Adnan Law Associates

Adnan Law Associates Income Tax, Sales Tax, PRA Reg., Firm Reg., Company Reg., Trade Mark/Logo Reg., PEC, PSW.

ایف بی آر کا خودکار نظام متعارف – کاروباری طبقے کے لیے بڑی سہولت.اسلام آباد: FBR نے غیر رجسٹرڈ خریداروں کے خلاف سیلز ریٹ...
20/02/2026

ایف بی آر کا خودکار نظام متعارف – کاروباری طبقے کے لیے بڑی سہولت.

اسلام آباد: FBR نے غیر رجسٹرڈ خریداروں کے خلاف سیلز ریٹرن کی ایڈجسٹمنٹ کے طریقہ کار کو باقاعدہ طور پر خودکار نظام میں شامل کر دیا ہے۔

اس حوالے سے 17 فروری 2025 کو جاری کیے گئے ایک سرکاری خط کے ذریعے تمام چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو (LTOs، MTO، CTOs، RTOs) کو نئی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

ایف بی آر کے مطابق غیر رجسٹرڈ خریداروں کو کی گئی سپلائی کی واپسی کی صورت میں کریڈٹ نوٹ کے ذریعے سیلز ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی اجازت Section 9 of the Sales Tax Act, 1990 اور Rule 20 of the Sales Tax Rules, 2006 کے تحت پہلے سے موجود تھی، تاہم خودکار نظام میں بعض پابندیوں کے باعث یہ سہولت محدود کر دی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق ماضی میں جعلی کریڈٹ نوٹس کے ذریعے ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کے غلط استعمال کی شکایات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد اس سہولت کو محدود کر دیا گیا تھا۔ ٹیکس دہندگان کو ہر کیس میں کمشنر ان لینڈ ریونیو سے منظوری لینا پڑتی تھی، جس کے بعد معاملہ بورڈ کو بھیجا جاتا تھا۔ اس عمل سے کاروباری طبقہ شدید تاخیر اور کیش فلو مسائل کا شکار ہو رہا تھا۔

نیا طریقہ کار
ایف بی آر نے اب IRIS سسٹم میں باقاعدہ انٹرفیس فراہم کر دیا ہے جس کے تحت:
کمشنر ان لینڈ ریونیو براہ راست درخواست کی جانچ اور منظوری دے سکیں گے
کیس کو بورڈ کو ریفر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی
خودکار نظام کے تحت فوری پراسیسنگ ممکن ہوگی
کاروباری طبقے کے لیے اثرات.

ٹیکس ماہرین کے مطابق اس اقدام سے:
سیلز ریٹرن کی ایڈجسٹمنٹ کا عمل تیز ہوگا
ورکنگ کیپیٹل میں بہتری آئے گی
غیر ضروری بیوروکریسی میں کمی ہوگی
قانونی شفافیت برقرار رہے گی.

"یہ پیش رفت کاروباری سہولت اور ریونیو تحفظ کے درمیان متوازن حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے۔ تاہم ٹیکس دہندگان کو چاہیے کہ کریڈٹ نوٹس مکمل دستاویزی ثبوت کے ساتھ جاری کریں اور IRIS میں درست اندراج کو یقینی بنائیں۔"
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سہولت سے خاص طور پر وہ کمپنیاں مستفید ہوں گی جو ریٹیل یا اوپن مارکیٹ میں غیر رجسٹرڈ خریداروں کو سپلائی کرتی ہیں۔

20/02/2026

ایف بی آر نے ملک بھر میں کاروباری سرگرمیوں کی آن لائن مانیٹرنگ کا فیصلہ کر لیا

14 سے زائد کاروباری سرگرمیوں کی آن لائن مانیٹرنگ کے لیے پوائنٹ آف سیلز یقینی بنانے کا حکم جاری

ہوٹلز ، ریستوران ، گیسٹ ہاوس ، میرج ہالز ، مارکیز ، ریس کلبز میں پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم نوٹیفکیشن

جہاں ایئر کنڈیشنر کی سہولت نہیں ، انہیں پی او ایس سے چھوٹ ہوگی نوٹیفکیشن

شہر میں چلنے والی گاڑیوں کے لیے بھی پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم نوٹیفکیشن

کوریئر اور کارگو سروسز کو بھی پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم نوٹیفکیشن

بیوٹی پارلرز ، مساج سنٹرز اور پیڈی کیور سنٹرز کی آن لائن رجسٹریشن کا فیصلہ نوٹیفکیشن

