Friends Law Chamber

Friends Law Chamber Friends Law Chamber is a law related group. Here you can find latest case law on each and evry topic

گرین سرٹیفکیٹپنجاب میں پنجاب لینڈ ریکارڈز  اتھارٹی کی ذریعے گرین سرٹیفکیٹ کا مرحلہ وار آغاز کر رہی ہے پہلے دفعہ زمین مال...
06/01/2026

گرین سرٹیفکیٹ
پنجاب میں پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی کی ذریعے گرین سرٹیفکیٹ کا مرحلہ وار آغاز کر رہی ہے پہلے دفعہ زمین مالک کو اُسکی اپنی ملکیتی قبضہ کی مطابق اُسکی پکی سند ملی گی جس میں اس۔ مالک زمین کی تفصیل کی ساتھ ساتھ اُسکا نقشه بھی ساتھ ہوگا ک زمین کہاں واقع ہے جس سے زمینی معاملات میں ہونے والی تنازعات سے
نجات ملی گار
اور جو پرانا کّھیوٹ سسٹم تھا و اب جدید دور میں پارسل سسٹم بن جائے گا

پولیس گردی ٹریفک پولیس اہلکاروں نے وکیلکو تشدد کا نشانہ بنایاعدالتی حکم پرٹریفک پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج
14/09/2025

پولیس گردی

ٹریفک پولیس اہلکاروں نے وکیل
کو تشدد کا نشانہ بنایا
عدالتی حکم پرٹریفک پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج

14/09/2025

*جب امریکہ نے ویت نامی انقلابیوں کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا تو اس نے انہیں کہا کہ پیرس میں اپنا ایک وفد بھیجیں تاکہ جنگ بندی پر بات چیت ہوسکے*۔ اُس وقت ویت نامی مجاہدین امریکی فوجیوں پر کاری ضربیں لگا چکے تھے اور ان کے ساتھ سخت سلوک بھی کیا تھا۔
چنانچہ ویت نامی انقلابیوں نے چار افراد پر مشتمل ایک وفد بھیجا—دو خواتین اور دو مرد۔ امریکی خفیہ اداروں نے اس وفد کے لیے پیرس کے اعلیٰ ترین ہوٹلوں میں قیام و طعام کا بندوبست کیا، ہر طرح کی آسائشیں، راحتیں اور نعمتیں مہیا کر دیں۔
لیکن جب وفد پیرس کے ہوائی اڈے پر اُترا تو وہاں موجود امریکی کاریں انہیں ہوٹل لے جانے کے لیے تیار کھڑی تھیں، مگر ویت نامی وفد نے ان میں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اپنی مرضی سے قیام کریں گے اور وقت پر اجلاس میں پہنچ جائیں گے۔
امریکی وفد کو یہ سن کر حیرت ہوئی۔ انہوں نے پوچھا: "آپ کہاں قیام کریں گے؟"
وفد کے سربراہ نے جواب دیا: "ہم پیرس کے ایک مضافاتی علاقے میں مقیم ایک ویت نامی طالب علم کے گھر میں رہیں گے۔"
امریکی نمائندہ مزید حیران ہوا اور کہا: "ہم نے تو آپ کے لیے ایک شاندار اور آرام دہ ہوٹل کا بندوبست کیا ہے۔"
اس پر ویت نامی نے کہا:
"ہم تو آپ سے لڑائی کے دوران پہاڑوں میں رہتے تھے، چٹانوں پر سوتے اور گھاس پھوس کھا کر گزارا کرتے تھے۔ اگر اب ہماری زندگی بدل گئی تو ڈرتے ہیں کہ کہیں ہمارے ضمیر بھی نہ بدل جائیں۔ اس لیے ہمیں ہماری حالت پر رہنے دیں۔"
چنانچہ وفد نے اس طالب علم کے گھر میں قیام کیا، اور بعد ازاں یہی مذاکرات امریکی قبضے کے مکمل خاتمے کا سبب بنے۔
جب دونوں وفود ہوائی اڈے پر ملاقات کے لیے آئے تو امریکی نمائندہ مصافحہ کرنے کے لیے آگے بڑھا مگر ویت نامیوں نے ہاتھ بڑھانے سے انکار کر دیا اور ان کے سربراہ نے کہا:
"ہم اب بھی دشمن ہیں، ہمارے عوام نے ہمیں آپ سے مصافحہ کرنے کا اختیار نہیں دیا۔
جو اپنا ضمیر بیچ دے، وہ اپنا وطن بھی بیچ دیتا ہے۔"
🥺 ایک دن جنرل "جیاب"—جو ویت نامی انقلابی رہنماؤں میں سے تھے—نے ستر کی دہائی میں ایک عربی دارالحکومت کا دورہ کیا، جہاں فلسطینی "انقلابی" تنظیمیں موجود تھیں۔
وہاں جا کر اُس نے دیکھا کہ ان کے قائدین پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں: جرمن گاڑیاں، کوبائی سگری، اطالوی مہنگے سوٹ، اور فرانسیسی قیمتی خوشبوئیں۔ جب اس نے یہ سب اپنی ویت کانگ کے جنگلوں کی زندگی سے موازنہ کیا تو بے ساختہ ان سے کہا: 😡
"آپ کی بغاوت کبھی کامیاب نہیں ہوگی!"

