MALAK LAW Chamber

MALAK LAW Chamber Services Offered: Civil cases, criminal cases, Family cases,Court Marriage , Divorce , Child Custoday , constitutional cases and all others.

MALAK LAW CHAMBER is one of the largest and most well reputed law firm.

31/05/2026

پریس ریلیز
پیپلز لائرز فورم ضلع سوات
مورخہ: 31 مئی 2026

پیپلز لائرز فورم ضلع سوات کے صدر ملک صدام حسین ایڈوکیٹ، کابینہ کے اراکین اور تمام معزز ممبران نے چترال سے تعلق رکھنے والی نوجوان اور باصلاحیت خاتون وکیل ایڈووکیٹ ایچ خونزہ کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اپنے تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ مرحومہ ایک نہایت محنتی، باصلاحیت اور باوقار وکیل تھیں جنہوں نے مختصر عرصے میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، دیانت داری اور خدمتِ خلق کے جذبے سے وکلا برادری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ خواتین سائلین کی قانونی معاونت اور انصاف تک رسائی کے لیے ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں اور ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

پیپلز لائرز فورم ضلع سوات مرحومہ کے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، چترال کی وکلا برادری اور تمام سوگواران سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔ ہم اس غم کی گھڑی میں سوگوار خاندان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

اللہ تعالیٰ مرحومہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

جاری کردہ:
سہیل سلطان ایڈوکیٹ
جنرل سیکرٹری
پیپلز لائرز فورم ضلع سوات

26/05/2026
22/05/2026

⚖️ سرکاری ملازمین کیلئے اہم قانونی فیصلہ

Supreme Court of Pakistan کے فیصلے 2024 SCMR 2019 میں یہ اصول واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی قانونی نکتے پر سرکاری ملازمین کے حق میں فیصلہ دیا جائے تو اس کا فائدہ صرف مقدمہ کرنے والے افراد تک محدود نہیں رہتا بلکہ اسی نوعیت کے تمام سرکاری ملازمین اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 189 کے تحت سپریم کورٹ کے فیصلے تمام عدالتوں اور سرکاری اداروں پر لازم ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر کوئی فیصلہ قانون کی تشریح پر مبنی ہو تو اس کا اطلاق تمام متعلقہ ملازمین پر ہوگا، چاہے وہ مقدمے کے فریق نہ بھی ہوں۔
✅ یہ فیصلہ: ✔ سرکاری ملازمین کے مساوی حقوق کو یقینی بناتا ہے
✔ غیر ضروری مقدمہ بازی کو کم کرتا ہے
✔ انصاف اور اچھی حکمرانی کو فروغ دیتا ہے
✔ اداروں میں یکساں قانون کے اطلاق کو یقینی بناتا ہے
⚖️ یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کے حقوق کے تحفظ کیلئے ایک اہم قانونی نظیر ہے۔
✍️ MALAK SADAM HUSSAIN ADVOCATE
🏛️ MALAK LAW CHAMBER
📞 03409141394

⚖️ Important Legal Decision for Government Employees
Supreme Court of Pakistan in its judgment 2024 SCMR 2019 has clarified that if a legal question is decided in favour of government employees, its benefit is not limited only to the petitioners. Rather, all similarly placed government employees are entitled to the same relief.
The Court held that under Article 189 of the Constitution of Pakistan, the judgments of the Supreme Court are binding on all courts and government authorities. Therefore, once a legal principle is settled, it must be applied uniformly to all relevant employees, even if they were not parties to the case.
✅ This judgment: ✔ Ensures equal treatment of government employees
✔ Reduces unnecessary litigation
✔ Strengthens rule of law and good governance
✔ Guarantees uniform application of law in public service matters
⚖️ A significant precedent for protecting the rights of government employees.
✍️ MALAK SADAM HUSSAIN ADVOCATE
🏛️ MALAK LAW CHAMBER
📞 03409141394

