Law & Provision

Law & Provision قانون کے بارے نہ جاننا، بھی جرم ہے

27/04/2026

Alhumdullillah...🎉🎉🎉

شکر الحمدللہ مقدمہ نمبر 434/24 زیر دفعہ 302/311/34 ت پ تھانہ داؤدخیل میں ملزم شعیب خان کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری ب...
27/04/2026

شکر الحمدللہ
مقدمہ نمبر 434/24 زیر دفعہ 302/311/34 ت پ تھانہ داؤدخیل میں ملزم شعیب خان کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری بعدالت جناب مسٹر جسٹس صداقت علی خان لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ سے منظور...
ملزم کی طرف سے پیروی عبد اللہ ہانی لاء چیمبر کے ملک حسنین اقبال اعوان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ نے کی...

Punjab Bar CouncilDate: 22-04-2026پریس ریلیزAdvocates Of Pakistan آج مورخہ 2026-04-22 کو وائس چیئر مین پنجاب بار کونسل ج...
23/04/2026

Punjab Bar Council
Date: 22-04-2026

پریس ریلیز
Advocates Of Pakistan
آج مورخہ 2026-04-22 کو وائس چیئر مین پنجاب بار کونسل جناب خواجہ قیصر بٹ اور چیئر مین ایگزیکٹو کمیٹی جناب فخر حیات اعوان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ پنجاب بار کونسل کے جنرل ہاؤس کے مورخہ 04 اپریل 2026 کے اجلاس میں وکلاء کے پیشہ کے وقار، شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے ایک نہایت اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے تحت اب کسی بھی امیدوار کو بطور ایڈووکیٹ ہائی کورٹ انرولمنٹ الاللہ لائسنس جاری کرنے سے قبل اس کی تعلیمی اسناد کی لازمی تصدیق کی جائے گی۔ بالخصوص درج ذیل جامعات سے جاری ہونے والی ڈگریوں کو ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) پاکستان سے سختی کے ساتھ ویری فائی کر نالازمی قرار دیا گیا ہے:۔
یونیورسٹی آف سندھ یونیورسٹی آف کراچی، شاہ عبد اللطیف یونیورسٹی، گومل یو نیورسٹی، یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر (AJK)، میر پور یونیورسٹی ، آزاد جموں و کشمیر محی الدین اسلامک یونیورسٹی ، آزاد جموں و کشمیر
وائس چیئر مین اور چیئر مین ایگزیکٹو کمیٹی نے واضح کیا کہ اس اقدام کا مقصد وکالت کے پیشے میں معیار کو برقرار رکھنا، جعلی یا غیر تصدیق شدہ ڈگریوں کی روک تھام کرنا اور عوام کا اعتماد بحال رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب بار کونسل کسی بھی صورت میں پیشہ ورانہ معیار پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ انرولمنٹ سیکشن اور ہائی کورٹ برانچ کے تمام افسران و اہلکار ان ہدایات پر مکمل طور پر عملدرآمد یقینی بنائیں ، بصورت دیگر غفلت یا خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل. میں لائی جائے گی.

وکلاء کے خلاف جعلی درخواستیں دائر کرنے والوں کو بھاری جرمانے
21/04/2026

وکلاء کے خلاف جعلی درخواستیں دائر کرنے والوں کو بھاری جرمانے

20/04/2026

پنجاب بار کونسل نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے کہ وکالت کا لائسنس صرف وہی وکیل حاصل کر سکتے ہیں جو صرف وکالت کرتے ہیں نہ کہ وہ جو اپنا کوئی اور کاروبار کرتے ہیں، جو ایسے وکلاء ہیں انکو لائسنس سرنڈر کرنے کی مہلت دی گئی ہے بصورت دیگر انکے خلاف قانونی کارروائی ہو گی۔

