LIMRA Law Firm Multan

LIMRA Law Firm Multan Best team lawyers team in Multan

غریب، نادار اور مستحق افراد کے لیے مفت وکالت کی سہولت موجود ہے۔براہِ رابطہ: فخر حیات ہراج، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ📞 0300-0963...
12/08/2026

غریب، نادار اور مستحق افراد کے لیے مفت وکالت کی سہولت موجود ہے۔
براہِ رابطہ: فخر حیات ہراج، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
📞 0300-09636242
🏛️ چیمبر نمبر 227، اولڈ بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس، ملتان
. multan highcourtmultan districtcourtsmultan bestwakeelinmultan wakeelinmultan bestlawyerinmultan fialawyerinmultan bestfiaadvocateinmultan bestcriminallawerinmultan FakharHayatHiraj
FakharHayatAdvocate
AdvocateFakharHayat
AdvocateHighCourt
HighCourtAdvocate
BestLawyerMultan
BestAdvocateMultan
LawyerInMultan
AdvocateInMultan
MultanLawyer
MultanAdvocate
CivilLawyerMultan
CriminalLawyerMultan
CriminalAdvocateMultan
FIALawyerMultan
FIAAdvocateMultan
BestLawFirmMultan

غریب، نادار اور مستحق افراد کے لیے مفت وکالت کی سہولت موجود ہے۔براہِ رابطہ: فخر حیات ہراج، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ📞 0300-0963...
12/08/2026

غریب، نادار اور مستحق افراد کے لیے مفت وکالت کی سہولت موجود ہے۔

براہِ رابطہ: فخر حیات ہراج، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
📞 0300-09636242
🏛️ چیمبر نمبر 227، اولڈ بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس، ملتان
. multan highcourtmultan districtcourtsmultan bestwakeelinmultan wakeelinmultan bestlawyerinmultan fialawyerinmultan bestfiaadvocateinmultan bestcriminallawerinmultan FakharHayatHiraj
FakharHayatAdvocate
AdvocateFakharHayat
AdvocateHighCourt
HighCourtAdvocate
BestLawyerMultan
BestAdvocateMultan
LawyerInMultan
AdvocateInMultan
MultanLawyer
MultanAdvocate
CivilLawyerMultan
CriminalLawyerMultan
CriminalAdvocateMultan
FIALawyerMultan
FIAAdvocateMultan
BestLawFirmMultan
LawFirmMultan
LawyerPakistan
BestLawyerPakistan

غریب، نادار اور مستحق افراد کے لیے مفت وکالت کی سہولت موجود ہے۔براہِ رابطہ: فخر حیات ہراج، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ📞 0300-0963...
12/08/2026

غریب، نادار اور مستحق افراد کے لیے مفت وکالت کی سہولت موجود ہے۔

براہِ رابطہ: فخر حیات ہراج، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
📞 0300-09636242
🏛️ چیمبر نمبر 227، اولڈ بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس، ملتان
.


















پاکستان سپریم کورٹ کا فیصلہ (PLJ 2026 SC 322) - اردو میں تفصیلی تشریحمقدمے کا پس منظر:یہ مقدمہ صوبہ پنجاب (ضلع بھکر کے ڈ...
24/07/2026

پاکستان سپریم کورٹ کا فیصلہ (PLJ 2026 SC 322) - اردو میں تفصیلی تشریح

مقدمے کا پس منظر:

یہ مقدمہ صوبہ پنجاب (ضلع بھکر کے ڈسٹرکٹ آفیسر ریونیو/کلیکٹر اور دیگر) کی طرف سے ذوالفقار اور دیگر (مدعیان) کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔ مدعیان نے صوبہ پنجاب اور ایک اور فریق (مدعا علیہان) کے خلاف اعلانیت (declaration) اور قبضے کا سول مقدمہ دائر کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ چک نمبر 61/ٹی ڈی اے، تحصیل اور ضلع بھکر میں واقع 66 کنال 9 مرلہ زمین، جو کھاتہ نمبر 10/9، خطونی نمبر 92 سے 100، کل 21 قطع پر مشتمل تھی، پہلے آر ایل-II نمبر 188 کے ذریعے مدعا علیہ نمبر 9 (جواب دہندہ نمبر 9) کے نام مختص (allot) کی گئی تھی، اور اس کے نتیجے میں ان کے نام انتقال نمبر 1 (Mutation No. 1) منظور کیا گیا تھا۔ اس کے بعد مدعیان نے مدعا علیہ نمبر 9 سے یہ زمین خرید لی۔

