Legal Desk

Legal Desk Legal information desk
(1)

مشترکہ جائیداد کے مالکان شریک مالک بعض حالات ین بغیر تقسیم کروائے سٹے حاصل کر سکتا ہے
25/06/2026

مشترکہ جائیداد کے مالکان شریک مالک بعض حالات
ین بغیر تقسیم کروائے سٹے حاصل کر سکتا ہے

25/06/2026

عبرتناک انجام
سرگودھا کی معصوم کلی کو کچلنے والے درندے کو مقامی لوگوں نے مقامی قبرستان میں دفن نہ ہونے دیا پولیس دوسرے قریبی قبرستان میں لے گئی دفنا دیا تو وہاں کے لوگ بھی اب اس درندے کو قبر سے نکال باہر پھینکنے کا کہہ رہے ہیں

جائیداد کی قیمتوں میں اضافہ Equity Relief پر اثر انداز ہوتا ہےعدالت نے تسلیم کیا کہ غیر منقولہ جائیداد کی قیمتیں تیزی سے...
25/06/2026

جائیداد کی قیمتوں میں اضافہ Equity Relief پر اثر انداز ہوتا ہےعدالت نے تسلیم کیا کہ غیر منقولہ جائیداد کی قیمتیں تیزی سے بڑھتی ہیں، لہٰذا اگر خریدار تاخیر کرتا رہے تو بیچنے والے کو مالی نقصان ہوتا ہے؟اس لیے عدالت equitable relief دیتےوقت مارکیٹ کے حالات کو مد نظر رکھتی ہے۔
2026 LHC 2556

‏رخصتی نہ ہونے یا میاں بیوی کے ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار ہے۔لاہور ہائیکورٹ کا حکم   لاہورہائیکورٹ...
24/06/2026

‏رخصتی نہ ہونے یا میاں بیوی کے ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار ہے۔لاہور ہائیکورٹ کا حکم

لاہورہائیکورٹ کے جسٹس مرزا وقاص روف کا خلع کی صورت میں حق مہر کی واپسی سے متعلق اہم فیصلہ
جسٹس مرزا وقاص روف نے حق مہر سے متعلق نیا قانونی نکتی طے کردیا
رخصتی نہ ہونے یا ازدواجی تعلق قائم نہ ہونے سے بھی مہر کا قانون ختم نہیں ہوتا۔لاہور ہائیکورٹ
لاہورہائیکورٹ کے جسٹس مرزا وقاص روف نے اذکا آفرین کی درخواست پر 9صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا
اگر نکاح نامے میں مہر کی ادائیگی کا وقت نہ لکھا ہو تو پورا مہر فوری طور پر دیناہو گا۔فیصلہ
مہر کی تفصیل واضح نہ ہونے پر قانون کے مطابق سارا مہر جب مانگا جائے تب ہی واجب الادامانا جائے گا۔فیصلہ
نکاح نامے میں لکھا گیا 10 تولہ سونا، ایک کنال زمین اور مکان فوری ادائیگی والا مہر ہے۔فیصلہ
خلع یعنی عورت کی طرف سےشادی ختم کرنے پر وہ مہر کا 25 فیصد حصہ شوہر کو واپس کرنے کی پابند ہے۔فیصلہ
خلع کی بنیاد پر شادی اس صورت میں فوری ختم ہوگی بشرطیکہ خاتون مہر کا 25 فیصد حصہ شوہر کو واپس کرے۔فیصلہ
ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں کی غلطی دور کرتے ہوئے ازکا افرین کی درخواست منظور کر لی
‏رخصتی نہ ہونے یا میاں بیوی کے ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار ہے۔لاہور ہائیکورٹ کا حکم..
درخواست گزار مسماۃ ازکیٰ عفرین کا نکاح 3 اگست 2014ء کو مدعا علیہ حافظ عمر یاسین کے ساتھ اسلامی تعلیمات کے مطابق منعقد ہوا۔ نکاح کے بعد رخصتی اور ازدواجی تعلقات قائم ہونے سے قبل ہی فریقین کے درمیان اعتماد اور باہمی ہم آہنگی ختم ہوگئی، جس کے نتیجہ میں بیوی نے فیملی کورٹ راولپنڈی میں تنسیخِ نکاح، حق مہر، نان و نفقہ اور دیگر متعلقہ حقوق کی وصولی کے لیے دعویٰ دائر کیا۔ مدعا علیہ نے دعویٰ کی مخالفت کرتے ہوئے تحریری جواب جمع کروایا۔ فریقین کے متضاد مؤقف کی بنیاد پر عدالت نے ضروری نکات وضع کیے اور دونوں جانب سے شواہد قلمبند کیے گئے۔