انہوں نے پوچھا: "کیوں؟"
جنرل جیاب نے جواب دیا:
"کیونکہ انقلاب اور دولت اکٹھے نہیں رہ سکتے۔
وہ بغاوت جو شعور کے بغیر ہو دہشت گردی میں بدل جاتی ہے، اور وہ بغاوت جس پر مال و دولت برسائی جائے اس کے قائدین چور بن جاتے ہیں۔
اگر کوئی شخص انقلاب کا دعویٰ کرے مگر خود محلوں اور کوٹھیوں میں رہے، لذیذ کھانے کھائے، اور عیش و عشرت کی زندگی بسر کرے، جبکہ باقی عوام کیمپوں میں رہیں اور زندہ رہنے کے لیے بین الاقوامی امداد کے محتاج ہوں… تو سمجھ لو کہ وہ قیادت حقیقتاً انقلاب لانا ہی نہیں چاہتی۔
اور *جس قیادت کو انقلاب کی کامیابی مطلوب ہی نہ ہو، اس کی بغاوت کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی*۔

انصاف کی جلد فراہمی میں ایک نیا قدم
30/08/2025

انصاف کی جلد فراہمی میں ایک نیا قدم

25/08/2025

آہ۔۔کون لوگ ہیں ہم۔۔۔۔

ٹھیکیداروں_کا_مُلک #

مجھے کل ایک دوست نے کراچی کی ایک خاتون کا وزیراعلیٰ سندھ کے نام خط بھجوایا‘ خاتون نے خط میں لکھا‘

"میرے خاوند انتہائی علیل ہیں‘ یہ ہفتے میں تین بار ڈائیلیسز کراتے ہیں‘ ان کے ڈائیلیسز‘ ماہانہ ٹیسٹوں‘ ادویات‘ انجیکشنز اور ڈاکٹروں کی فیسوں پر ایک لاکھ 75 ہزار روپے ماہانہ خرچ ہو جاتے ہیں‘ ہماری دونوں بیٹیاں مل کر یہ اخراجات برداشت کرتی ہیں۔ لیکن اب ان کے بس کی بھی بات نہیں رہی ، لہٰذا میری آپ سے درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر میرے خاوند کے میڈیکل اخراجات کا کوئی مستقل بندوبست کر دیں"

خاتون نے آخر میں لکھا‘

" میرے خاوند میرے گھر میں رہتے ہیں اور یہ گھر مجھے میری والدہ نے دیا تھا"

یہ ایک عام سا خط تھا‘ ملک میں روز ہزاروں لوگ اس قسم کے خط لکھتے ہیں اور حکومت سے امداد مانگتے ہیں‘ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔

لیکن یہ خط اس کے باوجود غیر معمولی ہے۔۔۔۔۔۔۔ کیوں؟

کیوں کہ یہ درخواست کسی عام خاتون نے نہیں کی۔۔۔۔۔!