یہ صرف ایک انتظامی قدم نہیں، بلکہ وکالت کے مقدس پیشے کی بقا کی جنگ ہے۔ برسوں سے چند مفاد پرست عناصر نے وکالت کے لائسنس کو ڈھال بنا کر نہ صرف قانون کا مذاق بنایا بلکہ عام آدمی کے اعتماد کو بھی مجروح کیا۔ جعلی کیسز، غیر قانونی کاروبار، اور وکالت کے نام پر دھوکہ دہی، یہ سب وہ ناسور ہیں جنہوں نے اس پیشے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ اس گندگی کو صاف کیا جائے۔ جو لوگ وکالت کو صرف ایک “شیلٹر” کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، انہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ پیشہ کاروباری چالاکیوں یا ناجائز مفادات کے لیے نہیں بلکہ انصاف کے قیام کے لیے ہے۔ اگر کوئی وکیل عدالت میں کھڑا ہو کر قانون کا دفاع نہیں کرتا، تو اسے اس مقدس پیشے کا حصہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔

پنجاب بار کا یہ فیصلہ دراصل عوام کے حق میں ایک انقلابی قدم ہے۔ یہ پیغام واضح ہے، اب دھوکہ دہی، فراڈ اور نام نہاد وکالت کے دن ختم ہو چکے۔ اب وہی وکیل باقی رہے گا جو واقعی علم، دیانت اور محنت کے ساتھ انصاف کی جنگ لڑتا ہے۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں سے وکالت کا وقار بحال ہوگا، اور عوام کے دلوں میں وکلاء کے لیے کھویا ہوا احترام واپس آئے گا۔

جو لوگ اس اقدام کی مخالفت کر رہے ہیں، درحقیقت وہ اپنے مفادات کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں، نہ کہ وکالت کے وقار کی۔ لیکن اب فیصلہ ہو چکا، یہ پیشہ صرف پروفیشنلز کے لیے ہے، مافیاز کے لیے نہیں۔
از قلم: ملک حسنین اقبال اعوان ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

18/04/2026

کل ہائیکورٹ میں ایک کلائینٹ سے تین کیسز کی فایئلنگ کا میرے کلرک نے پندرہ ہزار مانگا تو اس نے کلرک کو پانچ ہزار پکڑا کے بولا کہ باقی تم رکھ لینا۔😜 اتنے پیسے نہیں لگتے۔
جب کہ حقیقت یہ ھے کہ پہلے وکالت نامہ ٹکٹ، پھر بیان حلفی 300 ٹکٹ، پھر ہر طرح کی درخواست یا سول کیس، اپیل استغاثہ 500, پھر ہر ڈگری نقل 500 ٹکٹ اور اگر دو صفحات ہوں تو 1000 روپے، طلبانہ ٹکٹ، اور اب بائیو میٹرک فیس۔۔۔
وقت کے ساتھ ساتھ سائلین کے لیے اخراجات بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔۔ کسی بھی قسم کی درخواست یا کوئی بھی دعوی لکھوائی کروانے کے بعد کسی طور بھی 8 ہزار روپے سے کم میں تیار نہیں ہوتا۔ ۔ یہ سراسر زیادتی ہے۔۔۔ سخت اقدامات کی ضروت ہے۔۔۔
نظام کا اصل مقصد صرف مقدمات کی دائرگی روکنا ھے۔نہ کہ شہریوں کو انصاف مہیا کرنا۔
قابل افسوس رویہ ہے ریاست کا ۔
جی ہاں حقیقت یہ ہے کہ وکالت نامہ ٹکٹ، بیانِ حلفی، مختلف نوعیت کی درخواستوں، دعووں، اپیلوں، استغاثہ جات، نقل برائے ڈگری، طلبانہ ٹکٹ، اور اب بائیومیٹرک فیس جیسے متعدد مالی تقاضے ایک عام شہری کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔ ایک سادہ نوعیت کا مقدمہ یا درخواست تیار کروانے کے لیے اگر ابتدائی اخراجات ہی ہزاروں روپے تک پہنچ جائیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کم آمدنی والا شخص انصاف کیسے حاصل کرے گا؟