فیملی کورٹ نے شواہد مکمل ہونے کے بعد دعویٰ جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ پندرہ تولہ سونے میں سے پانچ تولہ سونا فوری (Prompt) حق مہر تھا جبکہ باقی دس تولہ سونا اور ایک کنال زمین بمعہ تعمیر شدہ مکان مؤخر (Deferred) حق مہر تھا۔ عدالت نے بیوی کو اڑھائی تولہ سونا اور نصف کنال زمین بمعہ تعمیر شدہ مکان یا اس کی قیمت وصول کرنے کا حق دیا۔ اس فیصلے کے خلاف دونوں فریقین نے اپیلیں دائر کیں۔ اپیلیٹ کورٹ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ ازدواجی تعلقات قائم نہیں ہوئے تھے، اس لیے بیوی حق مہر کی مستحق نہیں، لہٰذا فیملی کورٹ کے فیصلے میں ترمیم کرتے ہوئے حق مہر کا دعویٰ مسترد کر دیا۔

درخواست گزار نے آئینی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ نکاح نامہ کے مطابق مقررہ حق مہر عندالطلب (Payable on Demand) تھا اور فیملی کورٹس ایکٹ 1964ء کی دفعہ 10(5) کے تحت خلع کی صورت میں صرف پچیس فیصد فوری حق مہر واپس کیا جا سکتا ہے، جبکہ باقی پچھتر فیصد حق مہر کی وہ مستحق ہے۔ اس کے برعکس مدعا علیہ کا مؤقف تھا کہ پانچ تولہ سونا فوری حق مہر تھا جو ادا کر دیا گیا تھا جبکہ باقی حق مہر مؤخر تھا اور رخصتی سے مشروط تھا، لہٰذا عدمِ رخصتی اور عدمِ مواقعت کی وجہ سے بیوی کسی مزید حق مہر کی حق دار نہیں۔

📍قانونی نکات

عدالتِ عالیہ نے سب سے پہلے نکاح نامہ کی شقوں کا جائزہ لیا اور مشاہدہ کیا کہ دس تولہ سونا اور ایک کنال زمین بمعہ مکان کے بارے میں نکاح نامہ میں لفظ "عندالطلب" درج تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ "عندالطلب" کا مطلب یہ ہے کہ حق مہر مطالبہ پر فوراً قابلِ ادائیگی ہے۔ مزید یہ کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961ء کی دفعہ 10 کے مطابق اگر نکاح نامہ میں حق مہر کی ادائیگی کا طریقہ واضح نہ کیا گیا ہو تو پورا حق مہر عندالطلب تصور کیا جاتا ہے۔ لہٰذا شوہر کا یہ مؤقف کہ باقی حق مہر مؤخر تھا، نہ صرف اس کی تحریری جواب دہی میں موجود نہیں تھا بلکہ نکاح نامہ اور قانون دونوں کے منافی بھی تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ اسلامی قانون اور حنفی فقہ کے مطابق اگر مؤخر حق مہر کی ادائیگی کے لیے کوئی مخصوص وقت مقرر نہ کیا گیا ہو تو وہ بھی عندالطلب اور فوری حق مہر شمار ہوتا ہے۔ چنانچہ موجودہ مقدمہ میں پورا بقایا حق مہر فوری نوعیت کا تھا اور اس کی ادائیگی کسی رخصتی، مواقعت یا کسی اور شرط سے مشروط نہیں تھی۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ چونکہ نکاح خلع کی بنیاد پر ختم ہوا تھا، اس لیے فیملی کورٹس ایکٹ 1964ء کی دفعہ 10(5) براہِ راست قابلِ اطلاق تھی۔ مذکورہ دفعہ کے مطابق اگر خلع کی بنیاد پر نکاح تحلیل ہو تو عدالت بیوی کو اس کے تسلیم شدہ فوری حق مہر کا زیادہ سے زیادہ پچیس فیصد یا مؤخر حق مہر کا زیادہ سے زیادہ پچاس فیصد شوہر کے حق میں واپس کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔ اس قانونی حکم کی موجودگی میں اپیلیٹ کورٹ کا یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ عدمِ مواقعت کی بنا پر بیوی مکمل حق مہر سے محروم ہو جائے گی، قانون کے منافی قرار دیا گیا۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے مقدمہ Mst. Rafia Yaqoob v. Suleman Ayub (2026 SCMR 561) پر انحصار کرتے ہوئے قرار دیا کہ خلع کے مقدمات میں حق مہر کی واپسی کا معاملہ دفعہ 10(5) فیملی کورٹس ایکٹ کے مطابق طے ہوگا اور اس مقصد کے لیے فقہی مباحث یا دیگر مذہبی تشریحات میں جانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ قانون اس حوالے سے واضح اور غیر مبہم ہے۔

