14/04/2024
کیا عدالت ملزمان کو مکمل شہادت ریکارڈ کرنے سے پہلے ہی بری کر سکتی ہے؟
آئیے عدالت عالیہ پشاور کے حالیہ فیصلے کی رو سے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
کیس کے حقائق یوں ہیں کہ بتاریخ 14-01-21 کو ایک FIR بنسبت دفعہ 452, 506, 337-L(2), 34, تھانہ گاگرہ، ضلع بونیر میں درج ہوتی ہے جس میں مستغیث بیانی ہوتا ہے کہ ملزمان نے اس کے بیٹے کو ڈرانے کے لئے فائر کئے اور اسے بھی ڈنڈوں سے زخمی کیا۔
مقدمے کی تفتیش کے بعد مجسٹریٹ کی عدالت میں چالان جمع ہوکر 8 شہادتیں ریکارڈ ہوکر عدالت 249-A کی درخواست پر ملزمان کو بتاریخ 15-07-2021 کو بری کر دیتی ہے۔
مجسٹریٹ کے اس حکم کو عدالت عالیہ میں چیلنج کیا جاتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ گواہان کو بلانا اور شہادتیں ریکارڈ کروانا عدالت اور سرکاری وکیل کا کام ہے۔ اس کیس میں تفتیشی اور ڈاکٹر کی شہادت کے بغیر ملزمان کو دفعہ 249-اے کے تحت بری کرکے مجسٹریٹ عدالت نے غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔
عدالت عالیہ نے اصول وضع کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی شق 10-A کے ذریعے تمام شہریوں کو منصفانہ سماعت کا حق دیا گیا ہے اور اسی بنا پر ضابطہ فوجداری میں دفعہ 249-اے، 265-کے، اور 561-اے کی شمولیت ملزمان کو بے جا تنگ و پریشان کرنے سے رعایت بخشتی ہے کہ اگر عدالت کو کیس کا جملہ ریکارڈ دیکھ کر یہ لگے کہ
1- فرد جرم بے جا ہے یا
2- اس کیس میں شہادتوں کے بعد بھی ملزم کو سزا نہ ہو سکتی ہے
صرف تبھی وہ تمام شہادتیں اور گواہان کو بلائے بغیر بھی ملزمان کو بری کر سکتی ہے۔
عدالت عالیہ نے عدالت عظمی و عدالت ہائے عالیہ سندھ، و پشاور کے نظائر کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ واضح کیا کہ 249-اے کے اختیارات تبھی استعمال کئے جا سکتے ہیں جب مندرجہ بالا دونوں صورتیں موجود ہوں۔ ماتحت فاضل عدالتوں میں ایسے شارٹ کٹ رستوں کی حوصلہ شکنی کی گئی۔
گو کہ عدالت چالان جمع ہونے کے بعد کسی بھی مرحلے پر ریکارڈ کا معائینہ کرتے ہوئے ملزمان کو بری کر سکتی ہے لیکن دیکھنا ہوگا کہ کہیں جلد بازی میں مستغیث کے حقوق غضب نہ ہوں یا انصاف کے اصولوں پہ انچ نہ آئے۔
اس کیس میں عدالت نے مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھیجا کہ وہ دو ماہ میں بقیہ شہادتیں ریکارڈ کر کے میرٹ پر فیصلہ سنائے۔
یہ فیصلہ قانونی رسالہ 2024 PCRLJ کے صفحہ نمبر 76 پر پڑھا جا سکتا ہے۔
انصاراللہ گجر ایڈووکیٹ
0322-3439071(برائے قانونی مشاورت)