Cyber Crime Lawyer

Cyber Crime Lawyer He is the specialized in Cyber Crime Cases, Laws.Cyber Security. Financial online scame matters. Blackmailing & Harassment.

Consultant Criminal Cases, Cyber Crime Awarness.

22/05/2026

لاہور ہائیکورٹ کا عدالتی تاریخ کا منفرد فیصلہ

رقم کی قدر برقرار رکھنے کے لیے بیوی کو روپے کے بجائے سونے یا امریکی ڈالر کے حساب سے وصولی کا تاریخی اختیار دے دیا۔

​۱۔ کیس کے حقائق (Facts of the Case)

​شادی اور تنازع:
صنم شہزادی (سائلہ/Petitioner) کی شادی ۱۷ ستمبر ۲۰۰۹ کو محمد انور (مسئول علیہ/Respondent) سے ہوئی۔ ان کا ایک بیٹا "محمد نور اللہ" پیدا ہوا۔ محمد انور نے ایک اور خاتون (عصمت طاہرہ) سے دوسری شادی کر رکھی تھی، جس کی وجہ سے میاں بیوی کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے اور صنم شہزادی کو گھر سے نکال دیا گیا، جس کے بعد وہ اپنے والدین کے گھر رہنے لگی۔

​راضی نامہ/معاہدہ (07.10.2010):
دونوں خاندانوں کے بڑوں اور معززین نے مداخلت کر کے میاں بیوی میں صلح کروائی۔ اس صلح کے نتیجے میں ۷ اکتوبر ۲۰۱۰ کو ایک تحریری راضی نامہ (معاہدہ نمبر 979) طے پایا، جس میں شوہر (محمد انور) نے درج ذیل ذمہ داریاں اٹھائیں:
​بیوی کو ۲,۰۰۰ روپے ماہانہ جیب خرچ دے گا۔
​بیٹے نور اللہ کے نام ۵ مرلہ زمین منتقل کرے گا (جو شوہر کے والد نے گفٹ کے ذریعے منتقل کر بھی دی تھی)۔
​اس ۵ مرلہ زمین پر ۳ ماہ کے اندر کم از کم ۱۳ لاکھ روپے کی لاگت سے بیوی کے لیے گھر تعمیر کر کے دے گا۔
​بیوی کو علیحدہ اور خوش رکھے گا۔

​خلاف ورزی کی صورت میں:
اگر شوہر نے اس معاہدے کی کسی بھی شرط کی خلاف ورزی کی، تو وہ بیوی کو ۲۵ لاکھ روپے بطور ہرجانہ/جرمانہ ادا کرنے کا پابند ہوگا۔

​مقدمات کا آغاز:
صنم شہزادی نے الزام لگایا کہ شوہر نے معاہدے کی خلاف ورزی کی (گھر تعمیر نہیں کیا اور نہ علیحدہ رہائش دی)، لہٰذا اس نے ۲۵ لاکھ روپے ہرجانے کی وصولی کا دعویٰ دائر کر دیا۔
جواب میں شوہر (محمد انور) نے اس معاہدے کو منسوخ کرانے کے لیے ایک الگ دعویٰ دائر کر دیا۔ شوہر کا موقف تھا کہ اس سے یہ معاہدہ "ناجائز دباؤ" (Undue Influence) کے تحت زبردستی سائن کروایا گیا تھا اور اصل مقصد بیوی کا گھر آباد کرنا تھا، لیکن بیوی واپس نہیں آئی۔

​۲۔ سول/ٹرائل کورٹ کا فیصلہ اور وجوہات (Trial Court Decision & Reasons)
​ٹرائل کورٹ نے دونوں مقدمات کو یکجا (Consolidate) کیا اور گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد ۱۹ جنوری ۲۰۱۶ کو بیوی (صنم شہزادی) کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اس کا دعویٰ ڈگری کر دیا اور شوہر کا معاہدہ منسوخی کا دعویٰ خارج کر دیا۔

​ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی وجوہات:
​شوہر نے یہ تسلیم کیا تھا کہ صلح کے لیے اسٹامپ پیپر اس نے خود خریدا تھا اور دستخط بھی اس کے اپنے تھے۔
​شوہر یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ اس پر کوئی ناجائز دباؤ (Undue Influence) ڈالا گیا تھا۔
​شوہر نے خود اعتراف کیا کہ اس نے معاہدے کے تحت ۳ ماہ میں گھر تعمیر نہیں کیا، جس سے معاہدے کی خلاف ورزی ثابت ہوئی۔

​۳۔ اپیلٹ کورٹ (ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج) کا فیصلہ اور وجوہات

