Adv Shakir Khattak

Adv Shakir Khattak Legal Services,civil,criminal ,Faimly and about income tex and legal consultation .

09/10/2024

2024 SCMR 1458.
Supreme court declared legal remedy for employees on Contract,Non statutory body & bank officer’s

25/01/2024

سٹیچوٹری گراؤنڈ پر ضمانت کے حوالے سے سپریم کورٹ کا ایک انتہائی اہم اور تاریخ ساز فیصلہ !

فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ :

روحان احمد نامی ملزم کے خلاف چھبیس مئ دو ہزار بیس کو ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ دو سو پچانوے بی ، دو سو اٹھانوے سی ، ایک سو بیس بی ، ایک سو نو، چونتیس اور پیکا ایکٹ کے دفعہ گیارہ کے تحت اس وجہ سے ایف آئی آر کا اندراج کیا جاتا ہے کہ ملزم روحان پر یہ الزام ہوتا ہے کہ اس نے شکایت کنندہ کو نہ صرف موبائل ایس ایم ایس بلکہ واٹسپ پر بھی گستاخانہ مواد بھیجا بلکہ بعد میں ایف آئی اے کی جانب سے چھاپے کے دوران گستاخانہ مواد برآمد بھی ہوا۔ ایف آئی اے کی جانب سے ایف آئی آر کے اندراج کے بعد ملزم کو چھبیس مئ دو ہزار بیس کو ہی گرفتار کر دیا جاتا ہے جس کے خلاف ملزم عدالت سے رجوع کر کے درخواست ضمانت دائر کر دیتا ہے لیکن ملزم کی یہ درخواست عدالت کی جانب سے چھبیس اگست دو ہزار اکیس کو خارج کر دیتی ہے جس کے بعد ملزم عدالت عالیہ لاہور سے نہ صرف میرٹ پر بلکہ سٹیچوٹری گراؤنڈ پر بھی ضمانت کی استدعا کرتا ہے لیکن بائیس اگست دو ہزار تئیس کو ملزم کی یہ درخواست بھی کر دی جاتی ہے۔ عدالت عالیہ لاہور سے درخواست ضمانت خارج ہونے کے بعد ملزم کی جانب سے بدیں وجہ سپریم کورٹ میں لیو ٹو اپیل کی درخواست دائر کی جاتی ہے جس کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ بشمول جسٹس سید منصور علی شاہ صاحب ، جسٹس جمال مندوخیل صاحب اور جسٹس اطہر من اللہ صاحب کے سامنے مقرر کیا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کا آغاز اس نکتے سے کیا ہے کہ ملزم کو پولیس کی جانب چھبیس مئ دو ہزار بیس کو گرفتار کیا گیا لیکن شومئی قسمت کہ ٹرائل کے دوران ملزم کی جانب سے ضابطہ فوجداری کے دفعہ دو سو پینسٹھ-سی کے تحت ایک درخواست جمع کی جاتی ہے کہ مجھے وہ تمام کاغذات مہیا کئے جائیں جن کا زکر پولیس رپورٹ میں ہے لیکن ٹرائل کورٹ ملزم کی یہ درخواست خارج کر دیتی ہے جس کے بعد ملزم ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف عدالت عالیہ لاہور سے رجوع کرتا ہے جس پر عدالت عالیہ نے سات ستمبر دو ہزار اکیس کو درخواست پر فیصلے کی بجائے ملزم کے خلاف کارروائی کو عدالت عالیہ کے فیصلے تک ملتوی کرنے کا حکم دے دیتی ہے جس کے بعد اصل مسئلہ یہاں پر پیدا ہوا کہ ملزم کی اس درخواست پر ایک طرف عدالت عالیہ کی جانب سے سماعت نہیں ہورہی تو دوسری طرف ملزم کے ٹرائل کی کاروائی بھی ملتوی ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے مسئلے کی تہ تک پہنچنے کے بعد ضابطہ فوجداری کے دفعہ چار سو ستانوے میں مذکور سٹیچوٹری گراؤنڈ پر آتی ہے جس کے تحت اگر کوئ ملزم کسی ایسے الزام میں قید ہو کہ جس کی سزا؛ سزائے موت ہو تو ایسی صورت میں اگر ملزم کے قید میں دو سال گزر جائیں اور اس کے خلاف ٹرائل کا اختتام نہ ہو اگر ٹرائل میں تاخیر ملزم کی جانب سے نہ ہوئ ہو تو ملزم کا یہ آئینی و قانونی حق ہے کہ ملزم کو فی الفور ضمانت پر رہا کیا جائے۔ یہاں پر جسٹس صاحب نے صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ ملزم کو حاصل یہ حق صرف سٹیچوٹری نہیں بلکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل چار ، نو اور دس اے کے تحت یہ ملزم کا بنیادی آئینی حق ہے۔

