Adeel Malik law firm

Adeel Malik law firm قانونی مشاورت کہ لیے ہم سے رابطہ کریں۔

دیوانی مقدمات ،?

ایک سانپ ایک جگنو کا پیچھا کر رہا تھا جگنو جو صرف چمکنے کے لئے جیتا تھا۔جگنو رک گیا اور سانپ سے کہا:"کیا میں آپ سے تین س...
12/01/2024

ایک سانپ ایک جگنو کا پیچھا کر رہا تھا جگنو جو صرف چمکنے کے لئے جیتا تھا۔
جگنو رک گیا اور سانپ سے کہا:
"کیا میں آپ سے تین سوال پوچھ سکتا ہوں؟"
سانپ نے کہا ہاں۔
1- کیا میں اس مخلوق سے تعلق رکھتا ہوں جو آپ کی غذا ہے؟
سانپ نے کہا نہیں۔
2 .کیا میں نے آپ کو کچھ کہا؟
سانپ نے کہا نہیں۔
3 پھر تم۔ تم مجھے کیوں ہڑپ کرنا چاہتے ہو؟
"سانپ نے جواب دیا، "کیونکہ میں تم کو چمکتا دیکھ کر برداشت نہیں کر سکتا۔"
کہانی کا اخلاقی سبق...
اکثر، کچھ لوگ آپ کو چمکتا دیکھ کر کھڑے نہیں ہو سکتے، برداشت نہیں کر سکتے۔ اور اسی لئے وہ سانپوں کی طرح کام کرتے ہیں، خاموش اور آپ کو تباہ کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں!
کڑوا سچ : جہاں بہت سے سانپ اپنے مفاد کی خاطر کسی اور کو چمکنے نہیں دیتے۔
یا اللہ ہم سب کو اور ہمارے متعلقین کو حاسدوں ، دشمنوں ، بغض رکھنے والوں اور شر پھیلانے والوں سے اور انکے شر سے ہمیشہ محفوظ رکھ ۔ آمین

💯
11/12/2022

💯

13/05/2022

ہبہ کے لوازمات== پیشکش ، قبولیت، منتقلی، قبضہ۔
(2021 YLR 1090).
ہبہ نامہ کے گواہان، شناخت کنندہ، ریوینو آفیسر اور متعلقہ پٹواری کو بطور گواہ پیش نہ کرنے کی صورت ميں، ہبہ ثابت نہ ہو گا۔
(2018 MLD 739).
خاوند کی طرف سے، بیوی کے حق ميں کیے گئے، ہبہ کو رجسٹرڈ کروانا لازم نہ ہے ۔
(PLD 2015 Pesh 111).
زرعی زمین کا ہبہ، صرف وارثان کے حق ميں ہی، جائز تصور ہو گا۔
(2012 CLC 1333).
دیگر وارثان کو، یکسر نظر انداز کر کے، تمام جائیداد کسی ایک وارث کے حق میں ہبہ نہ کی جا سکتی ہے۔
(1996 CLC 857).
(1995 SCMR 75).

04/08/2021

Quashment of FIR
ایف آئی آر کو ختم کروانے کا طریقہ کار !!

ایف آئی آر کس طرح خارج کرائی جائے؟

مخالفین کو پھنسانے کیلئے جھوٹی اور فرضی کہانیوں پر مبنی ایف آئی آرز درج کرانا پاکستان اور آذاد کشمیر میں عام ہے۔کسی کیخلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کرانا ایک جرم ہے۔جس کی سزا7 سال تک قید ہوسکتی ہے۔ (دفعہ 182 تعزیرات پاکستان) اسی طرح اس جھوٹی ایف آئی آر میں درج کی گئی کہانی کے گواہوں کو بھی جھوٹی گواہی دینے پرسخت سزائیں مقرر ہیں (سیکشنز 193،194 پاکستان پینل کوڈ) جھوٹٰی گواہی دینے والے کو سزائے موت تک دی جاسکتی ہے۔

