Adv Malak M Yaseen

Adv Malak M Yaseen Criminal Defence Lawyer At Criminal Defence Law Chamber, Peshawar Cantt KP, PAKISTAN
..⚖ 🏦..

Several meetings were held of International Human Rights Movement Team KP.
13/10/2024

Several meetings were held of International Human Rights Movement Team KP.

01/09/2024

فیک آئی ڈی سے ہوشیار
رہے
میرا کوئی اکاونٹ نہیں
اسکے علاوہ

01/09/2024
01/09/2024

ایک نامرد کی بیوی کی کہانی:
میرا شوہر نامرد ہے اور مجھے خلع چاہیے۔ وہ نکاح ختم کروانے کا عام سا کیس تھا۔
اچھی پڑھی لکھی فیملی تھی۔ دو پیارے سے بچے تھے کیوٹ اور معصوم سے۔ لیکن خاتون بضد تھی کہ اسکو ہر حال میں خلع چاہیے، جبکہ میرا موکل یعنی کہ (شوہر) شدید صدمے کی کیفیت میں تھا۔
جج صاحب بھی پورا کیس سنتے وقت کبھی حیرانی سے شوہر کو دیکھتے اور کبھی اس کی بیوی کو تو کبھی ان کے ساتھ کھڑے دو بچوں کو۔
جج صاحب اچھے آدمی تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپ میاں بیوی کو چیمبر میں لے جا کر صلح کی کوشش کرلیں شاید بات بن جائے۔ (شوہر) کا وکیل ہونے کے ناطے مجھے تو بہت خوشی ہوئی کیونکہ میں بحثیت وکیل یہ کیس ہار رہا تھا۔ میں نے فوری حامی بھر لی۔ جبکہ مدعیہ (بیوی) کے وکیل نے اس پر اچھا خاصہ ہنگامہ بھی کیا لیکن خاتون بات چیت کے لئیے راضی ہوگئی۔
چیمبر میں دونوں میاں بیوی میرے سامنے بیٹھے تھے:-
" ہاں خاتون ! آپ کو اپنے شوہر سے کیا مسئلہ ہے"؟ - -
"وکیل صاحب یہ شخص مردانہ طور پر کمزور ہیں اور نامرد ہیں۔"
میں اسکی بے باکی پر حیران رہ گیا۔ میرے منہ سے ایک موٹی سی گندی سی گالی نکلتے نکلتے رہ گئی۔ البتہ منہ میں تو دے ہی ڈالی۔ ویسے تو کچہری میں زیادہ تر بے باک خواتین سے ہی واسطہ پڑتا ہے لیکن اس خاتون کی کچھ بات ہی الگ تھی۔
اسکے شوہر نے ایک نظر شکایت اس پر ڈالی اور میری طرف امداد طلب نظروں سے گھورنے لگا۔ میں تھوڑا سا جھلا گیا کہ کیسی عورت ہے ذرا بھی شرم حیا نہیں ہے۔ دو بچوں کی ماں ہو کر بھی اپنے شوہر کو نامرد کہہ رہی ہے۔
بہرحال میں نے بھی شرم و حیا کا تقاضا ایک طرف رکھا اور تیز تیز سوال کرنا شروع کر دیے۔
جب اس سے پوچھا :-
" کیا تمہارا اپنے شوہر سے گزارہ نہیں ہوتا؟
تو وہ بیوی کہنے لگی:
" ماشاءاللہ دو بچے ہیں ہمارے۔ یہ جسمانی طور پہ تو بالکل ٹھیک ہیں مگر پھر بھی نامرد ہیں۔"
مجھے اس کی بات سے حیرت کا جھٹکا لگا کہ بچے بھی ہیں اور نامرد بھی، یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ عجیب عورت ہے۔
تو بی بی پھر مردانہ طور پر کمزور کیسے ہوئے؟
میں نے استفسار کیا۔۔۔
