11/08/2026
*نکاح نامے کی 4 کاپیاں اور ان کی حیثیت*
نکا ح نامہ (نکاح فارم) چار پرتوں (copies) میں تیار کیا جاتا ہے، جیسا کہ ویسٹ پاکستان رولز انڈر دی مسلم فیملی لاز آرڈیننس ۱۹۶۱ کے رول ۱۰ میں واضح ہے۔ ان کی تفصیل عام طور پر یوں ہے:
ایک پرت اصل رجسٹر میں نکاح رجسٹرار کے پاس محفوظ رہتی ہے (official record / register copy)۔
دوسری پرت دلہن (لڑکی) کو دی جاتی ہے۔
تیسری پرت دولہا (لڑکا) کو دی جاتی ہے۔
چوتھی پرت متعلقہ یونین کونسل / میونسپل کمیٹی کو بھیجی جاتی ہے۔
کس پرت کو Presumption of Truth حاصل ہے؟
صرف وہ پرتیں جو سرکاری/آفیشل کسٹڈی میں رہتی ہیں ان پر presumption of truth (صحت کی مفروضہ) لاگو ہوتی ہے۔ یعنی:
رجسٹر میں محفوظ اصل پرت (جو نکاح رجسٹرار کے پاس رہتی ہے)، اور
یونین کونسل کو بھیجی گئی پرت۔
یہ دونوں عوامی دستاویزات (public documents) ہیں، اس لیے عدالت انہیں بذاتِ خود سچ مان سکتی ہے جب تک کہ مضبوط ثبوت سے انہیں غلط ثابت نہ کیا جائے۔
دلہا اور دلہن کے پاس والی دو پرتیں (پارٹی کاپیز) پر automatic presumption of truth حاصل نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہ نجی افراد کے پاس ہوتی ہیں، اس لیے ان میں ترمیم، اضافہ (جیسے مہر بڑھانا/کم کرنا یا شرائط ایڈ کرنا) یا حذف کا امکان موجود رہتا ہے۔ اس لیے اگر کوئی پارٹی صرف اپنی کاپی پیش کرے تو عدالت اسے foregone conclusion نہیں مانتی۔
تنازع کی صورت میں طریقہ کار
اگر پارٹیز کے درمیان ڈسپیوٹ ہو اور کوئی صرف پارٹی کاپی (نمبر دو یا تین) پیش کرے تو عدالت لازمی طور پر آفیشل کاپیز (رجسٹر والی اور یونین کونسل والی) سے موازنہ (compare) کروا سکتی ہے/کروائی جاتی ہے۔ کئی فیصلوں میں یہ اصول دہرایا گیا ہے کہ پارٹی کاپیوں پر محض انحصار نہیں کیا جا سکتا جب تک آفیشل ریکارڈ سے تصدیق نہ ہو۔
متعلقہ فیصلہ (آپ کا حوالہ)
۲۰۲۱ لاہور ہائی کورٹ (صفحہ ۹۳۸۵)، وہ درست ہے۔ یہ Ejaz Iqbal v. Additional District Judge etc. (Writ Petition No. 3075/2021) ہے، جس میں جسٹس انوار حسین نے واضح کیا:
نکاح نامہ چار پرتوں میں ہوتا ہے۔
دوسری اور تیسری پرت (جو پارٹیز کے پاس ہوتی ہیں) میں ترمیم کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔
چوتھی پرت (یونین کونسل والی) یا رجسٹر میں محفوظ اصل پرت ہی وہ دستاویز ہے جس پر presumption of truth حاصل ہے۔
یہ آفیشل کسٹڈی میں رہتی ہیں اس لیے ان پر صحت کی مفروضہ لاگو ہوتی ہے۔
اس اصول کی تائید سینکڑوں فیصلوں میں ہو چکی ہے، اور سپریم کورٹ سمیت اعلیٰ عدالتوں نے بھی نکاح نامہ کو عوامی دستاویز قرار دیتے ہوئے اس کی اندراجات پر مضبوط presumption of truth تسلیم کی ہے—لیکن یہ presumption بنیادی طور پر آفیشل کاپیز تک محدود ہے۔
خلاصہ: چاروں پرتیں برابر نہیں ہیں۔ صرف آفیشل ریکارڈ والی پرتیں (رجسٹر اور یونین کونسل) presumption of truth رکھتی ہیں اور عدالت انہیں سچ مان سکتی ہے۔ پارٹی کاپیز کو ان کے ساتھ موازنہ کرانا ضروری ہوتا ہے، خاص طور پر جب کوئی ترمیم یا تنازع ہو۔
nama 4 copies, presumption of truth nikahnama, copy 1 and 4 legal, 2021 pld 9385 lahore high court, which nikah nama copy is valid