Sardar Qasim Bin Sajjad Tangwani Adv

Sardar Qasim Bin Sajjad Tangwani Adv Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sardar Qasim Bin Sajjad Tangwani Adv, Lawyer & Law Firm, High Court, Multan.

⚖️ ہر قانونی مسئلہ کا درست اور بااعتماد حل!
روزمرہ کی زندگی میں اپنے قانونی حقوق کو سمجھیں اور بروقت رہنمائی حاصل کریں۔
✨ انسانیت سے محبت | ⚖️ انصاف کے لیے مسلسل جدوجہد
📲 رابطہ: 03008761995 | 03006763367

01/09/2026

سپریم کورٹ / ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ: باپ سے خریدی گئی زمین پر بہن کا حق وراثت
پاکستان کے معاشرے میں اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ والد کی زندگی میں یا ان کی وفات کے وقت بیٹیوں اور بہنوں کو وراثت اور جائیداد سے محروم کرنے کے لیے مختلف قسم کے حیلے بہانے تراشے جاتے ہیں [00:00]۔ ان میں سب سے عام طریقہ کار یہ اپنایا جاتا ہے کہ بیٹے والد کی زندگی ہی میں جائیداد اپنے نام منتقل کروا لیتے ہیں اور بعد میں دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ جائیداد انہوں نے والد سے باقاعدہ رقم دے کر "خریدی" (Sale/Bai) تھی، اس لیے یہ وراثت کا حصہ نہیں رہی [00:07]۔
اس حوالے سے اعلیٰ عدلیہ کا حالیہ اہم اور قانونی تحویل دینے والا فیصلہ بیٹیوں اور بہنوں کے شرعی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے انتہائی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے [00:23]۔
کیس کے اہم نکات اور عدالتی فیصلہ
عدالتی فیصلے اور قانونی اصول کے مطابق، اگر کوئی بھائی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے اپنے والد سے زمین باقاعدہ رقم کے عوض خریدی تھی اور اس کا "انتقال بیع" (Mutation of Sale) یا رجسٹرڈ سیل ڈیڈ ہو چکی تھی، تب بھی بہنوں کا حقِ وراثت اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوتا [00:23]۔
1. ثبوت کی بھاری ذمہ داری (Burden of Proof):
عدالت نے یہ واضح کیا ہے کہ جب بھی والد اور بیٹے کے درمیان کسی بھی قسم کی سیل ڈیڈ یا انتقالِ بیع کا تنازع سامنے آئے اور بہنیں اسے چیلنج کریں، تو رقم کی ادائیگی کا محض برائے نام ثبوت کافی نہیں ہوتا [00:29]۔ اصل اور حقیقی ثبوت فراہم کرنے کی تمام تر ذمہ داری بھائی (خریدنے والے) پر عائد ہوتی ہے [00:36]۔
2. بغیر کسی دباؤ اور آزادانہ رضا مندی (Free Consent):
اگر بینک ٹرانزیکشن یا رقم کی منتقلی کے شواہد موجود بھی ہوں، تب بھی بھائی کو عدالت میں یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ:
والد نے یہ فیصلہ مکمل طور پر اپنی آزادانہ مرضی اور بغیر کسی ذہنی یا جسمانی دباؤ کے کیا تھا [00:36]۔
والد پر کسی قسم کا جبر، دھونس، یا غلط بیانی (Misrepresentation/Undue Influence) استعمال نہیں کی گئی تھی [00:45]۔
والد کو اس معاہے کی تمام قانونی اور مالی باریکیوں کا علم تھا [00:45]۔
3. خاندانی تعلقات اور برائے نام بیع (Fiduciary Relationship):
قانون کی نظر میں والد اور بچوں کے درمیان کا تعلق "اعتماد کا تعلق" ہوتا ہے۔ جب ایسے رشتے کے درمیان جائیداد کی اتنی بڑی منتقلی ہو، تو عدالتیں اسے شک کی نظر سے دیکھتی ہیں تاوقتیکہ بھائی مکمل طور پر یہ ثابت نہ کر دے کہ یہ سودا واقعی مارکیٹ ویلیو پر ہوا تھا اور رقم کا استعمال والد نے اپنی مرضی سے کیا تھا۔
بہنوں کو محروم کرنے والے عام حیلے اور ان کی قانونی حقیقت
عموماً قانونی مشوروں کے ذریعے لوگ تملیق (Gift/Tamleek) کے بجائے بیع (Sale) کا ڈرامہ رچاتے ہیں تاکہ بعد میں کوئی اسے وراثت کا تنازع نہ بنا سکے [00:07]۔ لیکن عدلیہ کا یہ حالیہ فیصلہ اس قسم کی تمام چالاکیوں کا باب بند کرتا ہے:
فرضی دستاویزات کی منسوخی: اگر بیٹے یہ ثابت نہ کر سکیں کہ والد کو زمین کی اصل مارکیٹ قیمت ادا کی گئی تھی اور سودا شفاف تھا، تو عدالتیں اس قسم کی بیع اور انتقال کو کالعدم (Null & Void) قرار دے دیتی ہیں۔
وراثت کا بحال ہونا: جیسے ہی فرضی انتقالِ بیع منسوخ ہوتا ہے، وہ جائیداد دوبارہ والد کی متروکہ جائیداد (Inherited Property) شمار ہوتی ہے اور تمام شرعی وارثان (بشمول بہنوں) میں ان کے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کی جاتی ہے۔
خواتین کے لیے اس فیصلے کی اہمیت
یہ فیصلہ ان تمام خواتین اور بہنوں کے لیے امید کی ایک بڑی کرن ہے جنہیں خاندانی دباؤ یا فرضی قانونی دستاویزات کے ذریعے جائیداد سے محروم کر دیا گیا تھا [00:52]۔
قانونی تحفظ: اب بھائی محض انتقال بیع دکھا کر اپنا پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔
عدالتی رویہ: اعلیٰ عدلیہ نے خواتین کے شرعی حقوقِ وراثت کے تحفظ کے لیے سخت ترین معیار قائم کیے ہیں تاکہ کوئی بھی شخص جعل سازی یا اثرو رسوخ کے ذریعے بہنوں کا حق نہ مار سکے۔
اگر آپ یا آپ کا کوئی بھی واقف کار اس قسم کے خاندانی وراثتی تنازع کا شکار ہے، تو اس فیصلے کی روشنی میں عدالت سے رجوع کر کے اپنا شرعی اور قانونی حق حاصل کیا جا سکتا ہے [