یہ خط پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کی بہو دُر لیاقت علی خان نے لکھا تھا۔ اور جس مریض کے لیے امداد مانگی جا رہی ہے۔ اس کا نام اکبر علی خان ہے۔

اور یہ لیاقت علی خان اور بیگم رعنا لیاقت علی کا بیٹا ہے۔

ہمارے ملک میں شاید بہت کم لوگوں کو علم ہو گا کہ لیاقت علی خان کرنال کے بہت بڑے جاگیردار خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

ان کی جاگیر میں ریلوے سٹیشن تھا اور ان کے کھیت اور باغ میلوں تک پھیلے تھے۔ وہ 1918ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھنے گئے تھے۔ وکالت شروع کی تو وہ چند برسوں میں ہندوستان کے بڑے وکلاء میں شمار ہونے لگے۔ 1923ء میں سیاست میں آئے۔ اور 1926ء میں انگریز دور میں یوپی اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے۔ مسلم لیگ جوائن کی۔ تو قائداعظم کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کے سب سے بڑے لیڈر بن گئے۔1947ء میں پاکستان آئے۔ تو اپنی ساری زمین جائیداد،روپیہ پیسہ حتیٰ کہ کپڑے تک بھارت چھوڑ آئے۔ اور کراچی میں جائیداد کا کسی قسم کا کلیم نہ کیا۔ اس سر زمین سے ایک انچ زمین نہ لی۔

وہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے۔ وہ اگر چاہتے تو آدھا کراچی، لاہور، اور راولپنڈی ان کا ہوتا۔وہ اگر دہلی اور ممبئی کے گھروں کا کلیم ہی لے لیتے، تو ان کا خاندان آج ارب پتی ہوتا۔ لیکن اس درویش صفت انسان نے ملک کو اپنا سب کچھ دے دیا۔ لیکن بدلے میں لیا کچھ نہیں،

ان کی بیگم اپنے زمانے کی انتہائی خوب صورت، مہذب اور پڑھی لکھی خاتون تھیں۔ وہ برٹش آرمی کے انگریز میجر جنرل ڈینیل پینٹ کی بیٹی تھیں۔ والدہ برہمن تھی۔ لکھنو یونیورسٹی سے گریجوایشن کی۔ اور گوکھلے میموریل سکول کلکتہ میں پڑھانا شروع کر دیا۔ 1931ء میں ایم اے کیا۔ اور دہلی میں پروفیسر بن گئیں۔ ان کا نام شیلا آئرن پینٹ تھا۔ 1932ء میں اسلام قبول کیا۔ خان لیاقت علی خان سے شادی کی۔ اور شیلا سے بیگم رعنا لیاقت علی خان بن گئیں۔ ان کے دو بیٹے تھے۔ اکبر علی خان اور اشرف علی خان۔یہ دونوں سعادت مند بھی تھے ۔اور عزت دار بھی‘

لیاقت علی خان اور رعنا لیاقت علی خان نے جوانی فراوانی میں گزاری تھی۔ دنیا جہاں کی نعمتیں ہاتھ باندھ کر سامنے کھڑی رہتی تھیں۔ لیکن یہ لوگ جب پاکستان آئے تو یہ خالی ہاتھ تھے۔ کراچی میں خان لیاقت علی خان کے نام پر ہزاروں ایکڑ پر لیاقت آباد کا سیکٹر بنا۔ لیکن اس میں بھی خان لیاقت علی خان نے ایک انچ زمین نہیں لی۔

یہ جب 16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی میں سید اکبر کی گولی کا نشانہ بنے، اور ان کی اچکن اتاری گئی، تو پتا چلا ملک کے پہلے وزیراعظم نے شیروانی کے نیچے کرتہ نہیں پہنا ہوا تھا۔ بنیان تھی، اور وہ بھی پھٹی ہوئی تھی، گھر میں کپڑوں کے صرف تین جوڑے اور دو جوتے تھے۔