عدالت نے وفاقی شرعی عدالت کے اس فیصلے کا بھی جائزہ لیا جس میں دفعہ 10(5) اور 10(6) کو غیر شرعی قرار دیا گیا تھا۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ اس فیصلے کے خلاف آئین کے آرٹیکل 203F کے تحت اپیل دائر ہو چکی تھی، اس لیے آئین کے آرٹیکل 203D کے مطابق وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ حتمی طور پر نافذ العمل نہیں ہوا تھا۔ نتیجتاً دفعہ 10(5) مقدمہ کے فیصلہ کے وقت بدستور نافذ اور مؤثر قانون تھی اور عدالتیں اس کی پابند تھیں۔

📍اصولِ قانون (Ratio Decidendi)

نکاح نامہ میں "عندالطلب" درج ہونے کی صورت میں حق مہر فوری (Prompt Dower) شمار ہوگا۔
اگر مؤخر حق مہر کی ادائیگی کے لیے کوئی مخصوص مدت یا شرط مقرر نہ ہو تو وہ بھی عندالطلب اور فوری حق مہر تصور کیا جائے گا۔

خلع کی صورت میں بیوی کو مکمل حق مہر سے محروم نہیں کیا جا سکتا بلکہ فیملی کورٹس ایکٹ 1964ء کی دفعہ 10(5) کے مطابق صرف مقررہ تناسب سے حق مہر واپس کرنے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔

عدمِ مواقعت یا عدمِ رخصتی بذاتِ خود بیوی کو حق مہر سے محروم کرنے کی بنیاد نہیں بنتی جہاں حق مہر فوری نوعیت کا ہو۔

وفاقی شرعی عدالت کے کسی فیصلے کے خلاف اپیل زیرِ التواء ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی دفعہ مؤثر اور نافذ العمل رہتی ہے۔

📍فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ فیملی کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ دونوں نے حق مہر کی نوعیت اور دفعہ 10(5) فیملی کورٹس ایکٹ 1964ء کی قانونی حیثیت کو درست طور پر نہیں سمجھا۔ چنانچہ حق مہر کے متعلق دونوں عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے گئے۔ عدالت نے حکم دیا کہ فریقین کے درمیان نکاح خلع کی بنیاد پر تحلیل شدہ تصور ہوگا، تاہم درخواست گزار بیوی بقایا فوری حق مہر کی حقدار ہوگی، البتہ اسے قانون کے مطابق فوری حق مہر کا پچیس فیصد حصہ شوہر کے حق میں واپس کرنا ہوگا جبکہ باقی پچھتر فیصد حق مہر وصول کرنے کی مجاز ہوگی۔

ملک جان 1991 میں انتقال کر گئے اور اپنے پیچھے دو بیویوں اور متعدد بیٹے بیٹیوں کو وارث چھوڑ گئے۔انتقال کے بعد بھائیوں نے ...
24/06/2026

ملک جان 1991 میں انتقال کر گئے اور اپنے پیچھے دو بیویوں اور متعدد بیٹے بیٹیوں کو وارث چھوڑ گئے۔

انتقال کے بعد بھائیوں نے 1997ء میں جائیداد آپس میں تقسیم کر لی اور بعد میں 2012ء میں ثالثی اور خاندانی معاہدے بھی کیے۔

بہنوں کا موقف تھا کہ انہیں نہ تقسیم میں شامل کیا گیا اور نہ ہی ان کے شرعی حصص دیے گئے۔

بھائیوں نے مؤقف اختیار کیا کہ جائیداد پہلے ہی تقسیم ہو چکی ہے اور تمام وارث اپنے حصص حاصل کر چکے ہیں۔

