Adv Abubakar Mushtaq

Adv Abubakar Mushtaq WhatsApp 0307 33-44-5-6-7
Adv Abubakar Mushtaq
Lecturer Law at Sir Sayed Law College, Multan Cantt.
(1)

آپ کی قیمتی رائے درکار ہے آپ کیا کہتے ہیں؟17 برس کی عمر میں ایک غلطی ہوئی…اور پھر پوری زندگی جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزر ...
27/05/2026

آپ کی قیمتی رائے درکار ہے آپ کیا کہتے ہیں؟
17 برس کی عمر میں ایک غلطی ہوئی…
اور پھر پوری زندگی جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزر گئی۔ 💔
تصویر میں نظر آنے والا یہ قیدی 2014 میں سزائے موت کا مجرم قرار پایا۔
بلیک وارنٹ تک جاری ہو گئے… مگر پھانسی سے صرف ایک دن پہلے مق۔تول کے اہلِ خانہ نے اسے معاف کر دیا۔
سزائے موت رک گئی…
مگر رہائی نہ مل سکی۔
آج 26 سال گزر چکے ہیں۔
وہ عمر قید سے بھی زیادہ وقت جیل میں گزار چکا ہے۔
جوانی جیل کی دیواروں میں دفن ہو گئی… اور اب بیماریوں میں گھرا ایک تھکا ہوا انسان رہ گیا ہے۔
وہ کہتا ہے:
“غلطی کی سزا بھگت چکا ہوں… مدعی بھی معاف کر چکے… اب ریاست بھی رحم کر دے…”
Adv Abubakar Mushtaq

پنجاب سے لڑکیوں کو کچے کے ڈاکوؤں کے حوالے کرنے والی خاتون حسینہ شکارپور پولیس کی گرفت میں آگئی۔لاہور کی تین معصوم لڑکیاں...
25/05/2026

پنجاب سے لڑکیوں کو کچے کے ڈاکوؤں کے حوالے کرنے والی خاتون حسینہ شکارپور پولیس کی گرفت میں آگئی۔
لاہور کی تین معصوم لڑکیاں، جن میں ایک کائنات نیشنل ہسپتال کی نرس تھی، سیر کے شوق اور رشتے کے بہانے ملتان کے عمران کے ساتھ صادق آباد گئیں۔ حسینہ آنٹی کے گھر رہیں، پھر روہڑی لے جایا گیا۔
وہاں سے اجنبی مردوں کے ساتھ تین موٹر سائیکلوں پر اندرونِ سندھ کے جنگلوں میں پہنچائی گئیں۔ 13 دن تک ڈاکوؤں کے قبضے میں رہیں۔ جو کچھ ان کے ساتھ ہوا، بیان سے باہر ہے۔
کسی طرح جان بچا کر بھاگیں تو شکارپور پولیس نے انہیں سنبھالا۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ حسینہ، اس کا شوہر عاشق جتوئی اور عمران مل کر منظم گینگ چلاتے تھے۔
طریقہ کار: پنجاب کے شہروں سے خوبصورت لڑکیوں کو رشتے اور محبت کے جال میں پھنسا کر کچے کے ڈاکوؤں کو بیچ دیتے۔ ڈاکو بھاری انعام دیتے۔
پولیس کا اندازہ ہے کہ سینکڑوں لڑکیاں اسی طرح اغوا ہو کر فروخت ہو چکی ہیں۔
اے ماں باپ!
اپنی بیٹیوں کو اجنبی لڑکوں کے ساتھ "سیر" پر بھیجنے سے پہلے سو بار سوچیں۔
Adv Abubakar Mushtaq

ایبٹ آباد میں پیدا ہونے والی بلوری آنکھوں والی مہروش شاید کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اُس کی زندگی کا انجام لاہور ک...
25/05/2026

ایبٹ آباد میں پیدا ہونے والی بلوری آنکھوں والی مہروش شاید کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اُس کی زندگی کا انجام لاہور کے ایک سنسان نالے میں ہوگا… 😢

پسند کی شادی ہوئی…
شوہر فہیم سے محبت بھی تھی…
ایک بیٹی بھی ہوئی…
مگر پھر غربت، جھگڑے اور روزمرہ کی تلخیوں نے اُس گھر کی خوشیاں نگلنا شروع کر دیں۔

طلاق ہوئی…
مہروش اپنی ننھی بیٹی کو لے کر والدین کے گھر آ بیٹھی۔
زندگی دوبارہ سنوارنے کے لیے نوکری شروع کی…
اور پھر اُس کی زندگی میں خلیل آیا۔

خلیل نے محبت، سہارا اور نئی زندگی کا خواب دکھایا…
مگر ایک سچ چھپا لیا:
وہ پہلے سے شادی شدہ تھا… اور ایک بچے کا باپ بھی۔

جس رات مہروش نے موبائل گیلری میں خلیل کی پہلی بیوی اور بچے کی تصویریں دیکھیں…
اُسی رات اُس کے خواب ٹوٹ گئے۔

مہروش نے صرف اتنا کہا تھا:
“یا اُسے چھوڑ دو… یا مجھے آزاد کر دو…”

