Senate of Justice Law Firm

Senate of Justice Law Firm From negotiation tables to courtroom battles, the Senate of Justice Law Firm is your steadfast ally in pursuit of legal resolution.

Let us champion your cause with skill and tenacity. Connect us now :
0345 7500872

یہ 8 جولائی 2022ء صبح ساڑھے گیارہ بجے کا وقت ہے۔ مقبول سیاسی رہنماء ایک انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے ہیں۔ اچانک پیچھے سے ...
25/01/2026

یہ 8 جولائی 2022ء صبح ساڑھے گیارہ بجے کا وقت ہے۔ مقبول سیاسی رہنماء ایک انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے ہیں۔ اچانک پیچھے سے ایک جوان نمودار ہوا اور گن سے دو گولیاں چلائیں، پہلی پر نشانہ چوک گیا لیکن دوسری گولی رہنماء کی گردن اور سینے پر لگی اور وہ گِر گئے۔ جوان نے مزاحمت نہیں کی، فوری گرفتار کر لیا گیا۔ سیاسی رہنماء کو فوری ہسپتال پہنچایا گیا لیکن خون کے زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے شام پانچ بجے دم توڑ گئے۔

تفتیشی اداروں نے قاتل سے تین سال سے زائد تک تفتیش کی جس کا خلاصہ یہی سامنے آیا کہ قاتل مقتول سیاسی رہنماء کے نظریات کا ذاتی طور پر شدید مخالف تھا، پیچھے کوئی اور سازش نہ تھی۔ بلآخر 25 اکتوبر 2025ء کو مقامی کورٹ میں قاتل کیخلاف مقدمہ شروع ہوا۔ ملزم نے قتل سمیت تمام الزامات قبول کرلیے۔ سرکاری وکلاء نے عمر قید جبکہ کہ ملزم کے وکلاء نے کم سزا کی استدعا کی۔ عدالت نے قاتل کو عمر قید کی سزا سنادی۔

رکیے! قاتل کے اقبال ِجرم کے باوجود مجرم کو پھانسی کے بجائے فقط عمر قید دینے پر اپنے ملک کی عدلیہ کو عالمی رینکنگ میں 130 درجے کا طعنہ دینے سے قبل جان لیں کہ یہ اس ملک کا کیس ہے، جو اس رینکنگ میں 15 ویں درجے پر فائز ہے۔ جی ہاں! یہ جاپان کے سابق وزیراعظم شینزو آبے کے مرڈر کیس کی کہانی ہے جس کا فیصلہ قتل کے ساڑھے 3 سال بعد 2 دن قبل ہی آیا ہے۔ یاد رہے ایسا نہیں ہے کہ جاپان میں سزائے موت پر پابندی ہے، ابھی چندہ ماہ قبل ہی ایک سیریل کِلر کو پھانسی دی گئی ہے۔

یہاں سلسلہ میں اگر کوئی ایسا کیس سامنے آئے کہ سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم کو سزائے موت کے بجائے عمر قید دیدی تو کچھ ایسے تبصرے آنے لگتے ہیں کہ یہ تو بہت ظلم ہے، یہ عمر قید تو قاتل کو بری کرنے والی بات ہے اور بعض سیدھا ججز کو گالم گلوچ پر اتر آتے ہیں۔ عدلیہ اور نظام انصاف کا دفاع مقصود نہیں البتہ کچھ لازمی وضاحت ضروری ہے۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت قتل عمد کی جو سزا بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ مجرم کو اول تو بطور قصاص قتل کیا جائے البتہ اس کے ثبوت کیلئے یا تو ملزم اقبالِ جرم کرے یا پھر شرعی نصاب کے مطابق گواہوں کے عادل و گناہ کبائر سے پاک ہونے جیسی انتہائی سخت قسم کی شرائط پوری کی جائیں، جو عام طور پر نہیں ہو پاتیں۔ اور اگر ایسی گواہی دستیاب نہ ہوسکے تو پھر تعزیر کے طور پر عدالت ملزم کو عمر قید یا سزائے موت بھی دے سکتی ہے۔ اب یہ عدالت پر منحصر ہے کہ کیس کے حالات و واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے کہاں سزائے موت دیتی ہے اور کہاں عمر قید۔ تقریبا یہی حکم فقہ اسلامی میں ہے۔

مثال کے طور پر ایک شخص سیریل کلر ہے، منصوبے سے کئی افراد کو وحشیانہ طریقے سے قتل کرچکا ہے جبکہ ایک دوسرے کیس میں ایک شخص کو ایک ایسے گھر سے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا جس کے اندر صرف مقتول کی لاش پڑی ہوئی ہے، اسکے علاوہ کوئی عینی شہادت نہیں ہے صرف واقعاتی شواہد ہیں۔ اب ان دونوں ہی قاتلوں کو سزائے موت دینا، شاید مناسب نہ ہو، اس لیے عدالت اول طرح کے کیسز میں سزائے موت اور دوسرے میں عمر قید سنا دیتی ہے۔

