Legal Desk

Legal Desk Legal information desk
(1)

*“رجسٹرڈ دستاویزات کی قانونی حیثیت اور تاخیر سے رجسٹریشن کے اثرات (Section 23 Registration Act)”**“سول مقدمات میں Finali...
29/04/2026

*“رجسٹرڈ دستاویزات کی قانونی حیثیت اور تاخیر سے رجسٹریشن کے اثرات (Section 23 Registration Act)”*
*“سول مقدمات میں Finality of Litigation اور Section 12(2) CPC کے غلط استعمال کی روک تھام”*
*“Concurrent Findings of Fact اور آئینی رِٹ دائرہ اختیار کی حدود”*
C.A. No. 112 of 2023
Uploaded 24-04-2026
امین الدین خان، چیف جسٹس
تفصیلی فیصلہ ۔۔۔۔
یہ اپیل، سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے سی۔پی۔ایل۔اے نمبر 2314/2019 میں دی گئی اجازت کے بعد، آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان، 1973 کے آرٹیکل 185(3) کے تحت، آئینی (ستائیسویں ترمیم) ایکٹ، 2025 سے پہلے دائر کی گئی، لاہور ہائی کورٹ کے مورخہ 14.05.2019 کے فیصلے کے خلاف ہے، جس کے ذریعے رِٹ پٹیشن نمبر 18211/2009 خارج کر دی گئی تھی۔

2۔ تنازعہ کے فیصلہ کے لیے متعلقہ حقائق یہ ہیں کہ مدعی/جواب دہندہ نمبر 1 نے 17.04.1985 کو دعویٰ برائے ڈیکلریشن دائر کیا، جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ وہ متنازعہ جائیداد کا مالک ہے، جیسا کہ دستاویز میں درج ہے، اور اس نے جواب دہندہ نمبر 2 کے حق میں رجسٹرڈ پاور آف اٹارنی اور اس کی بنیاد پر موجودہ اپیل کنندہ کے حق میں رجسٹرڈ بیع نامہ کے ذریعے پلاٹ کی منتقلی کو چیلنج کیا۔ ریکارڈ کے مطابق، جواب دہندہ نمبر 2، جو مبینہ طور پر اٹارنی تھا، عدالت میں پیش ہوا اور تحریری جواب داخل کر کے مقدمہ لڑا، بعد ازاں غائب ہو گیا، جبکہ اپیل کنندہ نے بھی تحریری جواب داخل کر کے مقدمہ کی مخالفت کی۔ مکمل سماعت، شہادت کے اندراج، اور مکمل ٹرائل کے بعد، دعویٰ مورخہ 17.04.1993 کے فیصلے کے ذریعے منظور کر لیا گیا۔ اپیل کنندہ کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف دائر اپیل، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج لاہور نے خارج کر دی۔ پھر سول ریویژن نمبر 2427/1995 لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی، جو بھی خارج ہو گئی۔ معزز جج ہائی کورٹ نے ماتحت عدالتوں کے متفقہ نتائج سے اتفاق کیا اور قرار دیا کہ یہ نتائج ریکارڈ پر موجود شہادت سے ثابت ہیں، لہٰذا مداخلت کی ضرورت نہیں، چنانچہ درخواست خارج کر دی گئی۔

3۔ اس کے بعد اپیل کنندہ نے سیکشن 12(2) سی پی سی کے تحت درخواست دائر کی، بنیادی طور پر اس بنیاد پر کہ سول ریویژن کے فیصلے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ مدعی اور اس کے والد (جو بطور P.W.4 پیش ہوئے) نے عدالت کے ساتھ فراڈ کیا اور یہ غلط دعویٰ کیا کہ پاور آف اٹارنی کی تیاری کے وقت مدعی نابالغ تھا۔ ہائی کورٹ نے بغیر شہادت ریکارڈ کیے، درخواست میں بیان کردہ حقائق کو درست مانتے ہوئے، مورخہ 27.03.2001 کے فیصلے کے ذریعے درخواست منظور کر لی۔

4۔ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں سول اپیل نمبر 2540/2001 کے ذریعے چیلنج کیا گیا، جو 08.04.2003 کو منظور ہوئی اور معاملہ واپس ٹرائل کورٹ کو بھیج دیا گیا۔ learned Civil Judge, First Class, Lahore نے 11.11.2008 کو درخواست خارج کر دی۔ اس کے خلاف دائر ریویژن بھی 14.09.2009 کو خارج ہوئی، اور رِٹ پٹیشن نمبر 18211/2009 بھی لاہور ہائی کورٹ نے 14.05.2019 کو خارج کر دی، لہٰذا یہ اپیل دائر کی گئی۔ اجازت 14.02.2023 کے حکم کے ذریعے دی گئی۔ اگرچہ اجازت دیتے وقت ایک جامع حکم جاری کیا گیا تھا، تاہم اُس وقت اپیل کنندہ کے وکیل کی جانب سے بیان کردہ بعض حقائق مکمل طور پر درست نہیں تھے، اس لیے اس حکم کو یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے فریقین کے وکلاء کو تفصیل سے سنا اور ریکارڈ و ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کا جائزہ لیا۔

