Khyber Law Society

Khyber Law Society Empowering Legal Minds, Promoting Professional Excellence.

سپریم کورٹ آف پاکستان نے Public Facilitation Portal (عوامی سہولت پورٹل) کے نام سے ایک نیا آن لائن نظام متعارف کرایا ہے ت...
26/10/2025

سپریم کورٹ آف پاکستان نے Public Facilitation Portal (عوامی سہولت پورٹل) کے نام سے ایک نیا آن لائن نظام متعارف کرایا ہے تاکہ عام شہریوں کو انصاف تک آسان رسائی حاصل ہو
⚖️ عام عوام کے لیے دستیاب سہولتیں:
1. کیس انفارمیشن سیکشن
• شہری اپنے مقدمات کو نام، کیس نمبر یا درخواست کی نوعیت کے ذریعے تلاش کر سکتے ہیں۔
• کیس کی تفصیلات فوری طور پر آن لائن حاصل کی جا سکتی ہیں، عدالت جانے کی ضرورت نہیں۔
• ہیلپ لائن 1818 کے ذریعے سپریم کورٹ سے براہِ راست رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
• عمومی سوالات (FAQs) میں عدالتی اصطلاحات اور کارروائیوں کی سادہ زبان میں وضاحت دی گئی ہے۔
2. اپلیکیشن اسٹیٹس سیکشن
• مختلف درخواستوں کی آن لائن نگرانی ممکن ہے جیسے:
• Early Hearing Requests (فوری سماعت کی درخواستیں)
• General Adjournments (التوا کی درخواستیں)
• Video Link Petitions (ویڈیو لنک کے ذریعے درخواستیں)

غازی علم دین بنام تاج برطانیہ(AIR 1930 Lah 157)اس مقدمے میں ملزم علم دین، عمر تقریباً 19 یا 20 سال، ولد تالیہ مند، سکونت...
12/08/2025

غازی علم دین بنام تاج برطانیہ
(AIR 1930 Lah 157)

اس مقدمے میں ملزم علم دین، عمر تقریباً 19 یا 20 سال، ولد تالیہ مند، سکونت محلہ سیرانوالہ لاہور، پر الزام تھا کہ انہوں نے 6 اپریل 1929 کو ہندو ناشر راجپال کو قتل کیا۔ راجپال نے کچھ عرصہ قبل گستاخانہ کتابچہ "رنگیلا رسول" شائع کیا تھا، جس سے مسلمانوں میں شدید اشتعال پیدا ہوا۔ اس اشاعت پر اس کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعہ 153-A کے تحت مقدمہ چلایا گیا اور 1927 میں سزا ہوئی، تاہم اپیل پر لاہور ہائی کورٹ نے اسے بری کر دیا۔ بعد ازاں راجپال پر دو ناکام قاتلانہ حملے بھی ہوئے، جس کے باعث اسے پولیس حفاظت فراہم کی گئی، لیکن وقوعہ سے قبل یہ سیکیورٹی ہٹا لی گئی تھی۔

وقوعہ کا خلاصہ:
6 اپریل 1929 کو دوپہر تقریباً 2 بجے، علم دین ہسپتال روڈ پر واقع راجپال کی دکان میں داخل ہوئے اور اس پر آٹھ وار کیے۔ ایک گہرا زخم سینے میں لگا جو دل تک پہنچا اور راجپال موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔ چار زخم ہاتھوں پر تھے جو مزاحمت کی علامت تھے۔ مقتول کے ملازمین کیدار ناتھ اور بھگت رام نے یہ حملہ اپنی آنکھوں سے دیکھا، شور مچایا اور ملزم کا پیچھا کیا۔ باہر نکلتے ہی دیگر افراد، بشمول نانک چند اور پرمانند، بھی تعاقب میں شامل ہو گئے اور آخرکار لکڑی کے ایک گودام میں مالک ودیا رتن کی مدد سے علم دین کو قابو کر لیا گیا۔ گرفتاری کے وقت ملزم نے بلند آواز میں کہا:

> "میں کوئی چور یا ڈاکو نہیں، بلکہ اپنے نبی ﷺ کا بدلہ لینے آیا ہوں۔"

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ علم دین نے حملے سے چند گھنٹے قبل آتما رام نامی دکاندار سے ایک چھری خریدی تھی، جو بعد میں جائے وقوعہ سے برآمد ہوئی۔ 9 اپریل کو مجسٹریٹ کی نگرانی میں شناخت پریڈ ہوئی، جس میں آتما رام نے علم دین کو پہچان لیا۔

وکیل دفاع کا مؤقف:
ملزم علم دین کی وکالت بیرسٹر محمد علی جناح نے کی۔ انہوں نے دلائل دیے کہ:

عینی شاہدین مقتول کے ملازم ہونے کی وجہ سے interested witnesses ہیں۔

ایف آئی آر میں کئی اہم تفصیلات شامل نہیں تھیں، مثلاً بھگت رام کی موجودگی یا گرفتاری کے وقت ملزم کا بیان۔

چھری کی خریداری کا ثبوت کمزور اور ناقابلِ اعتماد ہے۔

ملزم کم عمر ہے اور اس کا محرک مذہبی جذبہ تھا، جو سزا میں نرمی کا باعث بننا چاہیے۔

