Dastoor Law Associates-DLA

Dastoor Law Associates-DLA All About Law & Lawyers.

کپل کونسلنگ ، طلاق ، خلع ، نان ونفقہ ، بچوں کی حضانت ، میاں بیوی کے حقوق ،میاں بیوی کے درمیان مصالحت ، اصلاحی مشورے ، سول ، کریمینل ، بینکنگ ، کارپوریٹ ، سوسائٹی رجسٹریشن ، انکم ٹیکس ، اور تازہ ترین قوانین کے لئے پیج کو فالو کریں۔

پشاور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ! پاکستانی بیوی اور (POC ) کی بنیاد پر افغان شہری کی ضمانت منظور-پشاور ہائی کورٹ کے معزز چیف...
20/03/2026

پشاور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ!
پاکستانی بیوی اور (POC ) کی بنیاد پر افغان شہری کی ضمانت منظور-

پشاور ہائی کورٹ کے معزز چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک اہم نوعیت کا فیصلہ سامنے آیا، جس میں ایک افغان نیشنل کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔

ریکارڈ کے مطابق مذکورہ افغان شہری کو فارنرز ایکٹ/سیکشن 14 کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ تاہم دورانِ سماعت یہ امر عدالت کے سامنے واضح کیا گیا کہ ملزم کی اہلیہ پاکستانی شہری ہیں، جس کی بنیاد پر وہ پاکستان اوریجن کارڈ (POC) حاصل کرنے کا قانونی حق رکھتا ہے۔

عدالتِ عالیہ نے اس قانونی و آئینی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے قرار دیا کہ:
ایسے افراد جن کے ازدواجی تعلقات پاکستانی شہری سے قائم ہوں، انہیں محض غیر ملکی حیثیت کی بنیاد پر مسلسل حراست میں رکھنا مناسب نہیں، خصوصاً جب وہ پاکستان اوریجن کارڈ کے اہل ہوں۔

اسی بنیاد پر عدالت نے ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم جاری کیا۔

📌 قانونی اہم نکات:
✔️ شادی (Marriage with Pakistani Citizen) ایک اہم قانونی فیکٹر تسلیم
✔️ پاکستان اوریجن کارڈ (POC) کا حق بطور دفاع پیش
✔️ سیکشن 14 فارنرز ایکٹ کے اطلاق میں عدالتی توازن
✔️ بنیادی حقوق اور فیملی لائف کے تحفظ کا اصول

یہ فیصلہ مستقبل میں ایسے مقدمات کے لیے ایک مضبوط نظیر (precedent) کے طور پر اہمیت اختیار کر سکتا ہے، جہاں غیر ملکی شہری پاکستانی شریکِ حیات کی بنیاد پر قانونی سہولت کے مستحق ہوں۔

📞 رابطہ کریں:
اگر آپ یا آپ کے کسی عزیز کو اس نوعیت کے قانونی مسائل درپیش ہوں، یا آپ کو اس حوالے سے مزید رہنمائی درکار ہو، تو بلا جھجھک رابطہ کریں۔ آپ کی رہنمائی اور قانونی معاونت کے لیے ہم دستیاب ہیں۔
رابطہ نمبر : 03131468739

📢 مزید قانونی اپڈیٹس، عدالتی فیصلوں اور مستند معلومات کے لیے فالو کریں۔

Hamara Pakistan Digital SANJO TV Adv Shahkaar Muhammadzai Adv Ijaz Ahmad

:بلاک شدہ CNIC کا مسئلہ؟ وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ دستاویزات ہوں تو حل ممکن ہے! پاکستان میں بعض اوقات شہریوں کا شناختی کا...
15/03/2026

:بلاک شدہ CNIC کا مسئلہ؟ وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ دستاویزات ہوں تو حل ممکن ہے!

