Justice Providers Pakistan - JPP

Justice Providers Pakistan - JPP "We are dealing with miscellaneous legal work including Service, civil, Family & Criminal laws.

روپ  تو  اس  کو  ایسا  دیتے  دنیا  دیکھتی  لیکن  ہمبت سازی ہی چھوڑ چکے تھے جب وہ پتھر نرم ہوا
15/11/2025

روپ تو اس کو ایسا دیتے دنیا دیکھتی لیکن ہم
بت سازی ہی چھوڑ چکے تھے جب وہ پتھر نرم ہوا

“The great end of art is to strike the imagination with the power of a soul that refuses to admit defeat even in the mid...
01/10/2025

“The great end of art is to strike the imagination with the power of a soul that refuses to admit defeat even in the midst of a collapsing world.”

― Friedrich Nietzsche

دس سال قبل
31/07/2025

دس سال قبل

30/05/2025

📌 دوسری شادی بغیر اجازت اور تنسیخِ نکاح کا قانونی دائرہ: سپریم کورٹ کا رہنما فیصلہ

(ڈاکٹر فریال مقصود بنام خرم شہزاد درانی – 2025 PLD 262 Supreme Court)

ازدواجی تعلقات میں شریعت اور قانون دونوں کا تقاضا ہے کہ فریقین باہمی اعتماد اور عدالتی ضوابط کی پاسداری کے ساتھ زندگی گزاریں۔ پاکستان میں مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 اور Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939 ایسے ہی ضوابط کا خاکہ فراہم کرتے ہیں۔ حالیہ فیصلہ ڈاکٹر فریال مقصود بنام خرم شہزاد درانی ایک نہایت اہم نظیر ہے جس میں دوسری شادی بغیر اجازت اور خلع کے غلط اطلاق جیسے نکات پر عدالت عظمیٰ نے تفصیلی قانونی تجزیہ فراہم کیا۔

---

🔍 مقدمے کا پس منظر:

شوہر (خرم شہزاد درانی) نے پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کی بغیر مصالحتی کونسل کی اجازت لیے۔ بیوی (ڈاکٹر فریال مقصود) نے فیملی عدالت میں تنسیخِ نکاح کا دعویٰ دائر کیا۔ ٹرائل کورٹ نے کچھ دعوے تسلیم کیے، لیکن ازدواجی حقوق کی بحالی کا حکم بھی جاری کیا۔ بعد ازاں اپیلٹ کورٹ نے نکاح تحلیل کر دیا مگر خلع کی بنیاد پر، جبکہ ہائی کورٹ نے اس فیصلے کی توثیق کی مگر ظلم کی بنیاد پر۔

---

⚖️ سپریم کورٹ کا قانونی تجزیہ:

1. دوسری شادی بغیر اجازت = قانون شکنی:

عدالت نے واضح کیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 6 کے تحت شوہر کو دوسری شادی کرنے کے لیے مصالحتی کونسل کی پیشگی اجازت حاصل کرنا لازمی ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ ایک قانونی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔

2. خلع صرف بیوی کے مطالبے پر ہو سکتی ہے:

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ خلع ایک مخصوص قانونی راستہ ہے جو صرف تب اختیار کیا جا سکتا ہے جب بیوی خود یہ درخواست دے یا اس پر رضامندی ظاہر کرے۔ اس مقدمے میں نہ تو بیوی نے خلع کی درخواست کی اور نہ ہی اس کی رضامندی ظاہر ہوئی، اس لیے اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ قانون سے متصادم تھا۔

3. ظلم کے الزام کی تائید ضروری ہے:

ہائی کورٹ نے بیوی پر ہونے والے مبینہ ظلم کو بنیاد بنا کر تنسیخِ نکاح کا فیصلہ دیا، لیکن کوئی شواہد یا دلائل پیش نہیں کیے۔ سپریم کورٹ نے اسے بھی قانونی خامی قرار دے کر فیصلے کو کالعدم کر دیا۔

4. اصل قانونی بنیاد – دفعہ 2(iia) Dissolution Act, 1939:

