Motivated Lawyers

Motivated Lawyers Law is the protection for every citizen For this mentioned purpose, page has been created. Thank you.

Team "Language of Law" is working on the basics of law to make an ease way to learn the law for junior lawyers as well as common public. Stay in touch and inbox is always open to ask the queries at any time, your suggestions always would be welcomed.

*اسٹیٹ بینک نے پاکستانی بینکوں میں کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دے دی**کرپٹو اکاؤنٹس کھولنے سے متعلق اسٹیٹ بینک ...
16/04/2026

*اسٹیٹ بینک نے پاکستانی بینکوں میں کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دے دی*

*کرپٹو اکاؤنٹس کھولنے سے متعلق اسٹیٹ بینک نے سرکولر جاری کردیا۔اسٹیٹ بینک کے مطابق اپریل 2018 میں جاری کیا گیا وہ نوٹیفکیشن جس کے تحت کرپٹو اکاؤنٹس کھولنے پر پابندی عائد تھی، اب واپس لے لیا گیا ہے۔حکام کے مطابق نئے اقدام کا مقصد مالیاتی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینا ہے۔مزید کہا گیا کہ ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2026 کے تحت پاکستان میں ایک ریگولیٹری اتھارٹی بھی قائم کر دی گئی ہے، جو کرپٹو کرنسی اور دیگر ورچوئل اثاثوں کی نگرانی کرے گی۔ فیصلے سے پاکستان میں ڈیجیٹل فنانس کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری اور جدت کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔*

12/04/2026

جعلی ڈگریوں پر پلنے والے نام نہاد وکیلوں کا کڑا وقت شروع ہو گیا ہے، پنجاب بار کونسل نے قانونی نظام کی صفائی کے لیے بڑا قدم اٹھا لیا!
پنجاب بار کونسل نے ایک تاریخی حکم جاری کیا ہے جس کے تحت اب صرف وہی وکیل عدالتوں میں کھڑے ہو سکیں گے جن کی ڈگریاں سو فیصد اصل ثابت ہوں گی۔ کونسل نے واضح کر دیا ہے کہ اب محض ڈگری دکھا دینا کافی نہیں بلکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے اس کی تصدیق کروانا ہر وکیل کے لیے لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ جو وکیل پہلے سے انرول ہیں اور ان کی ڈگریاں مشکوک جامعات سے ہیں، انہیں دوبارہ تصدیق کے عمل سے گزرنا ہوگا۔ کونسل نے متعلقہ کمیٹی کو پابند کیا ہے کہ وہ 15 دن کے اندر ان تمام افراد کی فہرست تیار کرے جنہوں نے جعلی دستاویزات پر لائسنس حاصل کیے۔ نئے لائسنس کے حصول کے لیے بھی اب HEC کی تصدیق کے بغیر کوئی فائل قبول نہیں کی جائے گی۔ یہ فیصلہ ان لوگوں کے لیے ایک وارننگ ہے جو پیسے کے بل بوتے پر وکیل بننے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ بار کونسل کا مقصد اب صرف ان لوگوں کو لائسنس دینا ہے جو میرٹ پر وکیل بن کر آئے ہیں۔
کچھ عرصے سے پنجاب بار کونسل کے علم میں یہ بات آ رہی تھی کہ کچھ لوگ مشکوک اور جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر وکالت کے لائسنس حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب کونسل نے اس معاملے کی گہرائی سے جانچ پڑتال کی تو انکشاف ہوا کہ آزاد جموں و کشمیر، سندھ اور کراچی کی چند مخصوص یونیورسٹیوں کے نام پر بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کی جا رہی ہے۔ حتیٰ کہ کچھ ایسی ڈگریاں بھی سامنے آئیں جو پہلے "تصدیق شدہ" کہلائی گئی تھیں لیکن باریک بینی سے معائنے پر وہ بھی جعلی نکلیں۔ اس خطرناک صورتحال کو دیکھتے ہوئے پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی نے ایک ہنگامی آرڈر جاری کیا ہے تاکہ قانونی پیشے کے تقدس کو بچایا جا سکے۔
کچھ مخصوص جامعات بشمول آزاد جموں و کشمیر (میرپور)، الخیر یونیورسٹی، شاہ عبداللطیف یونیورسٹی اور کراچی یونیورسٹی کی ڈگریوں کو خصوصی طور پر مشکوک قرار دے کر دوبارہ چیک کیا جائے گا۔
پنجاب بار کونسل اب کسی بھی وکیل کو لائسنس جاری نہیں کرے گی جب تک اس کی ایل ایل بی (LL.B) ڈگری براہِ راست HEC سے ویریفائیڈ نہ ہو جائے۔
اینٹی کرپشن کمیٹی کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ان تمام "وکیلوں" کے خلاف کارروائی کرے جنہوں نے غلط بیانی کر کے بار کونسل کو دھوکہ دیا۔
جو وکلاء اپنی اصل اور تصدیق شدہ دستاویزات پہلے ہی جمع کروا چکے ہیں، ان کے لائسنس اب بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر جاری کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عوام کے لیے اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ اب انہیں عدالتوں میں "جعلی وکیلوں" کے ہاتھوں لٹنے کا ڈر نہیں رہے گا۔ جب قانونی نظام میں صرف پڑھے لکھے اور اصل وکیل ہوں گے تو انصاف کی فراہمی میں تیزی آئے گی اور سائلین کا وکلاء پر اعتماد بڑھے گا۔ یہ فیصلہ اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ ایک جعلی ڈگری والا شخص کسی کی زندگی یا جائیداد کا فیصلہ درست طریقے سے نہیں لڑ سکتا۔
قانونی نظام کی یہ "سرجری" بہت پہلے ہو جانی چاہیے تھی، لیکن کیا صرف ڈگری کی تصدیق کافی ہے یا ان "کالی بھیڑوں" کو جیل بھی بھیجا جائے گا جنہوں نے سالوں تک عوام کو بیوقوف بنایا؟
کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان کے عدالتی نظام میں بہتری آئے گی یا بااثر لوگ پھر بھی بچ نکلیں گے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔

محمد عمیر جٹ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
📞 03008862146

اسٹمپ ڈیوٹی کے حوالے سے اہم نوٹیفکیشن اس سرکاری نوٹیفیکیشن (دی پنجاب گزٹ، 10 اپریل 2026) کا اردو میں مختصر خلاصہ درج ذیل...
10/04/2026

اسٹمپ ڈیوٹی کے حوالے سے اہم نوٹیفکیشن
اس سرکاری نوٹیفیکیشن (دی پنجاب گزٹ، 10 اپریل 2026) کا اردو میں مختصر خلاصہ درج ذیل ہے:
اس آرڈیننس کا بنیادی مقصد سٹیمپ ڈیوٹی (Stamp Duty) کے نظام کو سادہ بنانا اور شہری و دیہی علاقوں کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے۔
اہم نکات:
نئی اصطلاح کا تعارف: قانون میں "Assignable Deed" کی اصطلاح شامل کی گئی ہے، جس کا مطلب ایسا دستاویز ہے جس کے ذریعے کوئی شخص غیر منقولہ جائیداد (زمین، گھر وغیرہ) کے حقوق یا مفادات کسی دوسرے کے نام منتقل کرتا ہے۔
یکساں سٹیمپ ڈیوٹی: پہلے شہری علاقوں میں سٹیمپ ڈیوٹی 1% اور دیہی علاقوں میں 3% تھی، جسے اب ختم کر کے دونوں جگہوں (شہری اور دیہی) کے لیے یکساں 1% مقرر کر دیا گیا ہے۔
وقت کے لحاظ سے شرح:
اگر جائیداد کی منتقلی 12 ماہ کے اندر ہو تو سٹیمپ ڈیوٹی 1% ہوگی۔
اگر یہ منتقلی 12 ماہ کے بعد ہو تو شرح 2% ہوگی۔
مقصد: اس تبدیلی کا مقصد جائیداد کی خرید و فروخت کے اخراجات کو کم کرنا، قانونی پیچیدگیوں اور مقدمہ بازی سے بچنا، اور ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
مختصراً یہ کہ اب پنجاب بھر میں جائیداد کی منتقلی پر سٹیمپ ڈیوٹی کی شرح برابر کر دی گئی ہے تاکہ دیہی اور شہری علاقوں کا امتیاز ختم ہو سکے۔

