سید عون عباس نقوی ایڈووکیٹ

سید عون عباس نقوی ایڈووکیٹ Legal consultancy,
Family Lawyer.

16/08/2019

ٹیکساس کی ایک جیل میں 37 سالہ کارلا فے ٹکر کو موت کا انجکشن لگایا گیا ، ڈیتھ بیڈ پر لیٹے اس نے ھنس کے انکھیں بند کر لیں ، ڈاکٹر نے نبض دیکھی اور موت کا اعلان کر دیا اور کہا "ایسی پرسکون موت میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی"
کارلا کہ ماں دھندہ کرنے والی عورت تھی ، بچپن ھی سے وہ اپنی ماں کے ساتھ آتی جاتی اور نشے پر لگ گئی پھر آھستہ آھستہ ماں کے نقش قدم کر چلنے لگ پڑی ، 10 سال بعد اُسے خیال آیا کہ اُسے اس دھندے کو چھوڑ کے کچھ اور کرنا چاھیئے ، سو اس نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ گاڑی چھیننے کہ سکیم بنائی ، موقعہ واردات پر مزاحمت ھوئی اور کارلا اور اس کے بوائے فرینڈ نے امریکی جوڑے کو گھبرا کے قتل کر دیا ، کچھ دنوں بعد دونوں پکڑے گئے اور عدالت نے سزائے موت سنا دی ، پھیر اپیلوں کہ چکروں میں کافی عرصہ گزرتا گیا ، اس دوران جیل کے عملے نے دیکھا کہ کارلا جو کہ شرابی اور بد زبان عورت تھی اس نے اچانک سب کچھ چھوڑ کر بائبل کی سٹڈی شروع کر دی ، اس کے زبان صاف ھو گئی اور اخلاق بہت اچھا ھو گیا، وہ اکثر اپنے سیل میں بائبل پڑھتی رھتی ، ملنا جلنا اور بات چیت ختم کر دی۔
ایک سال بعد وہ مبلغہ بن گئی اور ایسی مبلغہ جس کے الفاظ میں تاثیر تھی ، اس نے جیل میں ھی تبلیغ شروع کر دی ۔ عبادت و ریاضت کو اپنا معمول قرار دے دیا اور جیل میں کئی لوگوں کی زندگیاں ھی بدل دیں۔ وہ لوگ جو اسے قاتلہ اور سنگ دل کہتے تھے وہ اس کے پیچھے چلنے لگے اور جیل میں ایک روحانی انقلاب آ گیا ۔ اس بات کی خبر جب میڈیا کو پہنچی تو وہ جیل پر ٹوٹ پڑے ، پھر ھر اخبار میں کارلا کی ھیڈ لائن لگی ۔ ھر شخص نے اس کے فوٹو اُٹھائی اور اسے معاف کرنے کے لیئے مظاھرے ھونے لگے ، حقوق انسانی کی تنظیموں نے امریکہ میں " کارلا بچاؤ" تحریک شروع کر دی اور احتجاج یہاں تک بڑھا کہ زندگی میں پہلی بار پوپ جان پال نے عدالت کو سزا معافی کی باقاعدہ درخواست دے دی لیکن عدالت نے ٹھکرا دی۔
سزائے موت سے پندرہ دن قبل کنگ لیری نے CNN کے لئیے اس کا انٹرویو جیل میں کیا اس انٹرویو کے بعد پورے امریکہ نے کہا کہ نہیں یہ وہ قاتلہ نہیں یہ معصوم ھے۔ لیری نے پوچھا "تمھیں موت کا خوف محسوس نہیں ھوتا"، کارلا نے پر سکون انداز میں جواب دیا "نہیں بلکے میں اس رب کو ملنا چاھتی ھوں جس نے میری پوری زندگی ھی بدل دی"
امریکی شہریوں نے متفرقہ رحم کی اپیل "ٹیکساس بورڈ آف پارڈن اینڈ پیرول" کے سامنے پیش کی ۔ بورڈ نے سزا معافی سے انکار کر دیا ، فیصلہ سن کر عوام ٹیکساس کے گورنر جارج بُش کے گھر کے سامنے آ گئے اور احتجاج کرنے لگے ۔ امریکہ کے سب سے بڑے پادری جیکی جیکسن نے بھی کارلا کی حمایت کر دی ، بُش نے درخواست سنی اور فیصلہ کیا کہ مجھے کارلا اور جیکی جیکسن سے ھمدردی ھے لیکن مجھے گورنر قانون پر عمل داری کے لئیے بنایا گیا ھے سزا معاف کرنے کے لئیے نہیں ، وہ اگر فرشتہ بھی ھوتی تو قتل کی سزا معاف نہ ھو سکتی"
موت سے دو روز قبل کارلا کی رحم کی اپیل سپریم کورٹ پہینچی تو جج نے یہ کہہ کر درخواست واپس کر دی " اگر آج پوری دنیا بھی کہے کہ یہ عورت کارلا نہیں کوئی مقدس ھستی ھے تو بھی امریکن قانون میں اس کے لئیے ریلیف نہیں جس عورت نے قتل کرتے ھوئے دو انسانوں کو رعایت نہیں دی اسے دنیا کا کوئی قانون رعایت نہیں دے سکتا ھم خدا کے سامنے اُن دو لاشوں کے جوابدہ ھیں جنہیں کارلا نے مار ڈالا"
جب میں یہ سوچتا ھوں کہ وہ کیا معجزہ ھے جو امریکہ جیسے بیمار اور سڑے ھوئی معاشرے کو زندہ رکھے ھوئے ھے تو مجھے حضرت علی a.s کا وہ قول یاد آ جاتا ھے!
"معاشرے کفر کے ساتھ زندہ رہ سکتے ھیں لیکن نا انصافی کے ساتھ نہیں"۔

