Syed Majeed Shah Bacha advocate

Syed Majeed Shah Bacha advocate legal consultant/ Moderator// legal advisor Deal all kinds of cases Family civil criminal do contact whatupp 03139009924 Justice through legal education

14/08/2026

پشاور ہائیکورٹ نے نوشہرہ سے لاپتہ شخص اول زادین کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ڈی پی او کو وائرل ویڈیو کی روشنی میں تحقیقات کا حکم دے دیا۔
پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری تحریری حکم نامے کے مطابق ڈی پی او نوشہرہ خود وائرل ویڈیو کلپ کا مشاہدہ کر کے تصدیق کریں کہ مسافر بس سے لاپتہ شخص کو نیچے اتارنے والے اہلکار یا افراد کون تھے۔ عدالت نے ڈی پی او کو فوری نوٹس لینے اور تمام تحقیقاتی عمل کے بعد سات روز کے اندر اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ سماعت کے دوران تھانہ رسالپور اور تھانہ ملز ایریا کوہاٹ کے ایس ایچ اوز نے حبسِ بے جا یا حراست میں لینے کے الزامات کی سختی سے تردید کی، جبکہ پولیس حکام نے وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت سے انکار کیا۔ عدالت نے ڈی پی او نوشہرہ کو ذاتی طور پر معاملے کا جائزہ لے کر جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ستائیس اگست تک ملتوی کر دی۔ملزم کی طرف سے سید مجید شاہ ایڈوکیٹ نے مقدمے کی پیروی کیں

14/08/2026

پشاور ہائیکورٹ نے سینٹرل جیل پشاور کے باہر سے نوجوان کی مبینہ گرفتاری اور بازیابی کے معاملے پر تحریری حکم نامہ جاری کر دیاپشاور ہائیکورٹ نے کیس کی اگلی سماعت پر سی ٹی ڈی انچارج، سپرنٹنڈنٹ جیل اور ایس ایچ او متنی کو جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل کو ریکارڈ سمیت ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے، جبکہ فریقین کو درخواست گزار کے بیٹے کی گمشدگی پر تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ درخواست گزار کے وکیل سید مجید شاہ ایڈوکیٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 20 سالہ بلال کو 14 جولائی کو ضمانت پر رہائی کے بعد سینٹرل جیل کے مرکزی گیٹ کے سامنے سے حراست میں لیا گیا جو تاحال لاپتہ ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سینٹرل جیل کی سی سی ٹی وی فوٹیج طلب کی جائے اور نوجوان کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 20 جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔

14/08/2026

پشاور ہائی کورٹ نے ڈبلیو ایس ایس پی کے لاپتہ ملازم اشفاق حسین کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔
درخواست گزار کے وکیل سید مجید شاہ ایڈوکیٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انکے کلائنٹ اشفاق حسین، جو ڈبلیو ایس ایس پی پشاور میں بطور ڈرائیور تعینات ہیں، کو مبینہ طور پر محکمہ انسداد دہشت گردی (CTD) نے اٹھایا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل کا مؤقف ہے کہ ان کے کلائنٹ نہ تو کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث ہیں اور نہ ہی کسی غیر قانونی کام کا حصہ رہے ہیں، جبکہ تھانہ بھانہ ماڑی کے ایس ایچ او نے اپنی رپورٹ میں مقامی پولیس کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ لاپتہ شہری کی بازیابی ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے محکمہ داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام متعلقہ خفیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مشاورت کے بعد جامع رپورٹ جمع کرائے کہ آیا مذکورہ شخص کسی مقدمے میں مطلوب تو نہیں۔ کیس کی مزید سماعت 20 جولائی تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

14/08/2026

پشاور کی عدالت نے بیوی اور ساس کو قتل کرنے والے مجرم کو دو بار سزائے موت اور 20 لاکھ روپے جرمانے کا حکم سنا دیا۔
ایڈیشنل سیشن جج پشاور امتیاز علی نے تھانہ بھانہ ماڑی کی حدود میں پیش آنے والے دوہرے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم واجد کو دو بار پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ استغاثہ کی طرف سے سید مجید شاہ ایڈوکیٹ نے عدالت میں مدلل دلالل پیشں کیں استغاثہ وکیل کے مطابق ملزم نے گھریلو ناچاقی کی بنا پر فائرنگ کر کے اپنی بیوی اور ساس کو قتل کر دیا تھا۔ مقتولین کے ورثاء کی مدعیت میں مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے تفتیش مکمل کر کے چالان عدالت میں جمع کرایا تھا۔ ٹرائل کے دوران جرم ثابت ہونے پر عدالت نے ملزم کو مجموعی طور پر 20 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے، جو مقتولین کے ورثاء کو ادا کیا جائے گا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ مجرم کو اس وقت تک پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جائے جب تک اس کی موت واقع نہ ہو جائے۔