31/08/2026

پاکستان میں تعزیراتِ پاکستان (PPC) کی دفعہ 489-F کے تحت کسی قانونی ذمہ داری (Liability) یا قرض کی ادائیگی کے لیے جاری کیا گیا چیک اگر ڈس آنر (Dishonor) یعنی باؤنس ہو جائے، تو اس پر ایف آئی آر (FIR) درج کروائی جا سکتی ہے [00:23]۔ تاہم، اگر چیک جاری کرتے وقت فرین کے مابین کوئی معاہدہ (Agreement) موجود ہو یا نہ ہو، تو اس کے قانونی اثرات اور ایف آئی آر کے امکانات میں نمایاں فرق آ جاتا ہے [00:00]۔
ویڈیو کے مطابق، قانونی نقطہ نظر درج ذیل بنیادی نکات پر مشتمل ہے:
۱. معاہدے کی موجودگی اور ایف آئی آر کا امکان
اجازت کے بغیر چیک پیش کرنا: اگر فریقین کے درمیان کوئی تحریری یا طے شدہ معاہدہ موجود ہو جس میں یہ شرط شامل ہو کہ چیک کو مخصوص حالات یا بغیر اجازت بینک میں پیش نہیں کیا جائے گا، تو ایسی صورت میں چیک ڈس آنر ہونے پر ایف آئی آر درج نہیں ہو سکتی [00:00]۔
معاہدے کی خلاف ورزی (Breach of Contract): اگر ایک فریق معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چیک بینک میں جمع کروا دیتا ہے، تو قانون اسے پیشگی معاہدے کی خلاف ورزی شمار کرتا ہے [00:36]۔
عدالتی چیلنج: ایسی صورت میں معاملہ سول کورٹ یا متعلقہ عدالت میں چیلنج کیا جائے گا [00:36]۔ عدالت یہ جائزہ لے گی کہ معاہدے کی خلاف ورزی کس فریق نے کی ہے اور کیا چیک پیش کرنے کی قانونی اجازت تھی یا نہیں [00:42]۔
۲. قانونِ اعلیٰ کا حوالہ (PLD 2013 SC 488)
اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کا معروف فیصلہ PLD 2013 SC 488 ایک اہم قانونی مثال (Precedent) قرار دیا گیا ہے [00:00]۔
اس فیصلے کے تحت، جہاں فریقین کے مابین معاہدہ موجود ہو اور چیک کو بغیر اجازت پیش کرنے کی ممانعت ہو، وہاں دفعہ 489-F کے تحت مجرمانہ کارروائی یا ایف آئی آر کا جواز ختم ہو جاتا ہے [00:00]۔
۳. دفعہ 489-F کے بنیادی عناصر
ایف آئی آر کے اندراج کے لیے دو بنیادی چیزوں کا ثابت ہونا لازمی ہے:
1. بدنیتی (Dishonestly Issuing a Check): چیک بدنیتی یا دھوکہ دہی کی نیت سے جاری کیا گیا ہو [00:23]۔
2. قانونی ذمہ داری یا قرض (Liability or Debt): چیک کسی واقعی واجب الادا رقم یا ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے دیا گیا ہو [00:23]۔
اگر چیک بطور ضمانت (Security) یا کسی ایسے معاہدے کے تحت دیا گیا ہو جس میں پیش کرنے کے لیے خاص شرائط طے تھیں، تو وہاں "بدنیتی" اور فوری "قانونی ذمہ داری" کا عنصر مشکوک ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے پولیس ایف آئی آر درج نہیں کر سکتی یا عدالت اس پر کیس خارج کر دیتی ہے [00:36]۔
خلاصہ
اگر کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے اور چیک قانونی قرض کی ادائیگی کے لیے دیا گیا جو باؤنس ہو جائے، تو ایف آئی آر درج کروائی جا سکتی ہے [00:23]۔
اگر معاہدہ موجود ہے جس میں چیک پیش کرنے پر پابندی یا مخصوص شرائط درج ہیں، تو بغیر اجازت چیک پیش کرنے پر ایف آئی آر درج نہیں ہو سکتی، بلکہ معاملہ سول عدالت میں معاہدے کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھا جائے گا

