lawyer at nawabshah , sindh Pakistan

lawyer at nawabshah , sindh Pakistan I proceed every kind of the cases and suits . Appeals and patitions

05/06/2023
05/07/2022

طلاق کے متبادل ادائیگی رقم غیر قانونی ہے.
(2008 SCMR 186).
طلاق نامہ اسٹامپ پیپر پر تحریر کرنا ضروری نہ ہے.
(2004 CLC 984).
اگر زبانی طلاق کا نوٹس چیئرمین کو نہ بھجوایا گیا ہو، تو طلاق نہ ہوتی ہے.
(PLD 2006 SC 457).
سرکاری ملازم کا منہ بولا بیٹا یا نامزد کردہ شخص، اس کی فوتیدگی کی صورت میں، اس کے واجبات لے سکتا ہے، فیملی ممبر یا قانونی وارث ہونا ضروری نہ ہے.
(2019 PLD 1 Kar).
شادی کے چھ ماہ بعد اور طلاق کے دو سال بعد تک پیدا ہونے والا بچہ سنٌی قانون کے تحت جائز تصور کیا جائے گا.
(2008 SCMR 1707).

19/05/2022

بہادر شاہ ظفر کے سارے شہزادوں کے سر قلم کر کے اس کے سامنے کیوں پیش کئیے گئے

قبر کیلئے زمین کی جگہ کیوں نہ ملی

آج بھی اسکی نسل کے بچے کھچے لوگ بھیک مانگتے پھرتے ہیں

کیوں؟

پڑھیں اور اپنی نسل کو بھی بتائیں

تباہی 1 دن میں نہیں آ جاتی

صبح تاخیر سے بیدار ہو نے والے افراد درج ذیل تحریر کو غور سے پڑھیں:

زمانہ 1850ء کے لگ بھگ کا ہے مقام دلی ہے

وقت صبح کے ساڑھے تین بجے کا ہے سول لائن میں بگل بج اٹھا ہے

پچاس سالہ کپتان رابرٹ اور اٹھارہ سالہ لیفٹیننٹ ہینری دونوں ڈرل کیلئے جاگ گئے ہیں

دو گھنٹے بعد طلوع آفتاب کے وقت انگریز سویلین بھی بیدار ہو کر ورزش کر رہے ہیں

انگریز عورتیں گھوڑ سواری کو نکل گئی ہیں سات بجے انگریز مجسٹریٹ دفتروں میں اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے ہیں

ایسٹ انڈیا کمپنی کے سفیر سر تھامس مٹکاف دوپہر تک کام کا اکثر حصہ ختم کر چکا ہے

کوتوالی اور شاہی دربار کے خطوں کا جواب دیا جا چکا ہے

بہادر شاہ ظفر کے تازہ ترین حالات کا تجزیہ آگرہ اور کلکتہ بھیج دیا گیا ہے

دن کے ایک بجےسر مٹکاف بگھی پر سوار ہو کر وقفہ کرنے کیلئے گھر کی طرف چل پڑا ہے

یہ ہے وہ وقت جب لال قلعہ کے شاہی محل میں ''صبح'' کی چہل پہل شروع ہو رہی ہے۔

ظل الہی کے محل میں صبح صادق کے وقت مشاعرہ ختم ہوا تھا جس کے بعد ظلِ الٰہی اور عمائدین خواب گاہوں کو گئے تھے۔

اس حقیقت کا دستاویزی ثبوت موجود ہے کہ لال قلعہ میں ناشتے کا وقت اور دہلی کے برطانوی حصے میں دوپہر کے لنچ کا وقت ایک ہی تھا۔

دو ہزار سے زائد شہزادوں کا بٹیربازی، مرغ بازی، کبوتر بازی اور مینڈھوں کی لڑائی کا وقت بھی وہی تھا ،،

اب ایک سو سال یا ڈیڑھ سو سال پیچھے چلتے ہیں۔

برطانیہ سے نوجوان انگریز کلکتہ، ہگلی اور مدراس کی بندرگاہوں پر اترتے ہیں، برسات کا موسم ہے مچھر ہیں اور پانی ہے ملیریا سے اوسط دو انگریز روزانہ مرتے ہیں لیکن ایک شخص بھی اس ''مرگ آباد'' سے واپس نہیں جاتا۔

