The Toppers Law College Multan, Northeren By Pass Road Multan

The Toppers Law College Multan, Northeren By Pass Road Multan LL.B Program, legal educational services, coaching, information and guidance.

السلام علیکم! کنٹرولر امتحانات  اور چیف کوآرڈینیٹر لاء سٹڈی سنٹرز  (بی زیڈ یو ) کے  لاء طلباء کے ساتھ  مظالم ،  زیادتی ،...
06/08/2026

السلام علیکم! کنٹرولر امتحانات اور چیف کوآرڈینیٹر لاء سٹڈی سنٹرز (بی زیڈ یو ) کے لاء طلباء کے ساتھ مظالم ، زیادتی ، نا انصافی اور لاقانونیت کی متعدد داستانوں میں سے ایک داستان پانچ سالہ پروگرام کے لاء طلباء کی کچھ یوں ہے ،
1) 7 ستمبر 2022 کو ساہیوال ڈویژن اور 5 دسمبر 2022 کو ملتان و ڈیرہ غازی خان ڈویزنز کے لاء کالجز کا الحاق پانچ سالہ پروگرام میں یونیورسٹی نے ختم کر دیا تو سپریم کورٹ کی ججمنٹ رپورٹڈ 2019 SCMR صفحہ 389 کے تحت ان تواریخ سے ہی فوری طور پر یونیورسٹی پر ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ ان کالجز کے متاثرہ طلباء کی ڈگری مکمل کرواہے اور زیر دفعہ 19 بی زیڈ یو ایکٹ 1975 اور ایل ایل بی ریگولیشنز نمبر 8,9,10,11 کی رو سے مزید یہ ذمہ داری کنٹرولر امتحانات پر عائد ہوگی کیونکہ یہ قانونی شقیں امتحانات کے انعقاد اور امتحانات کے متعلقہ دیگر تمام معاملات کی ذمہ داری کنٹرولر امتحانات پر ڈالتی ہیں لیکن کسی نے اس قانونی ذمہ داری کی پرواہ نہ کی اور طلباء کے ساتھ ظلم ، زیادتی ، ناانصافی اور لا قانونیت کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ۔
2) سینٹ بی زیڈ یو نے تیرویں اور چودھویں میٹنگز منعقدہ بالترتیب 10 نومبر 2023 اور 9 مئ 2024 کو اپیلانٹ کالجز کی اپیلز برخلاف ختم کیے جانے الحاق منظور کر لیں اور اس طرح کالجز کی قانونی حیثیت تبدیل ہوگی اور غیر الحاق شدہ والی حیثیت قاہم نہ رہی لیکن مختلف ٹیکنیکل حربوں اور بہانوں سے پرنسپل گیلانی لاء کالج / چیئرپرسن ایفیلیشن/ انسپکشن کمیٹی نے مبینہ ذاتی مفاد اور لالچ ( سٹڈی سنٹرز کا قیام وغیرہ) کے تحت کسی ایک بھی کالج کو آج تک عملی طور پر بحال نہ ہونے دیا ہے جبکہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور پنجاب یونیورسٹی لاہور نے جن کالجز کا الحاق ختم کیا ان کو صرف مزید داخلہ جات کرنے سے روکا گیا اور پہلے سے داخل شدہ طلباء کی ڈگری انہیں کالجز سے ہی مکمل کروائ گی اور وہ طلباء ڈگری مکمل کر کے کب سے وکیل بھی بن گے ہیں،
3) تین سال گزر جانے کے بعد خدا خدا کر کے سینڈیکیٹ نے میٹنگ منعقدہ مورخہ 16 اگست 2025 کو غیر الحاق شدہ کالجز کے متاثرہ تمام طلباء کی بلا تفریق ڈگری مکمل کروانے کے لیے سٹڈی سنٹرز قائم کرنے کی منظوری دے دی جس کی پبلک کو اطلاع بذریعہ اعلامیہ مورخہ 28 اگست 2025 کو کی گی ،
4) چیف کوآرڈینیٹر سٹڈی سنٹرز نے غیر الحاق شدہ اور بعد ازاں مبینہ گھوسٹ کالجز کے طلباء کو سٹڈی سنٹرز میں انرولڈ کرنے کی بابت یونیورسٹی کے لیگل ایڈوائزر سے قانونی مشورہ طلب کیا جس پر ایڈوائزر نے مشورہ دیا کہ پانچ سالہ پروگرام کے طلباء کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت / زیر اعتراض نہ ہے لہذا ان کو سٹڈی سنٹرز میں رجسٹرڈ / انرولڈ کیا جا سکتا ہے اور ان طلباء میں سے جن کے رزلٹس مبینہ گھوسٹ کالج یا دیگر کسی اعتراض کی بنا پر روکے ہوہے تھے اور وہ پاس تھے ان کو بھی سینڈیکیٹ کی منظوری کے ساتھ اگلے پارٹس میں سٹڈی سنٹرز میں رجسٹرڈ / انرولڈ کر لیا گیا اور ان طلباء سے بھاری بھرکم ٹیوشن و امتحانی فیس ہاہے بھی وصول کر لی گئیں اور ان طلباء نے حسب معمول کلاسز بھی لینا شروع کردیں اور اس طرح یہ طلباء امتحانات دینے کے لیے قانونی طور پر ہر طرح اہلیت اختیار کر گے ،
