Muhammad Zulfiqar Ali CASE LAWS

Muhammad Zulfiqar Ali CASE LAWS Free Of Cost Sharing Of Legal Knowledge For Awareness Of General Public online free legal knowledge sharing for public awareness

08/11/2025
"اپیل کے غلط فورم پر دائر ہونے کی صورت میں عدالت کے عملے کی ذمہ داری اور تاخیر کی معافی کے اصول: ایک تجزیاتی مطالع "عدال...
23/05/2025

"اپیل کے غلط فورم پر دائر ہونے کی صورت میں عدالت کے عملے کی ذمہ داری اور تاخیر کی معافی کے اصول: ایک تجزیاتی مطالع "عدالتی عملے کی غفلت، دائرہ اختیار کی غلطی، اور تاخیر کی معافی کا قانونی جواز"
2024 SCMR 107
فیصلہ
اگر کسی اپیل کو غلط فورم پر پیش کیا جاتا ہے، تو اس کا ذمہ دار صرف اپیل کنندہ یا اس کا وکیل نہیں ہے، بلکہ عدالت کے عملے کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ابتدائی مرحلے میں ہی اپیل کا بغور جائزہ لیں اور کسی بھی قسم کی کمی یا دائرہ اختیار کے بارے میں اعتراضات فوری طور پر لکھ کر سامنے لائیں۔
اس کیس میں، درخواست گزار کی اپیل غلط فورم پر پیش کی گئی تھی اور عدالت کے عملے کی غفلت کی وجہ سے ابتدائی مرحلے میں اس کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ بعد میں، جب کیس کافی عرصے بعد سماعت کے لیے تیار ہوا تو عدالت نے اپیل کو واپس کر دیا۔ اس کے نتیجے میں درخواست گزار کو نقصان پہنچا۔
ہائی کورٹ کو یہ دیکھنا چاہیے تھا کہ کیا عدالت کی غلطی کی وجہ سے درخواست گزار کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے اور کیا درخواست گزار نے تاخیر کی معافی کے لیے کافی وجہ پیش کی تھی۔ درخواست گزار نے معاملے کو پوری لگن کے ساتھ آگے بڑھایا تھا، لیکن اس کی درخواست برائے تاخیر کی معافی بغیر کسی معقول وجہ کے مسترد کر دی گئی.
فیصلہ 2024 SCMR 107 ایک اہم قانونی اصول کی نشاندہی کرتا ہے، جو پاکستان کے عدالتی نظام میں اپیل کے دائرہ اختیار (jurisdiction) اور عدالت کے عملے کی ذمہ داری سے متعلق ہے۔ درج ذیل میں اس فیصلے کے اہم پہلوؤں پر متعلقہ قوانین کی روشنی میں قانونی تجزیاتی جائزہ
1. اپیل کا غلط فورم پر دائر ہونا:
متعلقہ قانون:
Civil Procedure Code, 1908
Section 96 (Appeals from original decrees)
Order XLII, Rule 1 (Procedure in appeals from appellate decrees)
Limitation Act, 1908
Section 5 (Extension of prescribed period in certain cases)
قانونی تجزیہ:
جب اپیل کسی غلط فورم پر دائر کی جاتی ہے، تو اصولی طور پر اس کی ذمہ داری اپیل کنندہ پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم، اگر عدالت کا عملہ ابتدائی چھان بین میں اس غلطی کی نشاندہی نہیں کرتا، تو یہ عدالت کی ادارہ جاتی کوتاہی شمار ہوتی ہے۔
2. عدالت کے عملے کی ذمہ داری:
متعلقہ اصول:
High Court Rules and Orders
متعلقہ عملہ (Reader/Office Clerk) کی یہ قانونی و اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر دائر کی گئی درخواست یا اپیل کا ابتدائی جائزہ لے، اور اگر وہ غلط فورم پر ہے یا ناقص ہے، تو فوراً اعتراض لگا کر فائل واپس کرے۔
قانونی تجزیہ:
اگر عدالت کے عملے کی غفلت کی وجہ سے اپیل طویل عرصہ غلط فورم پر پڑی رہے، تو اس کی سزا صرف درخواست گزار کو نہیں دی جا سکتی۔ یہ اصول نظریہ انصاف (Doctrine of Equity) پر مبنی ہے۔
3. تاخیر کی معافی (Condonation of Delay)
متعلقہ قانون:
Limitation Act, 1908 - Section 5
قانونی تجزیہ:
اگر اپیل غلط فورم پر دائر ہوئی اور اس کا علم بعد میں ہوا، تو اپیل کنندہ کو تاخیر کی معافی کی درخواست کا حق حاصل ہے۔ عدالت کو دیکھنا چاہیے:
کیا اپیل کنندہ نے معاملہ نیک نیتی سے چلایا؟
کیا تاخیر کی وجہ معقول تھی؟
کیا عدالت یا اس کے عملے کی کوتاہی تاخیر کا سبب بنی؟
2024 SCMR 107
میں عدالت نے اپیل کنندہ کی نیک نیتی اور کوششوں کے باوجود تاخیر کی معافی کی درخواست مسترد کی، جو کہ انصاف کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
4. عدالتی اصولِ انصاف (Principles of Natural Justice):
متعلقہ اصول:
Audi alteram partem (دوسری جانب کو سننے کا حق)
No one should suffer due to the act of the court
قانونی تجزیہ:
یہ بنیادی اصول ہے کہ اگر کسی فرد کو عدالت کی غلطی یا عملے کی غفلت کے سبب نقصان پہنچا ہو، تو اس کی تلافی ہونی چاہیے۔ اپیل کنندہ کو اس بنا پر حق تلفی کا سامنا کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
Conclusion
2024 SCMR 107
کے فیصلہ میں درج ذیل اصول سامنے آتے ہیں
1. عدالت کا عملہ محض کاغذی کارروائی کا حصہ نہیں بلکہ ان کی ذمہ داریاں قانونی اثر رکھتی ہیں۔
2. اپیل کی ابتدائی جانچ میں کوتاہی قابل گرفت ہے۔
3. تاخیر کی معافی صرف اپیل کنندہ کی نیت سے نہیں، بلکہ مجموعی حالات، بشمول عدالتی عملے کی کارکردگی، سے جڑی ہوتی ہے۔
4. اگر عدالت خود کوتاہی کرے، تو شہری کو اس کی سزا نہیں دی جا سکتی۔