​شوہر نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سیالکوٹ نے ۲۰ مارچ ۲۰۱۷ کو ٹرائل کورٹ کا فیصلہ الٹ دیا، بیوی کا دعویٰ خارج کر دیا اور شوہر کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

​اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کی وجوہات:
​عدالت نے اس بات کو بنیاد بنایا کہ راضی نامے کے وقت بیوی خود اس پنچایت یا مجلس میں موجود نہیں تھی، اس لیے یہ معاہدہ یکطرفہ معلوم ہوتا ہے۔

​عدالت کا موقف تھا کہ معاہدے کا اصل مقصد میاں بیوی کا اکٹھے رہنا (Cohabitation) تھا، اور چونکہ بیوی مستقل طور پر شوہر کے گھر آ کر نہیں رہی، اس لیے معاہدہ ختم ہو گیا اور شوہر ہرجانہ دینے کا پابند نہیں۔

​۴۔ لاہور ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ اور وجوہات

​بیوی نے اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں سول ریوائزن (Civil Revision) دائر کی۔ ہائی کورٹ کے جج جسٹس راحیل کامران نے اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ سائیڈ پر رکھ کر ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا اور بیوی کے حق میں ڈگری جاری کر دی۔

​ہائی کورٹ کے فیصلے کی وجوہات

​ناجائز دباؤ (Undue Influence) کا غیر ثابت ہونا: ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ دباؤ تھا۔ شوہر ایک بالغ مرد تھا، اس نے یکم اکتوبر کو اسٹامپ خریدا اور ۷ اکتوبر کو معاہدہ لکھا گیا۔ اس ۷ دن کے وقفے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی اچانک یا زبردستی کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ سوچا سمجھا معاہدہ تھا۔

​جزوی عمل درآمد (Partial Performance):
معاہدے پر لکھنے سے پہلے ہی شوہر کے والد نے پوتے کے نام ۵ مرلہ زمین گفٹ کر دی تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شوہر کا خاندان اس صلح سے پوری طرح واقف تھا اور یہ ایک حقیقی خاندانی تصفیہ (Family Settlement) تھا۔

​شرطِ اول کیا تھی؟: ہائی کورٹ نے اپیلٹ کورٹ کے اس نقطے کو مسترد کر دیا کہ بیوی پہلے آ کر رہتی۔ عدالت نے کہا کہ کشیدہ تعلقات اور دوسری بیوی کی موجودگی کی وجہ سے شوہر نے ۳ ماہ میں علیحدہ گھر بنا کر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ شوہر خود اپنی شرط (گھر کی تعمیر) پوری کرنے میں ناکام رہا، اس لیے وہ سارا ملبہ بیوی پر نہیں ڈال سکتا۔ بیوی تو معاہدے کے بعد ایک دن کے لیے آئی بھی تھی، جس سے اس کی نیت صاف ظاہر ہوتی ہے۔

​مجلس میں بیوی کی غیر موجودگی:
ہمارے معاشرتی پس منظر میں میاں بیوی کی صلح کے معاملات میں خاتون کے بزرگ (والد یا چچا) اس کی طرف سے بات چیت کرتے ہیں۔ اس لیے بیوی کا دستخط نہ کرنا یا وہاں جسمانی طور پر موجود نہ ہونا معاہدے کو غیر قانونی نہیں بناتا، خصوصاً جب وہ خود اس معاہدے کو تسلیم کر رہی ہو۔

​۵۔ زرِ تلافی کی قدر برقرار رکھنے کا خصوصی حکم (Moulding of Relief)
​عدالت نے ایک انتہائی اہم قانونی نکتہ اٹھایا۔ چونکہ یہ معاہدہ ۲۰۱۰ کا تھا اور ہرجانے کی رقم ۲۵ لاکھ روپے طے ہوئی تھی، اور اب (۲۰۲۶ میں) طویل عرصہ گزرنے کی وجہ سے روپے کی قدر (Value of Money) بہت کم ہو چکی ہے۔
​عدالت نے سائلہ (بیوی) کو یہ اختیار دیا کہ وہ ۲۵ لاکھ روپے کی وصولی کے لیے دو میں سے کسی ایک طریقے کا انتخاب کر سکتی ہے تاکہ رقم کی اصل قوتِ خرید برقرار رہے:
​یا تو وہ ادائیگی کے وقت کے امریکی ڈالر (US Dollar) کے ایکسچینج ریٹ کے حساب سے اتنی رقم وصول کرے۔
​یا پھر وہ ادائیگی کے وقت مارکیٹ میں سونے (Gold) کی قیمت کے حساب سے اس رقم کے برابر سونا یا رقم وصول کرے۔
Civil Revision 24335/17
(Sanam Shahzadi Vs Muhammad Anwar)
Mr. Justice Raheel Kamran


20/05/2026

اسلام آباد روزانہ تین سو اور لاہور کراچی ڈیڑھ سو تک خلع اور طلاق کے کیسز روزانہ فاٸل ہورہے۔
کیا وجہ ہے؟ عدم برداشت؟ .