5) چیف کوآرڈینیٹر نے مندرجہ بالا پانچ سالہ پروگرام کے طلباء کی ایک کثیر تعداد کے داخلہ جات براہے امتحانات پارٹ دوم سالانہ 2022 اور پارٹ سوم ، چہارم ، پنچم سالانہ 2023 ( انعقاد شیڈول 9 فروری 2026) نہ بھجواہے اور اس بابت طلباء کی بار بار گزارش کرنے پر قانون کی تعلیم میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والی محترمہ صاحبہ نے تحریری حکم کی بجائے شہنشاہانہ زبانی حکم صادر کیا کہ آپ کے داخلہ جات نہیں بھجواہے جاہیں گے اور آپ امتحانات دینے کے اہل نہ ہیں ،
6) کچھ طلباء نے ڈاکٹر صاحبہ کے زبانی شہنشاہانہ حکم سے متاثرہ ہو کر ہائ کورٹ میں رٹ پٹیشنز داہر کر کے امتحانات دینے کا عبوری حکم / ریلیف حاصل کرلیا لیکن قانون کی تعلیم کے ماہرین اور کنٹرولر امتحانات نے اپنے ان بچوں کے خلاف مبینہ ضد ، آنا ، بغض ، تعصب اور عناد کو تقویت دینے کے لیے اور ہائ کورٹ کے عبوری حکم کو غیر موثر کرنے کے لیے بد نیتی سے 5 فروری 2026 کو یہ امتحانات ہی ملتوی کر دیے،
7) بعد ازاں قانون کی تعلیم کے ان ماہرین اور کنٹرولر امتحانات نے باہمی بد نیتی سے مندرجہ بالا ملتوی شدہ امتحانات کے انعقاد کے لیے مورخہ 13 مارچ 2026 بروز جمعتہ المبارک کی شام کو ڈیٹ شیٹ براہے آغاز امتحانات مورخہ 16 مارچ 2026 بروز سوموار جاری کر دی تاکہ مندرجہ بالا طلباء دوبارہ ہائ کورٹ سے اپنے حق میں کوئ فیصلہ نہ لے سکیں کیونکہ ہفتہ اور اتوار کو ہائ کورٹ کی چھٹی ہوتی ہے اور سوموار کو پہلا پیپر تھا۔ یہ ہیں جی وہ اساتذہ نما اشخاص جو اپنے ہی بچوں سے نا انصافی ، ظلم اور زیادتی کرتے ہیں اور اپنی چالاکی اور بدنیتی سے طلباء کو ہائ کورٹ سے بھی ریلیف لینے میں تکنیکی طور پر رکاوٹ ڈال لیتے ہیں،
8) اب پارٹ اول و دوم دوسرا سالانہ امتحانات 2022 اور پارٹ سوم ، چہارم ، پنجم دوسرا سالانہ امتحانات 2023 مورخہ 26 اگست 2026 سے شروع ہو رہے ہیں جن کے لیے داخلہ جات بھجنے کی سنگل فیس کے ساتھ آخری تاریخ 10 اگست 2026 ہے لیکن قانون کی تعلیم کے ماہرین اور کنٹرولر امتحانات ایک دفعہ پھر مندرجہ بالا طلباء کے داخلہ جات ان امتحانات کے لیے ڈاکٹر صاحبہ کے زبانی شہنشاہانہ حکم کے تحت نہیں بھیجے جارہے اور طلباء کی گزارش کے باوجود داخلہ جات نہ بھیجے جانے کا کوئ تحریری حکم نامہ بھی نہیں جاری کیا جارہا جس کا کوئ قانونی جواز نہ ہے اور صاف نظر آ رہا ہے کہ طلباء کی قانونی اہلیت ہونے کے باوجود ان اپنے ہی بچوں کو کسی مبینہ ذاتی مفاد ، بغض ، عناد ، تعصب اور دشمنی کے تحت سزا دی جا رہی ہے اور طلباء دادرسی کے لیے مختلف درخواستیں دیتے پھر رہے ہیں اور ہائ کورٹ میں پٹیشنز داہر کرنے کے لیے دھکے کھاتے پھر رہے ہیں،
, میرا رب ان سب کو طلباء پر رحم کرنے کی ہدایت و توفیق عطا کرے آمین،
شکریہ, دعاگو ! فلک شیر وٹو ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ملتان

