Adv Umar Peshawar

Adv Umar Peshawar Advocate High Court, Peshawar | Certified Tax Advisor |
Umar | Legal Expert | Peshawar
⚖️ Trusted Legal Guidance & Representation
WhatsApp: 03463010630

We are a dynamic and forward-thinking team dedicated to meeting your legal service requirements.

جسٹس بابر ستار کا تبادلہ پشاور ہائیکورٹ کردیا گیا
28/04/2026

جسٹس بابر ستار کا تبادلہ پشاور ہائیکورٹ کردیا گیا

Good News for Need-Based Scholarship Awardees – University of PeshawarThe University of Peshawar had unlawfully withheld...
28/04/2026

Good News for Need-Based Scholarship Awardees – University of Peshawar

The University of Peshawar had unlawfully withheld installments of need-based scholarships meant for its deserving students. On behalf of the aggrieved students, we filed writ petitions before the Peshawar High Court.

The stance of the Higher Education Commission of Pakistan was clear before the Court that it had already transferred the required funds to the University.

The petitions have been allowed today, bringing relief to the affected students.

thanks to Adv Shahid Raza and Adv Muntazir Jamal for their assistance in this matter.

Regards,

سی سی پی او پشاور کو ہائی کورٹ کے ڈبل بینچ کا دوٹوک حکم: دیوانی مقدمات میں مداخلت بند کرو، ورنہ انجام کے لیے تیار رہوخال...
26/04/2026

سی سی پی او پشاور کو ہائی کورٹ کے ڈبل بینچ کا دوٹوک حکم: دیوانی مقدمات میں مداخلت بند کرو، ورنہ انجام کے لیے تیار رہو

خالد خان

پشاور ہائی کورٹ نے سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید کو واضح اور سخت حکم دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پولیس زیرِ التوا دیوانی مقدمات میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہیں کرے گی اور شہریوں کو ایسے معاملات میں تھانوں میں طلب کرنا یا دباؤ ڈالنا غیر قانونی ہے۔ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں سی سی پی او کو متنبہ کیا ہے کہ اگر آئندہ اس نوعیت کی کارروائی دہرائی گئی تو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ یہ فیصلہ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سنایا جس میں جسٹس فرح جمشید اور جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ شامل تھے۔
یہ فیصلہ شفقت اللہ ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کردہ رِٹ پٹیشن پر سنایا گیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایک دیوانی مقدمہ جو پہلے ہی سول کورٹ میں زیرِ سماعت تھا، اس میں پولیس نے مداخلت کی۔ درخواست گزار کے مطابق جب سی سی پی او کو درخواست دی گئی کہ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے، لہٰذا پولیس کو اس میں شامل نہیں ہونا چاہیے، تو اس کے برعکس درخواست گزار ہی کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی گئی اور پولیس کے ذریعے ہراساں کیا گیا۔
درخواست میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ اس کیس سمیت متعدد دیگر معاملات میں پولیس نے قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کی آڑ میں بااثر اور ظالم فریق کا ساتھ دیا، جبکہ مظلوم فریق کو تھانوں میں بلا کر دباؤ ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ عدالت نے ان نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے واضح حکم جاری کیا کہ جب کوئی معاملہ عدالت میں زیرِ التوا ہو تو پولیس کا اس میں کردار ختم ہو جاتا ہے اور کسی بھی قسم کی مداخلت اختیارات سے تجاوز کے زمرے میں آتی ہے۔
فیصلے میں یہ پہلو بھی نمایاں کیا گیا کہ ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل (ڈی آر سی) کو ایک ایسے فورم کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جہاں پولیس کسی ایک فریق کے ساتھ مل کر دوسرے فریق پر دباؤ ڈالتی ہے۔ ڈی آر سی میں سیاسی مداخلت اور اثر و رسوخ انصاف کے تقاضوں کو متاثر کرتا ہے، جبکہ سی سی پی او کی جانب سے زبردستی ڈی آر سی اجلاس منعقد کر کے ایسے مقدمات کو وہاں لے جانا جو پہلے ہی عدالتوں میں زیرِ التوا ہوں، عدالتی دائرہ اختیار کو بائی پاس کرنے کے مترادف ہے۔ ایسے اقدامات کو عدالتی اختیار پر براہِ راست چڑھائی قرار دیا گیا ہے۔
عدالت نے سی سی پی او کے ساتھ ساتھ ایس ایس پی آپریشن فرخان خان، ڈی ایس پی احسان مروت، ایس ایچ او پھندو جاوید مروت اور ایڈیشنل ایس ایچ او فضل جان کے کردار پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں سختی سے ہدایت دی کہ وہ آئندہ ایسے اقدامات سے مکمل اجتناب کریں۔
پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے نے ایک بار پھر یہ اصول واضح کر دیا ہے کہ دیوانی تنازعات کا فیصلہ صرف عدالتوں کا اختیار ہے، اور پولیس کو ایسے معاملات میں مداخلت کا کوئی جواز حاصل نہیں۔ عدالت کا یہ حکم نہ صرف متعلقہ حکام کے لیے واضح لائن کھینچتا ہے بلکہ شہریوں کے لیے بھی ایک مضبوط قانونی تحفظ کا پیغام ہے۔

