Saifullah Muhib Kakakhel

Saifullah Muhib Kakakhel Advocate Supreme Court of Pakistan. Offices at Peshawar & Islamabad.

پاکستانی ماں کے بیٹوں کے ساتھ زیادتی بے نقاب — گرفتاری کے بعد عدالت سے بڑی ریلیف، ضمانت پر رہائیپشاور ہائی کورٹ نے ایک ا...
28/04/2026

پاکستانی ماں کے بیٹوں کے ساتھ زیادتی بے نقاب — گرفتاری کے بعد عدالت سے بڑی ریلیف، ضمانت پر رہائی

پشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم مقدمہ میں شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے بڑا ریلیف فراہم کیا ہے، جہاں دو بھائیوں کو غلط طور پر فارنرز ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا گیا تھا۔
درخواست گزاران یحییٰ اور رشید، جو ایک پاکستانی خاتون آمنہ کے بیٹے ہیں، کو پولیس نے غیر قانونی طور پر دفعہ 14 فارنرز ایکٹ کے تحت گرفتار کیا، حالانکہ وہ نسلاً پاکستانی ہیں۔ ان کی والدہ کے پاس افغان سٹیزن کارڈ (ACC) / پروف آف رجسٹریشن (POR) ہونے کی بنیاد پر انہیں غیر ملکی ظاہر کیا گیا۔
پولیس نے نہ صرف انہیں گرفتار کیا بلکہ دباؤ ڈال کر ان سے جرم بھی قبول کروایا، جبکہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 243 کے تحت لازم قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ بعد ازاں ان کی ریویژن بھی خارج کر دی گئی۔
اس کے خلاف آرٹیکل 199 آئین پاکستان 1973 کے تحت رٹ پٹیشن دائر کی گئی، جس کی پیروی سیف اللہ محب کاکا خیل، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان نے کی۔
معزز بینچ جسٹس سید عبدالفیاض اور جسٹس سید مدثر امیر کے روبرو یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ:
درخواست گزار نسلاً پاکستانی ہیں
2015 میں پشاور ہائی کورٹ پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے کہ انہیں CNIC جاری کیے جائیں
عدالت نے واضح حکم دیا تھا کہ انہیں گرفتار، ہراساں یا ڈیپورٹ نہ کیا جائے
اس کے باوجود پولیس نے غیر قانونی کارروائی کی
⚖️ عدالت نے اپنے اہم فیصلے میں: ✔️ ٹرائل کورٹ کے فیصلے معطل کر دیے
✔️ دونوں بھائیوں (یحییٰ اور رشید) کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا
یہ فیصلہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ عدالتیں آئین اور قانون کے مطابق شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرتی ہیں اور کسی بھی غیر قانونی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
📩 شہریت، CNIC، POC یا امیگریشن کے معاملات میں رہنمائی کے لیے رابطہ کریں۔

#انصاف #پاکستان #قانون #شہریت

Job vacancies We are expanding our legal team in Peshawar and inviting applications from serious and dedicated individua...
27/04/2026

Job vacancies

We are expanding our legal team in Peshawar and inviting applications from serious and dedicated individuals who want to build their career in law.
Opportunities are available for Associate Lawyers, Internee Lawyers, Typists/Stenographers, and Receptionists. This is a professional working environment where commitment, punctuality, and passion for law are valued.

Male & Female candidates are encouraged to apply.

If you are interested in gaining practical legal experience and working in a disciplined chamber, this is the right opportunity for you.

📍 Location: Peshawar
📞 Contact / WhatsApp: 0333-1718105

الحمدللہ!آج ایک اور بڑی کامیابی — پشاور ہائی کورٹ نے مؤکلین کے حق میں اسٹے آرڈر جاری کرتے ہوئے ACC (Afghan Citizen Card)...
26/04/2026

الحمدللہ!
آج ایک اور بڑی کامیابی — پشاور ہائی کورٹ نے مؤکلین کے حق میں اسٹے آرڈر جاری کرتے ہوئے ACC (Afghan Citizen Card) اور POR (Proof of Registration) کی منسوخی کے احکامات دیے، CNIC جاری کرنے کی ہدایت کی، اور ساتھ ہی پولیس و دیگر اداروں کو مؤکلین کی گرفتاری، ہراسانی اور ڈیپورٹیشن سے روک دیا۔
آج ہم نے یہ تصدیق شدہ نقول اپنے مؤکلین کے حوالے کیں۔
مؤکلین کاپیوں میں تاخیر کی وجہ سے شدید پریشان تھے، لیکن پشاور ہائی کورٹ کے عملے نے بھرپور تعاون کرتے ہوئے بروقت نقول فراہم کیں، جس پر ہم ان کے مشکور ہیں۔
یہ صرف ایک کیس نہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے امید کی کرن ہے جو اپنے بنیادی حقوق اور شناخت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
⚖️ انصاف کے لیے جدوجہد جاری ہے۔