#03409141394

20/05/2026

بوڑھے والدین کو ان کے اپنے گھر سے زبردستی نکالنا صرف غیر اخلاقی نہیں بلکہ پاکستان میں قابلِ سزا جرم بھی ہے۔
⚖️ تحفظ والدین آرڈیننس 2021 کے مطابق:
👉 اولاد اپنے والدین کو گھر سے بےدخل نہیں کر سکتی
👉 والدین براہِ راست ڈپٹی کمشنر سے شکایت کر سکتے ہیں
👉 انتظامیہ بچوں کو گھر خالی کرنے کا حکم دے سکتی ہے
👉 خلاف ورزی پر قید یا جرمانہ ہو سکتا ہے
📌 لاہور ہائی کورٹ (PLD 2022 Lahore 559) نے بھی واضح کیا کہ: 💬 والدین کو گھر سے نکالنا غیر قانونی اور قابلِ سزا عمل ہے۔
❤️ یاد رکھیں: گھر صرف جائیداد نہیں ہوتا…
والدین کی عزت سب سے بڑا قانون ہے۔
🚨 Did you know?
Forcing elderly parents to leave their own home is not only immoral but also a punishable offence in Pakistan.
⚖️ Under the Parents Protection Ordinance 2021:
👉 Children cannot evict their parents from the house
👉 Parents can directly complain to the Deputy Commissioner
👉 Authorities can order children to vacate the property
👉 Violation may result in imprisonment or fine
📌 The Lahore High Court in PLD 2022 Lahore 559 held that: 💬 Forcing parents out of their home is unlawful and punishable.
❤️ Remember: A home is not just property…
Respect for parents is the highest law.

09/05/2026

⚖️ سپریم کورٹ گائیڈ لائن — 302 PPC، 34 اور 149 PPC کا دائرہ کار
ٹرائل کورٹ پر لازم ہے کہ چارج فریم کرنے سے پہلے 265-C / 265-D Cr.P.C کے تحت مکمل ریکارڈ (FIR، 161 Cr.P.C، 173 Cr.P.C اور دیگر متعلقہ دستاویزات) کا باریک جائزہ لے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ جرم مشترکہ نیت (Section 34 PPC) یا مشترکہ مقصد (Section 149 PPC) کے تحت ہوا ہے یا نہیں؛ اس کے بعد ہی چارج فریم کیا جائے۔ ٹرائل مکمل ہونے، 342 Cr.P.C کے بیان اور دفاع کا موقع دینے کے بعد عدالت پر لازم ہے کہ واضح فیصلہ دے کہ کیس میں مشترکہ نیت یا مشترکہ مقصد ثابت ہوتا ہے یا نہیں، اور اگر ذمہ داری انفرادی (individual liability) ثابت ہو جائے تو پھر Section 302(c) PPC کا اطلاق ہوگا اور ہر ملزم کو اس کے کردار کے مطابق سزا دی جائے گی۔ ہر عدالتی فیصلے میں واضح اور ٹھوس قانونی وجوہات دینا لازمی ہے۔
⚖️ Supreme Court Guideline — Scope of Sections 302 PPC, 34 & 149 PPC
The Trial Court is required, before framing of charge, to strictly comply with Sections 265-C & 265-D Cr.P.C and carefully examine the record (FIR, statements under Section 161 Cr.P.C, report under Section 173 Cr.P.C and all relevant documents) to determine whether the offence was committed with common intention (Section 34 PPC) or common object (Section 149 PPC). After completion of trial, recording of statement under Section 342 Cr.P.C and providing defence opportunity, the Court must give a clear finding whether the case involves joint liability or individual liability. In case of individual liability, Section 302(c) PPC shall apply and each accused shall be dealt with according to his role. Every judgment must contain clear judicial reasoning.
#️⃣ Hashtags