اکاؤنٹ میں چند سو روپے تھے۔ بیگم اور بچے وزیراعظم ہاؤس میں رہتے تھے۔ بقول بیگم رعنا لیاقت علی کے وزیراعظم ہاؤس کا چینی کا کوٹا نواب صاحب نے اتنا کم رکھوایا تھا۔ کہ مہینہ کی پندرہ تاریخ تک چینی ختم ہوجاتی تھی۔ اور ہمارے علاوہ آنے والے مہمانوں کو بھی پھیکی چائے پینی پڑتی تھی۔

نواب صاحب قبل از شہادت اپنے کریانہ فروش کے علاوہ اپنے درزی حمید کے بھی قرضدار تھے۔

خواجہ ناظم الدین نئے وزیراعظم بن گئے۔ یہ اس گھر میں آئے، تو پتا چلا لیاقت علی خان کی فیملی کے لیے پورے ملک میں کوئی گھر موجود نہیں ۔

سوال اٹھا یہ لوگ کہاں جائیں گے؟

لہٰذا خواجہ ناظم الدین نے بیگم رعنا لیاقت علی خان کو ہالینڈ میں سفیر بنا کر بھیج دیا۔ بیگم رعنا ہالینڈ، پھر اٹلی اور آخر میں تیونس میں سفیر رہیں۔

یہ واپس آئیں تو ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں گورنر سندھ بنا دیا۔

یہ پاکستان کی پہلی خاتون چانسلر بھی رہیں۔

یہ کراچی یونیورسٹی کی چانسلر تھیں۔

آپ اپوا سے لے کر پاکستان نیشنل وومن گارڈز، پاکستان وومن ریزرو، پاکستان کاٹیج انڈسٹریز شاپ۔ ماڈل کالونی برائے کرافٹس، گل رعنا نصرت انڈسٹریل سنٹر، کمیونٹی سنٹر یا پھر فیڈریشن آف یونیورسٹی وومن، اور انٹرنیشنل وومن تک ملک میں خواتین کا کوئی ادارہ دیکھ لیں۔ آپ کو خواتین سے متعلقہ ہر بڑے ادارے کے پیچھے بیگم رعنا لیاقت علی خان ملیں گی۔۔۔۔۔

یہ جب ہالینڈ میں سفیر تھیں، تو ہالینڈ کی ملکہ جولیانا ان کی دوست بن گئیں۔ یہ دونوں خواتین اس وقت پورے یورپ میں مشہور تھیں۔ بیگم رعنا لیاقت تاش کے کھیل بریج کی بہت بڑی ایکسپرٹ تھیں۔ یہ روزانہ ملکہ کے ساتھ بریج کھیلتی تھیں۔

ایک دن ملکہ جولیانا نے بیگم رعنا کے ساتھ شرط لگائی، اگر تم آج کی بازی جیت گئیں تو میں تمہیں اپنا ایک محل گفٹ کر دوں گی۔ بازی شروع ہوئی اور بیگم رعنا لیاقت علی جیت گئیں۔ ملکہ نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنا ایک محل رعنا لیاقت علی خان کو دے دیا۔ اور بیگم صاحبہ نے یہ محل حکومت پاکستان کے لیے وقف کر دیا ۔

آج بھی ہالینڈ میں پاکستان کا سفارت خانہ اسی محل میں قائم ہے۔ یہ انیس سو نوے میں کراچی میں فوت ہوئیں۔ اور انہیں مزار قائد پر خان لیاقت علی خان کے پہلو میں دفن کر دیا گیا ۔

لیکن یہ ہوں، یا خان لیاقت علی خان، وہ اپنی اولاد کے لیے کوئی زمین یا جائیداد چھوڑ کر نہیں گئے۔ اور آج ان کے صاحب زادے اکبر علی خان اپنی بیگم دُر لیاقت کے گھر میں رہتے ہیں اوران کی حالت یہ ہے، ان کی بیگم اپنے بیمار خاوند کے علاج کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھنے پر مجبور ہیں۔