06/08/2026
السلام علیکم! شکایت براہے شروع کیے جانے محکمانہ انضباطی کاروائ برخلاف جناب ڈاکٹر امان اللہ صاحب کنٹرولر امتحانات ، جناب ...
04/08/2026

السلام علیکم!
شکایت براہے شروع کیے جانے محکمانہ انضباطی کاروائ برخلاف جناب ڈاکٹر امان اللہ صاحب کنٹرولر امتحانات ، جناب خالد بن طالب صاحب ڈپٹی رجسٹرار (رجسٹریشن) صاحب اور جناب محمد خالد صاحب ڈپٹی کنٹرولر امتحانات بجائے کاروائ جاری رکھنے جانے برخلاف بیگناہ / معصوم طلباء ؛
شکایت کنندہ ؛ فلک شیر وٹو ایڈووکیٹ ہائ کورٹ ملتان
1)مندرجہ بالا شکایت مورخہ 3 جولائ 2026 کو جناب گورنر / چانسلر صاحب ، مورخہ 9 جولائ 2026 کو جناب سیکرٹری ہاہر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور مورخہ 11 جولائ 2026 کو جناب وی سی صاحب کو بھجوائی گئی ہے اور اس شکایت کی کاپی لیگل ایجوکیشن کے متعلقہ تمام اتھاریٹیز / باڈیز / آفیسران / ممبران سینڈیکیٹ /اشخاص کو بھی بھجوائی گئی ہے ،
2) جناب وی سی صاحب کو بھجوائی گئی درخواست کے جواب میں جناب رجسٹرار صاحب نے مورخہ 24 جولائ 2026 کو شکایت کنندہ کو انتہائ مختصر سا اور ٹال مٹول پر مبنی تحریری جواب دیا کہ ایف آئ اے/ جے آئ ٹی پہلے ہی ان آفیسران کے حوالے سے انکوائری کر چکی ہے جو کہ وفاقی آہینی عدالت میں زیر سماعت ہے جہاں پر آخری سماعت 31 مارچ 2026 کو ہو چکی ہے،
3) جناب رجسٹرار صاحب کے تحریری جواب مورخہ 24 جولائ 2026 کی بابت شکایت کنندہ نے جناب وی سی صاحب کو جواب الجواب مورخہ 4 اگست 2026 کو بھجوایا ہے جس میں الزامات کی تفصیل کا دوبارہ سے ذکر کر دیا گیا ہے اور پھر سے استدعا کی ہے کہ ان آفیسران کے خلاف محکمانہ انضباطی کاروائ شروع کی جاہے،
4) ان آفیسران کے خلاف لگائے گے انفرادی اور اجتماعی الزامات ( واقعاتی و قانونی ) کی تفصیل نیچے پوسٹ کیے گے جواب الجواب / Rejoinder بتاریخ 4 اگست 2026 میں درج ہیں ،
شکریہ !
دعا گو ! فلک شیر وٹو ایڈووکیٹ ہائ کورٹ ملتان

