورث کی موت ہو جانا (حقیقی یا حکمی. جیسے مفقود کو قاضی کے حکم سے مردہ استقرار کیا جانا)
2. وارث کا زندہ ہونا (حقیقی یا حکمی. جیسے حمل جو مادر رحم میں ہو )
3. موانع میراث کا نہ پایا جانا.. یعنی (وارث کے ہاتوں مورث کا قتل نہ ہوا ہو.. وارث بوقت فوتگی مورث مرتد نہ ہوا هو.. وارث خود کسی کا غلام نہ هو.. وارث خود ولد زنا نہ هو.. وارث خود ولد لعان نہ هو.. وغیرہ).

علم وراثت کے سیکهنے کی اهمیت:: رسول الله (ص) نے علم وراثت کو نصف علم کہا ہے. اور تمام مسلمانوں کو اس علم کے سیکهنے پر بہت تاکید کی.. علماء کرام نے اس علم کو فرض کفایہ کہا ہے یعنی ہر گهر میں ایک شخص علم وراثت کا ماهر ہونا چاهئیے..

مییت کے اپنے ترکہ میں حقوق اربعہ یعنی چار حقوق..
1. تجہیز و تکفین بہ طریقہ اعتدال.
2. مییت کے قرضہ جات کی ادائیگی..
3. نفاذ وصییت بقیہ ترکہ کے ایک تہائ (ثلث ) سے.
4. تقسیم ترکہ مابین مستحق ورثاء بتناسب حصص مقررہ..

مییت کے ورثآء کی اقسام::
1. ذوی الفروض یا اصحاب الفرائیض. ( sharers).
2. عصبات یا عصبہ. (Residuaries or Agnates).
3..ذوی الارحام ( distant kindred or Cognates).

باقی انشاء الله کل پڑهینگیں.. اسکو کاپی میں نوٹ کرلیں.
اسلامی قانون وراثت. درس نمبر 4.

ذوی الفروض وہ ورثاء ہیں جنکے حصے قران یا حدیث میں مختص ذکر ہوے ہوں.لیکن ضروری نہیں کہ هر وقت حقدار بنیں. کبهی کبهی ایک وارث جو خود ذوی الفروض هوگا لیکن دوسرے ذوی الفروض کی موجودگی میں وہ محروم/ساقط هو جائے گا..
ذوی الفروض میں یہ لوگ هیں:-
باپ. دادا (اوپر تک). شوهر. اخیافی بهائی (مادری بهائی). اخیافی بہن.. بیوی. بیٹی. پوتی (نیچے تک). اعیانی بہن (سگی بہن). علاتی بہن (پدری بہن). ماں. دادی اور نانی..

ان مندرجہ بالا ورثاء کے احوال/ حالتیں مختلف صورتوں میں مختلف هو تی هیں..
باپ. شوهر. بیوی. ماں. بیٹی. کبهی کسی دوسرے ذوی الفروض کی وجہ سے ساقط/محروم/محجوب نہی هوتے. جبکہ انکے علاوہ مندرجہ بالا باقی ورثاء کسی دوسرے ذوی الفروض کی وجہ سے ساقط هو سکتے هیں..

باقی انشآءالله کل پڑبینگیں.. اسلام علیکم ورحمةالله وبرکته..(Abdul Hadi Advocate HC peshawar).

04/01/2017

Islamic law of Inheritance (Qanun e Warasat) online course is going to be initiated soon. Those who wants to learn may like this page.

Address

Chairman Daftar, Taj Chowk, Street#3, Shaheen Muslim Town, Near Gulbahar Peshawar
Peshawar
25000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Knowledge posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share