22/05/2026
لاہور ہائیکورٹ کا عدالتی تاریخ کا منفرد فیصلہ
رقم کی قدر برقرار رکھنے کے لیے بیوی کو روپے کے بجائے سونے یا امریکی ڈالر کے حساب سے وصولی کا تاریخی اختیار دے دیا۔
۱۔ کیس کے حقائق (Facts of the Case)
شادی اور تنازع:
صنم شہزادی (سائلہ/Petitioner) کی شادی ۱۷ ستمبر ۲۰۰۹ کو محمد انور (مسئول علیہ/Respondent) سے ہوئی۔ ان کا ایک بیٹا "محمد نور اللہ" پیدا ہوا۔ محمد انور نے ایک اور خاتون (عصمت طاہرہ) سے دوسری شادی کر رکھی تھی، جس کی وجہ سے میاں بیوی کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے اور صنم شہزادی کو گھر سے نکال دیا گیا، جس کے بعد وہ اپنے والدین کے گھر رہنے لگی۔
راضی نامہ/معاہدہ (07.10.2010):
دونوں خاندانوں کے بڑوں اور معززین نے مداخلت کر کے میاں بیوی میں صلح کروائی۔ اس صلح کے نتیجے میں ۷ اکتوبر ۲۰۱۰ کو ایک تحریری راضی نامہ (معاہدہ نمبر 979) طے پایا، جس میں شوہر (محمد انور) نے درج ذیل ذمہ داریاں اٹھائیں:
بیوی کو ۲,۰۰۰ روپے ماہانہ جیب خرچ دے گا۔
بیٹے نور اللہ کے نام ۵ مرلہ زمین منتقل کرے گا (جو شوہر کے والد نے گفٹ کے ذریعے منتقل کر بھی دی تھی)۔
اس ۵ مرلہ زمین پر ۳ ماہ کے اندر کم از کم ۱۳ لاکھ روپے کی لاگت سے بیوی کے لیے گھر تعمیر کر کے دے گا۔
بیوی کو علیحدہ اور خوش رکھے گا۔
خلاف ورزی کی صورت میں:
اگر شوہر نے اس معاہدے کی کسی بھی شرط کی خلاف ورزی کی، تو وہ بیوی کو ۲۵ لاکھ روپے بطور ہرجانہ/جرمانہ ادا کرنے کا پابند ہوگا۔
مقدمات کا آغاز:
صنم شہزادی نے الزام لگایا کہ شوہر نے معاہدے کی خلاف ورزی کی (گھر تعمیر نہیں کیا اور نہ علیحدہ رہائش دی)، لہٰذا اس نے ۲۵ لاکھ روپے ہرجانے کی وصولی کا دعویٰ دائر کر دیا۔
جواب میں شوہر (محمد انور) نے اس معاہدے کو منسوخ کرانے کے لیے ایک الگ دعویٰ دائر کر دیا۔ شوہر کا موقف تھا کہ اس سے یہ معاہدہ "ناجائز دباؤ" (Undue Influence) کے تحت زبردستی سائن کروایا گیا تھا اور اصل مقصد بیوی کا گھر آباد کرنا تھا، لیکن بیوی واپس نہیں آئی۔
۲۔ سول/ٹرائل کورٹ کا فیصلہ اور وجوہات (Trial Court Decision & Reasons)
ٹرائل کورٹ نے دونوں مقدمات کو یکجا (Consolidate) کیا اور گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد ۱۹ جنوری ۲۰۱۶ کو بیوی (صنم شہزادی) کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اس کا دعویٰ ڈگری کر دیا اور شوہر کا معاہدہ منسوخی کا دعویٰ خارج کر دیا۔
ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی وجوہات:
شوہر نے یہ تسلیم کیا تھا کہ صلح کے لیے اسٹامپ پیپر اس نے خود خریدا تھا اور دستخط بھی اس کے اپنے تھے۔
شوہر یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ اس پر کوئی ناجائز دباؤ (Undue Influence) ڈالا گیا تھا۔
شوہر نے خود اعتراف کیا کہ اس نے معاہدے کے تحت ۳ ماہ میں گھر تعمیر نہیں کیا، جس سے معاہدے کی خلاف ورزی ثابت ہوئی۔
۳۔ اپیلٹ کورٹ (ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج) کا فیصلہ اور وجوہات
شوہر نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سیالکوٹ نے ۲۰ مارچ ۲۰۱۷ کو ٹرائل کورٹ کا فیصلہ الٹ دیا، بیوی کا دعویٰ خارج کر دیا اور شوہر کے حق میں فیصلہ دے دیا۔
اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کی وجوہات:
عدالت نے اس بات کو بنیاد بنایا کہ راضی نامے کے وقت بیوی خود اس پنچایت یا مجلس میں موجود نہیں تھی، اس لیے یہ معاہدہ یکطرفہ معلوم ہوتا ہے۔
عدالت کا موقف تھا کہ معاہدے کا اصل مقصد میاں بیوی کا اکٹھے رہنا (Cohabitation) تھا، اور چونکہ بیوی مستقل طور پر شوہر کے گھر آ کر نہیں رہی، اس لیے معاہدہ ختم ہو گیا اور شوہر ہرجانہ دینے کا پابند نہیں۔
۴۔ لاہور ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ اور وجوہات
بیوی نے اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں سول ریوائزن (Civil Revision) دائر کی۔ ہائی کورٹ کے جج جسٹس راحیل کامران نے اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ سائیڈ پر رکھ کر ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا اور بیوی کے حق میں ڈگری جاری کر دی۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کی وجوہات
ناجائز دباؤ (Undue Influence) کا غیر ثابت ہونا: ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ دباؤ تھا۔ شوہر ایک بالغ مرد تھا، اس نے یکم اکتوبر کو اسٹامپ خریدا اور ۷ اکتوبر کو معاہدہ لکھا گیا۔ اس ۷ دن کے وقفے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی اچانک یا زبردستی کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ سوچا سمجھا معاہدہ تھا۔
جزوی عمل درآمد (Partial Performance):
معاہدے پر لکھنے سے پہلے ہی شوہر کے والد نے پوتے کے نام ۵ مرلہ زمین گفٹ کر دی تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شوہر کا خاندان اس صلح سے پوری طرح واقف تھا اور یہ ایک حقیقی خاندانی تصفیہ (Family Settlement) تھا۔
شرطِ اول کیا تھی؟: ہائی کورٹ نے اپیلٹ کورٹ کے اس نقطے کو مسترد کر دیا کہ بیوی پہلے آ کر رہتی۔ عدالت نے کہا کہ کشیدہ تعلقات اور دوسری بیوی کی موجودگی کی وجہ سے شوہر نے ۳ ماہ میں علیحدہ گھر بنا کر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ شوہر خود اپنی شرط (گھر کی تعمیر) پوری کرنے میں ناکام رہا، اس لیے وہ سارا ملبہ بیوی پر نہیں ڈال سکتا۔ بیوی تو معاہدے کے بعد ایک دن کے لیے آئی بھی تھی، جس سے اس کی نیت صاف ظاہر ہوتی ہے۔
مجلس میں بیوی کی غیر موجودگی:
ہمارے معاشرتی پس منظر میں میاں بیوی کی صلح کے معاملات میں خاتون کے بزرگ (والد یا چچا) اس کی طرف سے بات چیت کرتے ہیں۔ اس لیے بیوی کا دستخط نہ کرنا یا وہاں جسمانی طور پر موجود نہ ہونا معاہدے کو غیر قانونی نہیں بناتا، خصوصاً جب وہ خود اس معاہدے کو تسلیم کر رہی ہو۔
۵۔ زرِ تلافی کی قدر برقرار رکھنے کا خصوصی حکم (Moulding of Relief)
عدالت نے ایک انتہائی اہم قانونی نکتہ اٹھایا۔ چونکہ یہ معاہدہ ۲۰۱۰ کا تھا اور ہرجانے کی رقم ۲۵ لاکھ روپے طے ہوئی تھی، اور اب (۲۰۲۶ میں) طویل عرصہ گزرنے کی وجہ سے روپے کی قدر (Value of Money) بہت کم ہو چکی ہے۔
عدالت نے سائلہ (بیوی) کو یہ اختیار دیا کہ وہ ۲۵ لاکھ روپے کی وصولی کے لیے دو میں سے کسی ایک طریقے کا انتخاب کر سکتی ہے تاکہ رقم کی اصل قوتِ خرید برقرار رہے:
یا تو وہ ادائیگی کے وقت کے امریکی ڈالر (US Dollar) کے ایکسچینج ریٹ کے حساب سے اتنی رقم وصول کرے۔
یا پھر وہ ادائیگی کے وقت مارکیٹ میں سونے (Gold) کی قیمت کے حساب سے اس رقم کے برابر سونا یا رقم وصول کرے۔
Civil Revision 24335/17
(Sanam Shahzadi Vs Muhammad Anwar)
Mr. Justice Raheel Kamran
゚