07/07/2026
❓ کیا ہر مرحلے پر ترمیم کی اجازت دی جا سکتی ہے؟
❓ کیا ایسی ترمیم منظور کی جا سکتی ہے جو مقدمہ کی نوعیت تبدیل کر دے؟
❓ کیا تاخیر سے کی گئی ترمیم قابلِ قبول ہوگی؟
❓ عدالت کن اصولوں کو مدنظر رکھ کر Amendment کی درخواست منظور یا مسترد کرے گی؟
⚖️ C.P.L.A. No. 5215 of 2024
🏛 Supreme Court of Pakistan
👨⚖️ Mehbub Ullah & Another vs. Mst. Taj Bibi & Others
📅 Decision Date
01 July 2026
📚 Relevant Law
📖 Code of Civil Procedure, 1908 (C.P.C.)
Order VI Rule 17 (Amendment of Pleadings)
⚖️ Legal Concepts (قانونی تصورات)
✍️ Amendment of Pleadings (ترمیمِ دعویٰ)
دعویٰ، جوابِ دعویٰ یا دیگر Pleadings میں ایسی تبدیلی یا اضافہ جس سے اصل تنازعہ کو بہتر انداز میں عدالت کے سامنے لایا جا سکے۔
⚖️ Judicial Discretion (عدالتی صوابدید)
وہ قانونی اختیار جسے عدالت انصاف، قانون اور حالاتِ مقدمہ کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کرتی ہے۔ یہ اختیار من مانی نہیں بلکہ قانونی اصولوں کے تابع ہوتا ہے۔
📌 Bona Fide (حسنِ نیت)
ایسا عمل جو دیانت داری، ایمانداری اور کسی ناجائز فائدہ حاصل کرنے کی نیت کے بغیر کیا جائے۔
🚫 Mala Fide (بدنیتی)
ایسا عمل جو دھوکہ، بدنیتی، تاخیر پیدا کرنے یا مخالف فریق کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے کیا جائے۔
⚖️ Cause of Action (سببِ دعویٰ)
وہ بنیادی حقائق جن کی بنیاد پر کسی شخص کو عدالت سے قانونی ریلیف مانگنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔
📜 Admission (اقرار)
فریق کی طرف سے مقدمہ میں کیا گیا ایسا بیان جو کسی حقیقت کو تسلیم کرتا ہو۔
⏳ Inordinate Delay (غیر معمولی تاخیر)
بغیر معقول وجہ کے بہت زیادہ تاخیر سے کوئی درخواست یا دعویٰ دائر کرنا۔
⚖️ Prejudice (قانونی نقصان)
ایسا نقصان جو کسی عدالتی کارروائی کی وجہ سے مخالف فریق کے قانونی حقوق یا دفاع کو متاثر کرے۔
📖 Definition of Relevant Provision
📌 Order VI Rule 17, C.P.C.
یہ قاعدہ عدالت کو اختیار دیتا ہے کہ اگر انصاف کے تقاضوں اور اصل تنازعہ کے مؤثر فیصلے کے لیے ضروری ہو تو مقدمہ کے کسی بھی مرحلے پر Pleadings میں ترمیم کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
لیکن یہ اختیار لامحدود نہیں بلکہ عدالتی صوابدید کے مطابق احتیاط سے استعمال کیا جائے گا۔
Posted by Legal Luminaries
📖 Case Background (پس منظر)
درخواست گزاروں نے اپنے مقدمہ میں Order VI Rule 17 C.P.C. کے تحت Pleadings میں ترمیم کی اجازت طلب کی۔
سوال یہ تھا کہ آیا مقدمہ کے کافی آگے بڑھ جانے کے بعد ایسی ترمیم کی اجازت دی جا سکتی ہے جو مقدمہ کی نوعیت بدل دے یا نیا Cause of Action متعارف کرائے۔
یہ معاملہ بالآخر سپریم کورٹ کے سامنے آیا۔
❓ Questions Before the Supreme Court
✅ کیا ہر مرحلے پر ترمیم کی اجازت دی جا سکتی ہے؟
✅ کیا ایسی ترمیم منظور کی جا سکتی ہے جو مقدمہ کی نوعیت تبدیل کر دے؟
✅ کیا تاخیر سے کی گئی ترمیم قابلِ قبول ہوگی؟
✅ عدالت کن اصولوں کو مدنظر رکھ کر Amendment کی درخواست منظور یا مسترد کرے گی؟
⚖️ Findings of the Supreme Court
1️⃣ عدالت کے پاس وسیع اختیارات موجود ہیں
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ Order VI Rule 17 عدالت کو مقدمہ کے کسی بھی مرحلہ پر ترمیم کی اجازت دینے کا اختیار دیتا ہے۔
2️⃣ اختیار لامحدود نہیں
