24/04/2026
پاکستان پینل کوڈ (PPC) کے تحت زخموں یا جسمانی چوٹوں کو "Hurt" کہا جاتا ہے، اور اس سے متعلقہ دفعات 332 سے شروع ہوتی ہیں۔ 1990 کے قصاص و دیت آرڈیننس کے بعد ان میں بڑی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔
زخموں کی نوعیت، ان کے متعلقہ سیکشنز اور دفعات کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. اِتلافِ عُضو (Itlaf-i-Udw)
• تعریف: کسی شخص کے جسم کا کوئی عضو کاٹ دینا، الگ کر دینا یا مستقل طور پر بیکار کر دینا۔
• دفعہ: 333 PPC
• سزا (دفعہ 334): قصاص (اگر ممکن ہو)، ورنہ عرش (مالی معاوضہ) اور 10 سال تک قید۔
2. اِتلافِ صلاحیتِ عُضو (Itlaf-i-Salahiyyat-i-Udw)
• تعریف: عضو تو موجود رہے لیکن اس کے کام کرنے کی صلاحیت مستقل طور پر ختم ہو جائے (مثلاً بینائی، سماعت یا چلنے کی طاقت ختم ہونا)۔
• دفعہ: 335 PPC
• سزا (دفعہ 336): قصاص یا عرش، اور 10 سال تک قید۔
3. شجہ (Shajjah) - سر اور چہرے کے زخم
شجہ صرف سر یا چہرے پر آنے والے زخموں کو کہتے ہیں۔ اس کی چھ اقسام ہیں:
معذرت خواہ ہوں کہ ٹیبل کاپی کرنے میں دشواری ہوئی۔ میں اسی معلومات کو سادہ ٹیکسٹ (Text) کی صورت میں نیچے لکھ رہا ہوں تاکہ آپ اسے آسانی سے سلیکٹ (Select) کر کے کاپی اور پیسٹ کر سکیں۔
شجہ (سر اور چہرے کے زخموں کی تفصیل)
1. شجہ خفیہ (Shajjah-i-Khafifah)
تفصیل: ایسا زخم جس میں ہڈی نظر نہ آئے۔
دفعہ: 337-A(i)
2. شجہ موضحہ (Shajjah-i-Mudihah)
تفصیل: ایسا زخم جس میں ہڈی نظر آ جائے مگر ہڈی ٹوٹے نہیں۔
دفعہ: 337-A(ii)
3. شجہ ہاشمہ (Shajjah-i-Hashimah)
تفصیل: ایسا زخم جس میں ہڈی ٹوٹ جائے مگر اپنی جگہ سے نہ ہلے۔
دفعہ: 337-A(iii)
4. شجہ منقلہ (Shajjah-i-Munaqqilah)
تفصیل: ہڈی ٹوٹ جائے اور اپنی جگہ سے ہل (Dislocate) جائے۔
دفعہ: 337-A(iv)
5. شجہ آمہ (Shajjah-i-Ammah)
تفصیل: ایسا گہرا زخم جو دماغ کی جھلی (Membrane) تک پہنچ جائے۔
دفعہ: 337-A(v)
6. شجہ دامغہ (Shajjah-i-Damighah)
تفصیل: ایسا زخم جو دماغ کی جھلی کو پھاڑ دے یا دماغ کو نقصان پہنچائے۔
دفعہ: 337-A(vi)
غیر جائفہ (جسم کے دیگر حصوں کے زخم)
1. دامیہ (Damiyah)
تفصیل: جس زخم سے خون نکل آئے۔ (337-F-i)
2. باضعہ (Badiah)
تفصیل: جو گوشت کو کاٹ دے۔ (337-F-ii)
3. متلاحمہ (Mutalahimah)
تفصیل: جو گوشت کے اندر گہرا اتر جائے۔ (337-F-iii)
4. موضحہ (Mudihah)
تفصیل: جس میں ہڈی نظر آ جائے۔ (337-F-iv)
5. ہاشمہ (Hashimah)
تفصیل: جس میں ہڈی ٹوٹ جائے۔ (337-F-v)
6. منقلہ (Munaqqilah)
تفصیل: ہڈی ٹوٹ کر اپنی جگہ چھوڑ دے۔ (337-F-vi)
ٹپ: آپ اس ٹیکسٹ پر اپنی انگلی تھوڑی دیر دبا کر رکھیں (Long Press)، پھر "Copy" کا آپشن منتخب کر لیں۔ کیا آپ کو ان دفعات کی سزاؤں یا کسی مخصوص کیس کے حوالے سے مزید معلومات چاہیے؟
4. جُرح (Jurh) - جسم کے دیگر حصوں کے زخم
سر اور چہرے کے علاوہ جسم کے کسی اور حصے پر ایسا زخم جو جلد کے اندر تک جائے، اسے "جرح" کہتے ہیں۔ اس کی دو بڑی اقسام ہیں:
(الف) جائفہ (Jaifah)
• تعریف: ایسا زخم جو جسم کے کسی ایسے خلا (Body Cavity) میں داخل ہو جائے جیسے پیٹ، سینہ یا کمر۔
• دفعہ: 337-C
• سزا: دمن (مالی معاوضہ) اور 10 سال تک قید۔
(ب) غیر جائفہ (Ghayr-Jaifah)
ایسا زخم جو جسم کے خلا میں داخل نہ ہو۔ اس کی مزید اقسام یہ ہیں:
• دامیہ (Damiyah): جس میں خون نکل آئے۔ (337-E)
• باضعہ (Badiah): جو گوشت کو کاٹ دے۔
• متلاحمہ (Mutalahimah): جو گوشت کے اندر گہرا اتر جائے۔
• موضحہ (Mudihah): جس میں ہڈی نظر آ جائے۔
• ہاشمہ (Hashimah): ہڈی ٹوٹ جائے۔
• منقلہ (Munaqqilah): ہڈی ٹوٹ کر اپنی جگہ چھوڑ دے۔