لارڈ کلائیو پہرول گھوڑے کی پیٹھ پر سوار رہتا ہے

اب 2020 میں آتے ہیں۔

پچانوے فیصد سے زیادہ امریکی رات کا کھانا سات بجے تک کھا لیتے ہیں

آٹھ بجے تک بستر میں ہوتے ہیں اور صبح پانچ بجے سے پہلے بیدار ہو جاتے ہیں

بڑے سے بڑا ڈاکٹر چھ بجے صبح ہسپتال میں موجود ہوتا ہے پورے یورپ امریکہ جاپان آسٹریلیا اور سنگاپور میں کوئی دفتر، کارخانہ، ادارہ، ہسپتال ایسا نہیں جہاں اگر ڈیوٹی کا وقت نو بجے ہے تو لوگ ساڑھے نو بجے آئیں !

آجکل چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن چکی ہے پوری قوم صبح چھ سے سات بجے ناشتہ اور دوپہر ساڑھے گیارہ بجے لنچ اور شام سات بجے تک ڈنر کر چکی ہوتی ہے

اللہ کی سنت کسی کیلئے نہیں بدلتی اسکا کوئی رشتہ دار نہیں نہ اس نے کسی کو جنا، نہ کسی نے اس کو جنا جو محنت کریگا تو وہ کامیاب ہوگا عیسائی ورکر تھامسن میٹکاف سات بجے دفتر پہنچ جائیگا تو دن کے ایک بجے تولیہ بردار کنیزوں سے چہرہ صاف کروانے والا، بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہی کیوں نہ ہو' ناکام رہے گا۔

بدر میں فرشتے نصرت کیلئے اتارے گئے تھے لیکن اس سے پہلے مسلمان پانی کے چشموں پر قبضہ کر چکے تھے جو آسان کام نہیں تھا اور خدا کے محبوبؐ رات بھر یا تو پالیسی بناتے رہے یا سجدے میں پڑے رہے تھے !

حیرت ہے ان حاطب اللیل دانش وروں پر جو یہ کہہ کر قوم کو مزید افیون کھلا رہے ہیں کہ پاکستان ستائیسویں رمضان کو بنا تھا کوئی اسکا بال بیکا نہیں کرسکتا کیا سلطنتِ خدا داد پاکستان اللہ کی رشتہ دار تھی اور کیا سلطنت خداداد میسور اللہ کی دشمن تھی۔۔(ٹیپو سلطان کی سلطنت )
جس ملک کے ووٹر ذہنی غلام ہوں، پیر غنڈے ہوں مولوی منافق ہوں، ڈاکٹر بے ایمان ہوں، سیاستدان ، اور پولیس ڈاکو ہوں، کچہری بیٹھک ہو ججز بے اعتبار ہوں، لکھاری خوشامدی ہوں، اداکار بھانڈ ہوں، ٹی وی چینل پر مسخرے ہوں، تاجر بے ایمان اور سود خور ہوں، دکاندار چور ہوں، عوام ہے کرام ہوں اور جہاں تین سال کی بچی سے پچاس سال تک کی عورتوں ریپ عام ہو اور مجرموں کو سیاسی دباؤ میں آکر چھوڑ دیا جاۓ۔
اسلام آباد مرکزی حکومت کے دفاتر ہیں یا صوبوں کے دفاتر یا نیم سرکاری ادارے،، ہر جگہ لال قلعہ کی طرز زندگی کا دور دورہ ہے،، کتنے وزیر کتنے سیکرٹری کتنے انجینئر کتنے ڈاکٹر کتنے پولیس افسر کتنے ڈی سی کتنے کلرک آٹھ بجے ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں؟

کیا اس قوم کو تباہ وبرباد ہونے سے دنیا کی کوئی قوم بچا سکتی ہے جس میں کسی کو تو اس لئے مسند پر نہیں بٹھایا جاسکتا کہ وہ دوپہر سے پہلے اٹھتا ہی نہیں، اور کوئی اس پر فخر کرتا ہے کہ وہ دوپہر کو اٹھتا ہے لیکن سہ پہر تک ریموٹ کنٹرول کھلونوں سے دل بہلاتا ہے، جبکہ کچھ کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ دوپہر کے تین بجے اٹھتے ہیں،،

کیا اس معاشرے کی اخلاقی پستی کی کوئی حد باقی ہے.