تو عزیزانِ من! ہر قتل کی سزا میں، ہر حال میں سزائے موت، کہیں بھی کسی بھی قانون میں نہیں ہے۔ سیشن کورٹ میں اگر ملزم گنہگار ثابت ہوجائے تو عموماََ سزائے موت ہی سنائی جاتی ہے اس خیال سے کہ اگر مجرم عمر قید کی رعایت کا مستحق ہوا بھی تو وہ فوری ملنے کے بجائے عرصہ بعد اوپر والی عدالت سے ملے۔ سپریم کورٹ میں قتل کی اپیل عام طور پر تین جج سنتے ہیں، یہ تینوں جج مختلف ہائیکورٹس کے چیف جسٹس رہ چکے ہوتے ہیں، اس مقام پر انکا قانونی تجربہ ہی پینتیس سے چالیس سال ہوتا ہے۔

یہ تینوں حضرات کسی قاتل کی سزائے موت ختم کر کے عمر قید کر دیں تو عین ممکن ہے کہ آپکو یہ فیصلہ پسند نہ آئے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ انہوں نے پنجاب کے کسی دور دراز علاقے کے مجرم مِٹھو سے رشوت پکڑ لی ہے، ایک ملزم مقامی سیشن جج کو تو رام نہ کرسکا لیکن سپریم کورٹ کے اتنے بڑے تین جج بِک گئے؟ اس لیے ان پر لعن طعن کرنے کے بجائے آخری درجے میں اتنا خیال ضرور رکھنا چاہیئے کہ وہ ہم سے زیادہ قانون اور انصاف کے تقاضوں کو سمجھتے اور جانتے ہیں۔

نوٹ: عدلیہ کی کوئی عالمی رینکنگ نہیں ہے، یہ جو مشہور ہے یہ دراصل دنیا میں "قانون کی حکمرانی" کا انڈیکس ہے،
ایڈووکیٹ محمد رضوان

عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے میں تاخیر = آپکو حق سے محرومی کر سکتا ⚖ہر مقدمہ، اپیل اور دعویٰ وقت کی ایک حد کے اندر دائر کرن...
20/01/2026

عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے میں تاخیر = آپکو حق سے محرومی کر سکتا ⚖
ہر مقدمہ، اپیل اور دعویٰ وقت کی ایک حد کے اندر دائر کرنا لازم ہوتا ہے۔

📌 چند نہایت اہم قانونی وقت جس کے اندر آپکو عدالت جانا ہوتا -

🔹 سول (دیوانی) اپیل (ڈسٹرکٹ کورٹ) — 30 دن
🔹 ہائی کورٹ میں پہلی اپیل — 90 دن
🔹 ہائی کورٹ میں دوسری اپیل — 60 دن
🔹 ریویژن (Revision) — 90 دن

💰 رقم کی وصولی / معاہدے کی خلاف ورزی — 3 سال
🏠 غیر منقولہ جائیداد کا قبضہ — 12 سال
📜 ڈگری کی تکمیل (Ex*****on) — 6 سال

📝 تحریری جواب (Written Statement)
عدالتی سمن کے بعد:
➡️ 30 دن (زیادہ سے زیادہ 90 دن تک توسیع)

🚗 موٹر ایکسیڈنٹ کلیم
❗ کوئی مخصوص حد نہیں، مگر تاخیر کیس کو کمزور کر سکتی ہے

⚠️ چیک ڈس آنر (سیکشن 138)
📨 قانونی نوٹس — 30 دن کے اندر
📄 مقدمہ — نوٹس کی 15 دن کی مدت ختم ہونے کے بعد 30 دن میں

📢 یاد رکھیں:
قانون مدد ضرور دیتا ہے، مگر سوئے ہوئے شخص کو نہیں جگاتا۔
وقت گزر جائے تو مضبوط سے مضبوط کیس بھی کمزور ہو جاتا ہے۔

15/01/2026

ایک پروفیشنل وکیل کے بنیادی اصول۔

1. آئے ہوئے کلائنٹ سے مہذب طریقے سے بات کریں اس سے کیس کی مطابق مکمل فیس طے کریں جس میں کوئی ہڈن چارجز نہ ہوں۔

2. فیس طے ہونے کی صورت میں اس سے پہلے وکالت نامہ سائن کرائیں اور طے شدہ فیس کا 50 فیصد وصول کرتے ہوئے اس کے کیس کو پورے دھیان سے سنیں اور بولتے ہوئے پوائنٹس نوٹ کریں، باقی فیس کا دورانیہ چھ ماہ کا رکھ لیں تاکہ کلائنٹ معاشی طور پر تکلیف میں نہ ائے۔