📢 ٹیکس سال 2026 — ابھی پلاننگ کریں اور اپنی سیلری بہتر بنائیںاگر آپ ایک سیلریڈ فرد ہیں تو ابھی اپنے Finance یا HR ڈیپارٹ...
09/04/2026

📢 ٹیکس سال 2026 — ابھی پلاننگ کریں اور اپنی سیلری بہتر بنائیں

اگر آپ ایک سیلریڈ فرد ہیں تو ابھی اپنے Finance یا HR ڈیپارٹمنٹ کو آگاہ کریں تاکہ اپریل سے جون 2026 تک آپ کے advance tax کو تنخواہ میں ایڈجسٹ کیا جا سکے۔ اکثر لوگ اپنی اصل ٹیکس لائیبیلٹی سے زیادہ ٹیکس ادا کر دیتے ہیں، جس کا ریفنڈ بعد میں Federal Board of Revenue سے حاصل کرنا مشکل اور وقت طلب ہوتا ہے۔

اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے تمام adjustable taxes جیسے بین الاقوامی ٹرانزیکشنز، موبائل و انٹرنیٹ بلز، بینک منافع، گاڑی اور جائیداد سے متعلق ٹیکس کو ٹریک کریں اور ان کے سالانہ سرٹیفیکیٹس حاصل کر کے اپنے ایمپلائر کو فراہم کریں۔

⏳ ستمبر کے رش کا انتظار نہ کریں—آج ہی ایکشن لیں تاکہ آئندہ مہینوں میں آپ کی نیٹ سیلری بہتر ہو سکے۔
M.Umair Jutt Advocate 🖊️
03008862146

09/04/2026

رائے دیں ، ،معزز لاھور ھائیکورٹ نے ھماری کوششوں سے بائیومیٹرک ویریفیکیشن میں درج زیل تبدیلی کی ھے ،،کیا آپ اس سے مطمئن ھیں یا نہیں ، اگر نہیں تو کیا بہتر ھو سکتاھے
LAHORE HIGH COURT, LAHORE
No. 220
DATED_06/04/2026
From،The Registrar, Lahore High Court, Lahore.
To،The Inspector General of (Prisons), Punjab, Lahore.
Subject: -BIO-MATRIC VERIFICATION
1 am directed to refer to the subject and statethat the Standing Operating Procedures (SOPs) for the Bio-Matric Verification at the time of institution of fresh cases or applications (as mentioned below) or filing written statements/replies, surety bonds etc, also require the bio-matric verification of under trial prisoners (UTPs) or convicts or other persons detained in jail.
2.
In order to stream-line the operations, remove the
difficulties and make necessary clarifications, the following instructions are made for information and adherence: -
i)
On the analogy of clause-20 of the SOPs, a Deputy Superintendent (Jail)
may be designated and
authorized to verify the identity of a person detained in jail, under trail prisoners (UTPs) and convicts in case where his bio-matric verification is not possible due to any reason. The Deputy Superintendent shall give a certificate of verification alongwith case or application being filed or contested by the person detained in jail as well as at the time of his first appearance in any
її)The Bio-Matric Verification made through NADRA E-Sahulat Centre shall remain valid for 72 hours from the date and time of verification,
iii)The following applications shall require bio-matric verification at the time of institution/filing before or in
a court: -
a) Application for withdrawal of a case
b) Application u/s 12(2) CPC
c) Application
for compromise in a case or
composition of offence (s)
d) Application for recording statements before or in a court or Magistrate
e) Application for restoration of suits/cases in case of dismissal in default, if filed by a new/fresh lawyer.
1) Application for replacing power of attorney/Wakalat
Naama
g) Application dealing in financial matters like deposits or refunds of amounts
i) Application for medical
re-examination or
constitution of Medical Board
j) Application for dis-internment
It is further mentioned that in case of emergence of ny new situation or eventuality, further additions or variations nay be made through instructions or directions in view of Clause-25 of the SOPs.
It is, therefore, required that SOPs on the subject as
well as the clarifications made here-in-above, be complied with in letter & spirit.
(Shabbir Hussain Shah)
Addl. Registrar (Judi)
For Registrar
No. & date Even.
Copy forwarded to all the District & Sessions Judges
in Punjab for information.
и 1
Addl. Registrar (Judl)
For Registrar