30/08/2026

دیوانی مقدمات (Civil Suits) کی کارروائی کے دوران اکثر ایسے مسائل پیش آتے ہیں جہاں مدعی (Plaintiff) یا اس کے وکیل کو یہ احساس ہوتا ہے کہ دائر کردہ دعوے میں کوئی قانونی یا فنی خرابی (Formal Defect) رہ گئی ہے یا غلط دعویٰ دائر ہو گیا ہے۔ ایسی صورت میں قانونی طریقہ کار کے تحت دعوے میں ترمیم (Amendment) یا اسے واپس لے کر نیا دعویٰ دائر کرنے کی استدعا کی جاتی ہے۔
عدالتی عمل کے دوران جب مدعی دعویٰ واپس لینے کی درخواست دیتا ہے اور ساتھ ہی نیا دعویٰ دائر کرنے کی اجازت طلب کرتا ہے، تو بسا اوقات سول جج صاحب دعویٰ واپس (Withdraw) کرنے کی اجازت تو دے دیتے ہیں لیکن نیا دعویٰ دائر کرنے کی صریحاً/واضح اجازت نہیں دیتے یا آرڈر میں اس کا ذکر کرنا بھول جاتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں جب مدعی دوبارہ نیا دعویٰ دائر کرتا ہے تو مخالف فریق اس پر اعتراض اٹھاتا ہے اور عدالت اجازت نہ ہونے کی بنیاد پر نئے دعوے کو خارج (Dismiss) کر دیتی ہے، جس سے سائل اور وکیل دونوں کے لیے شدید مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
⚖️ قانونی پیش رفت اور عدالتی فیصلہ (Case Law Authority)
اس قانونی ابہام اور پریشانی کو ختم کرنے کے لیے عالیہ عدالت کا ایک اہم اور منفرد فیصلہ (Precedent/Authority) موجود ہے جس کا ذکر اس ویڈیو میں کیا گیا ہے:
عدالتی حوالہ (Citation): ⁠2018 CLC Note 106⁠
اصول اور فیصلہ: اس عدالتی فیصلے میں یہ طے کیا گیا ہے کہ اگر کسی سول جج صاحب نے اپلی کیشن پر دعویٰ واپس لینے کی اجازت دے دی ہو لیکن نیا دعویٰ دائر کرنے کی صریح اجازت آرڈر میں نہ لکھی ہو، تو قانوناً یہی فرض اور تصور کیا جائے گا (Implied Permission) کہ عدالت نے نیا دعویٰ دائر کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے۔
اس فیصلے کی رو سے جب عدالت دعویٰ واپس کرنے کی اجازت دے دیتی ہے، تو اس کا مطلب یہی ہے کہ سائل کو ترمیم شدہ یا نئے سرے سے دعویٰ دائر کرنے کا حق حاصل ہے اور نیا دعویٰ عدم اجازت کی بنیاد پر خارج نہیں کیا جا سکتا۔
💡 وکلائے کرام اور عام شہریوں کے لیے فائدہ
ابہام کا خاتمہ: اس قانونی نکتہ اور نظیر (Authority) کی بدولت ان تمام وکلائے کرام اور سائلین کی مشکل آسان ہو جاتی ہے جن کے مقدمات عدالت کی صریح اجازت نہ ملنے کے باعث تکنیکی بنیادوں پر خارج ہو جاتے تھے۔
حقوق کا تحفظ: یہ فیصلہ شہریوں کے بنیادی قانونی حقوق کا تحفظ کرتا ہے تاکہ کسی فنی یا تحریری غلطی کی وجہ سے ان کا دعویٰ ہمیشہ کے لیے ختم نہ ہو۔