صوبہ پنجاب (مدعا علیہان) نے اپنے جوابی بیان میں زمین کو تھل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (TDA) کی جائیداد قرار دیا اور کہا کہ سیٹلمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کوئی قانونی مختص (allotment) نہیں کی جا سکتی۔ ٹرائل کورٹ نے 24 دسمبر 2004 کو مدعیان کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ صوبہ پنجاب نے اس فیصلے کے خلاف ڈسٹرکٹ جج، بھکر کے ہاں اپیل دائر کی، جسے 31 جنوری 2006 کو منظور کر لیا گیا اور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ منسوخ کر کے مدعیان کا مقدمہ خارج کر دیا گیا۔ مدعیان نے لاہور ہائی کورٹ میں سول نظرثانی (Civil Revision No. 247/2006) دائر کی، جسے ہائی کورٹ نے 23 مئی 2014 کو منظور کر لیا اور اپیل کورٹ کا فیصلہ منسوخ کر کے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا۔ اس پر صوبہ پنجاب نے سپریم کورٹ میں اپیل کی اجازت کے لیے درخواست دائر کی۔

عدالت کے سامنے اہم قانونی سوالات:

سپریم کورٹ کے سامنے درج ذیل اہم سوالات تھے:

1. کیا مدعیان اپنے دعوائے ملکیت اور قبضے کو قانونی شواہد کے ذریعے ثابت کرنے میں کامیاب ہوئے؟
2. کیا مدعیان کی طرف سے پیش کردہ انتقال (mutation) کی اندراجات خود بخود ملکیت کا حق دیتی ہیں یا انہیں ثابت کرنے کے لیے بنیادی دستاویز (allotment) کا ثبوت دینا ضروری ہے؟
3. کیا مدعیان کا مقدمہ حدِ قانون (limitation) کے اندر دائر کیا گیا تھا؟
4. کیا ریونیو حکام کے فیصلوں کے بعد سول عدالت میں نیا مقدمہ دائر کرنا اور اسے مکمل سماعت کے ذریعے لڑنا جائز ہے؟

سپریم کورٹ کا قانونی تجزیہ اور فیصلہ:

عدالت نے مدعیان کے دعوے کی بنیاد کا جائزہ لیا اور پایا کہ ان کا پورا دعویٰ اس بنیادی دستاویز (آر ایل-II نمبر 188) پر مبنی تھا جسے انہوں نے عدالت میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا۔ عدالت نے قنون شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 117 کا حوالہ دیا جس کے تحت کسی بھی شخص کو اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے شواہد پیش کرنے کی ذمہ داری (burden of proof) ہوتی ہے۔

عدالت نے "ناصر علی بمقابلہ محمد اصغر" (2022 SCMR 1054) کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مدعی کو اپنی کمزوریوں کے بجائے اپنی مضبوطیوں پر کامیاب ہونا چاہیے۔ اس مقدمے میں مدعیان اپنی بنیادی دستاویز (آر ایل-II نمبر 188) پیش کرنے میں ناکام رہے، جسے انہوں نے صرف جرح (cross-examination) کے دوران بیان کیا، جو کہ قانونی ثبوت کے مترادف نہیں ہے۔ عدالت نے "مست فروخ جبین بمقابلہ مقبول حسین" (PLD 2004 SC 499) کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جرح کے دوران کیا گیا کوئی بیان خود بخود پابند ثبوت نہیں بنتا اور اسے صرف قیاسی ثبوت (inferential evidence) سمجھا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ، عدالت نے وضاحت کی کہ انتقال (mutation) کی اندراجات بنیادی طور پر مالیاتی (fiscal) مقاصد کے لیے ہوتی ہیں اور یہ خود بخود ملکیت کا حق نہیں دیتیں۔ جب کسی انتقال کو چیلنج کیا جائے تو اس پر انحصار کرنے والے فریق کو اصل لین دین (original transaction) کو قانونی شواہد کے ذریعے ثابت کرنا ہوتا ہے۔ مدعیان اس میں بھی ناکام رہے۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ زیرِ بحث زمین سرکاری/ٹی ڈی اے کی زمین تھی، جس کی قانونی مختص (allotment) ممکن نہیں تھی۔ اس کے علاوہ، مدعیان نے پہلے بھی ایک مقدمہ دائر کیا تھا جس میں حکومت (جو اصل مالک تھی) کو فریق نہیں بنایا گیا تھا، جس کی وجہ سے انہیں ایک فیصلہ ملا اور ان کے نام انتقال منظور ہوا، لیکن بعد میں ریونیو حکام نے اسے منسوخ کر کے زمین دوبارہ حکومت کے حوالے کر دی۔ عدالت نے "عاشق حسین شاہ بمقابلہ صوبہ پنجاب" (2003 SCMR 1840) کا حوالہ دیا کہ ماتحت افسران کی غفلت یا سازش کی وجہ سے سرکاری زمین کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا جا سکتا۔