عدالت نے پایا کہ بہنیں نہ تو خاندانی تصفیہ اور ثالثی معاہدوں فریق تھیں اور نہ انہوں نے ان کی منظوری دی تھی، اس لیے معاہدے ان پر لازم نہیں تھے۔ وہ

بلوچستان ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ خواتین وارثوں کو وراثت سے

محروم نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا تمام جائیداد شرعی حصص کے مطابق تمام وارثوں میں تقسیم کی جائے گی اور اپیل مسترد کر دی گے مسترد کر دی گئی۔

DNA
22/06/2026

DNA

اس مقدمہ میں ندیم احمد نے اپنے چار نابالغ بچوں کی مستقل حضانت کے حصول کے لیے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کیا۔ اس کا مؤقف ت...
21/06/2026

اس مقدمہ میں ندیم احمد نے اپنے چار نابالغ بچوں کی مستقل حضانت کے حصول کے لیے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کیا۔ اس کا مؤقف تھا کہ وہ بچوں کا حقیقی والد اور شرعی طور پر قدرتی ولی (natural guardian) ہے، تاہم اس کی اہلیہ کے انتقال (31.08.2019) کے بعد بچوں کی حضانت ان کی نانی (درخواستِ جواب دہندہ نمبر 3) نے سنبھال لی اور وہ مسلسل ان کی کفالت و دیکھ بھال کرتی رہی۔ ٹرائل کورٹ نے فریقین کے دلائل اور شہادت ریکارڈ کرنے کے بعد درخواستِ حضانت مسترد کر دی، تاہم والد کے حقِ ملاقات (visitation rights) کو برقرار رکھتے ہوئے ایک باقاعدہ شیڈول مقرر کیا۔ اس فیصلے کے خلاف دونوں فریقین نے اپیل دائر کیں، مگر اپیلیٹ کورٹ نے دونوں اپیلیں مسترد کر دیں۔ بعد ازاں والد نے آئینی دائرہ اختیار (Article 199) کے تحت ہائیکورٹ سے رجوع کیا، جو زیرِ نظر رٹ پٹیشن کا سبب بنا۔

عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ اسلامی قانونِ حضانت کے تحت والد کو اولاد کا قدرتی سرپرست (natural guardian) ہونے کے باعث ایک ترجیحی حق حاصل ہوتا ہے، تاہم یہ حق مطلق اور غیر مشروط نہیں بلکہ ہمیشہ نابالغ بچوں کی “بہتری و فلاح” (welfare of the minor) کے تابع ہوتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ نابالغ کی فلاح کا معیار صرف جسمانی سہولت تک محدود نہیں بلکہ اس میں اس کی ذہنی، اخلاقی، تعلیمی اور جذباتی نشوونما بھی شامل ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ زیرِ نظر کیس میں نچلی عدالتوں نے شواہد کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بچوں کا موجودہ ماحول نانی کی زیرِ کفالت مستحکم اور ان کی فلاح کے لیے موزوں ہے، جبکہ والد کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی اور بعض حفاظتی خدشات بھی موجود ہیں۔ مزید یہ کہ والد کی جانب سے مستقل دیکھ بھال، مالی معاونت اور بچوں کی تعلیم و تربیت میں مسلسل دلچسپی کا خاطر خواہ ثبوت پیش نہیں کیا گیا، جو اس امر کی نفی کرتا ہے کہ تبدیلیِ حضانت بچوں کے مفاد میں ہوگی۔

عدالت نے یہ اصول بھی واضح کیا کہ آئینی دائرہ اختیار (Article 199) کے تحت ہائی کورٹ نچلی عدالتوں کے ہم آہنگ اور مبنی بر شواہد حقائق میں محض اختلافِ رائے کی بنیاد پر مداخلت نہیں کر سکتی، جب تک فیصلوں میں کوئی واضح قانونی غلطی، دائرہ اختیار کی خلاف ورزی یا صریح ناانصافی (miscarriage of justice) ثابت نہ ہو۔ چونکہ موجودہ مقدمہ میں ایسا کوئی نقص ثابت نہیں ہوا، اس لیے نچلی عدالتوں کے فیصلے برقرار رکھے گئے۔

آخر میں عدالت نے قرار دیا کہ حضانت کے معاملات میں اصل معیار “technical guardianship rights” نہیں بلکہ “holistic welfare of the minor” ہے، اور اسی اصول کے تحت رٹ پٹیشن خارج کر دی گئی، تاہم والد کو ملاقات کے حقوق برقرار رکھے گئے اور انہیں مناسب حالات میں فیملی کورٹ سے رجوع کرنے کا حق بھی دیا گیا۔

وراثتی زمین کی تقسیم میں بہن کا حق بھی برابر اہم! بورڈ آف ریونیو پنجاب نے واضح کیا کہ اگر زمین وراثت میں ملی ہو تو کوئی ...
20/06/2026

وراثتی زمین کی تقسیم میں بہن کا حق بھی برابر اہم!