عدالت نے قرار دیا کہ شوہر کی دوسری شادی بغیر اجازت ازروئے دفعہ 2(iia) (جو کہ شوہر کے ظالمانہ رویے کے زمرے میں آتی ہے) نکاح ختم کرنے کے لیے قابلِ قبول قانونی بنیاد ہے، اور اسی بنیاد پر نکاح ختم کیا جانا چاہیے تھا۔

---

✅ عدالت عظمیٰ کے احکامات:

ازدواجی حقوق کی بحالی سے متعلق ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا گیا۔

خلع اور ظلم کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کے اپیلٹ و ہائی کورٹ کے فیصلے غلط قرار دیے گئے۔

نکاح کے خاتمے کا جواز صرف دفعہ 2(iia) کے تحت تسلیم کیا گیا۔

حق مہر، جہیز، نان نفقہ اور ملاقات کا شیڈول برقرار رکھا گیا۔

---

📚 قانونی اور عملی اہمیت:

یہ فیصلہ اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ:

عدالتیں خلع کا حکم صرف اسی وقت دے سکتی ہیں جب بیوی اس کا اظہار کرے۔

شوہر کی دوسری شادی بغیر اجازت ایک سنجیدہ قانونی خلاف ورزی ہے، جس پر نکاح تحلیل ہو سکتا ہے۔

عدالتوں کو فیصلے کی بنیاد واضح قانونی شقوں پر رکھنی چاہیے، نہ کہ عمومی اندازے یا غیر واضح الزامات پر۔

---

🖊️ نتیجہ:

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ خاندانی مقدمات میں شفافیت، قانونی تقاضوں کی پاسداری اور عدالتی فیصلوں میں معروضیت کو فروغ دیتا ہے۔ وکلا، جج حضرات، اور فیملی لاء سے وابستہ دیگر افراد کے لیے یہ فیصلہ ایک رہنما نظیر ہے، جو نہ صرف قانونی عمل کی اصلاح کی طرف اشارہ کرتا ہے بلکہ ازدواجی رشتے میں قانونی نظم و ضبط کو بھی مستحکم کرتا ہے۔

دعاگو: انصاراللہ ناصر گجر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
03223439071

Represented the accused before the Honorable Peshawar High Court,Abbottabad bench in bail. After hearing the arguments o...
21/05/2025

Represented the accused before the Honorable Peshawar High Court,Abbottabad bench in bail.
After hearing the arguments of the Honorable HighCourt accepted the bail petition and ordered the release of the accused.

Alhamdulillah!
19/05/2025

عید مبارک
30/03/2025

عید مبارک

تو     منظرِ  مہیب    سے    آگے    نہیں      گیا میری نظر  میں تیری  نظر  کوئی  شے     نہیں شاہد   ثمر  جڑوں   سے   زیاد...
26/02/2025

تو منظرِ مہیب سے آگے نہیں گیا
میری نظر میں تیری نظر کوئی شے نہیں

شاہد ثمر جڑوں سے زیادہ حسیں سہی
لیکن ہوا چلے تو ثمر کوئی شے نہیں

شاہد ذکی

لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ) کے معزز جسٹس عاصم حفیظ صاحب نے وزیراعلی کے ٹرانسفر پوسٹنگ سے متعلق نوٹیفکیشن/اعلامیہ کو کال...
31/10/2024

لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ) کے معزز جسٹس عاصم حفیظ صاحب نے وزیراعلی کے ٹرانسفر پوسٹنگ سے متعلق نوٹیفکیشن/اعلامیہ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے معطل کر دیا۔

سائلین کے وکلاء سینیئر قانون دان سید انیس مہدی اور سید قنبر نقوی نے عدالت میں مفصل دلائل دیے اور عدالت عالیہ عظمی کے مختلف عدالتی نظائر پیش کرتے ہوئے معزز عدالت سے استدعا کی کہ نوٹیفکیشن متدعویہ کو کالعدم قرار دیا جائے۔ جسٹس عاصم حفیظ نے وکلاء سائلین کے دلائل سے کامل اتفاق کرتے ہوئے وزیراعلی پنجاب کی جانب سے نوٹیفکیشن، مصدرہ یکم مارچ 2024 کالعدم قرار دے دیا۔

