Adeel & Aamir Law Associates

Adeel & Aamir Law Associates Deals All types of civil, criminal, norcotics, family ,taxation, revenue and service matters

12/07/2026

بچوں کی کسٹڈی کے مقدمات میں سپریم کورٹ کی اہم آبزرویشن
سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ Guardians and Wards Act, 1890 کی دفعات 12، 17 اور 25 کے تحت بچوں کی کسٹڈی کے مقدمات میں بچے کی رائے کو سننا نہایت اہم ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ:
✅ بچے کی بات سننا محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ انصاف کے تقاضوں کا بنیادی حصہ ہے۔
✅ بچے کی رائے سننے سے اس کے بہترین مفاد (Best Interest of the Child) کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے۔
✅ بچے کے خیالات کو صرف نوٹ کرنا کافی نہیں، بلکہ ان پر سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے۔
✅ بچے کی بات سننے کا مطلب ہر صورت اس کی خواہش پر عمل کرنا نہیں، بلکہ اس کے نقطۂ نظر کو سمجھ کر اس کے بہترین مفاد میں فیصلہ کرنا ہے۔
حوالہ: PLD 2026 Supreme Court 238
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

10/07/2026

*بیوی کے انتقال کے دن حامد صاحب کی عمر صرف پینتالیس برس تھی*
تعزیت کے لیے آنے والے ہر شخص نے ایک ہی مشورہ دیا۔
"حامد، ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے؟ دوسری شادی کر لو۔"
وہ ہر بار مسکرا دیتے، پھر اپنے
بارہ سالہ بیٹے عمار کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتے، "
اللہ نے مجھے اس کی صورت میں میری بیوی کی آخری امانت دے دی ہے۔ اب میری باقی زندگی اسی امانت کی حفاظت ہے۔"

اس کے بعد انہوں نے واقعی اپنی زندگی بیٹے کے نام کر دی۔ کاروبار بڑھتا گیا، مگر ان کی دنیا سمٹ کر صرف ایک لڑکے کی مسکراہٹ رہ گئی۔ اپنی خواہشیں، اپنی تنہائیاں، اپنی راتیں... سب انہوں نے خاموشی سے دفن کر دیں۔

وقت نے پلٹا کھایا۔

عمار جوان ہوا، اعلیٰ تعلیم حاصل کی، اور ایک دن باپ نے سارا کاروبار اس کے حوالے کر دیا۔

"اب تم سنبھالو۔ میں تھک گیا ہوں۔"

لیکن تھکن جسم کی نہیں تھی... رشتے کی تھی، جسے وہ خود اپنے ہاتھوں آہستہ آہستہ پیچھے ہٹا رہے تھے۔

پھر عمار کی شادی ہو گئی۔

گھر میں نئی ہنسی آئی، نئے پردے لگے، فرنیچر بدلا، برتن بدلے، حتیٰ کہ باورچی خانے کی ترتیب بھی بدل گئی۔

اور حامد صاحب؟

وہ بھی بدل گئے۔

اب وہ کبھی دفتر میں بیٹھے رہتے، کبھی کسی پرانے دوست کی دکان پر چائے پیتے، اور شام ڈھلے صرف سونے کے لیے گھر لوٹتے۔ اپنے ہی گھر میں وہ ایسے چلتے جیسے کسی اور کے مکان میں مہمان ہوں۔

ایک دوپہر سب ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے تھے۔

حامد صاحب نے روٹی کا آخری نوالہ توڑتے ہوئے نرمی سے کہا،

"بیٹا... اگر ذرا سا دہی ہو تو دے دو۔"

باورچی خانے سے بہو کی آواز آئی،

"آج گھر میں دہی نہیں ہے، ابا جی۔"

"اچھا..." انہوں نے پانی کا گھونٹ لیا اور خاموشی سے اٹھ گئے۔

کسی نے ان کے چہرے پر نظر نہیں ڈالی۔

وہ حسبِ معمول واک کے لیے نکل گئے۔

ان کے جاتے ہی بہو نے فریج کھولا، ٹھنڈی دہی کی پیالی نکالی اور عمار کے سامنے رکھ دی۔

"گرمی بہت ہے، دہی کے بغیر تمہارا کھانا مکمل نہیں ہوتا۔"