السلام علیکم! مبینہ گھوسٹ غازی خان لاء کالج ڈیرہ غازی خاں کے ایک  طالب علم کے حق میں جناب گورنر / چانسلر صاحب کا قانون ک...
31/07/2026

السلام علیکم!
مبینہ گھوسٹ غازی خان لاء کالج ڈیرہ غازی خاں کے ایک طالب علم کے حق میں جناب گورنر / چانسلر صاحب کا قانون کی بالادستی اور درست انڈرسٹینڈنگ پر مبنی قابل تحسین فیصلہ بتاریخ 24 جولائ 2026
مختصر حقائق !
1) سیشن 2020-2017 ، تین سالہ ایل ایل بی پروگرام کے طالب علم نے تیسری مرتبہ پارٹ اول کا امتحان دے کر پہلا سالانہ امتحان 2019 ( منعقدہ جنوری 2020 ) پاس کر لیا۔
2) طالب علم پارٹ دوم کے امتحان کا داخلہ بوجہ متعلقہ مبینہ گھوسٹ کالج بھیجنے سے قاصر رہا جس سے متاثرہ ہو کر طالب علم نے ہائ کورٹ میں رٹ پٹیشن فاہل کر دی جو ریفریزہٹیشن میں تبدیل ہو کر رجسٹرار کو ریفر ہوئی جس نے طالب علم کی ریفریزہٹیشن خارج کر دی جس سے یہ بھی پتہ چلا کہ سینڈیکیٹ بھی طالب علم کے خلاف فیصلہ دے چکا ہے ۔
3) طالب علم نے سینڈیکیٹ اور رجسٹرار کے فیصلہ کے خلاف ہائ کورٹ میں رٹ پٹیشن فاہل کردی جو کہ ریفریزہٹیشن میں تبدیل ہو کر بطور درخواست نگرانی جناب گورنر / چانسلر صاحب کو براہے فیصلہ بھجوا دی گی۔
4) جناب گورنر / چانسلر صاحب نے طالب علم اور یونیورسٹی کے نماہندہ ڈپٹی رجسٹرار لیگل کو سماعت کیا ۔ تمام ریکارڈ کو ملاحظہ کیا تو یہ تسلیم شدہ حقیقت سامنے آئ کہ سینڈیکیٹ نے زیر اعتراض فیصلہ جاری کرنے سے پہلے طالب علم کو شنوائی کا موقع فراہم نہیں کیا اور سینڈیکیٹ نے جامع طور پر یہ بھی نہیں دیکھا کہ کون سے معاملات سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں اور یہ بھی نہیں دیکھا کہ ایسی صورت حال میں طلباء کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے کیا دادرسی کی جا سکتی ہے مزید یہ کہ سپریم کورٹ کی ججمنٹ رپورٹڈ 2019 SCMR صفحہ 389 کے تحت یونیورسٹی پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ غیر الحاق شدہ لاء کالجز کے متاثرہ طلباء کے مستقبل کو محفوظ بناہے لہذا سینڈیکیٹ نے قانون کے طے شدہ طریقہ کار کے معیار کو مدنظر نہیں رکھا اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے ،
فیصلہ !
1) سینڈیکیٹ کے فیصلہ کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے ۔ یونیورسٹی کو حکم دیا جاتا ہے کہ ساہل / طالب علم کی پارٹ دوم کی کلاسز اور امتحان کے انعقاد کا اہتمام کیا جاہے ۔
2) اگر غازی خان لاء کالج ایل ایل بی ڈگری کی بابت اعلی عدلیہ کے حکم کے تحت نااہل ہی رہتا ہے تو پھر یونیورسٹی اس کالج کے طلباء کو کسی دیگر ایسے لاء کالج میں منتقل کر دے گی جو اہل / الحاق شدہ ہو اور طالب علم کے گھر کے قریب ہو۔
نوٹ/ تبصرہ !
مبینہ گھوسٹ کالجز کے طلباء کے حق میں جناب گورنر / چانسلر صاحب کا یہ دوسرا لگاتار فیصلہ ہے جن سے یہ واضع ہوگیا ہے کہ مبینہ گھوسٹ کالج کے بہانے پر طلباء کو امتحانات دینے سے روکنے ، امتحانی رزلٹس روکنے اور سٹڈی سنٹرز میں رجسٹرڈ / انرول نہ کرنے کے حوالے سے کنٹرولر امتحانات ، رجسٹرار ، وی سی اور سینڈیکیٹ کے فیصلہ جات درست نہ ہیں جو کہ قانون کی غلط انڈرسٹینڈنگ اور سپریم کورٹ کی مذکورہ ججمنٹ کی خلاف ورزی پر مبنی ہیں، لہذا مبینہ گھوسٹ کالجز کے وہ طلباء جن کی درخواست ہاہے نگرانی جناب گورنر / چانسلر صاحب کے پاس پینڈنگ پڑی ہیں وہ اپنی درخواست ہاہے کی مناسب طریقے سے پیروی کریں اور سماعت کے لیے لگوائیں اور جناب گورنر / چانسلر صاحب کے ان فیصلہ جات کا انہیں حوالہ دے کر اپنے حق میں فیصلہ لینے کی کوشش کریں ۔ دوسرا یہ یاد رہے کہ جناب گورنر صاحب جو بھی فیصلہ جات کر رہے ہیں ان میں واصع طور پر لکھ رہے ہیں کہ یہ فیصلہ پٹیشنرز کی حد تک ہے ،
طالب دعا ! فلک شیر وٹو ایڈووکیٹ ہائ کورٹ ملتان