*جو بھی کام آپ دوپہر کو زوال کے وقت شروع کریں گے وہ زوال ہی کی طرف جائے گا. کبھی بھی اس میں برکت اور ترقی نہیں ہو گی*.

اور یہ مت سوچا کریں کے میں صبح صبح اٹھ کر کام پر جاؤں گا تو اس وقت لوگ سو رہے ہونگے میرے پاس گاہک کدھر سے آئے گا. گاہک اور رزق اللہ رب العزت بھیجتے ہے.

وطن عزیز کی بقاء اور ترقی کیخاطر اس پبلک ویلفئر میسج کو اپنے حلقہ احباب کے گروپس میں ضرور پھیلاٸیں ۔
(منقول)

12/05/2022

پولیس کی طرف سے غیر قانونی گرفتاری اور حراست میں رکھنے کے خلاف لاہورہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ


پی ایل ڈی 2022 لاہور 224

پولیس اہلکاروں کی غیر قانونی پریکٹس کو روکنے کے لیے ملزم کی گرفتاری اور اسے ماہر ایریا مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے لیے، عدالت درج ذیل ہدایات جاری کرنا چاہے گی:-

i) جب بھی، کسی شخص کو کسی بھی معاملے میں گرفتار کیا جائے، اس کی گرفتاری کو کمپیوٹرائزڈ اور دستی روزنامچہ میں تاریخ اور وقت کے ساتھ شامل کیا جائے۔

ii) اسی طرح جب کسی ملزم کو تھانے سے کسی مقصد کے لیے باہر لے جایا جائے تو اس سلسلے میں ایک ریپٹ لکھا جائے، اس کے برعکس واپسی پر یہ طریقہ اختیار کیا جائے۔

iii) روزنامچہ میں داخلے کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے، یہ حکم دیا جاتا ہے کہ دستی روزنامچہ (رجسٹر نمبر 2) میں اندراج بال پوائنٹ کے ذریعے کیا جائے۔

iv) مزید یہ کہ جب ملزم کو جسمانی یا جوڈیشل ریمانڈ کے لیے ماہر ایریا مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا، ریمانڈ کے حصول کے لیے درخواست میں گرفتاری کی تاریخ اور وقت کا ذکر ہونا چاہیے اور ناکامی کی صورت میں، ماہر ایریا مجسٹریٹ کو انکار کرنا چاہیے۔ ریمانڈ کی درخواست پر غور

v) پولیس فائل/کیس ڈائریاں پولیس سٹیشن میں رکھی جائیں جیسا کہ پولیس رولز 1934 کے قاعدہ 25.55 (3) میں فراہم کیا گیا ہے اور جب بھی تفتیشی افسر تفتیش یا کسی اور مقصد کے لیے تھانے سے کیس کی پولیس فائل کے ساتھ آگے بڑھے گا۔ مقصد یہ ہے کہ حقائق کو روزنامچہ (رجسٹر نمبر 2) میں شامل کیا جائے اور واپسی پر بھی یہی طریقہ اختیار کیا جائے، اس کے علاوہ پولیس فائل کو تھانے میں رکھنا ضروری ہے۔

یہ فطرت کا طے شدہ اصول ہے کہ رات کے بعد فجر ہوتی ہے۔ خزاں بہار کی طرف ایک راستہ ہے؛ شدید نمی ہمیشہ بارش کی پیش گوئی ہوتی ہے۔ عدالت کی چوکھٹ مظلوم اور افسردہ لوگوں کے لیے امید کی کرن ہے۔ انصاف کے متلاشیوں کے لیے عدالتوں کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ جہاں اور جب بھی بند کر دیا جاتا ہے اور قانون کی بالادستی کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ کہ معاشرہ اس کرہ ارض پر قائم نہیں رہ سکتا۔