5۔ اپیل کنندہ کے وکیل کا بنیادی زور اس نکتے پر تھا کہ اصل دعویٰ میں پاور آف اٹارنی کو چیلنج کرنے کی ایک بنیاد مدعی کی نابالغی تھی، مگر اس بنیاد پر کوئی ایشو فریم نہیں کیا گیا۔ جبکہ ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران مدعی کے وکیل نے بیان دیا کہ وہ اس بنیاد پر زور نہیں دے رہا۔ ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ نابالغی ایک بنیاد تھی، مگر اس پر ایشو فریم نہیں ہوا۔ وکیل کا مؤقف تھا کہ اگر مدعی نے متعلقہ وقت پر اس بنیاد پر زور نہیں دیا تو وہ بعد میں سیکشن 12(2) سی پی سی کی درخواست کی بنیاد نہیں بنا سکتا، خاص طور پر جب مدعی کے حق میں ڈگری ہائی کورٹ تک برقرار رہی ہو۔ مزید یہ کہ جب pleadings کی بنیاد پر کوئی ایشو بنتا ہو، تو ایشو کا فریم نہ ہونا یا نہ کروانا ری ٹرائل یا سیکشن 12(2) یا ریویو جیسا علاج فراہم نہیں کرتا۔ اگر کوئی فریق مناسب وقت پر مخصوص ایشو فریم کروانے پر زور نہ دے، تو بعد میں اس بنیاد پر فیصلہ کالعدم یا مقدمہ واپس بھیجنے کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ فریق اپنی pleadings کے مطابق شہادت پیش کر سکتا ہے۔ اگر مدعی نے ٹرائل کے دوران نابالغی کی بنیاد ترک بھی کر دی ہو، تب بھی یہ سیکشن 12(2) کی درخواست کی بنیاد نہیں بن سکتی۔

6۔ فریقین کے وکلاء کو سننے کے بعد، اور مقدمہ کے میرٹ میں جائے بغیر، ہماری رائے یہ ہے کہ جب کوئی فریق مقدمہ یا کارروائی کو مکمل طور پر contest کرے، جیسا کہ موجودہ مقدمہ میں اس نے تین فورمز تک کیا، اور ناکام رہا، تو اسے سیکشن 12(2) سی پی سی کے تحت درخواست دینے کا حق نہیں رہتا۔ ایسا فریق اپنی بات پیش کرنے اور دوسرے فریق کے دعوے کی تردید کرنے کا مکمل حق رکھتا ہے، اور اگر اس سے کوئی غلطی یا غفلت ہو جائے تو یہ سیکشن 12(2) کا حق پیدا نہیں کرتی۔ لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی فریق مقدمہ contest کرے اور ہائی کورٹ تک فیصلوں کو چیلنج کرے، تو کیا بعد میں اگر اسے کچھ نئے حقائق معلوم ہوں تو وہ سیکشن 12(2) یا ریویو پٹیشن دائر کر سکتا ہے؟

7۔ اس عدالت کے سامنے درج ذیل سوالات قابلِ فیصلہ ہیں:

(i) سول معاملات میں ہائی کورٹ جب رِٹ دائرہ اختیار استعمال کرے، تو کیا وہ پہلے سے ماتحت عدالتوں کی طرف سے جانچی گئی شہادت کا دوبارہ جائزہ یا نئی تشریح کر سکتی ہے؟

(ii) اگر کوئی دستاویز تیار ہونے کے چھ ماہ سے زیادہ عرصہ بعد رجسٹریشن کے لیے پیش کی جائے، تو سیکشن 23 رجسٹریشن ایکٹ کا کیا اثر ہوگا؟ اگر رجسٹر ہو جائے تو کیا وہ درست ہوگی یا ناقص رجسٹریشن شمار ہوگی؟

8۔ سول مقدمات میں، جب ٹرائل کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ شہادت کی بنیاد پر متفقہ نتیجہ برائے حقیقت پر پہنچ جائیں، تو ہائی کورٹ اپنے رِٹ دائرہ اختیار میں صرف اس بنیاد پر اپنا نتیجہ مسلط نہیں کر سکتی کہ کوئی دوسرا نقطۂ نظر بھی ممکن تھا۔ سپریم کورٹ نے محمد حسین منیر بنام سکندر (PLD 1974 SC 139) میں قرار دیا کہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کا اختیار محدود ہے کہ وہ صرف یہ دیکھے کہ ماتحت فورم نے اپنے اختیار کے اندر رہ کر کام کیا یا نہیں۔ حقیقت کی غلطی، خواہ کتنی ہی سنگین ہو، رِٹ دائرہ اختیار میں درست نہیں کی جا سکتی جب تک وہ اختیاری نقص (jurisdictional defect) پیدا نہ کرے۔

9۔ چونکہ تسلیم شدہ طور پر پاور آف اٹارنی 04.02.1980 کو تیار ہوئی جبکہ 05.08.1981 کو رجسٹر ہوئی، یعنی تقریباً ڈیڑھ سال بعد، جبکہ سیکشن 23 رجسٹریشن ایکٹ کے مطابق دستاویز کو تیاری کے چھ ماہ کے اندر رجسٹریشن کے لیے پیش ہونا چاہیے۔ تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان متعدد فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ رجسٹرڈ دستاویزات کو مضبوط ثبوتی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور قانون انہیں تحفظ دیتا ہے۔ چونکہ رجسٹریشن تصدیق کے عمل کے بعد ہوتی ہے، اس لیے اس کے ساتھ درستی کا قانونی قرینہ منسلک ہوتا ہے، اور یہ فرض کیا جائے گا کہ رجسٹرڈ دستاویز درست ہے۔ اس ضمن میں انجمنِ خدام القرآن، فیصل آباد بنام لیفٹیننٹ کرنل (ر) نجم حمید (PLD 2020 SC 390) اور عبدالعزیز عبد الحمید (2022 SCMR 842) پر انحصار کیا گیا۔

