The legal Hub

The legal Hub we provide legal assistance in the field of Criminal, Civil, Service and Family matters through out

15/02/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ PLD 2024 SC 1276 (General Post Office v. Muhammad Jalal) کا فیصلہ اُن افراد پر لاگو نہیں ہوگا جن کے والد/سرپرست اس فیصلے سے پہلے فوت ہو چکے تھے اور جنہوں نے اُس وقت کی پالیسی کے تحت ملازمت کے لیے بروقت درخواست دے دی تھی۔

عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ:

✔ بعد کا عدالتی فیصلہ سابقہ حقوق کو ختم نہیں کر سکتا۔
✔ اگر کسی امیدوار نے اپنے والد کی وفات کے بعد مروجہ پالیسی کے مطابق درخواست دے دی تھی تو اُس کا حق محفوظ ہے۔
✔ ادارے کسی بھی فائدہ مند پالیسی کو یکساں اور بلا امتیاز نافذ کرنے کے پابند ہیں۔

لہٰذا وہ تمام امیدوار جنہوں نے اپنے والد کی وفات کے بعد مقررہ پالیسی کے تحت بروقت درخواست دی تھی، انہیں صرف اس بنیاد پر محروم نہیں کیا جا سکتا کہ بعد میں سپریم کورٹ کا کوئی نیا فیصلہ آ گیا ہے۔

یہ فیصلہ لواحقین کے حقوق کے تحفظ اور پالیسیوں کے منصفانہ اطلاق کے حوالے سے نہایت اہم ہے۔

11/02/2026
11/02/2026

زمین آپ کے نام پر ہے مگر نہ جگہ معلوم ہے اور نہ قبضے کی صورتحال؟

قانون آپ کو اپنی ملکیت معلوم کرنے اور قبضہ حاصل کرنے کا پورا حق دیتا ہے۔

✅ درج ذیل قانونی اقدامات اختیار کریں:

🔹 1۔ ملکیت کی تصدیق
پٹواری یا اراضی ریکارڈ سنٹر سے حاصل کریں:
▪️ فردِ ملکیت
▪️ جمعبندی
▪️ انتقال کی مصدقہ کاپی
ان دستاویزات سے زمین کی لوکیشن، خسرہ نمبر اور رقبہ واضح ہو جاتا ہے۔
🔹 2۔ نشاندہی / حد بندی (Demarcation)
تحصیلدار کو درخواست دے کر زمین کی سرکاری نشاندہی کروائیں تاکہ اصل حدود متعین ہو سکیں۔

🔹 3۔ قبضے کی صورتحال معلوم کریں
نشاندہی کے بعد واضح ہو جاتا ہے کہ زمین خالی ہے یا کسی کے قبضے میں، اور آیا قبضہ جائز ہے یا ناجائز۔

🔹 4۔ ناجائز قبضے کی صورت میں قانونی چارہ جوئی
سول کورٹ میں درج ذیل دعوے دائر کیے جا سکتے ہیں:

▪️ دعویٰ برائے قبضہ (Suit for Possession)
▪️ دعویٰ برائے اعلانِ حقِ ملکیت (Declaration)
▪️ مستقل حکمِ امتناعی (Permanent Injunction)
📜 متعلقہ قوانین:
▪️ Land Revenue Act
▪️ Specific Relief Act
▪️ Civil Procedure Code (CPC).

والد کی جگہ بیٹی نوکری کے لیے اہل قرار، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیاشادی کے بعد بھی بیٹا والد کا جانشین ہوسکتا ہے توبیٹی ...
18/03/2025

والد کی جگہ بیٹی نوکری کے لیے اہل قرار، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا
شادی کے بعد بھی بیٹا والد کا جانشین ہوسکتا ہے توبیٹی کیوں نہیں؟ سپریم کورٹ کے اہم ریمارکس
سپریم کورٹ نے ایک اہم کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے والد کی جگہ بیٹی کو نوکری کے لیے اہل قرار دے دیا، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ خواتین کی شادی کا ان کی معاشی خود مختاری سے کوئی تعلق نہیں، شادی کے بعد بھی بیٹا والد کا جانشین ہوسکتا ہے توبیٹی کیوں نہیں؟

نوٹ: اس کیس میں زاہدہ پروین(مدعیہ) کی نمائندگی سر رحمان اللہ ایڈوکیٹ سپریم کورٹ نے کی۔ طویل اور جاندار دلائل کے بعد، عدالت نے وکیل مدعیہ رحمان اللہ ایڈوکیٹ سپریم کورٹ کی دلائل سے اکتفا کرتے ہوئے اپیل منظور کر لی۔

جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی نے سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے سرکاری ملازم کے انتقال کے بعد بیٹی کو نوکری سے محروم کرنے کے کیس کی سماعت کی۔

جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے والد کی جگہ بیٹی کو نوکری کے لیے اہل قرار دے دیا۔

فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ خواتین کی شادی کا ان کی معاشی خود مختاری سے کوئی تعلق نہیں، شادی کے بعد بھی بیٹا والد کا جانشین ہو سکتا ہے تو بیٹی کیوں نہیں؟

سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے مؤقف اختیار کیا کہ سابق چیف جسٹس فائز عیسیٰ کے فیصلے کے مطابق سرکاری ملازم کے بچوں کو نوکریاں ترجیحی بنیادوں پر نہیں دی جا سکتیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ 2024 کا ہے، موجودہ کیس اس سے پہلے کا ہے، سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا اطلاق ماضی سے نہیں ہوتا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ خاتون کو نوکری دے کر آپ نے فارغ کیسے کر دیا؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے جواب دیا کہ خاتون کی شادی ہوچکی ہے اور والد کی جگہ نوکری کی اہلیت نہیں رکھتی۔

اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ یہ کس قانون میں لکھا ہے کہ بیٹی کی شادی ہوجائے تو وہ والد کے انتقال کے بعد نوکری کی اہلیت نہیں رکھتی؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ کے پی سول سروس ایکٹ کے تحت نوٹیفیکیشن کے ذریعے خاتون کو نکالا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ اب کیا ایک سیکشن افسر قانون کی خود ساختہ تشریح کرے گا؟ خواتین کی معاشی خود مختاری اور سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق تفصیلی فیصلہ دیں گے۔

بعد ازاں عدالت نے درخواست گزار خاتون زاہدہ پروین کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس نمٹا دیا--*

16/02/2025

ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯﻗﻮﺍﻧﯿﻦ ﺍﻭﺭ‎ ‎ﺳﺰﺍﺋﯿﮟ:

ﺩﻓﻌﮧ 6 ﻣﺴﻠﻢ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﻻﺯ ﺁﺭﮈﯾﻨﻨﺲ 1961 ﮐﮯ ﺗﺤﺖ‎ ‎ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﯾﻮﻧﯿﻦ ﮐﻮﻧﺴﻞ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﺩﯾﮕﺎ ﺍﻭﺭ
ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﯾﮕﺎ ۔ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺩﻭﺳﺮﯼ
ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﺳﺰﺍ ﺍﻭﺭ 5 ﻻﮐﮫ ﺟﺮﻣﺎﻧﮧ
ﮨﻮﮔﺎ
ﻟﮩﺬﺍ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﯾﮧ ﻗﺎﺑﻞ ﺳﺰﺍ ﺟﺮﻡ
ﮨﮯ ۔ﺟﺒﮑﮧ ﻓﯿﮉﺭﻝ ﺷﺮﯾﺖ ﮐﻮﺭﭦ ﺳﺎﻝ 2000 ﻣﯿﮟ ﺍﺱ
ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﻮ ﺷﺮﯾﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ
PLD 2000 FSC page 1
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺣﺎﻝ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﭙﺮﯾﻢ ﮐﻮﺭﭦ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻧﮯ
ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﻮ ﺷﺮﯾﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ
ﺷﻮﮨﺮ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﯽ
PLD 2017 SC page 187
ﺟﺒﮑﮧ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﺩﺍﺩ ﺭﺳﯽ ﺧﺎﺹ ﮐﯽ ﺩﻓﻊ 55 ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﻣﺪﻋﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﻗﺎﻧﻮﻧﯽ ﺣﻖ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﺪ ﻋﺎ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻧﮑﺎﺭﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻏﯿﺮ ﻗﺎﻧﻮﻧﯽ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯﺭﻭﮎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯﺟﺒﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻣﻘﺪﻣﮧ ﻣﯿﮟﻓﯿﻤﻠﯽ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻧﮯ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯﺭﻭﮎ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﮐﻮﺭﭦﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﺭﻭﮐﻨﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺍﻣﺘﻨﺎﻋﯽ ﺟﺎﺭﯼﮐﺮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ
1983 CLC page 279
ﺟﺒﮑﮧ ﺍﻋﻠﯽ ﻋﺪﺍﻟﺘﯽ ﻧﻈﺎ ﺋﺮ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧﻓﯿﻤﻠﯽ ﮐﻮﺭﭦ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﭘﺮ ﻣﺒﻨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺣﮑﻢ ﺻﺎﺩﺭﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﺰﯾﺪ ﻧﮑﺎﺡ ﻧﺎﻣﮧ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﺮﯾﺮﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮯ ﮐﯿﺎ ﺩﻭﻟﮩﺎ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﮨﮯ ؟
ﺍﮔﺮ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮐﺎ ﺳﺮﭨﯿﻔﮑﯿﭧ ﻧﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻧﮑﺎﺡ ﺭﺟﺴﭩﺮﺍﺭﻧﮑﺎﺡ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﺎ ﮨﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮑﺎﺡ ﺭﺟﺴﭩﺮﮈﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﻟﮩﺬﺍ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﺎ ﺻﺮﻑ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮐﯿﺲﮐﺮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮯ ﻣﺘﻌﻠﻘﮧ ﯾﻮﻧﯿﻦ ﮐﻮﻧﺴﻞ ﮐﮯ ﺧﻼﻑﺑﮭﯽ ﮐﯿﺲ ﮐﺮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﻭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻧﮑﺎﺡ ﺭﺟﺴﭩﺮﮈ
ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﯾﺎﺩﺭﮐﮭﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ
ﮐﺮﻧﺎ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺷﺮﻋﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮﺷﺮﻋﯽ ﻧﮩﯿﮟ , ﺍﮔﺮ ﺷﻮﮨﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﺷﻮﮨﺮﮐﺎ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﺎﻟﻌﺪﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﯽ ﺻﺮﻑ ﺷﻮﮨﺮﮐﻮ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﮧ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ
منقول

24/04/2023

Request for vote and support

02/03/2023

میڈیکل رپورٹ کسی ملزم کو وقوعہ سے نہیں جوڑتی بلکہ میڈیکل رپورٹ سے صرف زخم کی نوعیت اور استعمال کیے گئے اسلحے کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔

2018 PCRLJ 147 Note 120

Address

TF-287 Deans Trade Center Sadar Peshawar
Peshawar

Opening Hours

Monday 16:00 - 19:00
Tuesday 16:00 - 19:00
Wednesday 16:00 - 19:00
Thursday 16:00 - 19:00
Friday 16:00 - 19:00
Saturday 16:00 - 19:00

Telephone

+923449747295

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The legal Hub posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to The legal Hub:

Share