PLD 2022 Lahore 224

To curb down the illegal practice of police officials qua the arrest and production of accused before learned Area Magistrate, the Court would like to issue following directions:-

i) Whenever, a person is arrested in any case, his arrest be incorporated forthwith in computerized as well as manual roznamcha with date and time;

ii) Similarly, when an accused is taken out from the police station for any purpose, a rapat should be written in this regard, vice versa on his return this practice should be adopted;

iii) To make the process of entry in roznamcha transparent, it is ordered that entries in manual roznamcha (register No. 2) be made through ball-point.

iv) More so, when the accused will be produced before the learned Area Magistrate for the physical or judicial remand, date and time of arrest must has been mentioned in the application for obtaining remand and in case of failure, learned Area Magistrate should refuse to entertain request of remand.

v) Police file/ case diaries should be retained at police station as provided in Rule 25.55 (3) of Police Rules, 1934 and whenever the investigating officer will proceed along with police file of case from police station for the purpose of investigation or any other purpose that facts should be incorporated in the roznamcha (register No. 2) and on return the same practice be also adopted, other than this, police file must be retained at police station.

It is settled principle of nature that night is followed by dawn; autumn is a passage towards spring; severe humidity is always a prediction of rain; threshold of a Court is a ray of hope for the oppressed and depressed people. The doors of Courts are never closed for the justice seekers; wherein and whenever the same are closed and supremacy of law is ignored; that society could not persist on this planet.

At Nawabshah District Court. Shaheed benazirabad.
09/05/2022

At Nawabshah District Court. Shaheed benazirabad.

چالان زیر دفعہ 512 ض ف کی قانونی حیثیت کے بارے لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہPLJ 2022 Lahore 268These  are  the  settled...
25/04/2022

چالان زیر دفعہ 512 ض ف کی قانونی حیثیت کے بارے لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ
PLJ 2022 Lahore 268

These are the settled principles of law that the courts can interpret the provisions of law but cannot change or substitute such provisions and also cannot go beyond the wisdom of law; when spoken about judicial review, it is also necessary to be alive to the concept of judicial restraint; the principle of judicial restraint requires that Judges ought to decide cases while being within their defined limits of powers; Judges are expected to interpret any law as per the limits laid down in the law; it is the source of law which the judges are called upon to apply and that Judges, when apply the law, are constrained by the rules of language.

The provision of Section 19 of the Act (ibid) undoubtedly gives no power or authority to the Special Court to constitute a JIT or to issue a direction to the Government in this regard. The words “if the government deems necessary JIT to be constituted by the government” are meaningful which have excluded the Special Court to exercise such powers therefore it is the exclusive domain of the government to or not to constitute JIT.

We have also observed that in one of the Challans of this case on the top/heading it is written as: -

چالان زیر دفعہ 512 ض ف

We have noticed such heading almost in every Challan where accused is declared Proclaimed Offender. This is done not only by police officers and Prosecution but also by the courts. As this practice is illegal, so for this reason we consider it to hold that what the correct position of law is?

The word ‘investigation’ has been defined under Section 2(L) of Cr. PC, which is as under: -

“Investigation' includes all the proceedings under this Code for the collection of evidence conducted by a police officer or by any person (other than a Magistrate) who is authorized by a Magistrate in this behalf”

The process of investigation starts on receipt of information of a cognizable or non cognizable offence (155 and 156 Cr. PC). In cognizable offence once FIR is recorded, a police officer requires no permission for investigation as he possesses all the powers under the law vested in him under Section 156 Cr. PC. The position however, is different when case relates to non-cognizable offence as the powers to investigate are dependent on authorization by the Magistrate (155 {2} Cr. PC). The moment he is allowed to exercise his authority, he starts enjoying all the powers to be exercised in cognizable cases except power to arrest the accused.

Once the ‘investigation’ starts, either in cognizable or non cognizable offence then it has to be concluded after observing all the legal formalities and the moment it is completed, a report under Section 173 Cr. P.C (Challan) is to be forwarded to a Magistrate in the form prescribed by the Provincial Government.

The words “every investigation’ used in Section 173 Cr.P.C are significant and leaves no room of doubt that it may be in cognizable or non-cognizable offence, the report (Challan) has to be submitted in a form prescribed by the provincial government.