10۔ چونکہ یہ اپیل ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے، اور ہائی کورٹ کے سامنے سیکشن 12(2) کی درخواست کی برخاستگی اور ریویژنل کورٹ کے حکم کو آرٹیکل 199 کے تحت چیلنج کیا گیا تھا، اس لیے اپیل کنندہ پر لازم تھا کہ وہ ماتحت عدالتوں کی طرف سے کسی اختیاری نقص کو ظاہر کرتا، مگر وہ ایسا نہ کر سکا۔ لہٰذا رِٹ پٹیشن درست طور پر خارج کی گئی۔ ہم ہائی کورٹ کے نتائج سے اختلاف نہیں کرتے؛ لہٰذا یہ اپیل ناکام ہو کر خارج کی جاتی ہے۔
قانونی تجزیاتی جائزہ
“سیکشن 12(2) CPC کی حدود، ہائی کورٹ کا آئینی دائرہ اختیار، اور رجسٹرڈ دستاویزات کی قانونی حیثیت — C.A. No.112 of 2023 کا جامع تجزیہ”

یہ فیصلہ نہایت اہم ہے کیونکہ اس میں تین بنیادی قانونی و آئینی اصول واضح کیے گئے ہیں:

سیکشن 12(2) CPC کا دائرہ کار

آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کی حدود

سیکشن 23 رجسٹریشن ایکٹ کے تحت تاخیر سے رجسٹریشن کا اثر

1۔ مقدمہ کا پس منظر (Background of Litigation)
مدعی نے دعویٰ برائے ڈیکلریشن دائر کیا کہ:

وہ جائیداد کا اصل مالک ہے؛

اس کے خلاف بنائی گئی Power of Attorney جعلی / غیر مؤثر ہے؛

اس پاور آف اٹارنی کی بنیاد پر موجودہ اپیل کنندہ کے حق میں Sale Deed بھی غیر قانونی ہے۔

ٹرائل کورٹ نے دعویٰ منظور کیا،
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے اپیل خارج کی،
ہائی کورٹ نے Civil Revision خارج کی۔

یعنی Concurrent Findings of Fact قائم ہو گئے۔

اس کے بعد شکست خوردہ فریق نے Section 12(2), CPC کا سہارا لیا۔

2۔ سیکشن 12(2) CPC کا قانونی دائرہ
Code of Civil Procedure, 1908 کی Section 12(2):

“Where a judgment has been obtained by fraud, misrepresentation or want of jurisdiction, the Court may, on application, set aside such judgment.”

مقصد:
یہ provision appeal in disguise نہیں۔

یہ صرف درج ذیل صورتوں میں قابلِ استعمال ہے:

(i) Fraud
جب عدالت کو دھوکہ دے کر فیصلہ لیا گیا ہو۔

مثلاً:

جعلی دستاویز؛

جعلی گواہ؛

دانستہ concealment۔

(ii) Misrepresentation
غلط بیانی سے عدالت کو mislead کرنا۔

(iii) Want of Jurisdiction
عدالت کو اختیار ہی نہ ہو۔

3۔ سپریم کورٹ کا اصول
سپریم کورٹ نے واضح کیا:

اگر کوئی فریق:

ٹرائل میں شریک رہا؛

شہادت دی؛

اپیل کی؛

ریویژن کی؛

اور ہر فورم پر ناکام رہا،

تو وہ بعد میں Section 12(2) استعمال نہیں کر سکتا۔

کیونکہ:

Law helps the vigilant, not those who sleep over their rights.

یہ اصول finality of litigation کا تحفظ کرتا ہے۔

4۔ Finality of Litigation کا اصول
قانون چاہتا ہے کہ:

“There must be an end to litigation.”

اگر ہر ہارا ہوا شخص بعد میں 12(2) لگا دے تو:

فیصلوں کی finality ختم؛

عدالتیں مفلوج؛

انصاف غیر یقینی۔

سپریم Court نے اسی principle کو protect کیا۔

5۔ ایشو فریم نہ ہونا — کیا اثر؟
اپیل کنندہ کا موقف تھا:

“Minority” کا ground تھا مگر issue frame نہ ہوا۔

Order XIV CPC
Order XIV, Code of Civil Procedure
کے تحت Issues pleadings سے بنتے ہیں۔

مگر عدالت نے کہا

اگر:

issue frame
نہ ہوا؛

party
نے insist نہ کیا؛

evidence
پھر بھی lead کی جا سکتی تھی؛

تو بعد میں یہ ground نہیں بن سکتا۔

اہم اصول:

Non-framing of issue is not always fatal.

جب prejudice ثابت نہ ہو۔

6۔ آرٹیکل 199 آئین کے تحت ہائی کورٹ کی حدود
Constitution of Pakistan کا Article 199:

ہائی کورٹ supervisory jurisdiction استعمال کرتی ہے۔

یہ:

Appellate Court نہیں؛

Revisional Court نہیں؛

Trial Court نہیں۔

سپریم کورٹ نے کہا:

ہائی کورٹ evidence کی reappraisal نہیں کر سکتی۔

7۔ PLD 1974 SC 139 کا اصول
Muhammad Hussain Munir v. Sikandar میں اصول:

ہائی کورٹ صرف دیکھے گی:

jurisdiction تھا؟
illegality تھی؟
procedural defect تھا؟

صرف factual error writ میں درست نہیں ہو گی۔

8۔ Concurrent Findings of Fact
جب:

Trial Court

Appellate Court

ایک ہی نتیجہ دیں،

تو High Court عام طور پر مداخلت نہیں کرے گی۔

مداخلت صرف:

misreading؛

non-reading؛

jurisdictional defect؛

perversity

پر ہو گی۔

9۔ رجسٹریشن ایکٹ — سیکشن 23
Registration Act, 1908 کی Section 23:

دستاویز ex*****on کے چار ماہ/چھ ماہ (مخصوص حالات) میں رجسٹر ہو۔

یہاں پاور آف اٹارنی:

04.02.1980

رجسٹر:

05.08.1981

یعنی تاخیر۔

10۔ کیا تاخیر رجسٹریشن کو باطل کرتی ہے؟
سپریم کورٹ نے کہا:

صرف تاخیر کافی نہیں جب تک:

fraud؛

illegal registration؛

collusion

ثابت نہ ہو۔

کیونکہ رجسٹرڈ دستاویز کے ساتھ presumption of truth ہوتا ہے۔

11۔ Presumption attached to Registered Document
رجسٹرڈ دستاویز:

verified ہوتی ہے؛

public record بنتی ہے؛

evidentiary value رکھتی ہے۔

PLD 2020 SC 390

Anjuman-e-Khuddam-ul-Quran Faisalabad v. Lt Col (R) Najam Hameed

2022 SCMR 842

Abdul Aziz Abdul Hameed case

12۔ Review اور Section 12(2) میں فرق
Review = error apparent on face of record.

12(2) = fraud / misrepresentation / want of jurisdiction.

ہر error = 12(2) نہیں۔

13۔ Constitutional dimension
یہ فیصلہ آئینی طور پر:

Article 4
Due process.

Article 10A
Fair trial.

Article 175
Judicial hierarchy.

Article 199
Writ powers.

کو explain کرتا ہے۔

14۔ Practitioners کے لیے Practical Guidelines

اگر مدعی ہیں:
تمام grounds plead کریں
issue frame
کروائیں
evidence lead
کریں

اگر مدعا علیہ ہیں:
ہر issue پر اعتراض اٹھائیں
omission فوراً challenge کریں

اگر 12(2) دائر کرنی ہے:
صرف یہ ثابت کریں:

fraud
misrepresentation
want of jurisdiction

15۔ Ratio Decidendi
اس فیصلہ کا ratio:

Contesting defendant who unsuccessfully litigated up to High Court cannot invoke Section 12(2) CPC merely on discovery of new facts or own omission.

اور:

High Court in writ jurisdiction cannot reappraise evidence or disturb concurrent findings unless jurisdictional defect exists.

16۔ نتیجتاً مختصراً ۔۔۔۔
سپریم کورٹ نے appeal dismiss کی کیونکہ:

appellant contest
کر چکا تھا؛
concurrent findings
تھیں؛
jurisdictional defect
نہیں تھا؛
12(2) misuse
ہو رہی تھی۔

یہ فیصلہ سول مقدمات میں:

abuse of process
روکنے؛

finality protect
کرنے؛

writ limits clarify
کرنے؛

registered documents protect
کرنے

کے لیے سنگ میل ہے۔

متبادل (Alternative) ڈگری کا اصولاگر ڈگری میں دو متبادل دیے گئے ہوں (سونا یا رقم)، تو ڈگری ہولڈر (بیوی) کو اختیار ہوتا ہ...
29/04/2026

متبادل (Alternative) ڈگری کا اصول

اگر ڈگری میں دو متبادل دیے گئے ہوں (سونا یا رقم)، تو ڈگری ہولڈر (بیوی) کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کسی ایک کو منتخب کرے۔ اصل حق ختم نہیں ہوتا۔ 100,000 روپے شامل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ 7 تولہ 14 سونے کا حق ختم ہو گیا۔

29/04/2026


28/04/2026

ایس پی اقبال ٹاون کے خلاف خاتون کا احتجاج، اور اسکی دوسری بیوی ہونے کا دعویٰ

جب شوہر نے نکاح نامے پر اپنے دستخط تسلیم کر لیے تو پھر یہ ذمہ داری اسی پر عائد تھی کہ وہ ثابت کرے کہ مہر کےاندراجات جعلی...
28/04/2026

جب شوہر نے نکاح نامے پر اپنے دستخط تسلیم کر لیے تو پھر یہ ذمہ داری اسی پر عائد تھی کہ وہ ثابت کرے کہ مہر کےاندراجات جعلی یا بعد میں شامل کیے گئے تھے۔ محض زبانی دعوی کافی نہیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ جہاں قتل کا مقدمہ Unwitnessed Occurrence ہو، یعنی وقوعہ کسی نے اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو،...
28/04/2026

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ جہاں قتل کا مقدمہ Unwitnessed Occurrence ہو، یعنی وقوعہ کسی نے اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو، اور Prosecution کا سارا مقدمہ صرف Extrajudicial Confession پر مبنی ہو، وہاں صرف الزام کی بنیاد پر ملزم کو جیل میں نہیں رکھا جا سکتا۔

مقدمہ میں FIR 14.09.2025 کو درج ہوئی، جبکہ مقتول کی شناخت 21.10.2025 کو ہوئی۔ اس کے بعد 22.10.2025 کو ایک Supplementary Statement کے ذریعے پہلی بار ملزمان کے خلاف Extrajudicial Confession سامنے لایا گیا۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ ایک ماہ سے زائد تاخیر سے سامنے آنے والا ایسا material شکوک پیدا کرتا ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ Extrajudicial Confession ایک weak evidence ہے، کیونکہ اسے آسانی سے گھڑا یا arrange کیا جا سکتا ہے۔ اس کی truth اور evidentiary value کا فیصلہ ٹرائل کے دوران ہوگا، اس لیے صرف اسی بنیاد پر Bail deny نہیں کی جا سکتی۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ جب اہم incriminating material بعد میں Supplementary Statement کے ذریعے سامنے آئے، تو یہ کیس کو Section 497(2) Cr.P.C. کے تحت Further Inquiry میں لے جاتا ہے، کیونکہ یہ محض suspicion پیدا کرتا ہے، جرم ثابت نہیں کرتا۔

