04/02/2024
بدنصیب
" بد دعا بھی کچھ بدنصیبوں کو لگتی ہے.😭
شادی کے دوسرے دن شازیہ نے اپنے شوہر کے کان بھرنا شروع کر دیا.اسکی ماں کے خلاف
اور بابر بھی کان کا اتنا کچا کہ بیوی کی ہر بات پر عمل کرنے لگا۔
نند تو تھی نہیں،ایک ہی دیور تھا وہ بھی عمر میں کافی چھوٹا،
سسر گھر سے باہر رہتا،صبح کی روٹی کھا کے نکلتا اور رات کو آتا.
ساس جو آنکھوں سے نابینا تھی.شازیہ کے رحم و کرم پر آ گئ.کمرے سے باہر صحن میں چارپائی بچا دی ساس کی.کھانا پینا سب وہی ،البتہ صحن کی چھت بھی تھی لیکن سردی بھی اپنے زور شور پر تھی.ساس نے کئ دفعہ بیٹے سے بیان کیا ایک کان سے سنتا دوسرے کان سے نکال دیتا.
اسی طرح وقت گزرتا گیا.شازیہ کے پاس یک بعد پانچ بیٹیاں، پھر چھ بیٹے ہوئے .
بیٹیوں کے جوان ہونے پر ،بیٹیوں کا سلوک دادی کے ساتھ ماں سے بھی بد تر تھا.
دیور پر کوئی الزام لگا کر گھر سے نکلوا دیا۔ماں روتی رہ گئ۔بڑے بیٹے نے توجہ تک نہ دی ماں پر.
ماں کے پاس سے پھل لے کر گز جاتا اور ماں دیکھتی رہتی..
کھبی کھبار ساس دیوار کا سہارا لے کر ہمسایوں کے گھر چلی جاتی جہاں وہ لوگ ترس کھا کر پھل،انڈا کھانے کو دے دیتے۔
لیکن بہت جلد ہی شازیہ نے اسکا گھر سے نکلنا بھی بند کر دیا.
پوتیاں پوتے مل کر اسے برا بھلا کہتے،،بابر کے کان پر جوں تک نہ رینگتی.
آخر ایک دن وہ اس دن دنیا سے کوچ کر گئ.مرنے پر اسکی حالت بیان سے باہر ہے۔
گندگی کی وجہ اسکے جسم میں چونٹیاں رینگ رہی تھی،اسکے سانس نکل جانے کے فوراً بہو نے جلدی سے پائپ لگایا اور دور سے کھڑے ہو کر اس پر پانی گرایا کہ چونٹیاں چلی جائے اور ہمسایوں میں اسکی کے خلاف باتیں نہ بنے.
افسوس اس بار بھی بابر کی عقل پر بیوی نے پھٹی باندھے رکھی.ساس کی میت دیکھ کر لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے.
پر شازیہ کو کوئی فرق نہ پڑا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
ساس کے جانے کے بعد شازیہ کا سسر بیمار ہوا.اسکی حالت بھی ساس سے کچھ بہتر نہ تھی۔
اسے ایک کمرے میں بند رکھا گیا کہ لوگ نہ ائے۔ایک دن وہی اس نے بھی جان دے دی😑
اس سب کے بعد بھی بابر فخر سے بتاتا میری بیوی نے میری ماں باپ کی بہت خدمت کی ، مجھے کچھ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔۔
لیکن اللہ تو سب جانتا ہے۔
جاری ہے۔