مندرجہ بالا نکات کی صراحت کے ساتھ وضاحت کے بعد جسٹس منصور علی شاہ صاحب نے ایک بحث اس موضوع پر باندھی ہے کہ وہ کونسے ایسے عوامل ہیں جن کی موجودگی میں ملزم کو سٹیچوٹری گراؤنڈ دستیاب نہیں ہوگا تو اس بابت سپریم کورٹ نے لکھا ہے کہ ملزم کے خلاف یہ ثابت کیا جائے گا کہ اس نے قصدا ٹرائل کو موخر کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کے لئے یہ واضح کیا جائے گا کہ ملزم نے مسلسل نے ٹرائل کے اہم مواقع یعنی جرح وغیرہ کے وقت ٹرائل کو ملتوی کرنے کی درخواستیں دی ہیں۔ یہاں پر جسٹس صاحب نے ایک انتہائی اہم نکتہ بیان کیا ہے کہ صرف درخواستوں کو شمار کرنے سے کام نہیں ہوگا کہ کس نے زیادہ درخواستیں ٹرائل کو موخر کرنے کے لئے دی ہیں اور چونکہ اس کیس میں تاخیر عدالت عالیہ کی جانب سے ہوئ ہے کیونکہ عدالت عالیہ نے تین سال گزرنے کے بعد بھی ملزم کی جانب سے پیش کی جانے والی درخواست پر فیصلہ نہیں دیا۔ یہاں پر جسٹس صاحب نے عدالت عالیہ کے پاس کیسز کو ملتوی یعنی سٹے دینے کے اختیار کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگر ایک طرف عدالت کے پاس یہ اختیار ہے تو اس اختیار کا استعمال نہایت احتیاط کے ساتھ کرنا چاہیے اور ایک دفعہ یہ اختیار استعمال کیا جائے تو پھر درخواست پر جلد از جلد فیصلہ دینا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے مندرجہ بالا امور واضح کرنے کے بعد ملزم کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے اس کیس کو نہ صرف رپورٹ کرنے کی منظوری دی بلکہ عدالت عالیہ لاہور کے زریعے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے سامنے رکھنے کا بھی حکم دیا تاکہ آئندہ ایسے امور میں بہتری آئے۔

فوجداری مقدمات میں سٹیچوٹری گراؤنڈ پر ضمانت پر ضمانت کے حوالے سے اس تاریخ ساز یعنی لینڈ مارک فیصلے کا خلاصہ یہ ہے کہ ضابطہ فوجداری کے دفعہ چار سو ستانوے کے تحت ملزم کو حاصل سٹیچوٹری گراؤنڈ کے اس حق کو آئین پاکستان کے آرٹیکل چار ، نو اور دس اے کے تناظر میں دیکھا جائے گا اور بدیں وجہ ملزم کو اس حق کے حصول سے صرف اس وجہ سے محروم نہیں کیا جائے گا کہ ملتوی کرنے کی درخواستوں کو شمار کیا جائے بلکہ ملزم کو اس حق سے محروم کرنے کے لئے لازمی ہے کہ ملزم کے خلاف یہ ثبوت ہوں کہ اس نے قصدا مسلسل کوششوں کے زریعے ٹرائل کے اہم تاریخوں پر کیس کو موخر کیا ہے۔

یہ انتہائی اہم فیصلہ، سپریم کورٹ کے جج ، جسٹس سید منصور علی شاہ صاحب نے لکھا ہے جس کو Crl.P.894-L/2023 پر پڑھا اور دیکھا جا سکتا ہے۔

نوٹ : سٹیچوٹری گراؤنڈ کیا ہے ؛ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے ایک اور عدالتی نظیر کا لنک پہلے کمنٹ میں موجود ہے۔

05/10/2023

نکاح ایک وکیل کے ذریعے سے بھی منعقد ہو سکتا ہے
PLD 2023 Lahore 446...
Nikah is a civil contract that binds the parties and can be solemnized through an agent or wakeel --- All Islamic Schools of thought recognize the nikah performed through a wakeel as valid .

فیملی کیسز میں نئی اور مفرد تشریح: منڈی بہاوالدین میں جناب محمد عامر منیر، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج نے فیملی مقدمے م...
23/09/2023

فیملی کیسز میں نئی اور مفرد تشریح:

منڈی بہاوالدین میں جناب محمد عامر منیر، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج نے فیملی مقدمے میں فیصلہ دیا ہے کہ خاوند بیوی کی ملکیت کا جہیز کا سامان اپنے پاس روکنے پہ 10000 روپے ماہانہ کرایہ ادا کرے گا۔ یہ کرایہ اس عرصے کے لیے ادا کیا جائے گا جتنے عرصے کے لیے خاوند نے بیوی کی پراپرٹی کو اپنے پاس روکے رکھا اور بیوی کو گھر سے نکلا تھا۔

صرف یہی نہیں اگر خاوند یہ سامان واپس نہیں کرتا تو پھر اس کی اصل قیمت کے ساتھ اس پہ 80٪ depreciation amount بھی دے گا۔

13/09/2023

Electricity Act, 1910

بجلی کی چوری اور detection bill... بجلی چوری دو طرح سے ھوتی ھے. نمبر.1 ڈائریکٹ یعنی ٹرانسمشن لائن پر کنڈی ڈال کر اور نمبر. 2 بجلی کے میٹر میں کوئ گڑبڑ کرکے. چوری پکڑے جانے کیصورت میں واپڈا detection بل جاری کرتا ھے.

اگر بجلی کی چوری direct کی جارہی ھو تو پھر detection bill کو سول کورٹ میں چیلنج کیا جاۓ گا, اور اگر بجلی کی چوری میٹر میں کوئ گڑ بڑ کرکے کی جارہی ھو تو پھر detection bill کو سول کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا بلکہ الیکٹرک انسپکٹر کے پاس چیلنج کیا جا سکتا ھے.