مگر شاید خلیل کو سچ سے زیادہ اپنا راز عزیز تھا۔

چند دن بعد…
ایک رات اُس نے تکیہ رکھ کر مہروش کا گلہ گھونٹ دیا…
لا۔ش بوری میں ڈالی…
اور روہی نالے میں پھینک آیا۔

پھر صبح تھانے جا کر بولا:
“میری بیوی لاپتہ ہے…”

مگر کہتے ہیں نا…
جھوٹ کچھ وقت زندہ رہ سکتا ہے، ہمیشہ نہیں۔

دو دن بعد نالے سے ملنے والی لا۔ش نے پوری کہانی کھول دی…
اور چند منٹ کی تفتیش میں خلیل نے سب کچھ اگل دیا۔

آج مہروش قبر میں ہے…
ایک معصوم بچی ماں کی محبت سے محروم ہے…
اور ایک جھوٹے عشق نے ایک اور گھر برباد کر دیا۔ 💔
Adv Abubakar Mushtaq

Alhamdulillah ❣️ Deputed as "Legal Incharge" in MEPCO 😊
24/05/2026

Alhamdulillah ❣️
Deputed as "Legal Incharge" in MEPCO 😊

ساہیوال میں چار بہنوں کے اکلوتے 14 سالہ بھائی کو پہلے درندگی کا نشانہ بنایا گیا… پھر بے رحمی سے ق۔ت۔ل کر کے لا۔ش ویران ک...
23/05/2026

ساہیوال میں چار بہنوں کے اکلوتے 14 سالہ بھائی کو پہلے درندگی کا نشانہ بنایا گیا… پھر بے رحمی سے ق۔ت۔ل کر کے لا۔ش ویران کھیتوں میں پھینک دی گئی۔
جانور جسم نوچتے رہے… اور شناخت صرف جوتوں، اسکول بیگ اور موٹر سائیکل سے ممکن ہو سکی۔ 😢
یہ وہ لمحہ تھا جہاں ایک ماں کی دنیا، چار بہنوں کی امید اور ایک گھر کی ہنسی ہمیشہ کے لیے دفن ہو گئی۔
مگر پھر سی سی ڈی نے دن رات ایک کر دی…
سی سی ٹی وی، شواہد اور مسلسل تفتیش کے بعد ملزمان تک پہنچا گیا۔ بعد ازاں ایک مقابلے میں تینوں مشتبہ ملزمان مارے گئے جبکہ ایک اہلکار بھی زخمی ہوا۔
اگر واقعی انجام تک پہنچنے والے وہی درندے تھے… تو شاید یہ اُن معصوم چیخوں کا وہ انصاف تھا جو عدالت تک پہنچنے سے پہلے آسمان تک پہنچ چکی تھیں۔
لیکن اصل سوال اب بھی زندہ ہے…
آخر ہم کس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں ایک 14 سالہ بچہ بھی محفوظ نہیں…؟ 💔
Adv Abubakar Mushtaq

جانور صرف “جانور” نہیں ہوتے… 🥺وہ بھی سانس لیتے ہیں…درد محسوس کرتے ہیں…تکلیف سے تڑپتے ہیں…اور بے زبان ہونے کا مطلب یہ نہی...
23/05/2026

جانور صرف “جانور” نہیں ہوتے… 🥺
وہ بھی سانس لیتے ہیں…
درد محسوس کرتے ہیں…
تکلیف سے تڑپتے ہیں…
اور بے زبان ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں اذیت نہیں ہوتی۔ 💔
قربانی صرف چھری چلانے کا نام نہیں… رحم، احساس اور اچھے سلوک کا نام بھی ہے۔
اس لیے اپنے جانوروں کو اس طرح باندھیں… اس طرح رکھیں… کہ انہیں خوف، گھٹن یا تکلیف محسوس نہ ہو۔
اس تصویر میں مجھے نہیں لگ رہا کہ یہ بے زبان جانور مناسب طریقے سے بندھا ہوا ہے… ☹️
آپ کیا کہتے ہیں…؟
Adv Abubakar Mushtaq

23/05/2026

کچی عمر کے اندھے عشق نے ایک اور گھر اجاڑ دیا… 💔

دیپالپور میں 13 سالہ لڑکی نے اپنے ہی باپ کو سوئے ہوئے گو۔لی مار دی…
اور پھر چیختی ہوئی باہر نکلی:
“ڈا۔کو میرے ابو کو مار گئے…!” 😢

پہلے سب نے یہی سمجھا کہ شاید واقعی ڈا۔کیتی ہوئی ہے…
ماں بین کر رہی تھی…
بیٹی زاروقطار رو رہی تھی…
اور ایک غریب باپ خون میں لت پت پڑا تھا۔

مگر کہتے ہیں نا…
قا۔تل چاہے کتنا ہی رونا رو لے، سچ کہیں نہ کہیں بول ہی پڑتا ہے۔

جنازے کے بعد جب پولیس نے گھر کا واحد موبائل چیک کیا تو اس میں محبت بھرے میسجز اور ایک مشکوک نمبر نے پوری کہانی بدل دی۔