14/08/2026

ایڈیشنل سیشن جج پشاورامتیازعلی نے قتل کے ایک مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر ملزم کو سزائے موت اور دس لاکھ روپے جرمانے کا حکم سنا دیا۔پشاور کی مقامی عدالت نے تھانہ آغا میر جانی کی حدود میں سعید نامی شہری کے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم شبیر کو سزائے موت اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ استغاثہ کی طرف سے سید مجید شاہ ایڈوکیٹ نے مدلل دلائل عدالت میں پیش کیں استغاثہ وکیل کے مطابق ملزم نے اپنے والد کے ساتھ مل کر سابقہ دشمنی کی بنا پر شہری کو فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں مجرم کو مزید چھ ماہ قید بھگتنا ہوگی۔ عدالت نے کیس میں ملوث دوسرے ملزم شیرین خان کے مفرور ہونے پر اسے اشتہاری قرار دے دیا ہے۔
#シ゚viral🖤tiktok☆♡🦋 ❤️❤️

11/08/2026

پشاور ہائی کورٹ کا بڑا ریلیف — پاکستانی شہریوں سے شادی کرنے والے غیر ملکیوں کو تحفظ

پشاور ہائی کورٹ نے ایک نہایت اہم اور انسانیت پر مبنی فیصلہ دیتے ہوئے سینکڑوں ایسے غیر ملکی افراد کو بڑا ریلیف دیا ہے جو پاکستانی شہریوں سے شادی کر چکے ہیں۔ عدالت نے واضح طور پر حکم دیا ہے کہ ایسے افراد کو نہ تو ہراساں کیا جائے، نہ گرفتار کیا جائے اور نہ ہی افغانستان ڈیپورٹ کیا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے نادرا کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ ان کیسز کو قانون کے مطابق دیکھے اور جہاں حق بنتا ہے وہاں پاکستان اوریجن کارڈ (POC) اور شہریت کے معاملات کو آگے بڑھائے۔

یہ معاملہ صرف قانونی نہیں بلکہ انسانی اور خاندانی نوعیت کا بھی ہے۔ بہت سے ایسے خاندان ہیں جہاں شوہر یا بیوی پاکستانی ہے جبکہ دوسرا فریق غیر ملکی ہے، اور ان کے بچے بھی پاکستان میں پیدا ہوئے اور یہی پرورش پا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ان لوگوں کو ڈیپورٹ کرنا یا ان کے خاندان کو توڑنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے بھی خلاف ہے۔

میں، سید مجید شاہ ایڈوکیٹ پاکستان، گزشتہ کئی سالوں سے ان معاملات میں عدالتوں کے سامنے پیش ہوتا آ رہا ہوں۔

الحمدللہ2024 میں بھی میں نے اپنے سینکڑوں کلائنٹس کے لیے اسی نوعیت کا ریلیف حاصل کیا تھا، اور اس کے بعد سے اب تک میں نے ہزاروں رٹ پٹیشنز دائر کی ہیں۔

آج میرے بہت سے کلائنٹس کامیابی کے ساتھ پاکستان اوریجن کارڈ (POC) اور حتیٰ کہ پاکستانی شہریت بھی حاصل کر چکے ہیں۔

📌 اہم بات

اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز اس صورتحال سے گزر رہا ہے —
شادی پاکستانی شہری سے ہے، مگر گرفتاری یا ڈیپورٹیشن کا خطرہ ہے —

تو قانون آپ کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے، بس صحیح طریقے سے عدالت سے رجوع کرنا ضروری ہے

WhatsApp 03139009924

Majeed shah

پشاور ہائی کورٹ کا بڑا ریلیف — پاکستانی شہریوں سے شادی کرنے والے غیر ملکیوں کو تحفظپشاور ہائی کورٹ نے ایک نہایت اہم اور ...
11/08/2026

پشاور ہائی کورٹ کا بڑا ریلیف — پاکستانی شہریوں سے شادی کرنے والے غیر ملکیوں کو تحفظ