*موٹر سائیکل رجسٹریشن فیس معافی بارے ابہام*حکومت پنجاب کی ہدایت پر محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب نے شہریوں کو سہولت ف...
09/04/2026

*موٹر سائیکل رجسٹریشن فیس معافی بارے ابہام*

حکومت پنجاب کی ہدایت پر محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب نے شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے موٹرسائیکل ٹرانسفر فیس 605 روپے ، ایڈیشنل رجسٹریشن مارک فیس 1000 روپے اور اسمارٹ کارڈ فیس 1300 روپے معاف کر دی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سبسڈی سے فائدہ اٹھا سکیں۔ شہری اس رعایت سے 6 اپریل تا 5 مئی 2026 تک استفادہ کر سکیں گے۔ تاہم اس سہولت سے استفادہ کرنے کے لیے لازم ہے کہ موٹر سائیکل درخواست دہندہ کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہو۔
حکومت پنجاب کے اس ریلیف پیکج کے ذریعے عوام کو مجموعی طور پر 20 کروڑ روپے کا ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے جسے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن برداشت کرے گا۔
واضح رہے کہ یہ رعایت لائف ٹائم ٹوکن ٹیکس پر لاگو نہیں ہوگی ، تاہم ٹرانسفر فیس اور دیگر رجسٹریشن سے متعلق چارجز بدستور معاف رہیں گے۔ ڈائریکٹر جنرل محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن عمر شیر چٹھہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی موٹرسائیکل اپنے نام پر رجسٹر کروائیں تاکہ وہ فیول سبسڈی اسکیم سے مستفید ہوسکیں۔
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ اگر کسی شہری کا موٹر سائیکل اس کے نام پر نہیں ہو گا تو وہ اس پر سبسڈی بھی حاصل نہیں کر پائے گا۔

FBR کا بڑا فیصلہ! پراپرٹی بیچنے پر ٹیکس سے بچنے کا طریقہ (2026)پاکستان میں پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس کا معاملہ ہمی...
04/04/2026

FBR کا بڑا فیصلہ! پراپرٹی بیچنے پر ٹیکس سے بچنے کا طریقہ (2026)

پاکستان میں پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس کا معاملہ ہمیشہ سے عوام کے لیے ایک اہم اور پیچیدہ مسئلہ رہا ہے۔ خاص طور پر جب کوئی شخص اپنی جائیداد فروخت کرتا ہے تو اس پر ایڈوانس ٹیکس عائد کیا جاتا ہے، جسے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 236C کے تحت وصول کیا جاتا ہے۔ تاہم حال ہی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ایک اہم سرکلر جاری کیا ہے جس میں کچھ مخصوص افراد کو اس ٹیکس سے ریلیف دینے کی وضاحت کی گئی ہے۔

اس آرٹیکل میں ہم اس نئے فیصلے کو سادہ اور واضح انداز میں سمجھیں گے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کون لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور کس طرح۔

سیکشن 236C کیا ہے؟

سیکشن 236C کے تحت جب بھی کوئی شخص پاکستان میں غیر منقولہ جائیداد (پلاٹ، گھر یا کمرشل پراپرٹی) فروخت کرتا ہے تو اس سے ایک مخصوص شرح کے مطابق ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ یہ ٹیکس فائلرز اور نان فائلرز کے لیے مختلف شرحوں پر ہوتا ہے اور عام طور پر رجسٹری کے وقت ہی کاٹ لیا جاتا ہے۔

سیکشن 7F کیا ہے؟

سیکشن 7F ایک خصوصی ٹیکس نظام ہے جو خاص طور پر بلڈرز اور ڈیولپرز کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت ان کی آمدن کا تعین روایتی طریقے کے بجائے ایک مقررہ فارمولے کے تحت کیا جاتا ہے، اور وہ اسی حساب سے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

