24/08/2026
لاہور ہائیکورٹ نے، شفیق خوشنود بنام میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، لاہور جنرل ہسپتال وغیرہ میں قرار دیا کہ کسی ملازم پر سنگین بدعنوانی یا بدعنوانی پر مبنی الزام عائد کرتے ہوئے، خصوصاً جب وہ الزام متنازع حقائق اور شہادت پر منحصر ہو، محض شوکاز نوٹس کی بنیاد پر بڑی سزا عائد نہیں کی جا سکتی۔ ایسے معاملے میں ملازم کو مناسب اور مؤثر دفاع کا موقع دینا اور قانون کے مطابق باقاعدہ انکوائری کرنا ضروری ہے۔
عدالت کے سامنے معاملہ یہ تھا کہ درخواست گزار، جو لاہور جنرل ہسپتال میں سیکیورٹی گارڈ تھا، پر الزام لگایا گیا کہ وہ 1 مئی 2024 کو صبح تقریباً 4:30 بجے اے سی کے پائپ چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور بعد ازاں ڈیوٹی سے غیر حاضر رہا۔ محکمہ نے شوکاز نوٹس جاری کیا لیکن باقاعدہ انکوائری کو یہ کہہ کر ختم کر دیا کہ انکوائری ضروری نہیں۔ درخواست گزار نے الزامات سے انکار کیا اور اپنا مؤقف پیش کیا کہ وہ موقع پر پہنچا تھا لیکن وہاں کوئی شخص موجود نہیں تھا اور وہ ڈیوٹی سے بھی غیر حاضر نہیں تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ جب ملازم الزامات سے انکار کرے اور معاملہ متنازع حقائق پر مشتمل ہو تو انکوائری ختم کرنے کے لیے محض اتنا کہنا کہ انکوائری ضروری نہیں، کافی نہیں۔ اگر محکمہ باقاعدہ انکوائری سے استثنیٰ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے واضح، منطقی اور قابلِ جواز وجوہات تحریری طور پر بیان کرنا ہوں گی۔ بالخصوص ایسے معاملے میں جہاں گواہوں کے بیانات، دستاویزی ریکارڈ اور دیگر شہادت کی بنیاد پر الزام ثابت ہونا ہو، ملازم کو گواہوں سے جرح، اپنے گواہ پیش کرنے اور مؤثر دفاع کا حق دیا جانا ضروری ہے۔
عدالت نے Article 4 اور Article 10-A of the Constitution کے تحت قانونی تحفظ، due process اور fair trial/fair hearing کے اصولوں پر زور دیا۔ عدالت کے مطابق کسی شخص کو اس کے خلاف عائد الزامات کا مؤثر دفاع کرنے کا موقع دیے بغیر سزا دینا اصولِ انصاف اور due process کے منافی ہے۔ عدالت نے اس اصول کو سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں، بالخصوص Arbab and others v. Province of Sindh (2026 SCMR 300)، Saad Salam Ansari v. Chief Justice of Sindh High Court (2007 SCMR 1726)، Chief Engineer GEPCO v. Khalid Mehmood (2023 SCMR 291)، Naseeb Khan v. Divisional Superintendent Pakistan Railways (2008 SCMR 1369) اور دیگر فیصلوں کی روشنی میں واضح کیا۔
فیصلے کا ایک نہایت اہم پہلو یہ بھی ہے کہ عدالت نے PEEDA Act, 2006 کی Section 4 کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ مذکورہ قانون میں بطور سزا “termination from service” شامل نہیں ہے۔ قانون میں major penalties میں removal from service اور dismissal from service وغیرہ شامل ہیں، لیکن “termination” بطور سزا درج نہیں۔ چونکہ محکمہ نے PEEDA Act کے تحت کارروائی شروع کرکے درخواست گزار کو “termination from service” کی سزا دی، اس لیے عدالت نے اس سزا کو قانون کے مطابق نہ ہونے کی بنیاد پر غیر قانونی قرار دیا۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ محکمانہ اپیل کا فیصلہ بھی mechanical اور perfunctory manner میں کیا گیا، جبکہ بنیادی اعتراضات اور قانونی تقاضوں کا مناسب جائزہ نہیں لیا گیا۔ عدالت کے مطابق جب major penalty عائد کی جا رہی ہو اور الزام متنازع حقائق پر مبنی ہو تو صرف شوکاز نوٹس کی بنیاد پر ملازم کو ملازمت سے فارغ کرنا قدرتی انصاف کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
نتیجتاً لاہور ہائی کورٹ نے دونوں impugned orders کو set aside کرتے ہوئے درخواست گزار کو ملازمت پر بحال کر دیا۔ عدالت نے competent authority کو اختیار دیا کہ اگر قانون کے مطابق ضروری سمجھے تو درخواست گزار کے خلاف الزامات پر باقاعدہ انکوائری کرائے اور اس کے بعد قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔ عدالت نے back benefits کے معاملے کو بھی competent authority کے سپرد کیا۔ یوں آئینی درخواست partly allowed کر دی گئی۔
اہم Ratio Decidendi:
جب محکمانہ الزام متنازع حقائق پر مبنی ہو اور اسے ثابت کرنے کے لیے شہادت، گواہوں اور جرح کی ضرورت ہو تو major penalty عائد کرنے سے پہلے باقاعدہ انکوائری اور مؤثر حقِ دفاع فراہم کرنا لازم ہے۔ انکوائری سے استثنیٰ صرف واضح اور قابلِ جواز تحریری وجوہات کی بنیاد پر دیا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ PEEDA Act, 2006 کے تحت ایسی سزا عائد نہیں کی جا سکتی جو Section 4 میں بطور penalty موجود ہی نہ ہو؛ “termination from service” اس قانون میں prescribed penalty نہیں ہے۔