Mughal Law Chamber

Mughal Law Chamber This is the official legal page of Mr. Ali Bakht Mughal Advocate Peshawar

Mother of Advocacy : The Mentor
21/02/2026

Mother of Advocacy : The Mentor

وکالت: عزت کا پیشہ، آزمائش کا سفرہمارے معاشرے میں اگر کسی پیشے کو بیک وقت عزت، وقار اور خدمت کا درجہ حاصل ہے تو وہ وکالت...
13/12/2025

وکالت: عزت کا پیشہ، آزمائش کا سفر

ہمارے معاشرے میں اگر کسی پیشے کو بیک وقت عزت، وقار اور خدمت کا درجہ حاصل ہے تو وہ وکالت ہے۔ یہ محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسا فریضہ ہے جس کے ذریعے فرد معاشرے میں انصاف، آگاہی اور قانونی شعور پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ وکیل وہ پل ہے جو عام شہری کو ریاستی نظامِ انصاف سے جوڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وکالت کو ہمیشہ سے ایک “معزز پیشہ” سمجھا جاتا ہے۔
مگر اس روشنی کے پیچھے ایک کڑا امتحان بھی چھپا ہوا ہے—وہ امتحان جو ہر نئے وکیل کو دینا پڑتا ہے۔ جب نوجوان بار میں قدم رکھتا ہے تو حقیقت اس کی توقعات سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔ عدالتوں کی راہداریوں میں گھنٹوں کھڑے رہنا، تاریخوں کا پیچھا کرنا، آرڈر شیٹ کے لیے چکر لگانا، اور سینئرز کی مصروفیات کے باعث رہنمائی کا محدود ہونا… یہ سب ایک نئے وکیل کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔
چیمبر کا ماحول بظاہر سیکھنے کا بہترین مقام ہے، مگر یہاں بھی ایک نئے وکلاء کو کسی قسم کا مالی فائدہ، وظیفہ یا تنخواہ نہیں ملتی۔ وہ صبح سے شام تک محنت کرتے ہیں، فائلیں تیار کرتے ہیں، ڈرافٹس لکھتے ہیں، کیس فائلز پڑھتے ہیں، پیشیوں کا انتظام کرتے ہےاور بدلے میں صرف تجربہ حاصل کرتے ہیں۔ اگرچہ یہی تجربہ آگے چل کر ان کا سب سے بڑا اثاثہ بنتا ہے، لیکن ابتدا میں یہ مرحلہ نہایت کٹھن اور بھاری ہوتا ہے۔
مگر انہی آزمائشوں میں وکیل کی اصل شخصیت تشکیل پاتی ہے۔ وہ صبر، تحمل، گفتگو کا سلیقہ، قانونی باریک بینی، مؤثر دلائل، اور عدالت کے آداب سیکھتا ہے۔ یہی وہ خصوصیات ہیں جو ایک عام قانون گریجویٹ کو ایک تجربہ کار وکیل میں تبدیل کرتی ہیں۔
وکالت میں شہرت، وقار اور مقام راتوں رات نہیں ملتا۔ یہ ان گنت صبحوں اور شاموں، ہزاروں پیرویوں، سینکڑوں دلائل، اور برسوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جو لوگ ان مشکلات کا سامنا کر لیتے ہیں، وہی آگے جا کر کامیاب وکلاء، ججز، قانونی ماہرین اور رہنما بن کر سامنے آتے ہیں۔
آخر میں حقیقت یہی ہے کہ وکالت ایک ایسا پیشہ ہے جو پہلے انسان کو آزماتا ہے، پھر سکھاتا ہے، اور آخر میں عزت سے نوازتا ہے۔ یہ سفر مشکل ضرور ہے، مگر اس کی منزل باوقار، روشن اور شان دار ہوتی ہے۔

ایک بار ایک سائنسی تجربہ میں ایک مینڈک کو ٹھنڈے پانی کے برتن میں ڈال دیا گیا۔مینڈک آرام سے بیٹھ گیا، کیونکہ پانی کا درجہ...
23/11/2025