اب پاکستان میں بھی نیا قانون نافذ ہو چکا ہے اب گلی محلے میں غیر ضروری سپیڈ بریکر بنانے پر اور گزر گاہوں رکاوٹ کرنے پر  ب...
27/04/2026

اب پاکستان میں بھی نیا قانون نافذ ہو چکا ہے اب گلی محلے میں غیر ضروری سپیڈ بریکر بنانے پر اور گزر گاہوں رکاوٹ کرنے پر بھاری جرمانہ ادا کرنا ہوگا.

Cyber Crime Lawyer

عدالت میں سپرداری (Supardari) کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب پولیس کسی جرم کے سلسلے میں کوئی مال (گاڑی، موٹر سائیکل، موبا...
19/04/2026

عدالت میں سپرداری (Supardari) کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب پولیس کسی جرم کے سلسلے میں کوئی مال (گاڑی، موٹر سائیکل، موبائل، یا نقدی وغیرہ) اپنے قبضے میں لے لیتی ہے۔ پاکستان میں اس کا طریقہ کار اور متعلقہ قوانین درج ذیل ہیں:
​1. متعلقہ قانونی دفعات (Legal Sections)
​سپرداری کا معاملہ بنیادی طور پر مجموعہ ضابطہ فوجداری (CrPC) کے باب 43 (Chapter 43) میں بیان کیا گیا ہے:
​دفعہ 516-A CrPC: یہ دفعہ اس مال کی سپرداری سے متعلق ہے جو مقدمے کی سماعت (Trial) کے دوران عدالت کی تحویل میں ہوتا ہے۔ اگر مال خراب ہونے والا ہو یا اس کی حفاظت مشکل ہو، تو عدالت اسے کسی شخص کے حوالے کر سکتی ہے۔
​دفعہ 523 CrPC: جب پولیس کوئی مال دفعہ 51 یا کسی جرم کے شبہ میں قبضے میں لیتی ہے لیکن وہ مال ابھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہوتا، تو مجسٹریٹ اس کی واپسی کا حکم دے سکتا ہے۔
​2. سپرداری کرانے کا طریقہ کار (Procedure)
​سپرداری حاصل کرنے کے لیے درج ذیل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے:
​درخواست کی پیشی: مال کا اصل مالک (یا جس کے قبضے سے مال لیا گیا ہو) متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں دفعہ 516-A یا 523 CrPC کے تحت درخواست دائر کرتا ہے۔
​پولیس رپورٹ (Comments): عدالت پولیس سے اس مال کی حیثیت اور قبضے کی رپورٹ طلب کرتی ہے۔ پولیس بتاتی ہے کہ آیا مال مقدمے میں بطور "مقدمہ مال" (Case Property) ضروری ہے یا نہیں۔
​ملکیت کے ثبوت: درخواست گزار کو اپنی ملکیت ثابت کرنی ہوتی ہے (مثلاً گاڑی کی رجسٹریشن بک، انوائس، یا دیگر دستاویزات)۔
​عدالتی حکم اور مچلکہ (Surety Bond): اگر عدالت مطمئن ہو جائے، تو وہ سپرداری منظور کرتی ہے۔ اس کے بدلے میں درخواست گزار کو ایک "روبکار" جاری کی جاتی ہے، لیکن اس سے پہلے اسے مال کی مالیت کے برابر ضمانتی مچلکہ (Bond) جمع کرانا پڑتا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر مال عدالت میں پیش کیا جا سکے۔
​3. سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے رہنما اصول (Case Laws)
​اعلیٰ عدالتوں نے سپرداری کے حوالے سے کچھ اہم اصول طے کیے ہیں:
​مال کا ضائع ہونا: سپریم کورٹ نے کئی بار یہ واضح کیا ہے کہ گاڑیوں یا مشینوں کو تھانے میں کھڑا کر کے زنگ لگنے کے لیے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اس سے قومی اثاثہ ضائع ہوتا ہے۔ لہٰذا، سپرداری جلد از جلد ہونی چاہیے (2011 SCMR 1500).
​مالک کا حق: ہائی کورٹ کے فیصلوں کے مطابق، اگر ملکیت کے بارے میں کوئی تنازع نہ ہو، تو اصل مالک کو ترجیحی بنیادوں پر سپرداری ملنی چاہیے (PLD 2005 Lahore 27).
​کرمنل کیس اور سپرداری: اگر کسی گاڑی کا انجن یا چیسس نمبر ٹیمپرڈ (Tampered) ہو، تو ایسی صورت میں سپرداری دینے میں عدالتیں زیادہ احتیاط برتتی ہیں اور عام طور پر ایسی گاڑیاں مالک کے حوالے نہیں کی جاتیں جب تک فرانزک رپورٹ نہ آ جائے۔
​اہم نکات برائے وکیل
​بنا برآمدگی: اگر پولیس نے مال غلط طریقے سے قبضے میں لیا ہے، تو آپ دفعہ 523 CrPC کا سہارا لیں۔
​مال کی حفاظت: سپرداری لیتے وقت یہ شرط ہوتی ہے کہ آپ مال کو بیچیں گے نہیں اور نہ ہی اس کی شکل تبدیل کریں گے، کیونکہ وہ ٹرائل کے دوران بطور ثبوت پیش کرنا پڑ سکتا ہے۔