2016 YLR 267,
PLD 2012 SC 371

04/09/2023

قانون شہادت آرڈر کے چند اہم آرٹیکلز

```Article 5: Communication During Marriage```
_کسی بھی شخص کو مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ دوسرے شخص کے راز افشاں کرے جس سے اسکی شادی ہوئی ہو۔_

```Article 38: Confession To Police Officer not to be Proved```
_پولیس کے سامنے دی جانے والی شہادت (اقبال جرم) کی کوئی قانونی اہمیت نہیں ہے۔_

```Article 44: Accused Person to be Laible to Cross-Examination```
_ملزم کو جرح کا حق حاصل ہے۔_

```Article 59: Opinion of Expert```
_عدالت کسی ٹیکنیکل معاملہ وغیرہ کے لیے اس (متعلقہ) شعبہ کے ماہر کی رائے لے سکتی ہے، جیساکہ میڈیکل وغیرہ کے بارے میں ڈاکٹر سے رائے لینا وغیرہ۔_

```Article 67: In Criminal Cases Previous Good Character is Relevant```
_فوجداری مقدمات میں اگر ملزم کا سابقہ ریکارڈ اچھا ہوگا تو ملزم کو اسکا فائدہ دیا جائے گا۔_

```Article 71: Oral Evidence must be Direct```
_زبانی شہادت کا براہ راست ہونا ضروری ہے۔_

```Article 73: Primary Evidence```
_پرائمری شہادت سے مراد اصل کاغذات عدالت میں پیش کرنا ہے۔_

```Article 74: Secondry Evidence```
_سیکنڑری شہادت سے مراد پرائمری شہادت کے علاوہ کوئی بھی شہادت ہے۔ جیساکہ اصل کاغذات کی فوٹو کاپی وغیرہ۔_

```Article 85: Public Documents```
_تمام وہ کاغذات جو سرکاری دفاتر، پٹوار خانہ، پولیس روز نامچہ اور عدالتی فائلیں وغیرہ پبلک ڈاکومنٹ ہیں جس کا مشاہدہ پاکستان کا ہر شہری کرسکتا ہے۔_

```Article 86: Private Documents```
_مذکورہ بالا کاغذات کے سوا باقی ہر قسم کے کاغذات پرائیویٹ کاغذات ہیں۔_

```Article 114: Estoppel```
_اس سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی بات بندہ عدالت میں کوئی بیان دے دے تو اپنے اس بیان سے مکر نہیں سکتا۔_

```Article 117: Burdun ofy Proof```
_اس سے مراد جو بھی شخص عدالت میں کوئی مقدمہ پیش کرتا ہے تو اسکو ثابت کرنا بھی اسی شخص کی ذمہ داری ہوتی ہے۔_

```Article 136: Leading Questions```
_ایسے سوالات جس میں گواہ کو صرف ہاں یا نا میں جواب دینا ہوتا ہے۔_

```Article When Leading Question may by Asked```
_لیڈنگ سوالات جرح میں کہے جا سکتے ہیں۔_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دستاویزات جو پبلک ڈاکومنٹ کی تعریف میں آتے ہیں
قانون شہادت کے آرٹیکل 85 کے مطابق مندرجہ ذیل کاغذات پبلک ڈاکومنٹ کی تعریف میں آتے ہیں

Passport
قانون شہادت کے آرٹیکل 85 کے مطابق پاسپورٹ بھی پبلک ڈاکومنٹ کی تعریف میں آتا ہے

Roznamcha Waqiati

قانون شہادت کے آرٹیکل 85 کے مطابق روزنامچہ واقعاتی بھی ہبلک ڈاکومنٹ کی تعریف میں آتا ہے

Register of birth

قانون شہادت کے آرٹیکل 85 کے مطابق فوتگی و پیدائشی رجسٹر بھی ہبلک ڈاکومنٹ شمار ہوگا

اسکے علاوہ عدالتی فیصلہ جات، نکاح نامہ ،سرکاری محکمہ کے آمدن وخرچ کا ریکارڈ پبلک ڈاکومنٹ ہیں جنکی نقول آرٹیکل 87 کے تحت ہر شہری وصول کرسکتا ہے. مختلف قسم کے ثبوت جو آپ کو قانونی کیریئر میں نظر آئیں گے

آپ نے شاید ان شرائط میں سے کچھ اپنے پسندیدہ سچے جرم کی دستاویزی فلموں یا کورٹ روم ڈراموں میں سنا ہو ، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ان کا اصل مطلب کیا ہے؟ بہت سی مختلف قسم کے ثبوتوں کو سمجھنے کے لئے اپنی دھوکہ دہی پر اس پر غور کریں۔

1. براہ راست ثبوت

عام طور پر ، ثبوت کی دو بنیادی اقسام ہیں: براہ راست اور حالات۔ براہ راست ثبوت ، جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے ، وہ ثبوت ہے جو مدعا علیہ کو براہ راست اس جرم سے جوڑتا ہے جس کے لئے وہ بغیر کسی مداخلت کی مقدمہ چل رہا ہے۔ ایک عام مثال عینی شاہد کی حلف برداری ہوگی۔