ملک کے پہلے وزیراعظم کے صاحب زادے اور بہو ہر ماہ ایک لاکھ پچھتر ہزار افورڈ نہیں

کر سکتے۔ یہ خان لیاقت علی خان کے ملک میں اپنے ڈائیلیسز کا خرچ پورا نہیں کر سکتے۔ یہ ملک ان لوگوں کا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو میلوں پر پھیلی جاگیریں چھوڑ کر اس ملک میں آئے اور پھر پھٹی ہوئی بنیان کے ساتھ دفن ہوئے۔

خان لیاقت علی خان کی بہو وزیراعلیٰ کو لیاقت علی خان کے صاحب زادے کے لیے ایک لاکھ 75 ہزار روپے کی امداد کی درخواست کر رہی ہے۔۔

مالی سال 2025-26 کیلئے دیت کی رقم اٹھانوے لاکھ اٹھائیس ہزار چھ سو ستر روپے  مقرر (9828670)Notification of Diyat for the ...
18/08/2025

مالی سال 2025-26 کیلئے دیت کی رقم اٹھانوے لاکھ اٹھائیس ہزار چھ سو ستر
روپے مقرر (9828670)

Notification of Diyat for the Financial Year 2025-2026
18-08-2025

 :لے پالک (Adopted) بچے کی قانونی حیثیت قانونی گود لینا پاکستان میں کوئی باقاعدہ قانونی "Adoption Law" موجود نہیں۔ اس لی...
03/08/2025

:

لے پالک (Adopted) بچے کی قانونی حیثیت قانونی گود لینا
پاکستان میں کوئی باقاعدہ قانونی "Adoption Law" موجود نہیں۔ اس لیے لے پالک بچے کو اصلی بیٹا یا بیٹی کی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہوتی جیسا کہ مغربی ممالک میں ہوتا ہے۔ Guardians and Wards Act 1890:
اگر کوئی جوڑا یا فرد بچے کی سرپرستی (Guardianship) حاصل کرنا چاہے تو اسے عدالت میں درخواست دینی ہوتی ہے۔
یہ وراثتی حق نہیں دیتا، صرف پرورش کا حق دیتا ہے۔
وراثت (Inheritance):
لے پالک بچہ شرعی و قانونی وارث نہیں ہوتا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ وہ بچہ آپ کی جائیداد سے حصہ پائے تو:۔
نادرہ قوانین کے مطابق، بچے کا باپ کے خانے میں اصلی والد کا نام درج کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔
لے پالک بچہ قانونی طور پر آپ کے نام سے شناختی دستاویزات حاصل نہیں کر سکتا، جب تک کہ قانونی گارڈین شپ نہ ہو
(سورہ احزاب کی آیات 4 اور 5)
کسی آدمی کے سینے میں اللہ تعالٰی نے دو دل نہیں رکھے اور اپنی جن بیویوں کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو انہیں اللہ نے تمہاری ( سچ مچ کی ) مائیں نہیں بنایا ، اور نہ تمہارے لے پالک لڑکوں کو ( واقعی ) تمہارے بیٹے بنایا ہے یہ تو تمہارے اپنے منہ کی باتیں ہیں اللہ تعالٰی حق بات فرماتا ہے اور وہ ( سیدھی ) راہ سجھاتا ہے کے مطابق کوئی بچہ گود لے سکتا ہے، لیکن کوئی اپنا ولدیت تبدیل نہیں کر سکتا، گود لینے والے بچے کو اس کے حقیقی باپ کے نام سے مخاطب کرنا ضروری ہے اور اگر کسی کو گود لینے والے بچے کے والد کا نام معلوم نہ ہو، تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا کہ اسلام میں ان کے ساتھ بھائیوں جیسا سلوک کیا جائے۔
PLD 2023 FC 1

