Adv Hammad Husnain

Adv Hammad Husnain Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Adv Hammad Husnain, Lawyer & Law Firm, Nowshera courts, Nowshera.

03/10/2023
Finally, the Chief Justice ordered the Open Union at Qaid e Azam University.
22/09/2023

Finally, the Chief Justice ordered the Open Union at Qaid e Azam University.

22ستمبر 1979یوم وفات مجدد اسلام سید ابوالاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ جن کی رفعتِ فکر نے کروڑوں انسانوں کو متوجہ کیا .. زن...
22/09/2023

22ستمبر 1979
یوم وفات مجدد اسلام سید ابوالاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ
جن کی رفعتِ فکر نے کروڑوں انسانوں کو متوجہ کیا .. زندگیاں تبدیل کی ...
ہزاروں دائرہ اسلام میں داخل ہوکر حق کے داعی بنیں ..
اللہ کریم کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے ..آمین

08/11/2022
Application to SHO of Imran khan of FIR registration
07/11/2022

Application to SHO of Imran khan of FIR registration

Every law student dreams
07/11/2022

Every law student dreams

06/11/2022

افاق احمد ، مہاجر قومی موومنٹ۔

غیر حاضری کی بنیاد پر سکول سے نکالے جانے والے طلباء کے بارے میں سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ ! فیصلے کی تفصیل میں جانے سے...
06/11/2022

غیر حاضری کی بنیاد پر سکول سے نکالے جانے والے طلباء کے بارے میں سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ !

فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ :

آئینہ حیا نام کی ایک مدعیہ جو کہ پشاور ماڈل سکول سے اپریل دو ہزار اٹھارہ سے لے کر مارچ دو ہزار انیس تک جماعت نہم کا امتحان پاس کرنے کے بعد جماعت دہم میں داخلہ لیتی ہیں لیکن مدعیہ سکول ھذا سے پانچ نومبر دو ہزار اٹھارہ سے غیر حاضر ہوجاتی ہیں جس پر تئیس نومبر دو ہزار اٹھارہ کو اسے سکول سے خارج کر دیا جاتا ہے ۔ یاد رہے کہ سکول کی جانب سے مدعیہ کا نام خارج کرنے کی دو وجوہات لکھی جاتی ہیں جن میں جون دو ہزار اٹھارہ سے فیس کی عدم ادائیگی اور پانچ نومبر سے غیر حاضری شامل ہے ۔ سکول سے نام خارج ہونے کے بعد مدعیہ دو ہزار اٹھارہ کے بقیہ سیشن میں سکول نہیں جاتی اور اس بنا پر سکول اس کا نام بورڈ امتحانات دینے کے لئے پشاور بورڈ بھیجنے سے انکار کردیتا ہے جس سے متاثر ہو کر مدعیہ پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرتی ہیں اور ابتدائی ریلیف کے طور پر ہائ کورٹ مدعیہ کو جماعت دہم کے امتحانات دینے کی اجازت مرحمت فرما دیتی ہے اور نتیجتاً مدعیہ بورڈ کا امتحان دیتی ہیں جس میں وہ پاس بھی ہوجاتی ہے لیکن یہاں پر مسئلہ یہ ہوجاتا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ اس بنا پر اس کے خلاف آ جاتا ہے کہ مدعیہ کی سکول میں چھیاسٹھ فیصد سے کم ہے اور قوانین کے مطابق جس کی حاضری چھیاسٹھ فیصد سے کم ہو تو وہ بورڈ کا امتحان دینے کا مجاز نہیں ہے ۔