یہ اختیار Judicial Discretion ہے، لہٰذا اسے صرف انصاف کے تقاضوں کے مطابق استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ من مانی انداز میں۔
3️⃣ اصل تنازعہ کا فیصلہ ہونا چاہیے
ترمیم صرف اسی صورت میں منظور ہوگی جب وہ اصل تنازعہ (Real Questions in Controversy) کے صحیح فیصلے کے لیے ضروری ہو۔
4️⃣ کن حالات میں ترمیم مسترد ہوگی؟
عدالت نے واضح کیا کہ درج ذیل صورتوں میں ترمیم کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے:
❌ مقدمہ کی بنیادی نوعیت تبدیل ہو جائے۔
❌ پہلے کیے گئے اقرار (Admissions) واپس لیے جائیں یا ان کی مخالفت کی جائے۔
❌ درخواست بدنیتی (Mala Fide) پر مبنی ہو۔
❌ مخالف فریق کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے۔
❌ ثبوتوں کی کمزوری یا تضادات کو چھپانے کے لیے ترمیم مانگی جائے۔
❌ پہلے سے موجود عدالتی فیصلوں کے اثرات ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔
5️⃣ عدالت کن عوامل کا جائزہ لے گی؟
ترمیم کی درخواست پر فیصلہ کرتے وقت عدالت درج ذیل امور دیکھے گی:
✔ درخواست گزار کی حسنِ نیت
✔ درخواست کس مرحلے پر دی گئی
✔ تاخیر کی معقول وضاحت
✔ مخالف فریق کے حقوق پر اثرات
6️⃣ غیر معمولی تاخیر کی اہمیت
اگر درخواست بہت زیادہ تاخیر سے دی جائے اور اس کی کوئی معقول وجہ نہ ہو تو عدالت اس پہلو کو انتہائی اہم سمجھے گی۔
7️⃣ Evidence مکمل ہونے کے بعد ترمیم
اگر Pleadings مکمل ہو چکی ہوں اور شہادت بھی ریکارڈ ہو چکی ہو تو بعد میں ترمیم سے مخالف فریق کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
8️⃣ الگ مقدمہ دائر کرنے کا متبادل
اگر نئے دعویٰ کے لیے الگ Suit دائر کیا جا سکتا ہو تو ایسی صورت میں ترمیم کی اجازت دینے کی ضرورت نہیں۔
9️⃣ نیا Cause of Action
اگر ترمیم سے مکمل نیا Cause of Action سامنے آتا ہو تو عدالت کو انتہائی احتیاط سے فیصلہ کرنا چاہیے۔
🔟 مخالف فریق کے حقوق کا تحفظ
عدالت کو اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ مخالف فریق نے اپنا دفاع اصل Pleadings کی بنیاد پر تیار کیا ہوتا ہے، لہٰذا اچانک تبدیلی اس کے قانونی حقوق متاثر نہ کرے۔
⚖️ Ratio Decidendi
Order VI Rule 17 C.P.C. کے تحت ترمیم کی اجازت ایک عدالتی صوابدیدی اختیار ہے، جو صرف اس وقت استعمال کیا جا سکتا ہے جب ترمیم اصل تنازعہ کے منصفانہ فیصلے کے لیے ضروری ہو۔ ایسی ترمیم جس سے مقدمہ کی نوعیت بدل جائے، نیا Cause of Action پیدا ہو، پہلے کیے گئے اقرار واپس لیے جائیں، بدنیتی ظاہر ہو، یا مخالف فریق کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے، اصولاً منظور نہیں کی جائے گی۔
⚖️ Important Legal Principles
✅ Amendment کا مقصد انصاف ہے، تاخیر پیدا کرنا نہیں۔
✅ Judicial Discretion ہمیشہ قانونی اصولوں کے مطابق استعمال ہوگی۔
✅ مقدمہ کی بنیادی نوعیت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔
✅ Admissions واپس لینے کی اجازت عام طور پر نہیں دی جاتی۔
✅ Evidence مکمل ہونے کے بعد ترمیم غیر معمولی حالات میں ہی ممکن ہوگی۔
✅ اگر الگ Suit کا مؤثر علاج موجود ہو تو Amendment مناسب نہیں۔
👨⚖️ Practical Importance for Lawyers
📌 Amendment کی درخواست جلد از جلد دائر کریں۔
📌 درخواست میں تاخیر کی معقول اور قابلِ اعتماد وجہ ضرور بیان کریں۔
📌 یہ واضح کریں کہ ترمیم صرف اصل تنازعہ واضح کرنے کے لیے ہے، نہ کہ نیا دعویٰ شامل کرنے کے لیے۔
📌 اگر ترمیم سے مخالف فریق کے حقوق متاثر ہوں تو عدالت سے اجازت ملنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