15/08/2019

Total Coulmn In Challan Under Section 173 CRPC
The Police Report Under Section 173 of Code of Criminal Procedure 1898 Is commonly known as Challan

Total Column in challan are 07 which are following

1-Name of the Informant
چلان کے کام نمبر 1 میں مدعی یا اطلاع دھندہ کا نام ہوتا ہے

2-Name of the person who have not be challan or his name include as abscounder

چلان کےکالم نمبر2 میں ان ملزمان کا نام ہوتا ہے جن کو پولیس نے بے گناہ کیا ہو یا پھر انکا نام ہوتا ہے جن کو پولیس نے اشتہاری قرار دیا ہو

3-The accused who have been challaned by police
کالم نمبر 3میں ان ملزمان کا ذکر ہوتا ہے جن کو پولیس نے گناہ گار کرکے چلان کیا ہو

4-The person who have been challan but on bail

کالم نمبر 4میں ان افراد کا ذکر ہوتا جن کو چلان تو کیا گیاہو مگر ضمانت پر ہوں

5-Property Of Case
کالم نمبر 5 میں مال مقدمہ کا ذکرہوتا ہے

6-Prosecution Witness
کالم نمبر 6 میں استغاثہ کے گواھان کی فہرست ہوتی ہے

7-Facts of the case and Opinion of investigation officer
کالم نمبر 7 میں مقدمہ کے حالات و واقعات کا ذکر ہوتا ہے اور تفشیشی کی راے تحریر ہوتی ہے

28/09/2018

اچھی وکالت کے اصول...

1.) کیس کے ڈاکومنٹس کو توجہ سے پڑھے,

2.) کلاٸینٹ کی بات توجہ سے سنے,

3.) پلیڈینگ میں ایسے حقاٸق نہ چھپاٸے جن کے ثبوت دوسرا فریق جمع کروادے,

4.) ڈرافٹنگ خود کرنا آتی ھو,

5.) اشوز پر خصوصی نظر ھو,

6.) گواھیوں کو اشوز ثابت کرنے تک مرکوز رکھے,

7.) سامنے والے وکیل کو پلیڈنگ سےباھر نہ جانے دے,

8.) گواھوں کو وٹنس بکس میں لانے سے پہلے ریہرسل کوواٸے اور جرح در جرح بھی کرے تاکہ سامنے والے وکیل کے کراس میں جوابات پلیڈنگ اور اشوز سے باھر نہ ھوں,