وکیل صاحب ! صرف ازدواجی زندگی سے اولاد ہو جائے یہ ہی مردانگی نہیں ہوتی بلکہ اور بھی ایسی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں میاں بیوی کے درمیان جس پر بیوی مرد سے مطمئن نہیں ہو پاتی اور مرد نا مرد ہی رہتا ہے۔
مجھے اس عورت کی منطق کسی بھی طرح سمجھ نہیں آئی تھی۔۔ مجھے حیرت تھی کہ وہ فقط مطمئن نہ ہونے پر کس طرح سے اپنے مرد کی عزت یوں کوٹ کچہری میں اچھال رہی ہے یہ معاملہ تو ان دونوں کے مابین بھی حل ہو سکتا تھا۔۔
میں نے اک نظر اٹھا کر اس کے شوہر کو دیکھا۔۔
جس کے چہرے پر اپنا سچ کھل جانے کا خوف لاحق تھا۔۔
آپ کو اگر خدا نے اولاد سے نواز رکھا ہے بی بی اور اگر یہ جسمانی طور پر بھی ٹھیک ہیں تو اگر آپ کو ان سب کے باوجود کسی دشواری کا سامنا ہے تو آپ ڈاکٹر سے رابطہ کر سکتی تھی یوں کوٹ کچہری آنا اس معاملے کا حل نہ تھا۔
میں نے غصے پر قابو کرتے جواب دیا
ان کی کمزوری کسی بھی ڈاکٹر سے دور نہ ہو سکتی تھی وکیل صاحب تبھی مجھے یہ راہ چننی پڑی۔۔
عجب عورت تھی اک تو انتہا کی بے باکی اوپر سے کمال کا کانفیڈینس۔ اور وجہ ایسی کہ کوئی اور ہوتا تو شرم سے ڈوب مرتا جانے یہ کیسی عورت تھی۔۔
اس کا حلیہ اس کی باتوں سے زرا نہ ملتا تھا مگر ہر کسی کے ماتھے پر تھوڑا ہی نہ لکھا ہوتا ہے کہ باطن بھی ظاہر جیسا ہے۔۔
بی بی ہر مسلے کا حل ہوتا ہے مجھے اب اس عورت پر غصہ آنے لگا تھا اور اس کے شوہر پر ترس۔۔
میں آپ کو ایک اچھے ڈاکٹر کا پتہ دیتا ہوں آپ وہاں جائیں سب بہتر ہو گا جہالت کی ضد میں آ کر گھر نہ توڑیں۔۔
میں نے اپنے غصے کو پس پشت ڈالتے اپنے فیملی ڈاکٹر کا ایڈریس دینے کا کہا جو کہ مردانہ کمزوری کا ماہر مانا جاتا تھا اور اپنی طرف سے ہر حد کوشش کر کے اس جاہل عورت کو اس اقدام سے روکنا چاہا۔۔
نہیں وکیل صاحب کبھی نہیں میں ان کا علاج کرانا دور ایسے مرد کے ساتھ اک منٹ نہیں رہوں گی۔۔
جانے وہ عورت کیوں اتنی ضد کر رہی تھی۔۔
جب آپ کی اولاد ہے تو پھر یہ بیماری اتنی بھی ںڑی بیماری نہیں۔ جانے آپ نے اس بیماری کو کیوں وجہ بنا رکھا ہے۔
اب کی بار میرا ضبط جواب دینے لگا تھا
بیماری ہے وکیل صاحب بیماری ہے۔۔
اب کی بار وہ بھی دبا دبا چلائی تھی۔۔
اگر ہے تو وضاحت کر دیں پھر۔۔
اگر وہ بے باک تھی اتنی تو اصل مدعے تک پہنچنے میں پھر میں نے بھی اپنی شرم اک طرف رکھی تھی۔۔
مگر جب وہ بولی تو مجھے حیرت اور شرمندگی کے سمندر نے آن گھیرا۔۔
صرف بچے پیدا کرنا ہی مردانگی نہیں ہوتی وکیل صاحب
میرے بابا دیہات میں رہتے ہیں اور زمینداری کرتے ہیں۔ پورا گاؤں کہتا ہے کہ ان جیسا مرد کبھی نہیں دیکھا۔ ماشاءاللہ گبھرو، بااخلاق اور انتہائی مدد کرنے والے انسان ہیں، ہمیشہ دوسروں کی بہو بیٹیوں کے سر پر ہاتھ رکھا۔