پتا چلا…
13 سالہ لڑکی دو سال سے ایک لڑکے سے محبت کرتی تھی۔
باپ نے رشتہ دینے سے انکار کیا…
ڈانٹا بھی…
مارا بھی…
اور یہی بات بیٹی کے دل میں زہر بنتی گئی۔

پھر ایک رات…
اس نے گھر میں موجود پرانا پستو۔ل اٹھایا…
صحن میں سوئے اپنے باپ کے پاس گئی…
اور پیروں کے قریب کھڑے ہو کر ٹر۔یگر دبا دیا۔ 💔

گو۔لی چلتے ہی پہلے پستو۔ل چھپایا…
پھر باہر جا کر ڈا۔کوں کا شور مچا دیا۔

سوچیں…
جس باپ نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ہو…
اسی کے سینے میں بیٹی گو۔لی اتار دے…
تو پھر معاشرہ آخر کس طرف جا رہا ہے؟

آج ایک باپ قبر میں ہے…
ایک کمسن لڑکی جیل میں…
اور ایک پوری زندگی صرف ایک “کچی عمر کے عشق” کی نذر ہو گئی۔
Adv Abubakar Mushtaq

23/05/2026

One post. One woman. One agency called NCCIA. And within days the entire country was watching.
Momina Iqbal did not stay quiet. She went viral on social media, then walked straight into NCCIA Lahore and handed over her digital evidence. The MPA showed up too. Both gave their statements. CM Maryam Nawaz took notice. An FIR application was filed at Thana Chuhang. The legal process is running.
This is what 2026 Pakistan looks like when someone refuses to be silenced.
Your WhatsApp chats, screenshots, call records, voice notes — under PECA 2016 every single one of them is valid legal evidence. Online threats are not empty words. They are crimes. And crimes have consequences.
Swipe up if you need to know your rights. Comment if you have questions. Share this so someone who needs it sees it today.
Adv Abubakar Mushtaq
WhatsApp 03073344567

آن لائن ہراسگی اب چھپانے کی چیز نہیں رہی  مومنہ اقبال نے این سی سی آئی اے لاہور میں پیش ہو کر ڈیجیٹل شواہد جمع کروا دیے ...
23/05/2026

آن لائن ہراسگی اب چھپانے کی چیز نہیں رہی مومنہ اقبال نے این سی سی آئی اے لاہور میں پیش ہو کر ڈیجیٹل شواہد جمع کروا دیے اور ایک سیاستدان کے خلاف سنگین الزامات کا سامنا قانون کی عدالت میں کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
دونوں فریقین اپنا موقف ریکارڈ کروا چکے ہیں، سی ایم مریم نواز نے نوٹس لیا، اور پولیس اسٹیشن چوہنگ میں باقاعدہ درخواست بھی دائر ہو چکی ہے۔
یہ کیس محض ایک خبر نہیں یہ ہر اس انسان کے لیے آنکھ کھولنے والا لمحہ ہے جو سمجھتا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں کیا گیا ظلم قانون کی گرفت سے باہر ہے۔
Pakistan is watching one of its most talked-about cyber harassment cases unfold in real time. Actress Momina Iqbal appeared before NCCIA Lahore, submitted digital evidence, and formally sought an FIR at Police Station Chuhang against PML-N MPA Saqib Chadhar. The MPA's legal team also appeared and presented their version. CM Maryam Nawaz took direct notice of the matter.
Under Pakistan's Prevention of Electronic Crimes Act PECA 2016, online harassment, digital threats, and cyberbullying are serious criminal offenses. WhatsApp messages, screenshots, call records, all of these carry full legal weight as evidence before NCCIA and in courts across Pakistan.
This case is showing the country that no matter who is on the other side, if you have digital evidence, the law has a process for you. NCCIA exists exactly for moments like this.
If you or anyone close to you is facing online harassment, digital blackmail, threats on social media or WhatsApp, or any cyber crime — do not wait and do not go silent. The law is with you.
Adv Abubakar Mushtaq
WhatsApp 03073344567

23/05/2026

One day. That is all it took for Port Qasim Authority to destroy a pilot captain's career seniority — one single day of joining late, even though his merit score was higher than everyone else in his batch.
The Federal Constitutional Court just said no. That is unconstitutional. That is against the equal rights guaranteed by Pakistan's constitution. And that seniority list is now gone.
Every government employee in this country needs to hear this. Your seniority belongs to your merit position. Not to the date your joining letter was issued. Not to whenever your department decided to call you in. Your merit is your right and no office order can take it from you.
The court went further. Every department must now put its seniority lists online. No more hidden files. No more closed doors. You have the right to see exactly where you stand and why.
If your department has been playing games with your seniority or your promotion, the law is now more clearly on your side than ever before.
Adv Abubakar Mushtaq
WhatsApp 03073344567

Address

Ahel Pur Old Dunya Pur Road Multan
Multan

Website

https://www.instagram.com/adv_abubakar_mushtaq?igsh=Y3V

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Abubakar Mushtaq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share