Adv Javed Afridi

Adv Javed Afridi The power of lawyer is in the uncertainty of the law

03/02/2026

v Stewart (1772)



Somerset v Stewart ایک اہم تاریخی مقدمہ ہے جس میں انگلینڈ میں غلامی کی قانونی حیثیت پر فیصلہ دیا گیا۔ یہ مقدمہ انسانی آزادی کے اصول کو واضح کرتا ہے۔

---



* جیمز سومرسیٹ ایک افریقی غلام تھا۔
* اس کا مالک چارلس سٹیورٹ، ایک سکاٹش تاجر، تھا۔
* سٹیورٹ نے سومرسیٹ کو ورجینیا (امریکہ) سے خریدا۔
* 1769 میں وہ سومرسیٹ کو اپنے ساتھ انگلینڈ لے آیا۔
* سومرسیٹ نے انگلینڈ میں آزادی کے لیے فرار کی کوشش کی۔
* مالک نے اسے زبردستی جہاز پر باندھ کر دوبارہ امریکہ بھیجنے کا حکم دیا۔
* انسدادِ غلامی کے کارکنان نے سومرسیٹ کی طرف سے عدالت میں درخواست دائر کی۔

---

Issue

* کیا انگلینڈ میں غلامی جائز ہے؟
* کیا کوئی شخص انگلینڈ میں کسی دوسرے انسان کو غلام بنا کر رکھ سکتا ہے یا زبردستی ملک سے باہر بھیج سکتا ہے؟



**جج:** لارڈ منسفیلڈ (چیف جسٹس)

**تاریخ:** 22 جون 1772

عدالت نے فیصلہ دیا کہ انگلینڈ میں غلامی کے حق میں کوئی واضح قانون موجود نہیں۔ اس لیے کسی غلام کو زبردستی ملک سے باہر نہیں بھیجا جا سکتا۔

**نتیجہ:** جیمز سومرسیٹ کو آزاد قرار دیا گیا۔

of Decision

یہ فیصلہ محدود (Narrow) تھا، مگر اس نے غلامی کے خلاف ایک مضبوط قانونی اصول قائم کیا۔

---



* اس فیصلے نے برطانیہ میں غلامی کے خلاف تحریک کو تقویت دی۔
* بعد میں 1833 میں Slavery Abolition Act منظور ہوا۔

---



قانون انسانی آزادی اور انصاف کی حفاظت کر سکتا ہے، چاہے روایات کتنی ہی پرانی کیوں نہ ہوں۔

09/12/2025

Principle of harm

جرم قرار دینے کے متعلق فیصلے کس بنیاد پر ہونے چاہئیں، اس پر غور کرنے والوں کی ایک معروف ابتدا "ضرر کا اصول" ہے۔ یہ اصول، جسے سب سے مشہور طور پر جے۔ ایس۔ مل نے بیان کیا، کہتا ہے کہ کسی رویے کو اُس وقت تک جرم نہیں بنایا جانا چاہیے جب تک کہ وہ رویہ کسی دوسرے شخص کو نقصان نہ پہنچائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو رویہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا، اُسے جرم قرار نہیں دینا چاہیے، خواہ لوگ اسے غیر اخلاقی ہی کیوں نہ سمجھتے ہوں۔ مثلاً ناک میں انگلی ڈالنا ناپسندیدہ ہو سکتا ہے، لیکن اس سے کسی کو نقصان نہیں ہوتا، اس لیے "ضرر کے اصول" کے مطابق یہ قابلِ سزا جرم نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس اصول کا کردار محدود ہے—یہ ہمیں یہ تو بتاتا ہے کہ کون سا رویہ جرم نہیں ہونا چاہیے، یعنی جو نقصان دہ نہیں، مگر یہ نہیں بتاتا کہ کون سا رویہ ضرور جرم ہونا چاہیے۔

"ضرر کے اصول" کا بنیادی مقصد اخلاقی بنیادوں پر سزا دینے (Moralism) کی مخالفت کرنا ہے۔ اخلاق پرست (Moralists) چاہتے ہیں کہ قانون کے ذریعے لوگوں پر اخلاقی معیار نافذ کیے جائیں۔ اس موضوع پر ایک مشہور بحث لارڈ ڈیولن اور ہربرٹ ہارٹ کے درمیان ہوئی، جو 1960 کی دہائی میں وولفنڈن رپورٹ کے پس منظر میں ہم جنس پرست جنسی سرگرمی کو جرم قرار دینے کے بارے میں لکھ رہے تھے، مگر ان کی بحث عمومی طور پر اخلاقیات کو قانون کے ذریعے نافذ کرنے سے متعلق تھی۔