السلام علیکم! مبینہ گھوسٹ  لاء کالجز کے طلباء کے حق میں جناب گورنر / چانسلر صاحب کا انتہائ قابل تحسین اور قانون کی بالاد...
29/07/2026

السلام علیکم! مبینہ گھوسٹ لاء کالجز کے طلباء کے حق میں جناب گورنر / چانسلر صاحب کا انتہائ قابل تحسین اور قانون کی بالادستی پر مبنی فیصلہ بتاریخ 24 جولائ 2026؛
حقائق :
1) مختلف مبینہ گھوسٹ لاء کالجز کے 11 طلباء کی درخواست نگرانی زیر دفعہ 11 اے بی زیڈ یو ایکٹ 1975 بوساطت ہائ کورٹ حکم مورخہ 11 ستمبر 2025 جناب گورنر / چانسلر صاحب کو ریفر ہوئ۔
2) ان طلباء نے ہائ کورٹ کے حکم کے تحت پارٹ دوم سالانہ امتحان منعقدہ اگست 2024 دیا لیکن یونیورسٹی نے ان طلباء کا رزلٹ مبینہ گھوسٹ کالجز کا معاملہ سپریم کورٹ / وفاقی آہینی عدالت میں زیر سماعت ہونے کی بنا پر اور ہیرنگ کمیٹی کی سفارشات اور سینڈیکیٹ کے فیصلہ کے تحت روکا ہوا تھا ۔
3) جناب گورنر / چانسلر صاحب نے تمام ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرنے پر یونیورسٹی کے بے بنیاد موقف کو رد کرتے ہوہے اور سپریم کورٹ کے حکم رپورٹڈ 2019 SCMR صفحہ 189 کی روشنی میں اور طلباء کے سابقہ پاس شدہ امتحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے طلباء کی درخواست نگرانی منظور کر لی ہے. جناب گورنر / چانسلر صاحب کا فیصلہ ؛
الف) یونیورسٹی کو حکم دیا جاتا ہے کہ درخواست گزاروں کے پارٹ دوم کے نتیجہ کا اعلان کیا جاہے
ب) یونیورسٹی کو حکم دیا جاتا ہے کہ درخواست گزاروں کی ڈگری مکمل کرنے میں سہولت فراہم کی جاہے ،
نوٹ/ راہے !
وہ تمام طلباء جن کے رزلٹس مبینہ گھوسٹ کالج ہونے یا دیگر کسی اعتراض کے بنا پر یونیورسٹی نے کمیٹی کی سفارشات اور سینڈیکیٹ کے فیصلہ کے تحت روکے ہوہے ہیں اور طلباء نے کمیٹی اور سینڈیکیٹ کے فیصلہ کے خلاف جناب گورنر / چانسلر صاحب کے پاس درخواست نگرانی داہر کر رکھی ہیں وہ قانوناً اس فیصلہ کا حوالہ دے کر اپنی درخواست نگرانی میں جناب گورنر / چانسلر صاحب سے اسی طرح کا فیصلہ اپنے حق میں لے سکتے ہیں ،
شکریہ !
طالب دعا ! فلک شیر وٹو ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ملتان