عمار نے پیالی کی طرف دیکھا۔

پھر دروازے کی طرف، جہاں سے ابھی ابھی اس کے باپ کی آہستہ آہستہ دور ہوتی چپلوں کی آواز گم ہوئی تھی۔

اس نے ایک لمحے کو بیوی کی آنکھوں میں دیکھا۔

پھر خاموشی سے دہی کھا لی۔

اس نے کوئی جھگڑا نہیں کیا۔

کوئی نصیحت نہیں کی۔

صرف اس دن کے بعد اس کے اندر کچھ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔

چند روز گزرے۔

ایک صبح اس نے والد سے کہا،

"ابا، آج دس بجے تیار رہیے گا۔ ہمیں کچہری جانا ہے۔"

"کیوں؟"

"آپ کی شادی ہے۔"

حامد صاحب کے ہاتھ سے اخبار پھسل گیا۔

"پاگل ہو گئے ہو؟ اس عمر میں؟ مجھے کسی شادی کی ضرورت نہیں۔ میں نے تو ساری زندگی تمہارے لیے گزاری ہے۔"

عمار نے پہلی بار باپ کی آنکھوں میں ویسے دیکھا جیسے ایک مرد دوسرے مرد کی قربانی کو پہچانتا ہے۔

"ابا... میں آپ کے لیے ماں نہیں لا رہا، نہ اپنی بیوی کے لیے ساس۔"

وہ رکا، پھر دھیرے سے بولا،

"میں صرف آپ کے لیے ایک پیالی دہی کا بندوبست کر رہا ہوں۔"

کمرے میں ایسی خاموشی اتری کہ دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک بھی شرمندہ محسوس ہونے لگی۔

عمار نے جیب سے گھر کی چابی نکالی اور میز پر رکھ دی۔

"آج شام میں اور میری بیوی کرائے کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں منتقل ہو جائیں گے۔ کل سے میں آپ کے دفتر میں صرف ایک ملازم کی حیثیت سے آؤں گا، تنخواہ لوں گا... تاکہ جس گھر کی ہر چیز آپ نے ہمیں دے دی، وہاں رہنے والوں کو ایک پیالی دہی کی قیمت سمجھ آ جائے۔"

باورچی خانے میں کھڑی بہو کے ہاتھ سے شیشے کا گلاس چھوٹ کر فرش پر بکھر گیا۔

ٹوٹنے کی آواز معمولی تھی، مگر اس کے اندر برسوں سے جمی ہوئی خود غرضی میں ایک دراڑ پڑ چکی تھی۔

وہ لرزتے قدموں سے باہر آئی۔ اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔ فریج سے دہی کی وہی پیالی نکالی، جسے چند لمحے پہلے اس نے صرف اپنے شوہر کے لیے محفوظ رکھا تھا، اور خاموشی سے حامد صاحب کے سامنے رکھ دی۔

پھر ان کے قدموں میں بیٹھ گئی۔

"ابا جی... مجھے معاف کر دیجیے۔ آج سمجھ آئی ہے کہ میں نے آپ سے دہی نہیں، آپ کا حق چھینا تھا۔"

حامد صاحب نے کانپتے ہاتھوں سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، مگر ان کی آنکھوں میں ایسی نمی تھی جو صرف بڑھاپے کی تنہائی جانتی ہے۔

انہوں نے دھیرے سے کہا،

"بیٹی... بھوک روٹی نہ ملنے سے نہیں لگتی... بھوک اس دن لگتی ہے جب اپنے ہی گھر میں انسان کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اضافی ہے۔"

عمار نے آگے بڑھ کر باپ کے ہاتھ تھام لیے۔

اس روز نہ کوئی عدالت گئی، نہ کوئی نکاح ہوا، نہ کوئی گھر بکھرا۔

صرف ایک دسترخوان پر بیٹھے تین لوگوں نے پہلی بار ایک دوسرے کو دیکھنا سیکھ لیا۔

اور اس دن کے بعد اس گھر میں دہی کبھی ختم نہیں ہوئی...