28/08/2026

ریوینیو بورڈ پنجاب میں دائر گی کیس کی کیسے ہوتی ہے ؟

27/08/2026

پولیس کا غیر قانونی تشدد اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 337: قانونی حقوق، سزا اور داد رسی کا طریقہ کار
پاکستان کے آئین اور قوانین میں ہر شہری کی جسمانی سلامتی اور عزتِ نفس کا تحفظ بنیادی حق مانا گیا ہے۔ تاہم، بسا اوقات پولیس تفتیش کے نام پر، اعترافِ جرم (Confession) کروانے یا معلومات حاصل کرنے کے لیے زیرِ حراست افراد پر غیر قانونی تشدد (Custodial Torture) کا سہارا لیتی ہے۔ قانون ایسے کسی بھی اقدام کی سخت ممانعت کرتا ہے اور تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سنگین قانونی سزائیں تجویز کرتا ہے۔
1. پولیس تشدد اور تعزیراتِ پاکستان (PPC) کی دفعہ 337 K / 337 L
جب کوئی پولیس اہلکار یا سرکاری ملازم اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کسی شہری کو تشدد کا نشانہ بناتا ہے—خاص طور پر جب اس کا مقصد کوئی اعتراف یا معلومات اگلوانا ہو—تو تعزیراتِ پاکستان 1860 کی دفعہ 337 (Section 337 PPC) کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔
جرم کی نوعیت: پولیس کی جانب سے تفتیش کے دوران اعترافِ جرم کروانے کے لیے تشدد کرنا، جسم پر نشانات ڈالنا، یا چوٹ پہنچانا (Shinjah / Hurt) ایک سنگین نا قابلِ معافی جرم ہے۔
سزا کی مدت: تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت ایسے پولیس اہلکار کو 10 سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
دیگر سزائیں (عرش، دمن اور دیت): قید کے علاوہ، متاثرہ شخص کو پہنچنے والے جسمانی نقصان کی نوعیت کے مطابق مجرم پولیس اہلکار پر عرش (Arsh) یا دمن (Daman) کی رقم ادا کرنے کی سزا بھی عائد کی جاتی ہے، جو براہ راست متاثرہ شخص یا اس کے گھر والوں کو دی جاتی ہے۔
2. شکنجه کے خلاف دیگر قانونی قوانین (Torture and Custodial Death Act 2022)
پاکستان میں پولیس تشدد کے روک تھام کے لیے خصوصی قانون "Torture and Custodial Death (Prevention and Punishment) Act 2022" بھی نافذ العمل ہے۔
اس قانون کے تحت پولیس کسٹڈی میں دیا جانے والا ہر قسم کا تشدد جرم ہے۔
اس قانون کے تحت ملوث پولیس افسران پر بھاری جرمانے اور ملازمت سے برطرفی کے ساتھ ساتھ طویل قید کی سزائیں بھی مقرر کی گئی ہیں۔
3. اگر پولیس تشدد کرے تو قانونی کارروائی اور داد رسی کا طریقہ کار
اگر آپ کو یا آپ کے کسی عزیز کو پولیس تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، تو قانون کے مطابق درج ذیل مراحل پر عمل کر کے انصاف حاصل کیا جا سکتا ہے:
قدم 1: میڈیکل معائنہ (Medical Examination) اور ایم ایل سی (MLC)
تشدد کی صورت میں سب سے اہم ثبوت طبی رپورٹ ہے۔
فوری طور پر سرکاری ہسپتال کے میڈیکو لیگل آفیسر (MLO) سے اپنا معائنہ کروائیں۔
ہسپتال سے میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ (MLC) حاصل کریں، جس میں تمام جسمانی چوٹوں اور نشانات کی تفصیلات درج ہوں۔
قدم 2: جج یا میجسٹریٹ کے سامنے بیان اور میڈیکل کی درخواست
جب ملزم کو عدالت میں پیش کیا جائے (24 گھنٹے کے اندر)، تو علاقہ میجسٹریٹ (Magistrate) کے سامنے پولیس تشدد کی شکایت فوری طور پر درج کرائیں۔
میجسٹریٹ سے درخواست کریں کہ وہ ملزم کا دوبارہ میڈیکل بورڈ (Medical Board) کے ذریعے معائنہ کروانے کا حکم دے۔
قدم 3: پرائیویٹ استغاثہ (Private Complaint / 200 CrPC)
چونکہ مقامی پولیس اپنے ہی اہلکاروں کے خلاف عموماً ایف آئی آر (FIR) درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لیتی ہے، اس لیے متاثرہ شخص کی جانب سے سیشن کورٹ میں پرائیویٹ استغاثہ (Private Complaint under Section 200 CrPC) دائر کیا جا سکتا ہے۔
استغاثہ کے ساتھ میڈیکل رپورٹ، تشدد کی تصاویر یا دیگر ثبوت پیش کیے جاتے ہیں۔
عدالت شواہد کی بنیاد پر پولیس اہلکاروں کو براہ راست سمن جاری کرتی ہے اور مقدمہ چلاتی ہے۔
قدم 4: سیشن جج / جسٹس آف پیس (22-A/22-B CrPC) اور آئینی رٹ
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (Justice of Peace) کو مقدمہ کے اندراج کی درخواست دی جا سکتی ہے۔
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن (Writ Petition) بھی دائر کی جا سکتی ہے تاکہ ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور آزادانہ تفتیش کے احکامات حاصل کیے جا سکیں۔
4. پولیس افسران اور تفتیشی ٹیم کے لیے قانونی حد
قانون کے مطابق پولیس افسران کے لیے ضروری ہے کہ:
وہ تفتیش صرف اور صرف قانونی ذرائع، سائنسی شواہد، forensics، اور فارنزک تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے کریں۔
تفتیش کے نام پر اپنے اختیارات سے تجاوز نہ کریں اور کسی کی جسمانی سلامتی یا بنیادی حقوق (Fundamental Rights) کی پامالی نہ کریں۔
اختیارات کا ناجائز استعمال یا تشدد ثابت ہونے کی صورت میں پولیس اہلکار کو نہ صرف نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے بلکہ وہ خود بھی 10 سال تک کے لیے جیل بھیجا جا سکتا ہے۔
شہریوں کا اپنے قانون حقوق سے واقف ہونا اور وقت پر قانونی راستہ اختیار کرنا ہی پولیس تشدد کے خاتمے کا واحد ذریعہ ہے۔