عدالت نے حدِ قانون (limitation) کے پہلو کا بھی جائزہ لیا۔ آرٹیکل 14، فرسٹ شیڈیول، لمیٹیشن ایکٹ 1908 کے تحت کسی سرکاری افسر کے سرکاری حیثیت میں کیے گئے کسی عمل یا حکم کو چیلنج کرنے کے لیے اس کی تاریخ سے ایک سال کی مدت مقرر ہے۔ مدعیان نے 1992 اور 1995 کے احکامات (بشمول 17 اکتوبر 1995 کے حکم) کو طویل عرصے بعد چیلنج کیا، جس کی کوئی معقول وجہ نہیں بتائی گئی، اس لیے یہ مقدمہ حدِ قانون سے خارج بھی تھا۔

عدالت نے ایک اور اہم نکتہ اٹھایا کہ مدعیان پہلے ہی ریونیو عدلیہ کے تمام درجات (ایڈیشنل کمشنر، چیف سیٹلمنٹ کمشنر، وغیرہ) سے اپنا مقدمہ لڑ چکے تھے اور انہوں نے ان حکام کے حتمی فیصلوں کو چیلنج کرنے کے بجائے ایک نیا سول مقدمہ دائر کیا اور اسے مکمل سماعت کے ذریعے لڑا، جسے عدالت نے قانونی طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا۔ عدالت نے "نوشیر بمقابلہ صوبہ پنجاب" (PLD 2022 SC 699) کا حوالہ دیا کہ سول عدالت کا کردار ریونیو ٹریبونلز پر اپیل کورٹ کی طرح نہیں ہے، بلکہ وہ ان کے اختیارات اور قانونی حیثیت کا جائزہ لے سکتی ہے۔ اس کے لیے سول عدالت کو نیا مقدمہ اور مکمل سماعت کی بجائے صرف موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر خلاصہ طریقہ کار (Order XV, Rules 3 & 4, CPC) اختیار کرنا چاہیے۔

مزید برآں، عدالت نے "انتخاب کا اصول" (Doctrine of Election) کا حوالہ دیا، جس کے تحت ایک شخص جب کسی فیصلے کے خلاف کئی راستے (remedies) اختیار کر سکتا ہے تو اسے ایک راستہ منتخب کرنا ہوگا، اور ایک بار انتخاب کرنے کے بعد وہ دوسرا راستہ نہیں اپنا سکتا۔ مدعیان نے پہلے ریونیو عدلیہ کا راستہ اختیار کیا تھا، اور اس کے حتمی فیصلے کے بعد اب وہ سول عدالت میں نیا مقدمہ نہیں دائر کر سکتے۔ عدالت نے "قاضی ممتاز حسین بمقابلہ حکومت سندھ" (2025 SCMR 939) اور "میر مجیب الرحمٰن بمقابلہ ریٹرننگ آفیسر" (PLD 2020 SC 718) کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا۔

عدالت کا حتمی فیصلہ اور احکامات:

سپریم کورٹ نے پایا کہ مدعیان اپنی بنیادی دستاویز (آر ایل-II نمبر 188) پیش کرنے میں ناکام رہے، انتقال کی اندراجات خود بخود ملکیت نہیں دیتیں، مقدمہ حدِ قانون سے خارج تھا، اور ریونیو عدلیہ سے مقدمہ لڑنے کے بعد نیا سول مقدمہ دائر کرنا اور مکمل سماعت کرانا قانونی طور پر درست نہیں تھا۔ لہٰذا، عدالت نے اپیل کی درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے اسے منظور کیا، ہائی کورٹ کا فیصلہ منسوخ کیا، اپیل کورٹ کا فیصلہ بحال کیا، اور مدعیان کا مقدمہ خارج کر دیا۔