کیونکہ بہو نے فریج میں دہی رکھنے سے پہلے اپنے دل میں احترام رکھنا سیکھ لیا تھا۔

رشتے روٹی سے نہیں نبھتے، عزت سے نبھتے ہیں؛ اور جس گھر میں بزرگ کی عزت کم ہو جائے، وہاں نعمتیں چاہے جتنی بھی ہوں، برکت خاموشی سے دروازہ چھوڑ جاتی ہے۔

منقول

09/07/2026
09/07/2026

اذان کے ہر لفظ کا جواب دیا جاتا ہے، لیکن "حَيَّ عَلَى الصَّلَاة" اور "حَيَّ عَلَى الْفَلَاح" کے جواب میں "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ" کیوں کہا جاتا ہے؟
اذان اسلام کے عظیم شعائر میں سے ایک ہے۔ جب مؤذن اذان دیتا ہے تو نبی کریم ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم بھی اذان کے الفاظ کا جواب دیں۔ چنانچہ جب مؤذن "الله أكبر" کہتا ہے تو ہم بھی "الله أكبر" کہتے ہیں، اور جب وہ "أشهد أن لا إله إلا الله" اور "أشهد أن محمدًا رسول الله" کہتا ہے تو ہم بھی یہی الفاظ دہراتے ہیں۔
لیکن جب مؤذن "حَيَّ عَلَى الصَّلَاة" (نماز کی طرف آؤ) اور "حَيَّ عَلَى الْفَلَاح" (کامیابی کی طرف آؤ) کہتا ہے تو نبی کریم ﷺ نے ہمیں یہ الفاظ دہرانے کے بجائے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ" کہنے کی تعلیم دی ہے۔
اس کی وجہ کیا ہے؟
علمائے کرام فرماتے ہیں کہ "حَيَّ عَلَى الصَّلَاة" اور "حَيَّ عَلَى الْفَلَاح" اذان کے وہ الفاظ ہیں جو لوگوں کو نماز اور کامیابی کی طرف بلانے کے لیے کہے جاتے ہیں۔ یہ ایک دعوت اور پکار ہے۔
مؤذن اس وقت لوگوں کو اللہ کی عبادت کی طرف بلا رہا ہوتا ہے، جبکہ اذان سننے والا اس دعوت کو قبول کرنے والا ہوتا ہے، دعوت دینے والا نہیں۔ اسی لیے اسے یہی الفاظ دہرانے کا حکم نہیں دیا گیا۔
اس کے بجائے وہ "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ" کہتا ہے، جس کا مطلب ہے:
"اللہ کی مدد کے بغیر نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قوت۔"
گویا بندہ یہ اقرار کرتا ہے:
"اے اللہ! میں تیری مدد کے بغیر نماز کی طرف نہیں آ سکتا اور نہ ہی حقیقی کامیابی حاصل کر سکتا ہوں۔ مجھے اپنی عبادت کی توفیق عطا فرما۔"
حدیث کی روشنی میں
روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب مؤذن "حَيَّ عَلَى الصَّلَاة" اور "حَيَّ عَلَى الْفَلَاح" کہے تو تم "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ" کہو۔
اس میں ہمارے لیے کیا سبق ہے؟
یہ تعلیم ہمیں عاجزی، اللہ پر بھروسہ اور اس کی مدد طلب کرنے کا سبق دیتی ہے۔ بندہ یہ اعتراف کرتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مدد نہ فرمائے تو وہ نماز پڑھنے، نیکی کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کے قابل نہیں۔
لہٰذا جب بھی اذان سنیں تو پوری توجہ سے اس کا جواب دیں، اور "حَيَّ عَلَى الصَّلَاة" اور "حَيَّ عَلَى الْفَلَاح" کے جواب میں "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ" پڑھیں۔ یہی رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے، اور اسی میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اذان کا احترام کرنے، اس کا صحیح جواب دینے اور نماز کی پابندی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

07/07/2026

❓ کیا ہر مرحلے پر ترمیم کی اجازت دی جا سکتی ہے؟
❓ کیا ایسی ترمیم منظور کی جا سکتی ہے جو مقدمہ کی نوعیت تبدیل کر دے؟
❓ کیا تاخیر سے کی گئی ترمیم قابلِ قبول ہوگی؟
❓ عدالت کن اصولوں کو مدنظر رکھ کر Amendment کی درخواست منظور یا مسترد کرے گی؟

⚖️ C.P.L.A. No. 5215 of 2024
🏛 Supreme Court of Pakistan
👨‍⚖️ Mehbub Ullah & Another vs. Mst. Taj Bibi & Others

