Indus Law Company

Indus Law Company We solve your all legal issues.
(1)

پاکستان میں Virtual Assets Act, 2026 نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت پہلی مرتبہ ملک میں ڈیجیٹل اثاثہ جات، بلاک چین ٹیکنالو...
09/03/2026

پاکستان میں Virtual Assets Act, 2026 نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت پہلی مرتبہ ملک میں ڈیجیٹل اثاثہ جات، بلاک چین ٹیکنالوجی اور اس سے متعلق کاروبار کو باقاعدہ قانونی فریم ورک میں لایا گیا ہے۔ اس قانون کا مقصد ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینا اور سرمایہ کاروں کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اہم نکات:

🔹 ڈیجیٹل اثاثہ جات سے متعلق خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے لائسنس حاصل کرنا لازمی ہوگا۔

🔹 بغیر لائسنس ایسی خدمات فراہم کرنا جرم ہوگا، جس پر پانچ سال تک قید یا پچاس ملین روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

🔹 قانون کا بنیادی مقصد:

• سرمایہ کاروں کا تحفظ

• منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام

• بلاک چین اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینا

🔹 مارکیٹ میں مصنوعی طور پر قیمتوں میں رد و بدل یا خفیہ معلومات کی بنیاد پر تجارت کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔

🔹 کمپنیوں کو صارفین کے اثاثے محفوظ اور علیحدہ رکھنے کی قانونی پابندی ہوگی۔

یہ قانون پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثہ جات کے استعمال کو محفوظ، شفاف اور منظم بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔



03/03/2026

ایران کے خلاف جارحیت اور بین الاقوامی قانون: ایک جامع قانونی تجزیہ
(بابر خان نیازی ایڈووکیٹ)

بین الاقوامی تعلقات اور عالمی سیاست کے موجودہ منظر نامے میں ریاستوں کے درمیان طاقت کا استعمال ایک ایسے نازک موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں قانونی ضوابط اور سیاسی مفادات کے درمیان تصادم ناگزیر معلوم ہوتا ہے۔ فروری 2026 کے دوران ایران کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائیاں، جن میں اسرائیل اور امریکہ براہِ راست شامل رہے ہیں، بین الاقوامی قانون کے حوالے سے کئی سنگین سوالات کو جنم دیتی ہیں۔ اس مضمون میں ان حملوں کی قانونی حیثیت، حقِ دفاع کی حدود، اور Third Party States
کی ذمہ داریوں کا علمی اور پیشہ ورانہ تناظر میں جائزہ لیا گیا ہے۔

طاقت کے استعمال پر ممانعت اور اقوام متحدہ کا منشور

جدید بین الاقوامی قانون کی بنیاد طاقت کے استعمال کی ممانعت پر استوار ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور کا آرٹیکل 2(4) تمام رکن ممالک کو پابند کرتا ہے کہ وہ کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے مکمل طور پر گریز کریں¹۔ بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) نے اس اصول کو بین الاقوامی قانون کا "سنگ بنیاد" قرار دیا ہے²۔
فروری 2026 میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے شروع کیے گئے حملے، جنہیں بالترتیب "آپریشن رائزنگ لائن" اور "آپریشن ایپک فیوری" کا نام دیا گیا، بظاہر اس آرٹیکل کی خلاف ورزی ہیں کیونکہ یہ ایک خود مختار ریاست کی علاقائی سالمیت پر حملہ ہے³۔ بین الاقوامی قانون میں طاقت کے استعمال کے صرف دو قانونی استثنیٰ موجود ہیں: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت، یا آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی یا اجتماعی حقِ دفاع⁴۔ چونکہ سلامتی کونسل نے ان حملوں کی کوئی پیشگی منظوری نہیں دی تھی، اس لیے تمام تر قانونی بحث آرٹیکل 51 کے گرد گھومتی ہے⁵۔

اسرائیل اور امریکہ کے اقدامات کا قانونی جواز: پیش بندی یا
جارحیت؟

اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنے حملوں کے لیے "پیش بندی" (Pre-emptive Strike) کا عذر پیش کرتے ہوئے اسے "فوری وجودی خطرہ" قرار دیا ہے⁶۔ تاہم، قانونی ماہرین کے مطابق آرٹیکل 51 کے تحت حقِ دفاع صرف اسی صورت میں حاصل ہوتا ہے جب "مسلح حملہ ہو چکا ہو" (if an armed attack occurs)⁷۔ بین الاقوامی عدالت انصاف نے نکاراگوا کیس میں یہ واضح کیا ہے کہ مسلح حملے کے بغیر حقِ دفاع کا استعمال جائز نہیں ہے⁸۔ ماہرینِ قانون، بشمول پروفیسر مارک ویلر، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فروری 2026 کے حملوں کے وقت ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کے فوری حملے کے شواہد موجود نہیں تھے، بلکہ اس وقت عمان کی ثالثی میں سفارتی مذاکرات جاری تھے⁹۔
اسرائیل اور امریکہ 19ویں صدی کے روایتی بین الاقوامی عرف سے بھی استدلال کرتے ہیں، جسے "کیرولائن ٹیسٹ" کہا جاتا ہے¹⁰۔ اس اصول کے تحت کسی بھی پیشگی کارروائی کے لیے تین کڑی شرائط لازم ہیں:
ا۔ فوری نوعیت کا خطرہ: خطرہ اس قدر قریب ہو کہ دفاع کے سوا کوئی راستہ نہ بچے اور غورو فکر کی مہلت نہ ہو¹¹۔