کیس کے مختصر حقائق یوں ہیں کہ وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز کی جانب سے مورخہ یکم مارچ 2024 کو ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے مطابق درجہ چہارم سے لے کر چیف سیکرٹری تک کے سرکاری ملازمین کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ علاوہ ازیں نوٹیفکیشن میں قرار دیا گیا تھا کہ انتہائی ضرورت اور ایمرجنسی کی صورت میں پوسٹنگ ٹرانسفر صرف وزیراعلی کی تصدیق کے بعد کی جاویں گی۔

متذکرہ بالا نوٹیفکیشن کو ایک رٹ پٹیشن کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ میں چیلنج کیا گیا۔ عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ کیا وزیراعلی پنجاب کو متذکرہ بالا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی بروئے قانون اجازت ہے؟ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ civil servant act 1974 کی دفعہ 9 اور پنجاب رول اف بزنس کا رول 23 اجازت دیتا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے کے شروع میں قرار دیا گو کہ ٹرانسفر پوسٹنگ کے معاملات ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن کے ذریعے حل نہیں کیے جا سکتے لیکن جہاں بدنیتی کا عنصر شامل ہو یا بنیادی انسانی حقوق سلب ہو رہے ہوں تو عدالت ایسے معاملات کو رٹ پٹیشن میں adjudicate کر سکتی ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ سول سرونٹ ایکٹ 1974 کی دفعہ نو اور پنجاب رولز اف بزنس 2011 کا رول 23 زیر تجویز نوٹیفکیشن کی بنیاد نہیں ہو سکتا۔

عدالت نے انتہائی اہم قانونی نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے قرار دیا کہ انتظامیہ کے کسی بھی عمل کی قانونی توجیہ ہونا ضروری ہے۔ انتظامیہ کا کوئی بھی عمل قانون کے دائرے سے باہر ہو تو عدلیہ اسے غیر قانونی قرار دے کر خارج کر سکتی ہے۔ عدلیہ کا کام قانون کی تشریح کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کے اختیارات کا جائزہ بھی ہوتا ہے۔ انتظامیہ مقننہ کے اختیارات کا استعمال نہیں کر سکتی کوئی بھی ایسا عمل غیر قانونی ہوگا۔
معزز عدالت نے عدالت عظمی اور عدالت عالیہ کے فیصلہ جات کا حوالہ بھی دیا جن میں قرار دیا گیا تھا کہ اگر مقننہ یا انتظامیہ اپنے اختیارات سے تجاوز کریں تو عدلیہ ائین کے ارٹیکل 199 کے تحت ایسے تمام اعمال کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے روک سکتی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے کہ اخر میں نوٹیفکیشن/ اعلامیہ متدعویہ کو خارج از اختیارات اور غیر قانونی قرار دے دیا۔

دعاگو: انصاراللہ گجر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ (مانسہرہ، ایبٹ آباد)
0322-3439071

آیا عدالت ویڈیو کانفرنسنگ کی مدد سے گواہ کی شہادت قلمبند کر سکتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں سپریم کورٹ نے حال میں ایک شاندا...
19/06/2024

آیا عدالت ویڈیو کانفرنسنگ کی مدد سے گواہ کی شہادت قلمبند کر سکتی ہے؟

اس سوال کے جواب میں سپریم کورٹ نے حال میں ایک شاندار فیصلہ جاری کیا جس کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں۔

ہتک عزت کے دعوی میں مدعاعلیہا بیرون ملک رہائش پذیر تھی اور کچھ وجوہات کی بنا پر اس کی شہادت مکمل نہ ہو سکی۔ مذکورہ نے عدالت میں درخواست دائر کی کہ وہ چونکہ کینیڈا میں اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر ہے اور وہ بار بار پاکستان میں کچھ مخصوص وجوہات کی بنا پر اپنی شہادت کے لئے نہیں آسکتی لہذا اس کی بقیہ شہادت بذریعہ جدید آلات اور ویڈیو کانفرنسنگ قلم بند کی جائے۔

ماتحت عدالتوں نے مدعاعلیہا کی اس درخواست کو خارج کر دیا اور حکم دیا کہ وہ جسمانی طور پر عدالت حاضر ہوکر اپنی شہادت قلم بند کرے۔ انہی احکام کو باآخر سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔

عدالت عالیہ نے سب سے پہلے متعلقہ قانون ملاحظہ کیا۔ ضابطہ دیوانی کا حکم 18، قاعدہ 4 قرار دیتا ہے کہ "حاضر/موجود گواہ" کی شہادت عدالت میں جج کے موجودگی، نگرانی اور احکام کے تحت ہوگی۔

اسی طرح دفعہ 151 ضابطہ دیوانی قرار دیتا ہے کہ کوئی بھی اصول عدالت کو اس امر سے نہیں روک سکتا۔ عدالت انصاف کی فراہمی کے لئے کوئی بھی حکم جاری کر سکتی ہے۔

اسی طرح قانون شہادت کی شق 164 یہ راہنمائی کرتی ہے کہ جدید آلات کی وجہ سے کوئی ثبوت یا شہادت ہو تو عدالت اسے مناسب سمجھتے ہوئے شامل کر سکتی ہے۔

مقننہ نے ضابطہ دیوانی کے حکم 18 کے ضمن میں قاعدہ 4 میں لفظ "موجود گواہ" کا استعمال کیا ہے ۔عدالت عالیہ کے سامنے سوال یہ رہا کہ آیا "موجود گواہ" سے مراد عدالت میں جسمانی طور پر حاضر/موجود گواہ ہے؟ یا کیا گواہ کی بذریعہ جدید آلات/ ویڈیو کانفرنسنگ شہادت قلم بند کرنا بھی عدالت میں موجودگی میں ہی آئے گا؟

عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ اس سوال کے جواب کے لئے پہلے جمہوری نظام میں عدالتی کردار کو سمجھنا ہوگا۔ جج کا کردار سماج میں قانون کے مقصد کو سمجھنا اور قانون کو اپنے اس مقصد میں کامیاب ہونے کے لئے مدد فراہم کرنا ہے۔ قانون ایک جاندار کی طرح ہوتا ہے جو وقت کی حقیقتوں کے ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ جب ایک سماجی حقیقت بدلتی ہے تو قانون کو بھی اسی لحاظ سے تبدیل ہونا چاہیئے۔ قانون کی منشا کو بدلتے ہوئے حالات کے تقاضوں کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیئے۔

عدالت کو قانون کی تشریح میں مقننہ کی منشاء کو مدنظر رکھنا چاہیئے کیونکہ ٹیکنالوجی دن بدن جدید تر ہوتی رہتی ہے جبکہ قانون کی تبدیلی میں وقت لگتا ہے۔ جج کو سماج اور قانون میں معاون کا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔

اسی موضوع پر عدالت نے گزشتہ نظائر کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ "قانونِ شرحِ قوانین" میں اگر قوانین کی تشریح تاریخی شرح پر کی جائے تو جدید سماج کی بدلتی حقیقتوں میں قانون کی منشاء فوت ہو جائے گی لہذا ایسے امور میں عدالت جدید یا Updating construction of laws جیسے اصولِ شرح کو ترجیح دے تاکہ قانون ترقی پذیر سماج کے مسائل میں رکاوٹ بننے کے بجائے ان مسائل کو حل کر سکے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جدید اصول شرح صرف انہی امور میں قابلِ استعمال ہوگا جہاں گو کہ قانون کے الفاظ ساقط ہوں لیکن مقننہ کی منشاء واضح ہو کہ کس مقصد کے لئے قانون سازی کی جا رہی ہے۔ یعنی جدید اصول شرحِ قانون کو اپناتے ہوئے جس قانون کی تشریح مقصود ہو، اس کا مقصد اور پالیسی واضح رہنا ضروری ہے۔ لہذا ٹیکنالوجی کے سبب نئی پیش آمدہ صورتحال میں کیس کے حقائق اور مقننہ کی منشاء کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

ضابطہ دیوانی کے حکم 18، قاعدہ 4 میں گواہ کی شہادت 1-کھلی کچہری میں ہو اور 2- جج کی نگرانی میں ہونا ضروری ہے۔ "جج کی نگرانی" سے قانون کا مقصد یہ تھا کہ جج دیکھے کہ گواہ اپنی آزاد مرضی اور اپنے ضمیر سے شہادت دے اور گواہ پر کسی دوسرے شخص کی من مانی یا زبردستی کا عنصر شامل نہ ہو۔ لہذا جدید آلات/ ویڈیو کانفرنسنگ کی مدد سے بھی قانون کی مندرجہ بالا منشاء پوری ہو سکتی ہے کہ جج گواہ کی نسبت ہر طرح سے اطمینان کر سکتا ہے کہ گواہ کے آس پاس کوئی دوسرا شخص موجود تو نہیں یا اس کی گواہی اپنی آزاد مرضی سے ہے کہ نہیں۔ بدوں وجہ ضابطہ دیوانی کے حکم 18، قاعدہ 4 کے تحت گواہ کی موجودگی بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ ہو سکتی ہے۔

