18/04/2026
کل ہائیکورٹ میں ایک کلائینٹ سے تین کیسز کی فایئلنگ کا میرے کلرک نے پندرہ ہزار مانگا تو اس نے کلرک کو پانچ ہزار پکڑا کے بولا کہ باقی تم رکھ لینا۔😜 اتنے پیسے نہیں لگتے۔
جب کہ حقیقت یہ ھے کہ پہلے وکالت نامہ ٹکٹ، پھر بیان حلفی 300 ٹکٹ، پھر ہر طرح کی درخواست یا سول کیس، اپیل استغاثہ 500, پھر ہر ڈگری نقل 500 ٹکٹ اور اگر دو صفحات ہوں تو 1000 روپے، طلبانہ ٹکٹ، اور اب بائیو میٹرک فیس۔۔۔
وقت کے ساتھ ساتھ سائلین کے لیے اخراجات بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔۔ کسی بھی قسم کی درخواست یا کوئی بھی دعوی لکھوائی کروانے کے بعد کسی طور بھی 8 ہزار روپے سے کم میں تیار نہیں ہوتا۔ ۔ یہ سراسر زیادتی ہے۔۔۔ سخت اقدامات کی ضروت ہے۔۔۔
نظام کا اصل مقصد صرف مقدمات کی دائرگی روکنا ھے۔نہ کہ شہریوں کو انصاف مہیا کرنا۔
قابل افسوس رویہ ہے ریاست کا ۔
جی ہاں حقیقت یہ ہے کہ وکالت نامہ ٹکٹ، بیانِ حلفی، مختلف نوعیت کی درخواستوں، دعووں، اپیلوں، استغاثہ جات، نقل برائے ڈگری، طلبانہ ٹکٹ، اور اب بائیومیٹرک فیس جیسے متعدد مالی تقاضے ایک عام شہری کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔ ایک سادہ نوعیت کا مقدمہ یا درخواست تیار کروانے کے لیے اگر ابتدائی اخراجات ہی ہزاروں روپے تک پہنچ جائیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کم آمدنی والا شخص انصاف کیسے حاصل کرے گا؟
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4 اور آرٹیکل 10-A ہر شہری کو قانون کے مطابق سلوک اور منصفانہ ٹرائل کا حق دیتے ہیں، مگر جب انصاف کا دروازہ مالی رکاوٹوں سے بند ہونے لگے تو یہ حقوق محض کتابی رہ جاتے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف کی فراہمی کو آسان، سستا اور قابلِ رسائی بنائے، نہ کہ اسے ایک مہنگا اور پیچیدہ عمل بنا دے۔
یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ فیسوں اور ٹکٹوں میں مسلسل اضافہ دراصل مقدمات کی تعداد کو کم کرنے کی ایک پالیسی کا حصہ ہے، مگر یہ طریقہ کار انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ مقدمات کی تعداد کم کرنے کا حل یہ نہیں کہ عوام کو عدالتوں سے دور کر دیا جائے، بلکہ اصل ضرورت عدالتی اصلاحات، متبادل تنازعات کے حل (ADR)، اور نظام کی بہتری ہے۔
مزید برآں، وکلاء کی فیسیں بھی ایک الگ مسئلہ ہیں۔ اگرچہ ہر وکیل اپنی پیشہ ورانہ خدمات کا معاوضہ لینے کا حق رکھتا ہے، مگر اس میں بھی کوئی ضابطہ یا توازن ہونا چاہیے تاکہ سائلین کا استحصال نہ ہو۔ ایک عام آدمی کے لیے 8 ہزار یا اس سے زائد رقم صرف ایک درخواست یا دعویٰ کی تیاری کے لیے ادا کرنا ایک بہت بڑا مالی بوجھ ہے۔
اس تمام صورتحال میں فوری اور مؤثر اقدامات کی اشد ضرورت ہے، مثلاً:
ریاستی سطح پر عدالتی فیسوں میں معقول کمی یا ریگولیشن،
غریب اور مستحق افراد کے لیے مفت قانونی امداد (Legal Aid) کا مؤثر نظام،
ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے اخراجات میں کمی،
اور وکلاء کی فیسوں کے لیے ایک اخلاقی یا قانونی فریم ورک۔
اگر یہ مسائل حل نہ کیے گئے تو عوام کا اعتماد عدالتی نظام سے مزید کمزور ہوگا، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے نہایت خطرناک امر ہے۔ انصاف کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور اسے ایک کاروبار یا مالی بوجھ میں تبدیل کرنا نہ صرف آئینی تقاضوں کے خلاف ہے بلکہ سماجی ناانصافی کو بھی فروغ دیتا ہے۔
یہ معاملہ سنجیدہ توجہ اور اصلاح کا متقاضی ہے، تاکہ انصاف واقعی ہر شہری کی دسترس میں آ سکے، نہ کہ صرف ان لوگوں کے لیے جو اس کی قیمت ادا کر سکتے ہیں۔۔
از ملک حسنین اقبال اعوان
ایڈووکیٹ ہائیکورٹ