ب۔ ضرورت: کیا تمام سفارتی اور پرامن ذرائع ختم ہو چکے تھے۔ چونکہ مذاکرات جاری تھے، اس لیے طاقت کا استعمال "آخری حربہ" نہیں تھا¹²۔
ج۔ تناسب: مسلح کارروائی صرف اتنی ہونی چاہیے جتنی خطرے سے بچنے کے لیے ضروری ہو¹³۔
چونکہ ان میں سے کوئی بھی شرط پوری نہیں ہو رہی تھی، اس لیے یہ حملے بین الاقوامی قانون کی رو سے ناجائز قرار پاتے ہیں¹⁴۔

امریکہ کو اڈے دینے والی ریاستوں کی قانونی ذمہ داری

اسرائیل اور امریکہ کے اقدامات کے ساتھ ساتھ ان ریاستوں کا کردار بھی بین الاقوامی قانون کی زد میں آتا ہے جنہوں نے اپنی سرزمین اور فوجی اڈے فراہم کیے¹⁵۔ انٹرنیشنل لا کمیشن (ILC) کے "ریاستوں کی ذمہ داری کے مضامین" (ARSIWA) کا آرٹیکل 16 یہ واضح کرتا ہے کہ اگر کوئی ریاست کسی دوسری ریاست کو بین الاقوامی سطح پر غیر قانونی فعل انجام دینے میں مدد فراہم کرتی ہے، تو وہ خود بھی اس فعل کی ذمہ دار ٹھہرائی جائے گی¹⁶۔
اس قانون کے مطابق، جو ممالک یہ جانتے ہوئے کہ امریکہ ایران پر غیر قانونی حملہ کرنے جا رہا ہے، اسے اپنے ہوائی اڈے یا ایندھن فراہم کرتے ہیں، وہ "جرمِ جارحیت" میں برابر کے شریک تصور ہوں گے¹⁷۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314 بھی یہ واضح کرتی ہے کہ اپنی سرزمین کسی دوسری ریاست کو تیسری ریاست کے خلاف جارحیت کے لیے فراہم کرنا خود ایک "جارحانہ فعل" ہے¹⁸۔

ایران کا حقِ دفاع: دفاع بمقابلہ انتقام

بین الاقوامی قانون میں "دفاع" اور "انتقام" (Armed Reprisals) کے درمیان واضح فرق موجود ہے¹⁹۔ اگر ایک حملہ مکمل ہو کر ختم ہو جائے اور اس کے چند دن بعد دوسرا ملک محض سزا دینے کے لیے جوابی حملہ کرے، تو اسے غیر قانونی "مسلح انتقام" مانا جاتا ہے²⁰۔ لیکن اگر ایک ریاست پر جنگ مسلط کر دی گئی ہو اور وہ مہم ابھی جاری ہو، تو اسے روکنے کے لیے کیا جانے والا ردعمل "دفاع" کے زمرے میں آتا ہے²¹۔
ایران کی جانب سے "آپریشن وعدہ صادق چہارم" کے تحت ان اڈوں کو نشانہ بنانا جہاں سے اس پر حملے کیے جا رہے تھے، جاری جارحیت کے خلاف حقِ دفاع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے²²۔ تاہم، اس حق کے استعمال میں بھی "ضرورت" اور "تناسب" کے اصولوں کی پابندی لازم ہے، یعنی ایرانی کارروائی صرف حملہ آوروں کو روکنے تک محدود ہونی چاہیے²³۔

جنگ کے دوران بین الاقوامی قانون (Jus in Bello) اور سویلین کا تحفظ

حقِ دفاع کے استعمال کے دوران بھی بین الاقوامی انسانی قانون (IHL) کی پابندی ہر حال میں لازم ہے²⁴۔ جنیوا کنونشنز کے ایڈیشنل پروٹوکول (I) کا آرٹیکل 57 یہ تقاضا کرتا ہے کہ حملے کے دوران سویلین آبادی کو بچانے کے لیے "تمام ممکنہ احتیاطی تدابیر" لی جائیں²⁵۔ IHL کا بنیادی اصول "امتیاز" (Distinction) ہے، جس کے تحت فوجی اہداف اور سویلین آبادی کے درمیان فرق کرنا لازمی ہے²⁶۔
اگر ہدف چننے اور ہتھیاروں کے انتخاب میں ضروری احتیاط کی گئی ہو اور اس کے باوجود سویلین نقصان ہو، تو اسے قانونی طور پر "غیر ارادی ضمنی نقصان" (Collateral Damage) کے طور پر برداشت کیا جا سکتا ہے²⁷۔ لیکن اگر کسی حملے میں سویلین نقصان متوقع فوجی فائدے سے زیادہ ہو، تو وہ حملہ "غیر متناسب" اور جنگی جرم تصور ہوگا²⁸۔ بین الاقوامی عدالت انصاف نے نیوکلیئر ویپنز ایڈوائزری اوپینین میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ریاستیں کبھی بھی شہریوں کو براہِ راست نشانہ نہیں بنا سکتیں²⁹۔