بورڈ آف ریونیو پنجاب نے واضح کیا کہ اگر زمین وراثت میں ملی ہو تو کوئی بھائی صرف قبضے کی بنیاد پر کسی خاص جگہ پر اپنا مستقل حق جتا نہیں سکتا۔ ایسی زمین کی تقسیم “ناقص کامل” کے اصول کے تحت ہوگی، یعنی تمام ورثاء کو زمین کی برابر مالیت دی جائے گی، چاہے مختلف جگہوں پر حصے کیوں نہ ملیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ راستوں، آبپاشی اور سہولتوں کو مدِنظر رکھ کر تقسیم کی جا سکتی ہے، اور اگر کسی فریق کے حقوق متاثر نہ ہوں تو تقسیم برقرار رہے گی۔ اس مقدمہ میں بھائیوں کی درخواست مسترد کر دی گئی اور بہن کے حق کو قانونی تحفظ ملا۔

20/06/2026

احاطۂ عدالت سے ایک شخص کی اس انداز میں گرفتاری نہایت افسوسناک اور تشویشناک عمل ہے۔ بظاہر نہ تو کوئی ایسا عدالتی حکم موجود تھا جس کے تحت فوری گرفتاری ضروری ہوتی، نہ ہی عدالت کی جانب سے کسی درخواست کے خارج ہونے یا گرفتاری کا واضح حکم دیا گیا تھا۔ متعلقہ شخص عدالت میں اپنے قانونی حقوق کے استعمال، وکیل کرنے یا قانون کے مطابق سرنڈر ہونے کے لیے حاضر ہوا تھا.

28 کنال 5 مرلہ اراضی کے مالک تھے اور انہوں نے 25 جنوری 1984ء کو ایک رجسٹرڈ جنرل پاور آف اٹارنی محمد شبیر کے حق میں جاری ...
19/06/2026

28 کنال 5 مرلہ اراضی کے مالک تھے اور انہوں نے 25 جنوری 1984ء کو ایک رجسٹرڈ جنرل پاور آف اٹارنی محمد شبیر کے حق میں جاری کی تھی۔ اسی پاور آف اٹارنی کی بنیاد پر محمد شبیر نے 30 جنوری 2003ء کو متنازعہ اراضی کا بیع نامہ مدعیان کے حق میں مرتب کیا اور رجسٹری کے لیے سب رجسٹرار ڈسکہ کے سامنے پیش کیا۔ سب رجسٹرار نے پاور آف اٹارنی کی تصدیق کے لیے رپورٹ طلب کی جس سے معلوم ہوا کہ پاور آف اٹارنی دینے والے خُورشید شاہ وفات پا چکے ہیں۔ چنانچہ سب رجسٹرار نے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے رجسٹری سے انکار کر دیا کہ موکل (Principal) کی وفات کے ساتھ ہی وکیل/مختار (Agent) کا اختیار ختم ہو جاتا ہے۔

مدعیان نے اس حکم کے خلاف رجسٹرار کے سامنے اپیل کی لیکن وہ بھی مسترد ہوگئی۔ بعد ازاں انہوں نے دفعہ 77 رجسٹریشن ایکٹ کے تحت دعویٰ دائر کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ خُورشید شاہ 30 اور 31 جنوری 2003ء کی درمیانی شب فوت ہوئے تھے، لہٰذا جب بیع نامہ پیش کیا گیا اس وقت وہ زندہ تھے اور رجسٹری سے انکار غیر قانونی تھا۔ ٹرائل کورٹ نے دعویٰ خارج کر دیا، تاہم اپیلیٹ کورٹ نے فیصلہ کالعدم کرکے دعویٰ منظور کر لیا۔ اس کے خلاف قانونی ورثاء نے ہائی کورٹ میں سول ریویژن دائر کی۔