23/05/2025

If a judge of the Anti-Terrorism Court (ATC) Section 7 of the Anti-Terrorism Act, 1997 (ATA) from the case and transfers the matter to a Sessions Court for trial, the said order can indeed be challenged before the High Court. However, the legal question is whether such a challenge should be through an appeal or a writ petition (constitutional petition under Article 199 of the Constitution of Pakistan).

Legal Argument:

1. Nature of the Order – Judicial or Administrative:

The deletion of Section 7 ATA and transfer of the case to the Sessions Court is a judicial order passed by the ATC judge in the exercise of his jurisdiction under Section 23 of ATA, 1997.

Therefore, it is not an executive or administrative order; rather, it reflects the judge's opinion that the offence does not fall under the jurisdiction of the ATC.

2. Whether Appeal Lies:

The ATA, 1997 does provide for an appeal under Section 25 of the Act. However, appeals under Section 25 are generally meant for final judgments, convictions, or acquittals.

An interlocutory order (such as deletion of a section and transfer of case) is not appealable under Section 25 unless it finally decides the jurisdiction of the court in a way that may result in miscarriage of justice.

3. Availability of Writ Jurisdiction:

In such cases, the aggrieved party (usually the prosecution or the complainant) may invoke Article 199 of the Constitution and file a writ petition before the High Court.

The High Court has constitutional supervisory jurisdiction to correct jurisdictional errors committed by special courts.

Relevant Supreme Court Judgments:

1. Ghulam Hussain vs. Judge ATC & others (2020 SCMR 1606):
The Supreme Court held that if a trial court (ATC) wrongly excludes Section 7 of ATA and transfers the case, such an order can be challenged through a writ petition under Article 199 before the High Court.

2. Muhammad Amir vs. The State (PLD 2018 SC 577):
It was observed that the determination of jurisdiction by ATC must be based on the allegations in the FIR and material on record, not merely on assumption or premature conclusions. If this assessment is flawed, it can be challenged.

3. State vs. Mazhar Hussain (PLD 2002 SC 589):
The Supreme Court held that improper exclusion of ATA provisions amounts to refusal to exercise jurisdiction and can be corrected by the High Court in its constitutional jurisdiction.