📅 Decision Date
01 July 2026

📚 Relevant Law
📖 Code of Civil Procedure, 1908 (C.P.C.)
Order VI Rule 17 (Amendment of Pleadings)

⚖️ Legal Concepts (قانونی تصورات)

✍️ Amendment of Pleadings (ترمیمِ دعویٰ)
دعویٰ، جوابِ دعویٰ یا دیگر Pleadings میں ایسی تبدیلی یا اضافہ جس سے اصل تنازعہ کو بہتر انداز میں عدالت کے سامنے لایا جا سکے۔

⚖️ Judicial Discretion (عدالتی صوابدید)
وہ قانونی اختیار جسے عدالت انصاف، قانون اور حالاتِ مقدمہ کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کرتی ہے۔ یہ اختیار من مانی نہیں بلکہ قانونی اصولوں کے تابع ہوتا ہے۔

📌 Bona Fide (حسنِ نیت)
ایسا عمل جو دیانت داری، ایمانداری اور کسی ناجائز فائدہ حاصل کرنے کی نیت کے بغیر کیا جائے۔

🚫 Mala Fide (بدنیتی)
ایسا عمل جو دھوکہ، بدنیتی، تاخیر پیدا کرنے یا مخالف فریق کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے کیا جائے۔

⚖️ Cause of Action (سببِ دعویٰ)
وہ بنیادی حقائق جن کی بنیاد پر کسی شخص کو عدالت سے قانونی ریلیف مانگنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

📜 Admission (اقرار)
فریق کی طرف سے مقدمہ میں کیا گیا ایسا بیان جو کسی حقیقت کو تسلیم کرتا ہو۔

⏳ Inordinate Delay (غیر معمولی تاخیر)
بغیر معقول وجہ کے بہت زیادہ تاخیر سے کوئی درخواست یا دعویٰ دائر کرنا۔

⚖️ Prejudice (قانونی نقصان)
ایسا نقصان جو کسی عدالتی کارروائی کی وجہ سے مخالف فریق کے قانونی حقوق یا دفاع کو متاثر کرے۔

📖 Definition of Relevant Provision

📌 Order VI Rule 17, C.P.C.
یہ قاعدہ عدالت کو اختیار دیتا ہے کہ اگر انصاف کے تقاضوں اور اصل تنازعہ کے مؤثر فیصلے کے لیے ضروری ہو تو مقدمہ کے کسی بھی مرحلے پر Pleadings میں ترمیم کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
لیکن یہ اختیار لامحدود نہیں بلکہ عدالتی صوابدید کے مطابق احتیاط سے استعمال کیا جائے گا۔

Posted by Legal Luminaries

📖 Case Background (پس منظر)

درخواست گزاروں نے اپنے مقدمہ میں Order VI Rule 17 C.P.C. کے تحت Pleadings میں ترمیم کی اجازت طلب کی۔

سوال یہ تھا کہ آیا مقدمہ کے کافی آگے بڑھ جانے کے بعد ایسی ترمیم کی اجازت دی جا سکتی ہے جو مقدمہ کی نوعیت بدل دے یا نیا Cause of Action متعارف کرائے۔

یہ معاملہ بالآخر سپریم کورٹ کے سامنے آیا۔

❓ Questions Before the Supreme Court
✅ کیا ہر مرحلے پر ترمیم کی اجازت دی جا سکتی ہے؟
✅ کیا ایسی ترمیم منظور کی جا سکتی ہے جو مقدمہ کی نوعیت تبدیل کر دے؟
✅ کیا تاخیر سے کی گئی ترمیم قابلِ قبول ہوگی؟
✅ عدالت کن اصولوں کو مدنظر رکھ کر Amendment کی درخواست منظور یا مسترد کرے گی؟

⚖️ Findings of the Supreme Court

1️⃣ عدالت کے پاس وسیع اختیارات موجود ہیں
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ Order VI Rule 17 عدالت کو مقدمہ کے کسی بھی مرحلہ پر ترمیم کی اجازت دینے کا اختیار دیتا ہے۔

2️⃣ اختیار لامحدود نہیں
یہ اختیار Judicial Discretion ہے، لہٰذا اسے صرف انصاف کے تقاضوں کے مطابق استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ من مانی انداز میں۔