04/05/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے 2025 SCMR 993 میں ایک نہایت اہم اصول واضح کیا گیا ہے کہ دفعہ 302 PPC کے تحت قتلِ عمد کے ہر مقدمہ میں سزائے موت لازمی نہیں ہوتی۔ قانون نے دفعہ 302 میں مختلف حالات کے مطابق مختلف سزائیں مقرر کی ہیں، اور ہر مقدمہ کے حقائق و حالات کو دیکھ کر عدالت یہ طے کرتی ہے کہ کون سی سزا مناسب ہے۔
عدالت نے وضاحت کی کہ دفعہ 302(a) کے تحت اگر مقدمہ قصاص کے دائرے میں آتا ہو، تو اس میں سزا صرف موت ہے اور عدالت کے پاس کوئی دوسری سزا دینے کا اختیار نہیں۔ لیکن اگر مقدمہ دفعہ 302(b) کے تحت آتا ہو، تو وہاں قانون نے دو متبادل سزائیں دی ہیں: سزائے موت یا عمر قید۔ یہ دونوں قانونی سزائیں ہیں، اور ایک کو دوسری پر فوقیت حاصل نہیں۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ ہر قتل کے مقدمہ میں پہلے سزائے موت دی جائے اور صرف خاص رعایت میں عمر قید دی جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ دونوں سزائیں alternate punishments ہیں، اور عدالت مقدمہ کے facts and circumstances کو دیکھ کر ان میں سے ایک سزا منتخب کرتی ہے۔
اگر مقدمہ کے حالات ایسے ہوں جن میں تخفیفی پہلو (mitigating circumstances) موجود ہوں، مثلاً وقوعہ کے حالات غیر معمولی ہوں، اچانک جھگڑا ہوا ہو، نیت کے بارے میں ابہام ہو، یا ایسے حالات موجود ہوں جو کم سزا کی طرف اشارہ کرتے ہوں، تو عدالت عمر قید کی سزا دے سکتی ہے۔ ایسی صورت میں عمر قید کوئی رعایت نہیں بلکہ قانون کے مطابق جائز سزا ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ دفعہ 302(b) میں موجود الفاظ “having regard to the facts and circumstances of the case” بہت اہم ہیں، کیونکہ یہی الفاظ عدالت کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ مقدمہ کے حالات کو دیکھ کر مناسب سزا طے کرے۔ یعنی سزا کا فیصلہ صرف جرم کے نام پر نہیں بلکہ پورے مقدمہ کے حالات دیکھ کر کیا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ نے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 367(5) Cr.P.C. کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت سزائے موت کے بجائے عمر قید دیتی ہے، تو اسے اپنے فیصلے میں وجہ بھی لکھنا ہوگی کہ موت کی سزا کیوں مناسب نہ سمجھی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عمر قید دینے کے لیے عدالتی وجوہات موجود ہونا ضروری ہیں۔
فیصلہ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر ٹرائل کورٹ نے حالات دیکھ کر عمر قید دی ہو، تو اپیلی عدالت صرف اسی بنیاد پر سزا بڑھا کر موت نہیں دے سکتی کہ وہ مختلف رائے رکھتی ہے۔ سزا میں اضافہ صرف انہی معاملات میں ہوگا جہاں واضح ناانصافی یا سنگین غلطی موجود ہو۔
اس فیصلے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ دفعہ 302(b) میں سزائے موت اور عمر قید دونوں برابر قانونی سزائیں ہیں۔ اگر مقدمہ میں mitigating circumstances موجود ہوں، تو عمر قید دی جا سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، 302 کی سزا صرف جرم دیکھ کر نہیں بلکہ جرم کے حالات، ملزم کے کردار، اور مقدمہ کے مجموعی حقائق کو دیکھ کر طے ہوتی ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر بعض قتل کے مقدمات میں سزائے موت کے بجائے عمر قید دی جاتی ہے۔
⚖️ English:
The Supreme Court of Pakistan in the judgment 2025 SCMR 993 laid down an important principle that under Section 302 PPC, the death penalty is not mandatory in every case of murder. The law provides different punishments depending upon the circumstances, and the Court determines the appropriate sentence after considering the facts and circumstances of each case.
Under Section 302(a), where the case falls within the ambit of Qisas, the punishment is only death and the Court has no discretion to award any other sentence. However, under Section 302(b), the law provides two alternate punishments: death penalty or life imprisonment. Both are legally recognized punishments and neither has precedence over the other.
The Court clarified that it is incorrect to assume that death penalty must be awarded in every murder case and life imprisonment is only an exception. Both punishments are alternate, and the Court chooses one based on the facts and circumstances of the case.
Where mitigating circumstances exist—such as sudden quarrel, lack of premeditation, or doubtful intention—the Court may award life imprisonment. In such cases, life imprisonment is not a concession but a lawful punishment.
The Court further emphasized that the phrase “having regard to the facts and circumstances of the case” in Section 302(b) empowers the Court to determine the appropriate sentence. Thus, punishment is based on the overall facts, not merely the offence.
Referring to Section 367(5) Cr.P.C., the Court held that if life imprisonment is awarded instead of death penalty, reasons must be recorded explaining why death was not considered appropriate.
It was also held that an appellate court cannot enhance the sentence to death merely on a different view if the trial court has already awarded life imprisonment after considering the facts. Enhancement is justified only in cases of clear miscarriage of justice or serious error.
The core principle is that under Section 302(b), death and life imprisonment are equal punishments. Where mitigating circumstances exist, life imprisonment may be awarded.
#03409141394