Conclusion:

If the ATC judge deletes Section 7 ATA and transfers the case to the Sessions Court, such an order can be challenged through a constitutional petition (writ petition) under Article 199 of the Constitution before the High Court. This is because:

The order affects the jurisdiction of the court;

It is not appealable under Section 25 ATA;

Writ is the appropriate remedy to correct jurisdictional errors or illegal exercise/refusal of jurisdiction by special courts.

Would you like me to help you draft a sample writ petition format for such a CASE ?

23/05/2025

witness:Witness can be declared hostile during cross examination.
یہاں ان سپریم کورٹ آف پاکستان کے اہم فیصلوں کا حوالہ دیا جا رہا ہے جو یہ اصول واضح کرتے ہیں کہ اگر کوئی استغاثہ (پراسیکیوشن) کا گواہ جرح کے دوران اپنے سابقہ بیان سے انحراف کرے یا ملزم کو فائدہ پہنچائے تو اُسے عدالت کی اجازت سے "مخالف گواہ" (Hostile Witness) قرار دیا جا سکتا ہے:

1. PLD 2001 SC 147 – State v. Farman

اہم نکتہ:

> "جب کوئی پراسیکیوشن گواہ دفعہ 161 ض ف کے تحت دیے گئے اپنے پہلے بیان سے انکار کر دے یا مخالف بیان دے، تو پراسیکیوشن عدالت سے درخواست دے کر اُسے مخالف گواہ قرار دلواتے ہوئے اس پر جرح کر سکتی ہے۔"

یہ فیصلہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اگر گواہ جرح کے دوران اپنے بیان سے ہٹ جائے تو اُسے hostile قرار دینے کی درخواست دی جا سکتی ہے۔

2. 2003 SCMR 1419 – Zulfiqar Ali v. The State

اہم نکتہ:

> "اگر پراسیکیوشن کا کوئی گواہ اپنے پہلے دیے گئے بیان سے ہٹ جائے یا اپنی شہادت میں ملزم کو فائدہ دے، تو پراسیکیوشن عدالت سے اجازت لے کر اُسے hostile قرار دے سکتی ہے اور اس پر جرح کر سکتی ہے۔

یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ اگر گواہ جرح کے دوران ملزم کو فائدہ دے رہا ہو، تو عدالت اسے hostile قرار دے سکتی ہے۔

3. PLD 2006 SC 538 – Muhammad Aslam v. The State

اہم نکتہ:

> "ایسا گواہ جو اپنے پرانے بیان سے انحراف کرے یا متضاد شہادت دے، اُسے hostile قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد گواہ کو سزا دینا نہیں بلکہ اس کی ساکھ کو چیلنج کرنے کا قانونی موقع فراہم کرنا ہے۔"

یہ فیصلہ اس اصول کو دہراتا ہے کہ گواہ کے طرزِ عمل کی بنیاد پر عدالت اسے hostile قرار دے سکتی ہے، چاہے یہ جرح کے دوران ہی کیوں نہ ہو۔

4. 2017 SCMR 986 – Nadeem v. The State

اہم نکتہ:

> "جب گواہ نے اپنے سابقہ بیان سے انکار کیا اور جرح کے دوران ملزم کو فائدہ دیا، تو ٹرائل کورٹ نے بجا طور پر پراسیکیوشن کو گواہ کو hostile قرار دینے کی اجازت دی۔"

یہ ایک حالیہ فیصلہ ہے جو یہ واضح کرتا ہے کہ جرح کے دوران بھی گواہ کو hostile قرار دیا جا سکتا ہے۔

خلاصہ:
مندرجہ بالا فیصلے یہ ثابت کرتے ہیں کہ گواہ کو hostile قرار دینے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ examination-in-chief میں ہی منحرف ہو، بلکہ اگر وہ جرح کے دوران بھی ملزم کو فائدہ دے، تو عدالت سے استدعا کی جا سکتی ہے کہ اُسے hostile قرار دے کر جرح کی اجازت دی جائے۔

Here are relevant Supreme Court of Pakistan judgments which establish that a prosecution witness can be declared hostile during cross-examination, particularly when the witness resiles from their earlier statement or begins to support the accused:

**1. PLD 2001 SC 147 – State v. Farman

** Key Holding:

> "Where a prosecution witness turns hostile or resiles from his previous statement recorded under Section 161 Cr.P.C., the prosecution may request the court to declare such witness hostile and cross-examine him to impeach his credibility."

This case confirms that the declaration of hostility can be sought when a witness deviates during trial or cross-examination, undermining the prosecution's case.