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4 اور آرٹیکل 10-A ہر شہری کو قانون کے مطابق سلوک اور منصفانہ ٹرائل کا حق دیتے ہیں، مگر جب انصاف کا دروازہ مالی رکاوٹوں سے بند ہونے لگے تو یہ حقوق محض کتابی رہ جاتے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف کی فراہمی کو آسان، سستا اور قابلِ رسائی بنائے، نہ کہ اسے ایک مہنگا اور پیچیدہ عمل بنا دے۔

یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ فیسوں اور ٹکٹوں میں مسلسل اضافہ دراصل مقدمات کی تعداد کو کم کرنے کی ایک پالیسی کا حصہ ہے، مگر یہ طریقہ کار انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ مقدمات کی تعداد کم کرنے کا حل یہ نہیں کہ عوام کو عدالتوں سے دور کر دیا جائے، بلکہ اصل ضرورت عدالتی اصلاحات، متبادل تنازعات کے حل (ADR)، اور نظام کی بہتری ہے۔

مزید برآں، وکلاء کی فیسیں بھی ایک الگ مسئلہ ہیں۔ اگرچہ ہر وکیل اپنی پیشہ ورانہ خدمات کا معاوضہ لینے کا حق رکھتا ہے، مگر اس میں بھی کوئی ضابطہ یا توازن ہونا چاہیے تاکہ سائلین کا استحصال نہ ہو۔ ایک عام آدمی کے لیے 8 ہزار یا اس سے زائد رقم صرف ایک درخواست یا دعویٰ کی تیاری کے لیے ادا کرنا ایک بہت بڑا مالی بوجھ ہے۔

اس تمام صورتحال میں فوری اور مؤثر اقدامات کی اشد ضرورت ہے، مثلاً:
ریاستی سطح پر عدالتی فیسوں میں معقول کمی یا ریگولیشن،
غریب اور مستحق افراد کے لیے مفت قانونی امداد (Legal Aid) کا مؤثر نظام،
ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے اخراجات میں کمی،
اور وکلاء کی فیسوں کے لیے ایک اخلاقی یا قانونی فریم ورک۔

اگر یہ مسائل حل نہ کیے گئے تو عوام کا اعتماد عدالتی نظام سے مزید کمزور ہوگا، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے نہایت خطرناک امر ہے۔ انصاف کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور اسے ایک کاروبار یا مالی بوجھ میں تبدیل کرنا نہ صرف آئینی تقاضوں کے خلاف ہے بلکہ سماجی ناانصافی کو بھی فروغ دیتا ہے۔

یہ معاملہ سنجیدہ توجہ اور اصلاح کا متقاضی ہے، تاکہ انصاف واقعی ہر شہری کی دسترس میں آ سکے، نہ کہ صرف ان لوگوں کے لیے جو اس کی قیمت ادا کر سکتے ہیں۔۔
از ملک حسنین اقبال اعوان
ایڈووکیٹ ہائیکورٹ

*ایک اور بڑی خوشخبری رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کے لیے*📢 اہم اطلاع – سٹامپ آرڈیننس 2026حکومت پنجاب نے Stamp (Amendment) Ordinanc...
16/04/2026

*ایک اور بڑی خوشخبری رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کے لیے*

📢 اہم اطلاع – سٹامپ آرڈیننس 2026
حکومت پنجاب نے Stamp (Amendment) Ordinance 2026 جاری کر دیا ہے جس کا مقصد پراپرٹی ٹرانزیکشنز کو آسان اور سستا بنانا ہے۔
🔹 اہم نکات:
✅ "Assignable Deed" کی نئی تعریف شامل کر دی گئی ہے (یعنی جائیداد کے حقوق کی منتقلی کا باقاعدہ طریقہ)
✅ سٹامپ ڈیوٹی اب شہری اور دیہی علاقوں میں یکساں کر دی گئی ہے