ہم دو بہنیں ہیں اور میرے والد نے ہمیں کبھی" دھی رانی" سے کم بلایا ہی نہیں جبکہ میرے شوہر مجھے" کتی " کہہ کے بلاتے ہیں - - -" یہ کونسی مردانہ صفت ہے وکیل صاحب ؟- - " اب بتائیں مرد میرے باپ جیسا شخص ہوا یا یہ کتی کہنے والا؟
مجھ سے کوئی چھوٹی موٹی غلطی ہوجائے تو یہ میرے پورے میکے کو ننگی ننگی گالیاں دیتے ہیں؟ - -" آپ ہی بتائیں جی اس میں میرے مائیکے کا کیا قصور ہے - - - یہ مردانہ صفت تو نہیں نا کہ دوسروں کی گھر والیوں کو گالی دی جائے - -
وکیل صاحب۔! میرے بابا مجھے شہزادی کہتے ہیں - - - اور یہ غصے میں مجھے " کنجری" کہتے ہیں - -
وکیل صاحب ! مرد تو وہ ہوتا ہے نا جو کنجری کو بھی اتنی عزت دے کہ وہ کنجری نہ رہے اور یہ اپنی بیوی کو ہی کنجری کہہ کر پکارتے ہیں - - - یہ کوئی مردانہ بات تو نہیں ہوئی نہ - - - ؟؟
وکیل صاحب اب آپ ہی بتائیں کیا یہ مردانہ طور پر کمزور نہیں ہیں" ؟ - -
میرا تو سر شرم سے جھک گیا تھا۔ اس کا شوہر بھی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔
میری اس سوچ کو وہ عورت واقع ہی سچ ثابت کر گئی تھی کہ ضروری نہیں جیسا باطن ہو ویسا ہی ظاہر بھی ہو
" اگر یہی مسئلہ تھا تو تم مجھے بتا سکتی تھیں نا۔ مجھ پر اس قدر ذہنی ٹارچر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔" ؟
شوہر منمنایا۔۔۔
" آپ کو کیا لگتا ہے آپ جب میری ماں بہن کے ساتھ ناجائز رشتے جوڑتے ہیں تو میں خوش ہوتی ہوں۔۔؟ - -
اتنے سالوں سے آپکا کیا گیا یہ ذہنی تشدد برداشت کر رہی ہوں اس کا کون حساب دے گا؟ "
جب آپ میری بہن اور ماں کو اتنی گندی گندی گالیاں اور باتیں کرتے ہیں آپ کیا جانیں میرے دل پر کیا گزرتی ہے۔ لیکن ہر چیز کی حد ہوتی اب مجھ سے یہ سب برداشت نہیں ہوتا۔
بیوی کا پارہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا۔۔
خیر جیسے تیسے منت سماجت کر کے سمجھا بجھا کے انکی صلح کروائی ۔۔
میرے موکل نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ اب کبھی اپنی بیوی کو گالی نہیں دے گا اور پھر وہ دونوں چلے گئے۔ اب ان کے گھر میں سکون ہے، چھوٹے موٹے مسائل تو گھروں میں آتے رہتے ہیں لیکن اب ان کے گھر پہلے والے حالات نہیں ہیں۔
جب یہ واقعہ ہوا تو میں کافی دیر تک وہیں چیمبر میں سوچ بچار کرتا رہا کہ گالیاں تو میں نے بھی اس خاتون کو اس کے پہلے جواب پر دل ہی دل میں بہت دی تھیں تو شاید میں بھی نامرد ہوں اور شاید ہمارا معاشرہ نامردوں سے بھرا پڑا ہے۔آپکی عورت نےاپنے ارمانوں کا سہرا آپ کے سر پر باندھا ھے اس کا مان مت توڑیں۔۔۔۔بلکہ اس کی تربیت اپنے مزاج کے مطابق کریں
منقول عورتیں اس معاشرے میں ۔