So it is the absolute legal position that on conclusion of investigation report (Challan) is to be submitted only under Section 173 Cr. PC and it has nothing to do with Section 512 Cr. PC.

What the Section 512 Cr. PC is and when this provision plays its’ role?

The role under the above provisions is post to submission of report (Challan) and that too when it is before the court of competent jurisdiction because of the words used ‘the Court competent to try such person for the offence complained of”.

As after the words ‘offence complained of’ the word ‘may’ has been used, therefore, discretion to proceed under Section 512 Cr.P.C also lies with the court to be performed keeping in view the facts and circumstances of each case and in particular if court finds that there is no immediate prospect of arresting the absconder.

We have also observed that these proceedings are called “trial in absentia” which is not the correct approach. The general rule is that evidence has to be recorded in the presence of accused or in presence of his advocate/pleader, if his personal attendance is dispensed with whereas, proceedings under Section 512 Cr.P.C are exception to general rule with an aim to preserve the evidence so accused may not take advantage of his illegal act of absconding. This is fair part of rule of the game as it covers advantages for the prosecution that it may not be at defeating end because of some clever move by an absconder. This interpretation is based on the plain reading of Section 512 Cr.P.C where it is provided that the evidence so recorded may be given against accused on trial for the offence with which he is charged, if the deponent (witness) is dead or incapable of giving evidence etc.

We, therefore, direct that copies of this order shall be sent to Inspector General of Police and Prosecutor General of Punjab who shall circulate it to all the concerned with directions that this illegal practice to mention “Challan under Section 512 Cr. PC”
چالان زیر دفعہ 512 ض ف
shall be discontinued forthwith. Office is further is directed to send the copies of this order to all the judicial officers of the Punjab (including on ex-cadre) for their guidance and compliance in future.

چالان زیر دفعہ 512 ض ف کی قانونی حیثیت کے بارے لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ
PLJ 2022 Lahore 268

یہ قانون کے طے شدہ اصول ہیں کہ عدالتیں قانون کی دفعات کی تشریح تو کر سکتی ہیں لیکن ایسی دفعات کو تبدیل یا بدل نہیں سکتیں اور قانون کی حکمت سے بھی باہر نہیں جا سکتیں۔ جب عدالتی نظرثانی کی بات کی جائے تو عدالتی تحمل کے تصور کا زندہ رہنا بھی ضروری ہے۔ عدالتی تحمل کے اصول کا تقاضا ہے کہ ججوں کو اپنے اختیارات کی متعین حدود میں رہتے ہوئے مقدمات کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ ججوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون میں دی گئی حدود کے مطابق کسی بھی قانون کی تشریح کریں؛ یہ قانون کا ماخذ ہے جس کو لاگو کرنے کے لیے ججوں کو بلایا جاتا ہے اور ججز، جب قانون کا اطلاق کرتے ہیں، زبان کے اصولوں سے مجبور ہوتے ہیں۔

ایکٹ (ibid) کی دفعہ 19 کی شق بلاشبہ خصوصی عدالت کو جے آئی ٹی تشکیل دینے یا اس سلسلے میں حکومت کو ہدایت جاری کرنے کا کوئی اختیار یا اختیار نہیں دیتی۔ "اگر حکومت ضروری سمجھتی ہے کہ حکومت کی طرف سے جے آئی ٹی کی تشکیل کی جائے" کے الفاظ معنی خیز ہیں جنہوں نے خصوصی عدالت کو ایسے اختیارات استعمال کرنے سے خارج کر دیا ہے لہذا جے آئی ٹی تشکیل دینا یا نہ بنانا حکومت کا خصوصی اختیار ہے۔

ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ اس کیس کے ایک چالان میں اوپر/ہیڈنگ پر یہ لکھا ہے: -

چیلنج زیر سماعت 512 ض ف

ہم نے تقریباً ہر چالان میں ایسی سرخی دیکھی ہے جہاں ملزم کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔ یہ نہ صرف پولیس افسران اور پراسیکیوشن بلکہ عدالتیں بھی کرتی ہیں۔ چونکہ یہ عمل غیر قانونی ہے، لہٰذا اس وجہ سے ہم اسے ماننا سمجھتے ہیں کہ قانون کا صحیح مقام کیا ہے؟