پشاور ہائی کورٹ نے ایک نہایت اہم اور انسانیت پر مبنی فیصلہ دیتے ہوئے سینکڑوں ایسے غیر ملکی افراد کو بڑا ریلیف دیا ہے جو پاکستانی شہریوں سے شادی کر چکے ہیں۔ عدالت نے واضح طور پر حکم دیا ہے کہ ایسے افراد کو نہ تو ہراساں کیا جائے، نہ گرفتار کیا جائے اور نہ ہی افغانستان ڈیپورٹ کیا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے نادرا کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ ان کیسز کو قانون کے مطابق دیکھے اور جہاں حق بنتا ہے وہاں پاکستان اوریجن کارڈ (POC) اور شہریت کے معاملات کو آگے بڑھائے۔

یہ معاملہ صرف قانونی نہیں بلکہ انسانی اور خاندانی نوعیت کا بھی ہے۔ بہت سے ایسے خاندان ہیں جہاں شوہر یا بیوی پاکستانی ہے جبکہ دوسرا فریق غیر ملکی ہے، اور ان کے بچے بھی پاکستان میں پیدا ہوئے اور یہی پرورش پا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ان لوگوں کو ڈیپورٹ کرنا یا ان کے خاندان کو توڑنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے بھی خلاف ہے۔

⚖️ میرا کردار اور تجربہ

میں، سیف اللہ محب کاکاخیل، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان، گزشتہ کئی سالوں سے ان معاملات میں عدالتوں کے سامنے پیش ہوتا آ رہا ہوں۔

الحمدللہ، 2023 میں بھی میں نے اپنے سینکڑوں کلائنٹس کے لیے اسی نوعیت کا ریلیف حاصل کیا تھا، اور اس کے بعد سے اب تک میں نے ہزاروں رٹ پٹیشنز دائر کی ہیں۔

آج میرے بہت سے کلائنٹس کامیابی کے ساتھ پاکستان اوریجن کارڈ (POC) اور حتیٰ کہ پاکستانی شہریت بھی حاصل کر چکے ہیں۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں ان اہم کیسز کا حصہ رہا ہوں جنہوں نے پاکستان کے امیگریشن اور شہریت کے قوانین کی تشریح میں بنیادی کردار ادا کیا۔

📄 یہ رٹ پٹیشن کیوں شیئر کی جا رہی ہے؟

یہ رٹ پٹیشن بطور نمونہ شیئر کی جا رہی ہے تاکہ عام لوگ بھی اپنے حقوق سے آگاہ ہوں اور یہ جان سکیں کہ اگر وہ اسی طرح کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں تو عدالت سے رجوع کر کے قانونی تحفظ حاصل کر سکتے ہیں۔

📌 اہم بات

اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز اس صورتحال سے گزر رہا ہے —
شادی پاکستانی شہری سے ہے، مگر گرفتاری یا ڈیپورٹیشن کا خطرہ ہے —

تو قانون آپ کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے، بس صحیح طریقے سے عدالت سے رجوع کرنا ضروری ہے