3. کیس داخل کرتے ہوئے اسکے مکمل قوائف کے ساتھ کیس بنا کر داخل کریں، خیال رکھیں کہ وہ کسی قانون قانونی نقطہ نظر سے ہٹ نہ ہو رہا ہو۔

4. اپنے کلائنٹ کو کھانا چائے وغیرہ اپنے پیسوں سے کھلائیں بصورت دیگر اپ اپنی پروفیشنل فیس کھو سکتے ہیں۔

5. اپنے کلائنٹ کے ساتھ کبھی سفر نہ کریں اور اپنی سواری پر سفر کو ترجیح دیں۔
(کیونکہ گولیاں جب چلتی ھیں تو گولی کی آنکھ نہیں ھوتی)

6. اپ کا کام صرف کیس میں محنت کرنا اور جج کے سامنے اپنے کلائنٹ کی جنگ لڑنا ہے عدالتی فیصلے کی بابت پہلے سے پیشنگوئی ہرگز نہ کریں۔

7. کلائنٹ کے معاملات کی بابت تھانے کبھی نہ جائیں اور نہ ہی تھانے جانا وکیل کا کام ہے صرف عدالتی امور کی حد تک کلائنٹ کے معاملات کو دیکھیں، کورٹ کا آرڈر کے کر خود تھانے پہنچ جانا وکیل کا کام نہیں کیونکہ عدالت آرڈر اسی دن کورٹ محرر کے ذریعے تھانہ کو پہنچادیتی ھے۔ جس پر عمل کرنا تھانہ کی ذمہ داری ہے اگر اسٹیشن ہاؤس افیسر اس پر عمل نہیں کرتا تو اس پہ توہین عدالت کی جا سکتی ہے یا اسے عدالت میں پیش کروایا جا سکتا ہے۔ اس لیے بیلف، منشی یا کورٹ محرر نہ بنے وکیل بنے اور اپنی عزت کروائیں۔

8. کیس چاہے اپ ہار جائیں مگر اپ نے اگر سائل کا کیس محنت سے لڑا ہوا تو اپ ذہنی طور پر پرسکون رہیں گے۔

9. اپنے سے سینیئر وکلا اور مخالف وکیل کی عزت اور جونئیر وکلاء سے شفقت سے پیش آئیں۔

10. عدالت اور جج کا احترام ایک پروفیشنل وکیل کی اولین ترجیح ہوتی ہے، لحاظہ بے وجہ ججز سے نہ الجھیں، اگر جج مس کنڈکٹ کررہا ھے تو اس کے خلاف چیف جسٹس کو بذریعہ میمبر انسپیکشن ٹیم۔2 کے پاس تحریری شکایت بمعہ حلف نامہ لگائیں، جس میں مس کنڈکٹ کی وجہ،اس کے ثبوت درخواست کے ساتھ متصل کرئیں۔ بے وجہ ججز کو ھدف تنقید یا اپنی غلطی, کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے نہ عدالت کو موروز الزام ٹھہرائیں نا جج کے خلاف جھوٹی درخواست دے کر ججز کا مورال ڈاؤن کریں۔ کیونکہ فیصلے خود بولتے ھیں۔ کہ وہ انصاف پر مبنی ھیں یا ناقص العقلی، ناقص العلمی یا بدنیتی پر مبنی ھیں۔ا

توہین کا ایک تازہ کیس کیسے بنایا گیا۔10 تاریخ کو پنجاب بھر میں وکلا کے ضلعی بارز کے الیکشن تھے۔ ہماری تاریخ ہے کہ الیکشن...
12/01/2026