عدالت نے Presumption of Innocence کا اصول بھی دہرایا اور کہا کہ ہر ملزم اس وقت تک بے گناہ تصور ہوتا ہے جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے۔ صرف offence کی seriousness کی وجہ سے کسی کی liberty سلب نہیں کی جا سکتی۔

ان وجوہات کی بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ مقدمہ Further Inquiry کا ہے، لہٰذا Petitioners Post-Arrest Bail کے مستحق ہیں۔ یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ weak اور delayed evidence کی بنیاد پر کسی شخص کو مسلسل حراست میں نہیں رکھا جا سکتا۔

27/04/2026

اقرارالحسن تپ گئے!
سوشل میڈیا پر اقرار الحسن کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ سیاسی کمنٹ پاس کرنے پر امیگریشن کاونٹر پر کھڑے ایف آئی اے افسر سے بحث رہے ہیں اور جملہ کسنے پر معافی کا مطالبہ کررہے ہیں ، یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس پر کئی افراد اپنے تاثرات کا اظہار کر رہے ہیں اور کچھ اقرار الحسن کو بحث کرنے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔
اقرار الحسن نے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے ایکس پر ذو معنی پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’یونیفارم والے نے کچھ کہہ دیا تھا تو اقرارالحسن کو برداشت کرنا چاہئے تھا، تو پھر یونیفارم والے آپ کو جو کچھ کہہ رہے ہیں آپ بھی برداشت کریں، چیختے کیوں ہیں؟‘‘
امیگریشن کاؤنٹر پر ایف آئی اے اہلکار نے اقرار الحسن پر جملہ کسا کہ "تمھارا حال بھی جواد احمد جیسا ہوگا " جواب میں اقرار نے بھی کھری کھری سنا دیں۔ بتایاگیا ہے کہ اقرار ملائیشیا سے پاکستان واپس آرہے تھے اور واقعہ لاہور ائیر پورٹ پر پیش آیا۔ یادرہے اس سے قبل محمد عمیر نے بتایاکہ نومولود سیاسی پارٹی کے سربراہ علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر عملے سے الجھ پڑے ۔

نکاح بذریعہ وکیل ۔
27/04/2026

نکاح بذریعہ وکیل ۔

یہ ایک دلچسپ اور اہم نوعیت کا مقدمہ تھا جس میں وراثت، وصیت اور اسلامی قانون کے بنیادی اصولوں کا جائزہ لیا گیا۔ مقدمہ کچھ...
26/04/2026

یہ ایک دلچسپ اور اہم نوعیت کا مقدمہ تھا جس میں وراثت، وصیت اور اسلامی قانون کے بنیادی اصولوں کا جائزہ لیا گیا۔ مقدمہ کچھ یوں ہے کہ ایک خاندان میں ایک شخص کا انتقال بغیر اولاد کے ہو گیا۔ اس کے بعد اس کے قریبی رشتہ دار بطور وارث اس کی جائیداد میں برابر کے حق دار تھے اور طویل عرصہ تک سب اپنے اپنے حصوں کے مطابق قابض بھی رہے۔

کئی برس بعد اچانک یہ انکشاف ہوا کہ ایک فریق نے خفیہ طور پر ایک پرانی بنیاد پر اپنے حق سے زیادہ حصہ اپنے نام منتقل کروا لیا تھا، جس کی بنیاد ایک مبینہ وصیت کو بنایا گیا۔ دوسرے فریق کو اس کا علم بعد میں ہوا تو انہوں نے عدالت سے رجوع کیا اور اس اندراج کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔

مدعا علیہ نے اپنے دفاع میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ انتقال وصیت نہیں بلکہ کسی اور قانونی طریقے (تملیک) کے تحت ہوا تھا، جبکہ وقت گزر جانے، حدِ میعاد، اور دیگر قانونی اعتراضات بھی اٹھائے گئے۔ تاہم ریکارڈ کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آئی کہ جو مؤقف تحریری جواب میں اختیار کیا گیا، وہ پیش کردہ ثبوتوں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ مزید یہ کہ جس بنیادی دستاویز (وصیت) پر انحصار کیا گیا، وہ نہ تو عدالت میں پیش کی گئی اور نہ ہی اس کو قانونی طور پر ثابت کیا جا سکا۔

عدالت نے اس اہم قانونی نکتے پر غور کیا کہ آیا کسی وارث کے حق میں وصیت کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ اس ضمن میں اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ ابتدائی طور پر وصیت کی اجازت تھی، لیکن بعد ازاں قرآنِ مجید میں وراثت کے حصے مقرر ہونے اور نبی کریم ﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع کے بعد یہ اصول طے ہو گیا کہ کسی وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے ایسی وصیت نہ صرف غیر مؤثر بلکہ اسلامی احکام کے بھی منافی ہے۔

مزید برآں عدالت نے یہ اصول بھی بیان کیا کہ وراثت کے معاملات میں ایک وارث کا قبضہ تمام ورثاء کے لیے تصور کیا جاتا ہے، اس لیے دعویٰ صرف اس بنیاد پر ناقابلِ سماعت نہیں ہو سکتا کہ قبضہ طلب نہیں کیا گیا۔ اسی طرح ایسے معاملات میں حدِ میعاد کا اطلاق بھی مختلف انداز میں ہوتا ہے، خاص طور پر جب وراثتی حقوق متاثر ہو رہے ہوں۔

بالآخر عدالت نے قرار دیا کہ متنازعہ اندراج غیر قانونی، بے بنیاد اور اسلامی اصولوں کے خلاف ہے، اس لیے اسے کالعدم قرار دیا گیا۔ تاہم جہاں دعویٰ ثابت نہ ہو سکا، وہاں نچلی عدالتوں کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا۔ نتیجتاً متعلقہ جائیداد ورثاء میں قانونِ وراثت کے مطابق تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا۔