18/04/2026

وفاقی حکومت نے باقاعدہ طور پر سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت سرکاری ملازمین کے لیے اثاثہ جات کی تفصیلات، مفادات کے ٹکراؤ، سوشل میڈیا کے استعمال اور سیاسی سرگرمیوں سے متعلق سخت نئی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

یہ قواعد سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں، جن کی منظوری وزیرِاعظم پاکستان نے دی ہے، اور یہ فوری طور پر ملک بھر کے تمام سول سرونٹس، بشمول بیرونِ ملک تعینات افسران، پر لاگو ہوں گے۔

اثاثہ جات کی لازمی تفصیل اور آڈٹ
نئے قواعد کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کے لیے اپنے اثاثہ جات ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو سالانہ بنیادوں پر ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کروانا ہوں گی۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) ان تفصیلات کا آڈٹ کرے گا، جبکہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بعض معلومات کو عوام کے سامنے بھی لایا جا سکتا ہے۔

مفادات کے ٹکراؤ اور تحائف سے متعلق سخت پابندیاں
قواعد کے تحت سرکاری ملازمین کو ذاتی مالی مفادات اور سرکاری ذمہ داریوں کے درمیان کسی بھی قسم کے ٹکراؤ سے بچنا ہوگا۔ اگر کسی معاملے میں مفادات کا ٹکراؤ ہو تو متعلقہ افسر کو فیصلہ سازی سے علیحدہ ہونا ہوگا۔
مزید برآں، ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ایسے تحائف یا مراعات لینے سے منع کیا گیا ہے جو ان کے سرکاری فرائض پر اثر انداز ہو سکتے ہوں۔ بیرونی اعزازات یا خطابات حاصل کرنے کے لیے بھی پیشگی حکومتی اجازت لازمی ہوگی۔

سوشل میڈیا کے استعمال پر سخت کنٹرول
نئے قوانین کے تحت سرکاری ملازمین کو بغیر اجازت بلاگ، ولاگ یا کسی بھی میڈیا پلیٹ فارم کا حصہ بننے یا اسے چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر سرکاری معلومات شیئر کرنا مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
مزید یہ کہ ذاتی اور سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو الگ رکھنا ہوگا، اور حکام کسی بھی وقت ذاتی اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کر سکتے ہیں۔
سرکاری معاملات سے متعلق مواد کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرنا بھی سختی سے منع ہے۔

سیاسی سرگرمیوں اور اضافی ملازمت پر پابندی
قواعد میں واضح طور پر سرکاری ملازمین کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے، کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرنے یا حکومتی پالیسیوں پر کھلے عام تنقید کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، دورانِ ملازمت کسی نجی ادارے، بینک، این جی او یا غیر ملکی ادارے میں جز وقتی یا کل وقتی ملازمت اختیار کرنا بھی ممنوع ہوگا، سوائے ان صورتوں کے جن کی باقاعدہ منظوری حاصل ہو۔

پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور جوابدہی پر زور
نئے قواعد میں دیانتداری، نظم و ضبط، وقت کی پابندی اور ذمہ دارانہ رویے کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، چاہے وہ سرکاری فرائض کی انجام دہی ہو یا آن لائن سرگرمیاں۔
سرکاری ملازمین کو ایسی تحریریں، یادداشتیں یا مواد شائع کرنے سے بھی روکا گیا ہے جن میں خفیہ معلومات افشا ہونے کا امکان ہو۔