مسئلہ کہاں پیدا ہوا؟

اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب وہ بلڈرز اور ڈیولپرز جو پہلے ہی سیکشن 7F کے تحت ٹیکس ادا کر رہے تھے، جب اپنی پراپرٹی فروخت کرتے تو ان سے دوبارہ سیکشن 236C کے تحت ایڈوانس ٹیکس بھی وصول کیا جاتا تھا۔ اس صورتحال کو عملی طور پر دوہری ٹیکسیشن جیسا سمجھا جا رہا تھا، جس سے ٹیکس دہندگان پر اضافی بوجھ پڑ رہا تھا۔

FBR کا نیا مؤقف

31 مارچ 2026 کو جاری ہونے والے سرکلر میں FBR نے اس معاملے کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص:

- سیکشن 7F کے تحت اپنی ٹیکس ذمہ داری پوری کر چکا ہے
- اور اس کی کوئی دوسری قابلِ ٹیکس آمدن نہیں ہے

تو ایسے شخص پر سیکشن 236C کے تحت ایڈوانس ٹیکس لاگو نہیں ہونا چاہیے۔

کیا یہ ریلیف خودکار ہے؟

یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے کہ یہ ریلیف خود بخود نہیں ملے گا۔ اس کے لیے متعلقہ ٹیکس دہندہ کو باقاعدہ درخواست دینا ہوگی۔

ایکسیمپشن سرٹیفیکیٹ کیسے حاصل کریں؟

متاثرہ افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے متعلقہ کمشنر ان لینڈ ریونیو کے پاس درخواست جمع کروائیں اور ایک ایکسیمپشن سرٹیفیکیٹ حاصل کریں۔ اس سرٹیفیکیٹ کے ذریعے انہیں یہ اجازت مل جاتی ہے کہ ان کی پراپرٹی کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس وصول نہ کیا جائے۔

درخواست کی جانچ پڑتال

کمشنر ان لینڈ ریونیو ہر درخواست کو الگ الگ بنیاد پر جانچتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ درخواست گزار تمام شرائط پر پورا اترتا ہو۔ صرف اہل افراد کو ہی یہ ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

اہم تنبیہ

یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ سہولت ہر شخص کے لیے نہیں ہے۔ عام تنخواہ دار افراد، سرمایہ کار یا وہ لوگ جو سیکشن 7F کے دائرہ کار میں نہیں آتے، ان پر بدستور سیکشن 236C کے تحت ٹیکس لاگو ہوگا۔

نتیجہ

FBR کا یہ فیصلہ بلڈرز اور ڈیولپرز کے لیے ایک اہم ریلیف ہے جو پہلے ہی ایک مخصوص ٹیکس نظام کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ تاہم اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے درست معلومات، بروقت درخواست اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اگر یہ تمام مراحل صحیح طریقے سے مکمل کیے جائیں تو پراپرٹی کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس سے بچنا ممکن ہے

02/04/2026
ریکوزیشن  پنجاب بار کونسل • • نئے اور جونیئر وکلاء کے لیے بامعاوضہ انٹرن شپ پروگرام کے قیام کی تجویز، جس کے تحت ہر بار ا...
02/04/2026

ریکوزیشن پنجاب بار کونسل

• • نئے اور جونیئر وکلاء کے لیے بامعاوضہ انٹرن شپ پروگرام کے قیام کی تجویز، جس کے تحت ہر بار ایسوسی ایشن اپنے سالانہ بجٹ یا ویلفیئر فنڈ کا ایک مخصوص حصہ نوجوان وکلاء کے وظیفہ (اسٹیپنڈ) کے لیے مختص کرے۔

• جنوبی پنجاب کے وکلاء کے لیے ملتان میں پنجاب بار ہاسٹل کے قیام اور لائسنس کے اجراء/حصول کی سہولت ملتان میں فراہم کرنے کی تجویز۔

• وکلاء کے خلاف ایف آئی آر کے غلط اندراج کی روک تھام کے لیے یہ تجویز ھے کہ کسی بھی وکیل کے خلاف بغیر غیر جانبدارانہ انکوائری کے ایف آئی آر درج نہ کی جائے۔

• وکلاء کی سیکیورٹی اور تحفظ کے لیے اقدامات، جن میں اسلحہ لائسنس کے اجراء اور ٹنٹڈ شیشوں کے استعمال کی اجازت شامل ہے۔

ٹیکس نظام میں بڑی ہلچلایف بی آر کا نیا حکم جاریاب ہر سیل ریئل ٹائم رپورٹ ہوگی اور ڈیجیٹل انوائس میں تبدیلی صرف 72 گھنٹوں...
01/04/2026

ٹیکس نظام میں بڑی ہلچل
ایف بی آر کا نیا حکم جاری
اب ہر سیل ریئل ٹائم رپورٹ ہوگی اور ڈیجیٹل انوائس میں تبدیلی صرف 72 گھنٹوں کے اندر ممکن ہوگی!