یہ مقدمہ اس اصول کو مضبوطی سے واضح کرتا ہے کہ اسلامی قانونِ وراثت ایک حتمی اور غالب قانون ہے، اور اس کے برخلاف کوئی بھی وصیت یا اقدام قابلِ قبول نہیں ہوگا۔

اگر کوئی وارث جائیداد میں بہنوں کا حصہ اپنے قبضہ میں لے لے اور انہیں حصہ نہ دے، تو اسے نہ صرف اصل حصہ واپس کرنا ہوگا بلک...
25/04/2026

اگر کوئی وارث جائیداد
میں بہنوں کا حصہ اپنے قبضہ میں لے لے اور انہیں حصہ نہ دے، تو اسے نہ صرف اصل حصہ واپس کرنا ہوگا بلکہ اس عرصہ کا کرایہ بھی ادا کرنا ہوگا۔

 صرف موٹر سائیکل اور رقم کی برآمدگی کسی کو عمر بھر کے لیے جیل میں رکھنے کے لیے کافی نہیں، لاہور ہائی کورٹ کا پولیس اور پ...
25/04/2026


صرف موٹر سائیکل اور رقم کی برآمدگی کسی کو عمر بھر کے لیے جیل میں رکھنے کے لیے کافی نہیں، لاہور ہائی کورٹ کا پولیس اور پراسیکیوشن کے خلاف بڑا فیصلہ (PLJ 2026 Cr.C. 92)

​لاہور ہائی کورٹ نے اس اہم مقدمے میں قرار دیا ہے کہ اگر استغاثہ ملزم کی شناخت ثابت کرنے میں ناکام رہے تو محض برآمدگی کی بنیاد پر ضمانت خارج نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے ملزم سنی حاکم کو دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اس فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ ملزم جولائی 2023 سے جیل میں ہے اور ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ٹرائل مکمل نہیں ہوا۔ ٹرائل میں تاخیر کی تمام تر ذمہ داری استغاثہ پر عائد کی گئی ہے کیونکہ وہ گواہان اور ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہے۔ عدالت نے پراسیکیوشن سروس کی سستی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا حکم دیا ہے۔ اب انوسٹی گیشن افسر پابند ہے کہ وہ سماعت سے ایک دن پہلے تمام ریکارڈ واٹس ایپ کے ذریعے فراہم کرے۔ عدالت نے "عوامی مفاد" (Public Interest) کی تشریح کرتے ہوئے اسے انصاف کی فراہمی سے مشروط کیا ہے۔ یہ فیصلہ قانون کی حکمرانی اور ملزم کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ایک بہترین مثال ہے۔ استغاثہ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ محض شک کی بنیاد پر شہریوں کو جیلوں میں نہ رکھیں بلکہ ٹھوس شہادتیں پیش کریں۔

​یہ کیس تھانہ راوی روڈ لاہور میں درج ایف آئی آر نمبر 1684 کے متعلق ہے جو کہ ڈکیتی اور برآمدگی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔ استغاثہ کا دعویٰ تھا کہ دو نامعلوم ملزمان نے گل محمد نامی شہری کو فائرنگ کر کے زخمی کیا اور لوٹ مار کی۔ ملزم سنی حاکم کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ اس سے کچھ رقم اور ایک موٹر سائیکل برآمد ہوئی ہے۔ ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ زخمی ہونے والے شخص (گل محمد) نے ملزم کی شناخت ہی نہیں کی۔ شناخت پریڈ میں بھی صرف شکایت کنندہ شامل ہوا جبکہ اصل زخمی شخص نے ملزم کو پہچاننے سے انکار کیا یا وہ شامل ہی نہیں ہوا۔ ملزم پچھلے دو سالوں سے جیل میں سڑ رہا تھا لیکن اس کے خلاف کوئی ٹھوس گواہی سامنے نہیں آ رہی تھی۔ پولیس ریکارڈ اور پراسیکیوشن کی فائلیں عدالت میں مکمل نہیں تھیں جس کی وجہ سے کیس لٹکا ہوا تھا۔ عدالت نے اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ملزم کے حقوق اور نظامِ عدل کی خامیاں اجاگر کیں۔ اس کیس نے ثابت کیا کہ ناقص تفتیش کس طرح ایک شہری کی زندگی کے قیمتی سال ضائع کر سکتی ہے۔ آخر کار عدالت نے میرٹ اور قانون دونوں بنیادوں پر ملزم کو ریلیف فراہم کیا۔