5. دیگر اقسام
• اتلافِ غیر عمد (Itlaf-i-Ghayr-Amd): غلطی یا غفلت سے پہنچائی گئی چوٹ (دفعہ 337-L)۔
• زہر کے ذریعے نقصان: اگر کسی کو زہر دے کر نقصان پہنچایا جائے (دفعہ 337-J)۔
پاکستان میں کسی بھی فوجداری مقدمے، خاص طور پر لڑائی جھگڑے اور جسمانی چوٹ (Hurt) کے کیسز میں میڈیکل ایگزامینیشن ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ قانونی نقطہ نظر سے اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. میڈیکل کروانے کا متعلقہ سیکشن
پاکستان میں زخموں کے معائنے کے لیے عام طور پر درج ذیل دفعات اور قوانین کا سہارا لیا جاتا ہے:
• دفعہ 174 CrPC: اگرچہ یہ زیادہ تر ناگہانی موت یا خودکشی کے لیے استعمال ہوتی ہے، لیکن پولیس کسی بھی زخمی شخص کو طبی معائنے کے لیے سرکاری ہسپتال بھیجنے کی پابند ہے۔
• Police Rules, 1934 (Chapter 25): پولیس رولز کے باب 25 کے تحت تفتیشی افسر کا یہ فرض ہے کہ وہ زخمی شخص کا فوری طور پر MLC (Medico-Legal Certificate) بنوائے۔
• دفعہ 54 CrPC (ترمیم شدہ): بعض صورتوں میں ملزم کے طبی معائنے کے لیے بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے۔
2. میڈیکل (MLR/MLC) کی قانونی اہمیت
عدالت میں زبانی گواہی سے زیادہ دستاویزی ثبوت یعنی Medico-Legal Report (MLR) کی اہمیت ہوتی ہے:
• جرم کا تعین: میڈیکل رپورٹ ہی طے کرتی ہے کہ ملزم پر PPC کی کون سی دفعہ لگے گی۔ مثلاً اگر ہڈی ٹوٹی ہے تو "ہاشمہ" (337-A-iii) لگے گی، اور اگر صرف معمولی خراش ہے تو "خفیہ" (337-A-i) لگے گی۔
• آلہ قتل/ضرب کا پتہ لگانا: ڈاکٹر یہ بتاتا ہے کہ زخم کسی کند آلے (Blunt Weapon) سے لگا ہے یا تیز دھار آلے (Sharp Edge) سے۔ اس سے مدعی کے بیان کی تصدیق یا تردید ہوتی ہے۔
• وقت کا تعین: ڈاکٹر رپورٹ میں لکھتا ہے کہ زخم کتنا پرانا ہے۔ یہ چیز وقوعہ کے وقت کو ثابت کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
3. میڈیکل میں تاخیر (Delay) کے قانونی اثرات
قانونی اصطلاح میں میڈیکل میں تاخیر مقدمے کے لیے "زہر" ثابت ہو سکتی ہے:
• شک کا فائدہ (Benefit of Doubt): اگر زخم لگنے اور میڈیکل کروانے میں غیر ضروری تاخیر ہو (مثلاً 24 گھنٹے سے زیادہ)، تو دفاعی وکیل یہ اعتراض اٹھاتا ہے کہ یہ زخم "خود ساختہ" (Self-inflicted) ہو سکتے ہیں یا وقوعہ کے بعد کہیں اور سے لگوائے گئے ہیں۔
• بیان میں تضاد: اگر ایف آئی آر میں تاخیر ہو اور میڈیکل میں بھی، تو عدالت اسے مشکوک سمجھتی ہے اور ملزم کو ضمانت ملنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
• توجیہ (Explanation): اگر تاخیر ہو جائے تو مدعی کو اس کی ٹھوس وجہ بتانی پڑتی ہے (مثلاً بے ہوشی، ہسپتال کا دور ہونا یا پولیس کی سستی)۔ اگر وجہ معقول نہ ہو تو کیس کمزور ہو جاتا ہے۔
4. اہم قانونی نکات (Legal Points)
• ماہر کی شہادت (Expert Opinion): قانونِ شہادت آرڈر (QSO) کے تحت ڈاکٹر ایک "ماہر" (Expert) ہے اور اس کی رپورٹ دفعہ 59 کے تحت قابلِ قبول شہادت ہے۔
• تضاد (Conflict): اگر میڈیکل رپورٹ اور چشم دید گواہ کے بیان میں واضح فرق ہو (مثلاً گواہ کہے کہ گولی لگی ہے اور میڈیکل کہے کہ ڈنڈا لگا ہے)، تو عدالت میڈیکل رپورٹ کو ترجیح دیتی ہے اور گواہ کو جھوٹا تصور کیا جا سکتا ہے۔
• پرائیویٹ میڈیکل: پرائیویٹ ہسپتال کا میڈیکل قانونی طور پر اس وقت تک مستند نہیں مانا جاتا جب تک کہ اسے سرکاری میڈیکل افسر (MS یا نامزد ڈاکٹر) کی تصدیق حاصل نہ ہو۔
خلاصہ: پولیس کا جاری کردہ "رقعہ" لے کر سرکاری ہسپتال سے فوری MLC بنوانا کیس کو مضبوط بنانے کا پہلا اور سب سے اہم مرحلہ ہے۔
03408141275
The Lawyer dairy