مولانا وحیدالدین خان کے سنہرے الفاظ ۔ اگر یہ باتیں سمجھ لی جائیں تو شخصیت سنور سکتی ہے ****شکایت، اعترافنفسیات کے اعتبار...
31/08/2024

مولانا وحیدالدین خان کے سنہرے الفاظ ۔ اگر یہ باتیں سمجھ لی جائیں تو شخصیت سنور سکتی ہے
****
شکایت، اعتراف

نفسیات کے اعتبار سے کسی انسان کے لیے سب سے زیاده آسان کام دوسروں کی شکایت ہے، اور سب سے زیاده مشکل کام دوسروں کا اعتراف ہے- یہ بات انسان کی نسبت سے ہے- لیکن جہاں تک فطرت کے قانون کا تعلق ہے، فطرت کے قانون کے مطابق دوسروں کی شکایت کرنے کا ذہن انسان کے اندر اعلی شخصیت کی تعمیر میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے- اس کے برعکس، دوسروں کا اعتراف کرنے کا ذہن انسان کے اندر اعلی شخصیت کی تعمیر میں سب سے زیاده معاون عنصر کی حیثیت رکهتا ہے-

کیوں ایسا ہے کہ دوسروں کی شکایت نہایت آسان ہے اور دوسروں کا اعتراف بےحد مشکل- اس کا سبب یہ ہے کہ شکایت کا مطلب دوسروں کی نفی ہے، اور اعتراف کا مطلب خود اپنی نفی ہے- جب آدمی کسی دوسرے کی شکایت کرتا ہے تو اس کو ایسا کرتے هوئے یہ احساس هوتا ہے کہ دوسرا شخص برا ہے اور میں اچها هوں- اس کے برعکس، دوسرے کا اعتراف کرنے کا مطلب یہ هوتا ہے کہ میں اچها نہیں هوں بلکہ دوسرا شخص اچها ہے-

آدمی کی سب سے بڑی کمزوری خودی ہے- شکایت کرتے هوئے آدمی کو اپنی خودی کے جذبے کی تسکین حاصل هوتی ہے- اس کے برعکس، دوسرے کا اعتراف کرتے هوئے آدمی کی خودی کو ٹهیس پہنچتی ہے- یہی فرق ہے جس کی بنا پر لوگوں کے لیے شکایت کرنا سب سے زیاده آسان کام بن گیا ہے، اور اعتراف کرنا سب سے زیاده مشکل کام-

حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں آدمی کے لئے امتحان کے پرچے ہیں- شکایت کا موقع بهی امتحان ہے، اور اعتراف کا موقع بهی امتحان- جس آدمی کا یہ حال هو کہ وه دوسروں کی شکایت تو کرے مگر وه دوسروں کا کهلا اعتراف نہ کرے، ایسا آدمی آزمائش میں ناکام هو گیا - ایسا آدمی اللہ کی رحمت کا مستحق نہیں بن سکتا-

الرسالہ، جون 2015
مولانا وحیدالدین خان.

29/08/2024

"-کسی کی زندگی کی گاڑی کو رکا ہوا دیکھیں ,
تو دھکا لگا دیں...!
کیا پتہ سٹارٹ ہو جائے !
یہ صرف ایک جملہ نہیں ہے,
یہ مرنے والے کے لیے زندگی ہے !
کسی غمگین کی مسکرائی آنکھیں ہیں ,
دھکا لگانا پتہ ہے کیا ہے ؟
تسلی کے دوبول .....
اگر کچھ نہ کر سکیں تو تسلی کے دوبول میں اس کا بوجھ ہلکا کر دیں,مشکل وقت میں ساتھ دینے والے چہرے کبھی نہیں بھولتے....
کسی کی خوشی کا سبب بن جائیں...
کیا پتہ اس کی دعائیں آپ کا مقدر بدل دیں!
زندگی میں ایسے موقعے ڈھونڈیں, یہ بہت قیمتی ہے ....

