Sidra Jarral Law Associates

Sidra Jarral Law Associates ایڈووکیٹ ہائی کورٹ میرپور آزاد کشمیر۔

آپ کے قانونی مسائل کا حل🤗
28/09/2024

آپ کے قانونی مسائل کا حل🤗

فائلر بنیں اور اپنا ٹیکس بچائیں.
27/09/2024

فائلر بنیں اور اپنا ٹیکس بچائیں.

Stages Of Criminal Trial
08/09/2024

Stages Of Criminal Trial

07/06/2024

Kinds of dissolution of marriage

میاں بیوی کا رشتہ ختم کرنے کیلئے پاکستانی قانون میں تین طریقے ہیں۔ طلاق - خلع - تنسیخ نکاح

ان تینوں میں فرق کیا ہے؟

1) طلاق دینا مرد کا اختیار ہے۔ طلاق دینے کی صورت میں مرد کو نکاح نامہ میں لکھا گیا حق مہر معجل، غیر معینہ وغیرہ سب کچھ بیوی کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ وہ نہ دے تو قانون کہتا ہے کہ اس کی پراپرٹی بیچ کر خاتون کو دلوایا جائے۔ اگر پراپرٹی نہیں ہے تو مرد کو جیل میں ڈالا جائے۔

2) خلع عورت لیتی ہے۔ خلع لینے کیلئے کسی وجہ کا ثابت کرنا ضروری نہیں کہ شوہر تشدد کرتا ہے، نشہ کرتا ہے، خرچہ پورا نہیں کرتا وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ خاتون کا اتنا کہنا بھی کافی ہوتا ہے کہ یہ شخص مجھے ناپسند ہے، میں اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ عدالت پابند ہے کہ اسے خلع کی ڈگری دے۔ کہ کسی کو اس کی مرضی کے بغیر کسی کے ساتھ رکھنے کا آرڈر نہیں دیا جا سکتا۔ خلع لینے کی صورت میں خاتون کو حق مہر سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ عدالتیں عموما خاتون کو حق مہر معجل (جو خاتون نے نکاح کے وقت لیا تھا) کا آدھا شوہر کو واپس کرنے کا حکم دیتی ہیں اور حق مہر غیر معجل (جو نکاح کے بعد دیا جانا ہوتا ہے) مرد کو معاف کر دیتی ہیں کہ خاتون خود چھوڑ کر جا رہی ہے۔ حق مہر غیر معجل سے دستبردار ہو۔

3) علیحدگی کا تیسرا طریقہ تنسیخ نکاح ہے۔ جو خاتون خلع کی صورت اپنا حق مہر وغیرہ نہیں چھوڑنا چاہتی وہ اس طریقہ کا اختیار کرتی ہے۔ تنسیخ نکاح کیلئے قانون میں مختلف شرائط دی گئی ہیں۔ مثلا شوہر نامرد ہے۔ وہ گم ہو گیا ہے، عرصہ 7 سال سے گھر نہیں ایا۔ وہ خرچہ نہیں دیتا، تشدد کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ خلع کے برعکس عدالت یہ ڈگری خاتون کے حق میں تب کرتی ہے جب وہ اپنے لگائے گئے الزامات ثابت نہیں کرتی۔ مثلا وہ نامرد ہونے کا الزام لگاتی ہے تو عدالت اسے میڈیکل کروانے کا کہہ سکتی ہے۔ تشدد کا الزام ہے تو اسے ثابت کرنے کا کہہ سکتی ہے

23/04/2024

DISOBEDIENT WIFE IS NOT ENTITLED FOR MAINTENANCE
When the Wife is not Willing to Reside with her Husband then She is not Entitled for any Maintenance.
2016 YLR 371
2004 CLC 1700
1998 MLD 1944
PLD 1977 Lah 90

05/02/2024

سوال : پاکستان قوانین اور شریعت کی رو سے عدت کی مدت کتنی ہے ؟

جواب : شریعت کی رو سے عدت کی مدت مندرجہ ذیل ہے :

الف ) اگر کسی عورت کو حیض آتے ہوں تو ایسی عورت کی عدت تین حیض ہوگی۔
ب ) اگر کوئ عورت طلاق کے وقت حاملہ ہو تو ایسی صورت میں وضع حمل ہی عدت شمار ہوگی۔
ج ) اگر کسی عورت کو عمر کے کم یا زیادہ ہونے کی وجہ سے حیض نہیں آتے تو ایسی صورت میں عدت کا دورانیہ تین ماہ ہوگا۔

نوٹ : یاد رہے کہ مندرجہ بالا تینوں صورتیں مطلقہ یعنی ایسی عورتوں کی تھیں جن کو طلاق کی وجہ سے عدت درپیش ہوئ ہو کیونکہ عدت وفات مندرجہ بالا تمام قسم کی عورتوں کے لئے چار مہینے دس دن ہے۔