27/08/2026

ہائی وے پر تیز رفتاری اور غفلت (Rash Driving): قانون، 15 ہیلپ لائن اور FIR کے اندراج کا طریقہ کار
پاکستان میں شاہراہوں (Highways) اور موٹر ویز پر تیز رفتاری، غفلت یا لاپرواہی سے گاڑی چلانا نہ صرف ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ عام شہریوں کی زندگیوں کے لیے بھی شدید خطرہ کا باعث بنتا ہے۔ قانون میں ایسی غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ پر سخت سزا اور جرمانے مقرر کیے گئے ہیں۔
1. لاپرواہ ڈرائیونگ (Rash Driving) اور قانونی دفعات
جب کوئی ڈرائیور تیز رفتاری، غیر قانونی اوور ٹیکنگ یا بغیر اشارے کے گاڑی موڑ کر دوسروں کی جان یا مال کو خطرے میں ڈالتا ہے، تو یہ تعزیراتِ پاکستان (PPC) اور موٹر وہیکل آرڈیننس (Motor Vehicle Ordinance) کے تحت جرم شمار ہوتا ہے۔
تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 279 (Section 279 PPC):
اگر کوئی شخص عوامی شاہراہ پر اتنی غفلت یا لاپرواہی سے گاڑی چلاتا ہے جس سے کسی کی جان کو خطرہ لاحق ہو، تو اسے 2 سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کی دفعہ 99 (Section 99 MVO):
یہ دفعہ شاہراہ پر خطرہ پیدا کرنے والی یا خطرناک انداز میں ڈرائیونگ (Reckless/Dangerous Driving) کرنے والے ڈرائیور کے خلاف قانونی کارروائی اور چالان کی اجازت دیتی ہے۔
2. ہائی وے پر 15 (Emergency Helpline) پر رپورٹ کرنے کا طریقہ
اگر اپ سفر کے دوران کسی گاڑی، بس يا موٹر سائیکل کو خطرناک حد تک تیز رفتاری یا غفلت سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے دیکھیں، تو فوری طور پر 15 ہیلپ لائن کا استعمال کریں۔
1. فوری 15 پر کال کریں: اپنے موبائل سے 15 ملائیں اور ایمرجنسی آپریٹر سے رابطہ کریں۔
2. گاڑی کی تفصیلات فراہم کریں:
گاڑی کا نمبر (Number Plate)
گاڑی کی ساخت، رنگ اور ماڈل (مثلاً: سفید رنگ کی مہران یا سیاہ رنگ کی ویگو)
3. موقع اور سمت کی نشاندہی کریں: آپریٹر کو بتائیں کہ آپ کس ہائی وے پر ہیں (مثلاً GT روڈ یا موٹر وے) اور گاڑی کس سمت جا رہی ہے۔
4. واقعہ کا وقت اور صورتحال: بتائیں کہ گاڑی کس قسم کی غفلت (مثلاً زگ زیگ ڈرائیونگ، مسلسل اوور ٹیکنگ) کر رہی ہے۔
نوٹ: اگر واقعہ موٹر وے (Motorway) پر پیش آئے تو 15 کے ساتھ ساتھ موٹر وے پولیس کی ہیلپ لائن 130 پر بھی فوری اطلاع دی جا سکتی ہے، جہاں موٹر وے پیٹرولنگ پولیس اگلی چیک پوسٹ پر گاڑی کو روکنے کے اقدامات کرتی ہے۔
3. تیز رفتار ڈرائیور کے خلاف ایف آئی آر (FIR) درج کروانے کا طریقہ کار
اگر تیز رفتاری یا غفلت کے باعث کوئی حادثہ پیش آ جائے، آپ کی گاڑی کو نقصان پہنچے، یا شہریوں کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہوا ہو، تو آپ پولیس اسٹیشن میں پرچہ (FIR) درج کروا سکتے ہیں۔
قدم 1: تحریری درخواست (Application) کی تیاری
متعلقہ علاقائی تھانے (سٹی یا ہائی وے کی حدود والے تھانے) کے ایس ایچ او (SHO) کے نام تحریری درخواست جمع کروائیں۔ درخواست میں مندرجہ ذیل نکات شامل کریں:
واقعہ کا وقت، تاریخ اور درست مقام۔
غفلت سے گاڑی چلانے والے ڈرائیور کا نام (اگر معلوم ہو) یا گاڑی کا رجسٹریشن نمبر۔
واقعے کی تفصیل کہ ڈرائیونگ سے کس طرح خطرہ یا نقصان پیدا ہوا۔
اگر کوئی گواہ (Witness) موقع پر موجود تھا تو اس کے بیان کا ذکر۔
قدم 2: ثبوت اور شہادتیں شامل کرنا
ویڈیو ثبوت: اگر آپ کی گاڑی میں ڈیش کیم (Dashcam) ہے یا آپ نے موبائل سے خطرناک ڈرائیونگ کی ویڈیو بنائی ہے، تو وہ پولیس کو بطور ثبوت فراہم کریں۔
کال ریکارڈ: 15 ہیلپ لائن پر کی گئی کال کا ریکارڈ بھی پولیس کارروائی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
قدم 3: ایف آئی آر کا اندراج
درخواست جمع ہونے پر ڈیوٹی آفیسر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 279 کے تحت ایف آئی آر درج کرے گا۔
ایف آئی آر کی ایک نقل (Copy) حاصل کرنا آپ کا قانونی حق ہے۔
قدم 4: اگر پولیس ایف آئی آر درج نہ کرے؟
اگر مقامی تھانہ ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرے تو آپ کے پاس قانونی چارہ جوئی کے درج ذیل راستے موجود ہیں:
1. ایس ایس پی/ڈی پی او (DPO/SSP) کو درخواست: ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو تحریری شکایت دیں۔
2. جج/جسٹس آف پیس (22-A/22-B CrPC): سیشن کورٹ میں 22-A کی درخواست دائر کریں، جہاں سے عدالت پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیتی ہے۔
4. شہریوں کے لیے اہم احتیاطی تدابیر
خود قانون ہاتھ میں نہ لیں: تیز رفتار گاڑی کا تعاقب کرنے یا اسے روڈ پر روکنے کی کوشش نہ کریں، اس سے مزید حادثات کا خدشہ ہوتا ہے۔
فاصلہ برقرار رکھیں: اگر آپ کے آگے یا پیچھے کوئی گاڑی لاپرواہی سے چل رہی ہے تو فوری طور پر اپنی گاڑی کی رفتار کم کریں اور مناسب فاصلہ بنا لیں۔
ویڈیو بناتے وقت احتیاط: ڈرائیونگ کے دوران خود موبائل فون استعمال کر کے ویڈیو نہ بنائیں، یہ بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
ہائی وے پر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کی پاسداری اور وقت پر پولیس کو اطلاع دینا آپ کو اور دیگر مسافروں کو کسی بڑے حادثے سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