عدالتی فیصلہ:
عدالت نے استغاثہ کے شواہد کو معتبر قرار دیا اور کہا کہ 19 یا 20 سال کی عمر یا مذہبی جوش، کسی سوچے سمجھے اور منصوبہ بندی سے کیے گئے قتل میں تخفیفِ سزا کا جواز فراہم نہیں کرتے۔ جسٹس براڈوے اور جسٹس جانسٹون نے متفقہ طور پر اپیل خارج کرتے ہوئے علم دین کی سزائے موت برقرار رکھی





Contact us for filing returns and other tax related matters.Contact  # 03460967748
12/08/2025

Contact us for filing returns and other tax related matters.
Contact # 03460967748



نکاح نامے میں موجود کالم نمبر 19 اسلام احکامات کے خلاف قرارنکاح نامے کے کالم نمبر 19 میں شرط لکھی ہوتی ہے کہ شوہر طلاق ی...
26/05/2025

نکاح نامے میں موجود کالم نمبر 19 اسلام احکامات کے خلاف قرار

نکاح نامے کے کالم نمبر 19 میں شرط لکھی ہوتی ہے کہ شوہر طلاق یا دوسری شادی کی صورت میں بیوی کو ہرجانہ(رقم )ادا کرے گا

مگر اعلی عدلیہ نے اپنے فیصلہ جات میں قرار دیا کہ نکاح نامہ میں موجود یہ شرط غیر اسلامی ہے۔

( Family- Divorce- Nikah Naama)
Condition of Compensation mentioned in column no. 19 of nikah nama in case of divorce by husband is declared against the injunctions of Islam as no embargo can be made on the right given by the Islam to husband to divorce his wife.

PLD 2011 SC 260
2008 SCMR 186
2012 CLC Lah 837
PLD 2007 Lhr 515

Claim of amount in case of dovorce mentioned in colum of niakah nama is not maintainable2015 CLC 138Condition of Compensation mentioned in column no. 19 of nikah nama in case of divorce by husband is valid.

2015 YLR 1235
2004 YLR 482
PLD 2004 Lhr 588

کسی بھی نجی اسکول کی جانب سے ٹیوشن فیس کے علاوہ کسی بھی فیس یا رقم (کیپیٹیشن فیس) کا وصول کرنا خیبر پختونخوا پرائیویٹ اس...
24/05/2025

کسی بھی نجی اسکول کی جانب سے ٹیوشن فیس کے علاوہ کسی بھی فیس یا رقم (کیپیٹیشن فیس) کا وصول کرنا خیبر پختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی (PSRA) ایکٹ، اس کے قواعد و ضوابط، اور پشاور ہائی کورٹ پشاور کے فیصلے (رٹ پٹیشن نمبر 1995-P برائے سال 2020، مورخہ 14-12-2021) کے تحت غیر قانونی ہے۔

Charging of capitation fee
(any fee/amount other than tuition fee) by any private school is illegal under the kp PSRA Act and regulations and judgment of August Peshawar high court Peshawar in WP No 1995-p of 2020 dated 14/12/2021




12/05/2025
پشاور ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز محکمہ صحت، ہیلتھ کیئر کمیشن اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ خیبر پختونخوا بھر...
04/04/2025

پشاور ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز محکمہ صحت، ہیلتھ کیئر کمیشن اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ خیبر پختونخوا بھر کے نجی کلینکس اور اسپتالوں میں میڈیکل کنسلٹیشن اور لیبارٹری ٹیسٹ کی فیسوں کے لیے یکساں نرخ مقرر کریں، اور یہ عمل ایک ماہ کے اندر مکمل کیا جائے۔




سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: شادی شدہ بیٹی بھی سرکاری نوکری کی حقدارسپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرا...
18/03/2025

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: شادی شدہ بیٹی بھی سرکاری نوکری کی حقدار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ شادی شدہ بیٹی اپنے والد کے انتقال کے بعد سرکاری ملازمت کے لیے اہل ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ شادی کسی عورت کے معاشی حقوق پر اثر انداز نہیں ہوتی اور بیٹیوں کو بھی بیٹوں کے برابر حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔

یہ فیصلہ زاہدہ پروین کیس کی سماعت کے دوران سامنے آیا، جہاں عدالت نے سوال اٹھایا کہ اگر شادی شدہ بیٹا نوکری حاصل کر سکتا ہے تو شادی شدہ بیٹی کیوں نہیں؟ جسٹس منصور نے واضح کیا کہ کسی بھی قانون میں بیٹی کی اہلیت کو اس کی ازدواجی حیثیت کی بنیاد پر محدود نہیں کیا گیا۔

یہ فیصلہ خواتین کے مساوی روزگار کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم نظیر ثابت ہوگا۔ عدالت نے کیس نمٹا دیا اور زاہدہ پروین کو اپنے مرحوم والد کی جگہ نوکری کے لیے اہل قرار دے دیا۔

سندھ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: طلاق یافتہ بیٹیاں والد کی پنشن میں مساوی حصہ لینے کی حقدارسندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے...
14/03/2025

سندھ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: طلاق یافتہ بیٹیاں والد کی پنشن میں مساوی حصہ لینے کی حقدار

سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے فیصلہ دیا ہے کہ طلاق یافتہ بیٹیاں اپنے مرحوم والدین کی پنشن میں مساوی حصہ لینے کی حقدار ہیں۔ یہ فیصلہ جسٹس ایم کریم خان اور جسٹس نصار احمد بھنبرو پر مشتمل بینچ نے سنایا

Address

Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khyber Law Society posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category