شریعت میں عدت کی مدت کا معاملہ واضح ہونے کے بعد پاکستانی قانون میں عدت کی مدت مندرجہ ذیل ہے :

الف ) مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے دفعہ سات کے تحت عدت کی مدت نوے دن ہے۔
ب ) شریعت اپیلیٹ بینچ سپریم کورٹ آف پاکستان کے مشہور زمانہ اور تاریخ ساز فیصلے کی رو سے عدت کی مدت نوے دن نہیں بلکہ تین حیض ہیں اور تین حیض کی وضاحت اس فیصلے میں کچھ یوں ہوئ ہے کہ حیض یعنی پیریڈز کی اقل مدت تین دن ہے اور طہر یعنی پاکی کی حالت کی اقل مدت پندرہ دن ہے تو ایسی صورت میں عدت کا کم سے کم دورانیہ انتالیس دن " بھی " ہوسکتا ہے۔

نوٹ : یاد رہے کہ مندرجہ بالا تاریخ ساز فیصلے کے مصنف جسٹس تقی عثمانی صاحب ہیں جن کے فیصلے کو 1992 SCMR 1273 پر پڑھا اور دیکھا جا سکتا ہے۔

01/01/2024

2009 SCMR 1079
اگر دعوی کورٹ فیس کی کمی کی وجہ سے خارج کردیا جاۓ تو مکمل کورٹ فیس لگا کر دوبارہ دعوی داٸر ہوسکتا ہے۔

04/12/2023

بیشک سکون اللّه کے ذکر میں ہے💕

30/11/2023

ڈسٹرکٹ بار میرپور آزاد کشمیر میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں میرپور کے تمام وکلا اور ججز نے شرکت کی۔ سب کی شرکت کا بہت شکریہ💕

25/11/2023

Address:Opposite High Court Mirpur Said Plaza Kashmir Girls Hostel Near Javed Medical Complex Mirpur Azad Kashmir.

01/11/2023
23/10/2023

قاضی فائز عیسی صاحب کا ایک بہترین فیصلہ۔

بھائی نے بہن کے خلاف دعوی کیا ہے وہ اسکی بہن نہیں ہے بلکہ اسکے مرحوم باپ نے اسے ( منہ بولی بیٹی ) adopt کیا تھا۔
لہذا adopted child ہونے کی وجہ سے وہ اس کے باپ کی جائیداد کی وارث نہیں ہے۔۔
ساتھ ہی بھائی نے بہن جسکا نام لیلی تھا اسکے DNA کروانے کے لئے عدالت میں درخواست دائر کردی جو کہ منظور ہو گی کہ اسکا ڈی این کو اسکے بھائی اور ماں سے compare کیا جائے۔۔ثرائل کورٹ نے درخواست منظور کرلی جو فیصلہ ہائی کورٹ تک برقرار رہا۔۔جب ان فیصلوں کے خلاف بہن سپریم کورٹ آئی تو قاضی فاز عیسی نے مندرجہ زیل گراونڈز کو ڈسکس کرتے ہوئے بھائی کا دعوی ہی بھاری جرمانے کے ساتھ خارج کر دیا۔۔پوائنٹس درج زیل تھے۔
1 کسی کو اسکی مرضی کے بغیر ڈی این اے کروانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جو کہ right of privacy آرٹیکل 14 آئین پاکستان کے خلاف ہے۔۔

2۔ نادرہ کے تمام ڈاکومنٹس یہ بتا رہے ہیں کہ لیلی عبدلقیوم یعنی مرحوم کی بیٹی ہے ۔۔اور آرٹیکل 128 قانون شہادت آرڈر کی اسے protection حاصل ہے۔

کوئی یہ تو دعوی کر سکتا ہے کہ میرا ڈی این اے میرے باپ سے میچ کروایا جائے کہ میں اسکی اولاد ہوں ۔۔لیکن کوی یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلاں فلاں کی اولاد نہیں ہے اسکا ڈی این اے کروایا جائے۔۔لہزا بچوں کو سوشل stigma سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ ایسے دعوی جات کو بھاری جرمانے سے خارج کیا جائے۔۔

reference
PLD 2018 SC 149

Address

SAID Plaza NEAR JAVAID MEDICAL COMPLEX
Mirpur

Opening Hours

Monday 08:00 - 15:00
Tuesday 08:00 - 15:00
Wednesday 08:00 - 15:00
Thursday 08:00 - 15:00
Friday 08:00 - 12:00
Saturday 08:00 - 15:00

Telephone

+925827445199

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sidra Jarral Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Sidra Jarral Law Associates:

Share