WhatsApp 0313900992

11/08/2026

*نکاح نامے کی 4 کاپیاں اور ان کی حیثیت*
نکا ح نامہ (نکاح فارم) چار پرتوں (copies) میں تیار کیا جاتا ہے، جیسا کہ ویسٹ پاکستان رولز انڈر دی مسلم فیملی لاز آرڈیننس ۱۹۶۱ کے رول ۱۰ میں واضح ہے۔ ان کی تفصیل عام طور پر یوں ہے:
ایک پرت اصل رجسٹر میں نکاح رجسٹرار کے پاس محفوظ رہتی ہے (official record / register copy)۔
دوسری پرت دلہن (لڑکی) کو دی جاتی ہے۔
تیسری پرت دولہا (لڑکا) کو دی جاتی ہے۔
چوتھی پرت متعلقہ یونین کونسل / میونسپل کمیٹی کو بھیجی جاتی ہے۔
کس پرت کو Presumption of Truth حاصل ہے؟
صرف وہ پرتیں جو سرکاری/آفیشل کسٹڈی میں رہتی ہیں ان پر presumption of truth (صحت کی مفروضہ) لاگو ہوتی ہے۔ یعنی:
رجسٹر میں محفوظ اصل پرت (جو نکاح رجسٹرار کے پاس رہتی ہے)، اور
یونین کونسل کو بھیجی گئی پرت۔
یہ دونوں عوامی دستاویزات (public documents) ہیں، اس لیے عدالت انہیں بذاتِ خود سچ مان سکتی ہے جب تک کہ مضبوط ثبوت سے انہیں غلط ثابت نہ کیا جائے۔
دلہا اور دلہن کے پاس والی دو پرتیں (پارٹی کاپیز) پر automatic presumption of truth حاصل نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہ نجی افراد کے پاس ہوتی ہیں، اس لیے ان میں ترمیم، اضافہ (جیسے مہر بڑھانا/کم کرنا یا شرائط ایڈ کرنا) یا حذف کا امکان موجود رہتا ہے۔ اس لیے اگر کوئی پارٹی صرف اپنی کاپی پیش کرے تو عدالت اسے foregone conclusion نہیں مانتی۔
تنازع کی صورت میں طریقہ کار
اگر پارٹیز کے درمیان ڈسپیوٹ ہو اور کوئی صرف پارٹی کاپی (نمبر دو یا تین) پیش کرے تو عدالت لازمی طور پر آفیشل کاپیز (رجسٹر والی اور یونین کونسل والی) سے موازنہ (compare) کروا سکتی ہے/کروائی جاتی ہے۔ کئی فیصلوں میں یہ اصول دہرایا گیا ہے کہ پارٹی کاپیوں پر محض انحصار نہیں کیا جا سکتا جب تک آفیشل ریکارڈ سے تصدیق نہ ہو۔
متعلقہ فیصلہ (آپ کا حوالہ)
۲۰۲۱ لاہور ہائی کورٹ (صفحہ ۹۳۸۵)، وہ درست ہے۔ یہ Ejaz Iqbal v. Additional District Judge etc. (Writ Petition No. 3075/2021) ہے، جس میں جسٹس انوار حسین نے واضح کیا:
نکاح نامہ چار پرتوں میں ہوتا ہے۔
دوسری اور تیسری پرت (جو پارٹیز کے پاس ہوتی ہیں) میں ترمیم کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔
چوتھی پرت (یونین کونسل والی) یا رجسٹر میں محفوظ اصل پرت ہی وہ دستاویز ہے جس پر presumption of truth حاصل ہے۔
یہ آفیشل کسٹڈی میں رہتی ہیں اس لیے ان پر صحت کی مفروضہ لاگو ہوتی ہے۔
اس اصول کی تائید سینکڑوں فیصلوں میں ہو چکی ہے، اور سپریم کورٹ سمیت اعلیٰ عدالتوں نے بھی نکاح نامہ کو عوامی دستاویز قرار دیتے ہوئے اس کی اندراجات پر مضبوط presumption of truth تسلیم کی ہے—لیکن یہ presumption بنیادی طور پر آفیشل کاپیز تک محدود ہے۔
خلاصہ: چاروں پرتیں برابر نہیں ہیں۔ صرف آفیشل ریکارڈ والی پرتیں (رجسٹر اور یونین کونسل) presumption of truth رکھتی ہیں اور عدالت انہیں سچ مان سکتی ہے۔ پارٹی کاپیز کو ان کے ساتھ موازنہ کرانا ضروری ہوتا ہے، خاص طور پر جب کوئی ترمیم یا تنازع ہو۔
nama 4 copies, presumption of truth nikahnama, copy 1 and 4 legal, 2021 pld 9385 lahore high court, which nikah nama copy is valid

⚖️ 2026 PCRLJ 85(C) — اہم قانونی فیصلہپاکستانی عدالت نے قرار دیا ہے کہ منشیات کے مقدمات میں پولیس کی پیشگی اطلاع (Prior ...
11/08/2026

⚖️ 2026 PCRLJ 85(C) — اہم قانونی فیصلہ

پاکستانی عدالت نے قرار دیا ہے کہ منشیات کے مقدمات میں پولیس کی پیشگی اطلاع (Prior Information) مقدمہ میں استعمال کی جا سکتی ہے، لیکن اگر اطلاع صرف Information کی حد تک ہو تو اسے حاصل کرنا اور روزنامچہ/رجسٹر II میں درج کرنا ضروری ہے۔

📌 اہم قانونی نکتہ:
اگر پیشگی اطلاع اور مقدمہ درج کرنے کے حوالے سے قانونی تقاضے پورے نہ کیے جائیں تو ایسی صورت میں استثناء (Exception) کا فائدہ ملزم کو دیا جا سکتا ہے۔

🔹 منشیات کے مقدمات میں قانونی تقاضوں کی پابندی انتہائی اہم ہے۔
🔹 پولیس کارروائی، پیشگی اطلاع اور رجسٹریشن کے ریکارڈ کی قانونی حیثیت کا جائزہ ضروری ہے۔
🔹 ہر مقدمہ اپنے حقائق اور دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر الگ قانونی تجزیے کا متقاضی
Advocates & Tax Consultants
⚖️ Professional Legal Advice • Litigation • Tax Consultancy

📞shah law chamber kohat road Road, peshawar
🌐 justiceandlawcompany.com

Address

Peshawar

Telephone

+923139009924

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Syed Majeed Shah Bacha advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Syed Majeed Shah Bacha advocate:

Shortcuts

Share