� “نکاح نامہ میں درج مہر کو ہلکا نہ لیں! عدالت کا بڑا فیصلہاس آئینی درخواست کے ذریعے درخواست گزار نے فیملی کورٹ اور ڈسٹر...
16/04/2026

� “نکاح نامہ میں درج مہر کو ہلکا نہ لیں! عدالت کا بڑا فیصلہ
اس آئینی درخواست کے ذریعے درخواست گزار نے فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ جج وہاڑی کے مورخہ 12.10.2024 اور 18.12.2024 کے فیصلوں کو چیلنج کیا ہے، جن کے ذریعے مدعا علیہ نمبر 3 (بیوی) کا حق مہر کی وصولی کا دعویٰ منظور کیا گیا۔

فریقین کی شادی 18.04.2011 کو ہوئی۔ نکاح کے وقت مہر 5000 روپے نقد، 5 تولہ چاندی اور 10 تولہ سونا مقرر ہوا۔ بیوی کا مؤقف تھا کہ مہر ادا نہیں ہوا، اس لیے وہ اس کی حقدار ہے۔ شوہر نے کہا کہ صرف 5000 روپے طے ہوئے اور ادا بھی کر دیے گئے، باقی اندراجات جعلی ہیں۔

ٹرائل کورٹ نے ثبوت سن کر دعویٰ منظور کیا، اپیل میں بھی فیصلہ برقرار رہا۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نچلی عدالتوں نے شواہد کو غلط پڑھا اور 10 تولہ سونا دینے کا حکم قانون کے خلاف ہے کیونکہ اس کی قیمت 5 لاکھ روپے درج تھی۔

دوسری طرف بیوی کے وکیل نے کہا کہ نکاح نامہ ایک عوامی دستاویز ہے، جسے درست مانا جاتا ہے، اور شوہر اس کو غلط ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

عدالت نے قرار دیا کہ:
• نکاح نامہ درست ہے اور شوہر نے اس پر دستخط تسلیم کیے۔
• شوہر نے اس کے خلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں کی۔
• مہر کی تمام اشیاء (نقد، چاندی، سونا) الگ الگ اور جمعی حیثیت رکھتی ہیں۔

خصوصاً 10 تولہ سونے کے بارے میں عدالت نے کہا کہ:
• اصل چیز سونا ہے، قیمت صرف اندازہ (indicative) ہے۔
• یہ نہیں کہا جا سکتا کہ صرف رقم ادا کرنی ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ:
• اگر سونا نہ دیا جائے تو اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو وصول کی جا سکتی ہے۔
• نچلی عدالتوں کے فیصلے درست ہیں اور ان میں مداخلت کی ضرورت نہیں۔

لہٰذا درخواست خارج کر دی گئی۔



🔹 خلاصہ (Precise Summary)

یہ کیس حق مہر کی وصولی سے متعلق تھا، جس میں:
• نکاح نامہ کے مطابق مہر = 5000 روپے + 5 تولہ چاندی + 10 تولہ سونا
• شوہر نے سونے اور چاندی کو جعلی قرار دیا
• عدالت نے کہا:
• نکاح نامہ ایک مستند دستاویز ہے
• شوہر اس کو غلط ثابت نہیں کر سکا
• مہر ایک مخلوط (composite) حق ہے (یعنی تمام اجزاء الگ الگ واجب الادا ہیں)

🔸 اہم نکتہ:
• 10 تولہ سونا ایک مستقل حق ہے
• 5 لاکھ روپے صرف اس کی اندازاً قیمت ہے، متبادل نہیں
• اگر سونا نہ دیا جائے تو اس کی مارکیٹ ویلیو (ex*****on کے وقت) ادا ہوگی

🔸 نتیجہ:
• نچلی عدالتوں کے فیصلے برقرار
• آئینی درخواست مسترد






بچوں کی حضانت (Custody) کے حوالے سے گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 کے سیکشن 12 اور 25 کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کی طلب کے م...
15/04/2026