ایک بار ایک سائنسی تجربہ میں ایک مینڈک کو ٹھنڈے پانی کے برتن میں ڈال دیا گیا۔
مینڈک آرام سے بیٹھ گیا، کیونکہ پانی کا درجہ حرارت اس کے لیے بالکل ٹھیک تھا۔
پھر برتن کے نیچے آگ جلائی گئی، آہستہ آہستہ پانی کا درجہ حرارت بڑھنے لگا۔
(مینڈک کی ایک خوبی ہے کہ وہ بدلتے درجہ حرارت کے مطابق اپنے جسم کو ڈھال لیتا ہے تاکہ سردی/گرمی کو آسانی سے برداشت کر سکے۔)

پانی ہلکا سا گرم ہوا۔
مینڈک نے اسے محسوس کیا، لیکن وہ گھبرایا نہیں۔
وہ اپنے جسم کا درجہ حرارت بدل کر پانی کے مطابق ڈھل گیا۔
اسے لگا،
"اتنی سی گرمی سے کیا ہوتا ہے... میں سنبھال لوں گا۔"

پانی مزید گرم ہوتا گیا،
مینڈک نے پھر خود کو درجہ حرارت کے مطابق کر لیا۔
وہ سوچتا رہا،
"شکر ہے کہ مجھ میں حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت ہے، کوئی اور ہوتا تو مر ہی جاتا۔"

پھر پانی ابلنے کے قریب پہنچ گیا۔
اب مینڈک کی برداشت ختم ہونے لگی تھی۔
وہ چھلانگ لگانا چاہتا تھا... ںاہر نکلنا چاہتا تھا۔
لیکن اب اس کے پاس ہمت بچی تھی اور نہ ہی طاقت۔

آخرکار پانی کھولنے لگا،
اور مینڈک گرم پانی میں ہی مر گیا۔

تجربہ کرنے والے نے افسوس سے کہا،
"اگر مینڈک کو ابلتے ہوئے پانی میں پھینکتے، تو وہ فوراً چھلانگ لگا کر باہر آ جاتا...
لیکن آہستہ آہستہ بدلتی ہوئی تکلیف نے اسے موت کے دہانے تک پہنچا دیا۔ وہ ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے میں لگا رہا، یہاں تک کہ حالات اس کی برداشت سے باہر ہوگئے۔ وہ سمجھ ہی نہ پایا کہ کب بھاگنا ہے۔"

کہانی کا سبق: Boiling Frog Syndrome

یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ،

کچھ حالات، رشتے، نوکریاں یا ماحول ہمیں ایک دم سے نقصان نہیں پہنچاتے۔

بلکہ آہستہ آہستہ ہمیں کھوکھلا کر دیتے ہیں کہ ہمیں تبدیلی کا احساس بھی نہیں ہوتا۔

ہم ہر مشکل کو
"چلنے دو... ابھی ٹھیک ہو جائے گا"
سمجھ کر برداشت کرتے رہتے ہیں۔

اور جب تک ہمیں خطرے کا اندازہ ہوتا ہے...
تب تک چھلانگ لگانے کی ہمت یا طاقت باقی نہیں رہتی۔

اسی لیے زندگی میں بہت ضروری ہے کہ،

حالات کا جائزہ لیتے رہیں،

بر وقت فیصلہ کرنے کی ہمت پیدا کریں،

اور ایسی جگہ، ایسی حالت یا ایسے رشتے میں نہ رہیں
جہاں گرمی/تلخی یا تنہائی آہستہ آہستہ آپ کو ختم/کھوکھلا کر رہی ہو۔

The Five Writs: Guardians of Justice and Liberty1. Habeas CorpusThe writ of Habeas Corpus is known as the “great writ of...
04/11/2025

The Five Writs: Guardians of Justice and Liberty

1. Habeas Corpus
The writ of Habeas Corpus is known as the “great writ of liberty.” It is issued to protect an individual’s personal freedom by ensuring that no person is unlawfully detained or imprisoned. Through this writ, the court commands the detaining authority to present the person before it and justify the detention. If the detention is found to be illegal, the court orders the immediate release of the individual. This writ safeguards the fundamental right to life and liberty, ensuring that no one is deprived of freedom without due process of law.