2. موضع ثبوت

دوسری طرف ، صورت حال کا ثبوت وہ ثبوت ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرد جرم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ، جب کہ براہ راست شواہد میں گواہ شامل ہوسکتا ہے جس میں مدعا علیہ کسی جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھتا ہو ، صورت حال کا ثبوت گواہ ہوسکتا ہے کہ مدعا علیہ کسی جرم کے منظر سے بھاگتے ہوئے دیکھ رہے ہوں۔ کسی بھی صورت حال میں ، اس طرح کے ثبوتوں کی ایک بڑی تعداد کو کوئی اثر مرتب کرنے کے لئے مرتب کیا جانا چاہئے۔

3. جسمانی ثبوت

اصل ثبوت بھی کہا جاتا ہے ، جسمانی شواہد سے مراد وہ مادی شے ہیں جو معاملے میں کردار ادا کرسکتی ہیں جس کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عام طور پر جسمانی شواہد میں کسی جرم کے موقع پر پائی جانے والی اشیاء پر مشتمل ہوگا ، چاہے یہ ممکنہ ہتھیار ہو ، جوتوں کا پرنٹ ہو ، ٹائر کے نشان ہوں یا یہاں تک کہ کپڑے کے ٹکڑے سے مائنسول ریشے ہو — شاید مجرم نے پہنا ہوا لباس کا ایک شے۔

4. انفرادی جسمانی ثبوت

جسمانی ثبوت کی چھتری میں ثبوت کی دو الگ الگ قسمیں ہیں: انفرادی اور طبقاتی ثبوت۔ انفرادی خصوصیات کے حامل شواہد میں جسمانی خصوصیات موجود ہیں جو ایک فرد کے وسیلہ سے منفرد ہیں۔ انفرادی شواہد کی مثالوں میں انگلیوں کے نشانات ، ڈی این اے یا فائر شدہ گولی پر مارنے والے نشان شامل ہیں۔

5. طبقاتی جسمانی ثبوت

طبقاتی خصوصیات کے ساتھ جسمانی شواہد میں ایسی خصوصیات ہیں جو کسی گروپ کے ساتھ وابستہ ہوسکتی ہیں۔ اس طرح کے ثبوت عام طور پر مشتبہ افراد ، اسلحہ یا اس طرح کے تالاب کو تنگ کرنے میں مدد کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ کلاس ثبوت کی مثالوں میں خون کی قسم ، جوتے کے کسی خاص برانڈ کے چلنے کے نمونے یا آتشیں اسلحے کا میک اپ اور ماڈل شامل ہیں۔

6. فارنسک ثبوت

سائنسی ثبوت کے طور پر بھی کہا جاتا ہے ، فارنسک ثبوت اکثر مجرمانہ قانونی چارہ جوئی میں سب سے مددگار اقسام میں سے ہیں۔ عام طور پر ، سائنسی ثبوت وہ ثبوت ہے جو علم پر مبنی ہے جو سائنسی طریقہ استعمال کرکے تیار کیا گیا ہے۔ ایسے ہی ، قابل قبول فرانزک شواہد کی بنیاد پر قیاس ، جانچ اور عام طور پر سائنسی برادری کے اندر قبول کیا گیا ہے۔ اس میں ڈی این اے میچنگ ، فنگر پرنٹ کی شناخت ، بالوں کا ثبوت ، فائبر کے ثبوت اور بہت کچھ شامل ہے۔

7. ٹریس ثبوت

سیدھے الفاظ میں ، جب دو چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ رابطے کریں تو ٹریس ثبوت تیار ہوجاتا ہے۔ ٹریس شواہد کی مثالوں میں گن شاٹ کی باقیات ، بال ، ریشے ، مٹی ، لکڑی اور جرگ شامل ہیں۔ اس طرح کے ثبوت تفتیش کاروں کو مدعا علیہ اور / یا شکار کو باہمی جگہ سے جوڑنے میں مدد کرسکتے ہیں۔

8. تعریفی ثبوت

ہم ٹی وی پر ایک عام کمرہ عدالت والے ڈرامے میں جو کچھ دیکھتے ہیں وہ شہادت کا ثبوت ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب کسی گواہ کو موقف کے مطابق جج کے سامنے بولنے کے لئے بلایا جاتا ہے اور حلف کے تحت جیوری کی حیثیت سے۔ گواہی کے گواہوں کو مقدمے کی سماعت میں استغاثہ اور دفاع دونوں کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جب استغاثہ کے ذریعہ استغاثہ کے گواہوں سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے تو ، اسے براہ راست معائنہ کہا جاتا ہے۔ جب بعد میں ان سے دفاعی وکیلوں سے پوچھ گچھ ہوتی ہے تو ، اسے کراس معائنہ کہتے ہیں۔ جب دفاعی گواہوں کے کردار کو الٹ کیا جاتا ہے تو یہی بات پیش آتی ہے۔

9. ماہر گواہ کے ثبوت

زیادہ تر تمام عدالتیں گواہوں کو ان کی ذاتی رائے کی بنیاد پر گواہی دینے سے روکتی ہیں — یہی وجہ ہے کہ ہمارے پاس گواہ کے پاس ماہر ثبوت ہیں۔ ماہر گواہوں کو اپنی مہارت کے شعبے میں معاملات کے بارے میں گواہی دینے کی اجازت ہے۔ اس میں ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج کے بارے میں گواہی دینے والا فرانزک تجزیہ کار ، ایک ڈاکٹر ایکس رے کے سیٹ کے تجزیہ کے بارے میں گواہی دینے والا یا فنگر پرنٹ تجزیہ کار کسی جرم منظر یا ہتھیار سے اٹھائے گئے پرنٹس سے متعلق نتائج کی گواہی دیتا ہے۔