بچوں کی حضانت (Custody) کے حوالے سے گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 کے سیکشن 12 اور 25 کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کی طلب کے مطابق ان کی تفصیلات اور اہم عدالتی فیصلے درج ذیل ہیں:
1. سیکشن 12 (عارضی تحویل - Interim Custody)
یہ سیکشن عدالت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کیس کے فیصلے تک بچے کی حفاظت اور تحویل کے لیے عارضی حکم جاری کرے۔
• مقصد: جب تک اصل کیس (سیکشن 25) کا فیصلہ نہیں ہوتا، بچہ کس کے پاس رہے گا یا والدین سے ملاقات کیسے ہوگی۔
• اہم نکتہ: عدالت بچے کی فوری فلاح و بہبود کو دیکھتی ہے۔
اہم ججمنٹ:
• 2021 MLD 560: اس میں قرار دیا گیا کہ باپ کو بچے سے ملنے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر مستقل کسٹڈی کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا، تب بھی ملاقات کا شیڈول بنانا عدالت کی ذمہ داری ہے۔
2. سیکشن 25 (مستقل تحویل - Permanent Custody)
یہ سیکشن اس وقت استعمال ہوتا ہے جب ایک سرپرست (Guardian) اپنے وارڈ (بچے) کی مستقل تحویل کا مطالبہ کرتا ہے جو اس کی تحویل سے نکل چکا ہو۔
• بنیادی اصول: اس سیکشن کے تحت فیصلہ صرف اور صرف "Welfare of the Minor" (بچے کی بھلائی) کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
اہم ججمنٹس:
• PLD 2018 Supreme Court 341: سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ماں کی دوسری شادی خود بخود اسے کسٹڈی سے محروم نہیں کرتی۔ اگر بچہ ماں کے پاس خوش اور محفوظ ہے، تو کسٹڈی اسے ہی دی جائے گی۔
• 2004 SCMR 1839: عدالت نے قرار دیا کہ محض باپ کی مالی حیثیت بہتر ہونا کسٹڈی حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں، بلکہ بچے کا ذہنی اور جذباتی لگاؤ دیکھا جائے گا۔
3. ماں اور باپ کے حقوق اور قانونی نکات
• ماں کا حق (Hizanat): اسلامی قوانین اور عدالتی رواج کے مطابق، لڑکا 7 سال تک اور لڑکی بلوغت تک ماں کے پاس رہنے کی حقدار ہے، بشرطیکہ ماں کا کردار اور حالات بچے کے لیے سازگار ہوں۔
• باپ کا حق: باپ بچے کا قدرتی نگہبان (Natural Guardian) ہے اور تمام اخراجات کا ذمہ دار ہے۔ اگر ماں بچے کی صحیح تربیت نہ کر سکے یا وہ دوبارہ شادی کر لے (کسی اجنبی سے)، تو باپ کسٹڈی کلیم کر سکتا ہے۔
• بچے کی مرضی (Preference): اگر بچہ سمجھدار ہے (عام طور پر 9 سال سے زائد)، تو عدالت اس سے پوچھ سکتی ہے کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتا ہے (1995 SCMR 1206).
آئینِ پاکستان اور بچوں کے حقوق
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 35 ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ "ماں اور بچے" کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔ عدالتیں اس آرٹیکل کی روشنی میں ہمیشہ "بچے کی فلاح و بہبود" (Welfare of the Minor) کو سب سے مقدم رکھتی ہیں۔ قانون کی نظر میں ماں یا باپ کے حقوق سے زیادہ بچے کا مفاد اہم ہوتا ہے۔
3. ماں اور باپ کے حقوق (قانونی نقطہ نظر)
• ماں کا حق (حقِ حضانت): اسلامی قانون اور پاکستانی عدالتی رواج کے مطابق، کم عمری میں بچہ ماں کے پاس رہنے کا زیادہ حقدار ہے (لڑکوں کے لیے 7 سال اور لڑکیوں کے لیے بلوغت تک)۔ تاہم، اگر ماں دوسری شادی کر لے (کسی اجنبی سے) یا اس کا کردار مشکوک ہو، تو یہ حق ختم ہو سکتا ہے۔
• باپ کا حق: باپ بچے کا "قدرتی نگہبان" (Natural Guardian) ہے۔ وہ بچے کے اخراجات اٹھانے کا پابند ہے۔ اگر ماں بچے کی صحیح پرورش نہ کر سکے یا وہ بچے کو باپ سے دور لے جائے، تو باپ کسٹڈی کا دعویٰ کر سکتا ہے۔
4. اہم عدالتی ججمنٹس (Judgments)
الف) بچے کی فلاح و بہبود (2004 SCMR 1839)
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کسٹڈی کے کیسز میں نہ تو ماں کا حق دیکھا جائے گا نہ باپ کا، بلکہ صرف یہ دیکھا جائے گا کہ بچے کا مستقبل کہاں بہتر ہے۔ اگر باپ زیادہ امیر ہے لیکن بچہ ماں سے مانوس ہے، تو بچہ ماں کو ہی ملے گا۔
ب) ماں کی دوسری شادی (PLD 2018 SC 341)
اس فیصلے میں واضح کیا گیا کہ محض دوسری شادی کر لینا ماں کو کسٹڈی سے محروم نہیں کرتا۔ اگر ماں کا دوسرا شوہر (سوتیلا باپ) بچے کے لیے شفیق ہے اور بچہ وہاں خوش ہے، تو عدالت کسٹڈی ماں کے پاس برقرار رکھ سکتی ہے۔
ج) سیکشن 12 کے تحت ملاقات کا حق (2021 MLD 560)
عدالتوں نے طے کیا ہے کہ باپ کو بچے سے ملنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ اگر کسٹڈی ماں کے پاس ہے، تو باپ کو ہفتہ وار یا ماہانہ بنیادوں پر عدالت کے اندر یا باہر ملاقات کا حق حاصل ہے، کیونکہ باپ سے محرومی بچے کی شخصیت پر منفی اثر ڈالتی ہے۔
5. قانونی نکات (Key Legal Points)
1. بچے کی ترجیح: اگر بچہ سمجھدار ہے (عام طور پر 9 سال سے اوپر)، تو جج اسے چیمبر
میں بلا کر اس کی اپنی مرضی بھی پوچھ سکتا ہے۔
2. حالات کی تبدیلی: کسٹڈی کا فیصلہ کبھی "حتمی" نہیں ہوتا۔ اگر حالات بدل جائیں (مثلاً ماں بیمار ہو جائے یا باپ بیرون ملک چلا جائے)، تو کسٹڈی کا کیس دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔
3. خرچہ (Maintenance): کسٹڈی چاہے جس کے پاس بھی ہو، بچے کا خرچہ اٹھانا باپ کی قانونی ذمہ داری ہے۔

