01/07/2026
*پاکستان: 6 ماہ میں 100 ملین روپے سے زائد بینک ٹرانزیکشنز پر سخت جانچ –*
یکم جولائی 2026 سے نئے قواعد نافذ ہوں گے۔
جن افراد کے 6 ماہ کے دوران بینک اکاؤنٹس میں مجموعی جمع یا نکلوائی گئی رقم 10 کروڑ روپے (100 ملین) سے زیادہ ہوگی، ان کی تفصیلات رپورٹ کی جائیں گی۔
مقصد بینک ریکارڈ اور ایف بی آر کے ٹیکس ریکارڈ کی کراس میچنگ کرنا ہے۔
اس عمل سے کم ظاہر کی گئی آمدن، فروخت چھپانے اور غیر ظاہر شدہ لین دین کی نشاندہی کی جائے گی۔
تمام بینک اور الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز (EMIs) مقررہ مالیاتی ڈیٹا الیکٹرانک طور پر اپ لوڈ کریں گے۔
رپورٹ میں شامل معلومات:
مجموعی جمع (Credits) اور نکلوائی گئی رقم (Debits)
ابتدائی اور اختتامی بیلنس
Peak Credit (مدت کے دوران سب سے زیادہ کریڈٹ بیلنس)
مجموعی کریڈٹس
تمام بینک اکاؤنٹس شامل ہوں گے، جیسے:
کرنٹ اکاؤنٹ
سیونگ اکاؤنٹ
فکسڈ/ٹرم ڈپازٹس
دیگر تمام ڈپازٹ اکاؤنٹس
ڈیٹا اسٹیٹ بینک کے محفوظ سنٹرل ڈیٹا ہب میں محفوظ کیا جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں ٹیکس افسران کو بینک ڈیٹا تک براہِ راست رسائی نہیں ہوگی۔
صرف نمایاں تضاد (Mismatch) سامنے آنے پر کیس کمپلائنس رسک مینجمنٹ (CRM) سسٹم کو بھیجا جائے گا۔
اس کے بعد کیس نیشنل فیس لیس سینٹر کے ذریعے نمٹایا جائے گا۔
ایف بی آر قانون کے مطابق بینک ڈیٹا کی رازداری برقرار رکھنے کا پابند ہوگا۔
رپورٹنگ ہر 6 ماہ بعد ہوگی:
1 جولائی تا 31 دسمبر (رپورٹ: 31 جنوری)
1 جنوری تا 30 جون (رپورٹ: 31 جولائی)