خلاصہ اور نتیجہ:

اس فیصلے نے درج ذیل اہم قانونی اصولوں کو واضح کیا:

1. ثبوت کا بار (burden of proof) مدعی پر ہوتا ہے، اور اسے اپنے دعوے کو قانونی شواہد کے ذریعے ثابت کرنا ہوتا ہے۔
2. انتقال (mutation) کی اندراجات صرف مالیاتی مقاصد کے لیے ہیں اور یہ خود بخود ملکیت کا حق نہیں دیتیں۔ اگر ان کو چیلنج کیا جائے تو بنیادی لین دین کو ثابت کرنا ضروری ہے۔
3. کسی سرکاری افسر کے حکم کو چیلنج کرنے کے لیے حدِ قانون (ایک سال) کا پابند ہونا ضروری ہے۔
4. جب کوئی شخص کسی قانونی راستے (جیسے ریونیو عدلیہ) کا انتخاب کر لیتا ہے اور اس کے حتمی فیصلے کے بعد نیا راستہ (جیسے سول مقدمہ) اختیار کرتا ہے تو یہ "انتخاب کے اصول" کے خلاف ہے اور ناقابلِ قبول ہے۔
5. سول عدالتیں ریونیو ٹریبونلز کی اپیل کورٹ نہیں ہیں، وہ صرف ان کے احکامات کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے سکتی ہیں اور اس کے لیے مکمل سماعت کی بجائے خلاصہ طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے۔
6. عدالتیں سرکاری زمین کی حفاظت کی ذمہ دار ہیں اور کسی بھی غفلت یا سازش کی وجہ سے اسے ہاتھ سے نہیں جانے دیا جا سکتا۔

یہ فیصلہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ سرکاری زمینوں کو غیر قانونی قبضوں اور کمزور شواہد کی بنیاد پر منتقل نہ کیا جائے اور ریونیو عدلیہ کے فیصلوں کو سول عدالتوں میں غیر ضروری طور پر چیلنج نہ کیا جائے۔

PLJ 2026 SC 301پاکستان سپریم کورٹ کا فیصلہ (PLJ 2026 SC 301) - اردو میں تفصیلی تشریحمقدمے کا پس منظر:یہ مقدمہ وفاق پاکست...
24/07/2026

PLJ 2026 SC 301
پاکستان سپریم کورٹ کا فیصلہ (PLJ 2026 SC 301) - اردو میں تفصیلی تشریح

مقدمے کا پس منظر:

یہ مقدمہ وفاق پاکستان (وزارت خزانہ) کی طرف سے فرید اللہ اور دیگر (جواب دہندگان) کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔ وفاق پاکستان نے فیڈرل سروس ٹریبونل، اسلام آباد کے 26 جون 2025 کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی اجازت کے لیے درخواست (CPLA No. 4430 of 2025) دائر کی۔ تاہم، یہ درخواست مقررہ مدت (60 دن) کے 20 دن بعد دائر کی گئی، جس کے لیے وفاق نے تاخیر کی معافی (condonation of delay) کے لیے ایک ضمنی درخواست (CMA No. 8318 of 2025) بھی دائر کی۔

تاخیر کی وجوہات (وفاق کا موقف):

وفاق پاکستان نے اپنی معافی کی درخواست میں تاخیر کی درج ذیل وجوہات بتائیں:

1. یہ مقدمہ وزارت خزانہ کے ڈپٹی سیکرٹری (لیٹی گیشن-II) کے پاس زیرِ عمل تھا تاکہ سی پی ایل اے کمیٹی (CPLA Committee) سے منظوری حاصل کی جا سکے۔
2. سی پی ایل اے کمیٹی اپنے سامنے زیرِ غور مقدمات کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے تشکیل نہیں دی جا سکی (یعنی کمیٹی کے اجلاس کا اہتمام نہیں کیا جا سکا)۔
3. جب مقدمات کی تعداد بڑھی تو کمیٹی نے منظوری دی، جس کے بعد مسودہ (draft) قانون و انصاف ڈویژن کو جانچ پڑتال (vetting) کے لیے بھیجا گیا، جس نے کچھ تبدیلیاں تجویز کیں، اور پھر حتمی مسودہ تیار کر کے عدالت میں فائل کرنے کے لیے تیار کیا گیا، لیکن اس وقت تک مقررہ مدت ختم ہو چکی تھی۔
4. مزید وجوہات میں متعلقہ سیکشن میں کل وقتی افسر کی غیرموجودگی اور متعلقہ ڈپٹی سیکرٹری کی تبدیلی (transfer) شامل تھیں، جس کی وجہ سے مزید تاخیر ہوئی۔

سپریم کورٹ کا قانونی تجزیہ اور فیصلہ:

عدالت (جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس شکیل احمد) نے وفاق کی معافی کی درخواست کا جائزہ لیا اور پایا کہ تاخیر کی کوئی معقول وجہ (sufficient cause) نہیں ہے۔ عدالت نے درج ذیل اہم نکات پر روشنی ڈالی:

1. عدالتی نظام الاوقات کی پابندی: سپریم کورٹ رولز 2025 کے آرڈر XXV اور آرڈر XIV، رول 1 کے مطابق اپیل کی اجازت کی درخواست دائر کرنے کی مقررہ مدت 60 دن ہے۔ یہ مدت محض ایک تکنیکی (technical) شرط نہیں بلکہ قانونی اہمیت رکھتی ہے تاکہ فریقین احتیاط اور تندہی سے کام کریں اور مقدمات لامحدود نہ رہیں۔
2. انتظامی رکاوٹیں معقول وجہ نہیں: عدالت نے کہا کہ اندرونی انتظامی طریقہ کار (internal procedural requirements) یا انتظامی مشکلات (administrative challenges) قانونی ذمہ داری سے بالاتر نہیں ہو سکتیں۔ اگر فائلوں کی نقل و حرکت، کمیٹی کے اجلاسوں میں تاخیر، یا عملے کی کمی کو معقول وجہ تسلیم کر لیا جائے تو قانونی نظام لچک دار ہو جائے گا اور اس کا مقصد فوت ہو جائے گا۔
3. حکومت کی ذمہ داری: عدالت نے واضح کیا کہ ریاست (وفاق) خود کو اس طرح منظم کرے کہ وہ بروقت کام کرے اور قانونی مدت کی پابندی کرے۔ ریاست شہریوں کے خلاف قانون نافذ کرتی ہے اور ان سے مقررہ مدت کی پابندی کی توقع رکھتی ہے، اس لیے اسے خود بھی اس معیار پر پورا اترنا چاہیے۔ اگر ریاست کو اس کی اپنی اندرونی نااہلیوں (inefficiencies) کی وجہ سے قانونی مدت سے رعایت دی جاتی ہے تو یہ عدل و انصاف کی فراہمی میں عدم توازن پیدا کرے گا اور آئین کے آرٹیکل 25 (قانون کے سامنے مساوات) کی خلاف ورزی ہوگی۔
4. نظام میں کمزوری: عدالت نے کہا کہ جب تاخیر کو انتظامی معمول (administrative routine) کی بجائے ناگزیر حالات (unavoidable circumstances) سے تعبیر کیا جائے تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ تعمیل سہولت (convenience) پر منحصر ہے نہ کہ نظم و ضبط (discipline) پر۔ اس قسم کی تاخیر ناقابلِ معافی ہے، خاص طور پر جب اس تاخیر کا باعث بننے والے طریقہ کار (procedure) میں بہتری یا اصلاح کی کوئی کوشش نہ کی گئی ہو۔
5. عدالتوں کا کردار: عدالتوں کو ایسی تاخیر کو معاف نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے اس توقع کو کمزوری پہنچتی ہے کہ ریاست اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے قابل موثر نظام برقرار رکھے گی۔ قانونی مدت اور اندرونی طریقہ کار کا نفاذ ادارہ جاتی نظم و ضبط کو مضبوط کرتا ہے اور عوام کا اعتماد بحال کرتا ہے کہ قانون سب پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔

عدالت کا حتمی فیصلہ:

