28/04/2026
پاکستانی ماں کے بیٹوں کے ساتھ زیادتی بے نقاب — گرفتاری کے بعد عدالت سے بڑی ریلیف، ضمانت پر رہائی
پشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم مقدمہ میں شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے بڑا ریلیف فراہم کیا ہے، جہاں دو بھائیوں کو غلط طور پر فارنرز ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا گیا تھا۔
درخواست گزاران یحییٰ اور رشید، جو ایک پاکستانی خاتون آمنہ کے بیٹے ہیں، کو پولیس نے غیر قانونی طور پر دفعہ 14 فارنرز ایکٹ کے تحت گرفتار کیا، حالانکہ وہ نسلاً پاکستانی ہیں۔ ان کی والدہ کے پاس افغان سٹیزن کارڈ (ACC) / پروف آف رجسٹریشن (POR) ہونے کی بنیاد پر انہیں غیر ملکی ظاہر کیا گیا۔
پولیس نے نہ صرف انہیں گرفتار کیا بلکہ دباؤ ڈال کر ان سے جرم بھی قبول کروایا، جبکہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 243 کے تحت لازم قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ بعد ازاں ان کی ریویژن بھی خارج کر دی گئی۔
اس کے خلاف آرٹیکل 199 آئین پاکستان 1973 کے تحت رٹ پٹیشن دائر کی گئی، جس کی پیروی سیف اللہ محب کاکا خیل، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان نے کی۔
معزز بینچ جسٹس سید عبدالفیاض اور جسٹس سید مدثر امیر کے روبرو یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ:
درخواست گزار نسلاً پاکستانی ہیں
2015 میں پشاور ہائی کورٹ پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے کہ انہیں CNIC جاری کیے جائیں
عدالت نے واضح حکم دیا تھا کہ انہیں گرفتار، ہراساں یا ڈیپورٹ نہ کیا جائے
اس کے باوجود پولیس نے غیر قانونی کارروائی کی
⚖️ عدالت نے اپنے اہم فیصلے میں: ✔️ ٹرائل کورٹ کے فیصلے معطل کر دیے
✔️ دونوں بھائیوں (یحییٰ اور رشید) کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا
یہ فیصلہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ عدالتیں آئین اور قانون کے مطابق شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرتی ہیں اور کسی بھی غیر قانونی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
📩 شہریت، CNIC، POC یا امیگریشن کے معاملات میں رہنمائی کے لیے رابطہ کریں۔
#انصاف #پاکستان #قانون #شہریت