​شناخت کی اہمیت: ڈکیتی کے مقدمات میں اگر زخمی گواہ ملزم کو شناخت نہ کر سکے تو کیس کی بنیاد ختم ہو جاتی ہے۔
​برآمدگی بمقابلہ شہادت: محض موٹر سائیکل یا رقم کی برآمدگی ملزم کو مجرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں جب تک جرم سے تعلق ثابت نہ ہو۔
​قانونی بنیاد (Statutory Ground): اگر ایک سال تک ٹرائل مکمل نہ ہو اور تاخیر استغاثہ کی طرف سے ہو تو ملزم ضمانت کا حقدار بن جاتا ہے۔
​شک کا فائدہ: شک سے بالاتر ہو کر جرم ثابت کرنے کا بوجھ استغاثہ پر ہے، جو ضمانت کے مرحلے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
​پراسیکیوشن کی آزادی: پراسیکیوٹرز سرکاری ملازم نہیں بلکہ پبلک سرونٹ ہیں اور انہیں آزادانہ طور پر انصاف کے لیے کام کرنا چاہیے۔
​جدید ٹیکنالوجی کا استعمال: پولیس ریکارڈ کی فراہمی کے لیے واٹس ایپ اور ای میل کا استعمال اب لازمی قرار دیا گیا ہے۔
​یہ فیصلہ عام عوام کے لیے کیوں اہم ہے؟
​یہ فیصلہ ہر اس شہری کے لیے امید کی کرن ہے جسے پولیس جھوٹے مقدمات یا محض شک کی بنیاد پر جیل بھیج دیتی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ پولیس ریکارڈ مکمل نہ ہونے کا بہانہ بنا کر ٹرائل کو طول دیتی ہے تاکہ ملزم جیل میں رہے۔ اس فیصلے کے بعد، اگر پولیس سستی دکھائے گی تو ملزم کو فوری طور پر "قانونی تاخیر" کی بنیاد پر ضمانت مل سکے گی۔ اس کے علاوہ، عدالت نے پولیس کو پابند کیا ہے کہ وہ اب واٹس ایپ جیسے جدید ذرائع استعمال کرے تاکہ شہریوں کو پیشیوں پر پیشیوں کے عذاب سے بچایا جا سکے۔
​مخالفانہ عدالتی حوالہ جات (Adverse References)
​استغاثہ نے ملزم کی "مجرمانہ ہسٹری" (Criminal History) اور برآمدگی کو بنیاد بنا کر ضمانت کی مخالفت کی، لیکن عدالت نے ان دلائل کو ناکافی قرار دیا۔
​حق میں دیے گئے عدالتی فیصلے
​عدالت نے ملزم کے حق میں مندرجہ ذیل تاریخی حوالوں پر بھروسہ کیا:
​PLD 1990 Supreme Court 934: برآمدگی اور ہسٹری محض ضمانت مسترد کرنے کی بنیاد نہیں ہو سکتی۔
​2024 SCMR 476: شک کا فائدہ ضمانت کے مرحلے پر بھی ملزم کو ملنا چاہیے۔
​PLD 2022 SC 112: ٹرائل میں غیر ضروری تاخیر ملزم کو ضمانت کا حق دیتی ہے۔
​قانونی تجزیہ اور بے باک رائے
​میرا قانونی تجزیہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ پولیس کے روایتی "برآمدگی کلچر" پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ پولیس سمجھتی ہے کہ صرف مالِ مسروقہ برآمد دکھا کر وہ اپنا کیس پکا کر لیتی ہے، جبکہ اصل گواہان کو عدالت میں لانے میں وہ ہمیشہ ناکام رہتی ہے۔ جب تک تفتیش کے نظام کو جدید خطوط پر استوار نہیں کیا جائے گا، بے گناہ شہری اسی طرح سسٹم کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے۔

​کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہماری پولیس جان بوجھ کر مقدمات میں تاخیر کرتی ہے تاکہ ملزم کو زیادہ سے زیادہ تنگ کیا جا سکے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔
​اس فیصلے سے متعلق 5 اہم سوالات:
​کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک سال تک ٹرائل نہ ہونے پر آپ ضمانت کے حقدار ہو سکتے ہیں؟
​کیا پولیس آپ کے کیس کا ریکارڈ بروقت عدالت میں پیش کرتی ہے؟
​کیا محض برآمدگی کسی کو مجرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہے؟
​کیا واٹس ایپ کے ذریعے ریکارڈ کی فراہمی سے نظامِ عدل میں بہتری آئے گی؟
​کیا آپ کو لگتا ہے کہ پراسیکیوشن سروس واقعتاً آزادانہ کام کر رہی ہے؟


ہمارے پیج کے بارے میں اپ کی کیا رائے ہے اور کیا اپ اس پر شیئر کی جانے والے قانون سے مستفید ہو رہے ہیں اگر مستفید ہو رہے ہیں تو اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اس پیج پر انوائٹ کریں اپ کی محبتوں کا بے حد شکریہ اللہ پاک اپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے

کیا وراثت کا دعویٰ 34 سال بعد بھی کیا جا سکتا ہے؟ لاہور ہائیکورٹ کا وہ فیصلہ جس نے برسوں پرانے وہم ختم کر دیے!Citation N...
25/04/2026

کیا وراثت کا دعویٰ 34 سال بعد بھی کیا جا سکتا ہے؟ لاہور ہائیکورٹ کا وہ فیصلہ جس نے برسوں پرانے وہم ختم کر دیے!