03/05/2026

پیپلز لائرز فورم ضلع سوات کے صدر ملک صدام حسین ایڈوکیٹ، پشاور ہائی کورٹ منگورہ بینچ (دارالقضاء سوات) میں اپنے معزز وکلاء دوستوں کے ہمراہ۔ ⚖️

President Peoples Lawyers Forum District Swat, Malik Saddam Hussain Advocate, at Peshawar High Court Mingora Bench (Darul Qaza Swat) along with fellow learned lawyers.

03/05/2026

📜 اہم سپریم کورٹ فیصلہ — مہر کے بارے میں بڑی وضاحت

کیا نکاح نامہ میں درج رقمِ مہر (کالم 13) ادا کرنے کے بعد جائیداد (کالم 16) کا حق ختم ہو جاتا ہے؟ ❌

⚖️ سپریم کورٹ نے واضح کیا:
✔️ مہر صرف رقم نہیں ہوتا
✔️ جائیداد بھی مہر ہو سکتی ہے
✔️ اور دونوں ایک ساتھ بھی ہو سکتے ہیں

📌 اگر نکاح نامہ میں رقم اور جائیداد دونوں درج ہوں تو:
👉 بیوی دونوں کی حقدار ہو سکتی ہے

⭐ اصل فیصلہ کن چیز: فریقین کی نیت (Intention of Parties)

📜 نکاح نامہ ایک قانونی معاہدہ ہے — اسے مکمل طور پر سمجھنا ضروری ہے

⚖️ PLD 2026 SC 20
Mst. Fakhra Jabeen vs Wasif Ali

---

📜 Important Supreme Court Judgment — Clarification on Dower

Can payment of dower amount (Column 13) cancel the right to property (Column 16)? ❌

⚖️ Supreme Court held:
✔️ Dower is not limited to cash
✔️ Property can also be dower
✔️ Both can exist together

📌 If both are mentioned in Nikahnama:
👉 Wife may be entitled to both

⭐ Key factor: Intention of the parties

📜 Nikahnama is a legal contract — must be interpreted accordingly

⚖️ PLD 2026 SC 20
Mst. Fakhra Jabeen vs Wasif Ali

---


#03409141394

02/05/2026

پیپلز لائرز فورم ضلع سوات کے صدر ملک صدام حسین ایڈوکیٹ، سینیٹر ملک شہادت اعوان، سابق وفاقی وزیر مملکت برائے قانون، کے ساتھ خوشگوار موڈ میں ایک یادگار ملاقات۔
A pleasant and memorable meeting of Malak Sadam Hussain Advocate, President of Peoples Lawyers Forum District Swat, with Senator Malik Shahadat Awan, former Minister of State for Law.










Address

Office No 36 1st Floor Sultan Tower Makanbagh Mingora Swat
Mingora

Telephone

+923409141394

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MALAK LAW Chamber posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to MALAK LAW Chamber:

Share

Category