Alhamdulillah, bail has been granted to my client by Justice Attique Shah in a matter arising out of Section 14 of the F...
24/04/2026

Alhamdulillah, bail has been granted to my client by Justice Attique Shah in a matter arising out of Section 14 of the Foreigners Act, wherein the accused-petitioner was alleged to be residing in Pakistan without valid documentation. The Hon’ble Court, while considering the case, took into account the surrounding facts and legal position, particularly that the petitioner is married to a Pakistani citizen and has already approached the concerned authorities for grant of a Pakistan Origin Card and nationality. The Court also noted the earlier constitutional proceedings directing that no coercive action, including deportation, be taken until the petitioner’s application is decided, thereby safeguarding the unity of the family.

In view of these circumstances, the Hon’ble Court was pleased to allow the petition and grant bail, emphasizing a balanced approach between enforcement of law and protection of fundamental rights and due process. Grateful to have assisted in a matter where the law was applied with fairness, sensitivity, and a clear recognition of humanitarian considerations.

For professional assistance in:
• Citizenship & Nationality Matters
• CNIC / NICOP / Passport Issues
• Immigration & Deportation Cases
• Family Matters
• Civil or Criminal cases
• Constitutional Writ Petitions
• Administrative & Service Matters

📞 Contact us on 0333-3211211 (WhatsApp)




22/04/2026

عدالت سے اسٹے آرڈر کن لوگوں کو مل سکتا ہے؟ ⚖️
(افغان شہریوں کی جبری واپسی کے تناظر میں اہم معلومات)

Who can get a Stay Order from the Court in Pakistan? ⚖️

Many people don’t know that courts in Pakistan, especially the High Courts, can grant immediate protection (stay orders) in genuine cases to prevent injustice.

📌 Students:
If you are a student and your education is at risk — whether due to visa issues, deportation threats, or administrative problems — the court can intervene to protect your academic future and prevent loss of your academic year.

📌 Patients with Serious Illnesses:
If someone is suffering from serious medical conditions like heart disease, kidney failure, cancer, or any life-threatening illness, and is undergoing treatment in Pakistan, the court may grant a stay to ensure continuity of treatment and protection of life.

⚖️ The courts consider humanitarian grounds, fundamental rights, and urgency before granting such relief. Every case is different, but where there is genuine hardship, the law provides protection.
📩 If you or your family member is facing such a situation, legal guidance at the right time can make a critical difference.

پشاور ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے مورخہ 15 اپریل 2026 میں ایک افغان شہری کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا، جسے ف...
16/04/2026

پشاور ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے مورخہ 15 اپریل 2026 میں ایک افغان شہری کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا، جسے فارنرز ایکٹ 1946 کی دفعہ 14 کے تحت غیر قانونی قیام کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ معزز چیف جسٹس مسٹر جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے اس امر کو مدنظر رکھا کہ درخواست گزار نے ایک پاکستانی شہری سے شادی کر رکھی ہے اور پاکستان اوریجن کارڈ (POC) کے حصول کے لیے پہلے ہی عدالت سے رجوع کر چکا ہے، جس پر عدالت نے یہ ہدایت جاری کی تھی کہ اسے چھ ماہ تک یا نادرا کے حتمی فیصلے تک ڈیپورٹ نہ کیا جائے۔ ان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار ضمانت کا حقدار ہے اور اسے مناسب مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا، جس سے یہ اصول مزید مضبوط ہوتا ہے کہ ایسے افراد جن کے قانونی حقوق زیر التواء ہوں، خصوصاً شادی کی بنیاد پر، انہیں قانون اور ضابطہ کے مطابق تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

We are currently accepting applications for the following positions:​⚖️ Law Associates: Candidates with proven litigatio...
15/04/2026

We are currently accepting applications for the following positions:
​⚖️ Law Associates: Candidates with proven litigation and legal research experience.
​🎓 Internees (Fresh Law Graduates): Passionate graduates looking to gain hands-on experience in a top-tier legal environment.
​🗣️ Farsi Translator (Female): Seeking a fluent Farsi-speaking female to assist with client consultations and document translation.
​📋 Office Manager: Experienced in managing daily office operations and team coordination.
​📞 Telephone Operator: Professional individuals with excellent communication and phone etiquette.
​💻 Web Designer (Experienced): Skilled in web development, SEO, and maintaining professional digital portfolios.
​How to Apply:
Interested candidates who meet the criteria are invited to reach out via WhatsApp. Please ensure you mention the position you are applying for in your message.
​📲 WhatsApp: 0333-1718105