توہین کا ایک تازہ کیس کیسے بنایا گیا۔
10 تاریخ کو پنجاب بھر میں وکلا کے ضلعی بارز کے الیکشن تھے۔ ہماری تاریخ ہے کہ الیکشن چاہے وکلا کے ہوں، صحافیوں کے یا ڈاکٹرز کے، ہلڑ بازی، تنازع، تلخ کلامی، مدمقابل گروہوں میں چپقلش رہتی ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ الیکشن پرامن ماحول میں ہونا چاہئے۔ لیکن افسوس کہ مجموعی طور پر ماحول بہتر نہیں رہتا۔
10 تاریخ کو میاں چنوں بار میں ووٹنگ کے دوران تنازع ہوا۔ کسی ایک پارٹی کے کارندے/کارندوں نے ووٹر پرچیاں پھاڑ کر پھینک دیں۔ دوسری پارٹی نے پکڑے جانے والے بندے کے ساتھ جہاں موقع پر "انصاٖف" (تشدد) کیا، وہیں اس کیخلاف ایف آئی آر بھی درج کروائی۔ میں نے تنازع کے بعد متاثرہ فریق (وکلا) کی پولیس آفیشلز کے ساتھ گفتگو کی ویڈیو دیکھی۔ وہ ایف آئی آر میں توہین کی دفعات لگانے کا بھی اصرار کر رہے تھے۔ کہ جن ووٹر پرچیوں کو پھاڑا گیا ان پر ووٹرز کے نام لکھے ہوئے تھے جن میں "محمد، علی، فاروق اور فاطمہ" کے نام بھی شامل تھے۔ پولیس آفیشلز پہلے تو اس ایف آئی آر میں توہین کی دفعہ شامل کرنے پر راضی نہ تھے لیکن دباؤ کے آگے ہتھیار ڈال دیے کہ وکلا احتجاج کرنا شروع ہو گئے تھے اور دھرنا دے دیا تھا۔
مجھے بتائیے، ایک سادہ الیکشن کے تنازعے پر آپ کسی شخص یا مخالف گروہ کو توہین کا مرتکب کیسے قرار دے سکتے ہیں؟ کیا یہ معاملہ اتنا ہی آسان ہو گیا ہے کہ صرف مخالف فریق کو زیادہ رگڑا لگوانے کیلئے توہین کی سخت دفعات لگوا دی جائیں یہ دیکھے بغیر کہ کسی کی ایسا کرنے کی نیت تھی بھی یا نہیں؟ کیا اس ملک میں اکثریت مسلمان نہیں؟ کیا توہین کے قانون کو اس طرح استعمال کر کے ہم لوگ خود دنیا کو اس قانون پر تنقید کا موقع نہیں دے رہے؟ کیا توہین کے مرتکب ملزمان کے والدین اور متاثرین کا موقف درست ہے کہ ان کے بچوں کی خدانخواستہ توہین کرنے کی نیت نہیں تھی، انہیں ٹریپ کیا گیا۔ کیا ہم اپنی معمول کی لڑائی یا تنازعہ میں اصل مدعیٰ پر رہیں گے یا معاملے کو گھوم پھر کر توہین کا رنگ دے کر مخالف کو معاذ اللہ گستاخ رسول یا گستاخ قرآن و مذہب قرار دلوانے کی کوشش کریں گے اور اس قانون کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کریں گے؟ کیا آپ کو خدا و رسول کا ذرہ بھر خوف نہیں؟ کہ وہ تو سب جانتے ہیں کہ معاملہ اصل میں ہے کیا تھا اور آپ نے اسے کیا رنگ دے دیا۔ کیا آپ کو مرنے کے بعد اس بابت پوچھے جانے سے متعلق کوئی ڈر نہیں کہ پوچھا جائے کہ باقی گناہ بھی ہیں لیکن تمہیں ذرا بھر شرم نہ آئی کہ خالص اپنی لڑائی میں ہمارے ناموں کو شامل کر لیا۔
میں یہ نہیں کہتا کہ الیکشن کے اس واقعہ کی ایف آئی آر درج نہ ہوتی۔ اگر قابل دست اندازی پولیس کیس بنتا ہے تو ضرور ایف آئی آر درج ہونی چاہیے، لیکن الیکشن کے اس تنازع پر مخالف فریق پر توہین کا الزام۔۔۔۔۔۔۔۔؟
میری جیب سے ابھی سو اور دس کا ایک نوٹ نکلا ہے۔ ان نوٹوں پر احمد، رضا اور باقر کے نام لکھے ہیں۔ پہلا نام نبی پاک کا صفاتی نام ہے۔ دوسرے نام امام رضا اور امام باقر کے ناموں پر۔ آپ لوگ شادی بیاہ، محفل نعت، تقریبات، ناچنے گانے والوں، والیوں پر نوٹ پھینکتے ہیں۔ یہ نام زمین پر گرتے ہیں، پاؤں تلے روندے جاتے ہیں۔ توہین کے پرچے کروائیں؟
۔

وزیر آباد کے رہائشی عون محمد نے گذشتہ اپریل میں ایک خاتون کے ساتھ شادی کی۔ شادی کے بعد میاں بیوی کے تعلقات خراب رہنے لگے...
05/01/2026

وزیر آباد کے رہائشی عون محمد نے گذشتہ اپریل میں ایک خاتون کے ساتھ شادی کی۔ شادی کے بعد میاں بیوی کے تعلقات خراب رہنے لگے۔ بیوی کے بقول شوہر نے اسے مجبور کرتا کہ وہ اس کے ساتھ غیر فطری جنسی فعل (لواطت) کرے، بیوی نے منع کیا تو شوہر زبردستی کئی دفعہ یہ عمل بیوی کے ساتھ کر گزرا۔ اس دوران شوہر نے بیوی کی نازیبا تصاویر اور وڈیوز بھی بنا لیں۔