آپ کیخلاف جھوٹی ایف آئی آر درج ہوجائے تو کیا کریں؟

اگر ایف آئی آر کے اندراج کے بعد آپ کا چالان متعلقہ عدالت میں پیش نہیں ہوا اور اس پر ٹرائل شروع نہیں ہوا تو آپ آئین کے آرٹیکل 199 اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 561اے کے تحت اس ایف آئی آر کے اخراج کیلئے ہائیکورٹ میں رٹ دائر کر سکتے ہیں۔آپ اپنا کیس ثابت کرتے ہیں تو ہائیکورٹ یہ ایف آئی آر خارج کرنے کا حکم دے گی۔

اسکی ایک مثال 2008 میں ہائیکورٹ کے جج جسٹس کاظم علی ملک کے ایک فیصلے سے دوں گا۔اس کیس میں مخالفین کا آپس میں لین دین کا کوئی مسئلہ تھا۔ایک فیکٹری کے مالک نے ایک شخص سے تیل خریدا تھا اور ادائیگی نہیں کی تھی۔یہ دیوانی عدالت کا معاملہ تھا لیکن مدعی نے پولیس سے ملی بھگت کر کے فیکٹری مالک کیخلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 406 کے تحت مقدمہ درج کرا دیا۔عدالت نے یہ ایف آئی آر خارج کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ یہ دیوانی عدالت کا مسئلہ ہے پولیس نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا،نہ صرف یہ بلکہ ایف آئی درج کرنے والے تھانہ باغبانپورہ لاہور کے سب انسپکٹر اصغر علی اور تفتیشی سب انسپکٹر عرفان علی کو رٹ کرنے والے شخص کو 50 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔

2008 YLR 2695.

تاہم اگر اس ایف آئی آر کے اندراج کے بعد ملزم کا چالان پیش کر دیا گیا اور ٹرائل شروع ہوگیا ہو تو ہائیکورٹ اسے اس نچلی عدالت سے ہی ریلیف لینے کی ہدایت کرتی ہے۔اس صورت میں مجسٹریٹ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 249 اے اور سیشن جج ضابطہ فوجداری کی دفعہ 265 کے کے تحت ملزم کو کسی بھی وقت مقدمہ سے بری کرسکتا ہے۔

پولیس رولز 1934 کا قانون نمبر 24 اعشاریہ 7 متعلقہ پولیس افسر کو بھی یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ درج شدہ ایف آئی آر کو منسوخ کرسکتا

خیر اندیش :

محمد عدیل ایڈووکیٹ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میرپور

03/08/2021

جس شخص کے خلاف استغاثہ دائر کیا جاتا ہے تو عدالت اسے ضابطہ فوجداری کئی دفعہ 204 کے تحت طلب کرتی ہے اور حاضری کے بعد ضمانتی مچلکے بھی جمع کرانے کا حکم دے سکتی ہے۔
2019 PCr.LJ 665

اگر کوئی شخص جھوٹا استغاثہ دائر کرے گا تو عدالت ضابطہ فوجداری کی دفعہ 250 کے تحت سزا دینے اور معقول جرمانہ ادا کرنے کا حکم صادر کر سکتی ہے ۔
2017 MLD 920

پرائیویٹ استغاثہ میں اس کے حقائق پر آزادانہ کاروائی کی جاتی ہے لہذا ملزمان کو بھی اپنے دفاع کے لیے مکمل موقع فراہم کیا جاتا ہے اور ان کو وکیل تک رسائی دے دی جاتی ہے۔
2017 YLR 1036

اگرچہ استغاثہ دائر کرنے کی کوئی معیاد قانون میں مقرر نہیں ہے۔ مگر استغاثہ جتنی دیر سے دائر کیا جاتا ہے تو اس کی سچائی کے امکانات اتنے ہی کم ہوجاتے ہیں۔
PLD 2018 Lhr. 118

03/08/2021

Build your own dreams, or someone else will hire you to build theirs.

Address

Mirpur

Opening Hours

Monday 08:00 - 15:00
Tuesday 08:00 - 15:00
Wednesday 08:00 - 15:00
Thursday 08:00 - 15:00
Friday 09:00 - 13:00
Saturday 08:00 - 12:00

Telephone

+923400580468

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adeel Malik law firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Adeel Malik law firm:

Share