26/08/2026

پاکستان میں شناختی کارڈ (CNIC) کا بلاک ہونا ایک انتہائی سنگین اور حساس قانونی مسئلہ ہے، کیونکہ قومی شناختی کارڈ کسی بھی شہری کی قانونی پہچان، سفر، بینکاری اور بنیادی شہری حقوق کا ضامن ہوتا ہے۔ نادرہ آرڈیننس 2000 (NADRA Ordinance 2000) کے تحت نادرہ کے پاس مخصوص حالات میں کارڈ کی منسوخی، ضبطی یا امپاؤنڈ (Impound) کرنے کا اختیار موجود ہے، لیکن قانون کے تحت شہری کو اس کے خلاف اپیل اور قانونی چاراجوئی کا مکمل حق بھی حاصل ہے۔
1. نادرہ آرڈیننس کا سیکشن 18 اور ذیلی شق (3) کیا ہے؟
سیکشن 18 (Section 18):
نادرہ آرڈیننس کا سیکشن 18 نادرہ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ اگر کوئی شناختی کارڈ غلط معلومات، جعلی دستاویزات، یا کسی مشکوک شہری (Non-Citizen) ہونے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہو، تو ادارہ تحریری نوٹس کے بعد اس کارڈ کو منسوخ (Cancel)، ضبط (Confiscation)، یا امپاؤنڈ (Impound) کر سکتا ہے۔
سیکشن 18(3) کے تحت اپیل (Appeal under Section 18(3)):
سیکشن 18 کی ذیلی شق (3) کے تحت، اگر نادرہ اتھارٹی یا اس کے کسی مجاز افسر نے کسی شہری کے شناختی کارڈ کی منسوخی، امپاؤنڈ یا بلاک کرنے کا حتمی آرڈر جاری کر دیا ہو، تو متاثرہ شخص اس آرڈر کے خلاف فیڈرل گورنمنٹ (وفاقی حکومت / منسٹری آف انٹیریئر) یا نادرہ کی قائم کردہ اپیلٹ کمیٹی میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔
اپیل کی میعاد: متاثرہ شخص کو آرڈر موصول ہونے کے بعد مخصوص وقت (عموماً 30 دن) کے اندر یہ اپیل دائر کرنی ہوتی ہے۔
قانونی حیثیت: یہ اپیل نادرہ کے فیصلہ جات کے خلاف ایک لازمی ادارتی علاج (Administrative Remedy) ہے۔
2. بلاک شناختی کارڈ کھلوانے کا مرحلہ وار طریقہ کار
اگر آپ کا یا کسی کا شناختی کارڈ نادرہ کی طرف سے بلاک کر دیا گیا ہے تو اس کے حل کے لیے درج ذیل قانونی و انتظامی مراحل طے کیے جاتے ہیں:
مرحلہ 1: بلاک ہونے کی وجہ اور نوٹس معلوم کرنا
اپنے قریبی نادرہ رجسٹریشن سنٹر (NRC) پر جائیں اور معلوم کریں کہ کارڈ کس کیٹیگری (مثلاً D-Category / F-Category / مشکوک شہریت یا خاندانی شجرے میں غلط ریکارڈ) میں بلاک ہوا ہے۔
قانونی طور پر نادرہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ کارڈ بلاک یا امپاؤنڈ کرنے سے پہلے متعلقہ شخص کو شوکاز نوٹس (Show-Cause Notice) جاری کرے۔
مرحلہ 2: دستاویزات اور ثبوت کی تیاری
بلاک شدہ شناختی کارڈ کی بحالی کے لیے آپ کو اپنی پاکستانی شہریت اور درست کوائف ثابت کرنے ہوں گے:
1. اپنے والدین یا دادا دادی کے 1973 یا اس سے پہلے کے زمینی ریکارڈ، شجرہ نسب، یا لینڈ ڈاکومنٹس۔
2. خاندان کے دیگر افراد کے تصدیق شدہ شناختی کارڈز اور فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC)۔
3. تعلیمی اسناد، لوکل/ڈومیسائل سرٹیفکیٹ، پبلک سروس کا ریکارڈ، یا پاسپورٹ۔
مرحلہ 3: سیکشن 18(3) کے تحت اپیل اور نادرہ بورڈ کے سامنے پیشی
نادرہ کے جاری کردہ فیصلے کے خلاف سیکشن 18(3) کے تحت وفاقی حکومت/اپیلٹ بورڈ کو تحریری اپیل جمع کروائیں۔
ڈسٹرکٹ لیول کمیٹی (DLC): شہریت کی تصدیق کے لیے کیس ڈسٹرکٹ لیول کمیٹی یا جوائنٹ ویریفکیشن کمیٹی (JVC) کو بھیجا جاتا ہے، جہاں آپ کو پیش ہو کر تمام اصل دستاویزات دکھانی ہوتی ہیں۔
مرحلہ 4: ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن (Article 199)
اگر اپیل دائر کرنے کے باوجود نادرہ یا اپیلٹ اتھارٹی فیصلہ نہ کرے، یا اپیل کو بلاوجہ التوا میں ڈال دے، تو اعلیٰ عدالتوں (ہائی کورٹ) کا رخ کیا جا سکتا ہے:
ڈائریکشن پٹیشن (Direction Petition): آپ ہائی کورٹ میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت رٹ پٹیشن دائر کر سکتے ہیں کہ اعلیٰ عدالت نادرہ یا اپیلٹ کمیٹی کو ہدایت (Direction) جاری کرے کہ وہ اپیل کا فیصلہ ایک طے شدہ مدت (مثلاً 30 دن) میں کرے۔
ڈائریکٹ ہائی کورٹ جانے کی قانونی حیثیت: ہائی کورٹ کے متعدد فیصلوں (مثلاً سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے) کے مطابق نادرہ کو بلاوجہ یا بغیر شوکاز نوٹس جاری کیے کسی شہری کا شناختی کارڈ "بلاک" کرنے کا اختیا ر نہیں۔ تاہم، عدالت جانے سے پہلے سیکشن 18(3) کے تحت دستیاب اندرونی قانونی اپیل کا استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے۔
3. عدالتِ عالیہ (High Courts) کے اہم فیصلوں کا خلاصہ
پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے نادرہ کے شناختی کارڈ بلاک کرنے کے طریقے کے حوالے سے انتہائی اہم فیصلے دیے ہیں:
1. بلا نوٹس بلاک کرنا غیر قانونی: ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ محض شک کی بنیاد پر بغیر سنے یا بغیر شوکاز نوٹس دیے شناختی کارڈ بلاک کرنا آئین کے آرٹیکل 9 (زندگی کی آزادی) اور آرٹیکل 14 (انسانی وقار) کی خلاف ورزی ہے۔
2. "بلاک" (Block) کا لفظ: قانون (آرڈیننس) میں "امپاؤنڈ" یا "منسوخی" کا لفظ ہے، جبکہ "بلا تعطل بلاکنگ" کا اختیار بغیر ضابطہ کار کے استعمال نہیں ہو سکتا۔
خلاصہ (Summary)
اگر آپ کا شناختی کارڈ نادرہ نے بلاک یا منسوخ کر دیا ہے:
1. پہلے نادرہ آفس سے بلاک ہونے کا باقاعدہ سٹیٹس رپورٹ حاصل کریں۔
2. نادرہ کے حتمی حکم کے خلاف نادرہ آرڈیننس 2000 کے سیکشن 18(3) کے تحت اپیل دائر کریں۔
3. اپیل کے ساتھ تمام پرانے خاندانی کاغذات اور شہریت کے ثبوت منسلک کریں۔
4. اگر اپیل پر تاخیر ہو یا بلاوجہ منسوخی کی جائے، تو ہائی کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت رٹ پٹیشن دائر کر کے کارڈ کی بحالی کی ڈائریکشن حاصل کریں۔