21/08/2024

میں حکیم نہیں ہوں، مگر آپ کو یہ باتیں بتانا چاہتا ہوں:

محبت ایک رزق ہے، اسے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ زندگی چاہے جتنی بھی لمبی ہو، بالآخر مختصر ہی لگتی ہے، اور ہر آغاز کا ایک اختتام ہوتا ہے۔ آج جو کچھ آپ نے سیکھا ہے، وہ کل آپ کے کام آئے گا۔

محافل میں زیادہ باتیں نہ کریں تاکہ آپ کا وقار برقرار رہے۔ مسکرائیں، خفا نہ رہیں۔ آج جو بھی کام آپ کر رہے ہیں، اس کا پھل آپ کو کل ملے گا۔

اپنے کام کو خوشی سے انجام دیں، نہ چیخیں نہ چِلائیں، کیونکہ یہ آپ کو فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ معاملات میں جلدبازی نہ کریں اور نہ ہی انہیں تاخیر سے کریں، اپنی زندگی میں توازن برقرار رکھیں۔ زیادہ شکایت نہ کریں، محنت سے کام کریں تاکہ ایسا وقت نہ آئے جب آپ کو پچھتاوا ہو۔

اپنے آپ سے صلح کریں، معاف کریں اور بھول جائیں، کیونکہ دل اور دماغ میں بوجھ لیے آپ زندگی کی مسافت طے نہیں کر سکتے۔ جو آپ کی عزت کرتا ہے، اس کی عزت کریں۔ کنجوس نہ بنیں تاکہ آپ تنہا نہ رہ جائیں، جتنا آپ دیں گے، اللہ آپ کو اس کا دوگنا عطا کرے گا۔ جن سے آپ محبت کرتے ہیں، ان کا حال احوال پوچھیں اور انہیں پیغام بھیجنے میں تاخیر نہ کریں، کیونکہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ سب کچھ برداشت کریں سوائے توہین کے، اپنی عزت نفس کے لیے ہر چیز قربان کریں۔

بچوں کی صحت کا راز کیا ہے؟شوہر کا اپنی بیوی سے محبت کرنا اور بیوی کا اپنے شوہر سے محبت کرنا بچوں کی صحت کا راز ہے۔ایک فی...
20/08/2024

بچوں کی صحت کا راز کیا ہے؟

شوہر کا اپنی بیوی سے محبت کرنا اور بیوی کا اپنے شوہر سے محبت کرنا بچوں کی صحت کا راز ہے۔
ایک فیملی سیمینار میں شرکت کرنے والے ایک حاضرین نے کہا:
"میں نے ایک تربیتی کورس میں شرکت کی جس میں 30 سے زیادہ شرکاء تھے۔ وہاں مقرر نے ایک سوال کیا:
'ماں اپنے بچوں کے لیے سب سے بہتر کیا کر سکتی ہے؟'
جوابات مختلف تھے: 'محبت، دین، اخلاص، تقوی، دوستی، کھلا ذہن، سکون، احسان' اور ان کے مترادفات۔
مقرر نے خاموش ہو کر کہا: 'آپ کے تمام جوابات تربیت میں بہت اہم ہیں۔ لیکن میری تحقیقات کے مطابق، جو چیز سب سے اہم ہے وہ یہ ہے:
'ماں اپنے بچوں کے لیے سب سے بہتر یہ کر سکتی ہے کہ وہ ان کے والد سے محبت کرے۔'
🖤 ازدواجی جھگڑے بچے کے دماغ کی نشوونما کو متاثر کر سکتے ہیں، اس کے منفی اثرات پہلے چند ماہ سے شروع ہو جاتے ہیں اور لمبے عرصے تک رہتے ہیں۔
ایک محقق کہتا ہے:
'ایک شخص میرے پاس آیا اور پوچھا کہ اپنے بچے کی تربیت کیسے کروں تاکہ وہ بڑا ہو کر ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لے سکے؟
میں نے جواب دیا: 'اگر آپ اپنے بچے کی ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں، تو گھر جائیں اور اپنی بیوی سے محبت کریں۔'
💗 'Go home and love your wife.'💗