اسی طرح ضابطہ دیوانی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شہادت پر بالکل خاموش ہے۔ لیکن دفعہ 151 قرار دیتی ہے کہ انصاف کے حصول کے لئے عدالت ہر قدم اٹھا سکتی ہے۔ جسمانی طور پر گواہ کو موجود نہ ہو سکنا اور اسی بنا پر مقدمہ میں تاخیر وہ امور ہیں جو کہ انصاف کی راہ میں حائل ہوسکتے ہیں۔ لہذا عدالت قانون کی ایسی شرح کرے جس سے انصاف کا حصول ہو نہ کہ مقدمہ میں تاخیر۔

اسی طرح قانونِ شہادت کی شق 164 عدالت کے لئے صدر دروازہ ہے جو کہ ان تمام شہادتوں کو قابلِ قبول قرار دیتا ہے جو کہ جدید آلات کی مدد سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر انصاف کے ذریعے سے سماج کو آگے بڑھانا مقصود ہے تو قانون کو اس میں رکاوٹ بننے نہیں دیا جانا چاہیئے۔ قوانین کی ایسی شرح کی جانی چاہیئے جو کہ منصفانہ سماعت، سستا اور فوری انصاف دینے میں معاون و مددگار ہو۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ضابطہ دیوانی کی دفعہ 151 اور قانونِ شہادت کی شق 164 عدالت کے صوابدیدی اختیارات ہیں۔ ان اختیارات کا استعمال وجوہات کی بنا پر انصاف پسندی کے لئے ہونا چاہیئے اور ماتحت عدالتوں کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ
1- آیا اس گواہ کی شہادت مقدمہ کے درست فیصلہ کے لئے ضروری ہے؟
2- آیا ایسے گواہ کا عدالت میں جسمانی طور پر بلائے جانے سے مقدمے میں بلاضرورت تاخیر، بلاضرورت اخراجات اور تکلیف تو نہیں؟
ایسی صورت میں عدالت اپنے صوابدیدی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے انصاف کے حصول کو یقینی بنائے۔

عدالت نے کیس کے حقائق کو دیکھتے ہوئے مدعاعلیہا کے حق میں فیصلہ جاری کیا اور ٹرائل کورٹ کو حکم دیا کہ وہ اس کیس میں مدعا علیہا کی شہادت بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ ریکارڈ کرے۔

یہ فیصلہ PLD 2023 SC 211 میں چھپ چکا ہے۔

دعاگو: انصاراللہ گجر ایڈووکیٹ (کے پی کے)
03223439071
03451027720

کیا عدالت ملزمان کو مکمل شہادت ریکارڈ کرنے سے پہلے ہی بری کر سکتی ہے؟آئیے عدالت عالیہ پشاور کے حالیہ فیصلے کی رو سے اس ک...
14/04/2024

کیا عدالت ملزمان کو مکمل شہادت ریکارڈ کرنے سے پہلے ہی بری کر سکتی ہے؟

آئیے عدالت عالیہ پشاور کے حالیہ فیصلے کی رو سے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

کیس کے حقائق یوں ہیں کہ بتاریخ 14-01-21 کو ایک FIR بنسبت دفعہ 452, 506, 337-L(2), 34, تھانہ گاگرہ، ضلع بونیر میں درج ہوتی ہے جس میں مستغیث بیانی ہوتا ہے کہ ملزمان نے اس کے بیٹے کو ڈرانے کے لئے فائر کئے اور اسے بھی ڈنڈوں سے زخمی کیا۔
مقدمے کی تفتیش کے بعد مجسٹریٹ کی عدالت میں چالان جمع ہوکر 8 شہادتیں ریکارڈ ہوکر عدالت 249-A کی درخواست پر ملزمان کو بتاریخ 15-07-2021 کو بری کر دیتی ہے۔