لارڈ ڈیولن کا مؤقف تھا کہ معاشرے کے لیے ایک مشترکہ اخلاقی نظام ہونا ضروری ہے۔ اگر اس مشترکہ اخلاقی نظام کی خلاف ورزی ہو تو اس سے معاشرے کے ڈھانچے اور سکیورٹی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ لہٰذا معاشرہ اپنے اخلاقی بنیادوں کے تحفظ کے لیے ایسے افعال کو بھی جرم قرار دے سکتا ہے جو دوسروں کو نقصان تو نہیں پہنچاتے، مگر اخلاقیات کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے جذبات کی شدت یہ دکھاتی ہے کہ ممنوعہ (taboo) رویہ معاشرے کی اخلاقی اساس کا اہم حصہ ہے۔

آج بہت کم لوگ لارڈ ڈیولن کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔ ایک اعتراض یہ ہے کہ ماضی میں شاید کوئی "مشترکہ اخلاقیات" رہی ہو، لیکن آج کے متنوع معاشرے میں—جہاں مذہبی، اخلاقی اور سیاسی خیالات کی وسیع اقسام موجود ہیں—کسی مشترکہ اخلاقیات کا تعین مشکل ہے۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر واقعی کوئی مشترکہ اخلاقیات موجود بھی ہو، تو چند افراد کی خلاف ورزی سے معاشرے کی اخلاقی بنیادیں برباد ہونے کا امکان نہیں۔ مثلاً ملک کے کسی گوشے میں چند لوگ اگر اندھیرے میں نکاحِ ثانی (bigamy) یا جانوروں کے ساتھ عملِ بد (be******ty) کر رہے ہوں تو وہ معاشرے کے بڑے اخلاقی اصولوں کو کوئی حقیقی خطرہ نہیں پہنچا رہے۔

ایک مضبوط اعتراض یہ بھی ہے کہ افراد کو اپنی زندگی اپنی مرضی کے مطابق گزارنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ صرف اس لیے کسی کو کسی خاص طریقے سے عمل کرنے پر مجبور کرنا کہ دوسرے لوگ اسے غیر اخلاقی سمجھتے ہیں، ناانصافی ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں بہت کم اخلاق پرست لوگ بااثر ہیں۔ کوئی سیاستدان اگر یہ کہے کہ نکاح کے بغیر جنسی تعلق جرم ہونا چاہیے کیونکہ یہ گناہ ہے، تو وہ سیاسی طور پر کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اخلاقیات کا کوئی تعلق فوجداری قانون سے نہیں۔ جب کسی شخص کو کسی جرم پر سزا ملتی ہے تو معاشرہ اس کے عمل کی مذمت کرتا ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنی عادت بدل لے اور آئندہ ایسا نہ کرے۔ اسی طرح قانون ایسے لوگوں کو سزا سے مستثنیٰ کرتا ہے جو اخلاقی طور پر بے قصور ہوں، جیسے بچے یا شدید ذہنی بیماری والے افراد۔ اس لیے فوجداری سزا اب بھی اخلاقی مذمت کا پیغام رکھتی ہے۔

اگرچہ "ضرر کا اصول" اہم اور بااثر ہے، مگر اس کے بنیادی تصور—"ضرر"—کی تعریف پر ہمیشہ اختلاف رہا ہے۔ نقصان سے متعلق چند بڑے سوال یہ ہیں:

---

کیا خود کو نقصان پہنچانا بھی اس اصول میں شامل ہے؟

جو رویہ دوسروں کو نقصان پہنچائے وہ تو یقینی طور پر سزا کے قابل ہو سکتا ہے، لیکن اگر کوئی شخص اپنے آپ کو نقصان پہنچائے تو کیا یہ بھی جرم ہونا چاہیے؟ کیا خود کو چوٹ پہنچانا جرم ہونا چاہیے؟

قانون میں کچھ ایسے قواعد ضرور ہیں جو لوگوں کو خود اپنی بے وقوفی سے بچانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ مثلاً سیٹ بیلٹ باندھنا لازم ہے۔ لیکن عمومی طور پر قانون لوگوں کو اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی اجازت دیتا ہے، جیسے:

غیر صحت بخش کھانا کھانا

نامناسب لوگوں سے تعلقات رکھنا

خطرناک کھیل کھیلنا

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ قانون کو کبھی بھی لوگوں کو خود سے بچانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے—ایسا کرنا اخلاق پرستی بن جاتا ہے۔