Citation Name: 2025 PLD 581 LAHORE-HIGH-COURT-LAHORE

MUHAMMAD HAFEEZ VS MUHAMMAD RAMZAN


​عدالت کا حتمی فیصلہ: قانون خواب غفلت میں سونے والوں کے لیے نہیں ہے
​لاہور ہائیکورٹ نے اس تاریخی فیصلے میں واضح کر دیا ہے کہ وراثت کا نام لے کر آپ دہائیوں پرانی رجسٹرڈ دستاویزات کو جب چاہیں چیلنج نہیں کر سکتے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی شخص کے بزرگوں نے اپنی زندگی میں کسی جائیداد کے انتقال یا گفٹ (ہبہ) کو چیلنج نہیں کیا، تو ان کی وفات کے بعد ان کے وارث محض وراثت کا سہارا لے کر "قانونِ میعاد" (Limitation) سے بچ نہیں سکتے۔ عدالت نے 34 سال کی تاخیر کے بعد دائر کیے گئے دعوے کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور یہ اصول واضح کیا کہ جہاں تیسرے فریق (Third Party) کے حقوق پیدا ہو چکے ہوں، وہاں محض وراثت کی بنیاد پر سالوں کی خاموشی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
​کیس کا پس منظر: 1981 سے 2015 تک کی قانونی جنگ
​اس کیس کی بنیاد 1981 میں رکھے گئے ایک "رجسٹرڈ گفٹ ڈیڈ" پر تھی، جس کے ذریعے نانا نے زمین اپنے بیٹوں (ماموں) کے نام کر دی تھی۔ ان بیٹوں نے 1984 میں وہ زمین آگے دوسرے لوگوں کو بیچ دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گفٹ دینے والے کی بیٹی (درخواست گزار کی والدہ) 2009 تک زندہ رہی لیکن اس نے اپنی زندگی میں کبھی اس گفٹ یا زمین کی فروخت کو چیلنج نہیں کیا۔ والدہ کی وفات کے 6 سال بعد، یعنی 2015 میں، اس کے بیٹے (نواسے) نے اچانک وراثت کا دعویٰ کر دیا کہ اسے حصہ نہیں ملا اور نانا کا وہ گفٹ جعلی تھا۔ ٹرائل کورٹ نے کیس چلانے کا کہا، لیکن ہائیکورٹ نے سول ریویژن میں اس کیس کو جڑ سے ختم کر دیا۔
​اہم قانونی نکات: جو ہر شہری کو معلوم ہونے چاہئیں
​وراثت اور میعاد: ہر وراثت کے کیس میں "قانونِ میعاد" (Limitation) غیر متعلقہ نہیں ہوتی؛ حالات و واقعات دیکھنا ضروری ہیں۔
​بزرگوں کی خاموشی: اگر مورث (والدین) نے اپنی زندگی میں کسی ٹرانزیکشن پر اعتراض نہیں کیا، تو اولاد کو اسے چیلنج کرنے کا حق محدود ہو جاتا ہے۔
​تیسرے فریق کا تحفظ: جب جائیداد آگے فروخت ہو جائے اور خریداروں کے حقوق بن جائیں، تو سالوں بعد کا چیلنج "حقِ وراثت" کے نام پر قبول نہیں ہوگا۔
​خواتین کے حقوق کے استثنیٰ: عدالت نے 5 ایسی صورتیں بتائیں جہاں میعاد اثر انداز نہیں ہوگی (مثلاً دھوکہ دہی، جائیداد سے آمدن ملتے رہنا، یا قبضہ برقرار ہونا)۔
​دعوے کا وقت: وراثت کے نام پر قانون کے ساتھ کھلواڑ نہیں کیا جا سکتا؛ حق کے لیے وقت پر عدالت آنا لازمی ہے۔
​عوامی اثرات: یہ فیصلہ آپ کے لیے کیوں ضروری ہے؟
​یہ فیصلہ ان لوگوں کے لیے ایک وارننگ ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ جائیداد کا جھگڑا "سو سال" بعد بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس سے جائیداد کے خریداروں کو تحفظ ملے گا تاکہ وہ پرانے وراثت کے جھگڑوں سے بچ سکیں۔ عام عوام کو اب سمجھنا ہوگا کہ اگر وراثت میں حق نہیں ملا، تو فوری آواز اٹھائیں؛ سالوں کی خاموشی آپ کے قانونی حق کو "ویور" (Waiver) یا دستبرداری تصور کروا سکتی ہے۔

​ عدالتی حوالہ جات

​موجودہ فیصلہ (خلاف): 2025 PLD 581 Lahore High Court (جس میں تاخیر کی بنیاد پر دعویٰ خارج ہوا)۔
​فیصلہ (حق میں): 1990 SCMR 1529 اور PLD 1990 SC 1 (جہاں ثابت شدہ دھوکہ دہی کی صورت میں خواتین کو ریلیف دیا گیا)۔
​ تلخ مگر سچی حقیقت
​میرا تجزیہ یہ ہے کہ یہ ججمنٹ "لٹیگیشن کے کلچر" کو لگام ڈالنے کے لیے بہترین ہے۔ لوگ اکثر جائیداد کی قیمت بڑھنے پر دہائیوں پرانے گڑے مردے اکھاڑتے ہیں۔ یہ فیصلہ ان لوگوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے جو "پراپرٹی بلیک میلنگ" کے لیے وراثت کا کارڈ استعمال کرتے ہیں۔ انصاف ان کا حق ہے جو بیدار ہیں، ان کا نہیں جو حق ضائع ہونے کے 30 سال بعد جاگتے ہیں۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وراثت کا حق کبھی ختم نہیں ہونا چاہیے، چاہے کتنی ہی دیر کیوں نہ ہو جائے؟ یا آپ ہائیکورٹ کے اس فیصلے سے متفق ہیں کہ خریداروں کے حقوق کا تحفظ زیادہ ضروری ہے؟
​:
​کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کی جائیداد کا ریکارڈ کتنا پرانا اور درست ہے؟
​کیا 34 سال بعد کسی دستخط کو چیلنج کرنا انصاف ہے یا زیادتی؟
​کیا خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کے بعد "میعاد" کا سہارا لینا اخلاقی طور پر درست ہے؟
​اگر آپ کوئی زمین خریدیں اور 30 سال بعد کوئی وارث آ جائے، تو آپ پر کیا گزرے گی؟
​اس فیصلے کے بعد، کیا آپ اپنے وراثتی معاملات کو فوری حل کرنے کی کوشش کریں گے؟


​اگر آپ کو ہماری فراہم کردہ معلومات سے فائدہ ہو رہا ہے، تو براہ کرم اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور پیج کو لائک کریں
Like & Share

​ #ریونیو Court

Address

Multan

Telephone

+923017468317

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Desk posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Legal Desk:

Share