پاکستان میں بعض اوقات شہریوں کا شناختی کارڈ (CNIC) مختلف وجوہات کی بنا پر بلاک ہو جاتا ہے جس سے روزمرہ معاملات میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔ تاہم وزارتِ داخلہ حکومتِ پاکستان کی ہدایات کے مطابق اگر کسی درخواست گزار کے پاس چند مخصوص پرانے سرکاری ریکارڈ موجود ہوں تو ان کی بنیاد پر شناخت اور شہریت کی تصدیق ممکن ہے۔

وزارتِ داخلہ کے جاری کردہ رہنما اصولوں کے مطابق اگر درج ذیل میں سے کوئی ایک دستاویز موجود ہو اور متعلقہ ادارہ اس کی تصدیق (Verification) کر دے تو بلاک شدہ CNIC کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ اسی سلسلے میں نیچے وزارتِ داخلہ کا متعلقہ دستاویز/نوٹیفکیشن بھی بطور حوالہ منسلک ہے۔

1) Land record registered prior to 1978 (verified by Revenue Department)
1978 سے پہلے رجسٹرڈ زمین کا ریکارڈ جس کی تصدیق محکمہ ریونیو سے ہو۔

2) Local/Domicile Certificate issued prior to 1978 and verified by issuing Authority
1978 سے پہلے جاری شدہ لوکل یا ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ جس کی تصدیق متعلقہ جاری کرنے والی اتھارٹی کرے۔

3) Pedigree (Shajra-e-Nasab) issued & verified by Revenue Department
شجرۂ نسب جو محکمہ ریونیو کی طرف سے جاری اور تصدیق شدہ ہو۔

4) Government employment certificate (of applicant or blood relative), employee before 1999
درخواست گزار یا اس کے قریبی خونی رشتہ دار کی سرکاری ملازمت کا سرٹیفیکیٹ، بشرطیکہ ملازمت 1999 سے پہلے کی ہو۔

5) Verified educational certificates issued prior to 1978
1978 سے پہلے جاری شدہ تعلیمی اسناد جن کی متعلقہ ادارے سے تصدیق ہو۔

6) Passport issued to the applicant prior to 1978
درخواست گزار کو 1978 سے پہلے جاری کیا گیا پاسپورٹ۔

7) Any other document issued by the Government of Pakistan prior to 1978 and verified by the issuing authority may also be accepted, including Arm License, Driving License, or Manual NIC issued before 1978.
حکومتِ پاکستان کی طرف سے 1978 سے پہلے جاری کیا گیا کوئی بھی سرکاری دستاویز جس کی تصدیق متعلقہ اتھارٹی کرے، مثلاً اسلحہ لائسنس، ڈرائیونگ لائسنس یا پرانا دستی شناختی کارڈ۔

لہٰذا اگر کسی شہری کے پاس ان میں سے کوئی ایک بھی مستند دستاویز موجود ہو تو وہ متعلقہ ادارے سے اس کی تصدیق کروا کر نادرا میں پیش کرے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق اس بنیاد پر بلاک شدہ شناختی کارڈ کے مسئلے کے حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

اگر آپ کو اس حوالے سے کوئی قانونی مشورہ درکار ہو یا آپ کو CNIC کے معاملے میں کسی قسم کا مسئلہ درپیش ہو تو رہنمائی کے لیے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔





Hamara Pakistan Digital
SANJO TV
Adv Ijaz Ahmad
Adv Shahkaar Muhammadzai

فیملی کورٹ میں دعویٰ کا طریقہ کار
28/02/2026

فیملی کورٹ میں دعویٰ کا طریقہ کار

اگر کسی لڑکی نے کورٹ میرج کر لی ہو تو مستقبل میں کسی بھی خاندانی تنازع، ہراسانی، جھوٹے اغوا کے مقدمے یا زبردستی نکاح کے ...
26/02/2026

اگر کسی لڑکی نے کورٹ میرج کر لی ہو تو مستقبل میں کسی بھی خاندانی تنازع، ہراسانی، جھوٹے اغوا کے مقدمے یا زبردستی نکاح کے الزام سے بچاؤ کے لیے مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 ضابطہ فوجداری کے تحت رضاکارانہ بیان ریکارڈ کروانا انتہائی اہم قانونی اقدام ہے۔

دفعہ 164 کے تحت دیا جانے والا بیان عدالتی ریکارڈ کا باقاعدہ حصہ بنتا ہے، جس میں لڑکی واضح طور پر اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ اس نے اپنی آزاد مرضی اور مکمل رضامندی سے، بغیر کسی دباؤ یا جبر کے نکاح کیا ہے۔ یہ بیان بعد ازاں کسی بھی پولیس انکوائری، فیملی ڈسپیوٹ، یا فوجداری کارروائی میں مضبوط اور مؤثر شہادت کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔

بیان کے وقت اصل شناختی کارڈ، نکاح نامہ، اور دیگر متعلقہ دستاویزات مجسٹریٹ کے روبرو پیش کی جاتی ہیں۔ مجسٹریٹ مکمل اطمینان اور قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد بیان قلمبند کرتے ہیں، جو مستقبل کے ممکنہ قانونی مسائل کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوتا ہے۔