2. 2003 SCMR 1419 – Zulfiqar Ali v. The State

Key Holding:

> "If a prosecution witness deviates from the statement earlier made under Section 161 Cr.P.C. or otherwise gives benefit to the accused, the prosecution may move the court for permission to declare him hostile and conduct cross-examination."

This judgment clearly allows declaration of hostility even at the stage of cross-examination, if the witness supports the accused contrary to earlier stance.

3. PLD 2006 SC 538 – Muhammad Aslam v. The State

Key Holding:

> “A witness who deviates from the version earlier recorded or gives contradictory evidence can be declared hostile. The object is not to punish the witness but to allow the party to challenge his credibility through cross-examination.”

The court reiterated the principle that it is the conduct of the witness during examination-in-chief or cross-examination that determines hostility, and not merely the prosecution's opinion.

4. 2017 SCMR 986 – Nadeem v. The State

Key Holding:

> “The trial court was justified in permitting the prosecution to declare its own witness as hostile where the witness resiled from their earlier statement and gave benefit to the accused during cross-examination.”

This is a more recent case where the Supreme Court upheld trial court's permission to declare a prosecution witness hostile at the cross-examination stage.

These authorities establish that the timing (whether during examination-in-chief or cross-examination) is not a bar to declaring a witness hostile, and the key issue is the change in stance or conduct of the witness, which undermines the prosecution’s case.

27/03/2025

یہ قانونی حوالہ "2018 CLC 1786" اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ اگر کوئی والد اپنے نابالغ (چھوٹے) بچے کا خرچ اٹھانے سے قاصر ہو، تو عدالت اس کے متبادل کے طور پر بیت المال کو ذمہ دار ٹھہرا سکتی ہے۔ عدالت کا مؤقف یہ ہے کہ بچے کا نان نفقہ اس کا بنیادی حق ہے، اور اگر والد اپنی مالی حالت کی وجہ سے اس حق کو پورا نہیں کر سکتا، تو ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس ضرورت کو پورا کرے۔

یہ فیصلہ اس اصول پر مبنی ہے کہ ایک بچے کی کفالت ریاست یا متعلقہ فلاحی اداروں کے ذریعے بھی ممکن ہے۔ اس مقصد کے لیے عدالت بیت المال یا کسی مقامی حکومتی فلاحی ادارے کو خرچ برداشت کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔

یہ قانونی حوالہ "2018 CLC 1786" اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ اگر کوئی والد اپنے نابالغ (چھوٹے) بچے کا خرچ اٹھانے سے قاصر ہو، تو عدالت اس کے متبادل کے طور پر بیت المال کو ذمہ دار ٹھہرا سکتی ہے۔ عدالت کا مؤقف یہ ہے کہ بچے کا نان نفقہ اس کا بنیادی حق ہے، اور اگر والد اپنی مالی حالت کی وجہ سے اس حق کو پورا نہیں کر سکتا، تو ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس ضرورت کو پورا کرے۔

یہ فیصلہ اس اصول پر مبنی ہے کہ ایک بچے کی کفالت ریاست یا متعلقہ فلاحی اداروں کے ذریعے بھی ممکن ہے۔ اس مقصد کے لیے عدالت بیت المال یا کسی مقامی حکومتی فلاحی ادارے کو خرچ برداشت کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔

محمد عمر
ایڈووکیٹ پشاور
ڈائرکٹر شعبہ قانون
حاجی یونس ویلفیئر ٹرسٹ

27/03/2025

اگر کوئی ورثاء، دعویدار، یا دیگر افراد کسی جائیداد کے انتقال کو چیلنج کرتے ہیں، تو جس شخص کو اس سے فائدہ ہو رہا ہے، اسے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ جائیداد واقعی جائز طریقے سے اس کے نام منتقل کی گئی تھی۔ اگر وہ اپنے دعوے کو صحیح طریقے سے ثابت نہ کر سکے، تو صرف جائیداد کے انتقال کا اندراج ہونا خودبخود اس کی مکمل ملکیت کا ثبوت نہیں ہوگا۔

یہ نکتہ خاص طور پر ان کیسز میں اہم ہے جہاں جائیداد کے انتقال پر کوئی اعتراض یا تنازعہ پیدا ہوتا ہے۔ عدالت میں اصل حقائق اور قانونی شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا، نہ کہ صرف دستاویزات کے اندراج پر۔