3️⃣ اصل تنازعہ کا فیصلہ ہونا چاہیے
ترمیم صرف اسی صورت میں منظور ہوگی جب وہ اصل تنازعہ (Real Questions in Controversy) کے صحیح فیصلے کے لیے ضروری ہو۔

4️⃣ کن حالات میں ترمیم مسترد ہوگی؟
عدالت نے واضح کیا کہ درج ذیل صورتوں میں ترمیم کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے:
❌ مقدمہ کی بنیادی نوعیت تبدیل ہو جائے۔
❌ پہلے کیے گئے اقرار (Admissions) واپس لیے جائیں یا ان کی مخالفت کی جائے۔
❌ درخواست بدنیتی (Mala Fide) پر مبنی ہو۔
❌ مخالف فریق کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے۔
❌ ثبوتوں کی کمزوری یا تضادات کو چھپانے کے لیے ترمیم مانگی جائے۔
❌ پہلے سے موجود عدالتی فیصلوں کے اثرات ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔

5️⃣ عدالت کن عوامل کا جائزہ لے گی؟
ترمیم کی درخواست پر فیصلہ کرتے وقت عدالت درج ذیل امور دیکھے گی:
✔ درخواست گزار کی حسنِ نیت
✔ درخواست کس مرحلے پر دی گئی
✔ تاخیر کی معقول وضاحت
✔ مخالف فریق کے حقوق پر اثرات

6️⃣ غیر معمولی تاخیر کی اہمیت
اگر درخواست بہت زیادہ تاخیر سے دی جائے اور اس کی کوئی معقول وجہ نہ ہو تو عدالت اس پہلو کو انتہائی اہم سمجھے گی۔

7️⃣ Evidence مکمل ہونے کے بعد ترمیم
اگر Pleadings مکمل ہو چکی ہوں اور شہادت بھی ریکارڈ ہو چکی ہو تو بعد میں ترمیم سے مخالف فریق کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

8️⃣ الگ مقدمہ دائر کرنے کا متبادل
اگر نئے دعویٰ کے لیے الگ Suit دائر کیا جا سکتا ہو تو ایسی صورت میں ترمیم کی اجازت دینے کی ضرورت نہیں۔

9️⃣ نیا Cause of Action
اگر ترمیم سے مکمل نیا Cause of Action سامنے آتا ہو تو عدالت کو انتہائی احتیاط سے فیصلہ کرنا چاہیے۔

🔟 مخالف فریق کے حقوق کا تحفظ
عدالت کو اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ مخالف فریق نے اپنا دفاع اصل Pleadings کی بنیاد پر تیار کیا ہوتا ہے، لہٰذا اچانک تبدیلی اس کے قانونی حقوق متاثر نہ کرے۔

⚖️ Ratio Decidendi

Order VI Rule 17 C.P.C. کے تحت ترمیم کی اجازت ایک عدالتی صوابدیدی اختیار ہے، جو صرف اس وقت استعمال کیا جا سکتا ہے جب ترمیم اصل تنازعہ کے منصفانہ فیصلے کے لیے ضروری ہو۔ ایسی ترمیم جس سے مقدمہ کی نوعیت بدل جائے، نیا Cause of Action پیدا ہو، پہلے کیے گئے اقرار واپس لیے جائیں، بدنیتی ظاہر ہو، یا مخالف فریق کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے، اصولاً منظور نہیں کی جائے گی۔

⚖️ Important Legal Principles

✅ Amendment کا مقصد انصاف ہے، تاخیر پیدا کرنا نہیں۔
✅ Judicial Discretion ہمیشہ قانونی اصولوں کے مطابق استعمال ہوگی۔
✅ مقدمہ کی بنیادی نوعیت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔
✅ Admissions واپس لینے کی اجازت عام طور پر نہیں دی جاتی۔
✅ Evidence مکمل ہونے کے بعد ترمیم غیر معمولی حالات میں ہی ممکن ہوگی۔
✅ اگر الگ Suit کا مؤثر علاج موجود ہو تو Amendment مناسب نہیں۔