السلام علیکم!  سیشن 21-2018 ایل ایل بی  تین سالہ پروگرام کے طلباء جو پارٹ اول کا  سالانہ امتحان 2019 ( منعقدہ جنوری 2020...
24/07/2026

السلام علیکم! سیشن 21-2018 ایل ایل بی تین سالہ پروگرام کے طلباء جو پارٹ اول کا سالانہ امتحان 2019 ( منعقدہ جنوری 2020) پاس کر چکے ہیں اور پارٹ دوم سالانہ امتحان 2020 کے لیے مکمل داخلہ فارمز بمعہ مجوزہ فیس اور ریگولیشن 2 کے تحت پرنسپل کا سرٹیفیکیٹ براہے اچھا کردار اور 75 فیصد کلاس حاضری اس وقت کے الحاق شدہ متعلقہ کالجز کے ویب پورٹل کے ذریعے آن لاہن اور بنک کے ذریعے ہارڈ شکل میں کنٹرولر امتحانات کو جون تا اگست 2022 بھجوا چکے ہیں اور ان داخلہ فارمز کی جانچ پڑتال کر کے رول نمبر بھی آلاٹ کیے جا چکے ہیں لیکن ابھی تک ان طلباء کا پارٹ دوم سالانہ امتحان 2020 کاانعقاد نہیں کیا گیا جبکہ داخلہ فارمز میں کسی اعتراض کی بابت طلباء کو آج تک کوئ نوٹس وغیرہ بھی نہ ملا ہے اور پچھلے تقریبآ 4 سالوں سے یونیورسٹی مختلف غیر قانونی اور بلاجواز کے حیلوں بہانوں پر اس امتحان کا انعقاد نہیں کر رہی جو کہ نا انصافی اور ظلم کی انتہاء ہے ،
اس امتحان کے انعقاد کے لیے میں نے اور کچھ طلباء نے متعدد درخواستیں یونیورسٹی اتھاریٹیز کو دیں اور کچھ طلباء نے ہائ کورٹ میں رٹ پٹیشنز بھی دائر کیں جو کہ وی سی کو ریفر ہوئیں اور وی سی نے نومبر 2025 میں فیصلہ کیا کہ 30 یوم میں طلباء کی سکروٹنی کی جاہے گی اور اس کے بعد ہی امتحان کے انعقاد کے لیے آگے بڑھا جاہے گا لیکن 8 ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک کچھ نہیں ہوا ، یونیورسٹی کبھی سپریم کورٹ اور کبھی وفاقی آہینی عدالت میں معاملہ زیر سماعت کے بہانے پر اور کبھی سکروٹنی کے بہانے پر آج تک امتحان انعقاد کرنے کی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی جبکہ سپریم کورٹ کا سال 2018 سے واضع حکم ہے کہ کالجز کا الحاق ختم ہونے پر یونیورسٹی متاثرہ طلباء کی ڈگری مکمل کروانے کی ذمہ دار ہے لیکن یونیورسٹی نے اس حکم کی بھی پرواہ نہیں کر رہی جو کہ بدقسمتی ہے ،
اب ایک دفعہ پھر میں نے حقائق اور قانونی نکات پر مبنی جامع اور خصوصی توجہ سے درخواست مورخہ 24 جولائ 2026 کو یونیورسٹی کی متعلقہ اتھاریٹیز اور لیگل ایجوکیشن کے متعلقہ دیگر تمام اتھاریٹیز کو بھجوائی ہے اور استدعا کی ہے کہ سیشن 21-2018 کے طلباء کا پارٹ دوم کا سالانہ امتحان 2020 پہلے سے بھجواہے ہوہے داخلہ فارمز پر فوری طور پر لیا جاہے اور جب تک یہ امتحان نہیں لیا جاتا اس دوران طلباء کو پارٹ سوم کی کلاسز کے لیے سٹڈی سنٹرز میں رجسٹرڈ کرکے کلاسز لینے کی اجازت دی جاہے تاکہ مزید وقت کے ضیاع سے بچا جا سکے ،
درخواست نیچے پوسٹ کر دی ہے اور طلباء سے گزارش ہے کہ درخواست کو ضرور پڑھیں اور غلطیوں کی نشاندہی کریں تاکہ آہندہ غلطیوں سے بچا جا سکے ،
نیک نیتی سے جستجو کرنا انسان کا کام ہے لیکن نتیجہ میرے رب کے پاس ہے،
شکریہ ،
طالب دعا ! فلک شیر وٹو ایڈووکیٹ ملتان