اس حوالے سے مذکورہ قانونی حوالہ "2025 CLC 140" دیا گیا ہے، جو اس معاملے پر عدالتی نظیر (precedent) فراہم کرتا ہے۔

محمد عمر
ایڈووکیٹ پشاور
ڈائرکٹر شعبہ قانون
حاجی یونس ویلفیئر ٹرسٹ

یہاں ایک قانونی نقطہ بیان کیا گیا ہے جو آرڈر I، رول 10 سی پی سی (Code of Civil Procedure) سے متعلق ہے۔ اس کے مطابق، اگر ...
27/03/2025

یہاں ایک قانونی نقطہ بیان کیا گیا ہے جو آرڈر I، رول 10 سی پی سی (Code of Civil Procedure) سے متعلق ہے۔ اس کے مطابق، اگر کسی فریق پر عدالتی فیصلے کا اثر پڑنے کا امکان ہو اور اس کی موجودگی عدالت کو معاملے کا بہتر فیصلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہو، تو اسے مقدمے میں شامل کرنا ضروری ہے۔

یہ اصول "وسیع نظریہ" (Liberal Approach) پر مبنی ہونا چاہیے، یعنی عدالت کو چاہیے کہ وہ فریقین کو مقدمے میں شامل کرنے کے معاملے میں سخت اور محدود نقطہ نظر نہ اپنائے۔ خاص طور پر جب کسی فریق کے حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہو، تو اسے مقدمے میں شامل کرنے کی اجازت دینی چاہیے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔

2025 SCMR 515

محمد عمر
ایڈووکیٹ پشاور
ڈائرکٹر شعبہ قانون
حاجی یونس ویلفیئر ٹرسٹ

27/03/2025

ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر پاور آف اٹارنی کسی مالی معاہدے (consideration) کے ساتھ مشروط ہو، اور مدعی نے جائیداد کی پوری قیمت وصول کر لی ہو، تو یہ پاور آف اٹارنی ناقابلِ تنسیخ (irrevocable) ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر جائیداد بیچنے والا پہلے ہی مکمل ادائیگی وصول کر چکا ہو، تو وہ اپنے دیے گئے پاور آف اٹارنی کو منسوخ نہیں کر سکتا۔

یہ قانونی اصول ان معاملات میں اہم ہے جہاں جائیداد کی خرید و فروخت پاور آف اٹارنی کے ذریعے کی جاتی ہے، اور بعد میں کسی بھی فریق کی جانب سے اس کے منسوخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

محمد عمر
ایڈووکیٹ پشاور
ڈائرکٹر شعبہ قانون
حاجی یونس ویلفیئر ٹرسٹ

27/03/2025

یہ قانونی حوالہ (2016 YLR 2428) ایک عدالتی فیصلہ ہے، جس میں زمین کی ملکیت اور مدعا علیہ (یعنی جس پر مقدمہ دائر کیا گیا) کے حقوق پر وضاحت کی گئی ہے۔

وضاحت:

1. مدعا علیہ کو مالکانہ حقوق حاصل نہیں تھے

اس کا مطلب ہے کہ جس شخص (مدعا علیہ) کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا تھا، وہ قانونی طور پر اس زمین کا مالک نہیں تھا۔

2. اراضی متدعویہ صوبائی حکومت کی ملکیت تھی

"اراضی متدعویہ" سے مراد وہ زمین ہے جس پر تنازعہ تھا۔

عدالت نے واضح کیا کہ یہ زمین صوبائی حکومت (Provincial Government) کی ملکیت تھی، نہ کہ مدعا علیہ کی۔

3. دعویٰ تعمیل مختص خارج شدہ

اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ مدعی (یعنی مقدمہ دائر کرنے والا) جو دعویٰ لے کر آیا تھا، وہ مسترد کر دیا گیا۔

خلاصہ:

یہ عدالتی فیصلہ بتاتا ہے کہ مدعا علیہ کو زمین کے مالکانہ حقوق حاصل نہیں تھے کیونکہ زمین درحقیقت صوبائی حکومت کی ملکیت تھی۔ چنانچہ، مقدمہ قابل سماعت نہ ہونے کی بنا پر خارج کر دیا گیا۔
محمد عمر
ایڈووکیٹ پشاور
ڈائرکٹر شعبہ قانون
حاجی یونس ویلفیئر ٹرسٹ

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Zulfiqar Ali CASE LAWS posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share