ڈینٹسٹ ، فزیوتھراپسٹ ، پلاسٹک اور ہیئر سرجنز اور ویٹرنری ڈاکٹرز کو پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم نوٹیفکیشن

میڈیکل لیب ، ایکسرے ، سی ٹی ، ایم آر آئی اسکین سنٹر پر پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم نوٹیفکیشن

پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی پوائنٹ آف سیلز لگانے کا فیصلہ نوٹیفکیشن

500 روپے فیس لینے والے اسپتالوں کو چھوٹ ہوگی نوٹیفکیشن

ہیلتھ کلبز ، جمز ، سوئمنگ پولز ، ملٹی پرپز کلبس پر پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم نوٹیفکیشن

لاہور جمخانہ ، اسلام آباد کلب ، کراچی جمخانہ ، رائل پام لاہور ، چناب کلب میں پوائنٹ آف سیلز لگانے کا فیصلہ ، نوٹیفکیشن

سول اور نان سول پولو کلب میں بھی پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم نوٹیفکیشن

چارٹڈ اکاؤنٹنٹس ، کاسٹ منیجمنٹ اکاؤنٹنٹس ، کے لیے بھی پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم نوٹیفکیشن

ریٹیلرز ، مینوفیکچررز اور امپورٹرز کے لیے بھی آن لائن انٹیگریشن لازمی قرار نوٹیفکیشن

فارن ایکسچینج ڈیلرز اور کرنسی ایکسچینج کمپنیز کے لیے پوائنٹ آف سیلز لگانے کی شرط نوٹیفکیشن

پرائیویٹ اسکولز ، کالجز ، یونیورسٹیوں اور ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے لیے بھی پوائنٹ آف سیلز کی شرط نوٹیفکیشن

ایک ہزار روپے ماہانہ فیس لینے والے اداروں کو چھوٹ ہوگی نوٹیفکیشن

مجوزہ قانون کے لیے 7 روز میں سفارشات جمع کرائی جا سکتی ہیں

23/12/2025

� ایف بی آر کا اہم فیصلہ
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے اُن افراد پر جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو بینکنگ چینلز کے بغیر گاڑیاں خریدیں گے۔
جو شخص 30 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی گاڑی نقد (Cash) میں خریدے گا، اُس پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
ایف بی آر نے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت جاری کی ہے کہ گاڑی کی ملکیت منتقلی (Transfer of Ownership) کے وقت ایسے خریداروں سے گاڑی کی قیمت کا 10 فیصد تک جرمانہ وصول کیا جائے جو بینکنگ چینلز استعمال نہیں کریں گے۔

یہ فیصلہ حکومت کے ڈاکیومنٹڈ اکانومی کو فروغ دینے اور کیش ٹرانزیکشنز کی حوصلہ شکنی کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ عوام کو چاہیے کہ گاڑی یا کسی بھی قیمتی اثاثے کی خریداری میں بینکنگ چینلز (Cross Cheque / Bank Transfer) کا استعمال یقینی بنائیں، تاکہ غیر ضروری جرمانوں اور قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
ہم اپنے معزز کلائنٹس کو مشورہ دیتے ہیں کہ کسی بھی بڑی مالی ٹرانزیکشن سے قبل انکم ٹیکس قوانین اور ایف بی آر کی ہدایات سے مکمل آگاہی حاصل کریں۔

The date for filing Income Tax Return 2025 has been further extended to October 31, 2025.
15/10/2025

The date for filing Income Tax Return 2025 has been further extended to October 31, 2025.

⚠️ Important AlertFBR has complete data of taxpayers regarding the following expenses. Please be cautious and accurate w...
08/10/2025

⚠️ Important Alert

FBR has complete data of taxpayers regarding the following expenses. Please be cautious and accurate while filing your income tax returns:

1️⃣ Property sale/purchase
2️⃣ Vehicle sale/purchase
3️⃣ Bank receipts and transactions
4️⃣ Credit card spending
5️⃣ Electricity and utility bills

📢 Ensure your declared income justifies your lifestyle and expenses to avoid discrepancies or notices from FBR

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 4 جاری کر دیا۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 ک...
08/10/2025

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 4 جاری کر دیا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 21 اور سیلز ٹیکس رولز 2006 کے رول 11 کے تحت 8 اکتوبر 2025 کو سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 4 جاری کیا ہے۔

اس آرڈر کے مطابق:

✅ ڈی ریجسٹریشن کی تمام درخواستیں اب آن لائن کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے جمع کرانی ہوں گی۔