9.) ڈاکومینٹری ثبوت کو ایکزیبٹ کرواٸے,

10.) جوابی جرح اپنی پلیڈنگ کی روشنی میں ھو,

11.) دلاٸیل اشوز سے مربوط اور متاثر کن ھوں جن کے ساتھ سُپیریر کورٹس کے فیصلوں کے حوالاجات اسٹیٹمینٹ کے ساتھ دے۔

28/09/2018

S. 22 _ A . It is settled principle of law that Ex _ officio JOP while seized of a petition under section 22 _ A / 22 _ B cr.p.c. is not to act mechanically by issuing a direction for registration of a criminal case in each and every case , which had to be decided on it's own peculiar facts . Petition dismissed . PLJ _ 2018 _ Quetta _ 79 ( DB ) .
Police report . If Ex _ officio JOP does not agree with the report , then should give reasons seeking and obtaining a police report but ignoring and passing an order , contrary to it , without assigning any reason could not be appreciated . Special care to this situation is required . Petition was accepted . PLJ _ 2018 _ Lah _ 210

15/09/2018

2013 PLD 26 ISLAMABAD

Ss. 22-A & 154-Federal investigation
Agency Rules, 2002, R. 5-Power of
Justjce of Peace to issue directions to
Federal investigation Agency (FIA) for
registration of Fl.R.-Scope-Federal
investigation Agency (FIA), status of
Scope-Status of Federal investigation
Agency (FIA) was that of a police
station, in charge whereof was an officer
in charge of a police stationEx-officio
Justice of Peace could issue directions
to Federal investigation Agency for
registration of F.l.R. while exercising
powers under S.22-A, Cr.P.C.

Law G*T postponed and new date will be declared soon.
13/09/2018

Law G*T postponed and new date will be declared soon.

13/09/2018
12/09/2018

Two well dressed lawyers went to an expensive restaurant...
Ordered 2 coffees
and then took out sandwiches from their briefcases to eat...

Waitress: Sorry Sir !!! But you can't eat your OWN food here... Its against the rules ...

The lawyers quietly looked at each other and
EXCHANGED their sandwiches & continued their meals !!!
( You can trust lawyers to find loopholes in any rules)

