26/08/2026
کیا روڑ سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کیے بغیر صرف یہ کہنا کہ ہم نے اگلے ہی دن مال Malkhana میں جمع کرایا اور PFSA بھیج دیا کافی ہے؟
کیا یہ ثابت کرنے کیلئے کہ پولیس پارٹی patrol duty پر تھی روزنامچہ عدالت میں پیش کیا گیا؟
کیا Case Property کو عدالت میں کھولنا اور display کرنالازمیہے؟
اگر defence de-sealing کا مطالبہ نہ کرے تو کیا trial court parcel کھولنے کی پابند نہیں ؟
یہ فیصلہ منشیات کے مقدمات میں Chain of Custody، Case Property کی باقاعدہ نمائش، گواہوں سے شناخت، اور Roznamcha/Police Rules کی پابندی کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ لاہور ہائی کورٹ، بہاولپور بنچ نے صرف تکنیکی خامیوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایسے نقائص کی بنیاد پر اپیل منظور کی جو استغاثہ کے مقدمے کی بنیادی شہادت اور برآمد شدہ منشیات کی شناخت و حفاظت کو مشکوک بناتے تھے۔
1۔ مقدمے کے بنیادی حقائق
ملزم ذوالفقار علی کے خلاف تھانہ ایئرپورٹ، رحیم یار خان میں مقدمہ درج ہوا۔
پولیس کے مطابق:
ملزم کے قبضے سے 6 کلو گرام چرس برآمد ہوئی۔
چرس پانچ ٹکڑوں میں تھی، ہر ٹکڑا تقریباً 1200 گرام کا تھا۔
ہر ٹکڑے سے 60 گرام نمونہ لے کر پانچ الگ سیل شدہ پارسل بنائے گئے۔
باقی 5700 گرام چرس الگ پارسل میں محفوظ کی گئی۔
نمونے PFSA کو بھیجے گئے اور کیمیائی تجزیے کی رپورٹ مثبت آئی۔
ٹرائل کورٹ نے ملزم کو 14 سال قید بامشقت اور 4 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا دی۔
ہائی کورٹ میں دفاع نے بنیادی طور پر کہا کہ:
1. مالِ مقدمہ کی محفوظ تحویل ثابت نہیں ہوئی۔
2. PFSA کو بھیجے گئے نمونوں کی محفوظ ترسیل ثابت نہیں ہوئی۔
3. متعلقہ Roznamcha اور Malkhana ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔
4. مالِ مقدمہ کو عدالت میں کھول کر گواہوں سے شناخت نہیں کروائی گئی۔
5. ملزم کو مالِ مقدمہ سے باقاعدہ confront نہیں کیا گیا۔
6. برآمد شدہ چرس کی شکل کے بارے میں دونوں recovery witnesses کے بیانات مختلف تھے۔
ہائی کورٹ نے یہ اعتراضات تسلیم کر لیے۔
---
2۔ سب سے اہم قانونی نکتہ: Chain of Custody
عدالت نے قرار دیا کہ منشیات کے مقدمے میں Chain of Custody یعنی برآمد شدہ منشیات کی مسلسل، محفوظ اور قابلِ اعتماد تحویل انتہائی اہم ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ prosecution کو ہر مرحلے پر یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ:
برآمدگی → پولیس کے قبضے میں آنا → Malkhana میں جمع ہونا → sample parcels کا نکلنا → PFSA تک پہنچنا → Laboratory examination
کے دوران مال میں تبدیلی، substitution یا tampering کا کوئی امکان نہیں تھا۔
صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ:
> "ہم نے مال Malkhana میں جمع کرایا اور اگلے دن PFSA بھیج دیا۔"
بلکہ اس کا دستاویزی ثبوت بھی ہونا چاہیے۔
---
3۔ Roznamcha کیوں اہم تھا؟
پولیس کا موقف تھا کہ ASI Tayyab Shahid پولیس پارٹی کے ہمراہ patrol duty پر تھا اور اسے مخبری ہوئی، جس کے بعد کارروائی کی گئی۔
لیکن عدالت میں متعلقہ Roznamcha entries پیش نہیں کی گئیں۔
یعنی prosecution نے یہ ثابت کرنے کے لیے documentary record پیش نہیں کیا کہ:
پولیس پارٹی واقعی اس وقت patrol پر تھی؛
وہ Noor-e-Wali Phatak پر موجود تھی؛
وہاں سے raid کے لیے روانہ ہوئی؛
بعد ازاں پولیس اہلکاروں کی movement کیا رہی۔
ہائی کورٹ نے اس omission کو اہم سمجھا۔
عملی قانونی اصول
منشیات کے مقدمات میں پولیس کی movement اور case property کی movement دونوں کو جہاں قانون اور قواعد تقاضا کریں وہاں documentary record سے corroborate کرنا prosecution کے لیے انتہائی اہم ہے۔