لفظ 'تفتیش' کی تعریف Cr کے سیکشن 2(L) کے تحت کی گئی ہے۔ پی سی، جو کہ درج ذیل ہے:-

"تفتیش' میں اس ضابطہ کے تحت پولیس افسر یا کسی بھی شخص (مجسٹریٹ کے علاوہ) کی طرف سے شواہد اکٹھا کرنے کے لیے کی جانے والی تمام کارروائیاں شامل ہیں جسے اس سلسلے میں مجسٹریٹ کے ذریعے اختیار دیا گیا ہے"

تفتیش کا عمل قابلِ ادراک یا غیر قابلِ سماعت جرم (155 اور 156 کروڑ پی سی) کی اطلاع ملنے پر شروع ہوتا ہے۔ ایک بار ایف آئی آر درج ہونے کے بعد قابل شناخت جرم میں، ایک پولیس افسر کو تفتیش کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے کیونکہ اس کے پاس سیکشن 156 Cr کے تحت موجود قانون کے تحت تمام اختیارات ہوتے ہیں۔ پی سی تاہم، پوزیشن مختلف ہوتی ہے جب کیس کا تعلق ناقابل سماعت جرم سے ہوتا ہے کیونکہ تفتیش کے اختیارات مجسٹریٹ (155 {2} Cr. PC) کی اجازت پر منحصر ہوتے ہیں۔ جس لمحے اسے اپنا اختیار استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، وہ ملزم کو گرفتار کرنے کے اختیارات کے علاوہ قابلِ سماعت مقدمات میں استعمال کیے جانے والے تمام اختیارات سے لطف اندوز ہونے لگتا ہے۔

ایک بار ’تفتیش‘ شروع ہو جائے، یا تو قابلِ ادراک یا غیر قابلِ ادراک جرم میں، پھر اسے تمام قانونی ضابطوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد نتیجہ اخذ کرنا پڑتا ہے اور اس کے مکمل ہونے کے بعد، دفعہ 173 Cr کے تحت ایک رپورٹ۔ P.C (چالان) صوبائی حکومت کی طرف سے تجویز کردہ فارم میں مجسٹریٹ کو بھیجنا ہے۔

سیکشن 173 Cr.P.C میں استعمال ہونے والے "ہر تفتیش" کے الفاظ اہم ہیں اور اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ یہ قابل ادراک یا ناقابل سماعت جرم ہو سکتا ہے، رپورٹ (چالان) کو صوبائی حکومت کی طرف سے تجویز کردہ فارم میں جمع کرنا ہوگا۔ .

لہٰذا یہ قطعی قانونی موقف ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ (چالان) کے اختتام پر صرف دفعہ 173 Cr کے تحت پیش کیا جائے۔ پی سی اور اس کا سیکشن 512 کروڑ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پی سی

سیکشن 512 سی آر کیا ہے؟ پی سی ہے اور یہ فراہمی کب اپنا کردار ادا کرتی ہے؟

مندرجہ بالا دفعات کے تحت کردار رپورٹ (چالان) جمع کروانے کے بعد کا ہے اور وہ بھی جب مجاز دائرہ اختیار کی عدالت کے سامنے ان الفاظ کے استعمال کی وجہ سے 'عدالت ایسے شخص کے خلاف شکایت کی گئی جرم کے لیے مقدمہ چلانے کی مجاز ہے'۔

جیسا کہ 'جرم کی شکایت کی گئی' کے بعد لفظ 'مے' کا استعمال کیا گیا ہے، لہٰذا سیکشن 512 Cr.P.C کے تحت آگے بڑھنے کی صوابدید بھی عدالت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ہر کیس کے حقائق اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دے۔ اگر عدالت کو معلوم ہوتا ہے کہ مفرور کی گرفتاری کا فوری امکان نہیں ہے۔

ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ان کارروائیوں کو "غیر حاضری میں ٹرائل" کہا جاتا ہے جو کہ درست طریقہ نہیں ہے۔ عام اصول یہ ہے کہ ثبوت ملزم کی موجودگی میں یا اس کے وکیل/پیغام دہندہ کی موجودگی میں ریکارڈ کیا جانا چاہیے، اگر اس کی ذاتی حاضری منقطع کی جاتی ہے، جبکہ سیکشن 512 Cr.P.C کے تحت کارروائی عام اصول سے مستثنیٰ ہے جس کا مقصد تحفظ کرنا ہے۔ اس ثبوت سے ملزم اپنے غیر قانونی مفرور فعل کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔ یہ کھیل کی حکمرانی کا منصفانہ حصہ ہے کیونکہ اس میں استغاثہ کے ان فوائد کا احاطہ کیا گیا ہے جو کسی مفرور کی چالاک حرکت کی وجہ سے شکست خوردہ انجام تک نہیں پہنچ سکتے۔ یہ تشریح سیکشن 512 Cr.P.C کے سادہ پڑھنے پر مبنی ہے جہاں یہ فراہم کیا گیا ہے کہ ریکارڈ شدہ ثبوت ملزم کے خلاف مقدمے کے دوران اس جرم کے لیے دیے جا سکتے ہیں جس کا اس پر الزام لگایا گیا ہے، اگر مدعی (گواہ) مر گیا ہو یا نااہل ہو ثبوت دینا وغیرہ

لہذا، ہم ہدایت کرتے ہیں کہ اس آرڈر کی کاپیاں انسپکٹر جنرل آف پولیس اور پراسیکیوٹر جنرل آف پنجاب کو بھیجی جائیں جو اسے تمام متعلقہ افراد کو اس ہدایات کے ساتھ بھیجیں گے کہ اس غیر قانونی عمل کا ذکر کرنے کے لیے "سیکشن 512 Cr کے تحت چالان۔ پی سی"
چیلنج زیر سماعت 512 ض ف
فوری طور پر بند کر دیا جائے گا. دفتر کو مزید ہدایت کی گئی ہے کہ اس آرڈر کی کاپیاں پنجاب کے تمام جوڈیشل افسران (بشمول سابق کیڈر) کو ان کی رہنمائی اور مستقبل میں تعمیل کے لیے بھیجیں۔

اگر ملزم نے مستغیث کو رقم کی مرحلہ وار ادائیگی کیلیے ایک ہی وقت میں مختلف تواریخ کےچیک جاری کیے ھوں تو ان چیکس کے ڈس آنر...
25/04/2022

اگر ملزم نے مستغیث کو رقم کی مرحلہ وار ادائیگی کیلیے ایک ہی وقت میں مختلف تواریخ کےچیک جاری کیے ھوں تو ان چیکس کے ڈس آنر ھونے پر ان تمام چیکس کی بابت صرف ایک ھی ایف آئی آر درج ھو سکتی ہے اگر ان میں سے ایک چیک کے ڈس آنر ھونے پر ایک ایف آئی آر درج ھو جاتی ھے تو اندراج ایف آئی آر کے بعد مزید ڈس آنر ھونے والے چیکس کی بابت بھی کاروائی پہلے سے درج شدہ مقدمہ میں ہی ھو گی الگ سے ایف آئی آر درج نہ ھو گی
2022 M L D 31
[Islamabad]

HAMID KHAN
Versus
The STATE and 2 others

(a) Civil Procedure Code (V of 1908)---
---O.II, R.2---Inclusion of whole claim in the plaint---Object, purpose and scope--- Principle under O.II, R.2, C.P.C. is based upon concept of transparency, fair play, propriety and reasonableness---Object of such principle is that all matters in dispute between same parties arising and relating to same transaction should be disposed of in the same suit.

(b) Criminal Procedure Code (V of 1898)---
---S.4(l)---Investigation---Object---Duty of investigating officer is to discover incriminating evidence and to collect and establish that story of incident contained in FIR was correct---Investigating officer is not controlled or guided by contents of FIR rather it is his own authority to search for truth and he may disagree with version of FIR as it is expected from him to collect information or to record any fresh information or facts and he may arrive at its own conclusion.