12/06/2018

وزیر کی جان پہ بنی ہوئی تھی، فقیر بات ہی نئیں سُن رہا تھا ، اۤخر طویل مِنت سماجت کے بعد فقیر نے سر اٹھایا ،
ہاں بول کیا کہنا ہے ؟
وزیر نے ہاتھ جوڑے اور بتانا شروع کیا
ایک مہینہ پہلے ہمارے بادشاہ سلامت نے اچانک دربار میں ایک سوال اچھالا کہ کامیاب کردار کے لئے تربیت زیادہ کارآمد ہے یا ماحول ؟ میرے ایک ہم منصب وزیر نے جھٹ کہا کہ عالی جاہ ! تربیت
جبکہ میں نے اُجلت میں کہا جناب ! ماحول ، ماحول تربیت پر فوقیت رکھتا ہے
بادشاہ سلامت نے ہماری طرف رعونت سے دیکھا اور فرمایا تم دونوں کو اپنا اپنا جواب عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا جو ثابت نہ کر سکا اس کا سر قلم کر دیا جائے گا اور اس کے لئے ہمیں ایک ماہ کی مہلت دے دی ،
ہم دونوں اپنے جواب کی عملی تعبیر تلاشنے میں لگ گئے ، میں سوچ سوچ کے پاگل ہونے کے قریب تھا مگر کچھ سمجھ میں نئیں آرہا تھا ، کہ 24 دن بعد اچانک میرے ہم منصب وزیر نے میری موت کے پروانے پر دستخط کرتے ہوئے دربار میں اپنے جواب کو عملی طور پر ثابت کرنے کی اجازت چاہی ، اجازت ملنے پر اس نے دربار میں کھڑے ہو کر تالی بجائی تالی بجتے ہی ایک ایسا منظر سامنے آیا کہ بادشاہ سمیت تمام اہلِ دربار کی سانسیں سینہ میں اٹک گئیں، دربار کے ایک دروازے سے 10 بِلیاں منہ میں پلیٹیں لئے جن میں جلتی ہوئی موم بتیاں تھیں ایک قطار میں خراماں خراماں چلتی دربار کے دوسرے دروازے سے نکل گئیں، نہ پلیٹیں گریں اور نہ موم بتیاں بچھیں، دربار تعریف و توصیف کے نعروں سے گونج اٹھا ، میرے ہم منصب نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا ، حضور ! یہ سب تربیت ہی ہے کہ جس نے جانور تک کو اس درجہ نظم و ضبط کا عادی بنادیا ، بادشاہ نے میری جانب دیکھا
مجھے اپنی موت سامنے نظر آرہی تھی میں دربار سے نکل آیا تبھی ایک شخص نے آپ کا نام لیا کہ میرے مسئلے کا حل آپ کے پاس ہی ہوسکتا ہے میں 2 دن کی مسافت کے بعد یہاں پہنچا ہوں، دی گئی مدت میں سے 4 دن باقی ہیں اب میرا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے،
فقیر نے سر جھکایا اور آہستہ سے بولا واپس جائو اور بادشاہ سے کہو کہ 30 ویں دن تم بھرے دربار میں ماحول کی افادیت ثابت کرو گے ،
مگر میں تو یہ کبھی نہ کر سکوں گا ۔ وزیر نے لا چارگی سے کہا
اۤخری دن مَیں خود دربار میں آئوں گا۔ فقیر نے سر جھکائے ہوئے کہا
وزیر مایوسی اور پریشانی کی حالت میں واپس دربار چلا آیا
مقررہ مدت کا اۤخری دن تھا دربار کھچا کھچ بھرا ہوا تھا وزیر کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا سب کی نظریں بار بار دروازے کی طرف اٹھتی تھیں کہ اچانک ایک مفلوک الحال سا شخص اپنا مختصر سامان کا تھیلا اٹھائے دربار میں داخل ہوا ، بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا ، وقت کم ہے میں نے واپس جانا ہے اس وزیر سے کہو تربیت کی افادیت کا ثبوت دوبارہ پیش کرے، تھوڑی دیر بعد ہی دوسرے وزیر نے تالی بجائی اور دوبارہ وہی منظر پلٹا ، دربار کے دروازہ سے 10 بلیاں اسی کیفیت میں چلتی ہوئی سامنے والے دروازے کی طرف بڑھنے لگیں ، سارا مجمع سانس روکے یہ منظر دیکھ رہا تھا وزیر نے امید بھری نگاہوں سے فقیر کی طرف دیکھا ، جب بلیاں عین دربار کے درمیان پہنچیں تو فقیر آگے بڑھا اور ان کے درمیان جا کے اپنا تھیلا اُلٹ دیا ، تھیلے میں سے موٹے تازے چوہے نکلے اور دربار میں ادھر اُدھر بھاگنے لگے، بلیوں کی نظر جیسے ہی چوہوں پر پڑی انہوں نے منہ کھول دیئے پلیٹیں اور موم بتیاں دربار میں بکھر گئیں، ہر طرف بھگدڑ مچ گئی بلیاں چوہوں کے پیچھے لوگوں کی جھولیوں میں گھسنے لگیں، لوگ کرسیوں پر اچھلنے لگے دربار کا سارا نظام درہم برہم ہوگیا،
فقیر نے بادشاہ کی طرف دیکھا بولا آپ کسی جنس کی جیسی بھی اچھی تربیت کر لیں اگر اس کے ساتھ اسے اچھا ماحول فراہم نہیں کریں گے تو تربیت کہیں نہ کہیں اپنا اثر کھو دے گی ۔ کامیاب کردار کے لئے تربیت کے ساتھ ساتھ بہتر ماحول بے حد ضروری ہے ، اس سے پہلے کہ بادشاہ اسے روکتا فقیر دربار کے دروازے سے نکل گیا تھا۔
ہمارے ہاں ساری ذمے داری استاد کی تربیت پر ڈال دی جاتی ہے گھر وں کا کیا ماحول ہے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتیcopied #

24/05/2018

زناء اور ریپ کے جرائم میں مندرجہ ذیل ترمیم کی گئ

Criminal Law (Amendment Offences Relating to R**e) Act, 2016 was passed in 2016.

This amendment inserted some new section and amended some section of PPC in order to make more strict laws for the offence of r**e.

Section 55 of PPC is amended and offences related with r**e are made non compounable
زناء کے مقدمات اب ناقابل راضی نامہ ہیں

Section 376 of PPC is also amended; now whoever commits r**e of minor or person with mental or physical disability shall be punished with death or imprisonment of life.

اب جو بھی نابالغ یا کسی زہنی مریض سے زناء کرے گاا تو اسے سزاے موت یا عمر قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے

It further stated that whoever being a public servant; including a police office, medical officer or jailor, taking advantage of his official position, commits r**e shall be punished with death or imprisonment for life and fine.
جب کوئی سرکاری ملازم جیلر ,پولیس یا میڈیکل آفیسر اپنے اختیارات کا ناجائز فائد اٹھا کر ریپ کرے گا تو اسے بھی سزاے موت کی سزا ہوگی
Through this amendment, now disclosure of identity of victim of r**e is also prohibited u/s 376A.

Law is also amended and it is compulsory for investigation officer to record statement of victim in presence of female police officer or other female family member of victim.

متاثرہ کا بیان لیڈی پولیس آفیسر کی موجودگی میں یا متاثرہ کی اپنی کسی فی میل فیملی میمبر کی موجودگی میں لیا جاے گا

Similarity it is also compulsory for Police to record FIR of such offence in presence of female police officer.

پولیس مقدمہ درج بھی فی میل پولیس آفیسر کی موجودگی میں کرے گی

Now under this amended law DNA test is compulsory but with the consent of victim or his legal heirs and it is duty of IO to send the samples of DNA to forensic laboratory as soon as possible.

ڈی این اے کرنا اب لازمی ہے مگر متاثرہ کی مرضی سے

A new section 344A is inserted in PPC which describes that court is bound to conclude the trial of offence related with r**e in three months.

زناء کے مقدمہ کا فیصلہ تین ماہ کے اندر اندر کرنا لازمی ہے

Code of Criminal Procedure’s schedule is also amended for the explanation of the amended sections of PPC.

24/05/2018

A suspect is not to be arrested straightaway or as a matter of
course and, unless the situation on the ground so warrants, the
arrest is to be deferred till such time that sufficient material or
evidence becomes available on the record of investigation prima
facie satisfying the investigating officer regarding correctness of the
allegations levelled against such suspect or regarding his
involvement in the crime in issue.
Human Rights Case No. 10842-P of 2018 45

22/05/2018

Being a favorite child of law Accused have certain rights as;

Right of bail
Right of fair trial 10A CoP
Right of adducing evidence
Right to engae an advocate
Right of defence
Right of Inspection of court file
Right to have copies before trial
Right of Acquittal under 249A
Right of dispensation for attendance
Right of medical examination
Right to be heard before any decision against him
Right for free legal services
Right to have justice
Right of safety
Right to cross examination
Right to appeal, review, revision
Right to have proper medical aid
Right to be presumed innocent until its proved
Right of double jeopardy
Right to be produced before court within 24 hours.

P L D 2007 KARACHI 544
Case law for accused rights......

Address

Glasgow Scotland UK �
Mandi Bahauddin
[email protected]

Telephone

+447448032512

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سید عون عباس نقوی ایڈووکیٹ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to سید عون عباس نقوی ایڈووکیٹ:

Share