---

کیا دوسروں کو تکلیف (offence) پہنچانا نقصان ہے؟

Gough v DPP (2013) میں ایک ایسے شخص کی اپیل سنی گئی جو کئی سالوں سے برطانیہ میں ننگا گھومتا تھا۔ اس کی سزا پر اختلاف ہوا۔ کچھ لوگ شاید اس سے ناراض یا شرمندہ ہوئے ہوں، لیکن کیا اس نے واقعی کسی کو حقیقی نقصان پہنچایا؟

اگر "تکلیف" کو بھی ضرر سمجھ لیا جائے، تو پھر سوال اٹھتا ہے:

کتنے لوگوں کا ناراض ہونا ضرر کہلائے گا؟

اگر ہم اجازت دیں کہ صرف اکثریت کے ناراض ہونے پر سزا دی جائے، تو کیا ایسا رویہ جس سے ایک اقلیتی گروہ شدید تکلیف محسوس کرے، جائز ہو جائے گا؟

یہ تب امتیاز اور ناانصافی کو بڑھا سکتا ہے۔

---

کیا صرف نقصان کا خطرہ بھی شامل ہے؟

کیا وہ رویہ جو خود نقصان نہیں پہنچاتا لیکن نقصان کے خطرے کا باعث بنتا ہے، اسے بھی جرم بنایا جا سکتا ہے؟

لفظی طور پر تو "ضرر کا اصول" ایسی سزا کی اجازت نہیں دیتا، مگر اصول کے زیادہ تر حامی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایسا رویہ جرم ہونا چاہیے جو دوسروں کے لیے سنگین خطرہ بنے۔

مثلاً:

شراب پی کر گاڑی چلانا
اگرچہ ڈرائیور کسی کو نقصان پہنچائے بغیر گھر پہنچ سکتا ہے،
مگر اس عمل میں دوسروں کے لیے شدید خطرہ موجود ہے۔

سوچنے کا سوال

کیا کسی شخص کے لیے سیکس ورک کرنے والی خاتون/شخص کو پیسے دے کر جنسی تعلق قائم کرنا غیر قانونی ہونا چاہیے؟
ایک اخلاق پرست (moralist) یہ موقف اختیار کرے گا کہ یہ عمل غیر اخلاقی ہے، اس لیے اسے صرف اسی بنیاد پر جرم قرار دیا جانا چاہیے۔
ضرر کے اصول کے مطابق، یہ تب ہی جرم ہوگا جب کسی کو نقصان پہنچے۔

یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس عمل کا نقصان وسیع معاشرے میں پایا جا سکتا ہے، کیونکہ کہا جاتا ہے کہ جسم فروشی خواتین کے بارے میں منفی رویوں کو فروغ دیتی ہے، خصوصاً جب زیادہ تر سیکس ورکرز عورتیں ہوں۔ ایک اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ بہت سی عورتیں اسمگلنگ یا زبردستی کے ذریعے جسم فروشی میں لائی جاتی ہیں، اور جو شخص ان خدمات کا استعمال کرتا ہے وہ یا تو انسانی اسمگلنگ کی متاثرہ عورت سے جنسی تعلق قائم کر رہا ہوتا ہے یا ایسی صنعت کو فروغ دے رہا ہوتا ہے جو اسمگلنگ کو بڑھاتی ہے۔ دونوں صورتوں میں اسے نقصان دہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

ان دلائل میں سے کون سا زیادہ مؤثر لگتا ہے؟
کیا آپ کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ کتنی سیکس ورکرز مکمل رضا مندی سے کام کر رہی ہیں اور کتنی مجبور یا بے اختیار ہیں؟

---

ضرر کے اصول سے آگے

ضرر کا اصول یہ بتاتا ہے کہ کون سا رویہ جرم نہیں ہونا چاہیے۔
یہ نہیں بتاتا کہ کون سا رویہ ضرور جرم ہونا چاہیے۔

ضرر کے اصول کے حمایتی یہ نہیں کہتے کہ ہر نقصان دہ عمل کو جرم بنا دینا چاہیے، کیونکہ ایسا کرنے سے فوجداری قانون بہت وسیع ہو جائے گا۔
اس لیے کہا جاتا ہے کہ ضرر کا اصول دروازے کی نگہبانی کرتا ہے—یہ غیر نقصان دہ رویوں کو قانون سے باہر رکھتا ہے، لیکن یہ نہیں بتاتا کہ کیا چیز شامل کی جائے۔