24/04/2026

I got over 5,000 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

24/04/2026

طنز و مزاح پر بھی مقدمہ، ترنول پھاٹک کو آبنائے ہُرمز کہنے پر اسلام آباد میں شہری گرفتار

23/04/2026

آج (23 اپریل) کتابوں کا عالمی دن ہے، اپنے کسی ایسے دوست کو مینشن کریں جو آپ کو کتابیں گفٹ کرے۔ 🙂🙂

Finally arrived....waiting for Indrive
20/04/2026

Finally arrived....waiting for Indrive

وفاقی حکومت نے باقاعدہ طور پر سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت سرکاری ملازمین کے لیے اث...
17/04/2026

وفاقی حکومت نے باقاعدہ طور پر سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت سرکاری ملازمین کے لیے اثاثہ جات کی تفصیلات، مفادات کے ٹکراؤ، سوشل میڈیا کے استعمال اور سیاسی سرگرمیوں سے متعلق سخت نئی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

یہ قواعد سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں، جن کی منظوری وزیرِاعظم پاکستان نے دی ہے، اور یہ فوری طور پر ملک بھر کے تمام سول سرونٹس، بشمول بیرونِ ملک تعینات افسران، پر لاگو ہوں گے۔

اثاثہ جات کی لازمی تفصیل اور آڈٹ
نئے قواعد کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کے لیے اپنے اثاثہ جات ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو سالانہ بنیادوں پر ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کروانا ہوں گی۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) ان تفصیلات کا آڈٹ کرے گا، جبکہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بعض معلومات کو عوام کے سامنے بھی لایا جا سکتا ہے۔

مفادات کے ٹکراؤ اور تحائف سے متعلق سخت پابندیاں
قواعد کے تحت سرکاری ملازمین کو ذاتی مالی مفادات اور سرکاری ذمہ داریوں کے درمیان کسی بھی قسم کے ٹکراؤ سے بچنا ہوگا۔ اگر کسی معاملے میں مفادات کا ٹکراؤ ہو تو متعلقہ افسر کو فیصلہ سازی سے علیحدہ ہونا ہوگا۔
مزید برآں، ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ایسے تحائف یا مراعات لینے سے منع کیا گیا ہے جو ان کے سرکاری فرائض پر اثر انداز ہو سکتے ہوں۔ بیرونی اعزازات یا خطابات حاصل کرنے کے لیے بھی پیشگی حکومتی اجازت لازمی ہوگی۔

سوشل میڈیا کے استعمال پر سخت کنٹرول
نئے قوانین کے تحت سرکاری ملازمین کو بغیر اجازت بلاگ، ولاگ یا کسی بھی میڈیا پلیٹ فارم کا حصہ بننے یا اسے چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر سرکاری معلومات شیئر کرنا مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
مزید یہ کہ ذاتی اور سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو الگ رکھنا ہوگا، اور حکام کسی بھی وقت ذاتی اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کر سکتے ہیں۔
سرکاری معاملات سے متعلق مواد کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرنا بھی سختی سے منع ہے۔

سیاسی سرگرمیوں اور اضافی ملازمت پر پابندی
قواعد میں واضح طور پر سرکاری ملازمین کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے، کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرنے یا حکومتی پالیسیوں پر کھلے عام تنقید کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، دورانِ ملازمت کسی نجی ادارے، بینک، این جی او یا غیر ملکی ادارے میں جز وقتی یا کل وقتی ملازمت اختیار کرنا بھی ممنوع ہوگا، سوائے ان صورتوں کے جن کی باقاعدہ منظوری حاصل ہو۔

پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور جوابدہی پر زور
نئے قواعد میں دیانتداری، نظم و ضبط، وقت کی پابندی اور ذمہ دارانہ رویے کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، چاہے وہ سرکاری فرائض کی انجام دہی ہو یا آن لائن سرگرمیاں۔
سرکاری ملازمین کو ایسی تحریریں، یادداشتیں یا مواد شائع کرنے سے بھی روکا گیا ہے جن میں خفیہ معلومات افشا ہونے کا امکان ہو۔

17/04/2026

جنہیں لوڈشیڈنگ پسند نہیں وہ کسی اور ملک چلے جائے۔

Feedback from the introductory session of the First Batch of the Professional Tax Advisor Course by The Jurists Incubato...
17/04/2026

Feedback from the introductory session of the First Batch of the Professional Tax Advisor Course by The Jurists Incubator 💬
Designed to equip our trainees with highly in-demand, often overlooked practical skills.

An engaging start with practical insights into taxation, corporate law, compliance, and real-world legal work. This is just the beginning.
Regards:-
Umar Hussain, Advocate High Court Peshawar (Certified Tax Advisor)
CEO and Director of The Jurists Incubator

17/04/2026

Address

TF-258 Deans Trade Center Peshawar
Peshawar
54000

Telephone

+923463010630

Website

https://whatsapp.com/channel/0029Vabdghs05MUWG9bfuk2V

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Umar Peshawar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Adv Umar Peshawar:

Share