31/12/2025
ابو عبیدہ کیسے شہید ہوئے؟
ابو عبیدہ کیسے شہید ہوئے؟ہفتہ کی شام، 30 اگست 2025ء کو، سرزمینِ قدس میں غداری کی بدترین مثال سامنے آئی۔ ایک غدار نے اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کے دوران نقاب پوش مجاہد کی موجودگی اسرائیلی خفیہ ادارے شاباک کو بتائی۔ شاباک نے اس نایاب موقع کو غنیمت جانا کیونکہ اس مجاہد کو شہید کرنے کی 14 کوششیں پہلے ناکام ہو چکی تھیں۔ فوری طور پر فوجی قیادت نے ہنگامی اجلاس میں فیصلہ کیا کہ ایسے خاص طیارے استعمال کیے جائیں جو صرف مزاحمتی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اگرچہ انہیں معلوم تھا کہ حذیفہ کحلوت ایک مخصوص فلیٹ میں موجود ہے، پھر بھی پورے رہائشی عمارت کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا تاکہ ہدف کی مارے جانے کی مکمل یقین دہانی ہو اور خاندان سے انتقام لیا جا سکے۔ حملے میں بین الاقوامی طور پر ممنوعہ آتش گیر اور حرارتی بم استعمال کیے گئے، جو شدید حرارت اور مہلک دباؤ پیدا کرتے ہیں، جس سے نہ انسان بچ سکا نہ عمارت۔ ہمارے ہیرو حذیفہ شہید ہوئے، ان کی اہلیہ اور معصوم بچے لیان، منّة اللہ اور یمان بھی شہادت پا گئے۔ ان کے خاندان کے دیگر 40 افراد بھی شہید ہوئے، کیونکہ پورا فلیٹ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ چنانچہ انہوں نے غسل کیا، خود کو سنوارا، اور اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے بعد دین اور وطن کا دفاع کرتے ہوئے شہادت پائی۔ ان کی شہادت سے پہلے ایک بشارت بھی تھی، جو انہوں نے اپنے داماد ڈاکٹر منذر العامودی کو خواب میں دیکھی: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، “تم آج شہید ہو جاؤ گے۔” پوری امت نے ان پر گریہ کیا، مساجد، محرابیں اور میدانِ جنگ ان کے غم میں ڈوب گئے۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ شہداء مر جاتے ہیں، وہ تو رخصت ہو کر ہم پر گواہ بن جاتے ہیں۔ اللہ ہمارے ہیرو حذیفہ کی شہادت قبول فرمائے۔♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️