خلاصہ یہ کہ
ایک محبت بھرا اور ہم آہنگ خاندان بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت میں حیرت انگیز بہتری لا سکتا ہے، اور یہ سب شوہر اور بیوی کی ایک دوسرے سے محبت کے ذریعے ممکن ہے۔
والدین کی محبت اور توجہ میں گھرا بچہ کم بیماریوں، کم ضد، کم تشدد، کم نفسیاتی مسائل، اور تعلیمی میدان میں بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔

(اگر آپ ذمہ داری اور شعور کے ساتھ والدین نہیں بن سکتے، تو ایسی روحوں کو کیوں جنم دیتے ہیں جو آپ کی سختی سے تکلیف میں ہوں؟)

افلاطون، جو کہ ایک مشہور یونانی فلسفی تھے، نے تقریباً اڑھائی ہزار سال قبل یہ کہا تھا کہ اگر معاشرے کے دو طبقات، یعنی تاج...
17/08/2024

افلاطون، جو کہ ایک مشہور یونانی فلسفی تھے، نے تقریباً اڑھائی ہزار سال قبل یہ کہا تھا کہ اگر معاشرے کے دو طبقات، یعنی تاجر طبقہ اور فوجی طبقہ، میں سے کوئی بھی طبقہ آگے بڑھ کر حکمرانی پر قبضہ کر لے تو ریاست میں تباہی ضرور آئے گی۔ ان کے خیالات آج بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور ان کی فلسفیانہ بصیرت نے سیاست، معیشت، اور معاشرتی ڈھانچے پر گہرا اثر ڈالا ہے۔

تاجر طبقہ.

افلاطون نے تاجر طبقے کی حکمرانی کے خطرات پر زور دیا تھا۔ ان کے مطابق، تاجر اپنے مفادات کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ جب تاجر حکمرانی کرتے ہیں، تو ان کی اولین ترجیح اپنی دولت اور کاروبار کو بڑھانا ہوتی ہے۔ اس طرح کی حکمرانی میں عوامی مفاد پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں اور ریاست کا نظام دولت کے ارتکاز اور خود غرضی پر مبنی ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً، عدم مساوات بڑھتی ہے، عوام میں عدم اطمینان پیدا ہوتا ہے، اور معاشرتی انتشار جنم لیتا ہے۔

فوجی طبقہ.

افلاطون نے فوجی طبقے کی حکمرانی کے نقصانات بھی بیان کیے۔ ان کے مطابق، فوجی حکمران جنگ و جدل اور طاقت کے استعمال پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ جب فوجی طبقہ حکمرانی کرتا ہے، تو ریاست میں عسکریت پسندی اور جبر کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اس طرح کی حکمرانی میں عوامی آزادیوں کو کچلا جاتا ہے، جمہوریت کا خاتمہ ہو جاتا ہے، اور انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے۔ فوجی حکمرانی کے نتیجے میں ریاست میں خوف و ہراس پھیلتا ہے اور عوام کا حکومت پر اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔

افلاطون کی مثالی ریاست.

افلاطون نے اپنی کتاب "جمہوریہ" (The Republic) میں ایک مثالی ریاست کا تصور پیش کیا تھا جس میں حکمرانی کرنے والے طبقے کو فلسفی بادشاہ (Philosopher King) کہا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک، فلسفی بادشاہ وہ ہوتا ہے جو عقل و دانش، اخلاقیات اور انصاف پر مبنی فیصلے کرتا ہے۔ وہ نہ تو تاجر کی طرح دولت کی ہوس رکھتا ہے اور نہ ہی فوجی کی طرح طاقت کی۔ فلسفی بادشاہ عوامی مفاد کو اولین ترجیح دیتا ہے اور معاشرتی انصاف کو فروغ دیتا ہے۔

موجودہ دور کے تناظر میں.