👨‍⚖️ Practical Importance for Lawyers

📌 Amendment کی درخواست جلد از جلد دائر کریں۔
📌 درخواست میں تاخیر کی معقول اور قابلِ اعتماد وجہ ضرور بیان کریں۔
📌 یہ واضح کریں کہ ترمیم صرف اصل تنازعہ واضح کرنے کے لیے ہے، نہ کہ نیا دعویٰ شامل کرنے کے لیے۔
📌 اگر ترمیم سے مخالف فریق کے حقوق متاثر ہوں تو عدالت سے اجازت ملنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
📌 Evidence مکمل ہونے کے بعد Amendment مانگنے سے پہلے یہ ثابت کرنا ضروری ہوگا کہ اس کے بغیر انصاف ممکن نہیں۔

📝 Key Takeaways
⭐ عدالت کے پاس Pleadings میں ترمیم کی اجازت دینے کا وسیع اختیار ہے۔
⭐ یہ اختیار عدالتی صوابدید ہے، مطلق اختیار نہیں۔
⭐ ترمیم سے مقدمہ کی نوعیت یا Cause of Action تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
⭐ تاخیر، بدنیتی اور مخالف فریق کو نقصان Amendment مسترد ہونے کی اہم وجوہات ہیں۔
⭐ یہ فیصلہ Order VI Rule 17 C.P.C. کے استعمال کے بنیادی اصولوں کو واضح کرتا ہے اور مستقبل میں Amendment Applications کے لیے اہم رہنما نظیر (Guiding Precedent) کی حیثیت رکھتا ہے۔
Posted by Legal Luminaries

C.P.L.A.5215 of 2024
Mehbub Ullah and another Versus Mst. Taj Bibi and other
01-07-2026

A plain reading of the provision of Order VI, Rule 17 of the Code of Civil Procedure, 1908 reveals that the Court is vested with wide discretionary powers to permit amendment of pleadings at any stage of the proceedings, provided that such amendment is necessary for determining the real questions in controversy between the parties and is conducive to the ends of justice. This discretion, however, is neither unfettered nor arbitrary; it is a judicial discretion which must be exercised cautiously, judiciously, and in furtherance of justice.

We are convinced that an amendment ought not to be permitted where it fundamentally alters the nature and character of the suit, seeks to withdraw or contradict admissions previously made, is actuated by mala fide, causes irreparable prejudice to the opposite party, or is intended to overcome evidentiary deficiencies, contradictions, or the effect of prior judicial determinations. While considering an application for amendment, the Court is under a duty to examine the bona fides of the applicant, the stage at which the amendment is sought, the explanation, if any, for the delay, and the likely impact of the proposed amendment upon the rights accrued to the opposite party.8. Where an amendment is sought after an inordinate and unexplained delay, such delay, though not by itself conclusive, assumes considerable significance in the exercise of judicial discretion. An amendment introduced after the completion of pleadings and the recording of evidence is ordinarily liable to cause serious prejudice to the opposite party by shifting the nature, scope, or focus of the controversy, particularly where the applicant has an efficacious and independent remedy of instituting a separate suit in respect of the newly asserted cause of action, as is the position in the present case.9. In this context, any belated amendment introducing a new factual foundation or an independent cause of action warrants heightened judicial scrutiny. The Court must be slow in permitting an amendment that materially changes the complexion of the litigation to the detriment of the opposite party, who has conducted its defence on the basis of the original pleadings.
C.P.L.A.5215 of 2024

07/07/2026

PLD 2026 Lahore 181
میں لاہور ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ اگر ماں یا باپ ضعیف، محتاج ہوں اور اپنی گزر بسر کے لیے آمدن نہ رکھتے ہوں، تو وہ فیملی کورٹ میں اپنے بیٹوں سے نان نفقہ (maintenance) کا دعویٰ دائر کر سکتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ والدین کی کفالت صرف اخلاقی نہیں بلکہ اسلامی اصولوں کے مطابق قانونی ذمہ داری بھی ہے۔ مزید یہ بھی قرار دیا گیا کہ ایسے مقدمات فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اس لیے اگر کوئی محتاج والدین اپنے بچوں سے خرچہ مانگیں تو عدالت ان کی داد رسی کر سکتی ہے۔

Address

Office No. 06 Justice Zeenat Khan Plaza District Courts Mansehra
Mansehra

Telephone

+923005621295

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adeel & Aamir Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Adeel & Aamir Law Associates:

Shortcuts

Share