Cyber Crime Lawyer


اسلام آباد ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ طلاق یافتہ بیٹی بھی فیملی پنشن کی حقدار قراراسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک نہایت اہم اور اص...
15/04/2026

اسلام آباد ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ طلاق یافتہ بیٹی بھی فیملی پنشن کی حقدار قرار
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک نہایت اہم اور اصولی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ طلاق یافتہ بیٹی بھی فیملی پنشن کی حقدار ہے اور اسے صرف اس بنیاد پر محروم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ پہلے شادی شدہ رہی ہے۔

کیس کا پس منظر: درخواست گزار ایک ریٹائرڈ ملازم کی طلاق یافتہ بیٹی تھی، جسے والد کے انتقال کے بعد متعلقہ کمپنی (OGDCL) کی جانب سے فیملی پنشن دینے سے انکار کر دیا گیا۔ کمپنی کا مؤقف تھا کہ وہ “غیر شادی شدہ بیٹی” کی تعریف میں نہیں آتی۔

عدالت کا فیصلہ اور قانونی نکات:

🔹 عدالت نے قرار دیا کہ فیملی پنشن کا بنیادی مقصد مرحوم ملازم کے زیر کفالت افراد کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اس کی وفات کے بعد مشکلات کا شکار نہ ہوں۔

🔹 عدالت نے واضح کیا کہ پنشن کوئی خیرات نہیں بلکہ ایک قانونی حق ہے، جو ملازم کی خدمات کے بدلے میں دیا جانے والا مؤخر معاوضہ (Deferred Compensation) ہے۔

🔹 عدالت نے کہا کہ قوانین کی تشریح کرتے وقت سماجی بہبود اور معاشی تحفظ کے وسیع تر مقصد کو مدنظر رکھنا چاہیے، نہ کہ تنگ یا تکنیکی انداز اپنایا جائے۔

🔹 عدالت کے مطابق، طلاق کے بعد بیٹی دوبارہ غیر شادی شدہ حیثیت میں آ جاتی ہے، لہٰذا اسے “Unmarried Daughter” کے زمرے سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔

🔹 عدالت نے قرار دیا کہ کمپنی کا جاری کردہ لیٹر:

قانون کے منافی تھا

آئینی اصولوں کے خلاف تھا

اور دراصل ایک غیر مجاز انتظامی اقدام کے ذریعے قانون میں ترمیم کے مترادف تھا

🔹 عدالت نے مزید کہا کہ طلاق یافتہ بیٹی کو خارج کرنا امتیازی سلوک (Discrimination) ہے، جو آئین میں دیے گئے برابری کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔

عدالتی احکامات:

✔️ کمپنی کا متنازعہ لیٹر کالعدم قرار دے دیا گیا
✔️ درخواست گزار کو فیملی پنشن منتقل کرنے کا حکم دیا گیا
✔️ 2016 سے اب تک کی تمام بقایاجات اور اضافہ شدہ رقم ادا کرنے کی ہدایت
✔️ پنشن کا کمیوٹڈ حصہ بھی بحال کر کے ادا کرنے کا حکم