سپریم کورٹ نے وفاق کی تاخیر کی معافی کی درخواست (CMA No. 8318 of 2025) مسترد کر دی اور نتیجتاً، سول پٹیشن (Civil Petition) بھی مدتِ قانون (barred by time) کی وجہ سے خارج کر دی گئی۔

خلاصہ اور اہم قانونی نکات:

1. حدِ قانون کی پابندی: سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے مقررہ مدت (60 دن) کی پابندی ضروری ہے۔ اس مدت میں تاخیر کو معاف کرنے کے لیے انتہائی معقول اور مجبوری وجوہات (sufficient cause) ہونی چاہئیں۔
2. انتظامی تاخیر ناقابلِ معافی: حکومتی اداروں کے اندرونی انتظامی عمل (جیسے فائل کی نقل و حرکت، کمیٹی کے اجلاس، افسران کی تبدیلی) کو تاخیر کی معقول وجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ حکومت کو اپنے نظام کو اس طرح منظم کرنا چاہیے کہ وہ قانونی مدت کی پابندی کر سکے۔
3. قانون کے سامنے مساوات: ریاست خود قانون نافذ کرتی ہے، اس لیے اسے بھی قانون کی پابندی کرنی چاہیے۔ اگر ریاست کو اس کی اپنی نااہلی کی وجہ سے رعایت دی جاتی ہے تو یہ شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہے اور آئین کے آرٹیکل 25 کے خلاف ہے۔
4. نظام میں اصلاح کی ضرورت: عدالت نے واضح کیا کہ اگر کوئی نظام مسلسل تاخیر کا باعث بن رہا ہے تو اس میں اصلاح لانا ضروری ہے۔ تاخیر کو معمول نہیں بنایا جا سکتا۔
5. عدالتی وقت کا احترام: عدالتوں کا وقت قیمتی ہے، اور قانونی مدت کا مقصد یہ ہے کہ مقدمات لامحدود نہ رہیں اور فریقین تندہی سے اپنے معاملات کو آگے بڑھائیں۔

یہ فیصلہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ سپریم کورٹ عدالتی نظام الاوقات کی پابندی کو کس قدر اہمیت دیتی ہے اور حکومتی اداروں کو بھی شہریوں کی طرح قانون کی پابندی کرنے کی تلقین کرتی ہے۔ اس فیصلے نے یہ اصول قائم کیا کہ "انتظامی مصروفیات" کو تاخیر کا بہانہ نہیں بنایا جا سکتا اور ریاست کو اپنی نااہلیوں کا خمیازہ خود بھگتنا ہوگا۔

PLJ 2026 CRC NOTE 175پاکستان لا جرنل (PLJ) 2026 کریمنل (نوٹ) 175 کیس کا اردو خلاصہلاہور ہائی کورٹ، لاہورابھر گل خان، ججا...
24/07/2026

PLJ 2026 CRC NOTE 175

پاکستان لا جرنل (PLJ) 2026 کریمنل (نوٹ) 175 کیس کا اردو خلاصہ

لاہور ہائی کورٹ، لاہور

ابھر گل خان، جج

اتراس مسیح عرف مہنگا مسیح (درخواست گزار) بمقابلہ ریاست، وغیرہ (جواب دہندگان)

کریمنل مشلانی نمبر 23447-بی آف 2026، فیصلہ: 14 مئی 2026

---

کیس کا مختصر پس منظر:

یہ مقدمہ ایک شخص (اتراس مسیح) کی طرف سے دائر کی گئی ضمانت (Bail) کی درخواست سے متعلق ہے، جو ایک مسلح جھگڑے میں ملوث تھا۔

اہم حقائق:

1. مقدمہ کا اندراج (FIR): 10 جون 2025 کو تھانہ واربرٹن، ضلع ننکانہ صاحب میں ایک ایف آئی آر (FIR No. 482) درج کی گئی۔
2. مقدمہ میں شامل دفعات: اس مقدمے میں درج ذیل سنگین دفعات شامل تھیں:
· 324 PPC: قتل کی کوشش (Attempt to Murder)
· 337-F(v) PPC: گولی لگنے سے زخمی کرنا (Firearm Injury)
· 337-A(i) PPC: معمولی زخم (Minor Hurt)
· 452 PPC: غیر قانونی طور پر گھر میں داخل ہونا (Trespass)
· 148 PPC: غیر قانونی اجتماع (Unlawful Assembly)
· 149 PPC: غیر قانونی اجتماع کا مشترکہ ارادہ (Common Intention)
3. ملزم کا کردار: درخواست گزار (اتراس مسیح) پر الزام تھا کہ اس نے مدعی (شکایت کنندہ) کے بیٹے (رحیل) کے بائیں کندھے پر گولی چلائی، جس سے وہ زخمی ہو گیا۔
4. طبی معائنہ: زخمی شخص کا طبی معائنہ کرنے کے بعد ڈاکٹر نے اس زخم کو دفعہ 337-F(v) کے تحت قرار دیا، جس کی زیادہ سے زیادہ سزا سات سال تک ہو سکتی ہے۔
5. ملزم کی حراست: درخواست گزار 28 جون 2025 سے (تقریباً 11 ماہ) جیل میں تھا۔

---

مقدمے میں اٹھایا گیا اہم قانونی سوال اور عدالت کا تجزیہ:

کیا سنگین دفعات (324, 452, 148, 149) کے باوجود ملزم کو ضمانت مل سکتی ہے؟

· عدالت کا اصول (ضمانت کے حوالے سے): ضمانت سے متعلق قانون (Section 497, Cr.P.C.) کے مطابق، اگر کسی جرم کی سزا سات سال یا اس سے کم ہو تو وہ جرم ممانعت کی فہرست (Prohibitory Clause) میں نہیں آتا۔ ایسے جرائم میں ضمانت کا ملنا ایک اصول (Rule) ہے اور ضمانت سے انکار ایک استثناء (Exception) ہے۔ یعنی اگر جرم سات سال سے کم سزا والا ہے تو عدالت کو ضمانت دینی چاہیے، جب تک کہ کوئی خاص وجہ نہ ہو (جیسے فرار کا خطرہ، گواہوں کو دھمکیاں وغیرہ)۔
· عدالت کا تجزیہ (اس مقدمے میں):
1. اہم زخم (Firearm Injury): درخواست گزار پر سب سے سنگین الزام (324 PPC - قتل کی کوشش) تھا، لیکن اصل زخم (کندھے پر گولی) کو ڈاکٹر نے دفعہ 337-F(v) کے تحت قرار دیا، جس کی سزا سات سال ہے۔
2. دفعہ 324 کا معاملہ: اگرچہ ایف آئی آر میں دفعہ 324 (قتل کی کوشش) بھی شامل تھی، لیکن عدالت نے اس حقیقت کو دیکھا کہ زخم کی نوعیت سات سال سے کم سزا والی تھی، اس لیے یہ کیس ممانعت کی فہرست میں نہیں آتا۔
3. طویل حراست: درخواست گزار تقریباً 11 ماہ سے جیل میں تھا اور مقدمے کی سماعت میں مزید تاخیر ہو سکتی تھی۔ عدالت نے کہا کہ اسے غیر معینہ مدت تک جیل میں رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
4. نتیجہ: ان وجوہات کی بنا پر، عدالت نے درخواست گزار کو ضمانت دینے کا فیصلہ کیا۔

---

عدالت کا فیصلہ (Order):

ہائی کورٹ نے اتراس مسیح کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔ عدالت نے اسے درج ذیل شرائط پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا:

1. ضمانتی مچلکہ (Bail Bond): درخواست گزار 1,00,000 روپے کا ضمانتی مچلکہ (Bail Bond) جمع کرائے گا۔
2. ضامن (Surety): اس رقم کے برابر ایک ضامن (Surety) بھی پیش کرنا ہوگا، جو ٹرائل کورٹ کو قابلِ قبول ہو۔

نتیجہ (Conclusion):

عدالت نے ضمانت دینے کا حکم دیتے ہوئے یہ اصول واضح کیا کہ جن جرائم میں سات سال یا اس سے کم سزا ہے، وہاں ضمانت کا رجحان مثبت ہے۔ اس کیس میں زخم کی نوعیت سات سال سے کم سزا والی تھی، اس لیے ملزم کو ضمانت مل گئی۔ अच्छा ये एक जजमेंट बनी हुई है, और इस जजमेंट के जो है ना तहत

Address

227 Old Block District Courts
Multan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when LIMRA Law Firm Multan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share