لے پالک بیٹا اور بیٹی متوفی کے شرعی وارث نہ ہیں مگر نان و نفقہ کے حقدار ہیں
PLJ 2023 LAHORE(NOTE) 111
2018 MLD 407
2010 YLR 1327 lahore

اسلام میں گود لینے (adoption) کا کوئی تصور نہیں ہے۔ لے پالک اولاد وراثت میں حصہ دار نہ ہے۔
2020 YLR 2317

لے پالک (گود لیے گئے) بچے کی شرعی و قانونی حیثیت کے بارے لاہور ہائیکورٹ کا نہایت معلوماتی رہنما فیصلہ
2024 YLR 1073
اپنے الفاظ کا وزن پہچانیں، لے پالک کو اپنی بیٹی یا بیٹا قرار دینے کے بعد انکار کی گنجائش نہیں!
📖 قانون آپ کے الفاظ کو گواہی سمجھتا ہے!
📚 PLJ 2005 SC 785

گود لیا گیا بچہ دو سال سے کم عمر کا ہو، اور اسے گود لینے والی ماں کی طرف سے کم از کم ایک دن رات براہ راست دودھ پلایا جاتا تھا جس سے رضاعی "رجائی" تعلق پیدا ہوتا تھا اور اس طرح بچہ محرم اور خاندان کے لیے کسی نئے بچے کی ضرورت نہیں تھا۔ گود لینے والے والدین کی حقیقی اولاد--- وراثت کی صورت میں، تاہم، ایک رضائی بچے کو بھی گود لینے والے والدین کی جائیداد پر کوئی حق نہیں تھا، حالانکہ گود لینے والے والدین اپنی جائیداد کا ایک تہائی حصہ اپنے گود لینے والے بچے کے لیے لکھ سکتے ہیں۔
2015 PLD 336 lahore
مدعا علیہ خاتون اس کی حقیقی بہن نہیں تھی بلکہ اسے اس کے والدین نے گود لیا تھا-قانون شہادت کی دفعہ 128، 1984 --- آرٹیکل 128 میں دیے گئے وقت کے اندر صرف ایک قابل باپ ہی بچے کی ولدیت کو چیلنج کر سکتا ہے--- فریقین کے والد نے کبھی مدعاعلیہ کی ولدیت کو چیلنج نہیں کیا تھا--- قانون شہادت کی دفعہ 128 کے مطابق ایک بہن نے اپنے بھائی کو چیلنج نہیں کیا۔ ولدیت--- مدعی کی طرف سے دائر مقدمہ سپریم کورٹ نے خارج کر دیا تھا۔
2019 PLD 449 SC
غیر مسلم معاشرہ میں گود لینے کے تمام حقوق موجود ہیں،
گود لینے والے والدین کو، معاشرے میں سرکاری اور نجی سماجی تنظیموں نے بھی قبول کیا اور ایسی سماجی تنظیموں اور کلبوں وغیرہ میں حقوق اور مراعات کو تسلیم کیا، جس میں تنظیم یا کلب کی رکنیت بھی شامل ہے، جیسا کہ معاملہ ہو سکتا ہے ایک گود لیا ہوا بچہ اپنے گود لینے والے والدین کی جائیداد بھی حاصل کر سکتا ہے۔
2015 GBLR 38 SUPREME-
متوفی کی بہنیں ہونے کے ناطے اس نے گود لینے والے بیٹے کے ڈی این اے ٹیسٹ کے مواد کے ساتھ درخواست دائر کی تھی۔ اور وراثت کا حقدار نہیں تھا-ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی پٹیشن اور اعتراضات کو خارج کر دیا گیا تھا اور درخواست گزاروں کے حق میں جانشینی کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا تھا---درخواست گزاروں کی جانب سے پیش کیے گئے دستاویزات سرکاری تھے جن سے جواب دہندگان نے اختلاف نہیں کیا تھا- جواب دہندگان کو رائے کی موت کے بعد ان قانونی دستاویزات کا اعلان اور منسوخی کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا۔ ماں---بچے کی قانونی حیثیت یا متوفی کے بیٹے کے طور پر اس کی حیثیت کو کسی زبانی ثبوت سے غلط ثابت نہیں کیا جا سکتا
گود لینے والا بچہ وراثت کا حقدار ٹھہرایا گیا
2020 CLC 1670
نابالغ عیسائی تھی اور اس کے والدین نے اجازت دی تھی- ہائی کورٹ نے درخواست گزار کو نابالغ کو امریکہ لے جانے کی اجازت دی تھی اور اسے گود لینے کے لیے سرکنڈیشن کی اجازت دی گئی تھی۔ امریکہ جا کر بچی کا نام وہاں کے قوانین کے مطابق درج کروا لے گود لی ہوئی بچی بیرون ملک چلی گئی
2011 PLD 6 ISD