اہم قانونی اصول: 📌 کوئی بھی درجہ بندی (Classification) تبھی درست ہوتی ہے جب:

اس کی بنیاد معقول ہو

اور اس کا قانون کے مقصد سے براہ راست تعلق ہو

بصورت دیگر، ایسا امتیاز آئین کے تحت ناقابل قبول ہے۔

نتیجہ: یہ فیصلہ نہ صرف طلاق یافتہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ اس بات کی بھی توثیق کرتا ہے کہ ریاستی اور نیم سرکاری ادارے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے شہریوں کے قانونی حقوق سلب نہیں کر سکتے۔

۔



14/04/2026

🛑آپ کا واٹس ایپ ہیک ہو جائے تو گھبرانے کے بجائے درست اقدام اٹھائیں

چند آسان مراحل کے ذریعے اپنا واٹس ایپ اکاؤنٹ دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے

مزید آگاہی کے لئے ویڈیو ملاحظہ فرمائیں.

Cyber Crime Lawyer



⚖️ نمبرداری کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہلاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم کیس میں واضح کیا ہے کہ نمبردار کی تقرری کس...
14/04/2026

⚖️ نمبرداری کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم کیس میں واضح کیا ہے کہ نمبردار کی تقرری کسی کا موروثی یا قانونی حق نہیں بلکہ ریونیو حکام کا انتظامی اختیار ہے۔
🔹 اہم قانونی نکات
✔ نمبرداری حق نہیں، اختیار ہے
نمبردار کی تقرری کسی فرد کا پیدائشی یا خاندانی حق نہیں، بلکہ یہ مکمل طور پر ریونیو حکام کا صوابدیدی اختیار ہے۔
✔ ریونیو حکام کی صوابدید
عدالت نے قرار دیا کہ کلکٹر اور کمشنر جیسے افسران اس بات کے بہترین جج ہیں کہ کون شخص اس عہدے کے لیے موزوں ہے۔
✔ ہائیکورٹ کا محدود کردار
لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ وہ اپیلٹ فورم نہیں ہے۔
عدالت صرف اسی صورت میں مداخلت کرتی ہے جب:
👉 فیصلہ غیر قانونی ہو
👉 یا دائرہ اختیار سے تجاوز کیا گیا ہو
🔹 نظرثانی (Review) کا اختیار
📘 ویسٹ پاکستان بورڈ آف ریونیو ایکٹ 1957 کے سیکشن 8 کے تحت:
✔ بورڈ آف ریونیو اپنے فیصلے پر نظرثانی کر سکتا ہے
✔ بشرطیکہ ریکارڈ میں واضح غلطی موجود ہو
🔹 عدالت کا حتمی فیصلہ
❗ عدالت نے قرار دیا:
✔ درخواست گزار کوئی قانونی غلطی ثابت نہ کر سکا
✔ ہائیکورٹ مداخلت کی مجاز نہیں تھی
👉 نتیجہ:
📌 رٹ پٹیشن خارج کر دی گئی
📌 محمد ارشد کی بطور نمبردار تقرری برقرار رکھی گئی
📌 اہم پیغام
⚠️ نمبرداری ذاتی حق نہیں بلکہ حکومتی صوابدید ہے
⚠️ ہر معاملہ ہائیکورٹ نہیں لے جایا جا سکتا
📍 ایڈووکیٹ قمر ضیاء سندھو

#حقوق #قانون #نمبردار #ریونیو

پنجاب حکومت کی طرف سے ریئل اسٹیٹ اور اراضی میں سرمایہ کاری کا نادر موقع!بارہ ماہ تک قابلِ تفویض دستاویز پر صرف 1% اسٹامپ...
13/04/2026

پنجاب حکومت کی طرف سے ریئل اسٹیٹ اور اراضی میں سرمایہ کاری کا نادر موقع!

بارہ ماہ تک قابلِ تفویض دستاویز پر صرف 1% اسٹامپ ڈیوٹی اور 0.1%سروس چارجز کے علاوہ کسی قسم کا کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔

زرعی زمینوں کے انتقال/ رجسڑی فیس میں بھی نمایاں کمی۔
اسٹامپ آرسیننس ۲۰۲۶ (ترمیمی)

جائیداد کی محفوظ اور آسان منتقلی۔
تفصیلات کے لیے پوسٹ ملاحظہ فرمائیں 👇
شفافیت، سہولت، تحفظ

Govt of Punjab Board of Revenue, Punjab

Address

Al-Rehan Building Near Judges Gate High Court Multan
Multan

Telephone

+923006906336

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Cyber Crime Lawyer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Cyber Crime Lawyer:

Share