افلاطون کی یہ پیشگوئی آج کے دور میں بھی درست ثابت ہوتی ہے۔ کئی ممالک میں جہاں تاجر طبقہ یا فوجی طبقہ حکمرانی کر رہا ہے، وہاں معاشرتی عدم مساوات، بدعنوانی، جبر اور عوامی عدم اطمینان جیسے مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ان حالات میں افلاطون کے خیالات کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حکمرانی کا اصل مقصد عوامی خدمت اور انصاف کا قیام ہونا چاہیے، نہ کہ ذاتی مفادات کا حصول۔

افلاطون کے الفاظ آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ ان کی بصیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حکمرانی کے لئے ایسے افراد کی ضرورت ہے جو عقل و دانش، انصاف اور عوامی خدمت کے اصولوں پر مبنی ہوں۔ جب تک حکمرانی ایسے اصولوں پر مبنی نہیں ہوگی، تب تک ریاست میں حقیقی ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں ہوگی۔

شیخ سعد فرماتے ہیں .......تم اپنی ہزار غلطیوں کے باوجود اپنے آپ سے محبت کرتے ہو لیکن دوسروں کی ایک غلطی کی وجہ سے ان سے ...
13/08/2024

شیخ سعد فرماتے ہیں .......

تم اپنی ہزار غلطیوں کے باوجود اپنے آپ سے محبت کرتے ہو لیکن دوسروں کی ایک غلطی کی وجہ سے ان سے نفرت کیوں کرنے لگ جاتے ہو یا تو
خود غلطیاں کرنا چھوڑ دو
یا دوسروں کو معاف کرنا سیکھ لو

آپ کے اخلاق کی قدر بھی لوگ اس وقت کریں گے جب آپ کے پاس دولت اور طاقت ہو غریب کتنا ہی خوش اخلاق ہو لوگ اس کے اخلاق کو اس کی مجبوری سمجھتے ہیں

اگر مجھ میں کوئی عیب دیکھو تو مجھ سے ہی کہو کسی اور سے نہیں، کیونکہ اس عیب کو میں نے ہی بدلنا ہے کسی اور نے نہیں, اگر مجھ سے کہو تو "نصیحت" کہلائے گی اور ثواب لکھا جائے گا، اگر کسی اور سے کہو گے تو "غیبت" کہلائے گی گناہ لکھا جائے گا۔

میں پوری زندگی دو لوگوں کو تلاش کرنے کے باوجود تلاش نہیں کرسکا،ایک وہ جس نے خدا کی راہ میں خرچ کیا اور وہ غریب ہوگیا ہو، دوسراوہ جس نے ظلم کیاہواوراللہ کی پکڑسے بچ گیا ہو۔
❤️

اخلاق و علم. ❤️ﺷﻌﻮﺭ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺳﻄﺢ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﺪﮐﻼﻣﯽ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺑﺪﮐﻼﻣﯽ ﺳﮯ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ، ﺍﯾﻨﭧ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﭘﺘﮭﺮ ﺩﮮ ﻣﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ - ﺷ...
11/08/2024

اخلاق و علم. ❤️

ﺷﻌﻮﺭ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺳﻄﺢ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﺪﮐﻼﻣﯽ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺑﺪﮐﻼﻣﯽ ﺳﮯ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ، ﺍﯾﻨﭧ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﭘﺘﮭﺮ ﺩﮮ ﻣﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ -
ﺷﻌﻮﺭ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺳﻄﺢ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﺪﮐﻼﻣﯽ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﮐﻼﻣﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺎﻝ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ -
ﺷﻌﻮﺭ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺳﻄﺢ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ - ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺑﺮﮮ ﺍﺧﻼﻕ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺍﺧﻼﻕ ﺳﮯ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ -
ﺷﻌﻮﺭ ﮐﯽ ﯾﮩﯽ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺳﻄﺢ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﭼﮭﺎ ﺍﺧﻼﻕ ﭘﺮﻭﺍﻥ ﭼﮍﮬﺘﺎ ﮨﮯ۔ حصول علم کے لئے یہی تیسری سطح لازم ہے۔
اخلاق و علم لازم و ملزوم ہیں۔
P.C Ihtesham Zmarak .

Address

Peshawar High Court Bar Association, KP
Peshawar

Telephone

+923450436767

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Malak M Yaseen posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Adv Malak M Yaseen:

Share