12 ماہ کے اندر ٹرانسفر پر: 1% سٹامپ ڈیوٹی
12 ماہ کے بعد ٹرانسفر پر: 2% سٹامپ ڈیوٹی
✅ مختلف معاملات میں سٹامپ ڈیوٹی کو کم کر کے 3% سے 1% کر دیا گیا ہے
💡 فائدے: ✔️ پراپرٹی خرید و فروخت سستی ہوگی
✔️ قانونی پیچیدگیاں کم ہوں گی
✔️ بزنس اور انویسٹمنٹ کو فروغ ملے گا
📅 نافذ العمل: فوراً (10 اپریل 2026 سے)

Malik Hussnain Iqbal Awan
Advocate Highcourt
0333-6825606

پنجاب حکومت کا ٹریفک چالان میں کمی کا فیصلہ، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے منظوری دے دیپنجاب اسمبلی سے بل منظور ہونے کے ...
16/04/2026

پنجاب حکومت کا ٹریفک چالان میں کمی کا فیصلہ، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے منظوری دے دی

پنجاب اسمبلی سے بل منظور ہونے کے بعد ٹریفک چالان میں کمی کردی جائے گی

ہیلمٹ کی خلاف ورزی کا جرمانہ 2000 سے کم کرکے 1000 روپے کرنے کی تجویز

**پنجاب بھر کے وکلاء کے لیے نیشنل ہائی ویز پر ٹول ٹیکس سے استثنیٰ**پنجاب بار کونسل کی جانب سے وکلاء برادری کے لیے ایک بڑ...
16/04/2026

**پنجاب بھر کے وکلاء کے لیے نیشنل ہائی ویز پر ٹول ٹیکس سے استثنیٰ**

پنجاب بار کونسل کی جانب سے وکلاء برادری کے لیے ایک بڑا اور اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔ ہاؤس کے حالیہ اجلاس (مورخہ 04.04.2026) میں یہ منظوری دی گئی ہے کہ صوبہ پنجاب کے تمام وکلاء کے لیے نیشنل ہائی ویز پر ٹول پلازہ مکمل طور پر فری ہوں گے۔
**نوٹیفکیشن کی اہم تفصیلات:**
* **فوکل پرسن کا تقرر:** جہلم سے پنجاب بار کونسل کے معزز ممبر **جناب اکرام الحق شیخ صاحب** کو اس معاملے کے لیے فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔
* **عملدرآمد کا طریقہ کار:** تمام ڈسٹرکٹ اور تحصیل بار ایسوسی ایشنز کے صدور اور سیکرٹریز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ٹول پلازہ سے استثنیٰ حاصل کرنے کے لیے سول سوٹس (Civil Suits) دائر کریں یا متعلقہ قانونی طریقہ کار اپنائیں۔
* **رہنمائی:** تمام بار ایسوسی ایشنز قانونی رہنمائی کے لیے فوکل پرسن اکرام الحق شیخ صاحب سے رابطہ کریں گی۔
* **رپورٹنگ:** اس معاملے میں ہونے والی پیشرفت کی رپورٹ ہر پندرہ دن بعد پنجاب بار کونسل کے دفتر میں جمع کرائی جائے گی۔
وکلاء کے حقوق کے تحفظ اور ان کی سہولت کے لیے پنجاب بار کونسل کا یہ اقدام انتہائی قابلِ ستائش ہے۔

Malik Hussnain Iqbal Awan
Advocate Highcourt

ریونیو کورٹ کیسز RCMS کے ذریعے دائر کرنا لازمی قرار، پنجاب حکومت کا اہم فیصلہ۔لاہور (بیورو رپورٹ) — Board of Revenue Pun...
12/04/2026

ریونیو کورٹ کیسز RCMS کے ذریعے دائر کرنا لازمی قرار، پنجاب حکومت کا اہم فیصلہ۔

لاہور (بیورو رپورٹ) — Board of Revenue Punjab نے ریونیو عدالتی نظام میں بڑا اصلاحاتی قدم اٹھاتے ہوئے تمام ریونیو کورٹ کیسز کے لیے ڈیجیٹل نظام کو لازمی قرار دے دیا ہے۔

بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق Revenue Courts Management System (RCMS) کو صوبے بھر میں واحد کیس مینجمنٹ پلیٹ فارم کے طور پر نافذ کیا جا رہا ہے۔

نفاذ کی تاریخ
15 اپریل 2026 سے:
تمام نئے ریونیو کورٹ کیسز صرف RCMS کے ذریعے دائر کیے جائیں گے۔ RCMS کے بغیر دائر شدہ کوئی بھی کیس قابلِ سماعت نہیں ہوگا۔

اپیلیٹ کورٹس سے متعلق ہدایت
نچلی عدالتوں کے وہ فیصلے جو RCMS کے ذریعے تیار نہیں کیے گئے ہوں گے:

اپیلیٹ کورٹس میں قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔

عملدرآمد کی ہدایات
تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز (ریونیو) کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس نظام پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔

خلاف ورزی پر کارروائی
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ہدایات کی خلاف ورزی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
مقصد
اس اقدام کا مقصد ریونیو عدالتی نظام میں شفافیت، تیزی اور یکسانیت کو فروغ دینا اور کیس مینجمنٹ کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانا ہے۔

ملک حسنین اقبال اعوان
ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
0333-6825606

پنجاب بھر میں بازار، مارکیٹیں، شاپنگ مالز رات 8 بجے بند ہونے کا نوٹیفیکیشن جاری، بیکریاں، ریسٹورنٹ، تندور اور کھانے پینے...
08/04/2026

پنجاب بھر میں بازار، مارکیٹیں، شاپنگ مالز رات 8 بجے بند ہونے کا نوٹیفیکیشن جاری، بیکریاں، ریسٹورنٹ، تندور اور کھانے پینے کی دیگر دکانیں رات 10 بجے ہونگی،میرج ہالز، مارکیز، اور دیگر کمرشل جگہیں رات 10 بجے کے بعد بند رہیں گی، نجی پراپرٹیز اور گھروں میں بھی شادی بیاہ کی تقریبات 10 بجے رات کے بعد منعقد کرنے پر پابندی ہوگی،میڈیکل اسٹورز، پٹرول پمپ، تندور، بیکریز، ملک شاپ اور فارمیسیز ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے، نوٹیفیکیشن

متحرم تمام والدین نوٹ فرما لیں:*نادرا نے بچوں کے فارم ب کا نیا طریقہ متعارف کرا دیا، اب ہر بچے کا 3 بار ب فارم بنوانا پڑ...
08/04/2026

متحرم تمام والدین نوٹ فرما لیں:

*نادرا نے بچوں کے فارم ب کا نیا طریقہ متعارف کرا دیا، اب ہر بچے کا 3 بار ب فارم بنوانا پڑے گا*

1. پہلا ب فارم: بچے کی پیدائش پر تصویر کے بغیر بنے گا، معیاد 3 سال کی عمر تک ہوگی

2. دوسرا ب فارم: 3 سال عمر ہونے کے بعد تصویر کے ہمراہ بنے گا، معیاد 10 سال کی عمر تک ہوگی

3. تیسرا ب فارم: 10 سال سے زیادہ ہونے پر بچے کی تصویر، آئرس اور فنگر پرنٹس لیئے جائیں گے، میعاد 18 سال کی عمر تک ہوگی

*نوٹ: ب فارم بنوانے کے لیے بچے کے ہمراہ قریبی نادرا دفتر تشریف لائیں یا پاک آئی ڈی موبائل ایپ سے گھر بیٹھے بنوائیں*

Address

Abdullah Haani Law Firm, District Kachehry Mianwali
Mianwali
42200

Opening Hours

Monday 08:00 - 17:00
Tuesday 08:00 - 17:00
Wednesday 08:00 - 17:00
Thursday 08:00 - 17:00
Friday 08:00 - 17:00
Saturday 08:00 - 17:00

Telephone

+923336825606

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Law & Provision posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Law & Provision:

Share