السلام علیکم! یونیورسٹی کے  امتحانات اور رجسثریشن ڈیپارٹمنس کے ظلم اور ناانصافی کے خلاف جناب چانسلر / گورنر صاحب نے ایک ...
18/07/2026

السلام علیکم! یونیورسٹی کے امتحانات اور رجسثریشن ڈیپارٹمنس کے ظلم اور ناانصافی کے خلاف جناب چانسلر / گورنر صاحب نے ایک اور طالب علم کی بھرپور دادرسی کر دی ہے جو کہ انصاف پر مبنی ایک احسن فیصلہ ہے ،
ایف) مختصر حقائق ؛
1)طالب علم نے سیشن 2017میں رجسٹریشن کے تحت تین دفعہ پارٹ اول کا امتحان دے کر پاس کرلیا۔
2)پارٹ دوم کا امتحان دینے کے لیے طالب علم کا داخلہ سیشن 2017-2014میں رجسٹریشن کے تحت بھجوایا گیا ۔
3) سیشن 2017-2014 کے حوالے سے کنٹرولر امتحانات نے اعتراض لگایا چونکہ طالب علم پارٹ اول میں مجوزہ چانسز سے زاہد چانسز حاصل کر چکا ہے لہذا پارٹ دوم کے امتحان کے لیے رول نمبر سلپ جاری نہیں کی جاسکتی اور مزید یہ بھی اعتراض لگا دیا کہ سیشن2016/2017 میں اس طالب علم کا ریکارڈ موجود نہ ہے ،
4) طالب علم نے ہائ کورٹ میں رٹ پٹیشن داہر کرکے عارضی ریلیف حاصل کر کے پارٹ دوم سالانہ امتحان 2020 منعقدہ اگست 2024 دے دیا,
5) ہائ کورٹ کے ڈویژن بینچ کے فیصلہ کی روشنی میں بنائی گئی یونیورسٹی کی کمیٹی نے کنٹرولر امتحانات کے اعتراض قاہم رکھے اور پارٹ دوم کا رزلٹ روکنے کی سفارشات مرتب کردیں جن کی سینڈیکیٹ نے بھی توثیق کرکے ان سفارشات کو سپیکنگ آرڈر میں بدل دیا ،
6) طالب علم نے پارٹ دوم کا رزلٹ جاری کروانے کے حوالے سے ہائ کورٹ میں رٹ پٹیشن داہر کر دی جو کہ رجسٹرار کو ریفر ہوئی جس نے اعتراضات کو قاہم رکھتے ہوہے رزلٹ روکنے کے حکم کو نافذ رکھا ،
7) طالب علم نے رجسٹرار کے حکم کے خلاف ہائ کورٹ میں رٹ پٹیشن داہر کر دی جو کہ چانسلر / گورنر کو براہے فیصلہ ریفر ہوئی جس پر جناب چانسلر/ گورنر صاحب نے سماعت کی اور فیصلہ مورخہ 9 جولائ 2026 کو صادر کیا،
ب) جناب چانسلر / گورنر صاحب کا فیصلہ حسب ذیل ہے؛
1) یونیورسٹی کو حکم دیا جاتا ہے کہ طالب علم کا پارٹ دوم کا رزلٹ فوری طور پر جاری کیا جاہے،
2) یونیورسٹی طالب علم کی تعلیمی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرے اور اس کی تین سالہ ڈگری مکمل کرواہے ۔
3) طالب علم کی گزارش براہے پارٹ سوم حاضری سٹڈی سنٹر سمر کیمپ فلحال تسلیم نہیں کی جا سکتی ،
نوٹ ! نیک نیتی پر مبنی جستجو کو آخر کار کامیابی حاصل ہو ہی جاتی ہے۔
شکریہ !
طالب دعا ! فلک شیر وٹو ایڈووکیٹ ہائ کورٹ ملتان