اختتامیہ

ایران کے خلاف ہونے والی حالیہ جارحیت بین الاقوامی قانون کے لیے ایک بہت بڑا امتحان ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے اقدامات اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2(4) اور 51 کی صریح خلاف ورزی ہیں کیونکہ وہ مسلح حملے کی غیر موجودگی میں کیے گئے³⁰۔ اسی طرح، وہ ریاستیں جو ان حملوں کے لیے اپنی زمین پیش کر رہی ہیں، وہ بین الاقوامی قانون کی رو سے جارحیت میں تعاون کی مرتکب ہیں³¹۔ عالمی امن کی بقا اس بات میں مضمر ہے کہ طاقت کے استعمال کو بین الاقوامی قانون کے طے شدہ اصولوں کے مطابق برتا جائے تاکہ دنیا "جنگل کے قانون" کی طرف واپس نہ لوٹ جائے³²۔

حوالہ جات

1. Charter of the United Nations (adopted 26 June 1945, entered into force 24 October 1945) 1 UNTS XVI (UN Charter), art 2(4).

2. Armed Activities on the Territory of the Congo (Democratic Republic of the Congo v Uganda) (Judgment) ICJ Rep 168, para 148.

3. Marc Weller, 'US and Israel attack Iran: early analysis' (Chatham House, 28 February 2026).

4. UN Charter, art 51; UN Charter, Chapter VII.

5. Saeed Bagheri, 'Iran strikes: Expert explains the UN rules on force' (University of Reading, 28 February 2026).

6. 'Israel launches attack on Iran as explosions heard in Tehran' (The Guardian, 28 February 2026).

7. UN Charter, art 51.

8. Military and Paramilitary Activities in and against Nicaragua (Nicaragua v United States of America) (Merits) ICJ Rep 14, para 194.

9. Marc Weller and others, 'US and Israel attack Iran: early analysis' (Chatham House, 28 February 2026).

10. The Caroline Case (1837) 29 British and Foreign State Papers 1137.

11. Letter from Daniel Webster to Henry Stephen Fox (24 April 1841) 29 British and Foreign State Papers 1129.

12. Aftab Alam, 'The Legality of Israeli Use of Force against Iran under International Law' (New Age Islam, 12 July 2025).

13. The Caroline Case (n 10).

14. Saeed Bagheri, 'Iran strikes: Expert explains the UN rules on force' (n 5).

15. 'Use of Force by States under International Law' (The Forge, Defence Australia, 2025).

16. International Law Commission, 'Draft Articles on Responsibility of States for Internationally Wrongful Acts' (November 2001) Supplement No 10 (A/56/10) (ARSIWA), art 16.

17. ILC, 'Draft Articles on State Responsibility with commentaries' II(2) Yearbook of the ILC 66.

18. UNGA Res 3314 (XXIX) (14 December 1974) art 3(f).

19. 'Of Proxies, Self-Defence and Reprisals' (Opinio Juris, 12 July 2024).

20. Oil Platforms (Islamic Republic of Iran v United States of America) (Judgment) ICJ Rep 161.

21. 'Retaliation, Retribution, and Punishment in International Law' (Lieber Institute, West Point, 2024).

22. 'Iran attacks US military bases across Middle East in Operation Truthful Promise 4' (Times of India, 2026).

23. Military and Paramilitary Activities in and against Nicaragua (n 8) para 176.

24. Protocol Additional to the Geneva Conventions of 12 August 1949, and relating to the Protection of Victims of International Armed Conflicts (Protocol I) (8 June 1977) 1125 UNTS 3 (Additional Protocol I).

25. Additional Protocol I, art 57.

26. ICRC, 'Rule 1: The Principle of Distinction' (Customary IHL Database).

27. 'Collateral Damage in Armed Conflict' (2024) 47 Fordham International Law Journal 523.

28. Additional Protocol I, art 51(5)(b).

29. Legality of the Threat or Use of Nuclear Weapons (Advisory Opinion) ICJ Rep 226, para 78.

30. Saeed Bagheri, 'Iran strikes: Expert explains the UN rules on force' (n 5).

31. ARSIWA, art 16.

32. Marc Weller, 'US and Israel attack Iran: early analysis' (n 3).

Address

Zilla Kitchehry Mianwali
Mianwali
42200

Telephone

+923006088890

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Indus Law Company posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Indus Law Company:

Shortcuts

Share