ہم پیشہ ورانہ انداز میں کورٹ میرج ڈاکیومنٹیشن، دفعہ 164 کے تحت بیان کی تیاری و ریکارڈنگ، اور مکمل قانونی رہنمائی فراہم کرتے ہیں تاکہ جوڑا ہر قسم کے قانونی خطرات سے محفوظ رہ سکے اور ان کا نکاح مکمل طور پر قانونی تحفظ حاصل کر سکے۔

After completing a court marriage, it is a critically important legal step for the bride to record her voluntary statement before a Magistrate under Section 164 of the Code of Criminal Procedure (CrPC). This measure provides strong legal protection and safeguards the couple against future allegations such as kidnapping, coercion, abduction, or forced marriage.

A statement recorded under Section 164 CrPC becomes part of the official judicial record. In this statement, the bride formally confirms that the marriage was solemnized of her own free will, with full consent, and without any pressure or undue influence. Such a statement carries substantial evidentiary value in any subsequent police inquiry, family dispute, or criminal proceeding.

During the process, the original CNIC, Nikah Nama, and other relevant documents are presented before the Magistrate. After proper verification and satisfaction, the Magistrate records the statement in accordance with legal requirements. This recorded statement acts as a strong legal safeguard against potential harassment or malicious litigation.

We provide professional assistance in court marriage documentation, Section 164 statement processing, and comprehensive legal guidance to ensure complete legal security and protection for the couple.

پشاور ہائی کورٹ کی آئینی و قانونی رہنمائی پر مکمل اعتماد ہے کہ انصاف کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ کاغذ پر ایک حکم لکھا...
24/02/2026

پشاور ہائی کورٹ کی آئینی و قانونی رہنمائی پر مکمل اعتماد ہے کہ انصاف کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ کاغذ پر ایک حکم لکھا گیا، مگر دلوں میں سوال ابھی باقی ہیں۔ امید ہاری نہیں، بس آزمائش میں ہے۔

الحمد اللہ! ایک اور فیملی کو Deportation سے روک لیا گیا-               -Origin-Card
23/02/2026

الحمد اللہ! ایک اور فیملی کو Deportation سے روک لیا گیا-
-Origin-Card

الحمدللہ !پشاور ہائی کورٹ میں ہم نے اپنے معزز کلائنٹ کی جانب سے POC کے حصول کے لیے آئینی درخواست دائر کی تھی، جو کہ عدال...
22/02/2026

الحمدللہ !
پشاور ہائی کورٹ میں ہم نے اپنے معزز کلائنٹ کی جانب سے POC کے حصول کے لیے آئینی درخواست دائر کی تھی، جو کہ عدالتِ عالیہ نے دلائل سننے کے بعد ہمارے مؤقف کے مطابق منظور فرمائی۔
عدالتی حکم کی روشنی میں اب الحمدللہ ہمارے کلائنٹ کو POC کا باقاعدہ ٹوکن بھی موصول ہو چکا ہے۔ یہ نہ صرف ہمارے کلائنٹ کے اعتماد کا نتیجہ ہے بلکہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مؤثر پیروی اور پیشہ ورانہ محنت کا ثمر بھی ہے۔







Be aware of your “Right”Police are your custodian .This post is about awareness, not confrontation. The law sets a 24-ho...
06/02/2026

Be aware of your “Right”

Police are your custodian .

This post is about awareness, not confrontation.

The law sets a 24-hour limit on arrest and detention to safeguard personal liberty.


your rights.
the knowledge

*پاکستان میں بچوں کی تحویل سے متعلق مقدمات میں مشترکہ سرپرستی (Joint Guardianship) کا تصور اور قانون*پاکستان میں بچوں کی...
25/01/2026