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب بھر میں سیشن ججز اور ایڈیشنل سیشن ججز کو کنزیومر کوٹ کے اختیارات دے دیےعنوان:تمام ضلعی و سیشن ج...
02/08/2025

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب بھر میں سیشن ججز اور ایڈیشنل سیشن ججز کو کنزیومر کوٹ کے اختیارات دے دیے
عنوان:
تمام ضلعی و سیشن ججز کو صارف عدالتیں مقرر کرنے کا حکم
تاریخ:
یکم اگست 2025
جاری کنندہ:
ملک علی ذوالقرنین اعوان، ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری، لاہور ہائی کورٹ

پس منظر:
پنجاب اسمبلی کی جانب سے "Punjab Consumer Protection (Amendment) Act, 2025" کی منظوری اور 25 جون 2025 کو اس کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے فوری عمل درآمد کے لیے درج ذیل احکامات صادر کیے:

---

اہم نکات:

1. تمام ضلعی و سیشن ججز اور ایڈیشنل سیشن ججز کو ان کے متعلقہ اضلاع میں صارف عدالتیں (Consumer Courts) مقرر کر دیا گیا ہے۔

2. ہر ضلع کے ضلعی و سیشن جج کو صارف عدالتوں کا انتظامی جج (Administrative Judge) نامزد کیا گیا ہے، اور وہ نئے کیسز ان عدالتوں کو سونپنے کے مجاز ہوں گے۔

3. جو کیسز پرانے (defunct) صارف عدالتوں میں زیر التواء تھے، ان کا اختیار بھی ضلعی و سیشن جج کو دے دیا گیا ہے کہ وہ بوجھ کے مطابق ایک یا ایک سے زیادہ ججوں کو یہ مقدمات تفویض کریں۔

قانونی اور عملی اہمیت:

یہ نوٹیفکیشن پرانی صارف عدالتوں کے خاتمے کے بعد نئے نظام کے نفاذ کا اعلان ہے۔

اب صارفین اپنے مسائل کے حل کے لیے براہِ راست ضلعی و سیشن جج یا ان کے مقرر کردہ ایڈیشنل جج کے پاس جا سکتے ہیں۔

یہ عمل عدالتی نظام کو مزید موثر بنانے اور عوام کو فوری انصاف کی فراہمی کے لیے ایک اہم قدم ہے.

نیدرلینڈز کی ولی عہد شہزادی امالیا، جب 18 برس کی ہونے والی تھیں تو اُنہیں وزارتِ خزانہ کی جانب سے ایک کال موصول ہوئی۔ ان...
29/07/2025

نیدرلینڈز کی ولی عہد شہزادی امالیا، جب 18 برس کی ہونے والی تھیں تو اُنہیں وزارتِ خزانہ کی جانب سے ایک کال موصول ہوئی۔ انہیں بتایا گیا کہ بالغ ہونے کے بعد وہ باضابطہ طور پر ریاست کی ولی عہد تسلیم کی جائیں گی، اور سرکاری طور پر ان کے لیے سالانہ 1.9 ملین ڈالر کی رقم مختص کی جا چکی ہے۔