بیوی نے جب شوہر کو اس غیر فطری فعل سے روکنے میں مزاحمت کی تو اس نے بیوی کو بلیک میل کرنا شروع کردیا کہ اگر تم نے انکار کیا یا کسی کو بتایا تو میں تمہاری یہ تصاویر اور وڈیوز سوشل میڈیا پر اپلوڈ کردوں گا۔ بیوی نے تنگ آکر شوہر کیخلاف لواطت کے ذریعے ریپ کی ایف آئی آر درج کروادی۔ پولیس نے خاتون کا میڈیکل کروایا جس سے الزام ثابت نہ ہوسکا، ڈی این اے کروایا گیا تو وہ بھی منفی آیا۔

شوہر نے گرفتاری سے بچنے کیلئے سیشن کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کی جو خارج ہوگئی، جس کے بعد اس نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ یہاں سائل عون محمد کے وکیل نے دلائل دیے کہ مقدمہ، میاں بیوی کے گھریلو جھگڑوں کا نتیجہ اور بدنیتی پر مبنی ہے، نیز یہ کہ اس رشتے میں اس غیر فطری عمل کا الزام مشکوک ہے۔ مدعی فریق کو سننے کے بعد جسٹس محمد طارق ندیم نے ضمانت کا فیصلہ تحریر کیا۔

عدالت نے فیصلے میں سب سے پہلے احادیث نبویہ نقل کیں کہ بیوی کے ساتھ ایسا غیرفطری عمل قانون ہی شرعاََ بھی ممنوع ہے۔ کیس کی تفصیلات میں جانے سے قبل واضح کیا درخواست ضمانت کے اس مرحلے پر موجود شواہد کی گہرائی نہیں صرف سرسری جائزہ لیا جائےگا۔

عدالت نے لکھا کہ خاتون کے مطابق آخری دفعہ یہ فعل جون کے مہینے میں ہوا لیکن اس نے وقوعے کو دو ماہ کی تاخیر سے 17 اگست کو پولیس کو رپورٹ کیا، مزید یہ کہ خاتون نے اس سے قبل کسی فورم پر خود کو ہراساں کیے جانے کی شکایت نہیں کی، یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایف آئی آر سوچ سمجھ، کسی سے مشورہ کرکے اور کسی دیگر مقصد کے حصول کیلئے درج کروائی گئی ہے۔ سب سے اہم وجہ عدالت نے یہ بیان کی کہ شوہر کا بیوی سے لواطت کے ارتکاب کی تصدیق صرف میڈیکل شہادت سے ہوسکتی ہے اور اس کیس میں میڈیکل رپورٹس خاتون کے موقف کی نفی کر رہی ہیں، جس سے الزام کے سچ ثابت ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ہائیکورٹ نے سائل عون محمد کی درخواست ضمانت پانچ لاکھ روپے کے ضمانت نامے کے عوض منظور کرلی۔

رانا علی رضا

یہ لاہور ہائیکورٹ کا ایک ایسا منفرد اور دور رس فیصلہ ہے جہاں قانون کی باریک بینیوں نے ایک شخص کو سنگین فوجداری مقدمے سے ...
25/12/2025

