Business Solutions Tax Consultants

Business Solutions Tax Consultants Firm of Sales Tax, Income Tax, bookkeeping, Acccounts and audit

07/07/2026
سیلز ٹیکس ریٹرن اگر آپ لیٹ فائل کریں تو جرمانے کی رقم بڑھا دی گئی متعلقہ سیکشن 33 ہے ۔۔ پہلے لیٹ فائلنگ پنلٹی دس ہزار رو...
30/06/2026

سیلز ٹیکس ریٹرن اگر آپ لیٹ فائل کریں تو جرمانے کی رقم بڑھا دی گئی متعلقہ سیکشن 33 ہے ۔۔
پہلے لیٹ فائلنگ پنلٹی دس ہزار روپے تھا اور اگر آپ ڈیو ڈیٹ کے دس دنوں کے اندر اپنی ریٹرن فائل کرتے تو ہر دن کے دو سو روپے ادا کرنے پڑتے۔
اب اس میں یہ تبدیلی کی گئی کہ جرمانے کی رقم دس ہزار سے بڑھا کر پچاس ہزار کردیا گیا اور اگر ریٹرن ڈیو ڈیٹ کے دس دنوں کے اندر فائل کریں تو دو سو کی جگہ ہر دن کے دو ہزار روپے ادا کرنے ہونگے

29/06/2026

کہانی پچیس ہزار کے سرچارج کی فنانس ایکٹ کی زبانی
جو بل پیش ہوا وہ اب ایکٹ بن چکا یعنی اب وہ قانون ہے۔
یہ پچیس ہزار سرچارج بارے کیا بتا رہا ہے؟
فرض کرتے ہیں آپ ابھی فائلر نہیں ہیں ایکٹو لسٹ میں نہیں ہیں۔ اگلا سال شروع ہوگیا تو کیا آپ کو ایکٹو لسٹ یا فائلر ہونے کے لئے پچیس ہزار ادا کرنے ہونگے؟
نہیں ایسا نہیں ہے۔ آپ دو ہزار چھبیس کی ریٹرن فائل کریں اور بغیر سرچارج ادا کئے آپ فائلر بن جائیں گے ایکٹو پئیر لسٹ میں آجائیں گے۔
تو سرچارج کب ادا کرنا ہوگا؟
سرچارج ادا کرنے کی ضرورت تب ہوگی جب دو ہزار چھبیس کی ریٹرن ڈیو ڈیٹ تک آپ فائل نہیں کرتے۔
ڈیو ڈیٹ کب ہے ؟
30 ستمبر 2026 ہے اس میں ایف بی آر عموما ایکسٹینشن بھی دیتا ہے اگر نہ بھی دے تو بھی 30 ستمبر تک آپ دو ہزار چھبیس کی ریٹرن فائل کریں اور بغیر سرچارج ادا کئے فائلر بنیں ، ایکٹو ٹیکس پئیر لسٹ میں آئیں۔
تو پھر سرچارج کب سے ادا کرنا ہوگا اور کتنا ادا کرنا ہوگا؟
اگر آپ 30 ستمبر 2026 کو اپنی ریٹرن فائل نہیں کرتے جو کہ ڈیو ڈیٹ ہے پھر آپ کو ایکٹو ٹیکس پئیر لسٹ میں آنے کے لئے سرچارج ادا کرنا ہوگا۔۔
یہ سرچارج کتنا ادا کرنا ہوگا کیا پچیس ہزار ادا کرنا ہوگا؟
نہیں ۔ اگر آپ تیس ستمبر 2026 کے بعد 2026 کی ریٹرن فائل کرتے ہیں اور کمشنر کو انڈرٹیکنگ دیتے ہیں کہ اس ڈیٹ سے چھ مہینے تک میں کوئی پراپرٹی نہیں خریدوں گا تو بھی آپ کو پچیس ہزار سرچارج ادا نہیں کرنا پڑے گا ۔

19/06/2026

Tax Return 2026 Alert.
جیسا کہ آپکو معلوم ہے 30 جون آ رہا ہے اور جولائی کے مہینہ سے 2026 کے گوشوارے جمع ہونے شروع ہو جائیں گے. تو آپ مندرجہ زیل ہدایات پر عمل کرلیں.

1) اپنا بینک بیلنس اپنی ویلتھ سٹیٹمینٹ کے مطابق کر لیں اضافی رقم بینک سے نکلوا لیں. ورنہ اضافی رقم ایڈجسٹمنٹ کرنی مشکل کو جائے گی.
2) 2025-26 سال کے دوران جو پراپرٹی بیچی یاں خریدی ہے اسکا ڈیٹا اکٹھا کر لیں. ایڑریس قیمت مرلے وغیرہ.
3) اپنی سالانہ انکم کیلکولیٹ کر لیں. تنخواہ یاں کاروباری انکم.
4) اپنے سالانہ اخراجات ہیڈ وائیز لکھ لیں.
5) ٹیکس کٹوتیاں سیکشن وائیز لکھ لیں. مثلاً Deduction certificate on electricity bill, mobile bill, bank account, tax deduction on goods sales purchase.