یہ ایک اہم پیش رفت ہے جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ٹیکس نظام کو مزید ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کے لیے ایک نیا قدم اٹھایا ہے۔ 30 مارچ 2026 کو جاری ہونے والے Sales Tax General Order نمبر 01 آف 2026 کے ذریعے یہ واضح کیا گیا کہ اب سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ افراد کے لیے اپنی سیلز کو ریئل ٹائم میں رپورٹ کرنا لازمی ہوتا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ہر سیل کی انوائس فوری طور پر FBR کے سسٹم میں رپورٹ ہوگی، جس سے ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھے گی اور فراڈ کے امکانات کم ہوں گے۔

اس آرڈر کی بنیاد سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی سیکشن 23 کی شق (5) اور (6) پر ہے، جو FBR کو یہ اختیار دیتی ہیں کہ وہ کسی بھی کاروبار کو اپنے سسٹم کو FBR کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ساتھ منسلک (integrate) کرنے کا پابند بنا سکے۔ پہلے SRO 1413(I)/2025 کے ذریعے یہ لازم کیا گیا تھا کہ تمام رجسٹرڈ افراد صرف ایک لائسنس یافتہ انٹیگریٹر کے ذریعے ڈیجیٹل انوائسز جاری کریں، مگر اس میں کچھ مشکلات سامنے آئیں، خاص طور پر ان کاروباروں کے لیے جو ایک سے زیادہ سسٹمز استعمال کرتے ہیں۔

اب نئے آرڈر میں اس مسئلے کو حل کرتے ہوئے FBR نے اجازت دے دی ہے کہ کاروبار اپنی ضرورت کے مطابق ایک سے زیادہ licensed integrators کے ساتھ کام کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ FBR سے منظور شدہ ہوں۔ اس سے کاروباری افراد کو زیادہ flexibility ملے گی اور ان کے لیے سسٹم کو manage کرنا آسان ہو جائے گا۔

ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر کوئی ڈیجیٹل سیلز ٹیکس انوائس غلطی سے بن جائے تو اسے صرف 72 گھنٹوں کے اندر FBR کے سسٹم کے ذریعے درست، delete یا cancel کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ مدت گزر جائے تو پھر کوئی بھی تبدیلی صرف متعلقہ Commissioner Inland Revenue کی پیشگی اجازت سے ہی ممکن ہوگی۔ اس شرط کا مقصد یہ ہے کہ غیر ضروری رد و بدل کو روکا جائے اور ہر انوائس کی authenticity برقرار رہے۔

مجموعی طور پر، یہ آرڈر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں ہر لین دین ریکارڈ میں ہوگا اور نگرانی مزید سخت ہوگی۔ اس سے ایک طرف ایماندار کاروباری افراد کو فائدہ ہوگا، جبکہ دوسری طرف غیر شفاف طریقوں کے لیے گنجائش کم ہوتی جائے گی۔

محمد عمیر جٹ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
03008862146

25/03/2026

*پنجاب میں گلی محلوں میں سڑکوں پر اپنی دکان یا گھر کے سامنے غیر ضروری اور گورنمنٹ سے غیر منظور شدہ جمپ بنانے والے گھر کو پانچ لاکھ جرمانہ اور دو سال قید کی سزا ہوگی*

دو لفظی ایف آئی آر ۔۔۔اسکی تفتیش بھی دو لفظوں میں ہو گی"نہیں لبھے"
25/03/2026

دو لفظی ایف آئی آر ۔۔۔
اسکی تفتیش بھی دو لفظوں میں ہو گی
"نہیں لبھے"

Address

New Multan Colony Multan
Multan
60000

Telephone

+923008862146

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Motivated Lawyers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Motivated Lawyers:

Share