2. Mandamus
The writ of Mandamus literally means “we command.” It is issued by a superior court to a public authority, directing it to perform a duty that it is legally obligated to carry out but has failed or refused to do. This writ ensures accountability and the proper functioning of public offices. It cannot, however, be issued against a private individual or to compel a discretionary act. The purpose of Mandamus is to prevent injustice caused by inaction or negligence of public officials.

3. Prohibition
The writ of Prohibition is preventive in nature. It is issued by a higher court to a lower court, tribunal, or authority, restraining it from exceeding its jurisdiction or acting contrary to the law. This writ ensures that subordinate courts do not assume powers beyond their legal limits. It is an important safeguard against judicial overreach and protects the legal process from being abused or misused by inferior judicial bodies.

4. Certiorari
The writ of Certiorari is corrective in nature. It is issued by a higher court to a lower court or tribunal to review and quash an order or decision passed without jurisdiction or in violation of the principles of natural justice. This writ helps maintain judicial discipline and ensures that justice is administered lawfully. It acts as a powerful tool for correcting judicial errors and protecting citizens from unlawful judgments or proceedings.

5. Quo Warranto
The writ of Quo Warranto literally means “by what authority.” It is issued to inquire into the legality of a person’s claim to hold a public office. Through this writ, the court examines whether a person is lawfully entitled to occupy a position of authority. If the appointment is found to be illegal or unconstitutional, the court can restrain the person from continuing in office. This writ promotes transparency and prevents misuse of public positions.

Together, these five writs form the backbone of constitutional justice, ensuring that both individuals and authorities remain accountable to the law and that fundamental rights are preserved for every citizen.

ڈاکٹر /وکیل بھی ہوتو کو کیس کا ڈرافٹ ایسے ہی ہوتا ہے۔۔۔ 😜😝آپریشن کہی بھی کرسکتا ہے
04/11/2025

ڈاکٹر /وکیل بھی ہوتو کو کیس کا ڈرافٹ ایسے ہی ہوتا ہے۔۔۔ 😜😝آپریشن کہی بھی کرسکتا ہے

📜 حکومت کا 27ویں آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ — بڑی آئینی تبدیلیوں کا عندیہ!ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے آئین پاکستان میں ...
03/11/2025

📜 حکومت کا 27ویں آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ — بڑی آئینی تبدیلیوں کا عندیہ!

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے آئین پاکستان میں 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ تیار کر لیا ہے، جس کے ذریعے ملک کے آئینی، انتظامی اور عدالتی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔
ترمیم کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں 👇

1️⃣ آئینی عدالت کا قیام:
مجوزہ ترمیم میں سپریم کورٹ کے آئینی اختیارات کو محدود کر کے ایک علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جو صرف آئینی نوعیت کے مقدمات سننے کی مجاز ہوگی۔

2️⃣ ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی بحالی:
2001 کے بعد ختم ہونے والا نظام دوبارہ لانے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت انتظامی افسران (ACs, DCs) کو عدالتی اختیارات حاصل ہوں گے۔
اس سے عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان اختیارات کی لکیر دوبارہ دھندلی ہو سکتی ہے۔

3️⃣ ججوں کے تبادلے کا نیا نظام:
ججوں کے تبادلوں کے طریقہ کار میں ترمیم کی تجویز ہے تاکہ ہائی کورٹس کے ججوں کو مرکزی اتھارٹی کے ذریعے تبدیل کیا جا سکے — جو عدلیہ کی خودمختاری پر بحث چھیڑ سکتا ہے۔

4️⃣ این ایف سی ایوارڈ میں صوبائی حصے کا خاتمہ:
یہ نکتہ سب سے زیادہ متنازع قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر این ایف سی میں صوبوں کے حصے کے تحفظ کی شق ختم کی گئی تو صوبائی حکومتوں کے اختیارات اور مالی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔

5️⃣ آرٹیکل 243 میں ترمیم:
یہ آرٹیکل پاک افواج کی کمان سے متعلق ہے۔ ترمیم کی صورت میں سول اور عسکری اختیارات کے توازن میں تبدیلی ممکن ہے۔

6️⃣ تعلیم اور آبادی کے اختیارات وفاق کو واپس:
18ویں ترمیم کے بعد یہ اختیارات صوبوں کو دیے گئے تھے، اب انہیں واپس وفاق کے پاس لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس سے صوبائی خودمختاری پر ایک بار پھر سوال اٹھ سکتا ہے۔

7️⃣ الیکشن کمیشن کی تقرری میں نیا فارمولا:
وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان جاری تعطل ختم کرنے کے لیے ایک نیا میکنزم متعارف کرانے کی تجویز ہے تاکہ الیکشن کمیشن کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔

یہ تمام تجاویز اگر پارلیمان سے منظور ہو جاتی ہیں تو آئین پاکستان کی روح، اختیارات کی تقسیم، اور وفاق و صوبوں کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں، صوبائی حکومتیں اور وکلاء برادری اس ترمیمی مجوزہ بل پر کیا مؤقف اختیار کرتی ہیں۔

✍️ رائے دیں: کیا 27ویں آئینی ترمیم پاکستان کے لیے درست سمت ہے یا یہ 18ویں ترمیم کے ثمرات کو ختم کرنے کی کوشش؟












ایک وکیل صاحب نے ساری عمر وکالت کی اور جب بڑی عمر کے پیش نظر وکالت سے دستبرداری اختیار کی تو اپنے سارے مقدمات اپنے بیٹے ...
27/10/2025

ایک وکیل صاحب نے ساری عمر وکالت کی اور جب بڑی عمر کے پیش نظر وکالت سے دستبرداری اختیار کی
تو اپنے سارے مقدمات اپنے بیٹے کو دیئے
جو کہ اب خود بھی ایک نامور وکیل تھا۔

چند ماہ بعد بیٹے نے ایک مقدمے کی فائل والد کے سامنے پیش کی اور کہا کہ آپ ساری عمر یہ مقدمہ لڑتے رہے مگر مقدمہ نہ جیت سکے اور میں نے چھ ماہ میں ہی یہ مقدمہ جیت لیا۔ والد نے ایک اچٹتی ہوئی نظر فائل پر ڈالی اور دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگئے،

بیٹے کو بہت غصہ آیا تو اس نے کہا اگر آپ اپنی ناکامی کا اعتراف نہیں کر سکتے تو کم از کم مجھے میری کامیابی پر مبارکباد تو دے ہی سکتے ہے،
والد نے سر اٹھا کر بیٹے کی طرف دیکھا اور کہا

"تم بیوقوف ہو"۔
تم سب بھائی بہنوں کو میں نے اس مقدمے سے پڑھایا لکھایا اور میں نے یہ مقدمہ تمھیں تمھارے بچوں کیلئے دیا تھا اور تم نے خود ہی اپنی آمدنی کا ذریعہ بند کردیا تو بتاؤ میں تمھیں بیوقوف نہ کہوں
تو پھر کیا کہوں….

صدر مملکت  آصف علی زرداری نے نئے پیکا بل پر دستخط کردیے۔بغیر تصدیق کیے کوئی بھی خبر وائرل کرنے سے پہلے اب سو بار سوچئے گ...
20/10/2025

صدر مملکت آصف علی زرداری نے نئے پیکا بل پر دستخط کردیے۔
بغیر تصدیق کیے کوئی بھی خبر وائرل کرنے سے پہلے اب سو بار سوچئے گا کہیں یہ خبر غلط ہوگئی تو پھر 3 سال کیلئے جیل جانا پڑے گا۔ جس گروپ میں غلط خبر شیئر کی جائیگی اگر اس گروپ ایڈمن نے وہ خبر ڈلیٹ نہیں کی تو وہ بھی شریک جرم ہوگا اور اگر وہ بے خبر رہا پھر بھی سزا ہو گی۔
ایڈمن حضرات نوٹ فرمالیں۔

Continuously serving the students of Khyber Medical University Peshawar by protecting their right of education.
17/10/2025

Continuously serving the students of Khyber Medical University Peshawar by protecting their right of education.