📍قانونی نکات کا خلاصہ:

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ رجسٹریشن ایکٹ کی دفعہ 77 کے تحت دائر مقدمہ کا دائرہ اختیار انتہائی محدود ہوتا ہے۔ عدالت کا کام صرف یہ دیکھنا ہے کہ رجسٹرار یا سب رجسٹرار کی جانب سے رجسٹری سے انکار قانونی طور پر درست تھا یا نہیں۔ اس نوعیت کے مقدمہ میں ملکیت، عنوان (Title)، دھوکہ دہی، جبر، معاہدہ کی صحت یا دیگر حقوق کا فیصلہ نہیں کیا جاتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ رجسٹریشن ایکٹ کی دفعات 32، 33 اور 34 کے تحت سب رجسٹرار پر لازم ہے کہ وہ دستاویز پیش کرنے والے شخص کے اختیار اور اہلیت کی جانچ پڑتال کرے۔ لہٰذا پاور آف اٹارنی کی تصدیق کے لیے رپورٹ طلب کرنا سب رجسٹرار کا قانونی فرض تھا اور یہ اقدام قانون کے مطابق تھا۔

ہائیکورٹ نے مزید قرار دیا کہ معاہدہ قانون (Contract Act, 1872) کی دفعہ 201 کے مطابق موکل کی وفات سے ایجنسی خودبخود ختم ہو جاتی ہے۔ چونکہ پاور آف اٹارنی دراصل موکل کی طرف سے دیا گیا اختیار ہے، اس لیے موکل کی موت کے بعد وکیل یا مختار کسی قسم کی قانونی کارروائی کرنے کا مجاز نہیں رہتا۔ اس کے بعد اس کی طرف سے کیا جانے والا ہر عمل قانون کی نظر میں بے اثر اور کالعدم (Void) ہوتا ہے۔

عدالت نے ریکارڈ پر موجود انکوائری رپورٹ اور درست شدہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ خُورشید شاہ 30 جنوری 2003ء کی صبح سویرے فوت ہو چکے تھے۔ لہٰذا جب رجسٹریشن کا عمل مکمل ہونا تھا اس وقت پاور آف اٹارنی قانونی طور پر ختم ہو چکی تھی۔ حتیٰ کہ اگر مدعیان کا یہ مؤقف بھی مان لیا جائے کہ وفات 30 اور 31 جنوری کی درمیانی رات ہوئی تھی، تب بھی 31 جنوری کو تصدیقی رپورٹ موصول ہونے تک خُورشید شاہ وفات پا چکے تھے، اس لیے سب رجسٹرار رجسٹری کرنے کا مجاز نہیں تھا۔

عدالت نے یہ اہم قانونی اصول بھی بیان کیا کہ دفعہ 77 رجسٹریشن ایکٹ کے تحت مقدمہ کی ناکامی سے مدعیان کا حقِ دعویٰ برائے مخصوص ادائیگی (Specific Performance) ختم نہیں ہوتا۔ رجسٹری کے انکار سے متعلق مقدمہ اور مخصوص ادائیگی کا دعویٰ الگ الگ نوعیت اور الگ الگ وجوہِ دعویٰ پر مبنی ہوتے ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی فریق معاہدہ فروخت کے نفاذ کا دعویٰ کرنا چاہے تو وہ علیحدہ طور پر مخصوص ادائیگی کا مقدمہ دائر کر سکتا ہے۔

📍فیصلہ: لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ سب رجسٹرار کی جانب سے رجسٹری سے انکار قانون کے مطابق تھا کیونکہ موکل کی وفات کے بعد پاور آف اٹارنی ختم ہو چکی تھی۔ چنانچہ اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا گیا اور دفعہ 77 رجسٹریشن ایکٹ کے تحت دائر مدعیان کا دعویٰ خارج کر دیا گیا۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اگر مدعیان مناسب سمجھیں تو وہ مخصوص ادائیگی (Specific Performance) کے لیے علیحدہ قانونی چارہ جوئی کر سکتے
ہیں۔مدعیان محمد شبیر وغیرہ نے رجسٹریشن ایکٹ 1908ء کی دفعہ 77 کے تحت دعویٰ دائر کیا۔ ان کا کہنا تھا خورشید شاہ 28 کمال 5مدلہ کے مالک تھا۔

Address

Multan

Telephone

+923017468317

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Desk posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Legal Desk:

Share