*پاکستان میں بچوں کی تحویل سے متعلق مقدمات میں مشترکہ سرپرستی (Joint Guardianship) کا تصور اور قانون*
پاکستان میں بچوں کی تحویل اور سرپرستی کا قانونی ڈھانچہ اب بھی بڑی حد تک 1890 اور 1964 میں بنائے گئے قوانین پر قائم ہے، حالانکہ معاشرتی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے، شہری آبادی میں اضافہ ہو چکا ہے، اور دوہری آمدنی والے خاندان عام ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود ہمارے ہاں تحویلِ طفل سے متعلق عدالتی تنازعات کو اکثر والدین کے درمیان ایک باہمی مقابلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، بجائے اس کے کہ یہ جانچا جائے کہ دونوں والدین مل کر بچے کی فلاح و بہبود کو کس طرح بہتر طور پر یقینی بنا سکتے ہیں۔
تاہم پاکستانی عدالتی نظائر میں ایک ارتقائی شعور بھی موجود ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے 2021 MLD 817 میں تحویل (custody) اور سرپرستی (guardianship) کے درمیان واضح فرق کیا گیا ہے جہاں تحویل سے مراد روزمرہ پرورش اور جذباتی نگہداشت ہے، جبکہ سرپرستی میں قانونی اختیار، نان و نفقہ اور بچے کی نمائندگی شامل ہیں۔ مزید برآں، گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ، 1890 کی دفعہ 15 پہلے ہی عدالتوں کو مشترکہ سرپرست مقرر کرنے کا اختیار دیتی ہے، لیکن بدقسمتی سے اس قانونی سہولت پر اب تک عدالتی سطح پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔
دنیا بھر میں خاندانی قوانین اب والدین کے حقوق کے بجائے ان کی ذمہ داریوں پر مبنی ماڈلز کی طرف منتقل ہو چکے ہیں، جن میں مشترکہ فیصلہ سازی، تعاون پر مبنی والدین سازی (co-parenting)، ثالثی (mediation) اور باقاعدہ پیرنٹنگ پلانز شامل ہیں۔ برطانیہ، آسٹریلیا، نیدرلینڈز، جنوبی افریقہ اور کینیڈا جیسے ممالک میں یہ طریقۂ کار اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب تک تشدد یا بدسلوکی کا کوئی عنصر موجود نہ ہو۔
اس کے برعکس، ہمارے ہاں عملی طور پر اکثر بچوں کو والدین کے باہمی تنازعات میں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جسے نفسیاتی اصطلاح میں والدین کی جانب سے بیگانگی پیدا کرنا (parental alienation) کہا جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف بچے کے جذباتی استحکام کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ اس بنیادی اصول کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے جس کے مطابق ہر فیصلہ بچے کی فلاح و بہبود کو مقدم رکھ کر کیا جانا چاہیے—چاہے وہ قانون میں ہو یا آئینی تشریح میں۔
لہٰذا یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ عدالتیں، قانون ساز ادارے اور وکلاء حضرات محض اس سوال تک خود کو محدود نہ رکھیں کہ تحویل کے مقدمے میں کون سا والدین کامیاب ہوگا، بلکہ اس بات پر توجہ دیں کہ علیحدہ ہونے کے باوجود والدین کس طرح باہمی ذمہ داری کے ساتھ بچے کے نفسیاتی، تعلیمی اور نشوونما سے متعلق مفادات کا تحفظ کر سکتے ہیں مشترکہ قانونی سرپرستی کے ذریعے اور جہاں مناسب ہو وہاں جسمانی تحویل کی مشترکہ ترتیب کے تحت۔
Copied

Judicial Attitude towards guardianship proceedings has evolved considerably but despite this evolution of judicial attitude, we have overlooked the idea that un

18/01/2026

TO Serve Humanity

ایک وزیر اعلی کو حفاظتی ضمانت کی کیا ضرورت پڑھ گئی ؟ پختونخواہ کی تاریخ میں یہ ذلت بھی لکھی گئی تھی، کچھ کرنا ہی تھا تو ...
05/10/2024

ایک وزیر اعلی کو حفاظتی ضمانت کی کیا ضرورت پڑھ گئی ؟ پختونخواہ کی تاریخ میں یہ ذلت بھی لکھی گئی تھی، کچھ کرنا ہی تھا تو صوبہ میں ترقیاتی کام کرلیتے، کارکردگی سے مقابلہ کرلیں،
اگر احتجاج و دھرنا سے ملزمان کی رہائی ہوتی تو سارے نشئی پوڈری اپنے برادری کے نشئی پوڈری کی رہائی کیلئے عدالت کے بجائے احتجاج کرتے،
پشاور ہائی کورٹ میں آج کے بعد ملزمان کی حاضری کیلئے ریڈ کارپٹ بیچایا جائیگا

Address

Office : 1st Floor Midway Plaza , Opposite Excise And Taxation Office Shami Road Peshawar Cantt
Peshawar
25000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dastoor Law Associates-DLA posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category