25/01/2026
یہ 8 جولائی 2022ء صبح ساڑھے گیارہ بجے کا وقت ہے۔ مقبول سیاسی رہنماء ایک انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے ہیں۔ اچانک پیچھے سے ایک جوان نمودار ہوا اور گن سے دو گولیاں چلائیں، پہلی پر نشانہ چوک گیا لیکن دوسری گولی رہنماء کی گردن اور سینے پر لگی اور وہ گِر گئے۔ جوان نے مزاحمت نہیں کی، فوری گرفتار کر لیا گیا۔ سیاسی رہنماء کو فوری ہسپتال پہنچایا گیا لیکن خون کے زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے شام پانچ بجے دم توڑ گئے۔
تفتیشی اداروں نے قاتل سے تین سال سے زائد تک تفتیش کی جس کا خلاصہ یہی سامنے آیا کہ قاتل مقتول سیاسی رہنماء کے نظریات کا ذاتی طور پر شدید مخالف تھا، پیچھے کوئی اور سازش نہ تھی۔ بلآخر 25 اکتوبر 2025ء کو مقامی کورٹ میں قاتل کیخلاف مقدمہ شروع ہوا۔ ملزم نے قتل سمیت تمام الزامات قبول کرلیے۔ سرکاری وکلاء نے عمر قید جبکہ کہ ملزم کے وکلاء نے کم سزا کی استدعا کی۔ عدالت نے قاتل کو عمر قید کی سزا سنادی۔
رکیے! قاتل کے اقبال ِجرم کے باوجود مجرم کو پھانسی کے بجائے فقط عمر قید دینے پر اپنے ملک کی عدلیہ کو عالمی رینکنگ میں 130 درجے کا طعنہ دینے سے قبل جان لیں کہ یہ اس ملک کا کیس ہے، جو اس رینکنگ میں 15 ویں درجے پر فائز ہے۔ جی ہاں! یہ جاپان کے سابق وزیراعظم شینزو آبے کے مرڈر کیس کی کہانی ہے جس کا فیصلہ قتل کے ساڑھے 3 سال بعد 2 دن قبل ہی آیا ہے۔ یاد رہے ایسا نہیں ہے کہ جاپان میں سزائے موت پر پابندی ہے، ابھی چندہ ماہ قبل ہی ایک سیریل کِلر کو پھانسی دی گئی ہے۔
یہاں سلسلہ میں اگر کوئی ایسا کیس سامنے آئے کہ سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم کو سزائے موت کے بجائے عمر قید دیدی تو کچھ ایسے تبصرے آنے لگتے ہیں کہ یہ تو بہت ظلم ہے، یہ عمر قید تو قاتل کو بری کرنے والی بات ہے اور بعض سیدھا ججز کو گالم گلوچ پر اتر آتے ہیں۔ عدلیہ اور نظام انصاف کا دفاع مقصود نہیں البتہ کچھ لازمی وضاحت ضروری ہے۔
تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت قتل عمد کی جو سزا بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ مجرم کو اول تو بطور قصاص قتل کیا جائے البتہ اس کے ثبوت کیلئے یا تو ملزم اقبالِ جرم کرے یا پھر شرعی نصاب کے مطابق گواہوں کے عادل و گناہ کبائر سے پاک ہونے جیسی انتہائی سخت قسم کی شرائط پوری کی جائیں، جو عام طور پر نہیں ہو پاتیں۔ اور اگر ایسی گواہی دستیاب نہ ہوسکے تو پھر تعزیر کے طور پر عدالت ملزم کو عمر قید یا سزائے موت بھی دے سکتی ہے۔ اب یہ عدالت پر منحصر ہے کہ کیس کے حالات و واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے کہاں سزائے موت دیتی ہے اور کہاں عمر قید۔ تقریبا یہی حکم فقہ اسلامی میں ہے۔
مثال کے طور پر ایک شخص سیریل کلر ہے، منصوبے سے کئی افراد کو وحشیانہ طریقے سے قتل کرچکا ہے جبکہ ایک دوسرے کیس میں ایک شخص کو ایک ایسے گھر سے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا جس کے اندر صرف مقتول کی لاش پڑی ہوئی ہے، اسکے علاوہ کوئی عینی شہادت نہیں ہے صرف واقعاتی شواہد ہیں۔ اب ان دونوں ہی قاتلوں کو سزائے موت دینا، شاید مناسب نہ ہو، اس لیے عدالت اول طرح کے کیسز میں سزائے موت اور دوسرے میں عمر قید سنا دیتی ہے۔
تو عزیزانِ من! ہر قتل کی سزا میں، ہر حال میں سزائے موت، کہیں بھی کسی بھی قانون میں نہیں ہے۔ سیشن کورٹ میں اگر ملزم گنہگار ثابت ہوجائے تو عموماََ سزائے موت ہی سنائی جاتی ہے اس خیال سے کہ اگر مجرم عمر قید کی رعایت کا مستحق ہوا بھی تو وہ فوری ملنے کے بجائے عرصہ بعد اوپر والی عدالت سے ملے۔ سپریم کورٹ میں قتل کی اپیل عام طور پر تین جج سنتے ہیں، یہ تینوں جج مختلف ہائیکورٹس کے چیف جسٹس رہ چکے ہوتے ہیں، اس مقام پر انکا قانونی تجربہ ہی پینتیس سے چالیس سال ہوتا ہے۔
یہ تینوں حضرات کسی قاتل کی سزائے موت ختم کر کے عمر قید کر دیں تو عین ممکن ہے کہ آپکو یہ فیصلہ پسند نہ آئے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ انہوں نے پنجاب کے کسی دور دراز علاقے کے مجرم مِٹھو سے رشوت پکڑ لی ہے، ایک ملزم مقامی سیشن جج کو تو رام نہ کرسکا لیکن سپریم کورٹ کے اتنے بڑے تین جج بِک گئے؟ اس لیے ان پر لعن طعن کرنے کے بجائے آخری درجے میں اتنا خیال ضرور رکھنا چاہیئے کہ وہ ہم سے زیادہ قانون اور انصاف کے تقاضوں کو سمجھتے اور جانتے ہیں۔
نوٹ: عدلیہ کی کوئی عالمی رینکنگ نہیں ہے، یہ جو مشہور ہے یہ دراصل دنیا میں "قانون کی حکمرانی" کا انڈیکس ہے،
ایڈووکیٹ محمد رضوان