06/07/2026
اہم فیصلہ | پشاور ہائی کورٹ
پشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قابلِ ادائیگی چیک (Cheque) کے حوالے سے Negotiable Instruments Act, 1881 کی دفعہ 118 کے تحت ابتدا میں یہ قانونی مفروضہ ضرور قائم ہوتا ہے کہ چیک کسی جائز مالی ذمہ داری کے عوض جاری کیا گیا ہے، لیکن یہ مفروضہ حتمی نہیں بلکہ قابلِ تردید (Rebuttable) ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر مدعا علیہ ایک معقول اور قابلِ اعتماد دفاع پیش کر دے، مثلاً یہ مؤقف اختیار کرے کہ چیک بطور سیکیورٹی یا کسی اور مقصد کے لیے دیا گیا تھا، تو پھر صرف چیک پیش کرنا کافی نہیں رہتا۔ ایسی صورت میں مدعی پر لازم ہے کہ وہ اصل مالی لین دین، قرض، شراکت داری یا واجب الادا رقم کو آزاد اور ٹھوس شواہد مثلاً معاہدے، حسابات، کاروباری ریکارڈ یا دیگر دستاویزی ثبوت کے ذریعے ثابت کرے۔
مذکورہ مقدمہ میں مدعی مبینہ مشترکہ کاروبار اور 1 کروڑ 51 لاکھ روپے کی واجب الادا رقم ثابت کرنے کے لیے کوئی قابلِ اعتماد دستاویزی ثبوت پیش نہ کر سکا، جس پر عدالت نے قرار دیا کہ صرف چیک کی بنیاد پر ڈگری نہیں دی جا سکتی۔ نتیجتاً اپیل مسترد کرتے ہوئے ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔
یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ چیک اگرچہ ابتدائی قانونی مفروضہ پیدا کرتا ہے، لیکن جب اس مفروضے کو مؤثر دفاع کے ذریعے ختم کر دیا جائے تو اصل مالی ذمہ داری کو مضبوط شواہد سے ثابت کرنا مدعی کی قانونی ذمہ داری ہے۔
Judgment approved for reporting.
Counsel for respondent Muhammad Arif Firdous Muhammad Arif Ferdous Advocate
Appeal dismissed.
Article 129 c of the Qanoon shahdat.
Section 118 of the Negotiable instruments Act.