Stay granted by the Court allowing the student to sit / appear in the ongoing examination of 5th Semester of Occupationa...
29/05/2025

Stay granted by the Court allowing the student to sit / appear in the ongoing examination of 5th Semester of Occupational Therapy at Khyber Medical University, Peshawar.

"میں شرمندہ ہوں کہ آپ کو جہاز تحفے میں نہیں دے سکتا۔‘‘ جنوبی افریقی صدر سیرل راموفوسا کا یہ جملہ نیلسن منڈیلا اور رابرٹ ...
22/05/2025

"میں شرمندہ ہوں کہ آپ کو جہاز تحفے میں نہیں دے سکتا۔‘‘

جنوبی افریقی صدر سیرل راموفوسا کا یہ جملہ نیلسن منڈیلا اور رابرٹ موگابے کے چند ضرب المثل اقوال کے بعد افریقی تاریخ کا سب سے طاقتور جملہ ہے _

امریکی صدر ٹرمپ نے جنوبی افریقہ کے دورے کے دوران جب سیرل راموفوسا کو مخاطب کر کے کہا کہ " آپ کے دورِ صدارت میں نسل پرستانہ فسادات کو کافی ہوا ملی ہے تو جواباً افریقہ صدر نے کہا کہ

"جناب مجھے افسوس ہے میں آپ کو تحفے میں جہاز نہیں دے سکتا"_

اس طنزیہ جواب پر کمرے میں ہلکا سا قہقہہ سنا گیا مگر یہ جواب سمجھنے والوں کے لیے بہت بھاری ہے، امریکی صدر ٹرمپ ابھی حال ہی میں سعودی عرب ، قطر ، یو اے ای کے دورے کر کے گئے ہیں جہاں انہیں ہزاروں ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری اور جہاز تک تحفے میں ملے ، جواباً ٹرمپ نے نا فلسطین میں جاری ظلم پر ایک لفظ بولا ، نا سعودیہ اور یو اے ای کی پشت پناہی کی وجہ سے خلیج کی تباہ ہوتی صورتحال پر افسوس کا ایک لفظ ان کے منہ سے نکلا ، افریقی صدر نے صاف بتا دیا کہ جناب اگر میں بھی آپ کو جہاز تحفے میں دی سکتا تو آپ سعودیہ اور یو اے ای کی طرح ہماری بھی تعریفیں کرتے رخصت ہوتے _

اب والدین میں سے کوئی بھی بچے کو دوسرے کی رضامندی کے بغیر خفیہ یا دھوکہ دہی سے بیرون ملک نہیں لے جا سکے گا۔ پاکستان میں ...
22/04/2025

اب والدین میں سے کوئی بھی بچے کو دوسرے کی رضامندی کے بغیر خفیہ یا دھوکہ دہی سے بیرون ملک نہیں لے جا سکے گا۔

پاکستان میں فیملی لاز ایکٹ 1964 میں "ہیگ کنونشن 1980" کے مطابق ایک ترمیم کی گئی ہے جس کے مطابق "اگر شوہر یا بیوی بچے کو دوسرے سے الگ کرتے ہیں اور اسے ملک سے باہر لے جاتے ہیں، تو یہ بین الاقوامی اغوا تصور کیا جائے گا اور حکومت بچے کو اس کے ملک واپس لانے کی پابند ہوگی"

Address

Peshawar
25000

Opening Hours

Monday 08:00 - 21:00
Tuesday 08:00 - 21:00
Wednesday 08:00 - 21:00
Thursday 08:00 - 21:00
Friday 08:00 - 21:00
Saturday 08:00 - 21:00

Telephone

+923157545626

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mughal Law Chamber posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Mughal Law Chamber:

Share