23/06/2026
22/06/2026

19 جون 2026 کو بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے منعقدہ سنڈیکیٹ اجلاس میں اراکینِ اسمبلی کی شرکت اور حاضری کا ریکارڈ ایک نئے تنازعے کی زد میں آ گیا ہے، جس نے پورے عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا سرکاری دعویٰ ہے کہ تمام اراکین اجلاس میں جسمانی طور پر موجود رہے اور مرد اراکین نے یونیورسٹی میں جمعہ کی نماز بھی ادا کی، جبکہ ایک سنڈیکیٹ ممبر کے مطابق تینوں ایم پی ایز (سید علی حیدر گیلانی، رانا سلیم اور مقصوداں بیگم) جمعہ سے پہلے موجود تھے مگر بعد میں رانا سلیم روانہ ہو گئے۔ یہ معاملہ اس وقت مزید مشکوک ہوا جب معلوم ہوا کہ اسی وقت لاہور میں پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس جاری تھا اور اراکین وہاں موجود تھے، جس کی تصدیق مقصوداں بیگم کے صاحبزادے کی سوشل میڈیا پوسٹ سے بھی ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اراکین نے لاہور سے آن لائن شرکت کی۔

اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آن لائن شرکت محض چند منٹوں کے فوٹو سیشن اور علامتی حاضری تک محدود تھی کیونکہ بجٹ اجلاس کے باعث اراکین کے پاس تفصیلی بحث یا فیصلوں میں حصہ لینے کا وقت ہی نہیں تھا، جبکہ وائرل تصویر میں صرف علی حیدر گیلانی کے سامنے کاغذات موجود تھے اور باقی اراکین کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں تھا۔ اس صورتحال نے کئی قانونی اور انتظامی سوالات کو جنم دیا ہے، جیسے کہ مقصوداں بیگم کے صاحبزادے کو کس قانون کے تحت اجلاس تک آن لائن رسائی دی گئی اور کیا مقصوداں بیگم کے لیے انگریزی ایجنڈے کو سمجھنے کی صلاحیت یا اردو کاپی موجود تھی؟ یونیورسٹی کے اعلیٰ ترین پالیسی ساز فورم میں غیر متعلقہ افراد کی نامزدگی پہلے ہی تنقید کی زد میں تھی، اور اب اس متنازعہ حاضری (جس میں جسٹس شہباز علی رضوی بھی ذاتی مصروفیات کے باعث شریک نہیں ہو سکے تھے) نے نظام کی ساکھ مزید متاثر کی ہے۔ تعلیمی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ معاملے کی اصل حقیقت واضح کرنے کے لیے اجلاس کا آن لائن لاگ ریکارڈ، ویڈیو ریکارڈنگ اور حاضری کی تفصیلات فوری جاری کرے، تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ اعلیٰ تعلیمی فورمز محض رسمی کارروائیوں اور تصویری سیشنز تک محدود نہیں ہیں۔
Source: Daily Qaum

Address

Northern By Pass Road Near University Teachers Housing Society Multan
Multan
60000

Telephone

+923006304570

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Toppers Law College Multan, Northeren By Pass Road Multan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to The Toppers Law College Multan, Northeren By Pass Road Multan:

Shortcuts

Share