26/08/2026

اگر آپ کو دنیا کو صرف ایک فائدہ مند بات بتانے کا موقع ملے، تو وہ کیا ہوگی؟ 🤔💭
کمنٹس میں اپنی وہ ایک بات ضرور شیئر کریں تاکہ باقی لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

24/08/2026

پاکستان میں لینڈ ریونیو (Land Revenue) اور پٹوار کے نظام میں کھیوٹ اور کھتونی بنیادی ترین اصطلاحات اور دستاویزات کا حصہ ہیں۔ دونوں اصطلاحات اراضی کا ریکارڈ رکھنے اور حقوق کی ملکیت و کاشت کا تعیّن کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، لیکن ان کے درمیان قانونی اور عملی لحاظ سے واضح فرق موجود ہے۔
۱. کھیوٹ (Khewat Number) کیا ہے؟
کھیوٹ (جسے مالک کا کھاتہ نمبر بھی کہا جاتا ہے) اراضی کے لینڈ ریونیو ریکارڈ یعنی جامع بندی (Record of Rights) میں مالکانہ حقوق کا نمبر ہوتا ہے۔
بنیادی مقصد: یہ بتاتا ہے کہ کسی مخصوص موضع (گاؤں یا علاقے) میں کسی زمین کا قانونی مالک یا مشترکہ مالکان (Co-sharers) کون ہیں۔
تفصیلات: کھیوٹ نمبر میں مالکان کے نام، ان کے حصے (Shares)، اور ان کی کل ملکیت کا اندراج ہوتا ہے۔
تبدیلی: جب زمین فروخت ہوتی ہے، ہبہ (تحفہ) ہوتی ہے، یا وراثت کی بنیاد پر منتقل ہوتی ہے تو انتقال (Mutation) کے بعد نیا بندوبست ہونے پر کھیوٹ نمبر تبدیل یا اپ ڈیٹ ہو سکتا ہے۔
۲. کھتونی (Khatoni Number) کیا ہے؟
کھتونی (جسے کاشتکار کا کھاتہ نمبر بھی کہا جاتا ہے) بنیادی طور پر قبضہ اور کاشت (Possession & Cultivation) کا ریکارڈ ہے۔
بنیادی مقصد: یہ بتاتا ہے کہ کسی مخصوص کھیوٹ کے اندر کون شخص زمین پر خود کاشت کر رہا ہے یا بطور مزارع/کرایہ دار (Tenant) قابض ہے۔
تفصیلات: کھتونی نمبر کے تحت کاشتکار کا نام، اس کی حیثیت (مثلاً خود کاشت، مزارع، تا بعِ فرمان وغیرہ)، لگان یا کرائے کی تفصیلات، اور کاشت کی نوعیت درج ہوتی ہے۔
تقسیم: ایک ہی کھیوٹ نمبر کے اندر متعدد کھتونی نمبرز ہو سکتے ہیں، اگر کھیوٹ کے مختلف حصوں پر مختلف افراد کا قبضہ ہو یا مختلف لوگ کاشت کر رہے ہوں۔