15/04/2026

پشاور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: پاکستانی شہریوں سے شادی کرنے والے شہزاد اور حضرت محمد کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

0333-3211211 WhatsApp

پشاور — پشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم پیش رفت میں شہزاد اور حضرت محمد کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے، جنہیں اس کے باوجود گرفتار کیا گیا تھا کہ وہ پاکستانی شہریوں سے شادی شدہ ہیں۔

یہ دونوں علیحدہ علیحدہ ضمانت کی درخواستیں معزز چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جناب جسٹس سید عتیق شاہ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر تھیں۔

درخواست گزاروں کی جانب سے سیف اللہ محب کاکاخیل، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان پیش ہوئے، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکلان کی گرفتاری نہ صرف غیر قانونی تھی بلکہ پشاور ہائی کورٹ کے پہلے سے جاری کردہ واضح احکامات کی بھی خلاف ورزی تھی۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ دونوں درخواست گزار پہلے ہی عدالت سے رجوع کر چکے تھے، جہاں عدالت نے واضح طور پر ہدایت دی تھی کہ جب تک ان کی پاکستان اوریجن کارڈ (POC) کی درخواستیں زیرِ التوا ہیں، انہیں نہ گرفتار کیا جائے اور نہ ہی ملک بدر کیا جائے۔

اس کے باوجود انہیں گرفتار کر کے فارنرز ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت مقدمات میں ملوث کیا گیا، جسے عدالت میں ایک غیر منصفانہ اور غیر قانونی اقدام قرار دیا گیا۔

دلائل سننے کے بعد معزز عدالت نے دونوں درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ شہزاد اور حضرت محمد کو فی کس ایک لاکھ روپے کے دو مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کیا جائے۔

یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عدالتیں نہ صرف قانون کی پاسداری کرتی ہیں بلکہ انسانی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھتی ہیں، خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں خاندان، شادی اور بنیادی حقوق داؤ پر لگے ہوں۔

سیف اللہ محب کاکاخیل ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر کہا کہ غیر ملکی شہریوں کے ایسے کیسز میں قانون کے مطابق کارروائی اور عدالتی احکامات کی پابندی انتہائی ضروری ہے، تاکہ کسی بھی شخص کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔

#ضمانت #انصاف

پشاور ہائی کورٹ کا اہم حکم: افغان شہریوں کو ہراساں کرنے اور افغانستان واپس بھیجنے سے روک دیا گیامکمل خبر اس لنک میں http...
12/04/2026

پشاور ہائی کورٹ کا اہم حکم: افغان شہریوں کو ہراساں کرنے اور افغانستان واپس بھیجنے سے روک دیا گیا
مکمل خبر اس لنک میں
https://tnnurdu.com/post/161786

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا تاریخی فیصلہ: پاکستان میں مستقل سکونت اور شہریت کے حصول کی خواہش​اسلام آباد – ایک انتہائی ...
12/04/2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا تاریخی فیصلہ: پاکستان میں مستقل سکونت اور شہریت کے حصول کی خواہش