✅ کمشنرز ان لینڈ ریونیو (IR) اب دستی درخواستیں قبول نہیں کریں گے۔

✅ زیر التواء دستی درخواستوں کو بھی کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے ہی پراسیس کیا جائے گا۔

✅ یہ قدم ایف بی آر کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور پیپر لیس ٹیکس انتظامیہ کے ہدف کے حصول کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

The Federal Board of Revenue (FBR) has finally extended the deadline for filing income tax returns for the Tax Year 2025...
30/09/2025

The Federal Board of Revenue (FBR) has finally extended the deadline for filing income tax returns for the Tax Year 2025, upto 15 October 2025.

23/09/2025
08/07/2025

📰 ا سیکشن 21S – ایک کاروباری انقلاب یا نیا چیلنج؟
---
🔎 سیکشن 21S کیا ہے؟

فنانس ایکٹ 2025-26 کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس میں شامل کیا گیا نیا قانون سیکشن 21S ہے، جس کے مطابق:

> اگر کوئی فرد یا کاروبار کسی بھی ایک لین دین میں 2 لاکھ روپے سے زائد کی رقم کیش میں وصول کرتا ہے (یعنی بغیر بینکنگ چینل کے)،
تو اس سیل یا سروس سے منسلک اخراجات کا 50 فیصد ٹیکس میں Allow نہیں کیا جائے گا۔
---
📌 یہ قانون کن کاروباروں پر لاگو ہوگا؟

یہ قانون صرف کارخانہ داروں (manufacturers)، درآمد کنندگان (importers) یا سپلائرز (suppliers) تک محدود نہیں ہے۔
بلکہ یہ ہر چھوٹے، درمیانے یا بڑے کاروبار پر لاگو ہوتا ہے جو:

✅ مال یا سروس فروخت کرتا ہے
✅ اور اس کے بدلے کیش میں 2 لاکھ روپے سے زائد وصول کرتا ہے

لہٰذا، اس کا اطلاق ہوگا:

ڈسٹریبیوٹرز

ہول سیلرز

ریٹیلرز

سپر مارکیٹ مالکان

ریسٹورنٹس، ہاسپیٹیلٹی، ایونٹ سروسز

اور تمام فیلڈ سیلز یا B2B کاروباروں پر
---
⚖️ قانونی اہمیت اور FBR کا مؤقف

FBR کا مؤقف واضح ہے:
پاکستان میں معیشت کو دستاویزی (documented economy) میں لانے کے لیے کیش ٹرانزیکشنز کو محدود کرنا ناگزیر ہے۔

یہ قانون tax evasion، کالے دھن، اور غیر شفاف لین دین کے خلاف ایک اہم اقدام ہے۔

سیکشن 21S ٹیکس آڈٹ کے وقت استعمال ہوگا تاکہ کیش وصولیوں کی بنیاد پر اخراجات کو disallow کیا جا سکے — یعنی آپ کا ٹیکس بڑھایا جا سکے گا۔
---
❌ اگر عمل درآمد نہ کیا جائے تو کیا نقصانات ہو سکتے ہیں؟

1. 🔺 ٹیکس اخراجات کا 50٪ disallow ہو جائے گا

2. 🔺 ٹیکس لا ئیبلیٹی بڑھ سکتی ہے (29٪ تک اضافی لاگو ہو سکتا ہے)
3. 🔺 Audit میں penalties اور جرمانے کا سامنا ہو سکتا ہے
4. 🔺 معاشی reputation خراب ہو سکتی ہے
5. 🔺 ڈسٹریبیوٹرز، سپر مارکیٹس اور خوردہ فروشوں کی قیمتیں اور منافع متاثر ہو سکتا ہے
---
✅ اگر عمل کیا جائے تو کیا فوائد ہیں؟

1. 🟢 آپ کی ٹیکس پوزیشن محفوظ رہے گی

2. 🟢 کاروبار کا بینکنگ اور مالیاتی سسٹم سے تعلق مضبوط ہوگا

3. 🟢 FBR audit میں دفاع آسان ہو جائے گا

4. 🟢 آپ کا کاروبار documentation culture میں شامل ہو گا

5. 🟢 آپ مستقبل میں کسی بھی سبسڈی یا اسکیم کے لیے اہل رہیں گے
---
📌 عمل درآمد کی حکمت عملی (Action Plan)