---
4۔ Malkhana Register No. XIX کیوں اہم تھا؟
یہ فیصلہ کا نہایت اہم حصہ ہے۔
Malkhana Moharrar نے بیان دیا کہ:
14.11.2023 کو اسے چھ sealed parcels ملے۔
15.11.2023 کو پانچ sample parcels ASI Tayyab Shahid کو PFSA بھیجنے کے لیے دیے۔
باقی مال دوسرے Malkhana میں جمع کروایا۔
لیکن اس نے Register No. XIX کی متعلقہ entries عدالت میں پیش نہیں کیں۔
اس کے علاوہ اس نے بتایا کہ samples:
Road Certificate No. 919/21
کے ذریعے بھیجے گئے تھے، مگر یہ Road Certificate بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔
لہٰذا عدالت کے سامنے صرف زبانی بیان رہ گیا۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ محض معمولی procedural lapse نہیں بلکہ Chain of Custody میں serious gap ہے۔
---
5۔ صرف PFSA کی Positive Report کافی نہیں
یہ اصول خاص طور پر یاد رکھنے کے قابل ہے۔
اگر PFSA رپورٹ کہتی ہے کہ sample چرس ہے، تب بھی prosecution کو پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ:
PFSA نے جس sample کا تجزیہ کیا، وہی sample تھا جو ملزم سے برآمد ہوا تھا۔
اگر sample کی identity اور safe transmission ہی مشکوک ہو جائے تو:
> Positive Chemical Report اپنی evidentiary value کھو سکتی ہے۔
یعنی:
Positive PFSA Report ≠ automatically proved prosecution case
جب تک اس sample کی محفوظ اور مسلسل custody ثابت نہ ہو۔
---
6۔ Case Property کو عدالت میں کھولنا کیوں ضروری تھا؟
یہ فیصلہ کا سب سے اہم اور قابلِ استعمال اصول ہے۔
Lahore High Court Rules & Orders کے:
Rule 14-F
کے مطابق ہر ایسی چیز جو circumstantial evidence کا حصہ ہو، مثلاً:
narcotics
weapon
clothes
money
وغیرہ، عدالت میں پیش ہونی چاہیے اور گواہ اس کی:
identity اور connection with the case
ثابت کرے۔
عدالت نے کہا کہ صرف parcel عدالت میں لا کر اسے:
Exhibit P-1
نمبر دے دینا کافی نہیں۔
---
7۔ Sealed parcel کو کھولنا ضروری ہے
عدالت نے بہت واضح طور پر کہا:
اگر case property sealed parcel میں موجود ہے تو trial کے دوران اسے de-seal کیا جانا چاہیے تاکہ:
1. مال عدالت میں display ہو؛
2. recovery witness اسے دیکھے؛
3. witness اس کی شناخت کرے؛
4. یہ ثابت کرے کہ یہی وہ چیز ہے جو ملزم سے برآمد ہوئی تھی؛
5. پھر اسے proper exhibit بنایا جائے۔
یعنی عدالت کے نزدیک:
Exhibition alone is not sufficient.
صرف یہ کہنا کہ:
> "Parcel P-1 پیش ہوا اور exhibit کر دیا گیا"
کافی نہیں۔
---
8۔ اس مقدمے میں اصل غلطی کیا ہوئی؟
PW-3 نے 5700 گرام باقی چرس والا parcel عدالت میں پیش کیا۔
اسے Exh. P-1 بنایا گیا۔
لیکن:
parcel کھولا نہیں گیا؛
اندر موجود چرس گواہوں کو دکھائی نہیں گئی؛
PW-3 نے اندر موجود چرس کو دیکھ کر identify نہیں کیا؛
PW-4 نے بھی اسے identify نہیں کیا؛
ملزم کو بھی اس case property سے confront نہیں کیا گیا۔
لہٰذا عدالت نے کہا کہ witnesses کی identification meaningless ہو گئی۔
---
9۔ چار مرحلوں کا اصول
ہائی کورٹ نے Rule 14-F کو apply کرتے ہوئے case property کی identification کے چار مراحل بیان کیے:
پہلا:
Article کو competent witness کے ذریعے عدالت میں پیش کیا جائے۔
دوسرا:
اسے open court میں display کیا جائے۔
تیسرا:
Witness اسے identify کرے اور بتائے کہ یہی وہ چیز ہے جو مقدمے سے متعلق ہے۔
چوتھا:
اسے properly mark کرکے exhibit کیا جائے۔
اگر parcel sealed ہو تو:
> trial کے دوران اسے de-seal کرنا ضروری ہے۔
---
10۔ دفاع کے لیے بہت اہم نکتہ
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ:
> "اگر defence de-sealing کا مطالبہ نہ کرے تو trial court parcel نہیں کھولے گی۔"
ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ court کی ذمہ داری ہے۔
یعنی prosecution یا defence کے objection کا انتظار کیے بغیر trial court کو Rule 14-F کے مطابق case property کی proper production اور identification کروانی چاہیے۔
یہ observation دفاعی وکلاء کے لیے بہت اہم ہے۔
---
11۔ Article 10-A بھی شامل ہوگیا
عدالت نے Amjad Siddiqui v. The State (2016 PCr.LJ 1800) پر انحصار کرتے ہوئے کہا کہ case property کو عدالت میں properly expose نہ کرنا Article 10-A، یعنی fair trial کے اصول سے بھی متصادم ہو سکتا ہے۔
کیونکہ عدالت کسی sealed parcel کو دیکھے بغیر یہ فرض نہیں کر سکتی کہ:
> اندر وہی چیز موجود ہے جو prosecution کہہ رہی ہے۔
Prosecution کو evidence کو قانون کے مطابق establish کرنا ہوگا۔
---
12۔ Recovery witnesses کے بیانات میں تضاد
ایک اور اہم circumstance یہ تھا کہ دونوں recovery witnesses نے چرس کی شکل مختلف بیان کی۔
PW-3:
اس نے کہا کہ پانچوں pieces square تھے۔
PW-4:
اس نے کہا کہ پانچوں pieces round تھے۔
ہائی کورٹ نے اس تضاد کو material سمجھا۔
وجہ یہ تھی کہ اگر case property عدالت میں کھول کر witnesses کو دکھائی جاتی تو یہ تضاد واضح یا test کیا جا سکتا تھا۔
لیکن چونکہ parcel کھولا ہی نہیں گیا، اس لیے prosecution کی recovery story مزید مشکوک ہوگئی۔
---
13۔ عدالت نے سزا کیوں ختم کی؟
ہائی کورٹ نے prosecution کے مقدمے میں متعدد اہم doubts پائے:
1۔
Roznamcha entries پیش نہیں کی گئیں۔
2۔
Malkhana Register No. XIX پیش نہیں کیا گیا۔
3۔
Road Certificate No. 919/21 پیش نہیں کیا گیا۔
4۔
PFSA samples کی محفوظ transmission مکمل طور پر documentary evidence سے ثابت نہیں ہوئی۔
5۔
Chain of Custody میں serious gap پیدا ہوا۔
6۔
5700 گرام case property کو de-seal نہیں کیا گیا۔
7۔
Witnesses نے case property کو properly identify نہیں کیا۔
8۔
ملزم کو case property سے confront نہیں کیا گیا۔
9۔
Recovery witnesses نے چرس کی شکل مختلف بیان کی۔
ان تمام circumstances کو ملا کر عدالت نے prosecution case کی integrity پر شک ظاہر کیا۔
---
14۔ سخت سزا کا ایک اور اہم اصول
عدالت نے Ameer Zeb v. The State (PLD 2012 SC 380)، Ahmed Ali v. The State (2023 SCMR 781) اور Jeehand v. The State (2025 SCMR 923) پر reliance کرتے ہوئے کہا:
> جتنی سنگین سزا ہوگی، اتنا ہی prosecution سے مضبوط اور سخت معیارِ ثبوت کا تقاضا ہوگا۔
چونکہ CNSA کے تحت سزا سخت ہوتی ہے، اس لیے prosecution کو معمولی سے زیادہ مضبوط طریقے سے:
recovery + identity + custody + transmission + laboratory connection
ثابت کرنا ہوتا ہے۔
---
15۔ آخر میں Benefit of Doubt
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ prosecution:
continuous and secure chain of custody
ثابت کرنے میں ناکام رہی۔
Case property بھی قانون کے مطابق produce نہیں کی گئی اور recovery witnesses کے بیانات میں material discrepancy بھی موجود تھی۔
لہٰذا doubts پیدا ہوئے۔
پاکستانی فوجداری قانون کا بنیادی اصول ہے:
> ایک معقول شک بھی ملزم کے حق میں جاتا ہے۔
چنانچہ:
اپیل منظور → conviction اور sentence ختم → ملزم بری۔
اور عدالت نے حکم دیا کہ اگر کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہ ہو تو اسے فوراً رہا کیا جائے۔
فیصلے کا Ratio
"صرف مثبت PFSA رپورٹ اور sealed parcel کو exhibit کر دینا کافی نہیں؛ prosecution کو برآمد شدہ narcotics کی محفوظ Chain of Custody، عدالت میں proper production، de-sealing، گواہوں سے شناخت اور اس کی case سے connection قانون کے مطابق ثابت کرنا لازم ہے، ورنہ پیدا ہونے والا reasonable doubt ملزم کے حق میں جائے گا۔"