6)اگر کوئی پلاٹ اقساط پر لیا ہوا ہے تو کتنی اقساط ادا ہو گئ کتنی بقایا.
7) اگر کوئی انشورنس پالیسی لی ہوئی ہے تو اسکی تفصیل.
8) اگر کوئی گاڑی لیز پر لی ہوئی ہے تو اسکی اقساط کی تفصیل.
9) اگر سال کے دوران سونا خریدا یاں بیچا ہے تو اسکی تفصیل.
10) اگر بینک سے قرض لیا ہوا اسکی تفصیل.
11) اگر سال کے دوران کوئی گفٹ (پلاٹ، گاڑی) ملا ہو تو اسکا اسٹام پیپر.
12) اگر بیرون ممالک سے Foreign remittance وصول کیے ہیں تو اسکا (FOREIGN REMITENCE CERTIFICA

ٹیکس نظام میں بڑی ہلچلایف بی آر کا نیا حکم جاریاب ہر سیل ریئل ٹائم رپورٹ ہوگی اور ڈیجیٹل انوائس میں تبدیلی صرف 72 گھنٹوں...
04/04/2026

ٹیکس نظام میں بڑی ہلچل
ایف بی آر کا نیا حکم جاری
اب ہر سیل ریئل ٹائم رپورٹ ہوگی اور ڈیجیٹل انوائس میں تبدیلی صرف 72 گھنٹوں کے اندر ممکن ہوگی!
یہ ایک اہم پیش رفت ہے جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ٹیکس نظام کو مزید ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کے لیے ایک نیا قدم اٹھایا ہے۔ 30 مارچ 2026 کو جاری ہونے والے Sales Tax General Order نمبر 01 آف 2026 کے ذریعے یہ واضح کیا گیا کہ اب سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ افراد کے لیے اپنی سیلز کو ریئل ٹائم میں رپورٹ کرنا لازمی ہوتا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ہر سیل کی انوائس فوری طور پر FBR کے سسٹم میں رپورٹ ہوگی، جس سے ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھے گی اور فراڈ کے امکانات کم ہوں گے۔
اس آرڈر کی بنیاد سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی سیکشن 23 کی شق (5) اور (6) پر ہے، جو FBR کو یہ اختیار دیتی ہیں کہ وہ کسی بھی کاروبار کو اپنے سسٹم کو FBR کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ساتھ منسلک (integrate) کرنے کا پابند بنا سکے۔ پہلے SRO 1413(I)/2025 کے ذریعے یہ لازم کیا گیا تھا کہ تمام رجسٹرڈ افراد صرف ایک لائسنس یافتہ انٹیگریٹر کے ذریعے ڈیجیٹل انوائسز جاری کریں، مگر اس میں کچھ مشکلات سامنے آئیں، خاص طور پر ان کاروباروں کے لیے جو ایک سے زیادہ سسٹمز استعمال کرتے ہیں۔
اب نئے آرڈر میں اس مسئلے کو حل کرتے ہوئے FBR نے اجازت دے دی ہے کہ کاروبار اپنی ضرورت کے مطابق ایک سے زیادہ licensed integrators کے ساتھ کام کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ FBR سے منظور شدہ ہوں۔ اس سے کاروباری افراد کو زیادہ flexibility ملے گی اور ان کے لیے سسٹم کو manage کرنا آسان ہو جائے گا۔
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر کوئی ڈیجیٹل سیلز ٹیکس انوائس غلطی سے بن جائے تو اسے صرف 72 گھنٹوں کے اندر FBR کے سسٹم کے ذریعے درست، delete یا cancel کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ مدت گزر جائے تو پھر کوئی بھی تبدیلی صرف متعلقہ Commissioner Inland Revenue کی پیشگی اجازت سے ہی ممکن ہوگی۔ اس شرط کا مقصد یہ ہے کہ غیر ضروری رد و بدل کو روکا جائے اور ہر انوائس کی authenticity برقرار رہے۔
مجموعی طور پر، یہ آرڈر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں ہر لین دین ریکارڈ میں ہوگا اور نگرانی مزید سخت ہوگی۔ اس سے ایک طرف ایماندار کاروباری افراد کو فائدہ ہوگا، جبکہ دوسری طرف غیر شفاف طریقوں کے لیے گنجائش کم ہوتی جائے گی۔

Address

Office No. 10-11, 2nd Floor Alnoor Plaza Opposite Mardan Mega Mart Nowshera Road
Mardan
23200

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 12:00
14:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Business Solutions Tax Consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category