23/08/2026

نئی جمع بندی کی تیاری اور پٹواری کے ممکنہ فراڈ (Video Overview)
زمین و جائیداد کے ریکارڈ اور انتقالِ اراضی کے نظام میں جمع بندی (Record of Rights) کو بنیادی اور انتہائی اہم دستاویز تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ چار سالہ دورانیے کے بعد تیار کی جانے والی وہ سرکاری دستاویز ہے جس میں کسی بھی موضع (دیہات/رقبہ) کے تمام مالکوں، ان کے حصص، رقبہ جات اور زیرِ کاشت زمین کا تفصیلی اور جامع انداراج موجود ہوتا ہے۔
تاہم، جب پٹواری پرانی جمع بندی سے نئی جمع بندی تیار کرتا ہے، تو قانونی علم اور آگاہی کی کمی کی وجہ سے بعض اوقات مالکانِ اراضی کو سخت مالی اور قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جمع بندی کیا ہے؟ (What is Jamabandi?)
جمع بندی مالکانِ اراضی کے حقوق اور ان کے رقبے کا باضابطہ اور مصدقہ سرکاری ریکارڈ ہے۔ اس میں ہر کھاتہ دار (مالک) کا نام، اس کا کل رقبہ، زرعی یا غیر زرعی حیثیت، اور خانہ کاشت (کس شخص کے پاس زمین کا قبضہ یا کاشت ہے) کا واضح درج ہوتا ہے۔ ہر چار سال بعد پٹواری گزشتہ چار سالوں کے تمام انتقالات (خرید و فروخت، وراثت، ہبہ وغیرہ) کو شامل کر کے نئی جمع بندی تشکیل دیتا ہے۔
نئی جمع بندی بناتے ہوئے پٹواری کے ممکنہ فراڈ اور غلطیاں
نئی جمع بندی کی تیاری کے دوران جو باریک یا نمایاں ترامیم و غلطیاں کی جا سکتی ہیں، وہ درج ذیل ہیں:
1. ناموں اور کھاتہ جات میں تبدیلی [00:05]:
نئی جمع بندی کی نقل تیار کرتے وقت غلطی یا دیدہ و دانستہ طور پر اصل مالکان کے نام تبدیل کر دیے جاتے ہیں یا ان کا کھاتہ تبدیل کر کے کسی دوسرے غیر متعلقہ کھاتے میں شامل کر دیا جاتا ہے۔
2. حصص (Shares) میں کمی یا ردوبدل [00:11]:
مالکان کے ملکیت کے حصے (مثلاً 1/2 سے 1/4 یا فیصد/رقبے کے لحاظ سے) کو کم دکھا دیا جاتا ہے، جس سے کاغذات میں رقبہ کم ہو جاتا ہے اور آئندہ فروخت یا وراثت کے وقت تنازعات جنم لیتے ہیں۔
3. خانہ کاشت (Possession/Cultivation Entry) میں تبا دلی [00:11]:
خانہ کاشت میں یہ درج ہوتا ہے کہ زمین پر اصل قبضہ کس کا ہے اور کون کاشت کر رہا ہے۔ پٹواری نئی جمع بندی میں قانونی مالک کی جگہ کسی اور شخص کا نام بطور کاشتہ کار یا قابض درج کر سکتا ہے، جو آگے چل کر ناجائز قبضے یا ملکیتی تنازع کی بنیادی وجہ بنتا ہے۔
4. خسرہ گردآوری کی اہمیت اور اثرات [00:17]:
خانہ کاشت میں خسرہ گردآوری کی اینٹریز انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر نئی جمع بندی میں کاشت کا اندراج تبدیل کر دیا جائے تو اس کی قانونی حیثیت انتہائی مضبوط ہو جاتی ہے اور اسے فوری درست کروانا دشوار ہو جاتا ہے۔
غلط اندراج کی صورت میں قانونی چارہ جوئی اور علاج
اگر نئی جمع بندی میں کسی قسم کا غلط اندراج، فراڈ یا ردوبدل سامنے آئے، تو اسے درست کروانے کے لیے قانون میں درج ذیل راستے موجود ہیں:
ڈی سی آر (DCR / District Collector Revenue) کو درخواست [00:30]:
اگر معاملہ صرف خانہ کاشت کی غلط تبدیلی یا اینٹری کی اصلاح کا ہو، تو متاثرہ شخص متعلقہ ڈپٹی کمشنر / کلیکٹر (DCR) کے پاس درخواست دائر کر کے ریکارڈ کی درستگی کی استدعا کر سکتا ہے۔
سیول کورٹ (Civil Court) سے رجوع [00:24]:
اگر جمع بندی کے اندر ملکیت، نام، کھاتے یا حصص میں تبدیلی کر دی گئی ہو اور اسے چیلنج کرنا مقصود ہو، تو ریونیو حکام کے بجائے سول کورٹ میں دعویٰ (Suit for Declaration / Correction of Record) دائر کرنا پڑتا ہے۔ سول کورٹ تمام شواہد اور سابقہ ریکارڈ کا معائنہ کرنے کے بعد حتمی ڈگری جاری کرتی ہے۔
احتیاطی تدابیر
مالکانِ اراضی کے لیے ضروری ہے کہ:
ہر چار سال بعد نئی جمع بندی بننے کے فوری بعد اپنے رقبے کی نقلِ جمع بندی حاصل کر کے اس کا سابقہ ریکارڈ سے موازنہ کریں۔
خانہ ملکیت اور خانہ کاشت دونوں میں اپنے نام، والد کا نام، رقبہ اور حصص کا بغور جائزہ لیں۔
کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں تاخیر کیے بغیر قانونی چارہ جوئی کا آغاز کریں۔
متعلقہ ویڈیو لنکس
نئی جمع بندی بناتے ہوئے پٹواری کیا فراڈ کر سکتا ہے؟ (

Address

High Court
Multan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sardar Qasim Bin Sajjad Tangwani Adv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share