لیکن امالیا نے جو ردِعمل دیا، وہ غیر معمولی تھا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ:
"جب تک میں ریاست یا عوام کی کوئی حقیقی خدمت انجام نہیں دیتی، میں خود کو اس رقم کی حقدار نہیں سمجھتی۔ میں ابھی بھی ایک عام طالبہ ہوں، جبکہ میرے جیسے بہت سے نوجوان محدود وسائل میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ایسی صورت میں اتنی بڑی رقم قبول کرنا میرے ضمیر کے خلاف ہے۔"

انہوں نے درخواست کی کہ یہ رقم ان افراد یا اداروں کو منتقل کی جائے جو بزرگوں، ناداروں یا ضرورت مندوں کی مدد میں مصروف ہیں۔

نکتہ
اقتدار، دولت یا رتبہ انسان کو عظیم نہیں بناتا۔ اصل عظمت سوچ احساس اور کردار کی ہوتی ہے.⚡۔

ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ ختم۔۔۔۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجیسنی کو فعال ۔۔۔ وقار الدین سید ڈی جی NCCIA تعینات ۔...
05/04/2025

ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ ختم۔۔۔۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجیسنی کو فعال ۔۔۔ وقار الدین سید ڈی جی NCCIA تعینات ۔۔۔۔

6 مارچ 2024 کو دہلی کے گنگا رام ہسپتال میں 45 سالہ پینٹر، جو 2020 میں ٹرین حادثے میں اپنے دونوں ہاتھوں سے محروم ہو گئے ت...
20/02/2025

6 مارچ 2024 کو دہلی کے گنگا رام ہسپتال میں 45 سالہ پینٹر، جو 2020 میں ٹرین حادثے میں اپنے دونوں ہاتھوں سے محروم ہو گئے تھے، کا کامیاب ہاتھوں کا ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔ انہیں مینا مہتا نامی خاتون کے عطیہ کردہ ہاتھ لگائے گئے، جو دماغی طور پر مردہ قرار دی گئی تھیں اور اپنی زندگی میں اعضاء عطیہ کرنے کا عہد کر چکی تھیں۔ اس سرجری میں 12 گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگا، جس میں ڈونر کے ہاتھوں اور مریض کے بازوؤں کے درمیان شریانوں، عضلات، ٹینڈنز اور اعصاب کو جوڑا گیا۔ مریض کو مکمل صحت یابی کے بعد 7 مارچ 2024 کو ہسپتال سے ڈسچارج کیا گیا۔
ہمارے ہاں حوروں کے خدوخال زیرِ بحث ہیں. کوئی پستی سی پستی ہے بابا جی کے دیس میں. پناہ بخدا!

صدر پاکستان  نے لاہور ہائی کورٹ سے ٹرانسفر ہو کر انے والے  اسلام آباد ہائیکورٹ کے  جج جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کو  قا...
13/02/2025

صدر پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ سے ٹرانسفر ہو کر انے والے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کو قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ بنا نے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے
جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کو اسلام اباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس عامر فاروق سینیئر ترین جج قرار دے چکے ہیں۔۔۔
اسلام اباد ہائی کورٹ میں پہلے سے موجود جج سرفراز ڈوگر کی سنیارٹی کو چیلنج کیے ہوئے تھے
جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی سنیارٹی کے حوالے سے تمام طرح اعتراضات کو چیف جسٹس عامر فاروق مسترد کر چکے ہیں
اسلام اباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کو سپریم کورٹ میں بطور جج تعینات کر دیا گیا ہے جس کی جگہ پر جسٹس سرفراز ڈوگر کو عارضی طور پر چیف جسٹس تعینات کیا گیا ہے۔۔۔
ائندہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں قوی امکان یہی ہے کہ جسٹس سرفراز ڈوگر کو مستقل چیف جسٹس اسلام اباد ہائی کورٹ تعینات کر دیا جائے گا

Address

4-Bashir Khan Block District Courts Multan
Multan

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

03357317502

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Friends Law Chamber posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Friends Law Chamber:

Share