ہائ کورٹ کے فیصلے کے خلاف مدعیہ سپریم کورٹ سے رجوع کرتی ہے اور سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کے سامنے فکس ہوتا ہے جس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال صاحب ، جسٹس منصور علی شاہ صاحب اور جسٹس امین الدین خان شامل ہوتے ہیں۔ فریقین کو سننے کے بعد سپریم کورٹ اپنے فیصلے کا آغاز حاضری کے حوالے سے پشاور بورڈ کے قوانین سے کرتی ہے جس میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ بورڈ امتحانات دینے کے لئے طلباء کی چھیاسٹھ فیصد حاضری لازمی ہے اور ریکارڈ کے مطابق مدعیہ کی حاضری پینتالیس فیصد ہوتی ہے ۔ مدعیہ کا وکیل عدالت کے سامنے یہ بات رکھتا ہے کہ مدعیہ کی چونکہ اس وقت شادی ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے مدعیہ سکول سے غیر حاضر رہتی ہے لیکن پھر بھی مدعیہ کی حاضری ستاسٹھ فیصد ہے اور اس بابت وہ سکول ھذا کے پرنسپل کا ایک خط عدالت کے سامنے پیش کرتے ہیں لیکن پرنسپل کا جو کہ ایک تو متنازعہ ہوتا ہے اور دوسرا اس کی ریکارڈ سے کوئ مطابقت نہیں ہوتی جس کے بعد مدعیہ کے وکیل عدالت سے ہمدردی ، رحم اور انسانیت کی بنیاد پر فیصلہ سنانے کی درخواست کرتا ہے ۔ ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد سپریم کورٹ اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ ایک تو مدعیہ پانچ نومبر کے بعد سکول سے غیر حاضر رہی ہوتی ہیں اور دوسرا یہ کہ بورڈ امتحانات کے لئے چھیاسٹھ فیصد کا قانون بھی بڑا واضح ہے ۔

سپریم کورٹ اپنے فیصلے کے آغاز میں ہی مختلف کیسز کا حوالہ دے کر یہ لکھتا ہے کہ تعلیمی اداروں کے انتظامی ، نظم و ضبط اور پالیسی امور شعبہ تعلیم کے پروفیشنل بندوں پر چھوڑتے ہوئے تب تک مداخلت نہیں کرتی جب تک کسی قانون یا بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی نہ ہو اور اس کے سپریم کورٹ بڑے بہترین انداز میں مدعیہ کے وکیل کی جانب سے رحم اور ہمدردی کے بنیاد پر فیصلہ دینے کی بات کا جواب دیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمدردی کے بنیاد پر ریلیف تب ممکن ہوتی ہے جب متعلقہ قانون میں کوئ گنجائش موجود ہو اور جب گنجائش نہ ہو تو پھر عدالت قانون کی خلاف ورزی کرکے ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف نہیں دے سکتی اور چونکہ بورڈ کا امتحان دینے کے لیے چھیاسٹھ فیصد حاضری کا قانون بڑا واضح ہے تو اس لئے کوئ گنجائش پیدا نہیں ہوسکتی تو اس لئے کسی بھی عدالت کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ مدعیہ کو ریلیف دے سکے اور یوں مدعیہ کا درخواست خارج کر دیا جاتا ہے ۔

This Important Judgement Is Written By Justice Mansoor Ali Shah And Can Be Searched And Cited As 2022 SCP 293.

ممبر ٹیم قانون دان ذوالقرنین
ایڈووکیٹ پشاور بار ایسوسی ایشن

‏اعظم سواتی کی کہانی مزید اُلجھ گئی،سپریم کورٹ کی  پریس ریلیز میں کہا گیا کہ اعظم سواتی نے سپریم کورٹ کوئٹہ لاجز نہیں بل...
06/11/2022

‏اعظم سواتی کی کہانی مزید اُلجھ گئی،
سپریم کورٹ کی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ اعظم سواتی نے سپریم کورٹ کوئٹہ لاجز نہیں بلکہ بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی میں قیام کیا اور اب بلوچستان ہائیکورٹ کا موقف سامنے آیا ہے کہ جوڈیشل اکیڈمی میں رہائش کی سہولت ہی دستیاب نہیں۔

جمہوریت ارتقائی انقلاب کو کہتے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی نے جونیئر ججز کی تقرری کی منظوری دینے انکار کردیا۔
04/11/2022

جمہوریت ارتقائی انقلاب کو کہتے ہیں۔
پارلیمانی کمیٹی نے جونیئر ججز کی تقرری
کی منظوری دینے انکار کردیا۔

04/11/2022

جج صاحبہ ملزم سے :
ایک سوال کا جواب دیں۔۔ کیا آپ کے مڈل سکول کا نام ناٹلس تھا ؟ کیا آپکو یاد ہے کہ میں آپکی کلاس فیلو تھی ؟ آپ تو تو بہت اچھے بچے اور طالب علم تھے ۔ مجھے دکھ ہوا آپکو اس کٹہرے میں بطور ملزم دیکھ کر ۔۔ میں آپکو چھوڑ رہی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ آئندہ آپ قانون کا احترام کریں گے ۔

Address

Nowshera Courts
Nowshera
24100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Hammad Husnain posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share