تو پھر ہم کیسے طے کریں کہ کون سا رویہ جرم ہونا چاہیے؟
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس سوال پر کم تحقیق ہوئی ہے، کیونکہ یہ مسئلہ انتہائی پیچیدہ ہے۔ اس میں بہت سے عوامل کا توازن شامل ہے، اور سیاست بھی بڑا کردار ادا کرتی ہے۔ جو نظریاتی اصول ہم یہاں پڑھ رہے ہیں، وہ اکثر پارلیمانی سیاست کی حقیقی دنیا میں استعمال نہیں ہوتے، جہاں ووٹ جیتنا زیادہ اہم ہوتا ہے۔

پھر بھی نظریاتی طور پر چند اہم نکات یہ ہیں:

---

جرم کو آخری راستہ سمجھنا

ایک سوال یہ ہے کہ کیا جرم قرار دینا خود ایک ناپسندیدہ قدم سمجھا جائے، جس کے لیے مضبوط دلیل ضروری ہو؟
یا یہ معمول کی چیز سمجھا جائے جس کے لیے سخت جواز کی ضرورت نہیں؟

اگر جرم کو بنانے کے لیے سخت جواز ضروری ہو تو پھر دو باتیں ثابت کرنا لازمی ہو گی:

1. یہ رویہ سنجیدہ نقصان کا باعث بنتا ہے۔

2. اس نقصان کو روکنے کا کوئی دوسرا کم سخت طریقہ موجود نہیں۔

حتیٰ کہ نقصان دہ رویہ موجود ہونے کے باوجود بھی ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اسے غیر فوجداری طریقوں سے حل کریں۔ مثال کے طور پر، اگر پارک میں کتوں کی گندگی بچوں کے کھیلنے میں رکاوٹ بن رہی ہو، تو مجرموں کی تصویریں لگا دینا یا عوامی شرمندگی کا طریقہ شاید زیادہ مؤثر ہو، یا لوگوں کو آگاہی دینا کافی ہو سکتا ہے۔
بہت سے معاشرتی مسائل سخت فوجداری اقدامات کے بغیر بھی حل کیے جا سکتے ہیں۔

جرم کو آخری راستہ کیوں سمجھا جائے؟

وجہ یہ ہے کہ ہم خود مختاری (autonomy) کو اہمیت دیتے ہیں—یعنی اپنی زندگی اپنے طریقے سے گزارنے کی آزادی۔
فوجداری قانون قید، گرفتاری، اور اخلاقی مذمت کے ساتھ آتا ہے، لہٰذا اسے صرف اس وقت استعمال ہونا چاہیے جب بالکل لازمی ہو۔

ایک اور وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو اپنے فیصلے خود کرنے دینا بہتر ہے۔ جرم بنانا سوچنے کی صلاحیت کم کرتا ہے اور انسانوں کو صرف "حکم ماننے والا" بنا دیتا ہے۔

مخالف نقطۂ نظر

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ جرم کو "برا" نہ سمجھا جائے۔ ان کے مطابق:

فوجداری قانون معاشرے کو ڈھانچہ فراہم کرتا ہے

کمزور لوگوں کو تحفظ دیتا ہے

باہمی رہائش کو بہتر بناتا ہے

ان کے نزدیک جرائم کے لیے بہت سخت جواز کی ضرورت نہیں، صرف یہ ثابت کرنا کافی ہے کہ قانون معاشرے کی بھلائی کو بڑھاتا ہے۔

---

فوجداری قانون اور انسانی حقوق

کچھ بنیادی حقوق جیسے آزادی، اظہارِ رائے اور وقار انسانی حیثیت کا لازمی حصہ ہیں۔
اس لیے انسانی حقوق کی بنیاد پر قانون بناتے وقت زیادہ مضبوط جواز ضروری ہو جاتا ہے۔

مثال کے طور پر:

چوری کو جرم بنانا انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں، کیونکہ انسان بہت سے جائز کام کر سکتا ہے۔

مگر ہم جنس پرست تعلقات کو جرم بنانا ایک شخص کی نجی زندگی اور اظہارِ محبت کے حق پر بہت بڑا حملہ ہے—یہ انسانی حقوق کی بڑی خلاف ورزی ہے۔

لہٰذا ہمیں نقصان کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا ہے کہ جرم بنانے سے کس حد تک کسی کی آزادی متاثر ہو گی۔

اسی لیے قوانین کو تنگ دائرے میں لکھا جاتا ہے، تاکہ انسانی آزادی پر کم سے کم مداخلت ہو۔