(c) Criminal Procedure Code (V of 1898)---
---Ss.22-A (6) & 154---Penal Code (XLV of 1860), S.489-F---Dishonouring of cheque---Second FIR, quashing of---Scope---Guidelines to police officers---Petitioner/accused sought quashing of second FIR for dishonour of second cheque issued during same transaction for which earlier one FIR had already been registered---Validity---Held, second FIR could not be registered in cases of same transaction like cheques of same series originating on same cause of action, whether dishonoured or not or subsequently dishonoured after registration of first FIR---If second FIR was lodged the same should be cancelled by referring subsequent cheques through supplementary challan in first FIR/case---If second FIR was not registered and matter was pending before Ex-Officio Justice of Peace, who was dealing with the case, he could pass order/direction under S.22-A (6), Cr.P.C. to investigating officer of the first case, who had already registered the FIR or had submitted final report under S.173, Cr.P.C., to file supplementary challan in that first case on the basis of such new facts of cognizable offence emanating from the same incident / transaction like dishonoured cheque---If police officer had also registered second FIR, he could convert final report in terms of S.173, Cr.P.C. as supplementary report of first FIR while considering offence of same transaction, must submit supplementary challan in the same court without recourse to arrest of accused---Where different dishonoured cheques were still with complainant, which had not been used against same accused originating from same transaction and series of cheques, which were basis of first FIR, in such situation no further F.I.R. could be registered and police officer should not proceed in those cases, rather should refer the parties to Court of competent jurisdiction under the law by way of filing of civil suit for recovery---Officer incharge of police station should not entertain every such application of subsequent dishonoured cheque of same accused by facilitating complainant as helping in or becoming tool of recovery---Police officers were duty bound to refer the parties to Court of competent jurisdiction or directed the matter to concerned police station for recording of entire complaint in police diary with reasons that already FIR has been lodged and complainant did not disclose other cheques of same transaction due to his ill-will and mala fide---If trial of first FIR was already concluded then police officer should not register second FIR in any manner of the same transaction or series of offences which had already been adjudicated upon the basis of same set of allegations---High Court quashed second FIR as the same was abuse of process and complainant had right to recourse to remedy of recovery provided under law-

فوجداری مقدمات میں دفعہ 249 اور 249_اے(A) میں کیا فرق ہے۔اور ملزم کو کب بری کیا جاسکتا ہے،کب ضمانت پر رہا کرکے  چالان مق...
24/04/2022

فوجداری مقدمات میں دفعہ 249 اور 249_اے(A) میں کیا فرق ہے۔اور ملزم کو کب بری کیا جاسکتا ہے،کب ضمانت پر رہا کرکے چالان مقدمہ واپس تھا نہ بھیج دیا جاسکتا ہے
🔴Q 1: Difference between 249 & 249- A?

👉A. Under section 249 magistrates may stop the proceeding when no complainant appears before the court. In the same way under section 249-A magistrate has the power to acquit the accused at any stage during the pendency of the trail.

👉B. Under section 249 once an accused discharged can be charged again. But under section 249-A magistrate can acquit the accused on the basis of evidence at any stage

🔴Q 2: Whether order under section 249-A is final?

👉 Order under 249-A is not final order. Magistrate has power to recall the accused on the basis of evidences established. An appeal can be filed against such order under 417 Cr.P.C

👉 For example: If there are three accused and one of them was not found guilty then magistrate can acquit him at that stage of the proceeding and has power tio recall him when required.

🔴Q 3: Can a Judicial Magistrate acquit accused at any time during the pendency of Trial? What is remedy against 249-A order?

👉A. Under Section 249-A A magistrate has a power to acquit an accused at any stage during the pendency of the trail. As 249-A is not the final order because magistrate can recall him on the basis of evidence.

👉B. If person is acquitted under section 249-A any person being aggrieved by the said order may file an acquittal appeal under section 417 before the High Court. No revision shall lie from said order.

Get appointments before visiting my office at Nawabshah.  Through Whatsup 03003229801
29/03/2022

Get appointments before visiting my office at Nawabshah. Through Whatsup 03003229801

Address

Nawabshah
67500

Telephone

+923003229801

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when lawyer at nawabshah , sindh Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to lawyer at nawabshah , sindh Pakistan:

Share