10۔ڈیجیٹل ثبوت

ہماری تکنیکی طور پر منسلک دنیا میں ، ڈیجیٹل شواہد انتہائی اہم ہوگئے ہیں ، کیوں کہ کمپیوٹر ڈیٹا جرائم کی ایک بڑی تعداد کو چھوڑ سکتا ہے۔ ڈیجیٹل شواہد میں کوئی بھی متعلقہ معلومات شامل ہے جو بائنری شکل میں اسٹور یا منتقل ہوتی ہے۔ اس میں کمپیوٹر کی ہارڈ ڈرائیو ، ایک سیل فون ، فلیش ڈرائیو اور اس طرح کی کوئی چیز بھی شامل ہے۔ قبل ازیں ای جرائم کے قانونی چارہ جوئی میں مکمل طور پر استعمال ہوتا تھا ، اب ڈیجیٹل شواہد کا استعمال وسیع پیمانے پر جرائم پراسیکیوشن میں کیا جاتا ہے ، ای میل مواصلات ، ٹیکسٹ میسجز اور سیل فون لوکیشن جیسی چیزوں کی روشنی میں۔

11. دستاویزی ثبوت

دستاویزی ثبوت کا مناسب طور پر نام ، دستاویزات سے متعلق دستاویزات میں یا موجود کسی بھی متعلقہ ثبوت سے مراد ہے۔ اس میں ایک دستخط شدہ معاہدہ ، عمل یا وصیت شامل ہوسکتی ہے۔ کسی عدالتی مقدمے میں داخل ہونے کے ل all ، تمام دستاویزی ثبوتوں کو مستند ہونا ضروری ہے۔

12. مظاہرے کے ثبوت

مظاہرے کے ثبوت کی چھتری میں بہت سے مختلف عناصر شامل ہوسکتے ہیں۔ حقائق کو ظاہر کرنے یا سمجھانے کے لئے آزمائش میں استعمال ہونے والی کوئی بھی چیزیں ، تصاویر ، ماڈل یا دوسرے آلات مظاہرے کا ثبوت سمجھے جاتے ہیں۔

13. خصوصیت کا ثبوت

کسی شخص کے متعلقہ معاشرے میں ان کی ساکھ کی بنیاد پر اخلاقی موقف کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال ہونے والے شواہد کو چہرہ کا ثبوت سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ، ایک خاص گواہ وہ شخص ہے جو کسی اور کی جانب سے عدالت میں گواہی دیتا ہے تاکہ وہ ان کے مثبت یا منفی کردار کی بات کرے۔

14. عادت کے ثبوت

اگرچہ پروانسیٹی ثبوت — یا یہ ثبوت کہ ماضی میں برے سلوک میں ملوث شخص court عام طور پر عدالت کے معاملات میں قابل اعتنا نہیں ہے ، لیکن عادت کے ثبوت اس اصول کی استثناء کے طور پر قابل اعتراف ہیں۔ عادت کے ثبوت سے مراد کسی شخص کے مخصوص حالات میں دہرائے جانے والے ردعمل کے ثبوت ہیں۔ یہ عدالتی مقدمات میں استعمال کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ ثابت کرنے کے لئے کہ وہ شخص اسی طرح کی صورتحال میں کیسے کام کرے گا۔

15. ثبوت سماعت

یہ سچ ہے کہ سماعت کے شواہد سے متعلق قواعد دائرہ اختیار سے مختلف ہیں ، لیکن عام طور پر یہ فیصلہ دیا جاتا ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران ناقابل سماعت رہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سماعت کے ثبوت کسی مقدمے کی سماعت کے دوران زیر بحث آنے والے معاملے کے سلسلے میں متعلقہ فریق کے ذریعہ عدالت سے باہر بیان بیان کرتے ہیں۔ یہ عام طور پر ناقابل قبول سمجھا جاتا ہے کیونکہ دوسرے فریق کی طرف سے اس سوال پر غور کرنے والے شخص کی جانچ پڑتال کرنے سے قاصر ہے۔

16. ثبوت کی تصدیق

پہلے سے موجود شواہد کو مضبوط بنانے ، شامل کرنے ، توثیق کرنے یا اس کی تصدیق کرنے کے لئے استعمال ہونے والے شواہد کو مربوط ثبوت سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ، اگر کسی مقتول کی گواہی اپنے ذاتی تجربے کی تکرار کرتی ہے تو ، اس کی گواہی کے مختلف پہلوؤں کی تصدیق کرکے اپنے دعووں کو دبانے کے ل cor اکثر ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے۔

17. عذر ثبوت

مقدمے کی کارروائی کے دوران ، دفاعی ٹیمیں اکثر ایسے شواہد پیش کریں گی جو مدعا علیہ کے مبینہ اقدامات یا ارادوں کے بارے میں معقول شبہات کا جواز پیش کرنے ، عذر کرنے یا تعی .ن کرنے کا کام کرتی ہیں۔ اسے استثناءی ثبوت کہا جاتا ہے ، اور یہ عام طور پر یہ ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے کہ مدعا علیہ قصوروار نہیں ہے۔ جب استغاثہ جان بوجھ کر ممکنہ عذر کے ثبوت کو روکیں تو ، یہ بریڈی رول کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔

18. قابل قبول ثبوت

بہت سی مختلف قسم کے ثبوتوں کے درمیان ، دو بنیادی قسمیں ہیں جو عدالت کے مقدمے کے نتائج کو بہت زیادہ متاثر کرے گی: قابل قبول اور ناقابل تسخیر ثبوت۔ عام طور پر ، ان تمام شواہد کو جو باضابطہ طور پر کسی جج یا جیوری کے سامنے پیش کرنے کے قابل ہو ، قابل اعتراف ثبوت سمجھے جاتے ہیں۔ مقدمے کی سماعت سے قبل جج کا فرض ہے کہ وہ اس بات کا تعین کرے کہ کوئی خاص ثبوت شامل کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

19. ناقابل تسخیر ثبوت

اس کے برعکس ، جج جو فیصلہ کرتے ہیں کہ جج جیوری کے سامنے پیش نہیں ہوسکتے وہ ناقابل قبول شہادت سمجھا جاتا ہے۔ ناقابل تسخیر ہونے کے ثبوت کو سمجھنے کی وجوہات میں مندرجہ ذیل شامل ہوسکتے ہیں: یہ غلط طریقے سے حاصل کیا گیا تھا ، یہ تعصب ہے ، یہ معاملے سے متعلق نہیں ہے یا یہ سماعت ہے۔

20. ناکافی ثبوت

عدالتی معاملات میں ، استغاثہ ٹیم کی ذمہ داری ہے کہ وہ ثبوت کے بوجھ کو پورا کرے — یا یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے الزامات کو کسی معقول شک سے بالاتر ثابت کریں۔ ثبوت کے بوجھ کو پورا کرنے میں ناکام ہونے والے ثبوت کو ناکافی ثبوت سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح کے معاملات میں ، جج دفاع کی طرفداری پیش کرنے سے پہلے ہی کسی کیس کو خارج کردیتے ہیں۔

03/09/2023

تھانہ کے رجسٹرڈ نمبر 02 ، 19 اور 21 پبلک دستاویزات ہیں اور ٹرائل کے دوران ملزم درخواست دیکر انکو عدالت میں طلب کراسکتا ہے
PLD 2023 Lahore 578
Registers No. 2, 19 and 21, as maintained under the Police Rules, 1934, are not privileged documents and not governed by section 172 Cr.P.C. These registers are public documents and accused has legal right to summon the same.

Bare perusal of the impugned order reflects that the learned trial court dismissed the application of the petitioner solely on the ground that registers requested to be summoned are privileged documents under section 172(Naeem) Cr.P.C., therefore cannot be summoned. We would like to take up the legal question raised before this Court that whether registers No. 2, 19 and 21, as maintained under the Police Rules, 1934, are privileged documents and governed by section 172 Cr.P.C.
The aforementioned Section is a self-explanatory provision of law, which makes it the bounden duty of every investigating officer to enter day-to-day proceedings of the investigation in a case diary, setting forth the time at which the information reaches him, the time at which he begins and closes his investigation, the place or the places visited by him and statement of the circumstances ascertained through his investigation. Such case diary may be used by the court at the trial or inquiry, not as evidence in the case, but to aid itself in such inquiry or trial.
Having briefly discussed the purpose and scope of section 172 Cr.P.C., we have no hesitation to hold that a police diary maintained in a criminal case is absolutely a privileged document, which cannot be provided to an accused unless it is used by the Police officer who made it to refresh his memory or is used for the purpose of contradicting him. This section only deals with the case diary maintained by the investigating officer of every criminal case and has no relevance to the police registers, requested to be summoned by the petitioner, which are maintained under the Police Rules, 1934 (hereinafter „Rules‟).

The famous quote of Lord Acton „power tends to corrupt, and absolute power corrupts absolutely‟ 3seems a rationale behind the effective mechanism of checks and balances provided in the Code and Rules. Policing is a job that carries a lot of authority and powers with it, including the power to deprive someone of his life and liberty, therefore, it was necessary to keep a record of every step taken by the police officials in order to keep them strictly within the sphere of their legal duties. Under Rule 45 Chapter 22 of the Rules, at every police station, there shall be maintained 25 types of police registers to keep a record of different duties and functions performed by the police officials. The aforementioned rule clearly depicts that keeping a record of every activity of police officers is with the purpose to keep the police proceedings transparent and within the domain of law. Every step taken in connection with the performance of their duties in a police station is incorporated into these registers to rule out every possibility that police officials perform their duties in an arbitrary manner according to their whims and wishes. All the pretrial proceedings are also protected by Article 10-A of the Constitution of the Islamic Republic of Pakatan, 1973 to ensure a fair trial, therefore, proper maintenance of these registers is also a constitutional requirement under this Article.
The petitioner has requested the summoning of registers No. II, XIX and XXI as mentioned in Rule 49 of Chapter 22 of the Rules. Register No. II is called Station Diary. It is a complete record of all events which take place at the police station. It should, therefore, record not only the movements and activities of all police officers but also visits of outsiders, whether officials or non-officials, coming or brought to the police station for any purpose whatsoever. Register No XIX contains the details of every article placed in the storeroom and removed therefrom. Register No. XXI is a bound book of road certificates, which are issued for a variety of purposes. For instance when some case property etc. is sent from the police station for forensic analysis etc. A road certificate is a document necessary to be accompanied with a person carrying any parcel or property etc of the police station pertaining to any criminal case. When the police officer returns to the police station, the copy of the road certificate or receipt in lieu thereof shall be pasted onto the place from which the copy issued was taken. The registers requested to be summoned are public documents and with no stretch of the imagination are covered by the prohibition contained under Section 172 Cr.P.C. as misunderstood by the learned trial court.
Every accused has a right to have fair trial and the concept of fair trial recognized under the Code has been conferred an elevated status under Article 10-A of the Constitution and now it is a much broader and wider concept. There can be no analytical, all comprehensive or exhaustive definition of the concept of a fair trial, and it may have to be determined in seemingly infinite variety of actual situations with the ultimate object in mind viz. whether something that was done or said either before or at the trial deprived the quality of fairness to a degree where a miscarriage of justice has resulted.