مجسٹریٹ کے اس حکم کو عدالت عالیہ میں چیلنج کیا جاتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ گواہان کو بلانا اور شہادتیں ریکارڈ کروانا عدالت اور سرکاری وکیل کا کام ہے۔ اس کیس میں تفتیشی اور ڈاکٹر کی شہادت کے بغیر ملزمان کو دفعہ 249-اے کے تحت بری کرکے مجسٹریٹ عدالت نے غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔

عدالت عالیہ نے اصول وضع کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی شق 10-A کے ذریعے تمام شہریوں کو منصفانہ سماعت کا حق دیا گیا ہے اور اسی بنا پر ضابطہ فوجداری میں دفعہ 249-اے، 265-کے، اور 561-اے کی شمولیت ملزمان کو بے جا تنگ و پریشان کرنے سے رعایت بخشتی ہے کہ اگر عدالت کو کیس کا جملہ ریکارڈ دیکھ کر یہ لگے کہ
1- فرد جرم بے جا ہے یا
2- اس کیس میں شہادتوں کے بعد بھی ملزم کو سزا نہ ہو سکتی ہے
صرف تبھی وہ تمام شہادتیں اور گواہان کو بلائے بغیر بھی ملزمان کو بری کر سکتی ہے۔

عدالت عالیہ نے عدالت عظمی و عدالت ہائے عالیہ سندھ، و پشاور کے نظائر کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ واضح کیا کہ 249-اے کے اختیارات تبھی استعمال کئے جا سکتے ہیں جب مندرجہ بالا دونوں صورتیں موجود ہوں۔ ماتحت فاضل عدالتوں میں ایسے شارٹ کٹ رستوں کی حوصلہ شکنی کی گئی۔

گو کہ عدالت چالان جمع ہونے کے بعد کسی بھی مرحلے پر ریکارڈ کا معائینہ کرتے ہوئے ملزمان کو بری کر سکتی ہے لیکن دیکھنا ہوگا کہ کہیں جلد بازی میں مستغیث کے حقوق غضب نہ ہوں یا انصاف کے اصولوں پہ انچ نہ آئے۔
اس کیس میں عدالت نے مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھیجا کہ وہ دو ماہ میں بقیہ شہادتیں ریکارڈ کر کے میرٹ پر فیصلہ سنائے۔

یہ فیصلہ قانونی رسالہ 2024 PCRLJ کے صفحہ نمبر 76 پر پڑھا جا سکتا ہے۔

انصاراللہ گجر ایڈووکیٹ
0322-3439071(برائے قانونی مشاورت)

تمام چاہنے والوں کو عید مبارک۔
09/04/2024

تمام چاہنے والوں کو عید مبارک۔

11/03/2024

السلام علیکم احباب!

قانون کی حکمرانی اور انصاف کی سربلندی کا ایک اہم اور زریں اصول یہ ہے کہ ملک کا قانون عام آدمی سمجھ سکتا ہو۔ اس کالونیل نظام قانون و انصاف کی بنیادی شرارت یہ ہوئی کہ عام آدمی کو قانون کی سمجھ بوجھ نہ رہنے دی گئی اور قانون اور اس کی تشریحات ایک ایسی زبان میں کی جاتی ہیں جسے عام آدمی نہیں سمجھ سکتا اور نہ ہی اس کا شعور حاصل کر سکتا ہے۔ وقت کی ضرورت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں مروجہ اس قانون کو آسان اور عام فہم انداز میں آپ احباب کے سامنے رکھا جائے۔ اس ضمن میں میری کاوش رہے گی کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ایسے فیصلہ جات جو عوامی مفاد کے لئے ہوں اور کم سے کم قانونی تکنیکات پر مشتمل ہوں، آپ حضرات کے سامنے رکھوں۔

آپ حضرات ہمارے پیج پر آئندہ بھی ایسی کاوش دیکھ سکیں گے۔

Address

Office 21, Zeenat Khan Plaza, Dist Courts Mansehra
Mansehra

Telephone

+923223439071

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Justice Providers Pakistan - JPP posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Justice Providers Pakistan - JPP:

Share

Category