اسی طرح متاثرین کے حقوق بھی بہت اہم ہیں۔ جو رویہ لوگوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی کرے گا، وہ یقیناً جرم بنے گا۔

---

رویہ کتنا نقصان دہ ہے؟

یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ کوئی عمل جرم ہونا چاہیے یا نہیں، ضروری ہے کہ نقصان کی سطح کو سمجھا جائے۔

لیکن نقصان کی درجہ بندی آسان نہیں:

کروڑ پتی سے 10 روپے چوری ہونا شاید معمولی بات ہو

مگر غریب پینشن لینے والے کے لیے یہ بڑا صدمہ ہو سکتا ہے

کچھ لوگ ڈکیتی کو بھول جاتے ہیں، کچھ شدید متاثر ہوتے ہیں

ایک تجویز یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ نقصان فرد کی زندگی کے معیاری معیار پر کتنا اثر ڈالتا ہے۔
واسطی (average) فرد کے لیے یہ نقصان کیسی رکاوٹ بنتا ہے؟

22/11/2025

آئی ایم ایف رپورٹ کا 7 مختصر نکات میں خلاصہ

1۔ سرکاری سیکٹر میں ہر سطح پر مسلسل اور تباہ کن کرپشن پھیل چکی
2۔ ریاستی اداروں میں بڑے پیمانے پر گورننس کے مسائل، احتساب کا فقدان (ایس آئی ایف سی کا حوالہ دیا گیا ہے)
3۔ ایلیٹ کلاس حکمران ہے جو ذاتی مفادات میں معاشی پالیسیاں بناتی ہے (شوگر سکینڈل کا حوالہ دیا گیا ہے)
4۔ پیچیدہ ٹیکس نظام کرپشن کا بڑا ذریعہ بن چکا
5۔ عدالتی نظام میں کرپشن اور پیچیدگی سرمایہ کاری میں رکاوٹ
6۔ عوام ہر کام کے لیے سرکاری دفاتر میں رشوت دینے پر مجبور ہیں
7۔ رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں غیر ملکی قرض 33 فیصد بڑھ گئے
نوٹ: ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ہائبرڈ رجیم اگست سے رپورٹ کی اشاعت ملتوی کرتا آ رہا تھا۔

04/11/2025

ستائیسویں آئینی ترمیم میں
آئینی عدالت کا قیام
ایگزیکٹو مجسٹریٹ
ٹرانسفر آف ججز
این ایف سی میں صوبوں کے حصے کو دی گئی تحفظ کو ختم کرنا
آئینی شق 243 میں ترمیم
تعلیم اور پاپولیشن پلاننگ صوبوں سے لیکر مرکز کے حوالے کرنا
اور ای سی پی کی اپوائنٹمنٹ پر ڈیڈ لاک کا پکا بندوبست کرنا۔

It was Charles Dickens Who had coined the word "detective" for his fictional inspector "buckets"
22/12/2024

It was Charles Dickens Who had coined the word "detective" for his fictional inspector "buckets"

26/11/2024

It's not a crime to have evil thoughts,crimes involve proof that the defendant/accused did something

22/10/2024

Separation of Powers and Checks and Balances

The separation of powers divides government into three branches:

Legislative Branch: Makes laws (e.g., Congress in the U.S.).

Executive Branch: Enforces laws (e.g., the President).

Judicial Branch: Interprets laws (e.g., the Supreme Court).

Checks and Balances: Each branch has the power to check the others. For example, Congress can impeach the President, the President can veto legislation, and the courts can declare laws unconstitutional.

Consequences of Not Following These Principles:

If separation of powers is ignored, it can lead to authoritarianism, where one branch dominates, undermining democracy. Without effective checks and balances, abuses of power may go unchecked, resulting in violations of rights and freedoms, as seen in various historical contexts where governments became tyrannical.

Fall seven times,stand up eight
02/08/2024

Fall seven times,stand up eight

17/07/2024
‏واپڈا میں سؤل امز فورس کی باضابطہ تعیناتی کے انتظامات مکمل۔ فوج کو صارفین سے بجلی کے بقایاجات وصول کرنےبجلی کی چوری کو ...
11/07/2024

‏واپڈا میں سؤل امز فورس کی باضابطہ تعیناتی کے انتظامات مکمل۔
فوج کو صارفین سے بجلی کے بقایاجات وصول کرنے
بجلی کی چوری کو روکنے اور چوری میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے اور ان کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

Address

Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Javed Afridi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Adv Javed Afridi:

Share

Category