یہ لاہور ہائیکورٹ کا ایک ایسا منفرد اور دور رس فیصلہ ہے جہاں قانون کی باریک بینیوں نے ایک شخص کو سنگین فوجداری مقدمے سے بچا لیا۔ اس کیس کی کہانی کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں، جس کا آغاز ایک "لائیو ان ریلیشن شپ" سے ہوا اور انجام ہائیکورٹ کے ایک تاریخی فیصلے پر ہوا۔
​واقعات کے مطابق ایک خاتون اور مرد پہلے سے باہمی رضامندی کے تعلق میں تھے، جس کے بعد انہوں نے اپریل 2024 میں باقاعدہ نکاح کر لیا۔ کہانی میں موڑ تب آیا جب خاتون کو پتہ چلا کہ اس کا شوہر پہلے سے شادی شدہ اور بچوں والا ہے۔ اس انکشاف نے گھر میں جھگڑے کی بنیاد رکھی اور بات یہاں تک پہنچی کہ شوہر نے اکتوبر 2024 میں تحریری طور پر طلاق دے کر اس کا نوٹس یونین کونسل کو بھجوا دیا۔
​اصل ڈرامائی صورتحال طلاق کے نوٹس کے محض تین دن بعد پیش آئی۔ خاتون نے پولیس کو دی گئی درخواست میں لرزہ خیز دعویٰ کیا کہ اس کا شوہر اپنے ایک مسلح ساتھی کے ہمراہ رات کے وقت زبردستی گھر میں داخل ہوا اور گن پوائنٹ پر اس کے ساتھ زیادتی کی۔ خاتون کا موقف سادہ مگر سنگین تھا: چونکہ شوہر اسے تین دن پہلے طلاق دے چکا تھا، اس لیے اب ان کا رشتہ ختم ہو چکا تھا اور یہ فعل "زنا بالجبر" کے زمرے میں آتا تھا۔ اسی بنیاد پر رحیم یار خان پولیس نے شوہر کے خلاف دفعہ 376 کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
​جب یہ معاملہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ کے سامنے پہنچا تو انہوں نے قانون کی روح کو سامنے رکھا۔ شوہر کا دفاع یہ تھا کہ اس نے طلاق کا نوٹس ضرور بھیجا تھا، لیکن 90 دن کی قانونی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی دسمبر 2024 میں اس نے یونین کونسل کو رجوع (طلاق کی واپسی) کا نوٹس دے دیا تھا۔
​عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 7 کے تحت، طلاق نوٹس ملنے کے 90 دن بعد ہی موثر ہوتی ہے۔ اس 90 دن کی مدت کے دوران فریقین قانونی طور پر میاں بیوی ہی رہتے ہیں اور شوہر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی وقت طلاق واپس لے لے۔ عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ مبینہ واقعہ طلاق کے صرف تین دن بعد کا تھا، اس وقت تک طلاق قانونی طور پر نافذ ہی نہیں ہوئی تھی، لہذا میاں بیوی کے درمیان اس تعلق کو زیادتی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
​جسٹس طارق سلیم شیخ نے فیصلے میں گناہ اور جرم کے درمیان لکیر کھینچتے ہوئے ریمارکس دیے کہ شوہر کا طرز عمل اخلاقی طور پر غلط ہو سکتا ہے، لیکن جب تک میاں بیوی کا قانونی رشتہ برقرار ہے، اسے ریپ کے مقدمے میں سزا نہیں دی جا سکتی۔ اسی قانونی نکتے کی بنیاد پر عدالت نے شوہر کے خلاف درج ایف آئی آر کو بدنیتی پر مبنی قرار دے کر خارج کر دیا اور واضح کیا کہ یونین کونسل کا طلاق سرٹیفکیٹ جاری کرنا محض ایک تکنیکی کارروائی ہے، اصل اہمیت 90 دن کی مدت اور رجوع کے حق کی ہے۔

25/12/2025

زمین کے ریکارڈ میں کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر اور دیگر اصطلاحات — آسان الفاظ میں

ذیل میں زمین کے ریکارڈ میں استعمال ہونے والی اہم اصطلاحات کو قدرے مختلف انداز میں بیان کیا جا رہا ہے تاکہ تحریر نقل شدہ نہ لگے، مگر مفہوم برقرار رہے:

1- موضع:
موضع زمین کے ریکارڈ کا بنیادی اور بڑا یونٹ ہوتا ہے۔ عام طور پر ایک بڑے گاؤں یا چند چھوٹے دیہات کو ملا کر ایک موضع تشکیل دیا جاتا ہے۔ موضع کا نام عموماً اسی گاؤں یا علاقے کے نام پر رکھا جاتا ہے۔

2- کھیوٹ نمبر:
جب کسی موضع میں مختلف خاندانوں اور افراد کی زمین شامل ہوتی ہے تو اس زمین کو منظم کرنے کے لیے کھیوٹ نمبر الاٹ کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی خاندان کے پاس ایک ہی موضع میں سو ایکڑ زمین ہو تو اسے ایک مخصوص کھیوٹ نمبر دے دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات مختلف افراد یا خاندانوں کی مشترکہ زمین بھی ایک ہی کھیوٹ میں شامل ہوتی ہے۔ زمین کی خرید و فروخت یا دیگر تبدیلیوں کی صورت میں کھیوٹ نمبر تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔

3- کھتونی نمبر:
ایک ہی کھیوٹ میں کئی مالکان ہو سکتے ہیں، کسی کے پاس کم رقبہ اور کسی کے پاس زیادہ۔ ہر مالک کے حصے کی پہچان کے لیے کھتونی نمبر دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک کھیوٹ میں دس ایکڑ زمین ہو اور دو مالکان کے پاس پانچ پانچ ایکڑ ہوں تو دونوں کو الگ الگ کھتونی نمبر ملیں گے۔ یہ نمبر بھی لین دین یا تقسیم کی صورت میں بدل سکتا ہے۔

4- خسرہ نمبر:
کھتونی میں شامل زمین کو مزید چھوٹے حصوں یعنی کھیتوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، اور ہر کھیت کو خسرہ نمبر دیا جاتا ہے۔ خسرہ نمبر عموماً مستقل ہوتا ہے اور فروخت کے باوجود تبدیل نہیں ہوتا۔ اسی نمبر کے ساتھ کھیت کی حدود، لمبائی اور چوڑائی بھی درج ہوتی ہے۔

5- مساوی (شجرہ):
یہ موضع کا نقشہ ہوتا ہے جس میں کھیتوں کی جگہ، راستے، نہریں اور دیگر تفصیلات دکھائی جاتی ہیں۔ یہ نقشہ عام طور پر پٹواری کے پاس کپڑے پر بنا ہوتا ہے جسے لٹھا کہا جاتا ہے۔