Petitioner is standing trial for keeping explosive material in his possession. He was allegedly arrested along with his co-accused with explosive material in their possession. All the abovementioned police registers are not only relevant but also necessary for the just decision of the case. There is no legal provision available on the statute books to consider these police registers as privileged. The purpose of a fair trial is to find out the truth and prevent miscarriage of justice.

For that purpose, the trial Court is fully equipped with all the necessary powers under the Code and Qanoon-e-Shahdat, 1984. The role of a trial court should not be of a silent spectator, rather a participatory role should be played to ensure that truth must be arrived at. The Judge is not a mere umpire at a wit-combat between the lawyers for the parties whose only duty is to enforce the rules of the game and declare at the end of the combat who has won and who has lost. He is expected, and indeed it is his duty, to explore all avenues open to him in order to discover the truth.
The very purpose of a fair trial shall be defeated if the petitioner is not provided a fair opportunity to prove his innocence. Under Section 94 of the Code read with Articles 158 and 161 Qanoone-Shahadat, 1984, a wide powers have been conferred upon the court to summon any document or thing if the production of that document is desirable and necessary for the purpose of the trial. The aforementioned provisions are enabling provisions of law which aim at arming the court to ensure the production of any document or thing to arrive at a just decision. It is sound rule of construction that procedural enactments should be construed liberally and in such a manner as to render the substantive rights effective.
Section 94, Cr.P.C, an enabling provision of law, provides this opportunity to the accused. The only precondition to invoke this Section is that he must satisfy the court that the production of such document or thing is „necessary or desirable‟ for the just decision of the case. The Language of section 94 of the Code indicates the width of the power to be unlimited but there is also an inbuilt limitation provided in this section. The scope of section 94, Cr.P.C is very wide, and the word “whenever” suggests that the court can exercise its power conferred by this Section at any stage of inquiry or trial. Further, the words “any document or other thing is necessary or desirable for the purposes of any investigation, inquiry, trial or other proceeding under this Code” have been used which implies that it is not necessary that such document or thing should be the subject matter of such inquiry or trial but only consideration to produce such document or thing is that it will serve the ends of justice in any such inquiry or trial.
The power conferred upon the court to order the production of a thing or document should be exercised liberally after the court is satisfied that it is „necessary and desirable‟ that such document or thing should be produced as being relevant or having some connection with the inquiry or trial in progress. We, therefore, find that the petitioner has every right to shatter the credibility of the witnesses by advancing his defense and to require the production of documents, necessary to ascertain the truthfulness of the criminal charge leveled against him. In addition to the aforementioned provisions of law Rule 27.16 of the Rules states that a police officer is bound to produce any document in his possession or power if summoned to do so. This Rule further contains a list of documents which are privileged but registers requested to be summoned by the petitioner are not included in that list.

We, therefore, find that the petitioner has every right to shatter the credibility of the witnesses by advancing his defense and to require the production of documents, necessary to ascertain the truthfulness of the criminal charges leveled against him. It is evidently clear from what has been discussed above that right to a fair trial has been denied to the petitioner by the learned trial court. The learned trial court utterly misconceived and misconstrued the provisions of section 172, Cr.P.C. The impugned findings of the learned trial court in this regard are patently illegal, erroneous and fanciful, therefore, not sustainable in the eye of the law, therefore, the same are set aside.

30/07/2023

قابل ضمانت جرائم میں عدالت
کسی بھی صورت میں ضمانت قبل از
گرفتاری یا بعد از گرفتاری خارج نہیں
کر سکتی
2021 LHC 1144
The Value Of Law

24/07/2023

آئینی عدالتوں یعنی ہائ کورٹس کی عائلی (فیملی) مقدمات میں اپیل کا حق استعمال کرنے کے بعد آرٹیکل 199 کے تحت جوریسڈیکشن کے حوالے سے سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ !

فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ :

اسما نام کی ایک مدعیہ نے حماد حسن نامی مدعا علیہ کے ساتھ دو ہزار چودہ میں شادی کی جس کے نتیجے میں دو ہزار پندرہ میں ان کے ہاں ایک بچے یعنی محمد عمر کی ولادت ہوئ۔ دو ہزار پندرہ میں مدعیہ یعنی اسما نے مدعا علیہ یعنی اپنے شوہر کے خلاف کوہاٹ کی مقامی فیملی کورٹ میں حق مہر ، نان نفقے اور سامان جہیز کی حوالگی کے لئے کیس کیا جس پر دو ہزار اٹھارہ میں فیملی کورٹ نے مدعیہ کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے مدعا علیہ یعنی شوہر کو پابند کیا کہ وہ مدعیہ کو تین لاکھ روپے ، گھر میں آدھا حصہ اور پانچ مرلے زمین اور دو ہزار چودہ سے نان نفقہ دینے کے علاؤہ محمد عمر یعنی بیٹے کو بھی سالانہ دس فیصد اضافے کے ساتھ نان نفقہ دینے کا فیصلہ کیا جس پر مدعا علیہ یعنی شوہر نے ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل دائر کی جس پر ڈسٹرکٹ جج نے مدعا علیہ کے اپیل کو خارج کرتے ہوئے الٹا نان نفقہ میں سالانہ اضافہ دس کی بجائے بیس فیصد کر دیا۔ ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کے خلاف شوہر نے ہائ کورٹ میں ٹرائل کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلوں میں مس ریڈنگ اور نان ریڈنگ کی بنیاد پر آئینی درخواست یعنی رٹ پٹیشن جمع کی جس پر ہائ کورٹ نے باوجود اس کے کہ شوہر کی جانب حقائق پر سوال اٹھائے گئے تھے ، کیس کو نہ صرف سنا بلکہ حقائق پر فیصلہ بھی دیا لیکن مختصرا یہ کہ ہائ کورٹ نے بھی حقائق پر فیصلہ دیتے ہوئے کیس کو خارج کر دیا جس کے بعد ہائ کورٹ کے فیصلے کے خلاف حماد حسن یعنی شوہر نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور یوں اس کیس کی ابتداء سپریم کورٹ میں ہوئ۔

سپریم کورٹ کے سامنے مختصرا سوال ہائ کورٹ کی جانب سے آئینی درخواست میں کیس میں حقائق کے حوالے سے فائنڈنگ دینے کا تھا یعنی کہ کیا ہائ کورٹ کسی آئینی درخواست میں حقائق کی بنیاد پر فائنڈنگ دے سکتی ہے یا نہیں ؟

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کا آغاز ہائ کورٹس کو آئینی درخواستوں میں حاصل جوریسڈیکشن سے کیا ہے اور اس بابت مختلف کیس لاز کا سہارا لے کر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ہائ کورٹ کو حاصل جوریسڈیکشن کا استعمال اپیل یا رویژن کے متبادل کے طور پر نہیں کیا جا سکتا یعنی ہائ کورٹ شہادت کا دوبارہ جائزہ نہیں لے سکتی اور حقائق کی بنیاد پر فیصلہ بھی نہیں دے سکتی کیونکہ ہائ کورٹس کی مداخلت صرف استثنائ صورتوں میں ہے۔

مندرجہ بالا اصولوں کے تعین کے بعد سپریم کورٹ موجودہ کیس کی طرف واپس آئ ہے اور یہ بات صراحت کے ساتھ کی ہے کہ چونکہ اس کیس میں بھی بنیادی سوال ٹرائل کورٹ کی حقائق کی بنیاد پر حق مہر اور نان نفقہ کی تعین پر تھا لیکن ہائ کورٹ نے غلطی سے نہ صرف اس کیس کو سنا بلکہ حقائق کے حوالے سے فیصلہ بھی دیا جو کہ یقیناً ہائ کورٹس کی جوریسڈیکشن سے باہر ہے اور ہائ کورٹ کا فیصلہ بالکل ایسا ہے کہ جیسے ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق ہو جو کہ ہائ کورٹ کے پاس نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس کے بعد آئین پاکستان کے آرٹیکل ایک سو ننانوے پر ایک خوبصورت بحث کی ہے کہ اس آرٹیکل کے تحت ہائ کورٹ کو کونسے اختیارات حاصل ہیں اور کونسے نہیں ہیں اور یہ بات دوبارہ لکھی ہے کہ ہائ کورٹ ٹرائل کورٹ کی جانب سے حقائق کے تعین کے بعد اس کا دوبارہ جائزہ نہیں لے سکتی ۔

سپریم کورٹ نے اس کے بعد اپیل کے حق پر ایک خوبصورت بحث کی ہے اور لکھا ہے کہ اپیل کا حق قانونی حق ہے یعنی اگر کسی قانون میں اپیل کا حق ہو تو تب ہی آپ اپیل کا حق استعمال کر سکتے ہیں اور اگر اپیل کا حق ایک قانون میں نہیں ہے تو آپ کو اپیل کا حق حاصل نہیں ہے اور چونکہ عائلی قوانین میں صرف ایک ہی اپیل کا حق ہے تو اس لئے ڈسٹرکٹ کورٹ کا فیصلہ حتمی تصور ہوگا اور ہائ کورٹ کے پاس اس بات کا کوئ حق نہیں کہ وہ آئینی درخواستوں کی صورت میں فریقین کو دوسرے اپیل کا حق دیں اور وہ بھی بالخصوص فیملی کیسز میں جس میں دوسرے اپیل کا حق نہ دے کر مقننہ کی نیت بڑی واضح ہے کہ کیسز کو طول نہ دی جا سکے اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کو حتمی تصور کرنا نہایت ہی ضروری اس وجہ سے ہے کہ مقدمات بروقت ختم ہوسکیں۔ مندرجہ بالا باتوں کے تعین کے بعد سپریم کورٹ نے حماد حسن یعنی شوہر کی لیو ٹو اپیل کی درخواست خارج کردی۔

This important Judgment is Authored By Justice Ayesha Malik and Can be searched and found by C.P.1418/2023.

Address

Mianwali

Telephone

+923416873326

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Shakir Khattak posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Adv Shakir Khattak:

Share

Category