​اسلام آباد – ایک انتہائی حیران کن اور غیر معمولی پیشرفت میں، ریاستہائے متحدہ امریکہ کے موجودہ نائب صدر جے ڈی وینس نے باضابطہ طور پر پاکستانی شہریت حاصل کرنے اور ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان میں مستقل سکونت اختیار کرنے کے لیے ابتدائی قانونی مشاورت شروع کر دی ہے۔ یہ خبر بین الاقوامی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں ایک بھونچال کی طرح گونجی ہے، کیونکہ کسی سپر پاور کے موجودہ اہم عہدیدار کا ایسا قدم جدید تاریخ میں بے مثال ہے۔
​ذرائع کے مطابق، نائب صدر وینس اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران یہاں کے عوام کی بے پناہ محبت، بھرپور ثقافت اور خاص طور پر ملک کے قدرتی حسن سے گہرائی تک متاثر ہوئے ہیں۔ وہ یہاں کے پُرامن ماحول اور طرزِ زندگی کے گرویدہ ہو چکے ہیں اور انہوں نے اسے اپنی زندگی کے دوسرے دور کے لیے ایک مثالی جگہ پایا ہے۔
​"مہمان نوازی" اور عوامی محبت کا اثر
​نائب صدر وینس کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صرف جذباتی نہیں بلکہ ان کی سوچ میں ایک بڑی تبدیلی کا عکاس ہے۔ دورے کے دوران، انہوں نے نہ صرف حکام سے ملاقاتیں کیں بلکہ عام پاکستانیوں سے بھی گھل مل گئے، جس نے انہیں یہاں کی زمین اور لوگوں سے جوڑ دیا۔ وہ پاکستان کی عالمی سطح پر مشہور "مہمان نوازی" سے حد درجہ متاثر ہوئے، جو ان کے لیے ایک نیا اور چونکا دینے والا تجربہ تھا۔ ایک غیر ملکی رہنما کے لیے ایسا والہانہ استقبال اور محبت نے ان کے دل میں ایک خاص جگہ بنا لی۔
​ان کا ماننا ہے کہ پاکستان ایک ایسی جگہ ہے جہاں انسانی تعلقات اور اقدار اب بھی زندہ ہیں، اور یہاں کا پُرسکون ماحول ان کے لیے ایک نیا آغاز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "پاکستان کی مٹی میں ایک عجب کشش ہے جس نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔"
​اعلیٰ قانونی مشاورت: سیف اللہ محب کاکاخیل کی خدمات
​اس پیچیدہ اور تاریخی عمل کو قانونی طور پر آگے بڑھانے کے لیے، نائب صدر وینس نے پاکستان کے ممتاز قانونی ماہر اور سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ سیف اللہ محب کاکاخیل سے رابطہ کیا ہے۔ مسٹر کاکاخیل کو بین الاقوامی شہریت، آئینی قانون اور پیچیدہ قانونی معاملات میں گہری مہارت حاصل ہے اور وہ اس سے قبل بھی کئی اہم کیسز کی کامیابی سے پیروی کر چکے ہیں۔
​نائب صدر وینس نے سیف اللہ محب کاکاخیل پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے اور انہیں اس منفرد درخواست کی قانونی بنیادیں تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ یہ مشاورت امریکہ اور پاکستان دونوں ممالک کے قوانین کے تناظر میں ہو گی، تاکہ دوہری شہریت اور دیگر متعلقہ پہلوؤں کو باریکی سے پرکھا جا سکے۔ اس قانونی عمل کے آغاز نے پاکستان کے عدالتی نظام پر بھی بین الاقوامی سطح پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
​بین الاقوامی ردعمل اور ایک نئی بحث کا آغاز
​اس خبر نے پوری دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جبکہ وائٹ ہاؤس نے ابھی تک اس پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، پاکستان بھر میں اس خبر کا بے حد خوش آئند استقبال کیا گیا ہے۔ عوامی سطح پر اس پر فخر کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ایک عالمی طاقت کے اہم عہدیدار نے پاکستان کو اپنا گھر بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
​سفارتی ماہرین کے مطابق، یہ اقدام پاکستان کی "نرم طاقت" (Soft Power) کی ایک بڑی فتح ہے اور یہ عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان صرف سیاسی چیلنجز کا سامنا کرنے والا ملک نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں کی مہمان نوازی، محبت اور پُرامن ماحول کسی کو بھی اپنی طرف متوجہ کر سکتا ہے۔
​ایک سینئر پاکستانی سفارت کار نے کہا، "یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ نائب صدر وینس نے صرف پاکستان کا دورہ نہیں کیا، بلکہ انہوں نے پاکستان کی روح کو محسوس کیا ہے۔ ان کا یہ فیصلہ ہمارے ملک کی مہمان نوازی اور یہاں کے عوام کی محبت کا ایک بہت بڑا اعتراف ہے۔"
​دنیا اب بے صبری سے دیکھ رہی ہے کہ یہ غیر معمولی درخواست قانونی مراحل کو کیسے عبور کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو صرف دو ممالک کے تعلقات پر ہی نہیں، بلکہ انسانی اقدار اور ثقافتی ہم آہنگی پر بھی ایک نیا اور روشن باب رقم کرے گی۔ مسٹر کاکاخیل کی قانونی مہارت اور نائب صدر وینس کی یہ خواہش، ایک نئی تاریخ لکھ رہی ہے
​سیف اللہ محب کاکاخیل
ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان


Address

36-C, 2nd Floor, Cantonment Plaza, Saddar Road
Peshawar
25000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saifullah Muhib Kakakhel posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Saifullah Muhib Kakakhel:

Share