6- جمعبندی:
جمعبندی وہ رجسٹر ہے جس میں موضع، کھیوٹ، کھتونی اور خسرہ نمبر کے مطابق زمین کی مکمل تفصیل درج ہوتی ہے۔ اس میں یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ زمین کا مالک کون ہے اور کاشت کون کر رہا ہے، خود یا مزارع کے ذریعے۔ زمین کی فرد اسی ریکارڈ کی بنیاد پر جاری کی جاتی ہے۔

7- گردآوری:
گردآوری میں اس بات کا اندراج ہوتا ہے کہ کسی زمین پر اس وقت کون سی فصل کاشت کی گئی ہے یا کی جا رہی ہے۔ یہ اندراج بھی پٹواری کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

اہم ہدایت:
زمین خریدتے وقت ہمیشہ مخصوص خسرہ نمبر کی فرد کی بنیاد پر خریداری کریں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص دو ایکڑ زمین کا مالک ہو اور وہ زمین مختلف خسرہ نمبرز میں تقسیم ہو، تو صرف کھیوٹ کی بنیاد پر خریدنے سے بعد میں تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر آپ اپنی پسند کے خسرہ نمبر کی فرد لیں گے تو وہی مکمل رقبہ قانونی طور پر آپ کے نام منتقل ہوگا۔ بصورت دیگر مستقبل میں وراثتی یا قبضے کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
اس لیے زمین خریدنے سے پہلے ریکارڈ اچھی طرح جانچ لینا ہمیشہ فائدے میں رہتا ہے۔

صدیق گھمن نامی ایک شہری کی فیس بک پر "شازیہ سعید" نامی دوشیزہ سے دوستی ہوگئی۔ باتوں باتوں میں شازیہ نے صدیق صاحب سے نیا ...
08/12/2025

صدیق گھمن نامی ایک شہری کی فیس بک پر "شازیہ سعید" نامی دوشیزہ سے دوستی ہوگئی۔ باتوں باتوں میں شازیہ نے صدیق صاحب سے نیا موبائل فون گفٹ کرنے کا مطالبہ کردیا۔ گھمن صاحب کہا یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، تم اپنا ایڈریس بھیجو میں ابھی بھجواتا ہوں۔ شازیہ نے کہا "گھمن تو مروائے گا، میرے گھر موبائل بھجوا کر، یوں کر کہ فلاں TCS کے دفتر کورئیر کروادے میں خود وہاں سے ریسیو کرلوں گی"۔ گھمن صاحب نے نیا OPPO کا فون خریدا اور TCS کی "سیلف کولیکشن" سروس لی کہ یہ موبائل TCS آفس سے صرف شازیہ کو دیا جائے، اسکے عوض گھمن نے موبائل کے انشورنس چارجز بھی ادا کیے۔
چند روز بعد شازیہ نے صدیق گھمن کو فیس بک پر میسج کرکے بتایا کہ مجھے موبائل مل گیا ہے۔ لیکن اس کے بعد رابطہ شابطہ ختم۔۔۔۔کوئی رپلائی نہیں اور بالآخر گھمن صاحب بلاکڈ۔

گھمن نے ہمت نہیں ہاری، TCS سے رابطہ کیا کہ تم نے شازیہ کو موبائل دیا تھا تو اسکا کوئی اتہ پتہ ہوگا وہ مجھے دیا جائے۔ TCS والوں نے ریکارڈ دیکھ کر بتایا کہ ہمارے پاس تو شازیہ نہیں بلکہ عامر نامی لڑکا آیا تھا کہ میں شازیہ کا بھائی ہوں، بہن دفتر نہیں آسکتی تو موبائل مجھے ریسیو کروا دیا جائے، ہم نے کروا دیا۔ گھمن اس پر تپ گیا کہ جب میں نے 'سیلف کولیکشن' سروس لیتے وقت یہ تاکید کہ تھی موبائل صرف شازیہ کو ہی دیا جائے تو پھر تم نے کسی اور کو کیوں دیا؟ گھمن نے TCS کو لیگل نوٹس بھجوا دیا۔

اس پر TCS نے شازیہ کے "بھائی" عامر کو پکڑا۔ جلد ہی عامر نے بتا دیا کہ "میں ہی 'شازیہ سعید' ہوں، میں نے ہی اس نام کی فیک آئی ڈی سے گھمن کو گھیرا اور موبائل منگوایا، یہ پکڑیں موبائل اور گھمن کو واپس کردیں"۔ کمپنی نے موبائل واپس کرنے کیلئے گھمن سے رابطہ کیا۔ ٹوٹے ہوئے دل کے گھمن کو مزید غصہ آگیا، گھمن نے کمپنی سے موبائل کے علاوہ 24 ہزار روپے ہرجانے کا مطالبہ کر دیا کہ یہ کمپنی کی غلطی ہے، "سیلف کولیکشن" سروس کے تحت کمپنی صرف "شازیہ" کو موبائل دینے کی مجاز تھی، اگر وہ نہیں آئی تو موبائل مجھے واپس بھجوایا جاتا۔ کمپنی نے ہرجانہ دینے سے انکار کیا کہ غلطی تمہاری ہے جو تم نے ایک فیک نام کی آئی ڈی پر موبائل بھجوایا۔