📌 Evidence مکمل ہونے کے بعد Amendment مانگنے سے پہلے یہ ثابت کرنا ضروری ہوگا کہ اس کے بغیر انصاف ممکن نہیں۔
📝 Key Takeaways
⭐ عدالت کے پاس Pleadings میں ترمیم کی اجازت دینے کا وسیع اختیار ہے۔
⭐ یہ اختیار عدالتی صوابدید ہے، مطلق اختیار نہیں۔
⭐ ترمیم سے مقدمہ کی نوعیت یا Cause of Action تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
⭐ تاخیر، بدنیتی اور مخالف فریق کو نقصان Amendment مسترد ہونے کی اہم وجوہات ہیں۔
⭐ یہ فیصلہ Order VI Rule 17 C.P.C. کے استعمال کے بنیادی اصولوں کو واضح کرتا ہے اور مستقبل میں Amendment Applications کے لیے اہم رہنما نظیر (Guiding Precedent) کی حیثیت رکھتا ہے۔
Posted by Legal Luminaries
C.P.L.A.5215 of 2024
Mehbub Ullah and another Versus Mst. Taj Bibi and other
01-07-2026
A plain reading of the provision of Order VI, Rule 17 of the Code of Civil Procedure, 1908 reveals that the Court is vested with wide discretionary powers to permit amendment of pleadings at any stage of the proceedings, provided that such amendment is necessary for determining the real questions in controversy between the parties and is conducive to the ends of justice. This discretion, however, is neither unfettered nor arbitrary; it is a judicial discretion which must be exercised cautiously, judiciously, and in furtherance of justice.
We are convinced that an amendment ought not to be permitted where it fundamentally alters the nature and character of the suit, seeks to withdraw or contradict admissions previously made, is actuated by mala fide, causes irreparable prejudice to the opposite party, or is intended to overcome evidentiary deficiencies, contradictions, or the effect of prior judicial determinations. While considering an application for amendment, the Court is under a duty to examine the bona fides of the applicant, the stage at which the amendment is sought, the explanation, if any, for the delay, and the likely impact of the proposed amendment upon the rights accrued to the opposite party.8. Where an amendment is sought after an inordinate and unexplained delay, such delay, though not by itself conclusive, assumes considerable significance in the exercise of judicial discretion. An amendment introduced after the completion of pleadings and the recording of evidence is ordinarily liable to cause serious prejudice to the opposite party by shifting the nature, scope, or focus of the controversy, particularly where the applicant has an efficacious and independent remedy of instituting a separate suit in respect of the newly asserted cause of action, as is the position in the present case.9. In this context, any belated amendment introducing a new factual foundation or an independent cause of action warrants heightened judicial scrutiny. The Court must be slow in permitting an amendment that materially changes the complexion of the litigation to the detriment of the opposite party, who has conducted its defence on the basis of the original pleadings.
C.P.L.A.5215 of 2024