1. ✅ ہر انوائس کی مالیت 200,000 سے کم رکھیں

2. ✅ IBFT، RTGS، QR کوڈ، چیک یا آن لائن بینکنگ کو اپنائیں
3. ✅ کیش وصولی کی صورت میں انوائس-ریفرنس کے ساتھ record رکھیں
4. ✅ اکاؤنٹس اور سیلز ٹیم کو باقاعدہ تربیت دیں

5. ✅ ایک داخلی SOP جاری کریں کہ کوئی بھی پیمنٹ 2 لاکھ سے اوپر کیش میں وصول نہ کی جائے
---
🔚 اختتامی پیغام:

> سیکشن 21S صرف ایک قانونی شرط نہیں بلکہ ایک معاشی تبدیلی کی بنیاد ہے۔
جو تاجر اور کاروباری حضرات وقت پر اس کے تقاضوں کو سمجھ کر عمل کریں گے، وہ نہ صرف ٹیکس کے بوجھ سے بچیں گے بلکہ اپنے کاروبار کو بھی دستاویزی، شفاف اور مستحکم بنا سکیں گے۔
---
📢 اب وقت ہے کہ ہم سب تاجر، دکاندار، ڈسٹریبیوٹرز اور بزنس مالکان مل کر اس قانون کو سمجھیے، اس پر عمل کیجیے اور پاکستان کی معیشت کو آگے بڑھائیے۔

07/07/2025

**موضوع: اہم اطلاع – 2 لاکھ روپے سے زائد لین دین پر نیا ٹیکس پالیسی قانون**

**محترم صارفین،**

ہم آپ کو مطلع کرنا چاہتے ہیں کہ حال ہی میں منظور شدہ فنانس بل 2025-26 کے مطابق، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے کاروباری لین دین کے لیے ایک نئی ٹیکس پالیسی متعارف کروائی ہے، جو ان تمام لین دین پر لاگو ہوگی جو **2 لاکھ روپے سے زائد** ہوں گے۔

**اس پالیسی کے مطابق:**

* اگر کوئی لین دین 2 لاکھ روپے سے زیادہ ہو، تو ادائیگی صرف قابلِ سراغ ڈیجیٹل ذرائع (جیسے آن لائن بینک ٹرانسفر) یا کراس چیک کے ذریعے کی جائے۔

* 2 لاکھ روپے سے زیادہ کی نقد جمع کی اجازت نہیں ہے۔

* اگر 2 لاکھ روپے سے زائد رقم نقد میں جمع کرائی گئی، تو پوری رقم پر **20.5% اضافی ٹیکس** لاگو ہوگا۔

* ایسی صورت میں صرف **79.5%** جمع شدہ نقد رقم ہی قابلِ قبول ہوگی، جبکہ **20.5%** کو ٹیکس کٹوتی سمجھا جائے گا اور یہ قابلِ واپسی یا ایڈجسٹ نہیں ہوگا۔

* جمع کنندہ کے پاس **درست NTN (نیشنل ٹیکس نمبر)** ہونا ضروری ہے۔ ایسے افراد یا کاروباری ادارے جن کے پاس NTN نہیں ہوگا، ان کی جمع شدہ رقم قابلِ قبول نہیں ہوگی۔

**اہم نوٹ:**

اس پالیسی کی خلاف ورزی کی صورت میں ٹیکس میں نقصان اور آپ کے اکاؤنٹ میں کریڈٹ کم ہو سکتا ہے۔ اس کے مالی اثرات کی مکمل ذمہ داری جمع کنندہ پر ہوگی۔

**پریشانی سے بچنے کے لیے ہم آپ کو سختی سے مشورہ دیتے ہیں:**

تمام وہ ادائیگیاں جو 2 لاکھ روپے سے زیادہ ہوں، صرف **بینک ٹرانسفر یا چیک** کے ذریعے کی جائیں۔
جمع کنندہ کے پاس **ٹرانزیکشن کے وقت درست NTN** ہونا لازمی ہے۔

ہم آپ کے اس پالیسی پر سختی سے عمل کرنے پر شکر گزار ہیں، تاکہ نئے ٹیکس قوانین کی تعمیل کی جا سکے۔

Address

Flat No. 02, First Floor, 9-A Block, Opposite KIPS Academy
Mandi Burewala
61010

Opening Hours

Monday 10:00 - 18:00
Tuesday 10:00 - 18:00
Wednesday 10:00 - 18:00
Thursday 10:00 - 18:00
Friday 10:00 - 12:00
14:30 - 18:00
Saturday 10:00 - 18:00

Telephone

+923007599399

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adnan Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Adnan Law Associates:

Share

Category