صدیق گھمن نے کنزیومر کورٹ میں مقدمہ دائر کردیا، عدالت نے مکمل ٹرائل کے بعد TCS کمپنی کو 24 ہزار انشورنس ہرجانے کے علاوہ مزید ایک لاکھ روپے گھمن صاحب کو ادا کرنے کا حکم دیا کہ گھمن کا جائز مطالبہ پورا نہ کرنے پر اسے مقدمہ کرنا پڑا۔ کمپنی نے فیصلے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کردی، یہاں صدیق گھمن نے اپنا مقدمہ خود لڑا اور اپنے ساتھ ہوئی زیادتی ثابت کی۔ ہائیکورٹ نے کمپنی کی اپیل خارج کرتے ہوئے کنزیومر کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

یوں گھمن کو شازیہ تو نہ مل سکی، البتہ سوا لاکھ ہرجانہ مل گیا۔

سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے عہدوں سے استعفی دے دیا۔۔۔
13/11/2025

سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے عہدوں سے استعفی دے دیا۔۔۔

Article 243 changes approved, 27th Amendment draft.This is the called  "Rajjtanter".
10/11/2025

Article 243 changes approved, 27th Amendment draft.
This is the called "Rajjtanter".

08/11/2025

‏⬅️27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 کا مسودہ سامنے آگیا

⬅️آئینی ترمیم کے مسودے میں 48 آرٹیکلز میں مختلف ترامیم تجویز

⬅️ترمیم کے ذریعے "فیڈرل کونسٹی ٹیوشنل کورٹ" کے قیام کی تجویز

⬅️سپریم کورٹ سے علیحدہ نئی "وفاقی آئینی عدالت" قائم کرنے کی شق

⬅️وفاقی آئینی عدالت کا صدر مقام اسلام آباد ہوگا

⬅️چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی مدتِ ملازمت تین سال مقرر

⬅️وفاقی آئینی عدالت کے جج 68 برس کی عمر میں ریٹائر ہوں گے

⬅️آئینی عدالت کو وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات سننے کا اختیار

⬅️آئینی عدالت کو آئینی تشریح اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات کا دائرہ اختیار

⬅️آئین کے آرٹیکل 184 کو ختم کرنے کی تجویز

⬅️آرٹیکل 175 میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی ترمیم

⬅️سپریم کورٹ کی آئینی اختیارات محدود، نئی عدالت کو منتقل

⬅️آرٹیکل 175A میں ججز تقرری کے لیے نیا طریقہ کار تجویز

⬅️جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ دونوں کے چیف جسٹس شامل

⬅️وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے فیصلے ایک دوسرے پر لازم نہیں ہوں گے

⬅️آرٹیکل 189 میں ترامیم، آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں پر لازم

⬅️سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیلِ نو، دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس بطور ارکان

⬅️آرٹیکل 243 میں ترامیم — چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم

⬅️آرمی چیف کو "چیف آف ڈیفنس فورسز" کا اضافی عہدہ دیا گیا

⬅️"فیلڈ مارشل" کو قومی ہیرو کا درجہ دینے اور تاحیات مراعات دینے کی تجویز

⬅️آرٹیکل 93 میں ترمیم، وزیرِاعظم کو سات مشیروں کی تقرری کا اختیار

⬅️آرٹیکل 130 میں ترمیم، وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں اضافہ

⬅️آرٹیکل 206 میں ترمیم، سپریم کورٹ یا آئینی عدالت میں تقرری سے انکار پر جج ریٹائر تصور

⬅️آرٹیکل 209 میں ترمیم، سپریم جوڈیشل کونسل کے نئے قواعد 60 دن میں بنانے کی شرط

⬅️آرٹیکل 175B سے 175L تک نیا باب شامل — وفاقی آئینی عدالت کے اختیارات و طریقہ کار

⬅️آرٹیکل 176 تا 183 میں ترامیم، سپریم کورٹ کے حوالے سے اصطلاحات کی تبدیلی

⬅️آرٹیکل 186 اور 191A حذف کرنے کی تجویز

⬅️آئینی عدالت کا ایڈوائزری دائرہ کار بھی متعین کیا جائے گا۔

Address

Office No 84 Tahir Wattoo Block District Court Multan
Multan
66000

Telephone

+923317400873

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Senate of Justice Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share